🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
السنن الكبرى للبيهقي میں نمبر سے تلاش
حدیث نمبر لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں عربی متن سے تلاش
عربی حدیث کا متن لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں اردو متن سے تلاش
اردو حدیث کا متن لکھیں:
1319. -- باب: الاستسقاء بغير صلاة ويوم الجمعة على المنبر
-- باب: نماز کے بغیر اور جمعہ کے دن منبر پر (خطبے کے دوران) بارش کی دعا کرنے کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6433
أَخْبَرَنَا أَبُو عَمْرٍو الْأَدِيبُ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ الْإِسْمَاعِيلِيُّ، أَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سُلَيْمَانَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ بِشْرٍ، ثنا الْمُعَافَى بْنُ عِمْرَانَ، عَنِ الْأَوْزَاعِيِّ، عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ:" أَنَّ رَجُلًا اشْتَكَى إِلَى ⦗٤٩٤⦘ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ هَلَاكَ الْمَالِ، وَجَهْدَ الْعِيَالِ؛ قَالَ: فَدَعَا اللهَ فَسُقِيَ، وَلَمْ يَذْكُرْ أَنَّهُ حَوَّلَ رِدَاءَهُ، وَلَا اسْتَقْبَلَ الْقِبْلَةَ". رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ، عَنِ الْحَسَنِ بْنِ بِشْرَانَ، وَفِيهِ مَعَ مَا مَضَى مِنْ حَدِيثِ عَبْدِ اللهِ بْنِ زَيْدٍ، كَالدِّلَالَةِ عَلَى أَنَّ ذَلِكَ إِنَّمَا يُسَنُّ فِي خُطْبَةِ الِاسْتِسْقَاءِ دُونَ خُطْبَةِ الْجُمُعَةِ، وَاللهُ أَعْلَمُ.
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک آدمی نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس شکایت کی کہ مال مویشی ہلاک ہوچکے ہیں اور اہل و عیال لا غرو کمزور ہوچکے ہیں۔ سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ سے دعا کی تو انہیں بارش دے دی گئی۔ انہوں نے چادر پلٹانے کا تذکرہ نہیں کیا اور نہ ہی قبلے کی طرف متوجہ ہونے کا۔
امام بخاری رحمہ اللہ نے اسے اپنی صحیح میں حسن بن بشر سے بیان کیا ہے، اور اس میں سیدنا عبداللہ بن زید رضی اللہ عنہ کی گزشتہ حدیث کے ساتھ اس بات کی گویا دلیل ہے کہ یہ (چادر پلٹانا اور قبلہ رخ ہونا) صرف استسقاء کے خطبے میں مسنون ہے، جمعہ کے خطبے میں نہیں۔ واللہ اعلم۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب صلاة الاستسقاء/حدیث: 6433]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ البخاري»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6434
أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدٍ مُحَمَّدُ بْنُ مُوسَى بْنِ الْفَضْلِ، أنبأ أَبُو مُحَمَّدٍ أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْمُزَنِيُّ، أنبأ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عِيسَى، ثنا أَبُو الْيَمَانِ، أَخْبَرَنِي شُعَيْبٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، أَخْبَرَنِي سَعِيدٌ يَعْنِي ابْنَ الْمُسَيِّبِ" أَنَّ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُخْبِرَ أَنَّ أَبَا لُبَابَةَ يَقُولُ لِلسَّمَاءِ:" أَمِدِّي، يَدْعُو بِالْجَدْبِ لِنَفَاقِ ثَمَرَةِ نَخْلِهِ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" اللهُمَّ أَرْسِلْهَا حَتَّى يَسُدَّ أَبُو لُبَابَةَ ثَعْلَبَ مِرْبَدِهِ بِرِدَائِهِ" فَأَرْسَلَ اللهُ السَّمَاءَ فَلَمَّا صَارَ السَّيْلُ بِثَمَرِ أَبِي لُبَابَةَ، وَهُوَ فِي الْمِرْبَدِ اضْطُرَّ أَبُو لُبَابَةَ إِلَى إِزَارِهِ فَسَدَّ بِهِ ثَعْلَبَ الْمِرْبَدِ".
