السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
1418. -- باب: من استحب أن يكفن في ثيابه التي قتل فيها بعد أن ينزع عنه الحديد والجلود وما لم يكن من عام لبوس الناس
-- باب: اس شخص کے قول کا بیان جس نے یہ مستحب قرار دیا ہے کہ شہید کو انہی کپڑوں میں کفنایا جائے جن میں اسے شہید کیا گیا البتہ اس کے جسم سے لوہا، چمڑا اور وہ چیزیں اتار لی جائیں گی جو لوگوں کا عام لباس نہیں ہوتیں
حدیث نمبر: 6811
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَاتِمٍ الدَّارَبَرْدِيُّ بِمَرْوٍ، ثنا عَبْدَانُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْحَافِظُ، ثنا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، ثنا مَعْنُ بْنُ عِيسَى، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ طَهْمَانَ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ:" رُمِيَ رَجُلٌ فِي صَدْرِهِ أَوْ فِي حَلْقِهِ، فَمَاتَ فَأُدْرِجَ كَمَا هُوَ فِي ثِيَابِهِ، وَنَحْنُ مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى الله علَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ".
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک آدمی کے سینے یا حلق میں تیر لگا جس سے وہ فوت ہو گیا، تو اسے انہیں کپڑوں میں دفن کیا گیا جن میں وہ تھا اور تب ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الجنائز/حدیث: 6811]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ ابو داؤد»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 6812
أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدٍ مُحَمَّدُ بْنُ مُوسَى بْنُ الْفَضْلِ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا يَحْيَى بْنُ أَبِي طَالِبٍ، أنبأ عَلِيُّ بْنُ عَاصِمٍ، أنبأ عَطَاءُ بْنُ السَّائِبِ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ:" أَمَرَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى الله عَلَيهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: بِقَتْلَى أُحُدٍ أَنْ يُنْزَعَ عَنْهُمُ الْحَدِيدُ وَالْجُلُودُ، وَأَنْ يُدْفَنُوا بِدِمَائِهِمْ وَثِيَابِهِمْ" وَقَدْ مَضَى فِي الرُّخْصَةِ فِي تَكْفِينِهِ فِي غَيْرِ ثِيَابِهِ الَّتِي قُتِلَ فِيهَا حَدِيثُ حَمْزَةَ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ، وَمُصْعَبِ بْنِ عُمَيْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا.
سعید بن جبیر سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے شہدائے احد کے بارے میں حکم دیا کہ ”ان سے لوہا اور چمڑا اتار لیا جائے اور انھیں ان کے کپڑوں اور خون سمیت دفن کیا جائے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الجنائز/حدیث: 6812]
تخریج الحدیث: «ضعيف۔ ابو داؤد»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 6813
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ أَبُو مُحَمَّدِ بْنُ شَوْذَبٍ الْمُقْرِئُ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ الدَّقِيقِيُّ، ثنا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ، أنبأ أَبِي، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، قَالَ: أُتِيَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بِطَعَامٍ فَقَالَ:" قُتِلَ مُصْعَبُ بْنُ عُمَيْرِ بْنِ هَاشِمٍ فَلَمْ يُوجَدْ مَا يُكَفَّنُ فِيهِ إِلَّا بُرْدَةٌ، وَكَانَ خَيْرًا مِنِّي، وَقُتِلَ حَمْزَةُ، أَوْ رَجُلٌ آخَرُ فَلَمْ يُوجَدْ مَا يُكَفَّنُ فِيهِ إِلَّا بُرْدَةٌ" أَخْرَجَهُ الْبُخَارِيُّ، عَنْ أَحْمَدَ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ.
یعقوب بن ابراہیم بن سعد اپنے باپ سے اور وہ اپنے دادا سے بیان کرتے ہیں کہ عبدالرحمن رضی اللہ عنہ کے پاس کھانا لایا گیا تو انہوں نے کہا: مصعب بن عمیر رضی اللہ عنہ قتل کیے گئے تو کوئی چیز نہ پائی گئی کہ جس میں انہیں کفن دیا جاتا، سوائے ایک چادر کے اور وہ مجھ سے بہتر تھے اور حمزہ رضی اللہ عنہ یا کوئی اور آدمی شہید کیے گئے اور کوئی ایسی چیز نہ پائی گئی جس میں انہیں کفن دیا جاتا سوائے ایک چادر کے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الجنائز/حدیث: 6813]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ البخاري»
الحكم على الحديث: صحيح
1419. -- باب: الجنب يستشهد في المعركة
-- باب: اس جنبی شخص کا بیان جو میدانِ جنگ میں شہید ہو جائے
حدیث نمبر: 6814
حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنِي أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ يَعْقُوبَ الْحَافِظُ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، ثنا سَعِيدُ بْنُ يَحْيَى الْأُمَوِيُّ، حَدَّثَنِي أَبِي، قَالَ: قَالَ ابْنُ إِسْحَاقَ: حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ عَبَّادِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، فِي قِصَّةِ أُحُدٍ، وَقَتَلَ شَدَّادُ بْنُ الْأَسْوَدِ الَّذِي كَانَ يُقَالُ لَهُ ابْنُ شَعُوبَ، حَنْظَلَةَ بْنَ أَبِي عَامِرٍ، قَالَ: فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى الله عَلَيهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّ صَاحِبَكُمْ تُغَسِّلُهُ الْمَلَائِكَةُ فَاسْأَلُوا صَاحِبَتَهُ". فَقَالَتْ: خَرَجَ وَهُوَ جُنُبٌ لَمَّا سَمِعَ الْهَائِعَةَ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى الله عَلَيهِ وَسَلَّمَ:" لِذَلِكَ غَسَّلَتُهُ الْمَلَائِكَةُ" كَذَا قَالَ بِهَذَا الْإِسْنَادِ.
یحییٰ بن عباد بن عبداللہ بن زبیر اپنے باپ اور وہ اپنے دادا رضی اللہ عنہ سے غزوہ احد کے قصے میں بیان کرتے ہیں کہ شداد بن اسود نے، جسے ابن شعوب کہا جاتا تھا، حنظلہ بن ابی عامر رضی اللہ عنہ کو شہید کر دیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بیشک تمہارے اس ساتھی کو فرشتوں نے غسل دیا ہے، اس کے بارے میں اس کی بیوی سے پوچھو۔“ تو اس نے کہا: جب انہوں نے جنگ کی پکار سنی تو وہ اس حال میں نکلے کہ جنبی تھے۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اسی لیے فرشتوں نے اسے غسل دیا ہے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الجنائز/حدیث: 6814]
تخریج الحدیث: «حسن لغيرهٖ۔ ابن حبان، الحاكم»
الحكم على الحديث: حسن لغيرهٖ
حدیث نمبر: 6815
وَقَدْ أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ هُوَ الْأَصَمُّ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ، ثنا يُونُسُ بْنُ بُكَيْرٍ، عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ، قَالَ حَدَّثَنِي عَاصِمُ بْنُ عُمَرَ بْنِ قَتَادَةَ، أَنَّ ⦗٢٣⦘ رَسُولَ اللهِ صَلَّى الله عَلَيهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" إِنَّ صَاحِبَكُمْ تَغُسِّلُهُ الْمَلَائِكَةُ"، يَعْنِي حَنْظَلَةَ،" فَاسْأَلُوا أَهْلَهَ مَا شَأْنُهُ"، فَسُئِلَتْ صَاحِبَتُهُ فَقَالَتْ: خَرَجَ وَهُوَ جُنُبٌ حِينَ سَمِعَ الْهَائِعَةَ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى الله عَلَيهِ وَسَلَّمَ:" لِذَلِكَ غَسَّلَتْهُ الْمَلَائِكَةُ".
عاصم بن عمر بن قتادہ کہتے ہیں کہ بے شک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بے شک تمہارے ساتھی کو فرشتوں نے غسل دیا ہے“ یعنی حنظلہ رضی اللہ عنہ کو، ”اس کے گھر والوں سے پوچھو کہ اس کی کیا وجہ ہے؟“ تو ان کی بیوی سے پوچھا گیا تو انہوں نے کہا: جب انہوں نے جنگ کی پکار سنی تو وہ اس حال میں نکلے کہ جنبی تھے، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اسی وجہ سے فرشتوں نے اسے غسل دیا ہے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الجنائز/حدیث: 6815]
تخریج الحدیث: «حسن۔ أخرجه ابو نعيم»
الحكم على الحديث: حسن
حدیث نمبر: 6816
وَرَوَى أَبُو شَيْبَةَ، عَنِ الْحَكَمِ، عَنْ مِقْسَمٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ:" نَظَرَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى الله عَلَيهِ وَسَلَّمَ إِلَى حَنْظَلَةَ الرَّاهِبِ، وَحَمْزَةَ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا تُغَسِّلُهُمَا الْمَلَائِكَةُ".، أَخْبَرَنَاهُ أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيُّ، أنبأ أَبُو الْحَسَنِ بْنُ مَنْصُورٍ ثنا أَبُو الْحَسَنِ بْنُ أَبِي الْعَنْبَرِ ثنا مَنْصُورُ بْنُ أَبِي مُزَاحِمٍ، ثنا أَبُو شَيْبَةَ فَذَكَرَهُ. وَأَبُو شَيْبَةَ ضَعِيفٌ.
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دیکھا حنظلہ راہب رضی اللہ عنہ اور حضرت حمزہ بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہ کو فرشتوں نے غسل دیا۔
ابو شیبہ ضعیف ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الجنائز/حدیث: 6816]
ابو شیبہ ضعیف ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الجنائز/حدیث: 6816]
تخریج الحدیث: «ضعيف جداً۔ أخرجه الطبراني في الكبير»
الحكم على الحديث: ضعيف جداً
1420. -- باب: المرتث والذي يقتل ظلما في غير معترك الكفار والذي يرجع إليه سيفه
-- باب: اس شخص کا بیان جو میدانِ جنگ سے زخمی حالت میں لایا جائے، یا جو کفار کے میدانِ جنگ کے علاوہ کہیں اور ظلماً قتل کر دیا جائے، اور اس شخص کا بیان جس کی تلوار خود اسی کو لگ جائے
حدیث نمبر: 6817
أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ الْفَقِيهُ، أنبأ أَبُو طَاهِرٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ الْمُحَمَّدَ آبَاذِيُّ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ يُوسُفَ السُّلَمِيُّ، ثنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنِي ابْنُ جُرَيْجٍ، أَخْبَرَنِي عِكْرِمَةُ بْنُ خَالِدٍ، عَنِ ابْنِ أَبِي عَمَّارٍ، أَخْبَرَنِي شَدَّادُ بْنُ الْهَادِ، أَنَّ رَجُلًا مِنَ الْأَعْرَابِ جَاءَ النَّبِيَّ صَلَّى الله عَلَيهِ وَسَلَّمَ فَآمَنَ وَاتَّبَعَهُ فَقَالَ: أُهَاجِرُ مَعَكَ فَأَوْصَى بِهِ النَّبِيُّ صَلَّى الله عَلَيهِ وَسَلَّمَ بَعْضَ أَصْحَابِهِ، فَلَمَّا كَانَتْ غَزْوَةُ خَيْبَرَ غَنِمَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى الله عَلَيهِ وَسَلَّمَ شَيْئًا فَقَسَمَ وَقَسَمَ لَهُ، فَأَعْطَى أَصْحَابَهَ مَا قَسَمَ لَهُ وَكَانَ يَرْعَى ظَهْرَهَمْ، فَلَمَّا جَاءَ دَفَعُوهُ إِلَيْهِ، فَقَالَ: مَا هَذَا؟ قَالَ: قَسْمٌ قَسَمَهُ لَكَ فَأَخَذَهُ فَجَاءَ بِهِ النَّبِيَّ صَلَّى الله عَلَيهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: مَا هَذَا يَا مُحَمَّدُ؟ قَالَ:" قَسْمٌ قَسَمْتُهُ لَكَ"، قَالَ: مَا عَلَى هَذَا اتَّبَعْتُكَ وَلَكِنِ اتَّبَعْتُكَ عَلَى أَنْ أُرْمَى هَهُنَا وَأَشَارَ إِلَى حَلْقِهِ بِسَهْمٍ فَأَمُوتَ فَأَدْخُلَ الْجَنَّةَ، فَقَالَ:" إِنْ تَصَدُقِ اللهَ يَصْدُقْكَ"، ثُمَّ ⦗٢٤⦘ نَهَضُوا إِلَى قِتَالِ الْعَدُوِّ فَأُتِيَ بِهِ النَّبِيُّ صَلَّى الله عَلَيهِ وَسَلَّمَ يُحْمَلُ وَقَدْ أَصَابَهُ سَهْمٌ حَيْثُ أَشَارَ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى الله عَلَيهِ وَسَلَّمَ:" هُوَ هُوَ؟" قَالُوا: نَعَمْ، قَالَ:" صَدَقَ اللهَ فَصَدَقَهُ"، فَكَفَّنَهُ النَّبِيُّ صَلَّى الله عَلَيهِ وَسَلَّمَ فِي جُبَّتِهِ، ثُمَّ قَدَّمَهُ وَصَلَّى عَلَيْهِ، فَكَانَ مِمَّا ظَهَرَ مِنْ صَلَاةِ النَّبِيِّ صَلَّى الله عَلَيهِ وَسَلَّمَ:" اللهُمَّ هَذَا عَبْدُكَ خَرَجَ مُهَاجِرًا فِي سَبِيلِكَ، قُتِلَ شَهِيدًا، أَنَا عَلَيْهِ شَهِيدٌ" قَالَ عَطَاءٌ:" وَزَعَمُوا أَنَّهُ لَمْ يُصَلِّ عَلَى أَهْلِ أُحُدٍ" قَالَ الشَّيْخُ: ابْنُ جُرَيْجٍ يَذْكُرُهُ، عَنْ عَطَاءٍ وَيُحْتَمَلُ أَنْ يَكُونَ هَذَا الرَّجُلُ بَقِيَ حَيًّا حَتَّى انْقَطَعَتِ الْحَرْبُ، ثُمَّ مَاتَ فَصَلَّى عَلَيْهِ رَسُولُ اللهِ صَلَّى الله عَلَيهِ وَسَلَّمَ وَالَّذِينَ لَمْ يُصَلِّ عَلَيْهِمْ بِأُحُدٍ مَاتُوا قَبْلَ انْقِضَاءِ الْحَرْبِ وَاللهُ أَعْلَمُ.
سیدنا شداد بن ہاد رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ دیہاتیوں میں سے ایک آدمی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا۔ وہ ایمان لایا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی اتباع کی اور اس نے کہا کہ میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ہجرت کروں گا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے متعلق اپنے بعض صحابہ رضی اللہ عنہم کو وصیت کی۔ سو جب غزوہ خیبر ہوا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو غنیمت کا مال ملا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے تقسیم کیا اور اس کے لیے بھی تقسیم کی اور اس کا حصہ صحابہ رضی اللہ عنہم کو دیا اور وہ ان کی سواریاں چرایا کرتا تھا۔ سو جب وہ آیا تو صحابہ رضی اللہ عنہم نے وہ حصہ اسے دیا تو اس نے کہا کہ یہ کیا ہے؟ تو صحابہ رضی اللہ عنہم نے کہا کہ یہ تقسیم کا مال ہے جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تیرے لیے تقسیم کیا ہے۔ اس نے وہ لیا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور اس نے کہا: اے محمد! یہ کیا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ حصہ ہے جو میں نے تیرے لیے تقسیم کیا ہے۔“ اس نے کہا: میں نے اس کے لیے آپ کی اتباع نہیں کی، بلکہ میں نے اس لیے آپ کی اتباع کی ہے کہ مجھے یہاں (اس نے اپنے حلق کی طرف اشارہ کیا) تیر مارا جائے، پھر میں مر جاؤں اور جنت میں داخل ہو جاؤں، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” «إِنْ تَصْدُقِ اللهَ يَصْدُقْكَ» اگر تو نے اللہ کی تصدیق کی ہے تو وہ تیری تصدیق کرے گا۔“ پھر وہ دشمن سے لڑنے کے لیے آئے، پھر اسے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس اٹھا کر لایا گیا اور اسے تیر وہیں لگا تھا جہاں اس نے حلق کی طرف اشارہ کیا تھا، تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ وہی ہے؟“ تو صحابہ رضی اللہ عنہم نے کہا کہ جی ہاں، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس نے اللہ کی تصدیق کی اور اللہ تعالیٰ نے اسے سچا ثابت کر دیا۔“ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے اس کے لباس میں ہی کفن دیا۔ پھر اسے آگے کیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی نماز جنازہ پڑھی اور یہ ان میں سے ہے جن کے لیے نماز جنازہ میں واضح دعا کی: «اللّٰهُمَّ هٰذَا عَبْدُكَ، خَرَجَ مُهَاجِرًا فِي سَبِيْلِكَ، فَقُتِلَ شَهِيْدًا، أَنَا شَهِيْدٌ عَلَى ذٰلِكَ» ”اے اللہ! یہ تیرا بندہ ہے اور تیری راہ میں مہاجر بن کر نکلا ہے اور یہ شہادت کی موت مرا ہے اور میں اس پر گواہ ہوں۔“
عطاء کہتے ہیں کہ ان کا خیال ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے احد والوں کا جنازہ نہیں پڑھا۔ شیخ کہتے ہیں کہ ابن جریج اسے عطاء سے ذکر کرتے ہیں اور اس بات کا احتمال ہے کہ یہ شخص جنگ کے ختم ہونے تک زندہ رہا ہو، پھر وہ فوت ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کا جنازہ پڑھا اور احد میں جن کا جنازہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نہیں پڑھا وہ جنگ ختم ہونے سے پہلے فوت ہو گئے تھے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الجنائز/حدیث: 6817]
عطاء کہتے ہیں کہ ان کا خیال ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے احد والوں کا جنازہ نہیں پڑھا۔ شیخ کہتے ہیں کہ ابن جریج اسے عطاء سے ذکر کرتے ہیں اور اس بات کا احتمال ہے کہ یہ شخص جنگ کے ختم ہونے تک زندہ رہا ہو، پھر وہ فوت ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کا جنازہ پڑھا اور احد میں جن کا جنازہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نہیں پڑھا وہ جنگ ختم ہونے سے پہلے فوت ہو گئے تھے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الجنائز/حدیث: 6817]
تخریج الحدیث: «حسن۔ نسائي»
الحكم على الحديث: حسن
حدیث نمبر: 6818
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ، ثنا يُونُسُ بْنُ بُكَيْرٍ، عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ، قَالَ: حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ الْحَارِثِ التَّيْمِيُّ، عَنْ أَبِي الْهَيْثَمِ، أَنَّ أَبَاهُ حَدَّثَهُ أَنَّهُ، سَمِعَ رَسُولَ اللهِ صَلَّى الله عَلَيهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ فِي مَسِيرِهِ إِلَى خَيْبَرَ لِعَامِرِ بْنِ الْأَكْوَعِ وَكَانَ اسْمُ الْأَكْوَعِ سِنَانًا:" انْزِلْ يَا ابْنَ الْأَكْوَعِ فَاحْدُ لَنَا مِنْ هَنَاتِكَ فَنَزَلَ يَرْتَجِزُ بِرَسُولِ اللهِ صَلَّى الله عَلَيهِ وَسَلَّمَ، وَيَقُولُ:.
ابو الہیثم رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ بیشک ان کے باپ نے حدیث بیان کی کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے خیبر کی طرف جاتے ہوئے عامر بن اکوع رضی اللہ عنہ کو فرمایا اور اکوع کا نام سنان ہے: ”اے ابن اکوع! اتر اور ہمارے لیے اپنی آواز میں حدی کر۔“ سو وہ اترے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں اشعار کہنے لگے کہ اللہ کی قسم! اگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نہ ہوتے تو ہم ہدایت نہ پاتے۔ نہ ہم صدقہ کرتے اور نہ نماز پڑھتے۔ سو تو ہم پر سکینہ نازل فرما۔ اگر ہم دشمن سے ملیں تو ہمیں ثابت قدم فرما۔ بیشک کافروں کی اولاد نے ہمارے ساتھ بغاوت کی ہے، اگر وہ ہم سے شرک و کفر کی امید رکھتے ہیں تو ہم اس کے انکاری ہیں۔
رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تجھ پر تیرا رب رحم کرے۔“ عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے کہا: اس پر واجب ہوگئی۔ اللہ کی قسم! اگر آپ ہمیں ان سے استفادہ کرنے دیتے۔ سو وہ غزوہ خیبر میں شہید کر دیے گئے، جو بات ہم تک پہنچی ہے تو وہ ان کی شہادت اس سے ہوئی کہ ان کی تلوار ہی ان کی طرف پلٹی اور انہیں شدید زخمی کر دیا اور وہ لڑائی کرتے رہے حتیٰ کہ وہ فوت ہو گئے اور مسلمان ان کے متعلق شک میں پڑ گئے کہ انہیں ان کے اسلحہ ہی نے قتل کیا ہے۔ اس وجہ سے ان کے بھتیجے سلمہ بن عمرو رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو لوگوں کی بات سے آگاہ کیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وہ شہید ہے۔“ سو آپ صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ رضی اللہ عنہم نے نماز جنازہ ادا کی۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الجنائز/حدیث: 6818]
رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تجھ پر تیرا رب رحم کرے۔“ عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے کہا: اس پر واجب ہوگئی۔ اللہ کی قسم! اگر آپ ہمیں ان سے استفادہ کرنے دیتے۔ سو وہ غزوہ خیبر میں شہید کر دیے گئے، جو بات ہم تک پہنچی ہے تو وہ ان کی شہادت اس سے ہوئی کہ ان کی تلوار ہی ان کی طرف پلٹی اور انہیں شدید زخمی کر دیا اور وہ لڑائی کرتے رہے حتیٰ کہ وہ فوت ہو گئے اور مسلمان ان کے متعلق شک میں پڑ گئے کہ انہیں ان کے اسلحہ ہی نے قتل کیا ہے۔ اس وجہ سے ان کے بھتیجے سلمہ بن عمرو رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو لوگوں کی بات سے آگاہ کیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وہ شہید ہے۔“ سو آپ صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ رضی اللہ عنہم نے نماز جنازہ ادا کی۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الجنائز/حدیث: 6818]
تخریج الحدیث: «ضعيف۔ أخرجه ابن اسحاق»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 6819
أَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ الْمُزَكِي، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنبأ الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، أنبأ الشَّافِعِيُّ، أنبأ مَالِكٌ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ:" أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ غُسِّلَ وَكُفِّنَ وَصُلِّيَ عَلَيْهِ" زَادَ فِيهِ عُبَيْدُ اللهِ بْنِ عُمَرَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ:" وَحُنِّطَ".
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ شہید ہو گئے، انہیں غسل دیا گیا، کفن پہنایا گیا اور نمازِ جنازہ ادا کی گئی۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الجنائز/حدیث: 6819]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ أخرجه مال»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 6820
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو سَعِيدٍ الثَّقَفِيُّ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيِّ بْنُ شَبِيبٍ الْمَعْمَرِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدِ بْنِ حِسَابٍ، ثنا جَعْفَرُ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ أَبِي رَافِعٍ، قَالَ:" كَانَ أَبُو لُؤْلُؤَةَ لِلْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ"، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ، قَالَ:" فَصَنَعَ لَهُ خِنْجَرًا لَهُ رَأْسَانِ، فَلَمَّا كَبَّرَ وَوَجَأَهُ عَلَى كَتِفِهِ، وَوَجَأَهُ عَلَى مَكَانٍ آخَرَ، وَوَجَأَهُ فِي خَاصِرَتِهِ، فَسَقَطَ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ" وَقَدْ مَضَى فِي الْحَدِيثِ الثَّابِتِ عَنْ حُصَيْنٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مَيْمُونٍ فِي قِصَّةِ قَتْلِ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ حِينَ طَعَنَهُ، قَالَ: فَطَارَ الْعِلْجُ بِالسِّكِّينِ ذَاتِ طَرَفَيْنِ لَا يَمُرُّ عَلَى أَحَدٍ يَمِينًا وَلَا شِمَالًا إِلَّا طَعَنَهُ. وَفِي ذَلِكَ دَلَالَةٌ عَلَى أَنَّهُ قُتِلَ بِمِحْدَدٍ ثُمَّ غُسِّلَ وَكُفِّنَ وَصُلِّيَ عَلَيْهِ.
ثابت ابو رافع سے بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے کہا: ابو لؤلؤ مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ کا غلام ہے اور آگے پوری حدیث بیان کی۔ وہ کہتے ہیں: اس نے ان کے لیے دو سروں والا خنجر تیار کیا۔ جب عمر رضی اللہ عنہ نے تکبیر کہی تو اس نے ان کے کندھے پر وار کیا، پھر دوسری جگہ وار کیا اور خنجر ان کے پہلو میں اتار دیا تو عمر رضی اللہ عنہ گر پڑے۔
حصین کی عمرو بن میمون سے ثابت (صحیح) حدیث میں قتل عمر رضی اللہ عنہ کا تذکرہ گزر چکا ہے کہ مجوسی نے ان پر خنجر سے وار کیا اور پھر وہ جس کے پاس سے بھی گزرتا تو وہ دائیں بائیں والوں کو خنجر مارتا اور یہ اس بات کی دلیل ہے کہ انہیں تیز دھار آلے سے قتل کیا گیا۔ پھر غسل دیا گیا، کفن دیا گیا اور جنازہ پڑھا گیا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الجنائز/حدیث: 6820]
حصین کی عمرو بن میمون سے ثابت (صحیح) حدیث میں قتل عمر رضی اللہ عنہ کا تذکرہ گزر چکا ہے کہ مجوسی نے ان پر خنجر سے وار کیا اور پھر وہ جس کے پاس سے بھی گزرتا تو وہ دائیں بائیں والوں کو خنجر مارتا اور یہ اس بات کی دلیل ہے کہ انہیں تیز دھار آلے سے قتل کیا گیا۔ پھر غسل دیا گیا، کفن دیا گیا اور جنازہ پڑھا گیا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الجنائز/حدیث: 6820]
تخریج الحدیث: «حسن۔ أخرجه ابن حبان»
الحكم على الحديث: حسن