السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
1411. -- باب: كفن المرأة
-- باب: عورت کے کفن کا بیان
حدیث نمبر: 6771
وَأَخْبَرَنَا أَبُو صَالِحِ بْنُ أَبِي طَاهِرٍ، أنبأ جَدِّي يَحْيَى بْنُ مَنْصُورٍ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ سَلَمَةَ، ثنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ بِشْرٍ، ثنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أنبأ ابْنُ جُرَيْجٍ، أَخْبَرَنِي أَيُّوبُ السَّخْتِيَانِيُّ، أَنَّهُ سَمِعَ ابْنَ سِيرِينَ، يَقُولُ: كَانَتِ امْرَأَةٌ مِنَ الْأَنْصَارِ يُقَالُ لَهَا: أُمُّ عَطِيَّةَ مِنَ اللَّوَاتِي بَايَعْنَ النَّبِيَّ صَلَّى الله عَلَيهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَدِمَتِ الْبَصْرَةَ تُبَادِرُ ابْنًا لَهَا فَلَمْ تُدْرِكْهُ، فَحَدَّثَتْنَا وَذَكَرَ الْحَدِيثَ بِنَحْوِهِ. قَالَ: قُلْتُ: مَا قَوْلُهُ:" أَشْعِرْنَهَا اتَّزِرْنَ بِهِ؟ قَالَ: لَا أَرَاهُ إِلَّا أَنْ يَقُولَ: الْفِفْنَهَا فِيهِ، قَالَ أَيُّوبُ: وَكَذَلِكَ كَانَ ابْنُ سِيرِينَ يَأْمُرُ بِالْمَرْأَةِ أَنْ تُشْعَرَ لِفَافَةً.
ابن سیرین رحمہ اللہ کہتے ہیں: جن صحابیات رضی اللہ عنہن نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بیعت کی، ان میں سے ایک ام عطیہ رضی اللہ عنہا بھی تھیں، یہ بصرہ آئی تھیں اپنے بیٹے کو ڈھونڈتی ہوئی مگر اسے نہ پا سکیں، وہ کہتے ہیں: میں نے اس قول «أَشْعِرْنَهَا» ”اسے (بطورِ شعار) پہنا دو“ کے بارے میں پوچھا: اس سے مراد یہ ہے کہ اسے کمر سے باندھ دیا جائے؟ تو انہوں نے کہا: نہیں، اس سے مراد یہ ہے کہ ہم اسے اس میں لپیٹ دیں
ایوب رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ابن سیرین رحمہ اللہ بھی عورت کے بارے میں حکم دیا کرتے تھے کہ اسے غلاف کی مانند لپیٹ دیا جائے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الجنائز/حدیث: 6771]
ایوب رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ابن سیرین رحمہ اللہ بھی عورت کے بارے میں حکم دیا کرتے تھے کہ اسے غلاف کی مانند لپیٹ دیا جائے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الجنائز/حدیث: 6771]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ أخرجه الزاق»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 6772
وَقَالَ: ابْنُ زَنْجُوَيْهِ، عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، قَالَ: قُلْتُ لِأَيُّوبَ: مَا ⦗١٠⦘ قَوْلُهُ أَشْعِرْنَهَا إِيَّاهُ أَتُؤَازَرُ بِهِ، قَالَ:" لَا أَظُنُّ، كَانَ ابْنُ سِيرِينَ يَقُولُ تُلَفُّ بِثَوْبٍ تَحْتَ الدِّرْعِ وَلَا أَرَاهُ إِلَّا ذَلِكَ" أَخْبَرَنَا أَبُو عَمْرٍو الْأَدِيبُ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ الْإِسْمَاعِيلِيُّ، أَخْبَرَنِي الْمَنِيعِيُّ، ثنا ابْنُ زَنْجُوَيْهِ، فَذَكَرَهُ.
ابن جریج رحمہ اللہ کہتے ہیں: میں نے ایوب رحمہ اللہ سے پوچھا: «أَشْعِرْنَهَا إِيَّاهُ» کا کیا مطلب ہے، کیا اسے تہبند کے طور پر باندھا جائے؟ انہوں نے کہا: میرا یہ خیال نہیں، ابن سیرین رحمہ اللہ کہا کرتے تھے: ”اسے درع (قمیص) کے نیچے ایک کپڑے میں لپیٹ دیا جائے“ اور میں اس کا یہی مطلب سمجھتا ہوں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الجنائز/حدیث: 6772]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ عبد الرزاق»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 6773
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الصَّغَانِيُّ، ثنا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، ثنا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ثنا أَبِي، عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ، حَدَّثَنِي نُوحُ بْنُ حَكِيمٍ الثَّقَفِيُّ، وَكَانَ قَارِئًا لِلْقُرْآنِ، عَنْ رَجُلٍ مِنْ بَنِي عُرْوَةَ بْنِ مَسْعُودٍ يُقَالُ لَهُ دَاوُدُ قَدْ وَلَدَتْهُ أُمُّ حَبِيبَةَ بِنْتُ أَبِي سُفْيَانَ زَوْجُ النَّبِيِّ صَلَّى الله عَلَيهِ وَسَلَّمَ، عَنْ لَيْلَى بِنْتِ قَانِفٍ الثَّقَفِيَّةِ، قَالَتْ:" كُنْتُ فِي مَنْ غَسَّلَ أُمَّ كُلْثُومِ بِنْتَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى الله عَلَيهِ وَسَلَّمَ عِنْدَ وَفَاتِهَا، فَكَانَ أَوَّلُ مَا أَعْطَانَا الْحِقَاءَ، ثُمَّ الدِّرْعَ، ثُمَّ الْخِمَارَ، ثُمَّ الْمِلْحَفَةَ، ثُمَّ أُدْرِجَتْ بَعْدُ فِي الثَّوْبِ الْآخِرِ"، قَالَتْ:" وَرَسُولُ اللهِ صَلَّى الله عَلَيهِ وَسَلَّمَ جَالِسٌ عِنْدَ الْبَابِ مُعِدٌّ كَفَنَهَا يُنَاوِلُنَاهُ ثَوْبًا ثَوْبًا".
لیلیٰ بنت قانف ثقفیہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: میں بھی ان میں تھی جنہوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بیٹی ام کلثوم رضی اللہ عنہا کو غسل دیا جب وہ فوت ہوئیں۔ سب سے پہلی چیز جو ہمیں دی وہ چادر تھی، پھر قمیص، پھر اوڑھنی، پھر لیٹنے والی چادر، پھر اس کے بعد دوسرے کپڑے میں رکھا گیا۔ وہ کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم دروازے کے پاس بیٹھے تھے اور تیار کیا ہوا کفن ایک ایک ہمیں دے رہے تھے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الجنائز/حدیث: 6773]
تخریج الحدیث: «ضعيف۔ ابو داؤد»
الحكم على الحديث: ضعيف
1412. -- باب: الإنسان يموت في البحر
-- باب: سمندر میں فوت ہو جانے والے شخص کا بیان
حدیث نمبر: 6774
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الصَّغَانِيُّ، ثنا عَفَّانُ، حَدَّثَنِي حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، ثنا عَلِيُّ بْنُ زَيْدٍ، وَثَابِتٌ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، أَنَّ أَبَا طَلْحَةَ، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ، قَالَ فِيهِ:" فَرَكِبَ الْبَحْرَ فَمَاتَ، فَلَمْ يَجِدُوا لَهُ جَزِيرَةً إِلَّا بَعْدَ سَبْعَةِ أَيَّامٍ، فَدَفَنُوهُ فِيهَا وَلَمْ يَتَغَيَّرْ" وَرُوِّينَا عَنِ الْحَسَنِ الْبَصْرِيِّ أَنَّهُ قَالَ: يُغَسَّلُ وَيُكَفَّنُ وَيُصَلَّى عَلَيْهِ وَيُطْرَحُ فِي الْبَحْرِ، وَفِي رِوَايَةٍ أُخْرَى:" جُعِلَ فِي زِنْبِيلٍ، ثُمَّ قُذِفَ بِهِ فِي الْبَحْرِ".
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے سیدنا ابوطلحہ رضی اللہ عنہ کا واقعہ بیان کیا اور اس میں کہا کہ وہ (ابوطلحہ رضی اللہ عنہ) سمندر میں سوار ہوئے اور فوت ہو گئے۔ ان کے ساتھیوں نے انہیں دفن کرنے کے لیے کوئی جزیرہ نہ پایا مگر سات دن بعد، تو انہوں نے اسی میں انہیں دفن کر دیا اور ان (کے جسم) میں کوئی تبدیلی نہ آئی تھی۔
حسن بصری رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ اسے غسل دیا جائے گا اور کفن پہنایا جائے گا اور نمازِ جنازہ ادا کرنے کے بعد سمندر میں پھینک دیا جائے گا۔ اور ایک دوسری روایت میں ہے: ”اسے ایک ٹوکری میں رکھ کر سمندر میں ڈال دیا جائے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الجنائز/حدیث: 6774]
حسن بصری رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ اسے غسل دیا جائے گا اور کفن پہنایا جائے گا اور نمازِ جنازہ ادا کرنے کے بعد سمندر میں پھینک دیا جائے گا۔ اور ایک دوسری روایت میں ہے: ”اسے ایک ٹوکری میں رکھ کر سمندر میں ڈال دیا جائے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الجنائز/حدیث: 6774]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ الحاكم»
الحكم على الحديث: صحيح
1413. -- باب: ما يستدل به على أن كفن الميت ومؤونته من رأس المال بالمعروف
-- باب: اس بات کے دلائل کا بیان کہ میت کا کفن اور اس کی دیگر ضروریات دستور کے مطابق اس کے اصل مال سے پوری کی جائیں گی
حدیث نمبر: 6775
أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ الْفَقِيهُ، أنبأ أَبُو حَامِدِ بْنُ بِلَالٍ، ثنا أَبُو الْأَزْهَرِ، ثنا إِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ، ثنا الْحَكَمُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ شَقِيقٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى الله عَلَيهِ وَسَلَّمَ:" مَا يَسُرُّنِي أَنَّ لِي مِثْلَ أُحُدٍ ذَهَبًا أُنْفِقُهُ فِي سَبِيلِ اللهِ أَمُوتُ حِينَ أَمُوتُ وَأَخْلُفُ عَشَرَةَ أَوَاقٍ إِلَّا فِي ثَمَنِ كَفَنٍ أَوْ قَضَاءِ دَيْنٍ".
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مجھے یہ بات اچھی نہیں لگتی کہ میرے پاس احد پہاڑ کے برابر سونا ہو اور میں اسے اللہ کی راہ میں خرچ کروں، پھر جب میں نے فوت ہونا ہے فوت ہو جاؤں اور اس میں سے دس اوقیہ سونا بھی چھوڑ جاؤں سوائے کفن کی قیمت اور قرض کی ادائیگی کے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الجنائز/حدیث: 6775]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيرهٖ۔ شاهد عنه البخاري»
الحكم على الحديث: صحيح لغيرهٖ
حدیث نمبر: 6776
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو زَكَرِيَّا يَحْيَى بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ الْمُزَكِّي، قَالَا: أنبأ أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا أَبُو أَحْمَدَ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ، أنبأ جَعْفَرُ بْنُ عَوْنٍ، أنبأ الْأَعْمَشُ، عَنْ شَقِيقٍ، عَنْ خَبَّابٍ، قَالَ: هَاجَرْنَا مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى الله عَلَيهِ وَسَلَّمَ، وَنَحْنُ نَبْتَغِي وَجْهَ اللهِ، فَوَقَعَ أَجْرُنَا عَلَى اللهِ، فَمِنَّا مَنْ مَضَى مِنْ قَبْلُ وَلَمْ يَأْكُلْ مِنْ أَجْرِهِ شَيْئًا كَانَ مِنْهُمْ: مُصْعَبُ بْنُ عُمَيْرٍ، قُتِلَ يَوْمَ أُحُدٍ، وَلَمْ يَتْرُكْ إِلَّا نَمِرَةً، فَكُنَّا إِذَا غَطَّيْنَا رَأْسَهُ بَدَتْ رِجْلَاهُ وَإِذَا غَطَّيْنَا رِجْلَيْهِ بَدَا رَأْسُهُ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى الله عَلَيهِ وَسَلَّمَ:" غَطُّوا رَأْسَهُ وَاجْعَلُوا عَلَى رِجْلَيْهِ مِنَ الْإِذْخِرِ" وَمِنَّا مَنْ أَيْنَعَتْ لَهُ ثَمَرَتُهُ فَهُوَ يَهْدِبُهَا أَخْرَجَهُ الْبُخَارِيُّ، وَمُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ مِنْ أَوْجُهٍ عَنِ الْأَعْمَشِ.
سیدنا خباب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ہجرت کی اور ہم اللہ تعالیٰ کی رضا چاہتے تھے تو ہمارا اجر اللہ تعالیٰ پر ثابت ہو گیا۔ سو ہم میں سے وہ بھی ہیں جو ہم سے پہلے فوت ہو گئے اور اس اجر میں سے کچھ نہ کھایا، ان میں سے سیدنا مصعب بن عمیر رضی اللہ عنہ تھے جو غزوہ احد میں شہید ہوئے۔ انہوں نے کوئی ترکہ نہ چھوڑا سوائے ایک ٹاٹ (کمبل) کے۔ جب ہم اس سے ان کے سر کو ڈھانپتے تو پاؤں کھل جاتے اور جب پاؤں پر ڈالتے تو سر ننگا ہو جاتا۔ تب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس کا سر ڈھانپ دو اور اس کے پاؤں پر اذخر گھاس ڈال دو۔“ اور ہم میں سے وہ بھی ہیں جن کا پھل تیار ہو چکا اور وہ اسے توڑ رہا ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الجنائز/حدیث: 6776]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ البخاري»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 6777
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنِي أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيِّ بْنِ زِيَادِ ابْنُ بِنْتِ أَحْمَدَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، ثنا جَدِّي، أنبأ أَبُو مَرْوَانَ الْعُثْمَانِيُّ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، قَالَ: أُتِيَ ابْنُ عَوْفٍ يَعْنِي عَبْدَ الرَّحْمَنِ بِطَعَامٍ، فَقَالَ:" قُتِلَ مُصْعَبُ بْنُ عُمَيْرٍ وَكَانَ خَيْرًا مِنِّي، فَلَمْ يُوجَدْ لَهُ إِلَّا بُرْدَةٌ يُكَفَّنُ فِيهَا، وَقُتِلَ حَمْزَةُ"، أَوْ رَجُلٌ آخَرُ،" وَكَانَ خَيْرًا مِنِّي، فَلَمْ يُوجَدْ لَهُ إِلَّا بُرْدَةٌ يُكَفَّنُ فِيهَا، مَا أَظُنُّنَا إِلَّا قَدْ عُجِّلَتْ لَنَا حَسَنَاتُنَا فِي حَيَاتِنَا الدُّنْيَا" رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ أَحْمَدَ بْنِ مُحَمَّدٍ الْمَكِّيِّ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ.
ابراہیم بن سعد اپنے باپ سے اور وہ اپنے دادا سے بیان کرتے ہیں کہ سیدنا ابن عوف رضی اللہ عنہما کے پاس کھانا لایا گیا تو انہوں نے کہا: مصعب بن عمیر رضی اللہ عنہ شہید کر دیے گئے اور وہ مجھ سے بہتر تھے مگر ان کے لیے صرف ایک چادر ملی جس میں انہیں کفن دیا گیا اور سیدنا حمزہ رضی اللہ عنہ شہید کیے گئے یا کوئی دوسرا، وہ بھی مجھ سے بہتر تھے، ان کے لیے صرف ایک چادر میسر آئی جس میں انہیں کفن دیا گیا۔ میں یہی خیال کرتا ہوں کہ ہماری نعمتیں ہمیں دنیا ہی کی زندگی میں جلد عطا کر دی گئی ہیں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الجنائز/حدیث: 6777]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ البخاري»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 6778
أَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرِ بْنُ قَتَادَةَ، أنبأ أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنُ أَيُّوبَ الصِّبْغِيُّ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ زِيَادٍ، ثنا ابْنُ أَبِي أُوَيْسٍ، حَدَّثَنِي حُسَيْنُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ ضُمَيْرَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَنَّهُ قَالَ:" الْكَفَنُ مِنْ رَأْسِ الْمَالِ".
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ کفن اصل مال میں سے ہونا چاہیے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الجنائز/حدیث: 6778]
تخریج الحدیث: «باطل۔ لسان الميزان»
الحكم على الحديث: باطل
1414. -- باب: السقط يغسل ويكفن ويصلى عليه إن استهل أو عرفت له حياة
-- باب: کچے گرے ہوئے بچے کو غسل دیا جائے گا، کفن پہنایا جائے گا اور اس کی نماز جنازہ پڑھی جائے گی اگر وہ رویا ہو یا اس کی زندگی کا کوئی نشان پایا گیا ہو
حدیث نمبر: 6779
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ دَاسَةَ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا وَهْبُ بْنُ ⦗١٢⦘ بَقِيَّةَ، عَنْ خَالِدٍ، عَنْ يُونُسَ، عَنْ زِيَادِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ، قَالَ: وَأَحْسِبُ أَنَّ أَهْلَ زِيَادٍ أَخْبَرُونِي أَنَّهُ رَفَعَهُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى الله عَلَيهِ وآله وَسَلَّمَ، قَالَ:" الرَّاكِبُ يَسِيرُ خَلْفَ الْجِنَازَةِ وَالْمَاشِي خَلْفَهَا وَأَمَامَهَا وَعَنْ يَمِينِهَا وَعَنْ يَسَارِهَا قَرِيبًا مِنْهَا، وَالسَّقْطُ يُصَلَّى عَلَيْهِ وَيُدْعَى لِوَالِدَيْهِ بِالْمَغْفِرَةِ وَالرَّحْمَةِ".
حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس حدیث کو مرفوع بیان کیا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”سوار جنازے کے پیچھے چلے گا اور پیدل چلنے والا اس کے پیچھے چلے گا، اس کے آگے دائیں بائیں قریب قریب چلے گا اور ساقط ہونے والے کی نماز جنازہ ادا کی جائے گی اور اس کے والدین کے لیے دعائے مغفرت و رحمت کی جائے گی۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الجنائز/حدیث: 6779]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ ابو داؤد»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 6780
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ عَلِيُّ بْنُ حَمْشَاذٍ الْعَدْلُ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ أَبِي طَالِبٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، ثنا أَبُو هَمَّامٍ مُحَمَّدُ بْنُ الزِّبْرِقَانِ، ثنا يُونُسُ بْنُ عُبَيْدٍ، فَذَكَرَهُ بِمَعْنَاهُ. إِلَّا أَنَّهُ قَالَ:" بِالْعَافِيَةِ وَالرَّحْمَةِ"، وَلَمْ يَذْكُرْ فِي الْمَاشِي خَلْفَهَا وَأَمَامَهَا. قَالَ إِبْرَاهِيمُ بْنُ أَبِي طَالِبٍ: قَوْلُ يُونُسَ بْنِ عُبَيْدِ اللهِ: وَحَدَّثَنِي بَعْضُ أَهْلِهِ أَنَّهُ رَفَعَهُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى الله عَلَيهِ وَسَلَّمَ، رِوَايَةً لِيُونُسَ بْنِ عُبَيْدٍ، عَنِ سَعِيدِ بْنِ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ جُبَيْرِ بْنِ حَيَّةَ.
یونس بن عبید اسی معنیٰ میں حدیث بیان کرتے ہیں، مگر انہوں نے عافیت و رحمت کا تذکرہ کیا ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الجنائز/حدیث: 6780]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ ابو داؤد»
الحكم على الحديث: صحيح