السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
1420. -- باب: المرتث والذي يقتل ظلما في غير معترك الكفار والذي يرجع إليه سيفه
-- باب: اس شخص کا بیان جو میدانِ جنگ سے زخمی حالت میں لایا جائے، یا جو کفار کے میدانِ جنگ کے علاوہ کہیں اور ظلماً قتل کر دیا جائے، اور اس شخص کا بیان جس کی تلوار خود اسی کو لگ جائے
حدیث نمبر: 6821
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ، بِبَغْدَادَ أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا يَعْقُوبُ بْنُ سُفْيَانَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ، ثنا إِسْرَائِيلُ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، أَنَّ الْحَسَنَ: صَلَّى عَلَى عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا.
ابواسحاق بیان کرتے ہیں کہ حضرت حسن رضی اللہ عنہ نے علی رضی اللہ عنہ کی نماز جنازہ پڑھی۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الجنائز/حدیث: 6821]
تخریج الحدیث: «حسن لغيرهٖ»
الحكم على الحديث: حسن لغيرهٖ
حدیث نمبر: 6822
وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ، أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا يَعْقُوبُ، ثنا سَعِيدٌ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، أنبأ أَيُّوبُ، عَنِ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ قَالَ: دَخَلْتُ عَلَى أَسْمَاءَ بِنْتِ أَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيقِ بَعْدَ قَتْلِ عَبْدِ اللهِ بْنِ الزُّبَيْرِ، قَالَ: وَجَاءَ كِتَابُ عَبْدِ الْمَلِكِ أَنْ يُدْفَعَ إِلَى أَهْلِهِ، فَأَتَيْتُ بِهِ أَسْمَاءَ: فَغَسَّلَتْهُ وَكَفَّنَتْهُ وَحَنَّطَتْهُ، ثُمَّ دَفَنَتْهُ قَالَ أَيُّوبُ: وَأَحْسِبُهُ قَالَ: فَمَا عَاشَتْ بَعْدَ ذَلِكَ إِلَّا ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ ثُمَّ مَاتَتْ زَادَ غَيْرُهُ فِيهِ وَصَلَّتْ عَلَيْهِ.
ابن ابی ملیکہ رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ میں سیدہ اسماء بنت ابی بکر رضی اللہ عنہا کے پاس سیدنا عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما کے قتل ہونے کے بعد گیا۔ وہ کہتے ہیں: عبدالملک کا خط آیا، اس نے کہا: اس کی میت ان کے اہل کے حوالے کر دو۔ میں اسے لے کر سیدہ اسماء رضی اللہ عنہا کے پاس آیا، انہوں نے اسے غسل دیا، کفن پہنایا اور خوشبو لگائی، پھر دفن کر دیا گیا۔ ایوب رحمہ اللہ کہتے ہیں: میرا خیال ہے کہ راوی نے کہا کہ اس کے بعد وہ صرف تین دن زندہ رہیں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الجنائز/حدیث: 6822]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ أخرجه ابن ابي شيبه»
الحكم على الحديث: صحيح
1421. -- باب: ما ورد في المقتول بسيف أهل البغي
-- باب: باغیوں کی تلوار سے مقتول ہونے والے کے بارے میں وارد شدہ احکام کا بیان
حدیث نمبر: 6823
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا أَبُو الْقَاسِمِ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْهَاشِمِيُّ، بِحَلَبَ، ثنا آدَمُ، ثنا شُعْبَةُ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي خَالِدٍ، قَالَ: سَمِعْتُ قَيْسَ بْنَ أَبِي حَازِمٍ، يَقُولُ: قَالَ عَمَّارٌ:" ادْفِنُونِي فِي ثِيَابِي فَإِنِّي مُخَاصِمٌ".
قیس بن ابی حازم رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ سیدنا عمار رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”مجھے میرے ہی کپڑوں میں دفن کرنا؛ کیونکہ میں (اپنا) مقدمہ پیش کرنے والا ہوں۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الجنائز/حدیث: 6823]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ أخرجه ابن ابي عاصم»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 6824
وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ الْفَضْلِ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا يَعْقُوبُ بْنُ سُفْيَانَ، ثنا أَبُو نُعَيْمٍ، وَقَبِيصَةُ، قَالَا: ثنا سُفْيَانُ، عَنْ مُخَوَّلٍ، عَنِ الْعَيْزَارِ بْنِ حُرَيْثٍ، قَالَ زَيْدُ بْنُ صُوحَانَ:" لَا تَغْسِلُوا عَنِّي دَمًا وَلَا تَنْزِعُوا عَنِّي ثَوْبًا إِلَّا الْخُفَّيْنِ وَأَرْمِسُونِي فِي الْأَرْضِ رَمْسًا، فَإِنِّي رَجُلٌ مُحَاجٌ" زَادَ أَبُو نُعَيْمٍ أُحَاجُّ يَوْمَ الْقِيَامَةِ، كَذَا قَالَ عَمَّارٌ، وَزَيْدُ بْنُ صُوحَانَ.
عیزار بن حریث رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ زید بن صوحان رضی اللہ عنہ نے کہا: میرا خون نہ دھونا اور موزوں کے سوا میرا لباس نہ اتارنا اور مجھے زمین میں دفن کر دینا، بے شک میں (اپنا) مقدمہ پیش کرنے والا آدمی ہوں۔ ابو نعیم کی روایت میں یہ اضافہ ہے: میں قیامت کے دن (اپنا) مقدمہ پیش کروں گا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الجنائز/حدیث: 6824]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ أخرجه عبد الرزاق»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 6825
وَقَدْ أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ بْنِ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ، أنبأ أَبُو سَهْلِ بْنُ زِيَادٍ الْقَطَّانُ، ثنا أَبُو إِسْمَاعِيلَ التِّرْمِذِيُّ، ثنا أَبُو غَسَّانَ، ثنا قَيْسُ بْنُ الرَّبِيعِ، عَنْ أَشْعَثَ أَنَّهُ ⦗٢٧⦘ أَخْبَرَهُمْ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، أَنَّ عَلِيًّا صَلَّى عَلَى عَمَّارِ بْنِ يَاسِرٍ، وَهَاشِمِ بْنِ عُتْبَةَ فَجَعَلَ عَمَّارًا مِمَّا يَلِيهِ وَهَاشِمًا أَمَامَهُ فَلَمَّا أَدْخَلَهُ الْقَبْرَ جَعَلَ عَمَّارًا أَمَامَهُ وَهَاشِمًا مِمَّا يَلِيهِ.
امام شعبی رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ بے شک سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے سیدنا عمار بن یاسر اور ہاشم بن عتبہ رضی اللہ عنہما کی نماز جنازہ پڑھی، عمار کو اپنے پاس رکھا اور ہاشم کو ان سے آگے، سو جب قبر میں اتارا تو پہلے عمار کو اور پھر ہاشم کو اتارا جو ان کے پاس تھا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الجنائز/حدیث: 6825]
تخریج الحدیث: «ضعيف۔ الطبراني في الكبير»
الحكم على الحديث: ضعيف
1422. -- باب: ما ورد في غسل بعض الأعضاء إذا وجد مقتولا في غير معركة الكفار والصلاة عليه
-- باب: کفار کے ساتھ معرکے کے علاوہ کسی اور جگہ مقتول پائے جانے والے کے چند اعضاء کو غسل دینے اور اس پر نماز جنازہ پڑھنے کے بارے میں وارد شدہ احادیث کا بیان
حدیث نمبر: 6826
أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنبأ الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، أنبأ الشَّافِعِيُّ، أنبأ بَعْضُ أَصْحَابِنَا، عَنْ ثَوْرِ بْنِ يَزِيدَ، عَنْ خَالِدِ بْنِ مَعْدَانَ:" أَنَّ أَبَا عُبَيْدَةَ صَلَّى عَلَى رُءُوسٍ" قَالَ الشَّافِعِيُّ:" وَبَلَغَنَا أَنَّ طَائِرًا أَلْقَى يَدًا بِمَكَّةَ فِي وَقْعَةِ الْجَمَلِ فَعَرَفُوهَا بِالْخَاتَمِ فَغَسَّلُوهَا وَصَلَّوْا عَلَيْهَا.
خالد بن معدان بیان کرتے ہیں: ابو عبیدہ بن جراح رضی اللہ عنہ نے (کٹے ہوئے) سروں کی نماز جنازہ ادا کی۔
امام شافعی رحمہ اللہ کہتے ہیں: ہمیں یہ بات پہنچی ہے کہ ایک پرندے نے جنگِ جمل کے موقع پر مکہ میں ایک ہاتھ پھینکا، تو لوگوں نے اس کی انگوٹھی سے اسے پہچانا تو اسے غسل دیا اور جنازہ پڑھا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الجنائز/حدیث: 6826]
امام شافعی رحمہ اللہ کہتے ہیں: ہمیں یہ بات پہنچی ہے کہ ایک پرندے نے جنگِ جمل کے موقع پر مکہ میں ایک ہاتھ پھینکا، تو لوگوں نے اس کی انگوٹھی سے اسے پہچانا تو اسے غسل دیا اور جنازہ پڑھا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الجنائز/حدیث: 6826]
تخریج الحدیث: «ضعيف۔ أخرجه الشافعي»
الحكم على الحديث: ضعيف
1423. -- باب: القوم يصيبهم غرق أو هدم أو حرق فيهم مشركون فصلى عليهم ونوى بالصلاة المسلمين قياسا على ما ثبت في السلام
-- باب: ان لوگوں کا بیان جو ڈوبنے، دبنے یا جلنے کا شکار ہو جائیں اور ان میں مشرکین بھی شامل ہوں تو سلام میں ثابت شدہ حکم پر قیاس کرتے ہوئے ان سب پر نمازِ جنازہ پڑھی جائے گی اور نماز سے مراد صرف مسلمان ہوں گے
حدیث نمبر: 6827
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مِلْحَانَ، ثنا يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ، ثنا اللَّيْثُ، عَنْ عُقَيْلٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ، أَنَّ أُسَامَةَ بْنَ زَيْدٍ أَخْبَرَهُ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى الله عَلَيهِ وَسَلَّمَ: رَكِبَ عَلَى حِمَارٍ عَلَى إِكَافٍ عَلَى قَطِيفَةٍ فَدَكِيَّةٍ، فَأَرْدَفَ أُسَامَةَ بْنَ زَيْدٍ وَرَاءَهُ يَعُودُ سَعْدَ بْنَ عُبَادَةَ قَبْلَ وَقْعَةِ بَدْرٍ، فَسَارَ حَتَّى مَرَّ بِمَجْلِسٍ فِيهِ عَبْدُ اللهِ بْنُ أُبَيِّ بْنِ سَلُولَ، وَذَلِكَ قَبْلَ أَنْ يُسْلِمَ عَبْدُ اللهِ، فَإِذَا فِي الْمَجْلِسِ أَخْلَاطٌ مِنَ الْمُسْلِمِينَ وَالْمُشْرِكِينَ عَبَدَةِ الْأَوْثَانِ وَالْيَهُودِ وَفِي الْمَجْلِسِ عَبْدُ اللهِ بْنُ رَوَاحَةَ، فَلَمَّا ⦗٢٨⦘ غَشِيَتْهُمْ عَجَاجَةُ الدَّابَّةِ خَمَّرَ عَبْدُ اللهِ بْنُ أُبَيٍّ أَنْفَهَ بِرِدَائِهِ، ثُمَّ قَالَ: لَا تُغَيِّرُوا عَلَيْنَا، فَسَلَّمَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى الله عَلَيهِ وَسَلَّمَ عَلَيْهِمْ، وَوَقَفَ فَنَزَلَ فَدَعَاهُمْ إِلَى اللهِ عَزَّ وَجَلَّ، وَقَرَأَ عَلَيْهِمُ الْقُرْآنَ وَذَكَرَ الْحَدِيثَ رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ يَحْيَى بْنِ بُكَيْرٍ، وَأَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ مِنْ وَجْهٍ آخَرَ، عَنِ اللَّيْثِ.
سیدنا اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم گدھے پر سوار ہوئے جس پر «قَطِيفَةٍ فَدَكِيَّةٍ» ”فدک کی مخملی چادر“ تھی اور ان کو اپنے پیچھے بٹھایا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سیدنا سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ کی تیمار داری کے لیے واقعہ بدر سے قبل گئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم چلے یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ایک مجلس سے گزرے، جس میں عبداللہ بن ابی بن سلول بیٹھا تھا، یہ بات اس کے اسلام لانے سے پہلے کی ہے جبکہ اس مجلس میں مسلمان اور مشرک ملے جلے تھے اور بتوں کی پوجا کرنے والے اور یہودی بھی تھے اور اس میں سیدنا عبداللہ بن رواحہ رضی اللہ عنہ بھی تھے۔ جب انہیں گدھے کے اڑائے ہوئے غبار نے ڈھانپا تو عبداللہ بن ابی نے اپنی ناک کو ڈھانپ لیا، پھر اس نے کہا: ہم پر گرد و غبار نہ اڑاؤ، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو سلام کیا اور رک گئے۔ اپنی سواری سے اترے اور انہیں اللہ کی طرف دعوت دی اور قرآن کریم کی تلاوت کی اور پوری حدیث بیان کی۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الجنائز/حدیث: 6827]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ أخرجه البخاري»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 6828
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ، بِبَغْدَادَ، أنبأ إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ مَنْصُورٍ، ثنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أنبأ مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ، أَنَّ أُسَامَةَ بْنَ زَيْدٍ، أَخْبَرَهُ: أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى الله عَلَيهِ وَسَلَّمَ: مَرَّ بِمَجْلِسٍ فِيهِ أَخْلَاطٌ مِنَ الْمُسْلِمِينَ وَالْيَهُودِ، وَالْمُشْرِكِينَ عَبَدَةِ الْأَوْثَانِ فَسَلَّمَ عَلَيْهِمْ رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ عَبْدِ بْنِ حُمَيْدٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ.
سیدنا اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ایک مجلس کے پاس سے گزرے، جس میں مسلم، مشرک، یہودی اور بتوں کی پوجا کرنے والے تھے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں سلام کہا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الجنائز/حدیث: 6828]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ البخاري»
الحكم على الحديث: صحيح
1424. -- باب: الصلاة على من قتلته الحدود
-- باب: اس شخص پر نماز جنازہ پڑھنے کا بیان جو حدود کے نفاذ کی وجہ سے قتل کیا گیا ہو
حدیث نمبر: 6829
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ فُورَكٍ، أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا يُونُسُ بْنُ حَبِيبٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا هِشَامٌ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، أَنَّ أَبَا قِلَابَةَ حَدَّثَهُ، عَنْ أَبِي الْمُهَلَّبِ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ، أَنَّ امْرَأَةً مِنْ جُهَيْنَةَ أَتَتِ النَّبِيَّ صَلَّى الله عَلَيهِ وَسَلَّمَ وَهِيَ حُبْلَى مِنَ الزِّنَا فَأَمَرَ صَلَّى الله عَلَيهِ وَسَلَّمَ وَلِيَّهَا أَنْ يُحْسِنَ إِلَيْهَا فَإِذَا وَضَعَتْ حَمْلَهَا، فَأْتِنِي بِهَا، فَفَعَلَ فَأَمَرَ بِهَا فَشُكَّتْ عَلَيْهَا ثِيَابُهَا، ثُمَّ أَمَرَ بِهَا فَرُجِمَتْ، ثُمَّ صَلَّى عَلَيْهَا، فَقَالَ لَهُ عُمَرُ: يَا رَسُولَ اللهِ أَتُصَلِّي عَلَيْهَا وَقَدْ زَنَتْ؟ فَقَالَ:" لَقَدْ تَابَتْ تَوْبَةً لَوْ قُسِمَتْ بَيْنَ أَهْلِ الْمَدِينَةِ لَوَسِعَتْهُمْ، وَهَلْ وَجَدْتَ شَيْئًا أَفْضَلَ مِنْ أَنْ جَادَتْ بِنَفْسِهَا" أَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ مِنْ حَدِيثِ هِشَامٍ الدَّسْتُوَائِيِّ..
سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ قبیلہ جہینہ کی ایک عورت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئی اور وہ زنا سے حاملہ تھی، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے سرپرستوں کو اس کے ساتھ حسنِ سلوک کا حکم دیا اور فرمایا: ”جب وہ وضع حمل کر لے تو اسے میرے پاس لاؤ۔“ تو انہوں نے ایسا ہی کیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا اور اس کے کپڑوں کو اس پر باندھ دیا گیا، پھر اسے رجم کرنے کا حکم دیا گیا اور وہ رجم کر دی گئی۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کا جنازہ پڑھا تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! کیا آپ اس کا جنازہ پڑھیں گے، حالانکہ اس نے زنا کیا ہے! تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس نے ایسی توبہ کی ہے کہ اگر اسے اہل مدینہ پر تقسیم کر دیا جائے تو وہ ان پر وافر ہو جائے، کیا تو نے کوئی چیز اس سے بہتر پائی ہے، یعنی توبہ میں اس نے اپنی جان قربان کر دی ہے؟“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الجنائز/حدیث: 6829]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ أخرجه مسلم»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 6830
وَرُوِّينَا فِي حَدِيثِ عَبْدِ اللهِ بْنِ بُرَيْدَةَ، عَنْ أَبِيهِ فِي قِصَّةِ الْغَامِدِيَّةِ الَّتِي رُجِمَتْ فِي الزِّنَا، قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى الله عَلَيهِ وَسَلَّمَ:" فَوَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَقَدْ تَابَتْ تَوْبَةً لَوْ تَابَهَا صَاحِبُ مَكْسٍ لَغُفِرَ لَهُ، ثُمَّ أَمَرَ بِهَا فَصَلَّى عَلَيْهَا وَدُفِنَتْ" أَخْبَرَنَاهُ أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنِي أَبُو النَّضْرِ الْفَقِيهُ، ثنا مُعَاذُ بْنُ نَجْدَةَ، ثنا خَلَّادُ بْنُ يَحْيَى، ثنا بَشِيرُ بْنُ مُهَاجِرٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ بُرَيْدَةَ، عَنْ أَبِيهِ، فَذَكَرَ مَعْنَاهُ أَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ مِنْ حَدِيثِ بَشِيرٍ.
سیدنا عبداللہ بن بریدہ اپنے باپ رضی اللہ عنہما سے بیان کرتے ہیں، اس غامدیہ کے قصے میں جسے زنا کی حد میں رجم کیا گیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”مجھے قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے، اس عورت نے ایسی توبہ کی ہے کہ اگر اس توبہ کو ناجائز ٹیکس لینے والوں پر تقسیم کیا جاتا تو انہیں بھی معاف کر دیا جاتا۔“ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا، اس کا جنازہ پڑھا گیا اور دفن کر دیا گیا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الجنائز/حدیث: 6830]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ مسلم»
الحكم على الحديث: صحيح