السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
1424. -- باب: الصلاة على من قتلته الحدود
-- باب: اس شخص پر نماز جنازہ پڑھنے کا بیان جو حدود کے نفاذ کی وجہ سے قتل کیا گیا ہو
حدیث نمبر: 6831
أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ غَالِبٍ، ثنا مُعَلَّى بْنُ مَهْدِيٍّ، ثنا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ أَبِي بِشْرٍ، قَالَ حَدَّثَنِي نَفَرٌ مِنْ أَهْلِ الْبَصْرَةِ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ، قَالَ:" لَمْ يُصَلِّ النَّبِيُّ صَلَّى الله عَلَيهِ وَسَلَّمَ عَلَى مَاعِزِ بْنِ مَالِكٍ وَلَمْ يَنْهَ عَنِ الصَّلَاةِ عَلَيْهِ" ⦗٢٩⦘ وَرُوِّينَا عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَنَّهُ لَمَّا رَجَمَ شَرَاحَةَ الْهَمْدَانِيَّةَ قَالَ:" افْعَلُوا بِهَا مَا تَفْعَلُونَ بِمَوْتَاكُمْ".
سیدنا ابو بردہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ماعز بن مالک رضی اللہ عنہ کی نماز جنازہ ادا نہ کی اور نہ ہی ادا کرنے سے منع کیا اور ہمیں علی بن طالب رضی اللہ عنہ سے یہ بیان کیا گیا کہ جب انہوں نے شراحہ ہمدانیہ رضی اللہ عنہا کو رجم کیا تو کہا: تم اس کے ساتھ وہی کچھ کرو جو اپنے فوت ہونے والوں کے ساتھ کرتے ہو۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الجنائز/حدیث: 6831]
تخریج الحدیث: «ضعيف۔ ابو داؤد»
الحكم على الحديث: ضعيف
1425. -- باب: الصلاة على من قتل نفسه غير مستحل لقتلها
-- باب: اس شخص پر نمازِ جنازہ پڑھنے کا بیان جس نے خودکشی کو حلال سمجھے بغیر اپنی جان لی ہو
حدیث نمبر: 6832
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَارِثِ الْفَقِيهُ الْأَصْبَهَانِيُّ، أنبأ عَلِيُّ بْنُ عُمَرَ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو رَوْقٍ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ بَكْرٍ بِالْبَصْرَةِ، ثنا بَحْرُ بْنُ نَصْرٍ، ثنا ابْنُ وَهْبٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي مُعَاوِيَةُ بْنُ صَالِحٍ، عَنِ الْعَلَاءِ بْنِ الْحَارِثِ، عَنْ مَكْحُولٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى الله عَلَيهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" صَلُّوا خَلْفَ كُلِّ بَرٍّ وَفَاجِرٍ وَصَلُّوا عَلَى كُلِّ بَرٍّ وَفَاجِرٍ وَجَاهِدُوا مَعَ كُلِّ بَرٍّ وَفَاجِرٍ" قَالَ عَلِيٌّ: مَكْحُولٌ لَمْ يَسْمَعْ مِنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، وَمَنْ دُونَهُ ثِقَاتٌ قَالَ الشَّيْخُ: قَدْ رُوِيَ فِي الصَّلَاةِ عَلَى كُلِّ بَرٍّ وَفَاجِرٍ وَالصَّلَاةِ عَلَى مَنْ قَالَ لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ، أَحَادِيثُ كُلُّهَا ضَعِيفَةٌ غَايَةَ الضَّعْفِ، وَأَصَحُّ مَا رُوِيَ فِي هَذَا الْبَابِ حَدِيثُ مَكْحُولٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، وَقَدْ أَخْرَجَهُ أَبُو دَاوُدَ فِي كِتَابِ السُّنَنِ، إِلَّا أَنَّ فِيهِ إِرْسَالًا كَمَا ذَكَرَهُ الدَّارَقُطْنِيُّ رَحِمَهُ اللهُ، وَأَمَّا الْحَدِيثُ الَّذِي:.
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ بیشک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم نماز پڑھو ہر نیک اور بد کے پیچھے اور ہر بد اور نیک کا جنازہ ادا کرو اور ہر نیک و بد کے ساتھ جہاد کرو۔“
علی (دارقطنی) کہتے ہیں: مکحول نے سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے نہیں سنا اور ان سے نیچے والے راوی ثقہ ہیں۔ شیخ کہتے ہیں کہ ہر نیک و فاجر کی نماز جنازہ اور ہر اس شخص کی نماز جنازہ کے بارے میں جس نے «لَا إِلٰهَ إِلَّا اللهُ» ”اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں“ کہا، کئی احادیث مروی ہیں جو سب انتہائی ضعیف ہیں اور اس باب میں سب سے صحیح روایت مکحول کی سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے حدیث ہے جسے ابو داؤد نے کتاب السنن میں روایت کیا ہے، مگر اس میں ارسال ہے جیسا کہ دارقطنی رحمہ اللہ نے ذکر کیا ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الجنائز/حدیث: 6832]
علی (دارقطنی) کہتے ہیں: مکحول نے سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے نہیں سنا اور ان سے نیچے والے راوی ثقہ ہیں۔ شیخ کہتے ہیں کہ ہر نیک و فاجر کی نماز جنازہ اور ہر اس شخص کی نماز جنازہ کے بارے میں جس نے «لَا إِلٰهَ إِلَّا اللهُ» ”اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں“ کہا، کئی احادیث مروی ہیں جو سب انتہائی ضعیف ہیں اور اس باب میں سب سے صحیح روایت مکحول کی سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے حدیث ہے جسے ابو داؤد نے کتاب السنن میں روایت کیا ہے، مگر اس میں ارسال ہے جیسا کہ دارقطنی رحمہ اللہ نے ذکر کیا ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الجنائز/حدیث: 6832]
تخریج الحدیث: «ضعيف۔ معني تخريجه بالجزء الفط»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 6833
أَخْبَرَنَاهُ أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا يَحْيَى بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى، ثنا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ، أَخْبَرَنِي أَحْمَدُ بْنُ سَهْلٍ الْبُخَارِيُّ، ثنا صَالِحُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ حَبِيبٍ الْحَافِظُ، ثنا عَوْنُ بْنُ سَلَّامٍ قَالَا: ثنا زُهَيْرٌ، عَنْ سِمَاكٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ، قَالَ:" أُتِيَ النَّبِيُّ صَلَّى الله عَلَيهِ وَسَلَّمَ بِرَجُلٍ قَتَلَ نَفْسَهَ بِمَشَاقِصَ فَلَمْ يُصَلِّ عَلَيْهِ" هَذَا لَفْظُ حَدِيثِ عَوْنِ بْنِ سَلَّامٍ، وَفِي حَدِيثِ أَحْمَدَ بْنِ يُونُسَ قَالَ: مَرِضَ رَجُلٌ فَصِيحَ عَلَيْهِ فَجَاءَ رَجُلٌ إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى الله عَلَيهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: إِنَّهُ مَاتَ، قَالَ:" مَا يُدْرِيكَ"، قَالَ: إِنَّهُ صِيحَ عَلَيْهِ، قَالَ: رَسُولُ اللهِ صَلَّى الله عَلَيهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّهُ لَمْ يَمُتْ"، ثُمَّ انْطَلَقَ الرَّجُلُ، فَرَآهُ قَدْ نَحَرَ نَفْسَهُ بِمَشَاقِصَ، فَانْطَلَقَ إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى الله عَلَيهِ وَسَلَّمَ، فَأَخْبَرَهُ أَنَّهُ مَاتَ، فَقَالَ:" مَا يُدْرِيكَ"، قَالَ رَأَيْتُهُ نَحَرَ نَفْسَهَ بِمَشَاقِصَ، قَالَ:" إِذًا لَا أُصَلِّي عَلَيْهِ" رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ عَوْنِ بْنِ سَلَّامٍ مُخْتَصَرًا، وَقَدْ رُوِّينَا عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ الْحَنْظَلِيِّ أَنَّهُ صَلَّى الله عَلَيهِ وَسَلَّمَ، إِنَّمَا قَالَ ذَلِكَ لِيُحَذِّرَ النَّاسَ بِتَرْكِ الصَّلَاةِ عَلَيْهِ فَلَا يَرْتَكِبُوا كَمَا ارْتَكَبَ.
سیدنا جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایسے شخص کو لایا گیا جس نے اپنے کو تیر کے ساتھ قتل کیا تھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کا جنازہ نہ پڑھا۔
احمد بن یونس ایک حدیث میں بیان کرتے ہیں کہ ایک آدمی بیمار ہو گیا اور لوگ اس پر چیخے، ایک آدمی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور اس نے عرض کیا: وہ شخص (مریض) فوت ہو گیا ہے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تجھے کیسے علم ہوا؟“ اس نے کہا: اس پر چیخ و پکار کی گئی ہے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وہ فوت نہیں ہوا۔“ پھر وہ آدمی چلا گیا تاکہ وہ دیکھے، تو اس نے دیکھا کہ اس نے اپنے کو تیر کے ساتھ ذبح کر لیا ہے۔ پھر وہ چلا گیا تاکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو خبر دے کہ وہ فوت ہو چکا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا: ”تجھے کیسے علم ہوا؟“ تو اس نے کہا: میں نے دیکھا ہے کہ اس نے اپنے کو تیر کے ساتھ قتل کیا ہے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تب تو میں اس کا جنازہ نہیں پڑھوں گا۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الجنائز/حدیث: 6833]
احمد بن یونس ایک حدیث میں بیان کرتے ہیں کہ ایک آدمی بیمار ہو گیا اور لوگ اس پر چیخے، ایک آدمی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور اس نے عرض کیا: وہ شخص (مریض) فوت ہو گیا ہے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تجھے کیسے علم ہوا؟“ اس نے کہا: اس پر چیخ و پکار کی گئی ہے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وہ فوت نہیں ہوا۔“ پھر وہ آدمی چلا گیا تاکہ وہ دیکھے، تو اس نے دیکھا کہ اس نے اپنے کو تیر کے ساتھ ذبح کر لیا ہے۔ پھر وہ چلا گیا تاکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو خبر دے کہ وہ فوت ہو چکا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا: ”تجھے کیسے علم ہوا؟“ تو اس نے کہا: میں نے دیکھا ہے کہ اس نے اپنے کو تیر کے ساتھ قتل کیا ہے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تب تو میں اس کا جنازہ نہیں پڑھوں گا۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الجنائز/حدیث: 6833]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ المسلم»
الحكم على الحديث: صحيح
1426. جماع أبواب حمل الجنازة -- باب: من حمل الجنازة فدار على جوانبها الأربعة
جنازہ اٹھانے کے ابواب کا مجموعہ -- باب: اس شخص کا بیان جس نے جنازہ اٹھایا اور اس کی چاروں طرف گھوما
حدیث نمبر: 6834
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ فُورَكٍ، أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ، أنبأ يُونُسُ بْنُ حَبِيبٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا شُعْبَةُ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ عُبَيْدِ بْنِ نِسْطَاسٍ، عَنْ أَبِي عُبَيْدَةَ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ:" إِذَا تَبِعَ أَحَدُكُمُ الْجِنَازَةَ فَلْيَأْخُذْ بِجَوَانِبِ السَّرِيرِ الْأَرْبَعَةِ، ثُمَّ لِيَتَطَوَّعْ بَعْدُ أَوْ يَذَرَ فَإِنَّهُ مِنَ السُّنَّةِ".
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ”جب تم میں سے کوئی جنازے کے پیچھے جائے تو اسے چاہیے کہ وہ چارپائی کی چاروں اطراف کو پکڑے، پھر اس کے بعد اضافی نیکی کے طور پر کرے یا چھوڑ دے، بیشک یہ سنت ہے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الجنائز/حدیث: 6834]
تخریج الحدیث: «ضعيف۔ أخرجه الطيالسي»
الحكم على الحديث: ضعيف
1427. -- باب: من حمل الجنازة فوضع السرير على كاهله بين العمودين المقدمين
-- باب: اس شخص کا بیان جس نے جنازہ اٹھایا اور چارپائی کو اس کے آگے والے دو پایوں کے درمیان سے اپنی پشت پر رکھا
حدیث نمبر: 6835
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ، بِبَغْدَادَ، أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ دَرَسْتَوَيْهِ، ثنا يَعْقُوبُ بْنُ سُفْيَانَ، ثنا نُوحُ بْنُ الْهَيْثَمِ الْعَسْقَلَانِيُّ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنبأ الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، أنبأ الشَّافِعِيُّ، أنبأ إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، قَالَ: رَأَيْتُ سَعْدَ بْنَ أَبِي وَقَّاصٍ فِي جِنَازَةِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ قَائِمًا بَيْنَ الْعَمُودَيْنِ الْمُقَدَّمَيْنِ وَاضِعًا السَّرِيرَ عَلَى كَاهِلِهِ" لَفْظُ حَدِيثِ الشَّافِعِيِّ وَحَدِيثُ الْعَسْقَلَانِيِّ بِمَعْنَاهُ.
ابراہیم بن سعد اپنے باپ سے اور وہ اپنے دادا سے بیان کرتے ہیں کہ میں نے سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کو عبد الرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ کے جنازے میں دیکھا کہ وہ سامنے والے دونوں بانسوں کے درمیان کھڑے تھے اور چارپائی کو اپنے کندھوں پر رکھے ہوئے تھے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الجنائز/حدیث: 6835]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ أخرجه الشافعي في الام»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 6836
أَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ الْمُزَكِّي، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، ثنا الشَّافِعِيُّ، أنبأ الثِّقَةُ مِنْ أَصْحَابِنَا، عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ يَحْيَى بْنِ طَلْحَةَ، عَنْ عَمِّهِ عِيسَى بْنِ طَلْحَةَ، قَالَ: رَأَيْتُ عُثْمَانَ بْنَ عَفَّانَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، يَحْمِلُ بَيْنَ عَمُودَيْ سَرِيرِ أُمِّهِ فَلَمْ يُفَارِقْهُ حَتَّى وَضَعَهُ.
عیسیٰ بن طلحہ کہتے ہیں: میں نے سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کو دیکھا، وہ اپنی ماں کی چارپائی کے بانسوں کو اٹھائے ہوئے تھے اور وہ اس سے جدا نہ ہوئے حتیٰ کہ اسے رکھ دیا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الجنائز/حدیث: 6836]
تخریج الحدیث: «ضعيف جداً۔ أخرجه الشافعي»
الحكم على الحديث: ضعيف جداً
حدیث نمبر: 6837
وَبِإِسْنَادِهِ قَالَ: أنبأ الشَّافِعِيُّ، ثنا بَعْضُ أَصْحَابِنَا، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنْ يُوسُفَ بْنِ مَاهَكٍ: أَنَّهُ رَأَى ابْنَ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فِي جِنَازَةِ رَافِعٍ قَائِمًا بَيْنَ قَائِمَتَيِ السَّرِيرِ.
یوسف بن ماہک بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کو ایک جنازے میں دیکھا کہ وہ دونوں بانسوں کو اٹھائے ہوئے کھڑے تھے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الجنائز/حدیث: 6837]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ أخرجه الشافعي في مسنده»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 6838
وَبِإِسْنَادِهِ قَالَ: أنبأ الشَّافِعِيُّ، أنبأ بَعْضُ أَصْحَابِنَا، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ ثَابِتٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: رَأَيْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ يَحْمِلُ بَيْنَ عَمُودَيْ سَرِيرِ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ.
سیدنا عبداللہ بن ثابت رضی اللہ عنہ اپنے والد سے بیان کرتے ہیں کہ میں نے سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کو دیکھا، وہ سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کی چارپائی کو دونوں بانسوں کے درمیان سے اٹھائے ہوئے تھے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الجنائز/حدیث: 6838]
تخریج الحدیث: «ضعيف۔ أخرجه الشافعي»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 6839
وَبِإِسْنَادِهِ قَالَ: أنبأ الشَّافِعِيُّ، أنبأ بَعْضُ أَصْحَابِنَا، عَنْ شُرَحْبِيلَ بْنِ أَبِي عَوْنٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: رَأَيْتُ ابْنَ الزُّبَيْرِ يَحْمِلُ بَيْنَ عَمُودَيْ سَرِيرِ الْمِسْوَرِ بْنِ مَخْرَمَةَ.
شرجیل بن ابی عون اپنے والد سے بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے کہا: میں نے سیدنا ابن زبیر رضی اللہ عنہما کو دیکھا کہ وہ سیدنا مسور بن محزمہ رضی اللہ عنہما کی چارپائی کو دونوں بانسوں کے درمیان سے اٹھائے ہوئے تھے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الجنائز/حدیث: 6839]
تخریج الحدیث: «ضعيف۔ أخرجه الشافعي»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 6840
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ الْفَضْلِ، أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا يَعْقُوبُ بْنُ سُفْيَانَ، ثنا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، ثنا مَعْنٌ، ثنا هَارُونُ، مَوْلَى قُرَيْشٍ، قَالَ:" رَأَيْتُ الْمُطَّلِبَ بَيْنَ عُمُودَيْ سَرِيرِ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ"، قَالَ يَعْقُوبُ: كَانَ عِنْدَنَا خَارِجَةٌ، فَقَالَ هِشَامٌ جَابِرٌ.
ہارون قریشی کا غلام کہتا ہے: میں نے مطلب کو جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کی چارپائی کو اٹھائے دیکھا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الجنائز/حدیث: 6840]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف