🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
السنن الكبرى للبيهقي میں نمبر سے تلاش
حدیث نمبر لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں عربی متن سے تلاش
عربی حدیث کا متن لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں اردو متن سے تلاش
اردو حدیث کا متن لکھیں:
1304. -- باب: استحباب الصيام للاستسقاء لما يرجى من دعاء الصائم
-- باب: استسقاء کے لیے روزہ رکھنے کے مستحب ہونے کا بیان کیونکہ روزے دار کی دعا (قبول ہونے) کی امید ہوتی ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6393
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ فُورَكٍ، أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ أَحْمَدَ، ثنا يُونُسُ بْنُ حَبِيبٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا زُهَيْرُ بْنُ مُعَاوِيَةَ، عَنْ سَعْدٍ الطَّائِيِّ، حَدَّثَنِي أَبُو الْمُدِلَّةِ، سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" ثَلَاثَةٌ لَا تُرَدُّ دَعْوَتُهُمُ: الْإِمَامُ الْعَادِلُ، وَالصَّائِمُ ⦗٤٨٢⦘ حَتَّى يُفْطِرَ، وَدَعْوَةُ الْمَظْلُومِ تُحْمَلُ عَلَى الْغَمَامِ، وَتُفْتَحُ لَهَا أَبْوَابُ السَّمَاءِ، وَيَقُولُ الرَّبُّ:" وَعِزَّتِي لَأَنْصُرَنَّكَ وَلَوْ بَعْدَ حِينٍ".
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تین ایسے اشخاص ہیں جن کی دعا کو رد نہیں کیا جاتا: ۱۔ عادل حکمران، ۲۔ روزے دار جب تک افطار نہ کر دے اور ۳۔ مظلوم کی دعا بادلوں کے اوپر اٹھا لی جاتی ہے اور اس کے لیے آسمان کے دروازے کھول دیے جاتے ہیں اور اللہ تبارک و تعالیٰ فرماتے ہیں: ”مجھے میری عزت کی قسم! میں تیری ضرور مدد کروں گا اگرچہ کچھ وقت کے بعد ہی۔““ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب صلاة الاستسقاء/حدیث: 6393]
تخریج الحدیث: «حسن لغيرهٖ۔ ترمذي»

الحكم على الحديث: حسن لغيرهٖ
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
1305. -- باب: الخروج من المظالم والتقرب إلى الله تعالى بالصدقة ونوافل الخير رجاء الإجابة
-- باب: دعا کی قبولیت کی امید میں مظالم سے نکلنے (حقوق العباد ادا کرنے) اور صدقہ اور نیک نوافل کے ذریعے اللہ تعالیٰ کا قرب حاصل کرنے کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6394
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ الْعَبْدِيُّ، وَعَلِيُّ بْنُ الْحَسَنِ الْهِلَالِيُّ قَالَا: ثنا أَبُو نُعَيْمٍ، ثنا فُضَيْلُ بْنُ مَرْزُوقٍ، وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ، أنبأ عَلِيُّ بْنُ عِيسَى، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، ثنا أَبُو كُرَيْبٍ، ثنا أَبُو أُسَامَةَ، ثنا فُضَيْلُ بْنُ مَرْزُوقٍ، حَدَّثَنِي عَدِيُّ بْنُ ثَابِتٍ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّ اللهَ طَيِّبٌ لَا يَقْبَلُ إِلَّا الطَّيِّبَ، وَإِنَّ اللهَ أَمَرَ الْمُؤْمِنِينَ بِمَا أَمَرَ بِهِ الْمُرْسَلِينَ" قَالَ: {يَا أَيُّهَا الرُّسُلُ كُلُوا مِنَ الطَّيِّبَاتِ وَاعْمَلُوا صَالِحًا إِنِّي بِمَا تَعْمَلُونَ عَلِيمٌ} [المؤمنون: ٥١] ، وَقَالَ {يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا كُلُوا مِنْ طَيِّبَاتِ مَا رَزَقْنَاكُمْ} [البقرة: ١٧٢] ، ثُمَّ ذَكَرَ الرَّجُلُ يُطِيلُ السَّفَرَ أَشْعَثَ أَغْبَرَ، يَمُدُّ يَدَيْهِ إِلَى السَّمَاءِ يَا رَبِّ يَا رَبِّ، وَمَطْعَمُهُ حَرَامٌ، وَمَشْرَبُهُ حَرَامٌ، وَمَلْبَسُهُ حَرَامٌ، وَقَدْ غُذِّيَ بِالْحَرَامِ، فَأَنَّى يُسْتَجَابُ لَهُ". رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ أَبِي كُرَيْبٍ.
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بیشک اللہ تعالیٰ پاکیزہ ہیں اور صرف پاکیزہ ہی کو قبول کرتے ہیں اور اللہ تعالیٰ نے اہل ایمان کو وہی حکم دیا ہے جو اس نے رسولوں کو حکم دیا ہے، اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿يَا أَيُّهَا الرُّسُلُ كُلُوا مِنَ الطَّيِّبَاتِ وَاعْمَلُوا صَالِحًا ۖ إِنِّي بِمَا تَعْمَلُونَ عَلِيمٌ﴾ [سورة المؤمنون: 51] ”اے رسولو! تم کھاؤ پاکیزہ چیزوں اور اعمالِ صالحہ کرو، جو تم اعمال کرتے ہو، بیشک میں جاننے والا ہوں“ اور یہ بھی فرمایا: ﴿يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا كُلُوا مِن طَيِّبَاتِ مَا رَزَقْنَاكُمْ﴾ [سورة البقرة: 172] ”اے ایمان والو! کھاؤ تم پاکیزہ چیزوں سے جو ہم نے تمہیں رزق دیا ہے“ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تذکرہ کیا ایک ایسے شخص کا جو لمبا سفر کرتا ہے، غبار آلود اور پراگندہ بالوں والا، اپنے ہاتھ آسمان کی طرف پھیلاتا ہے اور «يَا رَبِّ، يَا رَبِّ» ”یا رب! یا رب!“ کہہ کر پکارتا ہے جبکہ اس کا کھانا حرام، اس کا پینا حرام، اس کا لباس حرام اور اس کی پرورش ہی حرام پر ہوئی تو اس کی دعا کیسے قبول کی جائے گی۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب صلاة الاستسقاء/حدیث: 6394]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ مسلم»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6395
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو إِسْحَاقَ إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى الْمُزَكِّي إِمْلَاءً، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عُثْمَانَ بْنِ كَرَامَةَ، ثنا خَالِدُ بْنُ مَخْلَدٍ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ بِلَالٍ، أَخْبَرَنِي شَرِيكُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ أَبِي نَمِرٍ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّ اللهَ عَزَّ وَجَلَّ قَالَ: مَنْ عَادَى لِي وَلِيًّا فَقَدْ بَارَزَنِي بِالْحَرْبِ، وَمَا تَقَرَّبَ إِلَيَّ عَبْدٌ بِشَيْءٍ أَحَبَّ إِلَيَّ مِمَّا افْتَرَضْتُ عَلَيْهِ، وَمَا زَالَ يَتَقَرَّبُ إِلَيَّ بِالنَّوَافِلِ حَتَّى أُحِبَّهُ، فَإِذَا أَحْبَبْتُهُ كُنْتُ سَمْعَهُ الَّذِي يَسْمَعُ بِهِ، وَبَصَرَهُ الَّذِي يُبْصِرُ بِهِ، وَيَدَهُ الَّتِي يَبْطِشُ بِهَا، وَرِجْلَهُ الَّتِي يَمْشِي عَلَيْهَا، وَلَئِنْ سَأَلَنِي عَبْدِي أَعْطَيْتُهُ، وَلَئِنْ اسْتَعَاذَنِي لَأُعِيذَنَّهُ". وَذَكَرَ بَاقِيَ الْحَدِيثِ. قَدْ أَخْرَجْتُهُ فِي كِتَابِ الْأَسْمَاءِ وَالصِّفَاتِ مَعَ تَأْوِيلِهِ، رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عُثْمَانَ بْنِ كَرَامَةَ.
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بیشک اللہ تعالیٰ نے فرمایا: جس نے میرے کسی دوست (ولی) سے دشمنی کی، اس نے میرے ساتھ اعلانِ جنگ کیا، اور میرا کوئی بندہ کسی ایسی چیز کے ساتھ میرا قرب حاصل نہیں کرتا جو مجھے اس سے زیادہ محبوب ہو جو میں نے اس پر فرائض فرض کیے ہیں، اور وہ ہمیشہ نوافل کے ساتھ میرا قرب حاصل کرتا رہتا ہے یہاں تک کہ میں اس سے محبت کرنے لگتا ہوں، پھر جب میں اس سے محبت کرتا ہوں تو میں اس کا وہ کان بن جاتا ہوں جس سے وہ سنتا ہے، اور وہ آنکھ بن جاتا ہوں جس سے وہ دیکھتا ہے، اور اس کا وہ ہاتھ بن جاتا ہوں جس سے وہ چھوتا ہے، اور اس کے وہ پاؤں بن جاتا ہوں جن سے وہ چلتا ہے، اگر وہ مجھ سے مانگے تو میں اسے ضرور دے دیتا ہوں اور اگر وہ مجھ سے پناہ طلب کرے تو میں اسے ضرور پناہ دے دیتا ہوں۔“
امام بخاری نے اس حدیث کو اپنی صحیح میں محمد بن عثمان بن کرامتہ سے بیان کیا ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب صلاة الاستسقاء/حدیث: 6395]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيرهٖ۔ بخاري»

الحكم على الحديث: صحيح لغيرهٖ
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6396
أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ الْفَقِيهُ، أنبأ حَاجِبُ بْنُ أَحْمَدَ الطُّوسِيُّ، ثنا عَبْدُ الرَّحِيمِ بْنُ مُنِيبٍ، ثنا جَرِيرُ بْنُ عَبْدِ الْحَمِيدِ الضَّبِّيُّ، أنبأ سُهَيْلُ بْنُ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي ⦗٤٨٣⦘ هُرَيْرَةَ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" تُفْتَحُ أَبْوَابُ السَّمَاءِ فِي كُلِّ اثْنَيْنِ وَخَمِيسٍ، فَيُغْفَرُ لِكُلِّ عَبْدٍ لَا يُشْرِكُ بِاللهِ شَيْئًا إِلَّا امْرَأً بَيْنَهُ وَبَيْنَ أَخِيهِ شَحْنَاءُ" قَالَ:" فَيُقَالُ: انْتَظِرْ هَذَيْنِ حَتَّى يَصْطَلِحَا". وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي دَارِمٍ الْحَافِظُ بِالْكُوفَةِ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَضْرَمِيُّ، ثنا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ثنا جَرِيرٌ، عَنْ سُهَيْلٍ، فَذَكَرَهُ بِمَعْنَاهُ إِلَّا أَنَّهُ قَالَ:" انْظُرُوا هَذَيْنِ حَتَّى يَصْطَلِحَا مَرَّتَيْنِ". رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ زُهَيْرِ بْنِ حَرْبٍ عَنْ جَرِيرٍ.
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ بیشک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”ہر پیر اور جمعرات کو آسمان کے دروازے کھولے جاتے ہیں اور ہر اس شخص کو معاف کیا جاتا ہے، جو اللہ تعالیٰ کے ساتھ کسی کو شریک نہیں کرتا مگر اس شخص کو معاف نہیں کرتا جس کے دل میں اپنے بھائی کے متعلق کینہ ہو۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کہا جاتا ہے: میں ان دونوں کو مہلت دیتا ہوں کہ وہ دونوں صلح صفائی کر لیں۔“
اور ہمیں حدیث بیان کی جریر نے، وہ سہل سے بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے ایسی ہی حدیث بیان کی، مگر یہ کہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: ”ان دونوں کو مہلت دو حتیٰ کہ صلح کر لیں“ اور یہ بات دو مرتبہ کہی جاتی ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب صلاة الاستسقاء/حدیث: 6396]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ مسلم»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6397
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الْحُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدٍ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ الْحُسَيْنُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ أَيُّوبَ الطُّوسِيُّ، أنبأ أَبُو حَاتِمٍ الرَّازِيُّ، ثنا عُبَيْدُ اللهِ بْنُ مُوسَى، ثنا بَشِيرُ بْنُ مُهَاجِرٍ، عَنِ ابْنِ بُرَيْدَةَ، عَنْ أَبِيهِ قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَا نَقْضَ قَوْمٌ الْعَهْدَ قَطُّ إِلَّا كَانَ الْقَتْلُ بَيْنَهُمْ، وَمَا ظَهَرَتْ فَاحِشَةٌ فِي قَوْمٍ قَطُّ إِلَّا سَلَّطَ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ عَلَيْهِمُ الْمَوْتَ، وَلَا مَنَعَ قَوْمٌ الزَّكَاةَ إِلَّا حَبَسَ اللهُ عَنْهُمُ الْقَطْرَ". كَذَا رَوَاهُ بَشِيرُ بْنُ الْمُهَاجِرِ.
ابن بریدہ اپنے والد (سیدنا بریدہ رضی اللہ عنہ) سے بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کوئی قوم کبھی بھی کسی عہد کو نہیں توڑتی مگر ان میں قتل ہوتا ہے اور کسی قوم میں کبھی فحاشی ظاہر نہیں ہوتی مگر اللہ ان پر موت کو مسلط کر دیتے ہیں اور کوئی قوم زکوٰۃ کو نہیں روکتی مگر اللہ تعالیٰ ان سے بارش کو روک لیتا ہے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب صلاة الاستسقاء/حدیث: 6397]
تخریج الحدیث: «منكر۔ أخرجه الحاكم»

الحكم على الحديث: منكر
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6398
وَقَدْ أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ الْحُسَيْنُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ أَيُّوبَ، أنبأ أَبُو حَاتِمٍ، ثنا مُعَاذُ بْنُ أَسَدٍ الْمَرْوَزِيُّ، أنبأ الْفَضْلُ بْنُ مُوسَى السِّينَانِيُّ، ثنا الْحُسَيْنُ بْنُ وَاقِدٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ بُرَيْدَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ:" مَا نَقَضَ قَوْمٌ الْعَهْدَ قَطُّ إِلَّا سَلَّطَ اللهُ عَلَيْهِمْ عَدُوَّهُمْ، وَلَا فَشَتِ الْفَاحِشَةُ فِي قَوْمٍ إِلَّا أَخَذَهُمُ اللهُ بِالْمَوْتِ، وَمَا طَفَّفَ قَوْمٌ الْمِيزَانَ إِلَّا أَخَذَهُمُ اللهُ بِالسِّنِينَ، وَمَا مَنَعَ قَوْمٌ الزَّكَاةَ إِلَّا مَنَعَهُمُ اللهُ الْقَطْرَ مِنَ السَّمَاءِ، وَمَا جَارَ قَوْمٌ فِي حُكْمٍ إِلَّا كَانَ الْبَأْسُ بَيْنَهُمْ، أَظُنُّهُ قَالَ: وَالْقَتْلُ".
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ ”کوئی قوم کبھی عہد نہیں توڑتی مگر اللہ تعالیٰ ان پر دشمن کو مسلط کر دیتا ہے اور کسی قوم میں بے حیائی نہیں پھیلتی مگر اللہ تعالیٰ ان کو موت کے ساتھ پکڑ لیتا ہے اور کوئی قوم ناپ تول میں کمی نہیں کرتی مگر اللہ سبحانہ ان پر قحط سالی مسلط کر دیتا ہے اور کوئی قوم زکوۃ کو نہیں روکتی مگر اللہ تعالیٰ ان پر آسمان سے بارش کو روک لیتا ہے اور کوئی قوم فیصلے میں ظلم نہیں کرتی مگر ان کے درمیان لڑائی ہو جاتی ہے“ میرا خیال ہے کہ انہوں نے لفظ ”قتل“ فرمایا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب صلاة الاستسقاء/حدیث: 6398]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ أخرجه المؤلف في الشعب»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
1306. -- باب: الدليل على أن السنة في صلاة الاستسقاء السنة في صلاة العيدين، وأنه يصليها ركعتين كما يصلي في العيدين بلا أذان ولا إقامة في وقت صلاة العيد
-- باب: اس دلیل کا بیان کہ نمازِ استسقاء میں سنت وہی ہے جو عیدین کی نماز کی سنت ہے، اور یہ کہ وہ اسے عیدین کی طرح عید کی نماز کے وقت اذان اور اقامت کے بغیر دو رکعت پڑھے گا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6399
أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ الْفَقِيهُ مِنْ أَصْلِ سَمَاعِهِ، ثنا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ الْقَطَّانُ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ يُوسُفَ السُّلَمِيُّ، ثنا أَبُو بَكْرٍ عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أنبأ مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عَبَّادِ بْنِ تَمِيمٍ، عَنْ عَمِّهِ قَالَ:" خَرَجَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالنَّاسِ يَسْتَسْقِي، فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ، جَهَرَ بِالْقِرَاءَةِ فِيهِمَا، وَحَوَّلَ رِدَاءَهُ، وَاسْتَسْقَى، وَاسْتَقْبَلَ الْقِبْلَةَ". زَادَ غَيْرُهُ فِيهِ عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ:" وَرَفَعَ يَدَيْهِ يَدْعُو، فَدَعَا وَاسْتَسْقَى".
عباد بن تمیم اپنے چچا رضی اللہ عنہ سے بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے کہا: رسول مکرم صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں کے ساتھ پانی طلب کرنے کے لیے نکلے، سو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دو رکعتیں پڑھیں اور ان میں بلند آواز میں قرات کی اور اپنی چادر کو پلٹایا اور پانی مانگا اور قبلے کی طرف منہ کیا، اس کے علاوہ نے اضافہ کیا ہے اور وہ عبد الرزاق سے بیان کرتے ہیں کہ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ہاتھ اٹھاتے ہوئے دعا کی اور اللہ تعالیٰ سے پانی طلب کیا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب صلاة الاستسقاء/حدیث: 6399]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ بخاري ومسلم»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6400
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَارِثِ الْفَقِيهُ، أنبأ عَلِيُّ بْنُ عُمَرَ الْحَافِظُ، ثنا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ أَبِي الرَّبِيعِ، ثنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، فَذَكَرَهُ بِزِيَادَتِهِ.
ہمیں حدیث بیان کی عبدالرزاق نے اور انہوں نے اس حدیث کا تذکرہ کچھ زیادتی (اضافے) کے ساتھ کیا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب صلاة الاستسقاء/حدیث: 6400]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ بخاري»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6401
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ سِنَانٍ الْقَزَّازُ، ثنا وَهْبُ بْنُ جَرِيرِ بْنِ حَازِمٍ، ثنا أَبِي قَالَ: سَمِعْتُ النُّعْمَانَ هُوَ ابْنُ رَاشِدٍ يُحَدِّثُ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ:" خَرَجَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمًا يَسْتَسْقِي، فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ بِلَا أَذَانٍ وَلَا إِقَامَةٍ، ثُمَّ خَطَبَنَا، فَدَعَا اللهَ، وَحَوَّلَ وَجْهَهُ نَحْوَ الْقِبْلَةِ رَافِعًا يَدَيْهِ، ثُمَّ قَلْبَ رِدَاءَهُ، فَجَعَلَ الْأَيْمَنَ عَلَى الْأَيْسَرِ وَالْأَيْسَرَ عَلَى الْأَيْمَنِ". تَفَرَّدَ بِهِ النُّعْمَانُ بْنُ رَاشِدٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ.
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ ایک دن رسول مکرم صلی اللہ علیہ وسلم (بارش) پانی طلب کرنے کے لیے نکلے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اذان اور اقامت کے بغیر دو رکعتیں پڑھائیں۔ پھر ہمیں خطبہ دیا اور اللہ تعالیٰ سے دعا کی اور اپنے چہرے کو قبلے کی طرف پھیرا اپنے ہاتھوں کو اٹھائے ہوئے، پھر اپنی چادر کو پلٹایا اور دائیں جانب کو بائیں طرف کر لیا اور بائیں جانب کو دائیں طرف۔
اسے زہری سے روایت کرنے میں نعمان بن راشد منفرد ہیں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب صلاة الاستسقاء/حدیث: 6401]
تخریج الحدیث: «سنده منكر۔ ابن ماجه»

الحكم على الحديث: سنده منكر
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6402
حَدَّثَنَا أَبُو جَعْفَرٍ كَامِلُ بْنُ أَحْمَدَ الْمُسْتَمْلِي، أنبأ أَبُو سَهْلٍ بِشْرُ بْنُ أَحْمَدَ الْمِهْرَجَانِيُّ، ثنا دَاوُدُ بْنُ الْحُسَيْنِ الْبَيْهَقِيُّ، ثنا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، أنبأ حَاتِمُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، ح، وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ إِسْحَاقَ الْفَقِيهُ، أنبأ الْحَسَنُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ زِيَادٍ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُوسَى، ثنا حَاتِمُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، ثنا هِشَامُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ كِنَانَةَ قَالَ: أَخْبَرَنِي أَبِي، وَسَمِعْتُهُ يُحَدِّثُ قَالَ: أَرْسَلَنِي الْوَلِيدُ بْنُ عُقْبَةَ، وَهُوَ يَوْمَئِذٍ أَمِيرُ الْمَدِينَةِ إِلَى ابْنِ عَبَّاسٍ أَسْأَلُهُ عَنْ صَلَاةِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الِاسْتِسْقَاءِ، فَأَتَيْتُهُ فَقُلْتُ: إِنَّا تَمَارَيْنَا فِي الْمَسْجِدِ فِي صَلَاةِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الِاسْتِسْقَاءِ، فَقَالَ: لَا، وَلَكِنْ أَرْسَلَكَ ابْنُ أَخِيكَ، وَلَوْ أَنَّهُ أَرْسَلَ فَسَأَلَ، مَا كَانَ بِذَاكَ بَأْسٌ، ثُمَّ قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ:" خَرَجَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُتَبَذِّلًا، مُتَوَاضِعًا، مُتَضَرِّعًا، حَتَّى جَلَسَ عَلَى الْمِنْبَرِ، فَلَمْ يَخْطُبْ كَخُطْبَتِكُمْ هَذِهِ، وَلَكِنْ لَمْ يَزَلْ فِي الدُّعَاءِ، وَالتَّضَرُّعِ، وَالتَّكْبِيرِ، وَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ كَمَا كَانَ يُصَلِّي فِي الْعِيدِ". لَفْظُ حَدِيثِ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مُوسَى، وَحَدِيثُ يَحْيَى بْنِ يَحْيَى بِمَعْنَاهُ، إِلَّا أَنَّهُ قَالَ: الْوَلِيدُ بْنُ عُتْبَةَ، قَالَ أَبُو دَاوُدَ السِّجِسْتَانِيُّ: الصَّوَابُ ابْنُ عُتْبَةَ، قَالَ الشَّيْخُ رَحِمَهُ اللهُ: وَهَذَا الْحَدِيثُ يُوهِمُ أَنَّ دُعَاءَهُ كَانَ قَبْلَ الصَّلَاةِ، وَقَدْ رَوَاهُ سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ.
ہمیں ہشام بن اسحاق بن عبداللہ بن کنانہ نے حدیث بیان کی، وہ کہتے ہیں: مجھے میرے والد نے خبر دی، وہ کہتے ہیں: میں نے اس شخص سے سنا جو وہ حدیث بیان کرتے ہیں اور انہوں نے کہا کہ مجھے ولید بن عقبہ نے بھیجا (جو ان دنوں مدینہ کے امیر تھے) سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کی طرف تاکہ میں ان سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی «صَلَاةُ الِاسْتِسْقَاءِ» ”نمازِ استسقاء“ کا طریقہ پوچھوں، سو میں ان کے پاس آیا تو میں نے کہا: ہم مسجد میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی نمازِ استسقاء کے بارے میں جھگڑ پڑے ہیں، تو انہوں نے کہا: ”نہیں بلکہ تمہیں تمہارے بھانجے نے بھیجا ہے، اگر اس نے بھیجا ہے تو اس نے ایسی بات کا سوال کیا ہے جس میں کوئی جھگڑا نہیں۔“ پھر سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا کہ ”آپ صلی اللہ علیہ وسلم معمولی لباس زیب تن کیے ہوئے، عاجزی و انکساری کرتے ہوئے اور گڑگڑاتے ہوئے نکلے یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم منبر پر بیٹھے اور تمہارے اس خطبے کی طرح خطبہ نہیں دیا لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم دعا کرتے رہے، گڑگڑاتے رہے، اللہ تعالیٰ کی کبریائی بیان کرتے رہے اور دو رکعتیں پڑھائیں جیسے عید میں پڑھاتے تھے۔“
یہ الفاظ ابراہیم بن موسیٰ کی حدیث کے ہیں اور جو یحییٰ بن یحییٰ کی حدیث ہے وہ بھی انہی معانی کے ساتھ بیان ہوئی ہے، مگر انہوں نے ولید بن عتبہ کہا۔ ابوداؤد سجستانی رحمہ اللہ نے کہا: درست ابن عتبہ ہے۔
شیخ رحمہ اللہ نے کہا ہے: یہ حدیث یہ وہم پیدا کرتی ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی دعا نماز سے پہلے تھی اور اسے سفیان ثوری رحمہ اللہ نے بھی بیان کیا ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب صلاة الاستسقاء/حدیث: 6402]
تخریج الحدیث: «حسن۔ ابن خزيمه»

الحكم على الحديث: حسن
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں