🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
السنن الكبرى للبيهقي میں نمبر سے تلاش
حدیث نمبر لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں عربی متن سے تلاش
عربی حدیث کا متن لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں اردو متن سے تلاش
اردو حدیث کا متن لکھیں:
1445. -- باب: جنائز الرجال والنساء إذا اجتمعت
-- باب: جب مردوں اور عورتوں کے جنازے اکٹھے ہو جائیں تو اس کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6920
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا يَزِيدُ بْنُ خَالِدِ بْنِ مَوْهَبٍ الرَّمْلِيُّ، ثنا ابْنُ وَهْبٍ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ صُبَيْحٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي عَمَّارٌ، مَوْلَى الْحَارِثِ بْنِ نَوْفَلٍ:" أَنَّهُ شَهِدَ جِنَازَةَ أُمِّ كُلْثُومٍ وَابْنِهَا، فَجَعَلَ الْغُلَامَ مِمَّا يَلِي الْإِمَامَ، فَأَنْكَرْتُ ذَلِكَ وَفِي الْقَوْمِ ابْنُ عَبَّاسٍ، وَأَبُو سَعِيدٍ، وَأَبُو قَتَادَةَ، وَأَبُو هُرَيْرَةَ، فَقَالُوا: هَذِهِ السُّنَّةُ"، وَرَوَاهُ حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ عَمَّارِ بْنِ أَبِي عَمَّارٍ دُونَ كَيْفِيَّةِ الْوَضْعِ بِنَحْوِهِ وَذَكَرَ أَنَّ الْإِمَامَ كَانَ ابْنَ عُمَرَ، قَالَ: وَكَانَ فِي الْقَوْمِ الْحَسَنُ، وَالْحُسَيْنُ، وَأَبُو هُرَيْرَةَ، وَابْنُ عُمَرَ وَنَحْوٌ مِنْ ثَمَانِينَ مِنْ أَصْحَابِ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. وَرَوَاهُ الشَّعْبِيُّ فَذَكَرَ كَيْفِيَّةَ الْوَضْعِ بِنَحْوِهِ وَذَكَرَ أَنَّ الْإِمَامَ كَانَ ابْنَ عُمَرَ وَلَمْ يَذْكُرِ السُّؤَالَ، قَالَ: وَخَلْفَهُ ابْنُ الْحَنَفِيَّةِ، وَالْحُسَيْنُ، وَابْنُ عَبَّاسٍ، وَفِي رِوَايَةٍ: وَعَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ، وَرُوِّينَا فِي ذَلِكَ عَنْ عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ، وَعَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ، وَوَاثِلَةَ بْنِ الْأَسْقَعِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمْ أَجْمَعِينَ.
حارث بن نوفل کے غلام عمار نے بیان کیا کہ وہ ام کلثوم اور ان کے بیٹے کے جنازے میں گیا تو بچے کو امام کے قریب رکھا گیا، میں نے اسے ناپسند کیا اور قوم میں ابن عباس رضی اللہ عنہما، ابوہریرہ رضی اللہ عنہ، ابوسعید رضی اللہ عنہ اور ابو قتادہ رضی اللہ عنہ بھی تھے تو انہوں نے کہا: ”یہ سنت ہے۔“
حماد بن سلمہ نے عمار بن ابو عمار سے رکھنے کی کیفیت کے ذکر کے بغیر اسی طرح بیان کیا ہے اور ذکر کیا ہے کہ امام ابن عمر رضی اللہ عنہما تھے، اور وہ فرماتے ہیں: تب قوم میں حسن اور حسین رضی اللہ عنہما، ابوہریرہ رضی اللہ عنہ، ابن عمر رضی اللہ عنہما اور ایسے ہی اسی (80) کے قریب اصحابِ محمد صلی اللہ علیہ وسلم تھے، مگر شعبی رحمہ اللہ نے ان کے رکھے جانے کی وہی کیفیت بیان کی ہے اور یہ بھی کہ امامت ابن عمر رضی اللہ عنہما نے کی۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الجنائز/حدیث: 6920]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيرهٖ۔ ابو داؤد أخرجه عبد الرزاق»

الحكم على الحديث: صحيح لغيرهٖ
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6921
أَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ، ثنا أَبُو عَبْدِ اللهِ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ، أنبأ جَعْفَرُ بْنُ عَوْنٍ، أنبأ ابْنُ جُرَيْجٍ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ مُوسَى: أَنَّ وَاثِلَةَ بْنَ الْأَسْقَعِ، فِي الطَّاعُونِ كَانَ بِالشَّامِ مَاتَ فِيهِ بَشَرٌ كَثِيرٌ فَكَانَ يُصَلِّي عَلَى جَنَائِزِ الرِّجَالِ وَالنِّسَاءِ جَمِيعًا، الرِّجَالُ مِمَّا يَلِيهِ وَالنِّسَاءُ مِمَّا يَلِي الْقِبْلَةَ وَيَجْعَلُ رُءُوسَهُنَّ إِلَى رُكْبَتَيِ الرِّجَالِ.
سلیمان بن موسیٰ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ جب طاعون کی وبا پھیلی تو واثلہ بن اسقع رضی اللہ عنہ شام میں تھے اور وہاں بہت سے لوگ فوت ہوئے تو وہ مردوں اور عورتوں کی اکٹھی نمازِ جنازہ پڑھاتے۔ مرد ان کے قریب ہوتے اور عورتیں قبلے کے قریب اور ان عورتوں کے سروں کو مردوں کے گھٹنوں کے برابر کرتے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الجنائز/حدیث: 6921]
تخریج الحدیث: «ضعيف۔ أخرجه عبد الرزاق»

الحكم على الحديث: ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
1446. -- باب: الإمام يقف على الرجل عند رأسه وعلى المرأة عند عجيزتها
-- باب: امام مرد کی نماز جنازہ میں اس کے سر کے پاس کھڑا ہو گا اور عورت کی نماز جنازہ میں اس کے سرین کے سامنے کھڑا ہو گا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6922
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ فُورَكٍ، أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا يُونُسُ بْنُ حَبِيبٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ الطَّيَالِسِيُّ، ثنا هَمَّامٌ، ثنا أَبُو غَالِبٍ، قَالَ:" شَهِدْتُ أَنَسًا وَصَلَّى عَلَى رَجُلٍ فَقَامَ عِنْدَ رَأْسِ السَّرِيرِ، ثُمَّ أُتِيَ بِامْرَأَةٍ مِنْ قُرَيْشٍ فَصَلَّى عَلَيْهَا، فَقَامَ قَرِيبًا مِنْ وَسَطِ السَّرِيرِ وَكَانَ فِيمَنْ حَضَرَ جِنَازَتَهُ الْعَلَاءُ بْنُ زِيَادٍ الْعَدَوِيُّ، فَلَمَّا رَأَى اخْتِلَافَ قِيَامِهِ قَالَ: يَا أَبَا ⦗٥٤⦘ حَمْزَةَ أَهَكَذَا كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُومُ مِنَ الْمَرْأَةِ وَالرَّجُلِ كَمَا قُمْتَ؟ قَالَ: نَعَمْ قَالَ: فَأَقْبَلَ عَلَيْنَا يَعْنِي الْعَلَاءُ بْنُ زِيَادٍ وَقَالَ: احْفَظُوا".
ابو غالب رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں انس رضی اللہ عنہ کے پاس گیا، انہوں نے ایک آدمی کا جنازہ پڑھا اور اس کے سر کے پاس کھڑے ہوئے۔ پھر قریش کی ایک عورت کا جنازہ لایا گیا تو تقریباً چارپائی کے وسط (درمیان) میں کھڑے ہو کر جنازہ پڑھا، جو لوگ جنازے میں شریک تھے ان میں علاء بن زیاد عدوی رحمہ اللہ بھی تھے۔ جب انہوں نے کھڑے ہونے کے اختلاف کو دیکھا تو کہا: ”اے ابو حمزہ! کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مرد اور عورت کے لیے یوں ہی کھڑے ہوتے تھے جیسے آپ کھڑے ہوئے؟“ تو انہوں نے کہا: ”جی ہاں!“ پھر علاء رحمہ اللہ ہماری طرف متوجہ ہوئے اور کہا: ”اسے یاد کرلو۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الجنائز/حدیث: 6922]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ أخرجه الطيالسي»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6923
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ هُوَ السِّجِسْتَانِيُّ، ثنا دَاوُدُ بْنُ مُعَاذٍ، ثنا عَبْدُ الْوَارِثِ، عَنْ نَافِعٍ أَبِي غَالِبٍ، قَالَ: كُنْتُ فِي سِكَّةِ الْمِرْبَدِ فَمَرَّتْ جِنَازَةٌ مَعَهَا نَاسٌ كَثِيرٌ، قَالُوا: جِنَازَةُ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُمَيْرٍ فَتَبِعْتُهَا فَلَمَّا وُضِعَتِ الْجِنَازَةُ، قَامَ أَنَسٌ فَصَلَّى عَلَيْهَا وَأَنَا خَلْفَهُ لَا يَحُولُ بَيْنِي وَبَيْنَهُ شَيْءٌ، فَقَامَ عِنْدَ رَأْسِهِ فَكَبَّرَ أَرْبَعَ تَكْبِيرَاتٍ لَمْ يُطِلْ وَلَمْ يُسْرِعْ، ثُمَّ ذَهَبَ يَقْعُدُ، فَقَالُوا: يَا أَبَا حَمْزَةَ الْمَرْأَةُ الْأَنْصَارِيَّةُ فَقَرَّبُوهَا وَعَلَيْهَا نَعْشٌ أَخْضَرُ، فَقَامَ عِنْدَ عَجِيزَتِهَا فَصَلَّى عَلَيْهَا نَحْوَ صَلَاتِهِ عَلَى الرَّجُلِ ثُمَّ جَلَسَ، فَقَالَ الْعَلَاءُ بْنُ زِيَادٍ: يَا أَبَا حَمْزَةَ أَهَكَذَا كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي عَلَى الْجِنَازَةِ كَصَلَاتِكَ يُكَبِّرُ عَلَيْهَا أَرْبَعًا، وَيَقُومُ عِنْدَ رَأْسِ الرَّجُلِ وَعَجِيزَةِ الْمَرْأَةِ؟ قَالَ: نَعَمْ وَذَكَرَ الْحَدِيثَ، قَالَ أَبُو غَالِبٍ فَسَأَلْتُ عَنْ صَنِيعِ أَنَسٍ فِي قِيَامِهِ عَلَى الْمَرْأَةِ عِنْدَ عَجِيزَتِهَا، فَحَدَّثُونِي أَنَّهُ إِنَّمَا كَانَ لِأَنَّهُ لَمْ تَكُنِ النُّعُوشُ فَكَانَ يَقُومُ الْإِمَامُ حِيَالَ عَجِيزَتِهَا يَسْتُرُهَا مِنَ الْقَوْمِ.
ابو غالب نافع رحمہ اللہ فرماتے ہیں: میں مربد کی گلی میں تھا کہ ایک جنازہ گزرا جس کے ساتھ بہت سے لوگ تھے، فرماتے ہیں: وہ عبداللہ بن عمیر کا جنازہ تھا اور میں اس کے پیچھے چلا۔ جب جنازہ رکھا گیا تو انس رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے اور نمازِ جنازہ پڑھائی اور میں ان کے پیچھے تھا، میرے اور ان کے درمیان کوئی چیز نہیں تھی وہ ان کے سر کے پاس کھڑے ہوئے اور چار تکبیرات کہیں اور ان کو نہ لمبا کیا اور نہ ہی جلدی کی۔ پھر جا کر بیٹھ گئے تو لوگوں نے کہا: ”اے ابو حمزہ! یہ انصاری عورت ہے“، انہوں نے قریب کیا تو اس پر سبز رنگ کا نعش (پردے والا ڈھانچہ) تھا تو وہ اس کی کمر کے پاس کھڑے ہوئے اور اسی طرح جنازہ پڑھا جیسے مرد کا جنازہ پڑھا پھر وہ بیٹھ گئے تو علاء بن زیاد نے کہا: ”اے ابو حمزہ! کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایسے ہی جنازے پڑھاتے جیسے آپ نے پڑھا ہے کہ چار تکبیریں کہتے اور مرد کے سر اور عورت کی کمر کے پاس کھڑے ہوتے؟“ انہوں نے کہا: ”جی ہاں“۔۔۔ آگے مکمل حدیث بیان۔
ابو غالب فرماتے ہیں: میں نے انس رضی اللہ عنہ کے عمل کے بارے پوچھا جو انہوں نے عورت کے جنازے میں اس کی کمر کے برابر کھڑے ہونے کا کیا تو انہوں نے کہا: وہ اس لیے تھا کہ تب تابوت وغیرہ نہیں ہوتے تھے اس لیے امام قوم سے پردہ کرنے کی خاطر اس کی کمر کے برابر کھڑا ہوتا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الجنائز/حدیث: 6923]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ ابو داؤد»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6924
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ كَامِلٍ الْقَاضِي، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ سَعْدٍ الْعَوْفِيُّ، ثنا رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ، ثنا حُسَيْنُ الْمُعَلِّمُ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ، وَإِسْمَاعِيلُ بْنُ قُتَيْبَةَ، وَمُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ السَّلَامِ، قَالُوا: ثنا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، أنبأ عَبْدُ الْوَارِثِ بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ حُسَيْنِ بْنِ ذَكْوَانَ، حَدَّثَنِي عَبْدُ اللهِ بْنُ بُرَيْدَةَ، عَنْ سَمُرَةَ بْنِ جُنْدُبٍ، قَالَ:" صَلَّيْتُ خَلْفَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى أُمِّ كَعْبٍ مَاتَتْ وَهِيَ نُفَسَاءُ، فَقَامَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى الله عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لِلصَّلَاةِ عَلَيْهَا وَسَطَهَا" لَفْظُ حَدِيثِ يَحْيَى، رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ يَحْيَى بْنِ يَحْيَى، وَرَوَاهُ الْبُخَارِيُّ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ مَيْسَرَةَ عَنْ عَبْدِ الْوَارِثِ.
سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے نماز پڑھی، آپ نے ام کعب کا جنازہ پڑھا جو نفاس میں فوت ہو گئی تھی، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے درمیان میں کھڑے ہو کر نماز پڑھائی۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الجنائز/حدیث: 6924]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ البخاري»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
1447. -- باب: دفن الاثنين والثلاثة في قبر عند الضرورة وتقديم أفضلهم وأقرئهم
-- باب: بوقت ضرورت دو یا تین افراد کو ایک ہی قبر میں دفن کرنے اور ان میں سے سب سے افضل اور قرآن کے سب سے بڑے قاری کو آگے رکھنے کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6925
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو مُحَمَّدٍ الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ حَلِيمِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مَيْمُونٍ، أنبأ أَبُو الْمُوجَّهِ، أنبأ عَبْدَانُ، أنبأ عَبْدُ اللهِ، ثنا لَيْثُ بْنُ سَعْدٍ، حَدَّثَنِي ابْنُ شِهَابٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ: أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَجْمَعُ بَيْنَ الرَّجُلَيْنِ مِنْ قَتْلَى أُحُدٍ فِي ثَوْبٍ وَاحِدٍ، ثُمَّ يَقُولُ:" أَيُّهُمْ أَكْثَرُ أَخْذًا لِلْقُرْآنِ؟" فَإِذَا ⦗٥٥⦘ أُشِيرَ إِلَى أَحَدِهِمَا قَدَّمَهُ فِي اللَّحْدِ، وَقَالَ" أَنَا شَهِيدٌ عَلَى هَؤُلَاءِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ"، وَأَمَرَ بِدَفْنِهِمْ بِدِمَائِهِمْ، وَلَمْ يُصَلِّ عَلَيْهِمْ، وَلَمْ يُغَسِّلْهُمْ" رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ مُقَاتِلٍ، عَنِ ابْنِ الْمُبَارَكِ وَفِيهِ بَعْضُ الِاخْتِصَارِ، وَرَوَاهُ بِطُولِهِ عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ يُوسُفَ، وَقُتَيْبَةَ، عَنِ اللَّيْثِ.
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم احد کے مقتولین میں سے دو دو کو ایک کپڑے میں جمع کرتے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے: ”ان میں سے زیادہ قرآن یاد کرنے والا کون ہے؟“ جب ان میں سے ایک کی طرف اشارہ کیا جاتا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم اسے لحد میں آگے کرتے اور فرماتے: ”میں ان پر قیامت کے دن گواہ ہوں گا“، اور ان کو خون سمیت دفن کرنے کا حکم دیا، نہ جنازہ پڑھا اور نہ ہی غسل دیا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الجنائز/حدیث: 6925]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ البخاري»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6926
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَمْرٍو الْأَدِيبُ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ الْإِسْمَاعِيلِيُّ، أَخْبَرَنِي الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، ثنا حَبَّانُ، عَنِ ابْنِ الْمُبَارَكِ، قَالَ: وَأَخْبَرَنَا الْأَوْزَاعِيُّ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ جَابِرٍ، كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ لِقَتْلَى أُحُدٍ:" أِيُّ هَؤُلَاءِ أَكْثَرُ أَخْذًا لِلْقُرْآنِ"، فَإِذَا أُشِيرَ لَهُ إِلَى رَجُلٍ قَدَّمَهَ فِي اللَّحْدِ قَبْلَ صَاحِبِهِ، قَالَ جَابِرٌ: فَكُفِّنَ أَبِي وَعَمِّي فِي نَمِرَةٍ وَاحِدَةٍ" رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ مُقَاتِلٍ، عَنِ ابْنِ الْمُبَارَكِ مُدْرَجًا فِي الْإِسْنَادِ الْأَوَّلِ، قَالَ: وَقَالَ سُلَيْمَانُ بْنُ كَثِيرٍ: حَدَّثَنِي الزُّهْرِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنِي مَنْ سَمِعَ جَابِرًا.
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مقتولینِ احد کے بارے میں فرماتے: ”ان میں سے قرآن زیادہ یاد کرنے والا کون ہے؟“ جب کسی کی طرف اشارہ کیا جاتا تو اسے اس کے ساتھی سے پہلے لحد میں رکھتے۔ سیدنا جابر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: میرے والد اور چچا کو ایک ہی چادر میں کفن دیا گیا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الجنائز/حدیث: 6926]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ بخاري»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6927
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ، بِبَغْدَادَ، أنبأ أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمِصْرِيُّ، ثنا ابْنُ أَبِي مَرْيَمَ، ثنا الْفِرْيَابِيُّ، ثنا سُفْيَانُ، عَنْ أَيُّوبَ السَّخْتِيَانِيِّ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ هِلَالٍ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عَامِرٍ، قَالَ: لَمَّا كَانَ يَوْمُ أُحُدٍ شَكَوْا إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى الله عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ الْقَرْحَ، فَقَالُوا: يَا رَسُولَ اللهِ يَشْتَدُّ عَلَيْنَا الْحَفْرُ لِكُلِّ إِنْسَانٍ، قَالَ:" أَعْمِقُوا وَأَحْسِنُوا وَادْفِنُوا الِاثْنَيْنِ وَالثَّلَاثَةَ فِي قَبْرٍ"، فَقَالُوا يَا رَسُولَ اللهِ فَمَنْ نُقَدِّمُ، قَالَ:" أَكْثَرُهُمْ قُرْآنًا"، قَالَ فَدُفِنَ أَبِي ثَالِثَ ثَلَاثَةٍ فِي قَبْرٍ" وَقَدْ قِيلَ عَنْهُ عَنْ سَعْدِ بْنِ هِشَامٍ، عَنْ أَبِيهِ.
سیدنا ہشام بن عامر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ لوگوں نے احد کے دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس زخموں کی شکایت کی کہ ہر بندے کے لیے گڑھا کھودنا مشکل ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اچھی طرح گہرے کرو اور ایک قبر میں دو، تین کو دفن کرو۔“ انہوں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! ہم پہلے کسے لحد میں اتاریں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو ان میں سب سے زیادہ قرآن والا ہے۔“ سو میرے والد کو دفن کیا گیا اور وہ تین میں تیسرے تھے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الجنائز/حدیث: 6927]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ أخرجه ابو داؤد»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6928
أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِسْحَاقَ، ثنا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، ثنا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ حُمَيْدٍ، عَنْ سَعْدِ بْنِ هِشَامِ بْنِ عَامِرٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: اشْتَدَّتِ الْجِرَاحَاتُ يَوْمَ أُحُدٍ فَشَكَوْا إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَثْرَةَ الْجِرَاحَاتِ، فَقَالَ:" احْفِرُوا، وَأَوْسِعُوا، وَأَحْسِنُوا، وَادْفِنُوا الِاثْنَيْنِ وَالثَّلَاثَةَ فِي قَبْرٍ، وَقَدِّمُوا أَكْثَرَهُمْ قُرْآنًا"، وَرَوَاهُ عَبْدُ الْوَارِثِ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ حُمَيْدٍ، عَنْ أَبِي الدَّهْمَاءِ، عَنْ هِشَامٍ.
سعد بن ہشام بن عامر اپنے والد (سیدنا ہشام بن عامر رضی اللہ عنہ) سے نقل فرماتے ہیں کہ غزوہ احد میں ہمیں بہت زخم آئے تو لوگوں نے اپنے زخموں کی شکایت کی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”قبریں کھودو اور اچھی طرح فراخ کرو اور دو تین کو ایک قبر میں دفن کرو اور زیادہ قرآن والے کو قبر میں آگے کرو۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الجنائز/حدیث: 6928]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ ابو داؤد»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6929
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ بْنُ عَبْدَانَ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ، أنبأ إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِسْحَاقَ الْقَاضِي، ثنا مُسَدَّدٌ، ثنا عَبْدُ الْوَارِثِ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ هِلَالٍ، عَنْ أَبِي الدَّهْمَاءِ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عَامِرٍ: أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" احْفِرُوا وَأَوْسِعُوا وَأَحْسِنُوا وَادْفِنُوا الِاثْنَيْنِ وَالثَّلَاثَةَ، ⦗٥٦⦘ وَقَدِّمُوا أَكْثَرَهُمْ قُرْآنًا"، فَقُدِّمَ أَبِي بَيْنَ يَدَيْ رَجُلَيْنِ قَالَ الْقَاضِي: قُتِلَ أَبُو هِشَامِ بْنُ عَامِرٍ يَوْمَ أُحُدٍ.
سیدنا ہشام بن عامر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”گڑھے گہرے کھودو اور فراخ کرو اور دو تین کو ایک قبر میں دفن کرو اور ان میں سے زیادہ قرآن والے کو آگے کرو۔“ سو میرے والد کو دوسرے دونوں سے پہلے لحد میں اتارا گیا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الجنائز/حدیث: 6929]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ ابو داؤد»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں