السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
1442. جماع أبواب وقت الصلاة على الجنائز -- باب: الصلاة على الجنائز ودفن الموتى أي ساعة شاء من ليل أو نهار
نماز جنازہ کے اوقات کے ابواب کا مجموعہ -- باب: دن یا رات کی جس گھڑی میں چاہیں نماز جنازہ پڑھنے اور مردوں کو دفنانے کا بیان
حدیث نمبر: 6910
أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ جَنَاحُ بْنُ نُذَيْرِ بْنِ جَنَاحٍ الْمُحَارِبِيِّ بِالْكُوفَةِ، ثنا أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ دُحَيْمٍ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ حَازِمٍ، أنبأ الْفَضْلُ بْنُ دُكَيْنٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ مُسْلِمٍ الطَّائِفِيُّ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي أَوْ قَالَ سَمِعْتُ جَابِرًا، قَالَ: رَأَى نَاسٌ نَارًا فِي الْمَقْبَرَةِ، فَأَتَوْهَا، فَإِذَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى الله عَلَيهِ وَسَلَّمَ فِي الْقَبْرِ، وَإِذَا هُوَ يَقُولُ:" نَاوِلُونِي صَاحِبَكُمْ"، فَإِذَا هُوَ الَّذِي كَانَ يَرْفَعُ صَوْتَهُ بِالذِّكْرِ وَقَدْ رُوِّينَا عَنْ أَبِي ذَرٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَنَّ ذَلِكَ كَانَ لَيْلًا وَكَانَ مَعَهُ الْمِصْبَاحُ.
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ لوگوں نے قبرستان میں آگ دیکھی تو وہ وہاں آئے تو دیکھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم قبر میں ہیں اور فرما رہے ہیں: ”مجھے اپنا ساتھی پکڑاؤ“ اور یہ وہ تھا جو اللہ کا ذکر کرتے ہوئے آواز بلند کرتا تھا۔
سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ سے یہ روایت ہے کہ یہ رات کا وقت تھا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ چراغ تھا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الجنائز/حدیث: 6910]
سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ سے یہ روایت ہے کہ یہ رات کا وقت تھا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ چراغ تھا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الجنائز/حدیث: 6910]
تخریج الحدیث: «ضعيف۔ ابو داؤد»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 6911
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا عَلِيُّ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ أَبِي عِيسَى، ثنا مُعَلَّى بْنُ أَسَدٍ، ثنا وُهَيْبٌ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَمْرٍو الْأَدِيبُ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ الْإِسْمَاعِيلِيُّ، أَخْبَرَنِي أَبُو يَعْلَى، ثنا الْعَبَّاسُ بْنُ الْوَلِيدِ النَّرْسِيُّ، وَعَبْدُ الْأَعْلَى بْنُ حَمَّادٍ، قَالَا: ثنا وُهَيْبُ بْنُ خَالِدٍ، ثنا هِشَامٌ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، رَضِيَ اللهُ عَنْهَا قَالَتْ:" دَخَلْتُ عَلَى أَبِي بَكْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فَذَكَرَتْ حَدِيثًا"، ثُمَّ قَالَتْ: قَالَ: فِي أِيِّ يَوْمٍ تُوُفِّيَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى الله عَلَيهِ وَسَلَّمَ؟ قُلْتُ" يَوْمَ الِاثْنَيْنِ" قَالَ: أَرْجُو فِيمَا بَيْنِي وَبَيْنَ اللَّيْلِ قَالَتْ:" فَلَمْ يُتَوَفَّ حَتَّى أَمْسَى لَيْلَةَ الثُّلَاثَاءِ، فَدُفِنَ قَبْلَ أَنْ يُصْبِحَ" قَالَتْ: وَقَدْ قَالَ: فِي كَمْ كُفِّنَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى الله عَلَيهِ وَسَلَّمَ؟ قُلْتُ:" فِي ثَلَاثَةِ أَثْوَابٍ بِيضٍ سُحُولِيَّةٍ لَيْسَ فِيهَا قَمِيصٌ وَلَا عِمَامَةٌ"، فَنَظَرَ إِلَى ثَوْبٍ كَانَ يُمَرَّضُ فِيهِ، فِيهِ رَدْعٌ مِنْ زَعْفَرَانٍ أَوْ مِشْقٍ، فَقَالَ: اغْسِلُوا ثَوْبِي هَذَا وَزِيدُوا فِيهِ ثَوْبَيْنِ وَكَفِّنُونِي فِيهَا، قُلْتُ" إِنَّ هَذَا خَلَقٌ" قَالَ:" إِنَّ الْحِيَّ أَحَقُّ بِالْجَدِيدِ مِنَ الْمَيِّتِ، إِنَّمَا هُوَ لِلْمُهْلَةِ" لَفْظُ حَدِيثِ الْعَبَّاسِ، رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ مُعَلَّى بْنِ أَسَدٍ، وَرُوِّينَا عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى الله عَلَيهِ وَسَلَّمَ دُفِنَ لَيْلًا، وَرُوِّينَا عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ فَاطِمَةَ بِنْتَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى الله عَلَيهِ وَسَلَّمَ دُفِنَتْ لَيْلًا، وَرُوِّينَا عَنْ عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَنَّهُ دُفِنَ بَعْدَ الْعِشَاءِ الْآخِرَةِ، وَرُوِّينَا فِي كِتَابِ الصَّلَاةِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّهُ صَلَّى عَلَى عَائِشَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى الله عَلَيهِ وَسَلَّمَ حِينَ صَلَّوُا الصُّبْحَ.
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ میں سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کے پاس گئی اور حدیث بیان کی۔ پھر وہ فرماتی ہیں کہ انہوں نے کہا: آپ صلی اللہ علیہ وسلم کس دن فوت ہوئے تھے؟ میں نے کہا: پیر کے دن، تو انہوں نے کہا: مجھے امید ہے کہ (میری وفات) اب سے رات تک کے درمیان ہوگی۔ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ فوت نہ ہوئے یہاں تک کہ منگل کی رات کی شام ہو گئی اور صبح ہونے سے پہلے دفن کر دیے گئے، انہوں نے پوچھا: کتنے کپڑوں میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو کفن دیا گیا؟ میں نے کہا: تین یمنی چادروں میں، جس میں قمیص نہیں تھی اور نہ ہی پگڑی تھی، تو انہوں نے اپنے کپڑوں کی طرف دیکھا جس میں وہ بیمار ہوئے تھے، جس میں زعفران یا گیرو کا نشان تھا تو انہوں نے کہا: میرے ان کپڑوں کو دھو ڈالو اور اس میں دو کپڑوں کا اضافہ کر کے مجھے کفن دینا۔ میں نے کہا: یہ پرانے ہیں، تو انہوں نے کہا: زندہ لوگ نئے کپڑوں کے مردہ سے زیادہ حق دار ہیں، یہ تو صرف (میت کی) پیپ اور رطوبت کے لیے ہے۔
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے نقل کیا گیا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو رات کے وقت دفن کیا گیا اور سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے نقل کیا گیا ہے کہ سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا بنت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو رات میں دفن کیا گیا۔ سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ سے نقل کیا گیا کہ عشاء کے آخری وقت میں دفن کیا گیا۔ کتاب الصلوٰۃ میں سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے نقل کیا گیا ہے کہ انہوں نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کا جنازہ صبح کی نماز کے بعد پڑھایا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الجنائز/حدیث: 6911]
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے نقل کیا گیا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو رات کے وقت دفن کیا گیا اور سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے نقل کیا گیا ہے کہ سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا بنت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو رات میں دفن کیا گیا۔ سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ سے نقل کیا گیا کہ عشاء کے آخری وقت میں دفن کیا گیا۔ کتاب الصلوٰۃ میں سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے نقل کیا گیا ہے کہ انہوں نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کا جنازہ صبح کی نماز کے بعد پڑھایا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الجنائز/حدیث: 6911]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ البخاري»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 6912
أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ، أنبأ الرَّبِيعُ، أنبأ الشَّافِعِيُّ، أنبأ الثِّقَةُ مِنْ أَهْلِ الْمَدِينَةِ بِإِسْنَادٍ لَا أَحْفَظُهُ أَنَّهُ" صُلِّيَ عَلَى عَقِيلِ بْنِ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ وَالشَّمْسُ مُصْفَرَّةٌ قَبْلَ الْمَغِيبِ قَلِيلًا وَلَمْ يَنْتَظِرُوا بِهِ مَغِيبَ الشَّمْسِ".
امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اہل مدینہ کے ثقہ لوگوں نے ہمیں بتایا، مجھے سند یاد نہیں کہ عقیل بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کی نماز جنازہ پڑھائی گئی تو سورج زرد ہو چکا تھا، غروب ہونے سے پہلے، اور انہوں نے اس کے غروب ہونے کا انتظار نہ کیا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الجنائز/حدیث: 6912]
تخریج الحدیث: «ضعيف جداً»
الحكم على الحديث: ضعيف جداً
1443. -- باب: من كره الصلاة والقبر في الساعات الثلاث
-- باب: ان لوگوں کے قول کا بیان جنہوں نے تین اوقات میں نماز پڑھنے اور دفن کرنے کو مکروہ قرار دیا ہے
حدیث نمبر: 6913
أَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا يَحْيَى بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى الْمُزَكِّي بِنَيْسَابُورَ، وَأَبُو الْحَسَنِ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ الْحَسَنِ بْنِ إِسْحَاقَ الْبَزَّازُ بِبَغْدَادَ مِنْ أَصْلِ سَمَاعِهِ، قَالَا: أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ الْفَاكِهِيُّ، ثنا أَبُو يَحْيَى بْنُ أَبِي مَسَرَّةَ، ثنا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْمُقْرِئُ، ثنا مُوسَى بْنُ عَلِيٍّ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبِي يَقُولُ: سَمِعْتُ عُقْبَةَ بْنَ عَامِرٍ يَعْنِي الْجُهَنِيَّ يَقُولُ:" ثَلَاثَ سَاعَاتٍ كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى الله عَلَيهِ وَسَلَّمَ يَنْهَانَهَا أَنْ نُصَلِّيَ فِيهِنَّ أَوْ أَنْ نَقْبُرَ فِيهِنَّ مَوْتَانَا حِينَ تَطْلُعُ الشَّمْسُ بَازِغَةً حَتَّى تَرْتَفِعَ، وَحِينَ يَقُومُ قَائِمُ الظَّهِيرَةِ حَتَّى تَمِيلَ الشَّمْسُ، وَحِينَ تَضَيَّفُ الشَّمْسُ لِلْغُرُوبِ حَتَّى تَغْرُبَ" أَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ مِنْ حَدِيثِ ابْنِ وَهْبٍ، عَنْ مُوسَى بْنِ عَلِيِّ بْنِ رَبَاحٍ كَمَا مَضَى ذِكْرُهُ.
سیدنا عقبہ بن عامر جہنی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ تین اوقات میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں نماز جنازہ پڑھنے اور تدفین کرنے سے منع فرمایا کرتے تھے: ”جب سورج طلوع ہو رہا ہو یہاں تک کہ وہ بلند ہو جائے، جب وہ دوپہر کے وقت (آسمان کے وسط میں) ٹھہرا ہو یہاں تک کہ وہ ایک طرف جھک جائے اور جب سورج غروب کے قریب ہو یہاں تک کہ وہ مکمل طور پر غروب ہو جائے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الجنائز/حدیث: 6913]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ أخرجه المسلم»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 6914
وَرَوَاهُ رَوْحُ بْنُ الْقَاسِمِ، عَنْ مُوسَى بْنِ عَلِيِّ بْنِ رَبَاحٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ، قَالَ: نَهَى رَسُولُ اللهِ صَلَّى الله عَلَيهِ وَسَلَّمَ عَنْ ثَلَاثِ سَاعَاتٍ، وَذَكَرَهُ بِمَعْنَاهُ وَزَادَ فِيهِ، قَالَ: قُلْتُ لِعُقْبَةَ أَيُدْفَنُ بِاللَّيْلِ، قَالَ: نَعَمْ قَدْ دُفِنَ أَبُو بَكْرٍ بِاللَّيْلِ، أَخْبَرَنَاهُ عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ، ثنا مُعَاذُ بْنُ الْمُثَنَّى، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ الْمِنْهَالِ، ثنا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، ثنا رَوْحُ بْنُ الْقَاسِمِ فَذَكَرَهُ.
یزید بن زریع رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ہمیں روح بن قاسم رحمہ اللہ نے حدیث بیان کی تو انہوں نے اسی حدیث کا تذکرہ کیا۔
اور اس میں یہ اضافہ کیا کہ میں نے سیدنا عقبہ رضی اللہ عنہ سے کہا: کیا رات کو دفن کیا جا سکتا ہے؟ انہوں نے کہا: ہاں، سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کو رات کو دفن کیا گیا تھا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الجنائز/حدیث: 6914]
اور اس میں یہ اضافہ کیا کہ میں نے سیدنا عقبہ رضی اللہ عنہ سے کہا: کیا رات کو دفن کیا جا سکتا ہے؟ انہوں نے کہا: ہاں، سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کو رات کو دفن کیا گیا تھا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الجنائز/حدیث: 6914]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ الاوسط»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 6915
أَخْبَرَنَا أَبُو أَحْمَدَ الْمِهْرَجَانِيُّ، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ جَعْفَرٍ الْمُزَكِّي، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ثنا ابْنُ بُكَيْرٍ، ثنا مَالِكٌ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي حَرْمَلَةَ: أَنَّ زَيْنَبَ بِنْتَ أَبِي سَلَمَةَ، تُوُفِّيَتْ وَطَارِقٌ أَمِيرُ الْمَدِينَةِ، فَأُتِيَ بِجِنَازَتِهَا بَعْدَ صَلَاةِ الصُّبْحِ، فَوُضِعَتْ بِالْبَقِيعِ، قَالَ وَكَانَ طَارِقٌ يُغَلِّسُ بِالصُّبْحِ، قَالَ ابْنُ أَبِي حَرْمَلَةَ، فَسَمِعْتُ عَبْدَ اللهِ بْنَ عُمَرَ يَقُولُ لِأَهْلِهَا" إِمَّا أَنْ تُصَلُّوا عَلَى جِنَازَتِكُمُ الْآنَ، وَإِمَّا أَنْ تَتْرُكُوهَا حَتَّى تَرْتَفِعَ الشَّمْسُ".
محمد بن ابوحرمُلہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ زینب بنت ابوسلمہ رضی اللہ عنہا فوت ہو گئیں اور طارق مدینہ کے امیر تھے، ان کا جنازہ فجر کی نماز کے بعد لایا گیا اور اسے بقیع میں رکھا گیا، اور طارق اندھیرے میں نمازِ فجر پڑھتے تھے۔ ابوحرمُلہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں نے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے سنا، وہ ان کے گھر والوں سے کہہ رہے تھے کہ اب اگر تم جنازہ پڑھ لو تو درست ہے کہ تم اسی وقت جنازہ پڑھو یا پھر سورج بلند ہونے تک انتظار کرو۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الجنائز/حدیث: 6915]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ أخرجه مالك»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 6916
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ، وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي ⦗٥٢⦘ عَمْرٍو، قَالُوا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ، ثنا حَجَّاجٌ، أَخْبَرَنِي ابْنُ جُرَيْجٍ، أَخْبَرَنِي زِيَادٌ، أَنَّ عَلِيًّا، أَخْبَرَهُ:" أَنَّ جِنَازَةً وُضِعَتْ فِي مَقْبَرَةِ أَهْلِ الْبَصْرَةِ حِينَ اصْفَرَّتِ الشَّمْسُ، فَلَمْ يُصَلِّ عَلَيْهَا حَتَّى غَرَبَتِ الشَّمْسُ، فَأَمَرَ أَبُو بَرْزَةَ الْمُنَادِيَ فَنَادَى بِالصَّلَاةِ، ثُمَّ أَقَامَهَا فَتَقَدَّمَ أَبُو بَرْزَةَ، فَصَلَّى بِهِمُ الْمَغْرِبَ وَفِي النَّاسِ أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ، وَأَبُو بَرْزَةَ مِنَ الْأَنْصَارِ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى الله عَلَيهِ وَسَلَّمَ، ثُمَّ صَلَّوْا عَلَى الْجِنَازَةِ".
زیاد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ علی نے انہیں خبر دی کہ اہل بصرہ کے قبرستان میں ایک جنازہ رکھا گیا، جب دھوپ زرد ہو چکی تھی، تو سورج کے غروب ہونے تک اس کی نمازِ جنازہ نہ پڑھی گئی۔ پھر سیدنا ابو برزہ رضی اللہ عنہ نے مؤذن کو حکم دیا تو اس نے اذان دی، پھر اقامت کہی گئی اور ابو برزہ رضی اللہ عنہ آگے بڑھے اور انہیں مغرب کی نماز پڑھائی اور لوگوں میں سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ تھے، اور سیدنا ابو برزہ رضی اللہ عنہ انصار میں سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ میں سے تھے، پھر انہوں نے جنازہ پڑھا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الجنائز/حدیث: 6916]
تخریج الحدیث: «ضعيف۔ عبد الرزاق»
الحكم على الحديث: ضعيف
1444. -- باب: ذكر الخبر الوارد في النهي عن الدفن بالليل والبيان أن المراد به كيلا تفوته الصلاة على الجنازة
-- باب: رات کے وقت دفن کرنے کی ممانعت کے بارے میں وارد شدہ حدیث کا ذکر اور اس بات کا بیان کہ اس سے مراد یہ ہے کہ کہیں اس کی نماز جنازہ فوت نہ ہو جائے
حدیث نمبر: 6917
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ بْنُ عَبْدَانَ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدِ اللهِ النَّرْسِيُّ، ثنا حَجَّاجُ، قَالَ: قَالَ ابْنُ جُرَيْجٍ، أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ، أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللهِ، يُحَدِّثُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى الله عَلَيهِ وَسَلَّمَ خَطَبَ يَوْمًا فَذَكَرَ رَجُلًا مِنْ أَصْحَابِهِ قُبِضَ فَكُفِّنَ فِي كَفَنٍ غَيْرِ طَائِلٍ، وَقُبِرَ لَيْلًا فَزَجَرَ النَّبِيُّ صَلَّى الله عَلَيهِ وَسَلَّمَ أَنْ يُقْبَرَ الرَّجُلُ بِاللَّيْلِ حَتَّى يُصَلَّى عَلَيْهِ إِلَّا أَنْ يُضْطَرُّوا إِلَى ذَلِكَ، وَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى الله عَلَيهِ وَسَلَّمَ:" إِذَا كَفَّنَ أَحَدُكُمْ أَخَاهُ فَلْيُحْسِنْ كَفَنَهُ" رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ هَارُونَ بْنِ عَبْدِ اللهِ، عَنْ حَجَّاجِ بْنِ مُحَمَّدٍ.
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ایک دن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں خطبہ دیا اور اپنے صحابہ میں سے ایک کا تذکرہ کیا جو فوت ہو گیا اور اسے کوئی عمدہ کفن نہ دیا گیا اور رات ہی میں دفن کر دیا گیا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ڈانٹا اور فرمایا: ”جب تک جنازہ نہ پڑھا جائے رات کو دفن نہ کرو، مگر یہ کہ کوئی مجبوری ہو“ اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم میں سے کوئی اپنے بھائی کو کفن دے تو اچھا کفن دے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الجنائز/حدیث: 6917]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ المسلم»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 6918
أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ الْفَقِيهُ، أنبأ أَبُو عُثْمَانَ عَمْرُو بْنُ عَبْدِ اللهِ الْبَصْرِيُّ، ثنا أَبُو أَحْمَدَ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ، أنبأ خَالِدُ بْنُ مَخْلَدٍ، حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، حَدَّثَنِي الْعَلَاءُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: فَقَدَ النَّبِيُّ صَلَّى الله عَلَيهِ وَسَلَّمَ امْرَأَةً سَوْدَاءَ كَانَتْ تَلْتَقِطُ الْخِرَقَ وَالْعِيدَانَ مِنَ الْمَسْجِدِ، فَقَالَ:" أَيْنَ فُلَانَةُ"، قَالُوا: مَاتَتْ، قَالَ:" أَفَلَا آذَنْتُمُونِي"، قَالُوا مَاتَتْ مِنَ اللَّيْلِ وَدُفِنَتْ فَكَرِهْنَا أَنْ نُوقِظَكَ، فَذَهَبَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى الله عَلَيهِ وَسَلَّمَ إِلَى قَبْرِهَا، فَصَلَّى عَلَيْهَا وَقَالَ:" إِذَا مَاتَ أَحَدٌ مِنَ الْمُسْلِمِينَ فَلَا تَدَعُوا أَنْ تُؤْذِنُونِي".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک کالی عورت کو گم پایا جو مسجد سے تنکے وغیرہ اٹھاتی اور صفائی کرتی تھی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”فلاں عورت کہاں ہے؟“ انہوں نے کہا: وہ فوت ہو چکی ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم نے مجھے کیوں نہیں بتایا؟“ انہوں نے کہا: وہ رات کو فوت ہوئی تھی اور دفن کر دی گئی۔ ہم نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو بیدار کرنا مناسب نہ سمجھا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس کی قبر پر گئے اور نمازِ جنازہ پڑھی اور فرمایا: ”جب مسلمانوں میں سے کوئی فوت ہو جائے تو مجھے ضرور اطلاع کیا کرو۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الجنائز/حدیث: 6918]
تخریج الحدیث: «حسن۔ ابن خزيمه»
الحكم على الحديث: حسن
1445. -- باب: جنائز الرجال والنساء إذا اجتمعت
-- باب: جب مردوں اور عورتوں کے جنازے اکٹھے ہو جائیں تو اس کا بیان
حدیث نمبر: 6919
أَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ، أنبأ أَبُو عَبْدِ اللهِ الشَّيْبَانِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ، أنبأ جَعْفَرٌ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ حَازِمِ بْنِ أَبِي غَرَزَةَ الْغِفَارِيُّ، ثنا جَعْفَرٌ يَعْنِي ابْنَ عَوْنٍ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ: أَنَّهُ صَلَّى عَلَى تِسْعِ جَنَائِزَ رِجَالٍ وَنِسَاءٍ فَجَعَلَ الرِّجَالَ مِمَّا يَلِي الْإِمَامَ وَالنِّسَاءَ مِمَّا يَلِي الْقِبْلَةَ، وَصَفَّهُمْ صَفًّا وَاحِدًا قَالَ:" وَوُضِعَتْ جِنَازَةُ أُمِّ كُلْثُومِ بِنْتِ عَلِيٍّ امْرَأَةِ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمْ وَابْنٍ لَهَا يُقَالُ لَهُ: زَيْدُ بْنُ عُمَرَ وَالْإِمَامُ يَوْمَئِذٍ سَعِيدُ بْنُ الْعَاصِ وَفِي النَّاسِ يَوْمَئِذٍ ابْنُ عَبَّاسٍ، وَأَبُو هُرَيْرَةَ، وَأَبُو سَعِيدٍ، وَأَبُو قَتَادَةَ"، قَالَ:" فَوُضِعَ الْغُلَامُ مِمَّا يَلِي ⦗٥٣⦘ الْإِمَامَ"، قَالَ رَجُلٌ: فَأَنْكَرْتُ ذَلِكَ، فَنَظَرْتُ إِلَى ابْنِ عَبَّاسٍ، وَأَبِي هُرَيْرَةَ، وَأَبِي سَعِيدٍ، وَأَبِي قَتَادَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمْ، فَقُلْتُ: مَا هَذَا؟ قَالُوا: السُّنَّةُ، لَفْظُ حَدِيثِ أَبِي عَبْدِ اللهِ، وَفِي رِوَايَةِ أَبِي زَكَرِيَّا أَنَّ ابْنَ عُمَرَ صَلَّى عَلَى تِسْعِ جَنَائِزَ جَمِيعًا وَقَالَ: فِي أُمِّ كُلْثُومٍ وَابْنِهَا فَوُضِعَا جَمِيعًا، وَالْبَاقِي سَوَاءٌ.
نافع، سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے نقل فرماتے ہیں کہ انہوں نے نو مردوں اور عورتوں کے جنازے پڑھے تو وہ مردوں کو امام کے قریب کرتے اور عورتوں کو ان سے آگے قبلے کی طرف رکھتے اور ان کی ایک ہی صف بنائی اور فرمایا: سیدہ ام کلثوم بنت علی رضی اللہ عنہا جو سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کی بیوی تھیں، ان کا جنازہ اور ان کے بیٹے کا جنازہ رکھا گیا، جسے زید بن عمر کہا جاتا ہے اور اس دن سعید بن عاص امام تھے اور لوگوں میں اس دن سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما، سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ، سیدنا ابوسعید رضی اللہ عنہ اور سیدنا ابوقتادہ رضی اللہ عنہ بھی تھے۔ راوی فرماتے ہیں کہ بچے کو امام کے قریب رکھا گیا، ایک آدمی نے کہا: میں نے اسے ناپسند جانا اور سیدنا ابن عباس، سیدنا ابوہریرہ، سیدنا ابوقتادہ اور سیدنا ابوسعید رضی اللہ عنہم کی طرف دیکھا اور کہا: یہ کیا ہے؟ تو انہوں نے فرمایا: ”یہ سنت ہے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الجنائز/حدیث: 6919]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ نسائي، ابو داؤد»
الحكم على الحديث: صحيح