السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
1602. -- باب: كراهية ابتياع ما تصدق به من يدي من تصدق عليه.
-- باب: جس شخص کو صدقہ دیا گیا ہو، اسی کے ہاتھ سے اپنا صدقہ کیا ہوا مال خریدنے کی کراہت کا بیان۔
حدیث نمبر: 7633
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِسْحَاقَ الْقَاضِي، وَإِبْرَاهِيمُ بْنُ عَبْدِ اللهِ، قَالَا: ثنا الْقَعْنَبِيُّ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَاللَّفْظُ لَهُ قَالَ: أَخْبَرَنِي أَبُو الْحَسَنِ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدُوسٍ ثنا عُثْمَانُ بْنُ سَعِيدٍ الدَّارِمِيُّ، ثنا الْقَعْنَبِيُّ، فِيمَا قَرَأَ عَلَى مَالِكٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنْ أَبِيهِ أَنَّهُ قَالَ: سَمِعْتُ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ يَقُولُ: حَمَلْتُ عَلَى فَرَسٍ عَتِيقٍ فِي سَبِيلِ اللهِ فَأَضَاعَهُ صَاحِبُهُ الَّذِي كَانَ عِنْدَهُ فَأَرَدْتُ أَنْ أَشْتَرِيَهُ مِنْهُ وَظَنَنْتُ أَنَّهُ بَائِعُهُ بِرُخْصٍ فَسَأَلْتُ عَنْ ذَلِكَ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ:" لَا تَشْتَرِهِ وَإِنْ أَعْطَاكَ بِدِرْهَمٍ وَاحِدٍ فَإِنَّ الْعَائِدَ فِي صَدَقَتِهِ كَالْكَلْبِ يَعُودُ فِي قَيْئِهِ". رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنِ الْقَعْنَبِيِّ، وَأَخْرَجَهُ الْبُخَارِيِّ عَنْ جَمَاعَةٍ عَنْ مَالِكٍ.
حضرت زید بن اسلم اپنے والد سے نقل فرماتے ہیں کہ میں نے عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے سنا: میں نے ایک عمدہ گھوڑا اللہ کی راہ میں دیا تو اسے اس کے مالک نے بیکار کر دیا، میں نے چاہا کہ اسے اس سے خرید لوں اور میرا خیال تھا کہ وہ مجھے کم قیمت میں مل جائے گا، تو میں نے اس کے متعلق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر وہ ایک درہم کا بھی دے تو اس سے نہ خرید، کیونکہ صدقے میں لوٹنے والا کتے کی مانند ہے جو اپنی قے چاٹتا ہے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الزكاة/حدیث: 7633]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ أخرجه البخاري»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 7634
أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مِلْحَانَ، ثنا يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ، ثنا اللَّيْثُ، حَدَّثَنِي عُقَيْلٌ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللهِ، أَنَّ عَبْدَ اللهِ بْنَ عُمَرَ، كَانَ يُحَدِّثُ، أَنَّ عُمَرَ تَصَدَّقَ بِفَرَسٍ فِي سَبِيلِ اللهِ فَوَجَدَهُ يُبَاعُ بَعْدَ ذَلِكَ فَأَرَادَ أَنْ يَشْتَرِيَهُ ثُمَّ أَتَى رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَاسْتَأْمَرَهُ فِي ذَلِكَ فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَا تَعُدْ فِي صَدَقَتِكَ". فَبِذَلِكَ كَانَ ابْنُ عُمَرَ يَتْرُكُ أَنْ يَبْتَاعَ شَيْئًا تَصَدَّقَ بِهِ أَوْ بَرَّ بِهِ إِلَّا جَعَلَهُ صَدَقَةً. رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنِ ابْنِ بُكَيْرٍ وَأَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ مِنْ حَدِيثِ مَعْمَرٍ عَنِ ابْنِ شِهَابٍ.
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے ایک گھوڑا اللہ کی راہ میں صدقہ کیا، پھر انہوں نے دیکھا کہ اسے فروخت کیا جا رہا ہے تو انہوں نے اسے خریدنے کا ارادہ کیا، چنانچہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے مشورہ کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اپنے صدقے میں نہ پلٹ۔“ اسی وجہ سے ابن عمر رضی اللہ عنہما اسے نہیں خریدتے تھے جسے صدقہ میں دے دیتے تھے یا اس سے نیکی کا حصول مقصود ہوتا تو اسے صدقہ کر دیتے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الزكاة/حدیث: 7634]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ البخاري»
الحكم على الحديث: صحيح
1603. -- باب: من قال يجوز الابتياع مع الكراهية وأنه يجوز أن يملك ما خرج من يديه بما يحل به الملك
-- باب: ان کا بیان جنھوں نے کہا کہ ”کراہت کے ساتھ اسے خریدنا جائز ہے، اور جو مال اس کے ہاتھ سے نکل چکا ہو، جائز اسبابِ ملکیت کے ذریعے اس کا دوبارہ مالک بننا بھی جائز ہے“۔
حدیث نمبر: 7635
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ بْنُ دَاوُدَ الْعَلَوِيُّ أنبأ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْحَسَنِ الْحَافِظُ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ بِشْرٍ، ثنا مَرْوَانُ بْنُ مُعَاوِيَةَ، حَدَّثَنِي عَبْدُ اللهِ بْنُ عَطَاءٍ الْمَدَنِيُّ، حَدَّثَنِي عَبْدُ اللهِ بْنُ بُرَيْدَةَ الْأَسْلَمِيُّ، عَنْ أَبِيهِ قَالَ: كُنْتُ عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَتَتْهُ امْرَأَةٌ فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللهِ، إِنِّي كُنْتُ تَصَدَّقْتُ بِوَلِيدَةٍ عَلَى أُمِّي فَمَاتَتْ أُمِّي وَبَقِيَتِ الْوَلِيدَةُ. قَالَ:" قَدْ وَجَبَ أَجْرُكِ وَرَجَعَتْ إِلَيْكِ فِي الْمِيرَاثِ". قَالَتْ: فَإِنَّهَا مَاتَتْ وَعَلَيْهَا ⦗٢٥٦⦘ صَوْمُ شَهْرٍ قَالَ:" صُوْمِي عَنْ أُمِّكِ" قَالَتْ: وَإِنَّهَا مَاتَتْ وَلَمْ تَحُجَّ قَالَ:" فَحُجِّي عَنْ أُمُّكِ". أَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ مِنْ أَوْجُهٍ عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَطَاءٍ.
سیدنا عبداللہ بن بریدہ اسلمی رحمہ اللہ اپنے والد (سیدنا بریدہ رضی اللہ عنہ) سے نقل فرماتے ہیں کہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس تھا، ایک عورت آئی اور کہنے لگی: اے اللہ کے رسول! میں نے ایک باندی اپنی ماں کو صدقہ میں دی، میری ماں فوت ہو گئی اور وہ باندی باقی رہ گئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تیرا اجر ثابت ہو چکا اور وہ باندی میراث میں تیری طرف پلٹ آئی۔“ پھر اس نے کہا: وہ فوت ہو چکی ہے اور اس کے ذمے ایک ماہ کے روزے تھے! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اپنی ماں کی طرف سے روزے رکھ۔“ پھر اس نے کہا کہ انہوں نے حج بھی نہیں کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اپنی ماں کی طرف سے حج کر۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الزكاة/حدیث: 7635]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ أخرجه مسلم»
الحكم على الحديث: صحيح
1604. -- باب: زكاة المعدن ومن قال: المعدن ليس بركاز
-- باب: کان (معدن) کی زکوٰۃ، اور ان کا بیان جنھوں نے کہا کہ ”کان رکاز (دفون خزانہ) نہیں ہے“۔
حدیث نمبر: Q7636
لِقَوْلِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" الْمَعْدِنُ جُبَارٌ وَفِي الرِّكَازِ الْخُمُسُ" فَفَصَلَ بَيْنَهُمَا فِي الذِّكْرِ وَأَضَافَ الْخُمُسَ إِلَى الرِّكَازِ..
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اس فرمان کی وجہ سے: ”کان (میں گر کر مرنے والے کا خون) رائیگاں ہے، اور رکاز (دبے ہوئے خزانے) میں پانچواں حصہ (خمس) ہے۔“
پس آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ذکر میں ان دونوں کے درمیان فرق بیان کیا ہے اور خمس (پانچویں حصے) کو رکاز کی طرف منسوب کیا ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الزكاة/حدیث: Q7636]
پس آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ذکر میں ان دونوں کے درمیان فرق بیان کیا ہے اور خمس (پانچویں حصے) کو رکاز کی طرف منسوب کیا ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الزكاة/حدیث: Q7636]
حدیث نمبر: 7636
أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنبأ الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، أنبأ الشَّافِعِيُّ، أنبأ مَالِكٌ، عَنْ رَبِيعَةَ بْنِ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ غَيْرِ وَاحِدٍ مِنْ عُلَمَائِهِمْ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَطَعَ لِبِلَالِ بْنِ الْحَارِثِ الْمُزَنِيِّ مَعَادِنَ الْقَبَلِيَّةِ وَهِيَ مِنْ نَاحِيَةِ الْفَرْعِ فَتِلْكَ الْمَعَادِنُ لَا يُؤْخَذُ مِنْهَا إِلَّا الزَّكَاةُ إِلَى الْيَوْمِ. قَالَ الشَّافِعِيُّ لَيْسَ هَذَا مِمَّا يُثْبِتُ أَهْلُ الْحَدِيثِ، وَلَوْ ثَبَتُوهُ لَمْ تَكُنْ فِيهِ رِوَايَةٌ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَّا إِقْطَاعَهُ فَأَمَّا الزَّكَاةُ فِي الْمَعَادِنِ دُونَ الْخُمُسِ فَلَيْسَتْ مَرْوِيَّةً عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِيهِ. قَالَ الشَّيْخُ: هُوَ كَمَا قَالَ الشَّافِعِيُّ فِي رِوَايَةِ مَالِكٍ، وَقَدْ رُوِيَ عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ الدَّرَاوَرْدِيِّ عَنْ رَبِيعَةَ مَوْصُولًا.
ربیعہ بن ابوعبدالرحمن رحمہ اللہ اپنے کئی علماء سے نقل فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بلال بن حارث مزنی رضی اللہ عنہ کو قبلیہ کی کانیں جاگیر میں دیں اور وہ فرع کی جانب تھیں، ان معادن (کانوں) سے آج تک صرف زکوۃ ہی لی جاتی ہے۔
امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: یہ ان روایات میں سے نہیں جنہیں اہل حدیث ثابت مانتے ہیں، اور اگر وہ اسے ثابت مان بھی لیں تو اس میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سوائے جاگیر دینے کے کوئی روایت نہیں، رہی کان میں خمس کے بجائے زکوۃ تو وہ اس بارے میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول نہیں۔ شیخ رحمہ اللہ فرماتے ہیں: امام مالک کی روایت کے بارے میں بات وہی ہے جو امام شافعی رحمہ اللہ نے کہی، اور یہ عبدالعزیز دراوردی کے واسطے سے ربیعہ سے موصولاً بھی روایت کی گئی ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الزكاة/حدیث: 7636]
امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: یہ ان روایات میں سے نہیں جنہیں اہل حدیث ثابت مانتے ہیں، اور اگر وہ اسے ثابت مان بھی لیں تو اس میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سوائے جاگیر دینے کے کوئی روایت نہیں، رہی کان میں خمس کے بجائے زکوۃ تو وہ اس بارے میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول نہیں۔ شیخ رحمہ اللہ فرماتے ہیں: امام مالک کی روایت کے بارے میں بات وہی ہے جو امام شافعی رحمہ اللہ نے کہی، اور یہ عبدالعزیز دراوردی کے واسطے سے ربیعہ سے موصولاً بھی روایت کی گئی ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الزكاة/حدیث: 7636]
تخریج الحدیث: «ضعيف۔ أخرجه ابو داؤد»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 7637
أَخْبَرَنَاهُ أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ صَالِحِ بْنِ هَانِئٍ، ثنا الْفَضْلُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ، ثنا نُعَيْمُ بْنُ حَمَّادٍ، ثنا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنْ رَبِيعَةَ بْنِ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنِ الْحَارِثِ بْنِ بِلَالِ بْنِ الْحَارِثِ، عَنْ أَبِيهِ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَخَذَ مِنَ الْمَعَادِنِ الْقَبَلِيَّةِ الصَّدَقَةَ وَأَنَّهُ أَقْطَعَ بِلَالَ بْنَ الْحَارِثَ الْعَقِيقَ أَجْمَعَ، فَلَمَّا كَانَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ لِبِلَالٍ: إِنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمْ يَقْطَعْكَ إِلَّا لِتَعْمَلَ قَالَ: فَأَقْطَعَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ لِلنَّاسِ الْعَقِيقَ.
حارث بن بلال بن حارث رضی اللہ عنہ اپنے والد سے نقل فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے قبلیہ کی کانوں سے زکوۃ وصول کی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بلال بن حارث رضی اللہ عنہ کو عقیق کا علاقہ دیا۔ جب عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے بلال رضی اللہ عنہ سے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے صرف کام کرنے کے لیے تجھے یہ قطعہ دیا تھا۔ پھر عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے عقیق کا قطعہ لوگوں میں تقسیم کر دیا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الزكاة/حدیث: 7637]
تخریج الحدیث: «ضعيف۔ تقدم قبله»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 7638
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَارِثِ، أنبأ أَبُو مُحَمَّدِ بْنُ حَيَّانَ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ ⦗٢٥٧⦘ الْحَسَنِ، ثنا أَبُو عَامِرٍ، ثنا الْوَلِيدُ، ثنا سَعِيدٌ، عَنْ قَتَادَةَ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ عَبْدِ الْعَزِيزِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ جَعَلَ الْمَعْدِنَ بِمَنْزِلَةِ الرِّكَازِ يُؤْخَذُ مِنْهُ الْخُمُسُ ثُمَّ عَقَّبَ بِكِتَابٍ آخَرَ فَجَعَلَ فِيهِ الزَّكَاةَ. وَرُوِّينَا عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ أَنَّ عُمَرَ بْنَ عَبْدِ الْعَزِيزِ أَخَذَ مِنَ الْمَعَادِنِ مِنْ كُلِّ مِائَتَيْ دِرْهَمٍ خَمْسَةَ دَرَاهِمَ وَعَنْ أَبِي الزِّنَادِ قَالَ: جَعَلَ عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ فِي الْمَعَادِنِ أَرْبَاعَ الْعُشُورِ إِلَّا أَنْ تَكُونَ رِكْزَةً فَإِذَا كَانَتْ رِكْزَةً فَفِيهَا الْخُمُسُ.
قتادہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ نے معدن کو رکاز کا درجہ دیا۔ اس لیے ان سے خمس لیا جاتا تھا، پھر دوسری تحریر پیچھے روانہ کی اور اس میں زکاۃ مقرر کر دی۔
عبداللہ بن ابوبکر رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ نے کان سے ہر دو سو درہم میں پانچ درہم وصول کیے۔ ابوزناد رحمہ اللہ نے کہا کہ عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ نے کان میں چوتھائی عشر مقرر کیا، اگر وہ مدفون خزانہ نہ ہو اور اگر وہ مدفون خزانہ ہو تو اس میں خمس ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الزكاة/حدیث: 7638]
عبداللہ بن ابوبکر رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ نے کان سے ہر دو سو درہم میں پانچ درہم وصول کیے۔ ابوزناد رحمہ اللہ نے کہا کہ عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ نے کان میں چوتھائی عشر مقرر کیا، اگر وہ مدفون خزانہ نہ ہو اور اگر وہ مدفون خزانہ ہو تو اس میں خمس ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الزكاة/حدیث: 7638]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
1605. -- باب: من قال: المعدن ركاز فيه الخمس.
-- باب: ان ائمہ کا بیان جنھوں نے کہا کہ ”کان رکاز ہے، جس میں خمس (پانچواں حصہ) واجب ہے“۔
حدیث نمبر: 7639
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ أنبأ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ، ثنا عَلِيُّ بْنُ الصَّقْرِ، ثنا دَاوُدُ بْنُ عَمْرٍو، ثنا حَبَّانُ بْنُ عَلِيٍّ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" الرِّكَازُ الذَّهَبُ الَّذِي يُنْبِتُ فِي الْأَرْضِ".
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” «الرِّكَازُ» یہ وہ سونا ہوتا ہے جو زمین سے نکلتا ہے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الزكاة/حدیث: 7639]
تخریج الحدیث: «منكر۔ أخرجه ابو يعليٰ»
الحكم على الحديث: منكر
حدیث نمبر: 7640
وَرَوَاهُ أَبُو يُوسُفَ عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" فِي الرِّكَازِ الْخُمُسُ"، قِيلَ: وَمَا الرِّكَازُ يَا رَسُولَ اللهِ؟ قَالَ:" الذَّهَبُ وَالْفِضَّةُ الَّذِي خَلَقَهُ اللهُ فِي الْأَرْضِ يَوْمَ خُلِقَتْ"، حَدَّثَنَاهُ أَبُو سَعْدٍ الزَّاهِدُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ بْنُ مِيكَالٍ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْفَقِيهُ بِفَارِسَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ، ثنا بِشْرُ بْنُ الْوَلِيدِ الْكِنْدِيُّ، ثنا أَبُو يُوسُفَ فَذَكَرَهُ، تَفَرَّدَ بِهِ عَبْدُ اللهِ بْنُ سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيُّ وَهُوَ ضَعِيفٌ جِدًّا جَرَّحَهُ أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ وَيَحْيَى بْنُ مَعِينٍ وَجَمَاعَةٌ مِنْ أَئِمَّةِ الْحَدِيثِ. وَقَالَ الشَّافِعِيُّ فِي رِوَايَةِ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ الشَّافِعِيِّ الْبَغْدَادِيِّ عَنْهُ: قَدْ رَوَى أَبُو سَلَمَةَ وَسَعِيدٌ وَابْنُ سِيرِينَ وَمُحَمَّدُ بْنُ زِيَادٍ وَغَيْرُهُمْ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ حَدِيثَهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الرِّكَازِ الْخُمُسُ لَمْ يَذْكُرَ أَحَدٌ مِنْهُمْ شَيْئًا مِنَ الَّذِي ذَكَرَ الْمَقْبُرِيُّ فِي حَدِيثِهِ وَالَّذِي رَوَى ذَلِكَ شَيْخٌ ضَعِيفٌ إِنَّمَا رَوَاهُ عَبْدُ اللهِ بْنُ سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيُّ، وَعَبْدُ اللهِ قَدِ اتَّقَى النَّاسُ حَدِيثَهُ فَلَا يَجْعَلُ خَبَرَ رَجُلٍ قَدِ اتَّقَى النَّاسُ حَدِيثَهُ حُجَّةً.
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”رکاز میں خمس ہے۔“ کہا گیا کہ رکاز کیا ہے؟ اے اللہ کے رسول! تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وہ چاندی سونا جسے زمین میں اللہ تعالیٰ نے پیدا کیا، جب زمین پیدا کی گئی تھی۔“ [منکر تقدم قبلہ۔]
اسے صرف عبداللہ بن سعید مقبری نے روایت کیا ہے اور وہ سخت ضعیف ہے، احمد بن حنبل، یحییٰ بن معین اور ائمہ حدیث کی ایک جماعت نے اس پر جرح کی ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الزكاة/حدیث: 7640]
اسے صرف عبداللہ بن سعید مقبری نے روایت کیا ہے اور وہ سخت ضعیف ہے، احمد بن حنبل، یحییٰ بن معین اور ائمہ حدیث کی ایک جماعت نے اس پر جرح کی ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الزكاة/حدیث: 7640]
حدیث نمبر: 7641
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي، وَأَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ الْمُزَكِّي قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَبْدِ الْحَكَمِ، أنبأ ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ، وَهِشَامُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ، أَنَّ رَجُلًا مِنْ مُزَيْنَةَ أَتَى رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ، ⦗٢٥٨⦘ كَيْفَ تَرَى فِي حَرِيسَةِ الْجَبَلِ؟ قَالَ:" هِيَ وَمِثْلُهَا وَالنَّكَالُ لَيْسَ فِي شَيْءٍ مِنَ الْمَاشِيَةِ قَطْعٌ، إِلَّا فِيمَا آوَاهُ الْمُرَاحُ وَبَلَغَ ثَمَنَ الْمِجَنِّ فَفِيهِ قَطْعُ الْيَدِ وَمَا لَمْ يَبْلُغْ ثَمَنَ الْمِجَنِّ فَفِيهِ غَرَامَةُ مِثْلَيْهِ وَجَلَدَاتُ نَكَالٍ" قَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ، فَكَيْفَ تَرَى فِي الثَّمَرِ الْمُعَلَّقِ؟ قَالَ:" هُوَ وَمِثْلُهُ مَعَهُ وَالنَّكَالُ وَلَيْسَ فِي شَيْءٍ مِنَ الثَّمَرِ الْمُعَلَّقِ قَطْعٌ إِلَّا مَا آوَاهُ الْجَرِينُ، فَمَا أَخَذَ مِنَ الْجَرِينِ فَبَلَغَ ثَمَنَ الْمِجَنِّ فَفِيهِ الْقَطْعُ وَمَا لَمْ يَبْلُغْ ثَمَنَ الْمِجَنِّ فَفِيهِ غَرَامَةُ مِثْلَيْهِ وَجَلَدَاتُ نَكَالٍ". قَالَ: فَكَيْفَ تَرَى فِيمَا يُؤْخَذُ فِي الطَّرِيقِ الْمِئْتَاءِ أَوِ الْقَرْيَةِ الْمَسْكُونَةِ؟ قَالَ:" عَرِّفْهُ سَنَةً فَإِنْ جَاءَ بَاغِيهِ فَادْفَعْهُ إِلَيْهِ وَإِلَّا فَشَأْنَكَ بِهِ، فَإِنْ جَاءَ طَالِبُهُ يَوْمًا مِنَ الدَّهْرِ فَأَدِّهِ إِلَيْهِ فَمَا كَانَ فِي الطَّرِيقِ غَيْرِ الْمِئْتَاءِ وَفِي الْقَرْيَةِ غَيْرِ الْمَسْكُونَةِ فَفِيهِ وَفِي الرِّكَازِ الْخُمُسُ". قَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ: فَكَيْفَ تَرَى فِي ضَالَّةِ الْغَنَمِ؟ قَالَ:" طَعَامٌ مُأْكُولٌ لَكَ أَوْ لِأَخِيكَ أَوْ لِلذِّئْبِ احْبِسْ عَلَى أَخِيكَ ضَالَّتَهُ". قَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ فَكَيْفَ تَرَى فِي ضَالَّةِ الْإِبِلِ فَقَالَ:" مَا لَكَ وَلَهَا مَعَهَا سِقَاؤُهَا وَحِذَاؤُهَا وَلَا يُخَافُ عَلَيْهَا الذِّئْبَ تَأْكُلُ الْكَلَأَ وَتَرِدُ الْمَاءَ دَعْهَا حَتَّى يَأْتِيَ طَالِبُهَا" مَنْ قَالَ بِالْأَوَّلِ أَجَابَ عَنْ هَذَا بِأَنَّ هَذَا الْخَبَرَ وَرَدَ فِيمَا يُوجَدُ مِنْ أَمْوَالِ الْجَاهِلِيَّةِ ظَاهِرًا فَوْقَ الْأَرْضِ فِي الطَّرِيقِ غَيْرِ الْمِئْتَاءِ وَفِي الْقَرْيَةِ غَيْرِ الْمَسْكُونَةِ فَيَكُونُ فِيهِ وَفِي الرِّكَازِ الْخُمُسُ وَلَيْسَ ذَلِكَ مِنَ الْمَعْدِنِ بِسَبِيلٍ وَذَكَرَ الشَّافِعِيُّ فِي رِوَايَةِ الزَّعْفَرَانِيِّ عَنْهُ اعْتِلَالَهُمْ بِالْحَدِيثِ الْأَوَّلِ ثُمَّ قَالَ: هُوَ عِنْدَ أَهْلِ الْحَدِيثِ ضَعِيفٌ وَذَكَرَ اعْتِلَالَهُمْ بِحَدِيثِ هِشَامِ بْنِ سَعْدٍ عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ هَذَا ثُمَّ قَالَ: إِنْ كَانَ حَدِيثُ عَمْرٍو يَكُونُ حُجَّةً، فَالَّذِي رَوَى حُجَّةٌ عَلَيْهِ فِي غَيْرِ حُكْمٍ وَإِنْ كَانَ حَدِيثُ عَمْرٍو غَيْرَ حُجَّةٍ فَالْحُجَّةُ بِغَيْرِ حُجَّةٍ جَهْلٌ، ثُمَّ ذَكَرَ مُخَالَفَتَهُمُ الْحَدِيثَ فِي الْغَرَامَةِ وَفِي التَّمْرِ الرُّطَبِ إِذَا آوَاهُ الْجَرِينُ وَفِي اللُّقَطَةِ ثُمَّ قَالَ: فَخَالَفَ حَدِيثَ عَمْرٍو الَّذِي رَوَاهُ فِي أَحْكَامٍ غَيْرِ وَاحِدَةٍ فِيهِ وَاحْتَجَّ مِنْهُ بِشَيْءٍ وَاحِدٍ إِنَّمَا هُوَ تَوَهُّمٌ فِي الْحَدِيثِ فَإِنْ كَانَ حُجَّةً فِي شَيْءٍ فَلْيَقُلْ بِهِ فِيمَا تَرَكَهُ فِيهِ، قَالَ الشَّيْخُ: قَوْلُهُ إِنَّمَا هُوَ تَوَهُّمٌ فِي الْحَدِيثِ إِشَارَةٌ إِلَى مَا ذَكَرْنَا مِنْ أَنَّهُ لَيْسَ بِوَارِدٍ فِي الْمَعْدِنِ إِنَّمَا هُوَ فِي مَا هُوَ فِي مَعْنَى الرِّكَازِ مِنْ أَمْوَالِ الْجَاهِلِيَّةِ وَاللهُ أَعْلَمُ.
عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ مزینہ قبیلے کا ایک آدمی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور کہا: اے اللہ کے رسول! آپ صلی اللہ علیہ وسلم پہاڑ کی چراگاہ سے چرائے گئے جانور کے بارے میں کیا فرماتے ہیں؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”(چور پر) وہ اور اس جیسا ایک اور (بطور چٹی) ہے اور عبرتناک سزا ہے، مویشیوں میں سے کسی چیز میں ہاتھ کاٹنا نہیں مگر جسے باڑے نے پناہ دی ہو، پھر اگر وہ ڈھال کی قیمت کو پہنچ جائے تو اس میں ہاتھ کاٹا جائے گا، اور جو ڈھال کی قیمت کو نہ پہنچے تو اس میں دوگنا چٹی اور عبرتناک کوڑے ہیں۔“ اس نے کہا: اے اللہ کے رسول! آپ صلی اللہ علیہ وسلم لٹکنے والے پھلوں کے بارے میں کیا کہتے ہیں؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وہ اور اس کی مثل اس کے ساتھ ہے (اتنی مقدار بھی لی جائے گی اور کوڑے بھی) اور عبرتناک سزا ہے، لٹکتے پھلوں میں ہاتھ کا کاٹنا نہیں ہے مگر جسے کھلیان نے پناہ دی ہو، سو جو کھلیان سے لیا جائے اور ڈھال کی قیمت کو پہنچ جائے تو پھر اس میں قطع ید ہے اور جب تک ڈھال کی قیمت کو نہ پہنچے، اس میں دوگنا چٹی ہے اور عبرتناک کوڑے ہیں۔“ پھر اس نے کہا: آپ کیا فرماتے ہیں اس چیز کے بارے میں جو آباد رستے سے ملے یا آباد بستی سے ملے؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ایک سال اس کا اعلان کر، اگر اسے تلاش کرنے والا آجائے تو اسے لوٹا دے، وگرنہ تیری مرضی؛ اگر اس کا طالب زمانے میں کسی بھی دن آجائے تو اسے لوٹا دے، اور جو چیز غیر آباد رستے میں اور غیر آباد بستی میں ملے تو اس میں اور رکاز میں خمس ہے۔“ پھر اس نے کہا: اللہ کے رسول! آپ گمشدہ بکری کے بارے میں کیا فرماتے ہیں؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وہ کھانے کا گوشت ہے جو تیرے لیے یا تیرے بھائی کے لیے یا پھر وہ بھیڑیے کے لیے ہے، اسے اپنے بھائی کے لیے باندھ رکھ۔ یہ اس کی گمشدہ چیز ہے۔“ پھر اس نے کہا: اللہ کے رسول! اونٹ کے بارے میں آپ کا فرمان کیا ہے؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تجھے اس سے کوئی سروکار نہیں، اس کے ساتھ اس کا پانی اور جوتا ہے۔ اس پر بھیڑیے کا خوف نہیں، وہ گھاس کھائے گا اور پانی پر وارد ہوگا، سو اسے چھوڑ دے یہاں تک کہ اس کا طالب (مالک) آجائے۔“
جنہوں نے پہلی بات کہی، انہوں نے اس کا یہ جواب دیا ہے کہ یہ خبر جاہلیت کے اس مال کے بارے میں وارد ہوئی ہے جو زمین کے اوپر ظاہر حالت میں غیر آباد رستے میں یا غیر آباد بستی میں پایا جائے، تو اس میں اور رکاز میں خمس ہے، اور اس کا معدن (کان) سے کوئی تعلق نہیں۔ امام شافعی رحمہ اللہ نے زعفرانی کی روایت میں ان کے پہلی حدیث سے استدلال کا ذکر کیا، پھر فرمایا: یہ اہل حدیث کے نزدیک ضعیف ہے۔ پھر عمرو بن شعیب سے ہشام بن سعد کی اس حدیث سے ان کے استدلال کا ذکر کیا اور فرمایا: اگر عمرو کی حدیث حجت ہے تو جو انہوں نے روایت کی وہ کئی احکام میں ان کے خلاف حجت ہے، اور اگر عمرو کی حدیث حجت نہیں تو غیر حجت سے دلیل پکڑنا جہالت ہے۔ پھر چٹی، کھلیان میں پہنچی تازہ کھجور اور گری پڑی چیز کے بارے میں ان کی حدیث سے مخالفت کا ذکر کیا، پھر فرمایا: انہوں نے عمرو کی اس حدیث کی، جسے خود روایت کیا، کئی احکام میں مخالفت کی اور اس میں سے صرف ایک چیز سے دلیل لی جو محض حدیث کے بارے میں وہم ہے، اگر یہ کسی چیز میں حجت ہے تو اسے ان باتوں میں بھی اختیار کریں جن میں اسے چھوڑ دیا ہے۔ شیخ رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ان کا قول کہ ”یہ محض حدیث کے بارے میں وہم ہے“ اسی بات کی طرف اشارہ ہے جو ہم نے ذکر کی کہ یہ کان کے بارے میں وارد نہیں ہوئی، یہ صرف اس کے بارے میں ہے جو جاہلیت کے اموال میں سے رکاز کے حکم میں ہو۔ واللہ اعلم۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الزكاة/حدیث: 7641]
جنہوں نے پہلی بات کہی، انہوں نے اس کا یہ جواب دیا ہے کہ یہ خبر جاہلیت کے اس مال کے بارے میں وارد ہوئی ہے جو زمین کے اوپر ظاہر حالت میں غیر آباد رستے میں یا غیر آباد بستی میں پایا جائے، تو اس میں اور رکاز میں خمس ہے، اور اس کا معدن (کان) سے کوئی تعلق نہیں۔ امام شافعی رحمہ اللہ نے زعفرانی کی روایت میں ان کے پہلی حدیث سے استدلال کا ذکر کیا، پھر فرمایا: یہ اہل حدیث کے نزدیک ضعیف ہے۔ پھر عمرو بن شعیب سے ہشام بن سعد کی اس حدیث سے ان کے استدلال کا ذکر کیا اور فرمایا: اگر عمرو کی حدیث حجت ہے تو جو انہوں نے روایت کی وہ کئی احکام میں ان کے خلاف حجت ہے، اور اگر عمرو کی حدیث حجت نہیں تو غیر حجت سے دلیل پکڑنا جہالت ہے۔ پھر چٹی، کھلیان میں پہنچی تازہ کھجور اور گری پڑی چیز کے بارے میں ان کی حدیث سے مخالفت کا ذکر کیا، پھر فرمایا: انہوں نے عمرو کی اس حدیث کی، جسے خود روایت کیا، کئی احکام میں مخالفت کی اور اس میں سے صرف ایک چیز سے دلیل لی جو محض حدیث کے بارے میں وہم ہے، اگر یہ کسی چیز میں حجت ہے تو اسے ان باتوں میں بھی اختیار کریں جن میں اسے چھوڑ دیا ہے۔ شیخ رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ان کا قول کہ ”یہ محض حدیث کے بارے میں وہم ہے“ اسی بات کی طرف اشارہ ہے جو ہم نے ذکر کی کہ یہ کان کے بارے میں وارد نہیں ہوئی، یہ صرف اس کے بارے میں ہے جو جاہلیت کے اموال میں سے رکاز کے حکم میں ہو۔ واللہ اعلم۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الزكاة/حدیث: 7641]
تخریج الحدیث: «حسن۔ نسائي»
الحكم على الحديث: حسن