السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
1430. -- باب: من كره شدة الإسراع بها مخافة انبجاسها
-- باب: اس شخص کے قول کا بیان جس نے میت کے پھٹ جانے کے خوف سے جنازہ لے جانے میں بہت زیادہ تیزی کرنے کو مکروہ قرار دیا ہے
حدیث نمبر: 6851
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ فُورَكٍ، أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا يُونُسُ بْنُ حَبِيبٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا زَائِدَةُ، عَنْ لَيْثٍ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ، عَنْ أَبِي مُوسَى، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى الله عَلَيهِ وَسَلَّمَ مَرَّ عَلَيْهِ بِجِنَازَةٍ وَهُوَ يُسْرِعُ بِهَا وَهِيَ تُمْخَضُ مَخْضَ الزِّقِّ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى الله عَلَيهِ وَسَلَّمَ:" عَلَيْكُمْ بِالْقَصْدِ فِي الْمَشْيِ بِجَنَائِزِكُمْ" وَقَدْ رُوِّينَا عَنْ أَبِي مُوسَى أَنَّهُ أَوْصَى، فَقَالَ: إِذَا انْطَلَقْتُمْ بِجِنَازَتِي فَأَسْرِعُوا بِيَ الْمَشْيَ، وَفِي ذَلِكَ دَلَالَةٌ عَلَى أَنَّ الْمُرَادَ بِمَا رُوِّينَا هَهُنَا إِنْ ثَبَتَ كَرَاهِيَةُ شِدَّةِ الْإِسْرَاعِ.
سیدنا ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سے ایک جنازہ گزرا اور لوگ اسے (تیزی کی وجہ سے) اس طرح حرکت دے رہے تھے جیسے مشکیزے کو ہلایا جاتا ہے، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اپنے جنازوں کے ساتھ چلنے میں میانہ روی کو لازم پکڑو۔“
سیدنا ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ نے وصیت کی کہ جب تم میرے جنازے کے ساتھ چلو تو چلنے میں تیزی اختیار کرنا۔ اس میں یہ دلیل ہے کہ اس روایت سے مراد، اگر یہ ثابت ہو، شدت سے تیز چلنے کی کراہت ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الجنائز/حدیث: 6851]
سیدنا ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ نے وصیت کی کہ جب تم میرے جنازے کے ساتھ چلو تو چلنے میں تیزی اختیار کرنا۔ اس میں یہ دلیل ہے کہ اس روایت سے مراد، اگر یہ ثابت ہو، شدت سے تیز چلنے کی کراہت ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الجنائز/حدیث: 6851]
تخریج الحدیث: «منكر۔ أخرجه الطيالسي»
الحكم على الحديث: منكر
1431. -- باب: الركوب عند الانصراف من الجنازة
-- باب: جنازے سے واپسی پر سواری کرنے کا بیان
حدیث نمبر: 6852
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو عَبْدُ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا عَلِيُّ بْنُ الْحُسَيْنِ، وَمُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ، قَالَا: ثنا أَبُو نُعَيْمٍ الْمُلَائِيُّ، ثنا مَالِكُ بْنُ مِغْوَلٍ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ، أَخْبَرَنِي أَبُو عَمْرٍو، أنبأ الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ثنا وَكِيعٌ، عَنْ مَالِكِ بْنِ مِغْوَلٍ، عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ، قَالَ:" أُتِيَ النَّبِيُّ صَلَّى الله عَلَيهِ وَسَلَّمَ بِفَرَسٍ مُعْرَوْرِيٍّ فَرَكِبَهُ حِينَ انْصَرَفَ مِنْ جِنَازَةِ ابْنِ الدَّحْدَاحِ، وَنَحْنُ نَمْشِي حَوْلَهُ" رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ أَبِي شَيْبَةَ.
سیدنا جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک گھوڑا بغیر زین لایا گیا، جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم جنازے سے پلٹے (ابودحداح رضی اللہ عنہ کے) اور ہم آپ کے اردگرد چل رہے تھے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الجنائز/حدیث: 6852]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ مسلم»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 6853
أَخْبَرَنَا أَبُو صَالِحِ بْنِ أَبِي طَاهِرٍ، أنبأ جَدِّي يَحْيَى بْنُ مَنْصُورٍ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ سَلَمَةَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، ثنا مُحَمَّدٌ يَعْنِي ابْنَ جَعْفَرٍ، ثنا شُعْبَةُ، عَنْ سِمَاكٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ ⦗٣٥⦘ سَمُرَةَ، قَالَ: صَلَّى رَسُولُ اللهِ صَلَّى الله عَلَيهِ وَسَلَّمَ عَلَى ابْنِ الدَّحْدَاحِ، فَأُتِيَ بِفَرَسٍ عُرْيٍ، قَالَ: فَعَقَلَهُ رَجُلٌ، فَرَكِبَهُ فَجَعَلَ يَتَوَقَّصُ بِهِ، وَنَحْنُ نَتَّبِعُهُ نَسْعَى خَلْفَهُ، فَقَالَ رَجُلٌ مِنَ الْقَوْمِ: إِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى الله عَلَيهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" كَمْ مِنْ عِذْقٍ مُدَلًّى لِابْنِ الدَّحْدَاحِ فِي الْجَنَّةِ" رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ بَشَّارٍ.
سیدنا جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ابو دحداح رضی اللہ عنہ کی نمازِ جنازہ پڑھائی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بغیر زین گھوڑا لایا گیا۔ وہ کہتے ہیں: اسے ایک بندے نے باندھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس پر سوار ہو گئے اور وہ تیز چلنے لگا اور ہم اس کے پیچھے پیچھے دوڑ رہے تھے۔ قوم میں سے ایک آدمی نے کہا: بے شک نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ابن دحداح کے لیے جنت میں کھجوروں کے کتنے ہی لٹکتے ہوئے گچھے ہیں“۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الجنائز/حدیث: 6853]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ مسلم»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 6854
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ جَعْفَرٍ الْقَطِيعِيُّ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنِ أَحْمَدَ بْنُ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنِي أَبِي، ثنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أنبأ مَعْمَرٌ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ ثَوْبَانَ: أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى الله عَلَيهِ وَسَلَّمَ شَيَّعَ جِنَازَةً، فَأُتِيَ بِدَابَّةٍ فَأَبَى أَنْ يَرْكَبَهَا، فَلَمَّا انْصَرَفَ أُتِيَ بِدَابَّةٍ فَرَكِبَهَا، فَقِيلَ لَهُ فَقَالَ:" إِنَّ الْمَلَائِكَةَ كَانَتْ تَمْشِي فَلَمْ أَكُنْ لِأَرْكَبُ وَهُمْ يَمْشُونَ فَلَمَّا ذَهَبُوا أَوْ قَالَ عَرَجُوا رَكِبْتُ".
سیدنا ثوبان رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ایک جنازے میں شامل ہوئے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے سواری لائی گئی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس پر سوار ہونے سے انکاری ہوئے۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم جنازے سے فارغ ہو کر جانے لگے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سواری لائی گئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم سوار ہو گئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کے متعلق دریافت کیا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بے شک فرشتے پیدل چل رہے تھے، میں نے سوار ہونا مناسب نہ جانا۔ جب وہ چلے گئے یا کہا: جب وہ اوپر چڑھ گئے تو میں سوار ہو گیا، ان کے پیدل چلتے ہوئے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الجنائز/حدیث: 6854]
تخریج الحدیث: «منكر۔ أخرجه ابو داؤد»
الحكم على الحديث: منكر
حدیث نمبر: 6855
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي، قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا أَبُو عُتْبَةَ، ثنا بَقِيَّةُ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي مَرْيَمَ، حَدَّثَنِي رَاشِدُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ ثَوْبَانَ، مَوْلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى الله عَلَيهِ وَسَلَّمَ: أَنَّهُ خَرَجَ فِي جِنَازَةٍ فَرَأَى نَاسًا خُرُوجًا عَلَى دَوَابِّهِمْ رُكْبَانًا فَقَالَ لَهُمْ ثَوْبَانُ:" أَلَا تَسْتَحْيُونَ؟ مَلَائِكَةُ اللهِ عَلَى أَقْدَامِهِمْ وَأَنْتُمْ رُكْبَانٌ" هَذَا هُوَ الْمَحْفُوظُ بِهَذَا الْإِسْنَادِ مَوْقُوفٌ.
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے غلام ثوبان رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں ایک جنازے میں نکلا، انہوں نے دیکھا کہ لوگ اپنی سواریوں پر نکلے ہیں تو ثوبان رضی اللہ عنہ نے ان سے کہا: کیا تم لوگ حیا نہیں کرتے کہ فرشتے تو اپنے قدموں پر چل رہے ہیں اور تم سواریوں پر نکلے ہو۔
اس سند کے ساتھ یہی محفوظ ہے کہ یہ موقوف ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الجنائز/حدیث: 6855]
اس سند کے ساتھ یہی محفوظ ہے کہ یہ موقوف ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الجنائز/حدیث: 6855]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 6856
وَقَدْ: رَوَاهُ عِيسَى بْنُ يُونُسَ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ أَبِي مَرْيَمَ، عَنْ رَاشِدِ بْنِ سَعْدٍ، عَنْ ثَوْبَانَ قَالَ خَرَجَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى الله عَلَيهِ وَسَلَّمَ فِي جِنَازَةٍ فَرَأَى نَاسًا رُكْبَانًا، فَقَالَ:" أَلَا تَسْتَحْيُونَ؟ إِنَّ مَلَائِكَةَ اللهِ عَلَى أَقْدَامِهِمْ وَأَنْتُمْ عَلَى ظُهُورِ الدَّوَابِّ"، أَخْبَرَنَاهُ أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي، قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا الْعَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدٍ، ثنا الْحَكَمُ بْنُ مُوسَى، ثنا عِيسَى بْنُ يُونُسَ فَذَكَرَهُ، وَكَذَلِكَ رَوَاهُ جَمَاعَةٌ عَنْ عِيسَى، وَرَوَاهُ ثَوْرُ بْنُ يَزِيدَ، عَنْ رَاشِدِ بْنِ سَعْدٍ مَوْقُوفًا، عَنْ ثَوْبَانَ وَفِي ذَلِكَ دَلَالَةٌ عَلَى أَنَّ الْمَوْقُوفَ أَصَحُّ وَكَذَا قَالَهُ الْبُخَارِيُّ.
عیسیٰ بن یونس نے یہ حدیث ابوبکر بن ابی مریم سے، انہوں نے راشد بن سعد سے اور انہوں نے سیدنا ثوبان رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک جنازے میں نکلے تو کچھ لوگوں کو سوار دیکھا، تو فرمایا: ”کیا تم حیا نہیں کرتے؟ اللہ کے فرشتے تو اپنے قدموں پر ہیں اور تم جانوروں کی پشتوں پر ہو۔“
ایک جماعت نے بھی عیسیٰ سے اسی طرح روایت کیا ہے، اور ثور بن یزید نے اسے راشد بن سعد سے ثوبان رضی اللہ عنہ پر موقوف روایت کیا ہے، اور اس میں دلیل ہے کہ موقوف روایت زیادہ صحیح ہے، اور امام بخاری رحمہ اللہ نے بھی یہی کہا ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الجنائز/حدیث: 6856]
ایک جماعت نے بھی عیسیٰ سے اسی طرح روایت کیا ہے، اور ثور بن یزید نے اسے راشد بن سعد سے ثوبان رضی اللہ عنہ پر موقوف روایت کیا ہے، اور اس میں دلیل ہے کہ موقوف روایت زیادہ صحیح ہے، اور امام بخاری رحمہ اللہ نے بھی یہی کہا ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الجنائز/حدیث: 6856]
تخریج الحدیث: «منكر۔ أخرجه ابن ماجه»
الحكم على الحديث: منكر
1432. -- باب: المشي أمام الجنازة
-- باب: جنازے کے آگے چلنے کا بیان
حدیث نمبر: 6857
حَدَّثَنَا أَبُو الْحَسَنِ مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ بْنِ دَاوُدَ الْعَلَوِيُّ رَحِمَهُ اللهُ، أنبأ أَبُو حَامِدِ بْنِ الشَّرْقِيُّ، ثنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنِ بِشْرِ بْنِ الْحَكَمِ، ح وَحَدَّثَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللهِ بْنُ يُوسُفَ الْأَصْبَهَانِيُّ، أنبأ أَبُو سَعِيدِ بْنُ الْأَعْرَابِيِّ، أنبأ الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدٍ الزَّعْفَرَانِيُّ، ح ⦗٣٦⦘ وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ بِشْرَانَ بِبَغْدَادَ، أنبأ إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ، ثنا سَعْدَانُ بْنُ نَصْرٍ، قَالُوا: ثنا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ" رَأَيْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى الله عَلَيهِ وَسَلَّمَ، وَأَبَا بَكْرٍ، وَعُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا يَمْشُونَ أَمَامَ الْجِنَازَةِ".
سالم بن عبداللہ بن عمر اپنے والد عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے نقل فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ، ابوبکر رضی اللہ عنہ اور عمر رضی اللہ عنہ کو دیکھا، وہ سب جنازے کے آگے چلے تھے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الجنائز/حدیث: 6857]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ ترمذي»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 6858
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا عَلِيُّ بْنُ حِمْشَاذٍ الْعَدْلُ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى الْعَامِرِيُّ، ثنا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ جَعْفَرٍ الْمَدِينِيُّ، ثنا سُفْيَانُ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَالِمٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ:" رَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى الله عَلَيهِ وَسَلَّمَ، وَأَبَا بَكْرٍ، وَعُمَرَ يَمْشُونَ أَمَامَ الْجِنَازَةِ" فَقُمْتُ إِلَيْهِ، فَقُلْتُ لَهُ: يَا أَبَا مُحَمَّدٍ إِنَّ مَعْمَرًا، وَابْنَ جُرَيْجٍ يُخَالِفَانِكَ فِي هَذَا، يَعْنِي أَنَّهُمَا يُرْسِلَانِ الْحَدِيثَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى الله عَلَيهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: اسْتَقَرَّ الزُّهْرِيُّ حَدَّثَنِيهِ سَمِعْتُهُ مِنْ فِيهِ يُعِيدُهُ وَيُبْدِيهِ عَنْ سَالِمٍ عَنْ أَبِيهِ، فَقُلْتُ لَهُ: يَا أَبَا مُحَمَّدٍ إِنَّ مَعْمَرًا، وَابْنَ جُرَيْجٍ يَقُولَانِ فِيهِ، وَعُثْمَانُ، قَالَ: فَصَدَّقَهُمَا، فَقَالَ لَعَلَّهُ قَدْ قَالَهُ هُوَ وَلَمْ أَكْتُبْهُ لِذَلِكَ إِنِّي كُنْتُ أَمِيلُ إِذْ ذَاكَ إِلَى الشِّيعَةِ قَالَ الشَّيْخُ: وَقَدِ اخْتُلِفَ عَلَى ابْنِ جُرَيْجٍ، وَمَعْمَرٍ فِي وَصْلِ الْحَدِيثِ فَرُوِيَ عَنْ كُلِّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا الْحَدِيثُ مَوْصُولًا، وَرُوِيَ مُرْسَلًا، وَقَدْ قِيلَ عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنْ زِيَادِ بْنِ سَعْدٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ.
سالم رحمہ اللہ اپنے والد رضی اللہ عنہ سے نقل فرماتے ہیں کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ، ابوبکر رضی اللہ عنہ اور عمر رضی اللہ عنہ کو دیکھا کہ وہ جنازے کے آگے چلتے تھے تو میں ان کی طرف کھڑا ہوا اور کہا: اے ابو محمد! بیشک معمر رحمہ اللہ اور ابن جریج رحمہ اللہ اس میں تیری مخالفت کرتے ہیں کہ وہ حدیث کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے مرسل بیان کرتے ہیں تو انہوں نے فرمایا: زہری رحمہ اللہ نے اسے برقرار رکھا اور میں نے ان کے منہ سے سنا کہ وہ اس کا اعادہ کرتے اور سالم رحمہ اللہ سے روایت کرتے ہیں اور وہ اپنے والد سے۔ میں نے ان سے کہا: اے ابو محمد! معمر رحمہ اللہ اور ابن جریج رحمہ اللہ دونوں اس میں ”اور عثمان“ بھی بیان کرتے ہیں، تو انہوں نے ان دونوں کی تصدیق کی اور کہا: شاید انہوں نے کہا ہو اور میں نے درج نہ کیا ہو، کیونکہ تب میں شیعہ کی طرف میلان رکھتا تھا۔
شیخ (بیہقی) فرماتے ہیں: ابن جریج اور معمر پر اس حدیث کے موصول ہونے میں اختلاف کیا گیا ہے، ان دونوں میں سے ہر ایک سے یہ حدیث موصول بھی روایت کی گئی ہے اور مرسل بھی، اور ابن جریج سے زیاد بن سعد کے واسطے سے زہری سے بھی کہا گیا ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الجنائز/حدیث: 6858]
شیخ (بیہقی) فرماتے ہیں: ابن جریج اور معمر پر اس حدیث کے موصول ہونے میں اختلاف کیا گیا ہے، ان دونوں میں سے ہر ایک سے یہ حدیث موصول بھی روایت کی گئی ہے اور مرسل بھی، اور ابن جریج سے زیاد بن سعد کے واسطے سے زہری سے بھی کہا گیا ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الجنائز/حدیث: 6858]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ ترمذي»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 6859
وَقَدْ أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو ذَرٍّ مُحَمَّدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ حَفَدَةُ أَبِي الْقَاسِمِ الْمُذَكِّرِ، قَالَا: ثنا أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ الشَّيْبَانِيُّ الْحَافِظُ، ثنا عَلِيُّ بْنُ الْحَسَنِ الدَّرَابَجِرْدِيُّ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ يَزِيدَ الْمُقْرِئُ، ثنا هَمَّامٌ، عَنْ سُفْيَانَ يَعْنِي ابْنُ عُيَيْنَةَ، وَمَنْصُورٌ، وَزِيَادٌ، وَبَكْرٌ، كُلُّهُمْ ذَكَرَ أَنَّهُ: سَمِعَ مِنَ الزُّهْرِيِّ، أَنَّ سَالِمًا أَخْبَرَهُ: أَنَّ أَبَاهُ أَخْبَرَهُ أَنَّهُ رَأَى رَسُولَ اللهِ صَلَّى الله عَلَيهِ وَسَلَّمَ، وَأَبَا بَكْرٍ، وَعُمَرَ، وَعُثْمَانَ: يَمْشُونَ بَيْنَ يَدَيِ الْجِنَازَةِ غَيْرَ أَنَّ بَكْرًا لَمْ يَذْكُرْ عُثْمَانَ تَفَرَّدَ بِهِ هَمَّامُ وَهُوَ ثِقَةٌ، وَاخْتُلِفَ فِيهِ عَلَى عَقِيلٍ، وَيُونُسَ بْنِ يَزِيدَ، فَقِيلَ عَنْ كُلِّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا عَنِ الزُّهْرِيِّ، مَوْصُولًا وَقِيلَ مُرْسَلًا وَمَنْ وَصَلَهُ وَاسْتَقَرَّ عَلَى وَصْلِهِ، وَلَمْ يُخْتَلَفْ عَلَيْهِ فِيهِ وَهُوَ سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ حُجَّةٌ ثِقَةٌ وَاللهُ أَعْلَمُ.
امام زہری رحمہ اللہ فرماتے ہیں: سالم اپنے والد سے نقل فرماتے ہیں کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ، سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ اور سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کو دیکھا کہ وہ جنازے کے آگے چل رہے تھے۔
البتہ بکر نے عثمان کا تذکرہ نہیں کیا، اس کو صرف ہمام نے بیان کیا ہے اور وہ ثقہ ہیں، اور اس میں عقیل اور یونس بن یزید کے بارے میں اختلاف کیا گیا ہے، ان دونوں میں سے ہر ایک سے زہری کے واسطے سے موصول بھی کہا گیا ہے اور مرسل بھی، اور جس نے اسے موصول بیان کیا اور اس کے موصول ہونے پر قائم رہا اور اس پر اس میں کوئی اختلاف نہیں کیا گیا، وہ سفیان بن عیینہ ہیں جو حجت اور ثقہ ہیں، واللہ اعلم۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الجنائز/حدیث: 6859]
البتہ بکر نے عثمان کا تذکرہ نہیں کیا، اس کو صرف ہمام نے بیان کیا ہے اور وہ ثقہ ہیں، اور اس میں عقیل اور یونس بن یزید کے بارے میں اختلاف کیا گیا ہے، ان دونوں میں سے ہر ایک سے زہری کے واسطے سے موصول بھی کہا گیا ہے اور مرسل بھی، اور جس نے اسے موصول بیان کیا اور اس کے موصول ہونے پر قائم رہا اور اس پر اس میں کوئی اختلاف نہیں کیا گیا، وہ سفیان بن عیینہ ہیں جو حجت اور ثقہ ہیں، واللہ اعلم۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الجنائز/حدیث: 6859]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ نسائي»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 6860
أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ بِشْرَانَ، أنبأ إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ، ثنا سَعْدَانُ بْنُ نَصْرٍ، ثنا سُفْيَانُ، عَنِ ابْنِ الْمُنْكَدِرِ، عَنْ رَبِيعَةَ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ الْهُدَيْرِ: أَنَّهُ رَأَى عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ يُقَدِّمُ النَّاسَ أَمَامَ جِنَازَةِ زَيْنَبَ بِنْتِ جَحْشٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ.
ربیعہ بن عبداللہ بن ہدیر فرماتے ہیں کہ انہوں نے سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کو دیکھا کہ وہ لوگوں کو سیدہ زینب بنت جحش رضی اللہ عنہا کے جنازے کے آگے کر رہے تھے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الجنائز/حدیث: 6860]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ أخرجه مالك»
الحكم على الحديث: صحيح