🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
السنن الكبرى للبيهقي میں نمبر سے تلاش
حدیث نمبر لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں عربی متن سے تلاش
عربی حدیث کا متن لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں اردو متن سے تلاش
اردو حدیث کا متن لکھیں:
1323. -- باب: كراهية الاستمطار بالأنواء
-- باب: ستاروں کی گردش سے بارش طلب کرنے کی کراہت کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6453
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ، أنبأ الرَّبِيعُ، أنبأ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ فِي حَدِيثِ زَيْدِ بْنِ خَالِدٍ الْجُهَنِيِّ: أَرَى مَعْنَى قَوْلِهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ⦗٥٠٠⦘ وَاللهُ أَعْلَمُ، أَنَّ مَنْ قَالَ:" مُطِرْنَا بِفَضْلِ اللهِ وَرَحْمَتِهِ" فَذَلِكَ إِيمَانٌ بِاللهِ؛ لِأَنَّهُ يَعْلَمُ أَنَّهُ لَا يُمْطِرُ وَلَا يُعْطِي إِلَّا اللهُ عَزَّ وَجَلَّ، وَأَمَّا مَنْ قَالَ: مُطِرْنَا بِنَوْءِ كَذَا عَلَى مَا كَانَ بَعْضُ أَهْلِ الشِّرْكِ يَعْنُونَ مِنْ إِضَافَةِ الْمَطَرِ إِلَى أَنَّهُ أَمْطَرَهُ نَوْءُ كَذَا، فَذَلِكَ كُفْرٌ" كَمَا قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِأَنَّ النَّوْءَ وَقْتٌ، وَالْوَقْتُ مَخْلُوقٌ، لَا يَمْلِكُ لِنَفْسِهِ وَلَا لِغَيْرِهِ شَيْئًا، وَلَا يُمْطِرُ، وَلَا يَصْنَعُ شَيْئًا؛ فَأَمَّا مَنْ قَالَ: مُطِرْنَا بِنَوْءِ كَذَا عَلَى مَعْنَى مُطِرْنَا فِي وَقْتِ نَوْءِ كَذَا، فَإِنَّمَا ذَلِكَ كَقَوْلِهِ: مُطِرْنَا فِي شَهْرِ كَذَا، فَلَا يَكُونُ هَذَا كُفْرٌ، وَغَيْرُهُ مِنَ الْكَلَامِ أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْهُ، أُحِبُّ أَنْ يَقُولَ: مُطِرْنَا فِي وَقْتِ كَذَا. قَالَ:" وَبَلَغَنِي أَنَّ بَعْضَ أَصْحَابِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا أَصْبَحَ وَقَدْ مُطِرَ النَّاسُ قَالَ:" مُطِرْنَا بِنَوْءِ الْفَتْحِ"، ثُمَّ يَقْرَأُ {مَا يفْتَحُ اللهُ لِلنَّاسِ مِنْ رَحْمَةٍ فَلَا مُمْسِكَ لَهَا} [فاطر: ٢] ".
زید بن خالد جہنی رضی اللہ عنہ کی حدیث کے متعلق امام شافعی رحمہ اللہ کہتے ہیں: میرا خیال آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان کے بارے میں، واللہ اعلم، یہ ہے کہ جس نے کہا کہ ”ہم اللہ کی رحمت اور اس کے فضل سے بارش دیے گئے ہیں“، یہ اللہ تعالیٰ پر ایمان ہے کہ اس کے سوا نہ کوئی بارش دے سکتا ہے نہ ہی کچھ اور۔ جس نے یہ کہا کہ ہم فلاں قسم (ستارے) کی وجہ سے بارش دیے گئے ہیں، جو اہل شرک کا نظریہ تھا کہ فلاں ستارے نے بارش برسائی ہے اور فلاں وجہ سے بارش آئی ہے، یہ کفر ہے جیسا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا؛ کیونکہ «النَّوءُ» ”وقت“ ہے اور وقت مخلوق ہے جو نہ اپنے لیے کچھ اختیار رکھتا ہے اور نہ دوسرے کے لیے، نہ وہ بارش برسا سکتا ہے اور نہ کچھ اور کرسکتا ہے اور جس نے کہا کہ ہم فلاں نوء سے بارش دیے گئے ہیں یعنی فلاں نوء کے وقت میں بارش دیے گئے ہیں، تو یہ ایسے ہی ہے جیسے کوئی کہے کہ ہم فلاں ماہ میں بارش دیے گئے ہیں۔ یہ کہنا کفر نہیں ہوتا، البتہ اس کے علاوہ کوئی دوسری بات کہنا مجھے اس سے زیادہ پسند ہے اور مجھے پسند ہے کہ یہ بات ایسے کہی جائے کہ ”ہم فلاں وقت میں بارش دیے گئے ہیں“۔
امام شافعی رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ مجھے یہ بات پہنچی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعض صحابہ رضی اللہ عنہم جب صبح کرتے اور لوگوں کو بارش دی گئی ہوتی تو کہتے: ”ہم فتح کے نوء سے بارش دیے گئے ہیں“، پھر یہ آیت پڑھتے ﴿مَا يَفْتَحِ اللَّهُ لِلنَّاسِ مِنْ رَحْمَةٍ فَلَا مُمْسِكَ لَهَا﴾ [سورة فاطر: 2] ۔
امام شافعی رحمہ اللہ کہتے ہیں: عمر رضی اللہ عنہ سے بیان کیا گیا ہے کہ انہوں نے جمعہ کے دن منبر پر فرمایا کہ «الثُّرَيَّا» (ثریا) کی قسم کتنی باقی ہے؟ تو عباس رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے اور انہوں نے کہا کہ «العَوَاءُ» (عواء) کے بغیر کچھ باقی نہیں ہے۔ پھر عمر رضی اللہ عنہ نے دعا کی اور دیگر لوگوں نے بھی دعا کی، یہاں تک کہ وہ منبر سے اترے تو بارش برسنا شروع ہوگئی اور اس سے لوگ زندگی دیے گئے۔
امام شافعی رحمہ اللہ کہتے ہیں: عمر رضی اللہ عنہ کا قول اسے واضح کرتا ہے جو میں نے بیان کیا؛ کیونکہ ان کی مراد یہ تھی کہ ثریا کا کتنا وقت باقی ہے۔ یہ بات اس علم کی بنا پر کہی جو وہ جانتے تھے کہ بیشک اللہ تعالیٰ نے ان اوقات میں بارش کو مقدر کیا ہے جس طرح تجربے سے یہ بات جانی گئی ہے کہ فلاں وقت کو اللہ تعالیٰ نے سردی اور گرمی کے لیے مقدر کیا ہے؛ اور وہ کہتے ہیں: مجھے یہ بات بھی پہنچی ہے کہ عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ بنو تمیم کے ایک بوڑھے پر ناراض ہوگئے جب وہ عکاظ کے بازار میں ٹیک لگائے بیٹھا تھا اور لوگ بارش دیے گئے تھے۔ اس نے کہا: ”آج صبح پچھتر (ستاروں) نے سیراب کردیا ہے“، مگر عمر رضی اللہ عنہ نے اس کی بات کا انکار کردیا، پچھتر کو بارش کی طرف منسوب کیے جانے کی وجہ سے یہ بات کہی۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب صلاة الاستسقاء/حدیث: 6453]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ الام للشافعي»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6454
أَخْبَرَنَا أَبُو أَحْمَدَ الْمِهْرَجَانِيُّ، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ثنا ابْنُ بُكَيْرٍ، ثنا مَالِكٌ أَنَّهُ بَلَغَهُ أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ كَانَ يَقُولُ فَذَكَرَهُ. وَالَّذِي رَوَاهُ أَوَّلًا عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فَهُوَ.
مالک رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ انہیں یہ بات پہنچی کہ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ یہی بات کہتے ہیں۔ سو انہوں نے اس بات کا تذکرہ کیا اور کہا کہ جو بات انہوں نے پہلے عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے بیان کی وہی ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب صلاة الاستسقاء/حدیث: 6454]
تخریج الحدیث: «ضعيف۔ أخرجه مالك»

الحكم على الحديث: ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6455
فِيمَا أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ الْفَقِيهُ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ الْقَطَّانُ، ثنا أَبُو الْأَزْهَرِ، ثنا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ثنا أَبِي، عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ، حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ الْحَارِثِ التَّيْمِيُّ، عَنْ سَلْمَانَ الْأَغَرِّ مَوْلَى جُهَيْنَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:" إِنَّ اللهَ عَزَّ وَجَلَّ لَيُبَيِّتُ الْقَوْمَ بِالنِّعْمَةِ، ثُمَّ يصْبِحُونَ وَأَكْثَرُهُمْ بِهَا كَافِرٌ يَقُولُونَ: مُطِرْنَا بِنَوْءِ كَذَا وَكَذَا". ⦗٥٠١⦘ قَالَ مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ: فَحَدَّثْتُ بِهَذَا الْحَدِيثِ سَعِيدَ بْنَ الْمُسَيِّبِ عَنْ سَلْمَانَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، فَقَالَ سَعِيدٌ: نَحْنُ قَدْ سَمِعْنَا ذَاكَ مِنْ أَبِي هُرَيْرَةَ.
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے تھے: ”قوم کو کوئی نعمت رات کے وقت ملتی ہے، پھر وہ صبح اس حال میں کرتے ہیں کہ اکثر ان میں سے اس کا انکار کرنے والے ہوتے ہیں اور وہ کہہ رہے ہوتے ہیں کہ ہم فلاں فلاں قسم کی وجہ سے بارش دیے گئے ہیں۔“
سعید کہتے ہیں کہ ہم نے یہ بات سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے سنی اور انہوں نے مجھ سے ایسی حدیث بیان کی جس (کے راوی) پر میں تہمت نہیں لگا سکتا۔ بیشک وہ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کی صلاۃ الاستسقاء میں شامل ہوئے اور وہ قحط سالی میں لوگوں کے لیے بارش مانگ رہے تھے۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ اور لوگوں نے بارش کے لیے دیر تک دعا و التجا کی اور سیدنا عباس بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہ سے کہا: اے عباس! ”ثریا“ کی فلاں قسم کتنی باقی ہے؟ انہوں نے کہا: اے امیر المومنین! اہل علم خیال کرتے ہیں، سات دن کے بعد وہ افق کے کناروں سے ہٹ جائے گا۔ راوی کہتے ہیں: اللہ کی قسم! ابھی وہ سات دن ہی گزرنے پائے تھے کہ لوگوں کو بارش دے دی گئی۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب صلاة الاستسقاء/حدیث: 6455]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيرهٖ۔ أخرجه احمد»

الحكم على الحديث: صحيح لغيرهٖ
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
1324. -- باب: البروز للمطر
-- باب: بارش (کے پانی کو جسم پر لینے) کے لیے باہر نکلنے کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6456
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ الْفَرَّاءُ، وَمُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو الْحَرَشِيُّ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو إِسْحَاقَ إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ الْإِمَامُ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ زَرْقَوْيِهِ، ثنا أَبُو زَكَرِيَّا يَحْيَى بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ غَالِبٍ النَّسَوِيُّ قَالُوا: ثنا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، أنبأ جَعْفَرُ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ، عَنْ أَنَسٍ قَالَ: قَالَ أَنَسٌ:" أَصَابَنَا وَنَحْنُ مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَطَرٌ، قَالَ: فَحَسَرَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثَوْبَهُ حَتَّى أَصَابَهُ مِنَ الْمَطَرِ؛ فَقُلْنَا: يَا رَسُولَ اللهِ، لِمَ صَنَعْتَ هَذَا؟ قَالَ:" لِأَنَّهُ حَدِيثُ عَهْدٍ بِرَبِّهِ". رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ يَحْيَى بْنِ يَحْيَى وَرُوِيَ فِيهِ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ.
سیدنا انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہمیں بارش آ پہنچی اور ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے کپڑے کو ہٹایا یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے جسم کو بارش کے قطرات پہنچے۔ ہم نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسا کیوں کیا؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیونکہ یہ ابھی ابھی اپنے رب کے پاس سے آئی ہے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب صلاة الاستسقاء/حدیث: 6456]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ السلم»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
1325. -- باب: ما جاء في السيل
-- باب: سیلاب کے بارے میں جو مروی ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6457
أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ، أنبأ الرَّبِيعُ، أنبأ الشَّافِعِيُّ، أنبأ مَنْ لَا أَتَّهِمُ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ الْهَادِ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا سَالَ السَّيْلُ قَالَ:" اخْرُجُوا بِنَا إِلَى هَذَا الَّذِي جَعَلَهُ اللهُ طَهُورًا فَنَتَطَهَّرَ مِنْهُ، وَنَحْمَدَ اللهَ عَلَيْهِ". هَذَا مُنْقَطِعٌ، وَرُوِيَ فِيهِ عَنْ عُمَرَ.
یزید بن الہاد رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ جب پانی بہہ پڑتا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے: «اخْرُجُوا بِنَا إِلَى هَذَا الَّذِي جَعَلَهُ اللهُ طَهُورًا، فَنَتَطَهَّرَ مِنْهُ، وَنَحْمَدَ اللهَ عَلَيْهِ» ”ہمارے ساتھ اس (پانی) کی طرف نکلو جسے اللہ نے پاک کرنے والا بنایا ہے، ہم اس سے پاکیزگی حاصل کریں اور اس پر اللہ کی حمد بیان کریں۔“
یہ روایت منقطع ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب صلاة الاستسقاء/حدیث: 6457]
تخریج الحدیث: «ضعيف۔ شافعي»

الحكم على الحديث: ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6458
أَخْبَرَنَا أَبُو الْقَاسِمِ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عُبَيْدِ اللهِ الْحُرْفِيُّ بِبَغْدَادَ فِي الْحَرِّ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الزُّبَيْرِ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ إِسْحَاقَ، ثنا جَعْفَرُ بْنُ عَوْنٍ، عَنْ هِشَامِ بْنِ سَعْدٍ، ثنا زَيْدُ بْنُ أَسْلَمَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ سَعْدٍ صَاحِبِ الْجَارِ مَوْلَى عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ ⦗٥٠٢⦘ قَالَ:" مَرَّ بِنَا عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ آتِيًا مِنَ الْحَجِّ وَمَعَهُ نَفَرٌ مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ:" اغْتَسِلُوا مِنَ الْبَحْرِ فَإِنَّهُ مُبَارَكٌ"، ثُمَّ دَعَا بِمَنَادِيلَ، فَنَزَلُوا وَاغْتَسَلُوا".
عمرو بن سعد رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں، جو عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے غلام ہیں کہ ہمارے پاس سے عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ گزرے، وہ حج سے آئے تھے اور ان کے ساتھ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ رضی اللہ عنہم کی ایک جماعت تھی، انہوں نے کہا: دریا سے غسل کر لو، یہ بے شک بابرکت ہے، پھر انہوں نے رومال منگوائے، اترے اور غسل کیا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب صلاة الاستسقاء/حدیث: 6458]
تخریج الحدیث: «ضعيف۔ أخرجه ابن ابي شيبه»

الحكم على الحديث: ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
1326. -- باب: طلب الإجابة عند نزول الغيث
-- باب: بارش نازل ہونے کے وقت (دعا کی) قبولیت طلب کرنے کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6459
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، حَدَّثَنِي عَلِيُّ بْنُ حَمْشَاذٍ الْعَدْلُ، ثنا عُبَيْدُ بْنُ شَرِيكٍ الْبَزَّازُ، ثنا سَعِيدُ بْنُ أَبِي مَرْيَمَ، ثنا مُوسَى بْنُ يَعْقُوبَ الزَّمْعِيُّ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" ثِنْتَانِ لَا تُرَدَّانِ، أَوْ قَلَّمَا تُرَدَّانِ؛ الدُّعَاءُ عِنْدَ النِّدَاءِ عِنْدَ الْبَأْسِ حِينَ يُلْحِمُ بَعْضُهُمْ بَعْضًا". قَالَ مُوسَى: وَحَدَّثَنِي رِزْقُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْمَدَنِيُّ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" وَتَحْتَ الْمَطَرِ". وَرُوِيَ فِي ذَلِكَ عَنْ أَبِي أُمَامَةَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، إِلَّا أَنَّ عُفَيْرَ بْنَ مَعْدَانَ عَلَى طَرِيقَةٍ.
سہل بن سعد رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”دو دعائیں ایسی ہیں جو رد نہیں کی جاتیں“ یا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بہت کم ہی رد کی جاتی ہیں: ایک اذان کے وقت اور دوسری لڑائی کے وقت جب ایک دوسرے کو کاٹ رہا ہوتا ہے۔“ نیز سہل بن سعد رضی اللہ عنہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ بھی بیان کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اور بارش میں۔“
یہ روایت ابوامامہ رضی اللہ عنہ کے واسطے سے بھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے مروی ہے، مگر اس کی سند میں عفیر بن معدان ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب صلاة الاستسقاء/حدیث: 6459]
تخریج الحدیث: «حسن۔ ابو داؤد»

الحكم على الحديث: حسن
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6460
أَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرِ بْنُ قَتَادَةَ، أنبأ أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ سَعْدٍ الْحَافِظُ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْبُوشَنْجِيُّ، ثنا الْهَيْثَمُ بْنُ خَارِجَةَ أَبُو أَحْمَدَ، ثنا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، عَنْ عُفَيْرِ بْنِ مَعْدَانَ، ثنا سُلَيْمُ بْنُ عَامِرٍ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ سَمِعَهُ يُحَدِّثُ عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" تُفْتَحُ أَبْوَابُ السَّمَاءِ، وَيُسْتَجَابُ الدُّعَاءُ فِي أَرْبَعَةِ مَوَاطِنَ: عِنْدَ الْتِقَاءِ الصُّفُوفِ، وَعِنْدَ نُزُولِ الْغَيْثِ، وَعِنْدَ إِقَامَةِ الصَّلَاةِ، وَعِنْدَ رُؤْيَةِ الْكَعْبَةِ".
ابوامامہ رضی اللہ عنہ کو بیان کرتے ہوئے سنا، وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”آسمان کے دروازے کھول دیے جاتے ہیں اور چار مواقع پر دعا قبول کی جاتی ہے: 1۔ (میدان جنگ میں) صفوں کے آمنے سامنے ہونے کے وقت، 2۔ بارش کے نزول کے وقت، 3۔ نماز کی اقامت کے وقت، 4۔ بیت اللہ کی زیارت کے وقت۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب صلاة الاستسقاء/حدیث: 6460]
تخریج الحدیث: «منكر۔ أخرجه الطبراني»

الحكم على الحديث: منكر
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
1327. -- باب: ما جاء في تغير لون رسول الله صلى الله عليه وسلم إذا هبت ريح شديدة أو رأى سحابا
-- باب: جب تیز ہوا چلتی یا بادل نظر آتے تو رسول اللہ ﷺ کے چہرہ مبارک کا رنگ متغیر ہو جانے کے متعلق جو مروی ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6461
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الصَّغَانِيُّ، ثنا ابْنُ أَبِي مَرْيَمَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، حَدَّثَنِي حُمَيْدٌ أَنَّهُ سَمِعَ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ قَالَ:" كَانَتِ الرِّيحُ الشَّدِيدَةُ إِذَا هَبَّتْ عُرِفَ ذَلِكَ فِي وَجْهِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي مَرْيَمَ.
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ جب سخت آندھی چلتی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرے سے (اس کی شدت) پہچانی جاتی۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب صلاة الاستسقاء/حدیث: 6461]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ البخاري»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6462
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا بَحْرُ بْنُ نَصْرٍ، أنبأ ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ، أَنَّ أَبَا النَّضْرِ حَدَّثَهُ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ عَائِشَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهَا قَالَتْ:" مَا رَأَيْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَطُّ مُسْتَجْمِعًا ضَاحِكًا حَتَّى أَرَى مِنْهُ لَهَوَاتِهِ، إِنَّمَا كَانَ يَتَبَسَّمُ، قَالَتْ: وَكَانَ إِذَا رَأَى غَيْمًا، أَوْ رِيحًا عُرِفَ فِي وَجْهِهِ، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ، النَّاسُ إِذَا رَأَوَا الْغَيْمَ فَرِحُوا رَجَاءً أَنْ يَكُونَ فِيهِ الْمَطَرُ، وَأَرَاكَ إِذَا رَأَيْتَهُ عُرِفَ فِي ⦗٥٠٣⦘ وَجْهِكَ الْكَرَاهِيَةُ؟ قَالَ:" يَا عَائِشَةُ، وَمَا يُؤَمِّنُنِي أَنْ يَكُونَ فِيهِ عَذَابٌ، قَدْ عُذِّبَ قَوْمٌ بِالرِّيحِ، وَقَدْ رَأَى قَوْمٌ الْعَذَابَ، وَتَلَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ {فَلَمَّا رَأَوْهُ عَارِضًا مُسْتَقْبِلَ أَوْدِيَتِهِمْ قَالُوا هَذَا عَارِضٌ مُمْطِرُنَا} [الأحقاف: ٢٤] الْآيَةَ". رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ أَحْمَدَ بْنِ عِيسَى وَغَيْرِهِ، وَرَوَاهُ مُسْلِمٌ عَنْ هَارُونَ بْنِ مَعْرُوفٍ وَغَيْرِهِ، كُلُّهُمْ عَنِ ابْنِ وَهْبٍ.
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا (آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بیوی) بیان کرتی ہیں کہ میں نے کبھی نہیں دیکھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کھلکھلا کر ہنسے ہوں کہ آپ کی ڈاڑھیں بھی دکھائی دیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم تو صرف مسکرایا کرتے تھے اور وہ کہتی ہیں: جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم بادل دیکھتے یا آندھی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرے سے محسوس ہو جاتا تو میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! جب لوگ بادل دیکھتے ہیں تو خوش ہوتے ہیں اس امید سے کہ اس میں بارش ہوگی، میں آپ کو دیکھتی ہوں کہ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم (بادل) دیکھتے ہیں تو ناپسندیدگی آپ کے چہرے سے عیاں ہوتی ہے؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مجھے کون سی چیز اس سے بے خوف کر سکتی ہے کہ اس میں عذاب ہو، جبکہ قوموں کو آندھی کے ساتھ عذاب دیا گیا اور ایسے ہی قوم نے عذاب بھی دیکھا“، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ آیت تلاوت کی: ﴿فَلَمَّا رَأَوْهُ عَارِضًا مُسْتَقْبِلَ أَوْدِيَتِهِمْ قَالُوا هَذَا عَارِضٌ مُمْطِرُنَا﴾ [سورة الأحقاف: 24] ”سو جب انھوں نے اسے اپنی وادیوں کی طرف آتے ہوئے دیکھا تو کہنے لگے: یہ آنے والا ہمیں بارش دے گا“۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب صلاة الاستسقاء/حدیث: 6462]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ البخاري»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں