السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
1331. -- باب: الإشارة إلى المطر
-- باب: بارش کی طرف اشارہ کرنے کا بیان
حدیث نمبر: 6473
أَخْبَرَنَاهُ أَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ، أنبأ الرَّبِيعُ، أنبأ الشَّافِعِيُّ، أَنْبَأَنِي مَنْ لَا أَتَّهِمُ، حَدَّثَنِي سُلَيْمَانُ بْنُ عَبْدِ اللهِ، عَنْ عُرْوَةَ بِذَلِكَ. هُوَ فِي الْمُسْنَدِ الَّذِي خَرَّجَهُ ابْنُ مَطَرٍ. وَسَمِعْنَاهُ مِنْ أَبِي زَكَرِيَّا، وَغَيْرِهِ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُوَيْمِرٍ، عَنْ عُرْوَةَ. وَفِي الْمَبْسُوطِ الَّذِي سَمِعْنَاهُ مِنْ أَبِي سَعِيدِ، ابْنُ عُوَيْمِرٍ، وَالصَّحِيحُ رِوَايَةُ أَبِي سَعِيدٍ.
عروہ بن زبیر رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم میں سے کوئی بارش یا بجلی کو دیکھے تو اس کی طرف اشارہ نہ کرے بلکہ اس کی نعت و صفت بیان کرے۔“
سلیمان بن عبداللہ عویمر سے اور وہ عروہ سے بیان کرتے ہیں، اس لمبی حدیث میں جس کو ہم نے ابوسعید رحمہ اللہ سے سنا۔
عبداللہ بن عویمر بیان کرتے ہیں کہ میں عروہ بن زبیر رحمہ اللہ کے ساتھ تھا، میں نے اپنے ہاتھ سے بادلوں کی طرف اشارہ کیا تو انہوں نے کہا: تو ایسا نہ کر، بیشک رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ”اس سے منع کیا ہے کہ اس کی طرف اشارہ کیا جائے۔“ ابن ابی حسین رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ بیشک نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ”بارش کی طرف اشارہ کرنے سے منع کیا ہے۔“ یہ روایت مرسل ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب صلاة الاستسقاء/حدیث: 6473]
سلیمان بن عبداللہ عویمر سے اور وہ عروہ سے بیان کرتے ہیں، اس لمبی حدیث میں جس کو ہم نے ابوسعید رحمہ اللہ سے سنا۔
عبداللہ بن عویمر بیان کرتے ہیں کہ میں عروہ بن زبیر رحمہ اللہ کے ساتھ تھا، میں نے اپنے ہاتھ سے بادلوں کی طرف اشارہ کیا تو انہوں نے کہا: تو ایسا نہ کر، بیشک رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ”اس سے منع کیا ہے کہ اس کی طرف اشارہ کیا جائے۔“ ابن ابی حسین رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ بیشک نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ”بارش کی طرف اشارہ کرنے سے منع کیا ہے۔“ یہ روایت مرسل ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب صلاة الاستسقاء/حدیث: 6473]
تخریج الحدیث: «ضعيف۔ أخرجه الشافعي»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 6474
وَقَدْ أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ، ثنا الْكُدَيْمِيُّ، ثنا أَبُو عَاصِمٍ النَّبِيلُ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ يَعْنِي ابْنَ أَبِي حُسَيْنٍ، قَالَ: يَعْنِي أَبَا عَاصِمٍ: وَأَفَادَنِيهِ ابْنُ جُرَيْجٍ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ:" نَهَى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يُشَارَ إِلَى الْمَطَرِ" وَقَدْ رُوِيَ مِنْ وَجْهٍ آخَرَ ضَعِيفٍ.
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ”بارش کی طرف اشارہ کرنے سے“ منع فرمایا۔
یہ روایت ایک دوسری ضعیف سند سے بھی مروی ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب صلاة الاستسقاء/حدیث: 6474]
یہ روایت ایک دوسری ضعیف سند سے بھی مروی ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب صلاة الاستسقاء/حدیث: 6474]
تخریج الحدیث: «ضعيف جداً۔ ابو داؤد»
الحكم على الحديث: ضعيف جداً
1332. -- باب: ما جاء في الرعد
-- باب: بادل کی گرج کے بارے میں جو مروی ہے
حدیث نمبر: 6475
أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ، أنبأ الرَّبِيعُ، أنبأ الشَّافِعِيُّ، أنبأ الثِّقَةُ، أَنَّ مُجَاهِدًا كَانَ يَقُولُ:" الرَّعْدُ مَلَكٌ، وَالْبَرْقُ أَجْنِحَةُ الْمَلَكِ يَسُقْنَ السَّحَابَ". قَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ:" مَا أَشْبَهَ مَا قَالَ مُجَاهِدٌ بِظَاهِرِ الْقُرْآنِ".
ہمیں ثقہ راویوں نے خبر دی ہے کہ مجاہد رحمہ اللہ کہا کرتے تھے: «رَعْد» فرشتہ ہے اور «بَرْق» فرشتے کے پر ہیں، جو بادلوں کو چلاتے ہیں۔ امام شافعی رحمہ اللہ کہتے ہیں: جو مجاہد رحمہ اللہ نے کہا ہے وہ ظاہرِ قرآن کے کس قدر مشابہ ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب صلاة الاستسقاء/حدیث: 6475]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ أخرجه ابن ماجه»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 6476
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا الْعَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ الصَّلْتِ، ثنا عُمَرُ بْنُ أَبِي زَائِدَةَ قَالَ: سَمِعْتُ عِكْرِمَةَ، وَسَأَلَهُ رَجُلٌ عَنْ قَوْلِهِ {وَيُسَبِّحُ الرَّعْدُ بِحَمْدِهِ} [الرعد: ١٣] ؟ قَالَ" مَلَكٌ يَزْجُرُ السَّحَابَ كَمَا يَزْجُرُ الْحَادِي الْإِبِلَ". وَرُوِيَ فِيهِ عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ.
عمر بن ابی زائدہ رحمہ اللہ کہتے ہیں: میں نے عکرمہ رحمہ اللہ سے سنا، ایک آدمی نے ان سے اللہ تعالیٰ کے اس فرمان ﴿وَيُسَبِّحُ الرَّعْدُ بِحَمْدِهِ﴾ [سورة الرعد: 13] کے بارے میں دریافت کیا، تو انہوں نے کہا: وہ فرشتہ ہے جو بادلوں کو ہانکتا ہے، جس طرح اونٹوں والا اونٹوں کو ہانکتا ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب صلاة الاستسقاء/حدیث: 6476]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ أخرجه ابن جرير»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 6477
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنِي أَبِي، ثنا ابْنُ مَهْدِيٍّ، ثنا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي مُحَمَّدٍ الْهَاشِمِيِّ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَلِيٍّ قَالَ:" الرَّعْدُ مَلَكٌ، وَالْبَرْقُ مِخْرَاقٌ مِنْ حَدِيدٍ"..
ابو محمد ہاشمی اپنے باپ سے اور وہ علی رضی اللہ عنہ سے بیان کرتے ہیں کہ «الرَّعْدُ» ”رعد“ فرشتہ ہے اور «الْبَرْقُ» ”برق“ لوہے کا کوڑا ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب صلاة الاستسقاء/حدیث: 6477]
تخریج الحدیث: «الطبراني»
الحكم على الحديث: الطبراني
حدیث نمبر: 6478
وَرَوَاهُ حَسَنُ بْنُ مُوسَى الْأَشْيَبُ، عَنْ حَمَّادِ بْنِ سَلَمَةَ، عَنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ مُسْلِمٍ مَوْلَى الْحَسَنِ بْنِ عَلِيٍّ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ عَلِيًّا رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ" الرَّعْدُ الْمَلَكُ". أَخْبَرَنَاهُ أَبُو عَبْدِ اللهِ، وَأَبُو سَعِيدٍ قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنِي أَبِي، ثنا حَسَنُ بْنُ مُوسَى، فَذَكَرَهُ.
مغیرہ بن مسلم (سیدنا حسن بن علی رضی اللہ عنہما کے آزاد کردہ غلام) اپنے والد سے بیان کرتے ہیں کہ بے شک سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: رعد فرشتہ ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب صلاة الاستسقاء/حدیث: 6478]
تخریج الحدیث: «ضعيف۔ ابن جرير»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 6479
أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ الْفَقِيهُ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ الْقَطَّانُ، ثنا أَبُو الْأَزْهَرِ، ثنا رَوْحٌ، ثنا ⦗٥٠٧⦘ الثَّوْرِيُّ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ كُهَيْلٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَشْوَعَ، عَنْ رَبِيعَةَ بْنِ الْأَبْيَضِ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ:" الْبَرْقُ مَخَارِيقُ الْمَلَائِكَةِ".
ربیع بن ابیض علی رضی اللہ عنہ سے بیان کرتے ہیں: ”برق“ فرشتے کا کوڑا ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب صلاة الاستسقاء/حدیث: 6479]
تخریج الحدیث: «ضعيف۔ ابن جرير»
الحكم على الحديث: ضعيف
1333. -- باب: كثرة المطر وقلته
-- باب: بارش کی کثرت اور اس کی قلت کا بیان
حدیث نمبر: 6480
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْفَضْلِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ سَلَمَةَ، ثنا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، ثنا يَعْقُوبُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ سُهَيْلٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" لَيْسَتِ السَّنَةُ بِأَنْ لَا تُمْطَرُوا، وَلَكِنِ السَّنَةُ بِأَنْ تُمْطَرُوا وَتُمْطَرُوا وَلَا تُنْبِتُ الْأَرْضُ شَيْئًا". رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ قُتَيْبَةَ.
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”قحط سالی سے یہ مراد نہیں کہ بارش نہ ہو، قحط سالی سے مراد یہ ہے کہ بارش ہو مگر زمین میں کچھ پیدا نہ ہو۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب صلاة الاستسقاء/حدیث: 6480]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ مسلم»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 6481
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو عَلِيٍّ الْحَافِظُ، ثنا يَحْيَى بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ صَاعِدٍ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مَكْتُومٍ، ثنا أَبُو عَتَّابٍ سَهْلُ بْنُ حَمَّادٍ، ثنا شُعْبَةُ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ أَبِي الْأَحْوَصِ، عَنْ عَبْدِ اللهِ قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَا عَامٌ بِأَمْطَرَ مِنْ عَامٍ، وَلَا هَبَّتْ جَنُوبٌ إِلَّا سَالَ وَادِي كَذَا" رُوِيَ مَرْفُوعًا بِهَذَا الْإِسْنَادِ، وَالصَّحِيحُ مَوْقُوفٌ.
سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کوئی سال کسی دوسرے سال سے زیادہ بارش والا نہیں ہوتا، اور جب بھی جنوب کی ہوائیں چلتی ہیں تو فلاں وادی بہہ پڑتی ہے۔“
یہ روایت اس سند کے ساتھ مرفوع بیان کی گئی ہے، جبکہ صحیح یہ ہے کہ یہ موقوف ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب صلاة الاستسقاء/حدیث: 6481]
یہ روایت اس سند کے ساتھ مرفوع بیان کی گئی ہے، جبکہ صحیح یہ ہے کہ یہ موقوف ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب صلاة الاستسقاء/حدیث: 6481]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 6482
أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ الْفَقِيهُ، أنبأ أَبُو عُثْمَانَ عَمْرُو بْنُ عَبْدِ اللهِ الْبَصْرِيُّ، ثنا أَبُو أَحْمَدَ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ، أنبأ يَعْلَى بْنُ عُبَيْدٍ، ثنا سُفْيَانُ، عَنِ الرُّكَيْنِ، عَنْ أَبِيهِ قَالَ: قَالَ عَبْدُ اللهِ هُوَ ابْنُ مَسْعُودٍ:" مَا عَامٌ بِأَكْثَرَ مَطَرًا مِنْ عَامٍ، وَلَكِنَّ اللهَ يُحَوِّلُهُ كَيْفَ يَشَاءُ".
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ کوئی سال کسی دوسرے سال سے زیادہ بارش والا نہیں ہوتا، لیکن اللہ تعالیٰ اسے پھیرتا ہے جیسے چاہتا ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب صلاة الاستسقاء/حدیث: 6482]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ ابن معين ضعيف»
الحكم على الحديث: صحيح