السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
1432. -- باب: المشي أمام الجنازة
-- باب: جنازے کے آگے چلنے کا بیان
حدیث نمبر: 6861
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ أَبُو مُحَمَّدِ بْنُ شَوْذَبٍ الْوَاسِطِيُّ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ سِنَانٍ، ثنا وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ، ثنا شُعْبَةُ، عَنْ عَدِيٍّ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ، قَالَ رَأَيْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ، وَالْحَسَنَ بْنَ عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا يَمْشِيَانِ أَمَامَ الْجِنَازَةِ.
ابوحازم رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں نے سیدنا ابوہریرہ اور سیدنا حسن بن علی رضی اللہ عنہما کو دیکھا، وہ جنازے کے آگے چل رہے تھے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الجنائز/حدیث: 6861]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ ابن ابي شيبه»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 6862
أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ الْفَقِيهُ، أنبأ أَبُو حَامِدِ بْنُ بِلَالٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ الْأَحْمَسِيُّ، ثنا الْمُحَارِبِيُّ، عَنْ سَعْدِ بْنِ طَارِقٍ الْأَشْجَعِيِّ، قَالَ: قُلْتُ لِأَبِي حَازِمٍ: هَلْ حَفِظْتَ جِنَازَةً مَشَى مَعَهَا قَوْمٌ مِنَ الْفُقَهَاءِ أَمَامَهَا؟ قَالَ: نَعَمْ رَأَيْتُ عَبْدَ اللهِ بْنَ عُمَرَ، وَحَسَنَ بْنَ عَلِيٍّ، وَابْنَ الزُّبَيْرِ يَمْشُونَ أَمَامَهَا حَتَّى وُضِعَتْ.
سعد بن طارق اشجعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: میں نے ابو حازم رحمہ اللہ سے کہا: کیا آپ کو کوئی واقعہ یاد ہے کہ جنازے کے ساتھ فقہاء اور ائمہ نے شمولیت کی ہو؟ تو انہوں نے کہا: ہاں، میں نے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما، حسن بن علی رضی اللہ عنہما اور ابن زبیر رضی اللہ عنہما کو دیکھا کہ وہ اس کے آگے چل رہے تھے حتیٰ کہ اسے رکھ دیا گیا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الجنائز/حدیث: 6862]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 6863
أَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنبأ الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، أنبأ الشَّافِعِيُّ، أنبأ ابْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنْ عُبَيْدٍ، مَوْلَى السَّائِبِ، قَالَ: رَأَيْتُ ابْنَ عُمَرَ، وَعُبَيْدَ بْنَ عُمَيْرٍ يَمْشِيَانِ أَمَامَ الْجِنَازَةِ فَتَقَدَّمَا فَجَلَسَا يَتَحَدَّثَانِ فَلَمَّا حَاذَتْ بِهِمَا قَامَا.
سائب رضی اللہ عنہ کے غلام عبید فرماتے ہیں کہ میں نے ابن عمر رضی اللہ عنہما اور عبید بن عمیر کو دیکھا کہ وہ دونوں جنازے کے آگے چل رہے تھے، پھر وہ آگے بڑھ کر بیٹھ گئے اور گفتگو کرنے لگے، جب وہ ان کے قریب آیا تو کھڑے ہوگئے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الجنائز/حدیث: 6863]
تخریج الحدیث: «حسن لغيرهٖ۔ أخره الشافعي»
الحكم على الحديث: حسن لغيرهٖ
حدیث نمبر: 6864
وَأَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَسَنِ، قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ بْنُ يَعْقُوبَ، أنبأ بَحْرُ بْنُ نَصْرٍ، ثنا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ، عَنْ صَالِحٍ، مَوْلَى التَّوْأَمَةِ: أَنَّهُ رَأَى أَبَا هُرَيْرَةَ، وَعَبْدَ اللهِ بْنَ عُمَرَ، وَأَبَا أَسِيدٍ السَّاعِدِيَّ، وَأَبَا قَتَادَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمْ يَمْشُونَ أَمَامَ الْجِنَازَةِ.
ابن ابی ذئب، توامہ کے غلام صالح سے نقل فرماتے ہیں کہ انہوں نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ، عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما، ابو اسید ساعدی رضی اللہ عنہ اور ابو قتادہ رضی اللہ عنہ کو جنازے کے آگے چلتے دیکھا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الجنائز/حدیث: 6864]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ أخرجه ابن ابي شيبه»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 6865
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا أَبُو بَكْرٍ يَحْيَى بْنُ أَبِي طَالِبٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا قَيْسُ بْنُ الرَّبِيعِ، عَنْ عَاصِمِ ابْنِ بَهْدَلَةَ، عَنْ زِيَادِ بْنِ ⦗٣٨⦘ قَيْسٍ الْأَشْعَرِيِّ، قَالَ:" أَتَيْتُ الْمَدِينَةَ فَرَأَيْتُ أَصْحَابَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى الله عَلَيهِ وَسَلَّمَ مِنَ الْمُهَاجِرِينَ وَالْأَنْصَارِ يَمْشُونَ أَمَامَ الْجِنَازَةِ".
زیاد بن قیس اشعری فرماتے ہیں کہ میں مدینہ آیا، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ رضی اللہ عنہم مہاجرین و انصار کو دیکھا کہ وہ جنازے کے آگے چلتے ہیں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الجنائز/حدیث: 6865]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
1433. -- باب: المشي خلفها
-- باب: جنازے کے پیچھے چلنے کا بیان
حدیث نمبر: 6866
أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ الْفَقِيهُ، أنبأ أَبُو عُثْمَانَ الْبَصْرِيُّ، ثنا أَبُو أَحْمَدَ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ، ثنا قَبِيصَةُ، ثنا سُفْيَانُ، عَنْ يُونُسَ بْنِ عُبَيْدٍ، عَنْ زِيَادِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ، قَالَ: أَرَاهُ قَدْ رَفَعَهُ شَكُّ قَبِيصَةَ قَالَ:" الرَّاكِبُ يَسِيرُ خَلْفَ الْجِنَازَةِ وَالْمَاشِي يَمْشِي خَلْفَهَا وَأَمَامَهَا، وَعَنْ يَسَارِهَا وَمَيَامِنِهَا، وَالسَّقْطُ يُصَلَّى عَلَيْهِ وَيُدْعَى لِأَبَوَيْهِ بِالْعَافِيَةِ وَالرَّحْمَةِ".
سیدنا مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: میرا خیال ہے کہ قبیصہ نے اپنا شک ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ: ”سوار جنازے کے پیچھے چلے گا اور پیدل چلنے والے ان کے پیچھے، آگے اور دائیں بائیں چلیں گے اور ادھورے بچے کی نمازِ جنازہ پڑھی جائے گی مگر اس کے والدین کے لیے عافیت و رحمت کی دعا کی جائے گی۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الجنائز/حدیث: 6866]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ ابو داؤد»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 6867
أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ جَنَاحُ بْنُ نُذُيْرِ بْنِ جَنَاحٍ الْمُحَارِبِيُّ بِالْكُوفَةِ، أنبأ أَبُو جَعْفَرِ بْنُ دُحَيْمٍ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ حَازِمٍ، أنبأ أَبُو غَسَّانَ، ثنا حَسَنُ بْنُ صَالِحٍ، عَنْ يَحْيَى الْجَابِرِ، عَنْ أَبِي مَاجِدٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ، قَالَ سَأَلْنَا نَبِيَّنَا صَلَّى الله عَلَيهِ وَسَلَّمَ عَنِ السَّيْرِ بِالْجِنَازَةِ، فَقَالَ:" السَّيْرُ مَا دُونَ الْخَبَبِ إِنْ يَكُ خَيْرًا يُعَجَّلْ إِلَيْهِ وَإِنْ يَكُ سِوَى ذَلِكَ فَبُعْدًا لِأَهْلِ النَّارِ الْجِنَازَةُ مَتْبُوعَةٌ، وَلَا تَتْبَعُ لَيْسَ مَعَهَا مَنْ يَقْدَمُهَا"، أَبُو مَاجِدٍ مَجْهُولٌ، وَيَحْيَى الْجَابِرُ ضَعَّفَهُ جَمَاعَةٌ مِنْ أَهْلِ النَّقْلِ وَاللهُ أَعْلَمُ.
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے جنازے کے ساتھ چلنے کے بارے میں سوال کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وہ چلنا دوڑنے کے بغیر ہوگا۔ اگر وہ نیک ہے تو اسے جلد پہنچایا جائے گا اور اگر اس کے علاوہ ہے تو پھر جہنمیوں کے لیے دوری ہو، جنازے کی اتباع کی جاتی ہے، اسے پیچھے نہیں چلایا جاتا، اس کے ساتھ کوئی ایسا نہیں ہونا چاہیے جو اس کے آگے چلے۔“
ابو ماجد مجہول ہے اور یحییٰ الجابر کو محدثین کی ایک جماعت نے ضعیف قرار دیا ہے، واللہ اعلم۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الجنائز/حدیث: 6867]
ابو ماجد مجہول ہے اور یحییٰ الجابر کو محدثین کی ایک جماعت نے ضعیف قرار دیا ہے، واللہ اعلم۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الجنائز/حدیث: 6867]
تخریج الحدیث: «ضعيف۔ ابن حبان»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 6868
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ أَحمَدَ بْنِ بَالَوَيْهِ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ غَالِبٍ، حَدَّثَنِي عَمْرُو بْنُ مَرْزُوقٍ، أنبأ شُعْبَةُ، عَنْ أَبِي فَرْوَةَ الْجُهَنِيِّ، قَالَ سَمِعْتُ زَائِدَةَ يُحَدِّثُ عَنِ ابْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبْزَى، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ أَبَا بَكْرٍ، وَعُمَرَ، رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا كَانَا يَمْشِيَانِ أَمَامَ الْجِنَازَةِ وَكَانَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ يَمْشِي خَلْفَهَا، فَقِيلَ: لِعَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ إِنَّهُمَا يَمْشِيَانِ أَمَامَهَا، فَقَالَ:" إِنَّهُمَا يَعْلَمَانِ أَنَّ الْمَشْيَ خَلْفَهَا أَفْضَلُ مِنَ الْمَشْيِ أَمَامَهَا كَفَضْلِ صَلَاةِ الرَّجُلِ فِي جَمَاعَةٍ عَلَى صَلَاتِهِ فَذًّا وَلَكِنَّهُمَا سَهْلَانِ يَسْهُلَانِ لِلنَّاسِ" ⦗٣٩⦘ زَائِدَةُ هَذَا هُوَ ابْنُ خِرَاشٍ، وَقِيلَ ابْنُ أَوْسِ بْنِ خِرَاشٍ الْكِنْدِيُّ يَرْوِي عَنْ سَعِيدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبْزَى هَذَا الْحَدِيثَ، وَالْآثَارُ فِي الْمَشْيِ أَمَامَهَا أَصَحُّ وَأَكْثَرُ وَبِاللهِ التَّوْفِيقُ.
عبد الرحمن بن ابزی رضی اللہ عنہ کے بیٹے اپنے والد سے نقل فرماتے ہیں کہ ابوبکر اور عمر رضی اللہ عنہما جنازے کے آگے چلا کرتے تھے اور علی رضی اللہ عنہ پیچھے چلا کرتے تھے، تو علی رضی اللہ عنہ سے کہا گیا: وہ دونوں (صدیق و فاروق رضی اللہ عنہما) جنازے کے آگے چلتے ہیں؟ تو انہوں نے کہا: وہ جانتے ہیں کہ پیچھے چلنا آگے چلنے سے افضل ہے جیسے باجماعت نماز اکیلے کی نماز سے افضل ہے، لیکن وہ لوگوں کے لیے آسانی پیدا کرتے ہیں۔
یہ زائدہ، ابن خراش ہیں، اور کہا گیا ہے کہ ابن اوس بن خراش کندی ہیں، جو یہ حدیث سعید بن عبدالرحمن بن ابزی سے روایت کرتے ہیں، اور جنازے کے آگے چلنے کے بارے میں آثار زیادہ صحیح اور زیادہ ہیں، وباللہ التوفیق۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الجنائز/حدیث: 6868]
یہ زائدہ، ابن خراش ہیں، اور کہا گیا ہے کہ ابن اوس بن خراش کندی ہیں، جو یہ حدیث سعید بن عبدالرحمن بن ابزی سے روایت کرتے ہیں، اور جنازے کے آگے چلنے کے بارے میں آثار زیادہ صحیح اور زیادہ ہیں، وباللہ التوفیق۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الجنائز/حدیث: 6868]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
1434. -- باب: القيام للجنازة
-- باب: جنازے کے لیے کھڑے ہونے کا بیان
حدیث نمبر: 6869
حَدَّثَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللهِ بْنُ يُوسُفَ الْأَصْبَهَانِيُّ، أنبأ أَبُو سَعِيدٍ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ الْبَصْرِيُّ بِمَكَّةَ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الصَّبَّاحِ الزَّعْفَرَانِيُّ، ثنا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ، عَنْ أَبِيَهِ، عَنْ عَامِرِ بْنِ رَبِيعَةَ، يَبْلُغُ بِهِ النَّبِيَّ صَلَّى الله عَلَيهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" إِذَا رَأَيْتُمُ الْجِنَازَةَ فَقُومُوا حَتَّى تُخَلِّفَكُمْ أَوْ تُوضَعَ" ⦗٤٠⦘ رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ عَلِيٍّ، وَرَوَاهُ مُسْلِمٌ عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ أَبِي شَيْبَةَ، وَجَمَاعَةٌ كُلُّهُمْ عَنْ سُفْيَانَ، وَرَوَاهُ اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ نَافِعٍ وَزَادَ فِيهِ:" وَإِنْ لَمْ يَكُنْ مَاشِيًا مَعَهَا".
سیدنا عامر بن ربیعہ رضی اللہ عنہ بیان فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ان تک یہ بات پہنچی کہ ”جب تم جنازہ دیکھو تو کھڑے ہو جاؤ حتیٰ کہ وہ تمہیں پیچھے چھوڑ دے یا رکھ دیا جائے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الجنائز/حدیث: 6869]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ البخاري»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 6870
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ الْمُرَادِيُّ، ثنا شُعَيْبُ بْنُ اللَّيْثِ بْنِ سَعْدٍ، ثنا اللَّيْثُ، فَذَكَرَهُ بِإِسْنَادِهِ عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى الله عَلَيهِ وَسَلَّمَ.
شعیب بن لیث بن سعد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ لیث رحمہ اللہ نے ہمیں بیان کیا اور اسی سند کے ساتھ یہ حدیث نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کی۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الجنائز/حدیث: 6870]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ البخاري»
الحكم على الحديث: صحيح