سعید بن مسیب رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو خبر دی گئی کہ ابو لبابہ رضی اللہ عنہ آسمان سے کہتا ہے: تو لمبا ہوجا، یعنی وہ قحط اپنے کھجوروں کے پھل کے خرچ ہونے کے لیے، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے اللہ! اس کو بھیج دے (یعنی بارش نازل کر دے) یہاں تک کہ ابو لبابہ رضی اللہ عنہ اپنے باڑے کے سوراخ کو اپنی چادر سے بند کرنے پر مجبور ہو جائے۔“ تو اللہ تعالیٰ نے بارش نازل فرما دی، سو جب بارش کا پانی ابو لبابہ رضی اللہ عنہ کے پھل تک پہنچا اور وہ اپنے کھجوروں کے باڑے میں تھا، تو ابو لبابہ رضی اللہ عنہ اپنی چادر کی طرف مجبور ہوا تو اس نے اس کے ساتھ اپنے باڑے کے سوراخ کو بند کیا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب صلاة الاستسقاء/حدیث: 6434]
تخریج الحدیث: «ضعيف۔ أخرجه الطبراني»

الحكم على الحديث: ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6435
وَأَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرٍ عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ قَتَادَةَ، أنبأ أَبُو عَمْرِو بْنُ مَطَرٍ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ حَمَّادٍ الظَّهْرَانِيُّ بِالرِّيِّ، أنبأ أَبِي، أنبأ السِّنْدِيُّ يَعْنِي ابْنَ عَبْدُوَيْهِ الدُّهْكِيَّ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَبْدِ اللهِ الْمَدَنِيِّ هُوَ أَبُو أُوَيْسٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ حَرْمَلَةَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، عَنْ أَبِي لُبَابَةَ بْنِ عَبْدِ الْمُنْذِرِ الْأَنْصَارِيِّ قَالَ: اسْتَسْقَى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ الْجُمُعَةِ فَقَالَ:" اللهُمَّ اسْقِنَا، اللهُمَّ اسْقِنَا"، فَقَامَ أَبُو لُبَابَةَ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ إِنَّ التَّمْرَ فِي الْمَرَابِدِ، قَالَ: وَمَا فِي السَّمَاءِ سَحَابٌ نَرَاهُ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" اللهُمَّ اسْقِنَا حَتَّى يَقُومَ أَبُو لُبَابَةَ عُرْيَانًا يَسُدُّ ثَعْلَبَ مِرْبَدِهِ بِإِزَارِهِ". قَالَ: فَاسْتَهَلَّتِ السَّمَاءُ فَأَمْطَرَتْ، وَصَلَّى بِنَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:، ثُمَّ طَافَتِ الْأَنْصَارُ بِأَبِي لُبَابَةَ يَقُولُونَ لَهُ: يَا أَبَا لُبَابَةَ، إِنَّ السَّمَاءَ وَاللهِ لَنْ تُقْلِعَ أَبَدًا حَتَّى تَقُومَ عُرْيَانًا، فَتَسُدَّ ثَعْلَبَ مِرْبَدِكَ بِإِزَارِكَ، كَمَا قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" فَقَامَ أَبُو لُبَابَةَ عُرْيَانًا؛ فَسَدَّ ثَعْلَبَ مِرْبَدِهِ بِإِزَارِهِ، قَالَ: فَأَقْلَعَتِ السَّمَاءُ".
سیدنا ابو لبابہ بن عبد المنذر انصاری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ جمعے کے دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بارش کی دعا کی اور فرمایا: «اللَّهُمَّ اسْقِنَا، اللَّهُمَّ اسْقِنَا» ”اے اللہ! ہمیں بارش دے، اے اللہ! ہمیں بارش دے۔“ تو ابو لبابہ رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے اور عرض کیا: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! کھجوریں باڑے میں پڑی ہیں اور ہم آسمان میں کوئی بادل بھی نہیں دیکھ رہے، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے اللہ! ہمیں بارش دے اس قدر کہ ابو لبابہ ننگا کھڑا ہو اور اپنے باڑے کے سوراخ کو اپنے تہبند کے ساتھ بند کرے۔“ راوی کہتے ہیں کہ آسمان ابر آلود ہو گیا اور بارش برسی اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں نماز پڑھائی۔ راوی کہتے ہیں کہ انصار ابو لبابہ رضی اللہ عنہ کے پاس گئے اور کہنے لگے: اے ابو لبابہ! اللہ کی قسم! اتنی دیر آسمان صاف نہیں ہوگا یہاں تک کہ تو ننگا کھڑا ہو کر اپنی چادر سے باڑے کے سوراخ کو بند نہیں کرے گا جس طرح آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے، چنانچہ ابو لبابہ رضی اللہ عنہ ننگا کھڑا ہوا اور اپنی چادر سے باڑے کے سوراخ کو بند کیا تو آسمان صاف ہو گیا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب صلاة الاستسقاء/حدیث: 6435]
تخریج الحدیث: «ضعيف۔ أخرجه الطبراني»

الحكم على الحديث: ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
1320. -- باب: الدعاء في الاستسقاء
-- باب: استسقاء میں دعا مانگنے کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6436
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ قُتَيْبَةَ، ثنا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، أنبأ إِسْمَاعِيلُ بْنُ جَعْفَرٍ، ح وَأنبأ، أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَخْتَوَيْهِ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ، ثنا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، ثنا إِسْمَاعِيلُ، ح وَأنبأ أَبُو عَمْرٍو الْأَدِيبُ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ الْإِسْمَاعِيلِيُّ، ثنا جَعْفَرٌ الْفِرْيَابِيُّ، ثنا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، ثنا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ، وَإِسْمَاعِيلُ بْنُ جَعْفَرٍ، عَنْ شَرِيكِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ أَبِي نَمِرٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَمْرٍو، أنبأ أَبُو بَكْرٍ الْإِسْمَاعِيلِيُّ، أَخْبَرَنِي ⦗٤٩٥⦘ أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ عَبْدِ الْجَبَّارِ، ثنا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ، ثنا إِسْمَاعِيلُ هُوَ ابْنُ جَعْفَرٍ، أَخْبَرَنِي شَرِيكٌ، عَنْ أَنَسٍ:" أَنَّ رَجُلًا دَخَلَ الْمَسْجِدَ يَوْمَ الْجُمُعَةِ مِنْ بَابٍ كَانَ نَحْوَ دَارِ الْقَضَاءِ، وَرَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَائِمٌ يَخْطُبُ، فَاسْتَقْبَلَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَائِمًا، ثُمَّ قَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ، هَلَكَتِ الْأَمْوَالُ، وَانْقَطَعَتِ السُّبُلُ؛ فَادْعُ اللهَ أَنْ يُغِيثَنَا، قَالَ: فَرَفَعَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَدَيْهِ، ثُمَّ قَالَ:" اللهُمَّ أَغِثْنَا، اللهُمَّ أَغِثْنَا، اللهُمَّ أَغِثْنَا"، ثَلَاثًا، قَالَ أَنَسٌ: فَلَا وَاللهِ مَا نَرَى فِي السَّمَاءِ سَحَابَةً، وَلَا قَزَعَةً، وَمَا بَيْنَنَا وَبَيْنَ سَلْعٍ مِنْ بَيْتٍ وَلَا دَارٍ، قَالَ فَطَلَعَتْ مِنْ وَرَائِهِ سَحَابَةٌ مِثْلُ التُّرْسِ؛ فَلَمَّا تَوَسَّطَتِ السَّمَاءَ انْتَشَرَتْ، ثُمَّ أَمْطَرَتْ، قَالَ أَنَسٌ: فَلَا وَاللهِ مَا رَأَيْنَا الشَّمْسَ سَبْتًا، قَالَ فَدَخَلَ رَجُلٌ مِنْ ذَلِكَ الْبَابِ فِي الْجُمُعَةِ الْمُقْبِلَةِ، وَرَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَخْطُبُ، فَاسْتَقْبَلَهُ قَائِمًا فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ، هَلَكَتِ الْأَمْوَالُ، وَانْقَطَعَتِ السُّبُلُ؛ فَادْعُ اللهَ يُمْسِكْهَا عَنَّا، قَالَ: فَرَفَعَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَدَيْهِ، ثُمَّ قَالَ:" اللهُمَّ حَوَالَيْنَا وَلَا عَلَيْنَا، اللهُمَّ عَلَى الْآكَامِ وَالظِّرَابِ، وَبُطُونِ الْأَوْدِيَةِ، وَمَنَابِتِ الشَّجَرِ" قَالَ: فَأَقْلَعَتْ، فَخَرَجْنَا نَمْشِي فِي الشَّمْسِ". قَالَ شَرِيكٌ: فَسَأَلْتُ أَنَسًا أَهُوَ الرَّجُلُ الْأَوَّلُ؟ فَقَالَ: لَا أَدْرِي". رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ قُتَيْبَةَ بْنِ سَعِيدٍ عَنْ إِسْمَاعِيلَ، وَرَوَاهُ مُسْلِمٌ عَنْ يَحْيَى بْنِ يَحْيَى، وَيَحْيَى بْنِ أَيُّوبَ، وَقُتَيْبَةَ، وَعَلِيِّ بْنِ حُجْرٍ، كُلُّهُمْ عَنْ إِسْمَاعِيلَ.
سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جمعہ کے دن ایک آدمی مسجد کے دروازے سے داخل ہوا جو ”دارالقضاء“ کی طرف تھا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے خطبہ دے رہے تھے۔ وہ بھی کھڑے کھڑے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف متوجہ ہوا اور کہنے لگا: ”اے اللہ کے رسول! اموال ہلاک ہوگئے، راستے منقطع ہوچکے ہیں۔ اللہ تعالیٰ سے دعا کیجیے کہ وہ ہماری مدد فرمائے۔“ سیدنا انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ہاتھ اٹھائے اور فرمایا: «اللَّهُمَّ أَغِثْنَا» ”اے اللہ! ہماری مدد فرما۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تین مرتبہ یہی فرمایا۔ سیدنا انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: اللہ کی قسم! ہمیں آسمان پر بادل تو کیا بادل کا ٹکڑا بھی نظر نہیں آ رہا تھا، جبکہ ہمارے اور سلع پہاڑ کے درمیان کوئی گھر وغیرہ بھی نہیں تھا (کہ بادل ہم سے چھپے)۔ راوی کہتے ہیں کہ سلع کے پیچھے سے ڈھال کی طرح بادل نمودار ہوئے، جب آسمان کے وسط میں آئے تو پھیل گئے اور بارش برسائی۔ سیدنا انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: اللہ کی قسم! ہم نے پورے چھ دن سورج نہ دیکھا۔ سیدنا انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: پھر ایک شخص آئندہ جمعے اسی دروازے سے داخل ہوا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے خطبہ دے رہے تھے، وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف متوجہ ہوا اور کہنے لگا: ”اے اللہ کے رسول! اموال ہلاک ہوگئے اور راستے منقطع ہو چکے، اللہ سے دعا کیجیے اس بارش کو ہم سے روک دے۔“ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ہاتھ اٹھائے اور فرمایا: «اللَّهُمَّ حَوَالَيْنَا وَلَا عَلَيْنَا، اللَّهُمَّ عَلَى الْآكَامِ وَالظِّرَابِ وَبُطُونِ الْأَوْدِيَةِ وَمَنَابِتِ الشَّجَرِ» ”اے اللہ! اب ہم پر نہیں بلکہ ہمارے ارد گرد برسا۔ اے اللہ! انہیں ٹیلوں، چھوٹی پہاڑیوں، وادیوں کے اندر اور درختوں کے اگنے کی جگہوں پر برسا۔“ سیدنا انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: بادل چھٹ گئے، ہم جب مسجد سے نکلے تو دھوپ میں چل رہے تھے۔ شریک کہتے ہیں: میں نے سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ وہ شخص پہلے ہی والا تھا؟ تو انہوں نے کہا: میں نہیں جانتا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب صلاة الاستسقاء/حدیث: 6436]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ البخاري»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6437
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ عَفَّانَ الْعَامِرِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ، ثنا مِسْعَرُ بْنُ كِدَامٍ، عَنْ يَزِيدَ الْفَقِيرِ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ قَالَ: أَتَتِ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَوَاكِي، فَقَالَ:" اللهُمَّ اسْقِنَا غَيْثًا مُغِيثًا مَرِيًّا مَرِيعًا، عَاجِلًا غَيْرَ آجِلٍ، نَافِعًا غَيْرَ ضَارٍّ". فَأَطْبَقَتْ عَلَيْهِمْ". هَكَذَا أَخْبَرَنَا بِهِ فِي كِتَابِ الْمُسْتَدْرَكِ، وَأَخْبَرَنَا بِهِ فِي الْفَوَائِدِ الْكَبِيرِ لِأَبِي الْعَبَّاسِ، فَقَالَ فِي الْحَدِيثِ:" أَتَتِ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ هَوَازِنُ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" قُولُوا: اللهُمَّ اسْقِنَا"..
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس رونے والے لوگ آئے (اور کہنے لگے) تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دعا کی: ”اے اللہ! تو ہمیں بارش عطا فرما جو مفید، سیراب کرنے والی، سرسبزی لانے والی، جلد جو تاخیر سے آنے والی نہ ہو، جو سودمند (نافع) ہو نقصان دہ نہ ہو“ تو بادل پلیٹ کی طرح چھا گئے۔
ابوعباس ایک حدیث میں بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس قبیلہ ہوازن کے لوگ دعا کے لیے آئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہا: ”تم کہو «اللَّهُمَّ اسْقِنَا» ”اے اللہ! ہمیں پلا“۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب صلاة الاستسقاء/حدیث: 6437]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ ابو داؤد»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6438
وَأَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْأُشْنَانِيُّ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ الْأَصَمُّ، فَذَكَرَهُ. وَقَالَ: هَوَازِنُ، وَلَمْ يَقُلْ" قُولُوا". هَكَذَا رَوَاهُ جَمَاعَةٌ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عُبَيْدٍ، وَكَذَا هُوَ فِي نُسْخَتِنَا لِكِتَابِ أَبِي دَاوُدَ، وَكَانَ أَبُو سُلَيْمَانَ الْخَطَّابِيُّ رَحِمَهُ اللهُ يَسْتَقْرِيهِ، رَأَيْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَوَاكَى، ثُمَّ فَسَّرَهُ فَقَالَ: قَوْلُهُ: تَوَاكَى مَعْنَاهُ: التَّحَامُلُ إِذَا رَفَعَهُمَا وَمَدَّهُمَا فِي الدُّعَاءِ..
ابو عباس رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں اور انہوں نے تذکرہ کیا اور کہا: وہ ہوازن تھے، مگر انہوں نے «قُولُوا» ”کہو“ کا لفظ ذکر نہیں کیا۔ ایک جماعت نے اسے محمد بن عبید سے اسی طرح روایت کیا ہے، اور ابوداؤد کی کتاب کے ہمارے نسخے میں بھی اسی طرح ہے۔ ابو سلیمان خطابی رحمہ اللہ اسے یوں پڑھتے تھے: «رَأَيْتُ رَسُولَ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم تَوَاكَى»، پھر انہوں نے اس کی وضاحت کی کہ «تَوَاكَى» کا معنی ہے: دعا میں ہاتھ اٹھاتے اور پھیلاتے وقت زور لگانا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب صلاة الاستسقاء/حدیث: 6438]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ ابوداؤد»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6439
وَقَدْ أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنِي مُجَاهِدُ بْنُ مُوسَى، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ، فَذَكَرَهُ عَلَى اللَّفْظِ الْأَوَّلِ. ⦗٤٩٦⦘ قَالَ عَبْدُ اللهِ: فَحَدَّثْتُ بِهَذَا الْحَدِيثِ أَبِي، فَقَالَ أَبِي: أَعْطَانَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ كِتَابَهُ عَنْ مِسْعَرٍ فَنَسَخْنَاهُ، وَلَمْ يَكُنْ هَذَا الْحَدِيثُ فِيهِ لَيْسَ هَذَا بِشَيْءٍ، كَأَنَّهُ أَنْكَرَهُ مِنْ مُحَمَّدِ بْنِ عُبَيْدٍ، قَالَ أَبِي: فَحَدَّثَنَاهُ يَعْلَى أَخُو مُحَمَّدٍ، ثنا مِسْعَرٌ عَنْ يَزِيدَ الْفَقِيرِ مُرْسَلًا وَلَمْ يَقُلْ: بَوَاكِي، خَالَفَهُ.
ہمیں حدیث بیان کی محمد بن عبید نے، انہوں نے پہلے الفاظ کا تذکرہ کیا تو عبداللہ رحمہ اللہ نے کہا: میں نے یہ حدیث اپنے باپ رحمہ اللہ کے سامنے بیان کی تو میرے باپ رحمہ اللہ نے کہا کہ محمد بن عبید نے ہمیں اپنی کتاب (تحریر) دی جو مسعر سے تھی، ہم نے اسے نقل کیا اور اس میں یہ حدیث نہیں تھی، یہ کوئی چیز نہیں، گویا انہوں نے اسے محمد بن عبید کی طرف سے منکر جانا ہے۔ میرے باپ نے کہا: ہمیں یہ حدیث محمد کے بھائی یعلیٰ نے بیان کی، انہوں نے کہا: ہمیں مسعر نے یزید فقیر سے مرسل بیان کی اور انہوں نے «بَوَاكِي» (رونے والے) نہیں کہا، یوں انہوں نے ان کی مخالفت کی۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب صلاة الاستسقاء/حدیث: 6439]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ ابن خزيمه»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6440
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ إِسْحَاقَ الْفَقِيهُ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ أَيُّوبَ، أنبأ أَبُو عُمَرَ، ثنا شُعْبَةُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ، عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ، عَنْ شُرَحْبِيلَ بْنِ السِّمْطِ، أَنَّهُ قَالَ لِكَعْبِ بْنِ مُرَّةَ أَوْ مَرَّةَ بْنِ كَعْبٍ: حَدِّثْنَا حَدِيثًا سَمِعْتَهُ مِنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَعَا عَلَى مُضَرَ، فَأَتَيْتُهُ فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ إِنَّ اللهَ قَدْ أَعْطَاكَ وَاسْتَجَابَ لَكَ، وَإِنَّ قَوْمَكَ قَدْ هَلَكُوا، فَادْعُ اللهَ لَهُمْ، فَقَالَ:" اللهُمَّ اسْقِنَا غَيْثًا مُغِيثًا، مَرِيًّا، مَرِيعًا، غَدَقًا، طَبَقًا، عَاجِلًا غَيْرَ رَائِثٍ، نَافِعًا غَيْرَ ضَارٍّ". فَمَا كَانَتْ إِلَّا جُمُعَةٌ أَوْ نَحْوَهَا حَتَّى سُقُوا".
سیدنا کعب بن مرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے ہمیں وہ حدیث بیان کی جو انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی تھی، وہ کہتے ہیں: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے قبیلہ ”مضر“ کے لیے بددعا کی، تو میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! بیشک اللہ تعالیٰ نے آپ کو عطا کر دیا اور آپ کی دعا کو قبول کر لیا اور بیشک آپ کی قوم ہلاک ہو چکی ہے، آپ ان کے لیے دعا کریں، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دعا فرمائی: «اللَّهُمَّ اسْقِنَا غَيْثًا مُغِيثًا مَرِيئًا مَرِيعًا نَافِعًا غَيْرَ ضَارٍّ عَاجِلًا غَيْرَ آجِلٍ» ”اے اللہ! تو ہمیں ایسی مفید بارش عطا فرما جو سیراب کرنے والی ہو، شادابی لانے والی جو آسودہ کرنے والی اور فراوانی لانے والی ہو، جلدی آنے والی ہو دیر سے آنے والی نہ ہو، فائدہ مند ہو نقصان دہ نہ ہو“ پس ابھی ایک جمعہ یا اس کے برابر وقت نہیں گزرا تھا کہ انہیں بارش عطا کر دی گئی۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب صلاة الاستسقاء/حدیث: 6440]
تخریج الحدیث: «ضعيف۔ أخرجه الحاكم»

الحكم على الحديث: ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6441
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ بِشْرَانَ بِبَغْدَادَ، أنبأ أَبُو الْحَسَنِ أَحْمَدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ مِنْجَابٍ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ مُسْلِمٍ، ثنا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ الْمِنْقَرِيُّ، ثنا عَبْدُ الرَّحِيمِ بْنُ سُلَيْمَانَ الْأَشَلُّ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، عَنْ، أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ" أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا اسْتَسْقَى قَالَ:" اللهُمَّ اسْقِ عِبَادَكَ، وَبَهَائِمَكَ، وَانْشُرْ رَحْمَتَكَ، وَأَحْيِ بَلَدَكَ الْمَيِّتَ". وَكَذَلِكَ رَوَاهُ عَلِيُّ بْنُ قَادِمٍ، عَنِ الثَّوْرِيِّ عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، وَرَوَاهُ مَالِكٌ عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ عَنْ عَمْرٍو أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَقُولُ، مُرْسَلًا.
عمرو بن شعیب اپنے باپ سے اور وہ اپنے دادا رضی اللہ عنہما سے بیان کرتے ہیں کہ بیشک جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم بارش طلب کرتے تو کہتے: «اللَّهُمَّ اسْقِ عِبَادَكَ وَبَهَائِمَكَ، وَانْشُرْ رَحْمَتَكَ، وَأَحْيِ بَلَدَكَ الْمَيِّتَ» ”اے اللہ! تو پلا اپنے بندوں اور چوپاؤں کو اور پھیلا دے اپنی رحمت کو اور زندہ کر مردہ شہروں کو۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب صلاة الاستسقاء/حدیث: 6441]
تخریج الحدیث: «حسن۔ ابو داؤد»

الحكم على الحديث: حسن
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6442
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ حَفْصٍ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَارِثِ الْفَقِيهُ، أنبأ أَبُو مُحَمَّدِ بْنُ حَيَّانَ الْأَصْبَهَانِيُّ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْحَسَنِ قَالَا: ثنا هَاشِمُ بْنُ الْقَاسِمِ، ثنا يَعْلَى، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ جَرَادٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا اسْتَسْقَى قَالَ:" اللهُمَّ اسْقِنَا غَيْثًا مُغِيثًا، مَرِيًّا، تَوَسِّعُ بِهِ لِعِبَادِكَ، تَغْرِزُ بِهِ الضَّرْعَ، وَتُحْيِي بِهِ الزَّرْعَ". لَفْظُ حَدِيثِ أَبِي عَبْدِ اللهِ، وَفِي حَدِيثِ ابْنِ الْحَارِثِ قَالَ: ثنا يَعْلَى بْنُ الْأَشْدَقِ عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ جَرَادٍ قَالَ كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَذَكَرَهُ وَزَادَ:" هَنِيئًا مَرِيًّا".
سیدنا عبداللہ بن جراد رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب بارش کی دعا کرتے تو کہتے: ”اے اللہ! تو پلا ہمیں بارش جو ہماری مددگار ہو اور سیراب کرنے والی ہو جس کے ساتھ تو اپنے بندوں کو فراخی عطا کرتا ہے، دودھ بڑھاتا ہے اور کھیتوں کو زندہ کرتا ہے۔“ اور انہوں نے ان الفاظ کا بھی اضافہ کیا: «هَنِيئًا مَرِيئًا» ”جو خوشی شادابی والی ہو۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب صلاة الاستسقاء/حدیث: 6442]
تخریج الحدیث: «ضعيف جدا۔ عصدة القاري»

الحكم على الحديث: ضعيف جدا
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں