🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
السنن الكبرى للبيهقي میں نمبر سے تلاش
حدیث نمبر لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں عربی متن سے تلاش
عربی حدیث کا متن لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں اردو متن سے تلاش
اردو حدیث کا متن لکھیں:
1435. -- باب: حجة من زعم أن القيام للجنازة منسوخ
-- باب: اس شخص کی دلیل کا بیان جس کا خیال ہے کہ جنازے کے لیے کھڑا ہونا منسوخ ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6891
وَأَخْبَرَنَا أَبُو سَعْدٍ الْمَالِينِيُّ، أنبأ أَبُو أَحْمَدَ بْنُ عَدِيٍّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ بْنُ شَهْرَيَارَ، ثنا يُوسُفُ بْنُ سَلْمَانَ، ثنا حَاتِمُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، فَذَكَرَهُ بِمِثْلِهِ، غَيْرَ أَنَّهُ لَمْ يَقُلْ" فِي اللَّحْدِ". ⦗٤٥⦘ قَالَ الْبُخَارِيُّ: عَبْدُ اللهِ بْنُ سُلَيْمَانَ بْنِ جُنَادَةَ بْنِ أَبِي أُمَيَّةَ عَنْ أَبِيهِ لَا يُتَابَعُ فِي حَدِيثِهِ. أَخْبَرَنَاهُ أَبُو سَعْدٍ، أَنْبَأَ أَبُو أَحْمَدَ، ثنا الْجُنَيْدِيُّ ثنا الْبُخَارِيُّ فَذَكَرَهُ.
یوسف بن سلمان رحمہ اللہ کہتے ہیں: ہمیں حاتم بن اسماعیل رحمہ اللہ نے ایسی ہی حدیث بیان کی، سوائے اس کے کہ انہوں نے لحد کا تذکرہ نہیں کیا۔
امام بخاری رحمہ اللہ فرماتے ہیں: عبداللہ بن سلیمان بن جنادہ بن ابی امیہ کی اپنے والد سے روایت کردہ حدیث میں ان کی متابعت نہیں کی جاتی۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الجنائز/حدیث: 6891]
تخریج الحدیث: «ضعيف۔ ابو داؤد»

الحكم على الحديث: ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6892
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَسَنِ، وَأَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ، قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا بَحْرُ بْنُ نَصْرٍ، ثنا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ، أَنَّ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ الْقَاسِمِ، تَحَدَّثَ أَنَّ الْقَاسِمَ: كَانَ يَمْشِي بَيْنَ يَدَيِ الْجِنَازَةِ وَيَجْلِسُ قَبْلَ أَنْ تُوضَعَ، وَلَا يَقُومُ لَهَا وَكَانَ يُخْبِرُ عَنْ عَائِشَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى الله عَلَيهِ وَسَلَّمَ أَنَّهَا قَالَتْ:" كَانَ أَهْلُ الْجَاهِلِيَّةِ يَقُومُونَ لَهَا إِذَا رَأَوْهَا وَيَقُولُونَ فِي أَهْلِكِ مَا أَنْتِ فِي أَهْلِكِ مَا أَنْتِ".
عبد الرحمن بن قاسم فرماتے ہیں کہ قاسم جنازے کے آگے چلا کرتے تھے اور اس کے رکھنے سے پہلے بیٹھ جاتے تھے اور اس کے لیے کھڑے نہیں ہوتے تھے اور وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بیوی سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے نقل کرتے ہیں کہ وہ فرمایا کرتی تھیں کہ دورِ جاہلیت میں لوگ اس کے لیے کھڑے ہوا کرتے تھے جب اسے دیکھتے اور کہتے: ”تو اپنے اہل میں نہیں رہا، تو اپنے اہل میں نہیں رہا۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الجنائز/حدیث: 6892]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ بخاري»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
1436. جماع أبواب من أولى بالصلاة على الميت -- باب: الولي يبر قريبه بعد موته بالصلاة عليه والاستغفار له
میت پر نماز جنازہ پڑھانے کے زیادہ حق دار لوگوں کے ابواب کا مجموعہ -- باب: ولی کا اپنے رشتہ دار کی موت کے بعد اس پر نماز جنازہ پڑھ کر اور اس کے لیے دعائے مغفرت کر کے اس کے ساتھ حسن سلوک کرنے کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6893
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدِ اللهِ النَّرْسِيُّ، ثنا شَبَابَةُ بْنُ سَوَّارٍ الْفَزَارِيُّ، حَدَّثَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ سُلَيْمَانَ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ حَنْظَلَةَ بْنِ الرَّاهِبِ ابْنِ الْغَسِيلِ، ثنا أَسِيدُ بْنُ عَلِيٍّ، عَنْ أَبِيهِ عَلِيِّ بْنِ عُبَيْدٍ، عَنْ أَبِي أَسِيدٍ السَّاعِدِيِّ، قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ مِنْ بَنِي سَاعِدَةَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى الله عَلَيهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ إِنَّ أَبَوِيَّ قَدْ هَلَكَا، فَهَلْ بَقِيَ مِنْ بِرِّهِمَا شَيْءٌ أَصِلُهُمَا بِهِ بَعْدَ مَوْتِهِمَا، قَالَ:" نَعَمْ أَرْبَعَةُ أَشْيَاءَ الصَّلَاةُ عَلَيْهِمَا وَالِاسْتِغْفَارُ لَهُمَا وَإِنْفَاذُ عَهْدِهِمَا مِنْ بَعْدِ مَوْتِهِمَا وَإِكْرَامُ صَدِيقِهِمَا وَصِلَةُ رَحِمِهِمَا الَّتِي لَا رَحِمَ لَكَ إِلَّا مِنْ قِبَلِهِمَا"، فَقَالَ مَا أَكْثَرَ هَذَا وَأَطْيَبَهُ يَا رَسُولَ اللهِ، قَالَ:" فَاعْمَلْ بِهِ فَإِنَّهُ يَصِلُ إِلَيْهِمَا".
سیدنا ابو اسید ساعدی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: بنو ساعدہ میں سے ایک آدمی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور عرض کیا: ”اے اللہ کے رسول! میرے والدین فوت ہو چکے ہیں، کیا ان کے ساتھ نیکی میں سے کچھ باقی ہے جو میں ان کے ساتھ ان کی موت کے بعد کروں؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں! چار چیزیں: ان کا جنازہ پڑھانا اور استغفار کرنا اور ان کی موت کے بعد ان کے عہد کو نافذ کرنا اور ان کے دوستوں کی عزت کرنا اور ان کے ساتھ صلہ رحمی کرنا، جو صرف ان کی طرف سے رشتہ داری رکھتے ہیں۔“ تو اس نے کہا: ”اے اللہ کے رسول! یہ کتنا زیادہ اور کتنا عمدہ ہے!“ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تو اعمال کرتا رہ وہ ان تک پہنچ جائیں گے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الجنائز/حدیث: 6893]
تخریج الحدیث: «ضعيف۔ ابو داؤد»

الحكم على الحديث: ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
1437. -- باب: من قال الوالي أحق بالصلاة على الميت من الولي
-- باب: اس شخص کے قول کا بیان جس نے کہا ہے کہ حکمران میت کے ولی سے زیادہ نماز جنازہ پڑھانے کا حق دار ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: Q6894
رُوِيَ هَذَا الْقَوْلُ عَنْ عَلْقَمَةَ، وَالْأَسْوَدِ، وَسُوَيْدِ بْنِ غَفَلَةَ، وَعَطَاءٍ، وَطَاوُسٍ وَمُجَاهِدٍ، وَسَالِمٍ، وَالْقَاسِمِ، وَالْحَسَنِ الْبَصْرِيِّ، قَالُوا: الْإِمَامُ يَتَقَدَّمُ، وَيُرْوَى عَنْ عَلِيٍّ عَلَيْهِ السَّلَامُ، وَجَرِيرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ وَلَا يُثْبَتُ عَنْهُمَا لَكِنَّ الْمَشْهُورَ عَنِ الْحُسَيْنِ بْنِ عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ.
یہ قول علقمہ، اسود، سوید بن غفلہ، عطاء، طاؤس، مجاہد، سالم، قاسم اور حسن بصری رحمہم اللہ سے مروی ہے، انہوں نے فرمایا: ”امام آگے کھڑا ہوگا۔“
اور یہ سیدنا علی علیہ السلام اور سیدنا جریر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے بھی مروی ہے لیکن ان دونوں سے ثابت نہیں ہے، تاہم یہ سیدنا حسین بن علی رضی اللہ عنہما سے مشہور ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الجنائز/حدیث: Q6894]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6894
مَا أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا أَسِيدُ بْنُ عَاصِمٍ، ثنا الْحُسَيْنُ بْنُ حَفْصٍ، عَنْ سُفْيَانَ، ح وَحدثَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ إِمْلَاءً، أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ الْمَحْبُوبِيُّ، بِمَرْوٍ ثنا سَعِيدُ بْنُ مَسْعُودٍ، قَالَ: ⦗٤٦⦘ حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللهِ بْنُ مُوسَى، قَالَ أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ، عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي حَفْصَةَ، قَالَ سَمِعْتُ أَبَا حَازِمٍ، يَقُولُ: إِنِّي لَشَاهِدٌ يَوْمَ مَاتَ الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فَرَأَيْتُ الْحُسَيْنَ بْنَ عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ يَقُولُ لِسَعِيدِ بْنِ الْعَاصِ، وَيَطْعَنُ فِي عُنُقِهِ، وَيَقُولُ تَقَدَّمْ فَلَوْلَا أَنَّهَا سُنَّةٌ مَا قُدِّمْتَ وَكَانَ بَيْنَهُمْ شَيْءٌ، فَقَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ أتَنْفِسُونَ عَلَى ابْنِ نَبِيِّكُمْ بِتُرْبَةٍ تَدْفِنُونَهُ فِيهَا، وَقَدْ سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى الله عَلَيهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:" مَنْ أَحَبَّهُمَا فَقَدْ أَحَبَّنِي وَمَنْ أَبْغَضَهُمَا فَقَدْ أَبْغَضَنِي".
ابوحازم فرماتے ہیں: جس دن حسن بن علی رضی اللہ عنہما فوت ہوئے تو میں موجود تھا۔ میں نے حسین بن علی رضی اللہ عنہما کو دیکھا وہ سعید بن عاص سے فرما رہے تھے کہ: ”آگے بڑھ، اگر یہ سنت نہ ہوتی تو آگے نہ کیا جاتا۔“ اور اس کی گردن کو کچوکے مار رہے تھے اور ان میں کچھ اختلاف تھا تو ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا: ”کیا تم اپنے نبی کے بیٹے پر مٹی کے اس ٹکڑے کے بارے میں بخل کرتے ہو جس میں تم انہیں دفن کرو گے؟ جب کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے کہ: ”جس نے ان دونوں سے محبت کی اس نے مجھ سے محبت کی اور جس نے ان سے بغض رکھا اس نے مجھ سے بغض رکھا۔““ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الجنائز/حدیث: 6894]
تخریج الحدیث: «حسن لغيرهٖ۔ أخرجه الحاكم»

الحكم على الحديث: حسن لغيرهٖ
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6895
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ، أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا يَعْقُوبُ بْنُ سُفْيَانَ، ثنا قَبِيصَةُ، ثنا سُفْيَانُ، عَنْ أَبِي الْجَحَّافِ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ رَجَاءٍ الزُّبَيْدِيِّ، قَالَ أَخْبَرَنِي: مَنْ شَهِدَ الْحُسَيْنَ بْنَ عَلِيٍّ حِينَ مَاتَ الْحَسَنُ، وَهُوَ يَقُولُ لِسَعِيدِ بْنِ الْعَاصِ:" أَقْدِمْ فَلَوْلَا أَنَّهَا سُنَّةٌ مَا قُدِّمْتَ" وَأَمَّا الرِّوَايَةُ فِيهِ عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ.
اسماعیل بن رجاء زبیدی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: مجھے اس شخص نے بتایا جو سیدنا حسین بن علی رضی اللہ عنہما سے ملا تھا، جس وقت سیدنا حسن رضی اللہ عنہ فوت ہوئے کہ وہ سعید بن عاص رضی اللہ عنہ سے کہہ رہے تھے: ”آگے بڑھیں، اگر یہ سنت نہ ہوتی تو آپ کو آگے نہ کیا جاتا۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الجنائز/حدیث: 6895]
تخریج الحدیث: «حسن لغيرهٖ»

الحكم على الحديث: حسن لغيرهٖ
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6896
فَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ كَامِلِ بْنِ خَلَفِ بْنِ شَجَرَةَ الْقَاضِي، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عُثْمَانَ بْنِ أَبِي شَيْبَةَ، ثنا عَوْنُ بْنُ سَلَّامٍ، ثنا سَوَّارُ بْنُ مُصْعَبٍ، عَنْ مُجَالِدٍ، عَنِ الشَّعْبِيِّ: أَنَّ فَاطِمَةَ، رضِيَ اللهُ عَنْهَا لَمَّا مَاتَتْ دَفَنَهَا عَلِيٌّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ لَيْلًا، وَأَخَذَ بِضَبْعَيْ أَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيقِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فَقَدَّمَهُ يَعْنِي فِي الصَّلَاةِ عَلَيْهَا كَذَا رُوِيَ بِهَذَا الْإِسْنَادِ وَالصَّحِيحُ.
مجالد، شعبی رحمہ اللہ سے نقل فرماتے ہیں کہ جب فاطمہ رضی اللہ عنہا فوت ہوئیں تو علی رضی اللہ عنہ نے انہیں رات میں ہی دفن کر دیا اور ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کو بازو سے پکڑا اور انہیں نمازِ جنازہ کے لیے آگے کر دیا۔
اس سند سے اسی طرح مروی ہے، لیکن صحیح یہ ہے کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا قصہ میراث میں بیان فرماتی ہیں کہ فاطمہ رضی اللہ عنہا بنتِ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد چھ ماہ زندہ رہیں۔ جب وہ فوت ہوئیں تو علی رضی اللہ عنہ نے انہیں رات کے وقت ہی دفن کیا اور ابوبکر رضی اللہ عنہ کو اطلاع نہ دی اور نمازِ جنازہ بھی علی رضی اللہ عنہ نے پڑھی۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الجنائز/حدیث: 6896]
تخریج الحدیث: «منكر»

الحكم على الحديث: منكر
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6897
عَنِ ابْنِ شِهَابٍ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، رَضِيَ اللهُ عَنْهَا فِي قِصَّةِ الْمِيرَاثِ،" أَنَّ فَاطِمَةَ بِنْتَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى الله عَلَيهِ وَسَلَّمَ عَاشَتْ بَعْدَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى الله عَلَيهِ وَسَلَّمَ سِتَّةَ أَشْهُرٍ، فَلَمَّا تُوُفِّيَتْ دَفَنَهَا عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا لَيْلًا، وَلَمْ يُؤْذِنْ بِهَا أَبَا بَكْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، وَصَلَّى عَلَيْهَا عَلِيٌّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ" أَخْبَرَنَاهُ أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ الْفَقِيهُ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ثنا ابْنُ بُكَيْرٍ، حَدَّثَنِي اللَّيْثُ، عَنْ عُقَيْلٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، فَذَكَرَهُ رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ، عَنِ ابْنِ بُكَيْرٍ.
عقیل رحمہ اللہ، ابن شہاب رحمہ اللہ سے نقل فرماتے ہیں اور اسی حدیث کا تذکرہ کیا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الجنائز/حدیث: 6897]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ أخرجه البخاري»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
1438. -- باب: من قال الوصي بالصلاة عليه أولى إن كان قد أوصى بها إليه
-- باب: اس شخص کے قول کا بیان جس نے کہا ہے کہ نماز جنازہ پڑھانے کا وصی زیادہ حق دار ہے بشرطیکہ میت نے اس کے لیے وصیت کی ہو
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6898
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ، بِبَغْدَادَ، أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ دَرَسْتَوَيْهِ، ثنا يَعْقُوبُ بْنُ سُفْيَانَ، ثنا ابْنُ عُثْمَانَ يَعْنِي عَبْدَانَ، عَنْ أَبِي حَمْزَةَ السُّكَّرِيِّ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ، عَنْ مُحَارِبِ بْنِ دِثَارٍ، قَالَ:" مَاتَتْ أُمُّ الْمُؤْمِنِينَ أَظُنُّهَا مَيْمُونَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا فَأَوْصَتْ أَنْ يُصَلِّيَ عَلَيْهَا سَعِيدُ بْنُ زَيْدٍ"، ⦗٤٧⦘ وَرَوَاهُ سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ، عَنْ مُحَارِبِ بْنِ دِثَارٍ، أَنَّ أُمَّ سَلَمَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا أَوْصَتْ أَنْ يُصَلِّيَ عَلَيْهَا سِوَى الْإِمَامِ وَهَذَا أَصَحُّ.
محارب بن دثار رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ام المؤمنین فوت ہوئیں، میرا گمان ہے کہ وہ سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہا تھیں، تو انہوں نے وصیت کی کہ نمازِ جنازہ سعید بن زید رضی اللہ عنہ پڑھائیں۔
سفیان ثوری نے اسے عطاء بن سائب سے، انہوں نے محارب بن دثار سے روایت کیا ہے کہ سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے وصیت کی کہ ان کی نمازِ جنازہ امیر کے علاوہ کوئی اور پڑھائے، اور یہ زیادہ صحیح ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الجنائز/حدیث: 6898]
تخریج الحدیث: «ضعيف»

الحكم على الحديث: ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6899
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ بْنِ الْفَضْلِ، أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا يَعْقُوبُ بْنُ سُفْيَانَ، ثنا يَحْيَى بْنُ عَبْدِ الْحَمِيدِ، ثنا شَرِيكٌ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ: أَنَّ عَبْدَ اللهِ بْنَ مَسْعُودٍ أَوْصَى" إِذَا أَنَا مِتُّ يُصَلِّي عَلَيَّ الزُّبَيْرُ بْنُ الْعَوَّامِ".
ابو اسحاق رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے وصیت کی کہ جب میں فوت ہو جاؤں تو میرا جنازہ سیدنا زبیر بن عوام رضی اللہ عنہ پڑھائیں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الجنائز/حدیث: 6899]
تخریج الحدیث: «ضعيف جداً»

الحكم على الحديث: ضعيف جداً
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں