🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
السنن الكبرى للبيهقي میں نمبر سے تلاش
حدیث نمبر لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں عربی متن سے تلاش
عربی حدیث کا متن لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں اردو متن سے تلاش
اردو حدیث کا متن لکھیں:
1610. -- باب: ما يوجد منه مدفونا في قبور أهل الجاهلية
-- باب: زمانۂ جاہلیت کے لوگوں کی قبروں میں سے جو دفن شدہ خزانہ ملے اس کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7652
أَخْبَرَنَا السَّيِّدُ أَبُو الْحَسَنِ مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ الْعَلَوِيُّ، أنبأ أَبُو حَامِدِ بْنُ الشَّرْقِيِّ، ثنا أَبُو الْأَزْهَرِ، ثنا وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ، ثنا أَبِي، قَالَ: سَمِعْتُ مُحَمَّدَ بْنَ إِسْحَاقَ ⦗٢٦٣⦘ يُحَدِّثُ عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أُمَيَّةَ، عَنْ بُجَيْرِ بْنِ أَبِي بُجَيْرٍ، قَالَ: سَمِعْتُ عَبْدَ اللهِ بْنَ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: حِينَ خَرَجْنَا مَعَهُ إِلَى الطَّائِفِ فَمَرَرْنَا بِقَبْرٍ فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" هَذَا قَبْرُ أَبِي فُلَانٍ وَكَانَ بِهَذَا الْحَرَمِ يَدْفَعُ بِهِ عَنْهُ فَلَمَّا خَرَجَ أَصَابَتْهُ النِّقْمَةُ الَّتِي أَصَابَتْ قَوْمَهُ بِهَذَا الْمَكَانِ فَدُفِنَ فِيهِ وَآيَةُ ذَلِكَ أَنَّهُ دُفِنَ مَعَهُ غُصْنٌ مِنْ ذَهَبٍ إِنْ أَنْتُمْ نَبَشْتُمْ عَنْهُ وَجَدْتُمُوهُ مَعَهُ فَابْتَدَرَهُ النَّاسُ فَاسْتَخْرَجُوا مِنْهُ الْغُصْنَ". رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ فِي السُّنَنِ عَنْ يَحْيَى بْنِ مَعِينٍ عَنْ وَهْبِ بْنِ جَرِيرٍ، وَقَالَ: قَبْرُ أَبِي رِغَالٍ.
سیدنا عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، جب ہم طائف سے نکلے تو ہمارا گزر ایک قبر سے ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ قبر فلاں کی ہے اور یہ اس حرم سے اس کے ذریعے سے بچاؤ حاصل کرتا تھا۔ جب وہاں سے نکلا تو اسے آفت نے آ لیا اسی جگہ پر جو آفت اس کی قوم پر آئی تھی تو اسے اس میں دفن کر دیا گیا اور اس کی نشانی یہ ہے کہ اس کی سونے کی چھڑی اس کے ساتھ دفن ہے۔ اگر تم اس کی قبر کو کھولو تو اسے اس کے ساتھ پاؤ گے۔“ تو لوگوں نے اس کی طرف جلدی کی اور وہاں سے وہ چھڑی نکال لی اور یہ قبر ابو رغال کی تھی۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الزكاة/حدیث: 7652]
تخریج الحدیث: «ضعيف۔ أخرجه ابو داؤد»

الحكم على الحديث: ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7653
وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ الْفَضْلُ الْقَطَّانُ، أنبأ أَبُو سَهْلِ بْنِ زِيَادٍ الْقَطَّانُ، ثنا أَبُو يَعْقُوبَ إِسْحَاقُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ مَيْمُونٍ الْحَرْبِيُّ ثنا الرِّيَاحِيُّ يَعْنِي عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ، ثنا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، ثنا رَوْحُ بْنُ الْقَاسِمِ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أُمَيَّةَ، عَنْ بُجَيْرِ بْنِ أَبِي بُجَيْرٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَمْرٍو رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَنَّهُمْ كَانُوا مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سَفَرٍ أَوْ مَسِيرٍ فَمَرُّوا بِقَبْرٍ، فَقَالَ:" هَذَا قَبْرُ أَبِي رِغَالٍ كَانَ مِنْ قَوْمِ ثَمُودَ، فَلَمَّا أَهْلَكَ اللهُ قَوْمَهُ بِمَا أَهْلَكَهُمْ بِهِ مَنَعَهُ لِمَكَانِهِ مِنَ الْحَرَمِ، فَخَرَجَ حَتَّى إِذَا بَلَغَ هَذَا الْمَكَانَ أَوِ الْمَوْضِعَ مَاتَ وَدُفِنَ مَعَهُ غُصْنٌ مِنْ ذَهَبٍ". فَابْتَدَرْنَاهُ فَأَخْرَجْنَاهُ.
سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ وہ ایک سفر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے، وہ ایک قبر کے پاس سے گزرے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ ابو رغال کی قبر ہے، جو قوم ثمود میں سے تھا۔ جب اللہ نے اس کی قوم کو ہلاک کیا جس وجہ سے بھی ہلاک کیا تو وہ حرم میں ہونے کی وجہ سے بچ رہا، سو وہ وہاں سے نکلا جب اس جگہ پہنچا تو وہ فوت ہو گیا اور اسے دفن کر دیا اور اس کے ساتھ اس کی سونے کی چھڑی کو بھی۔“ پھر ہم نے جلدی جلدی کی اور اسے وہاں سے نکال لیا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الزكاة/حدیث: 7653]
تخریج الحدیث: «ضعيف۔ تقدم قبله»

الحكم على الحديث: ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7654
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ، أنبأ أَبُو عَمْرِو بْنُ السَّمَّاكِ، ثنا حَنْبَلُ بْنُ إِسْحَاقَ، ثنا عَفَّانُ، ثنا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ سِمَاكٍ، عَنْ جَرِيرِ بْنِ رَبَاحٍ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّهُمْ أَصَابُوا قَبْرًا بِالْمَدَائِنِ فَوَجَدُوا فِيهِ رَجُلًا عَلَيْهِ ثِيَابٌ مَنْسُوجَةٌ بِالذَّهَبِ وَوَجَدُوا مَعَهُ مَالًا فَأَتَوْا بِهِ عَمَّارَ بْنَ يَاسِرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فَكَتَبَ فِيهِ إِلَى عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فَكَتَبَ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ إِلَيْهِ أَنْ" أَعْطِهِمْ وَلَا تَنْزِعْهُ". قَالَ الشَّيْخُ: وَهَذَا إِنْ وَجَدُوهَا فِي مَوَاتٍ مَلَكُوهَا فَفِيهَا الْخُمُسُ وَكَأَنَّهَا لَمْ تَبْلُغْ نِصَابًا أَوْ فَوَّضَ ذَلِكَ إِلَيْهِمْ لِيُخْرِجُوهُ، وَاللهُ أَعْلَمُ.
جریر بن رباح اپنے والد سے نقل فرماتے ہیں کہ انہوں نے مدائن میں ایک قبر پائی، اس میں ایک آدمی کو پایا جس پر ایسا لباس تھا جو سونے سے بنا ہوا تھا اور اس کے ساتھ اور مال بھی پایا۔ وہ عمار بن یاسر رضی اللہ عنہما کے پاس آئے تو انہوں نے عمر رضی اللہ عنہ کی طرف خط لکھا، پھر عمر رضی اللہ عنہ نے انہیں لکھ بھیجا کہ وہ انہیں دے دیں ان سے نہ چھینیں۔
شیخ فرماتے ہیں: اگر انہوں نے یہ بنجر (غیر مملوکہ) زمین میں پایا ہو تو وہی اس کے مالک ہیں اور اس میں خمس ہے، گویا کہ وہ نصاب کو نہیں پہنچا، یا یہ معاملہ انہی کے سپرد کر دیا تاکہ وہ اسے خود ادا کریں۔ واللہ اعلم۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الزكاة/حدیث: 7654]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
1611. -- باب: ما روي عن علي رضي الله عنه في الركاز.
-- باب: رکاز کے بارے میں سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے جو مروی ہے۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7655
أَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ، وَغَيْرُهُ، قَالُوا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنبأ الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، أنبأ الشَّافِعِيُّ، أنبأ سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبِي خَالِدٍ، عَنِ الشَّعْبِيِّ قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ إِلَى عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فَقَالَ: إِنِّي وَجَدْتُ أَلْفًا وَخَمْسَمِائَةِ دِرْهَمٍ فِي خَرِبَةٍ فِي السَّوَادِ فَقَالَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ:" أَمَا لَأَقْضِيَنَّ فِيهَا قَضَاءً بَيِّنًا إِنْ كُنْتَ وَجَدْتَهَا فِي قَرْيَةٍ تُؤَدِّي خَرَاجَهَا قَرْيَةٌ أُخْرَى فَهِيَ لِأَهْلِ تِلْكَ الْقَرْيَةِ، وَإِنْ كُنْتَ وَجَدْتَهَا فِي قَرْيَةٍ لَيْسَ تُؤَدِّي خَرَاجَهَا قَرْيَةٌ أُخْرَى فَلَكَ أَرْبَعَةُ أَخْمَاسِهِ وَلَنَا الْخُمُسُ ثُمَّ الْخُمُسُ لَكَ". ⦗٢٦٤⦘ قَالَ الشَّافِعِيُّ: قَدْ رَوَوْا عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ بِإِسْنَادٍ مَوْصُولٍ أَنَّهُ قَالَ: أَرْبَعَةُ أَخْمَاسِهِ لَكَ وَاقْسِمِ الْخُمُسَ فِي فُقَرَاءِ أَهْلِكَ. هَذَا الْحَدِيثُ أَشْبَهُ بِعَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، وَاللهُ أَعْلَمُ. قَالَ الشَّيْخُ: هُوَ كَمَا قَالَ.
شعبی رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ ایک شخص حضرت علی رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا: مجھے ایک ویرانے سے پندرہ سو درہم ملے ہیں! حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: میں اس میں واضح فیصلہ کروں گا، اگر تو نے ایسی بستی میں پایا ہے جس کا ٹیکس دوسری بستی ادا کرتی ہے تو یہ ان کے لیے ہے اور اگر ایسی جگہ سے ملا ہے جس کا خراج کوئی بستی ادا نہیں کرتی تو تمہارے لیے اس کے چار حصے ہیں اور ہمارے لیے پانچواں، پھر پانچوں بھی تمہارے لیے ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الزكاة/حدیث: 7655]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7656
وَأَخْبَرَنَا الشَّرِيفُ أَبُو الْفَتْحِ، أنبأ أَبُو الْقَاسِمِ عُبَيْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدٍ السَّقَطِيُّ بِمَكَّةَ، ثنا أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ عُمَرَ بْنِ عَلِيِّ بْنِ حَرْبٍ، ثنا عَلِيُّ بْنُ حَرْبٍ، ثنا سُفْيَانُ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ بِشْرٍ الْخَثْعَمِيِّ، عَنْ رَجُلٍ مِنْ قَوْمِهِ أَنَّ رَجُلًا سَقَطَتْ عَلَيْهِ جَرَّةٌ مِنْ دَيْرٍ بِالْكُوفَةِ فَأَتَى بِهَا عَلِيًّا رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، فَقَالَ:" اقْسِمْهَا أَخْمَاسًا" ثُمَّ قَالَ:" خُذْ مِنْهَا أَرْبَعَةَ أَخْمَاسٍ وَدَعْ وَاحِدًا" ثُمَّ قَالَ:" فِي حَيِّكَ فُقَرَاءُ وَمَسَاكِينُ؟" قَالَ: نَعَمْ قَالَ:" خُذْهَا فَاقْسِمْهَا فِيهِمْ".
عبداللہ بن بشر خثعمی اپنے قبیلے کے ایک شخص سے نقل فرماتے ہیں کہ ایک آدمی پر کوفے میں راہبوں کی رہائش گاہ سے ایک مٹکا گرا، وہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے پاس لایا تو انہوں نے کہا: اسے پانچ حصوں میں تقسیم کر، پھر کہا: اس میں سے چار خمس تو وصول کر اور ایک چھوڑ دے۔ پھر پوچھا: کیا تیرے قبیلے میں فقراء اور مساکین ہیں؟ اس نے کہا: جی ہاں، تو سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: پھر اسے بھی لے جا اور ان میں تقسیم کر دے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الزكاة/حدیث: 7656]
تخریج الحدیث: «ضعيف۔ أخرجه سعيد بن منصور»

الحكم على الحديث: ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
1612. -- باب: ما يقول: المصدق إذا أخذ الصدقة لمن أخذها منه
-- باب: زکوٰۃ وصول کرنے والا جب زکوٰۃ وصول کرے تو اس شخص کے لیے کیا دعا کہے جس سے اس نے زکوٰۃ لی ہے؟
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: Q7657
قَالَ اللهُ تَعَالَى لِنَبِيِّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: {خُذْ مِنْ أَمْوَالِهِمْ صَدَقَةً تُطَهِّرُهُمْ وَتُزَكِّيهِمْ بِهَا وَصَلِّ عَلَيْهِمْ إِنَّ صَلَاتَكَ سَكَنٌ لَّهُمْ} [التوبة: 103] قَالَ الشَّافِعِيِّ رَحِمَهُ اللهُ: وَالصَّلَاةُ عَلَيْهِمُ الدُّعَاءُ لَهُمْ عِنْدَ أَخْذِ الصَّدَقَةِ مِنْهُمْ..
اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے فرمایا: ﴿خُذْ مِنْ أَمْوَالِهِمْ صَدَقَةً تُطَهِّرُهُمْ وَتُزَكِّيهِمْ بِهَا وَصَلِّ عَلَيْهِمْ إِنَّ صَلَاتَكَ سَكَنٌ لَّهُمْ﴾ ”آپ ان کے مالوں میں سے صدقہ وصول کیجیے جس کے ذریعے آپ انہیں پاک صاف کر دیں اور ان کے حق میں دعا کیجیے، بے شک آپ کی دعا ان کے لیے تسکین کا باعث ہے۔“ [سورة التوبة: 103]
امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: اور ان پر صلاۃ بھیجنے سے مراد، ان سے صدقہ وصول کرتے وقت ان کے لیے دعا کرنا ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الزكاة/حدیث: Q7657]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7657
أَخْبَرَنَا الْفَقِيهُ أَبُو الْحَسَنِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ بْنِ أَحْمَدَ بْنِ يَعْقُوبَ بِالطَّابِرَانِ أنبأ أَبُو النَّضْرِ مُحَمَّدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يُوسُفَ الْفَقِيهُ ثنا عُثْمَانُ بْنُ سَعِيدٍ الدَّارِمِيُّ، ثنا أَبُو الْوَلِيدِ، ثنا شُعْبَةُ، قَالَ: أَنْبَأَنِي عَمْرُو بْنُ مُرَّةَ، ح وَحَدَّثَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللهِ بْنُ يُوسُفَ الْأَصْبَهَانِيُّ إِمْلَاءً، ثنا أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ الْحَافِظُ، ثنا يَحْيَى بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى، ثنا أَبُو عُمَرَ، ثنا شُعْبَةُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ أَبِي أَوْفَى قَالَ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا أَتَاهُ قَوْمٌ بِصَدَقَتِهِمْ، قَالَ:" اللهُمَّ صَلِّ عَلَى آلِ فُلَانٍ". وَأَتَاهُ أَبِي بِصَدَقَتِهِ فَقَالَ:" اللهُمَّ صَلِّ عَلَى آلِ أَبِي أَوْفَى. لَفْظُ حَدِيثِ أَبِي عُمَرَ، وَفِي رِوَايَةِ أَبِي الْوَلِيدِ، قَالَ: عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ أَبِي أَوْفَى وَكَانَ مِنْ ⦗٢٦٥⦘ أَصْحَابِ الشَّجَرَةِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمْ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا أَتَاهُ قَوْمٌ بِصَدَقَتِهِمْ، قَالَ:" اللهُمَّ صَلِّ عَلَيْهِمْ". ثُمَّ ذَكَرَ مَا بَعْدَهُ. رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ أَبِي عُمَرَ حَفْصِ بْنِ عُمَرَ، وَجَمَاعَةٍ وَأَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ مِنْ أَوْجُهٍ عَنْ شُعْبَةَ.
عبداللہ بن ابی اوفیٰ رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس قوم اپنے صدقات لے کر آتی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے: «اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى آلِ فُلَانٍ» ”اے اللہ! فلاں کی آل پر رحمت نازل فرما۔“ اور میرے والد بھی صدقہ لے کر آئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے اللہ! آلِ ابو اوفیٰ پر رحمت نازل فرما۔“
ولید، عبداللہ بن ابی اوفیٰ رضی اللہ عنہما سے روایت کرتے ہیں کہ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس قوم اپنے صدقات لے کر آتی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے: ”اے اللہ! فلاں کی آل پر رحمت نازل فرما“، پھر بقیہ حدیث کا تذکرہ کیا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الزكاة/حدیث: 7657]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ أخرجه البخاري»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7658
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الصَّفَّارُ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ الضَّبِّيُّ، قَالَ: وَأنبأ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ تَمِيمٍ الْقَنْطَرِيُّ بِبَغْدَادَ، ثنا أَبُو قِلَابَةَ، قَالَا: ثنا أَبُو عَاصِمٍ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ كُلَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ وَائِلِ بْنِ حُجْرٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ بَعَثَ إِلَى رَجُلٍ فَبَعَثَ إِلَيْهِ بِفَصِيلٍ مَخْلُولٍ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" جَاءَهُ مُصَدِّقُ اللهِ وَمُصَدِّقُ رَسُولِهِ، فَبَعَثَ بِفَصِيلٍ مَخْلُولٍ اللهُمَّ لَا تُبَارِكْ فِيهِ وَلَا فِي إِبِلِهِ". فَبَلَغَ ذَلِكَ الرَّجُلَ فَبَعَثَ إِلَيْهِ بِنَاقَةٍ مِنْ حُسْنِهَا وَجَمَالِهَا فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" بَلَغَ فُلَانًا مَا قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَبَعَثَ بِنَاقَةٍ مِنْ حُسْنِهَا اللهُمَّ بَارِكْ فِيهِ وَفِي إِبِلِهِ".
سیدنا وائل بن حجر رضی اللہ عنہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے نقل فرماتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک آدمی کی طرف (زکوۃ وصول کرنے والا) بھیجا تو اس نے اونٹنی کا ایک لاغر بچہ بھیجا، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس کے پاس اللہ اور اس کے رسول کا مصدق آیا اور اس نے اونٹنی کا لاغر بچہ بھیج دیا، «اللَّهُمَّ لَا تُبَارِكْ فِيهِ وَلَا فِي إِبِلِهِ» ”اے اللہ! تو اس میں برکت نہ دینا اور نہ ہی اس کے اونٹوں میں۔“”تو یہ بات اس آدمی تک پہنچی تو اس نے ایک حسین و جمیل اونٹنی بھیجی، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”فلاں کو یہ بات پہنچی جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمائی، پھر اس نے اپنی حسین اونٹنی بھیج دی، «اللَّهُمَّ بَارِكْ فِيهِ وَفِي إِبِلِهِ» ”اے اللہ! تو اس میں برکت دے اس میں اور اس کے اونٹوں میں۔“” [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الزكاة/حدیث: 7658]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ أخرجه ابن خزيمه»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
1613. -- باب: ترك التعدي على الناس في الصدقة
-- باب: زکوٰۃ کی وصولی میں لوگوں پر زیادتی ترک کرنے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7659
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ إِسْحَاقَ الْفَقِيهُ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مِلْحَانَ، ثنا يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ، ثنا اللَّيْثُ، حَدَّثَنِي هِشَامُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ عَبَّاسِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ مَعْبَدِ بْنِ عَبَّاسٍ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ عُمَرَ بْنِ قَتَادَةَ الْأَنْصَارِيِّ، عَنْ قَيْسِ بْنِ سَعْدِ بْنِ عُبَادَةَ الْأَنْصَارِيِّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعَثَهُ سَاعِيًا فَقَالَ أَبُوهُ: لَا تَخْرُجْ حَتَّى تُحْدِثَ بِرَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَهْدًا فَلَمَّا أَرَادَ الْخُرُوجَ أَتَى رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" يَا قَيْسُ لَا تَأْتِي يَوْمَ الْقِيَامَةِ عَلَى رَقَبَتِكَ بَعِيرٌ لَهُ رُغَاءٌ أَوْ بَقَرَةٌ لَهَا خُوَارٌ أَوْ شَاةٌ لَهَا يُعَارٌ وَلَا تَكُنْ كَأَبِي رِغَالٍ" فَقَالَ سَعْدٌ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: يَا رَسُولَ اللهِ، صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَمَا أَبُو رِغَالٍ؟ قَالَ: مُصَدِّقٌ بَعَثَهُ صَالِحٌ فَوَجَدَ رَجُلًا بِالطَّائِفِ فِي غَنِيمَةٍ قَرِيبَةٍ مِنَ الْمِائَةِ شِصَاصٍ إِلَّا شَاةً وَاحِدَةً وَابْنُ صَغِيرٍ لَا أُمَّ لَهُ فَلَبَنُ تِلْكَ الشَّاةِ عَيْشُهُ، فَقَالَ صَاحِبُ الْغَنَمِ: مَنْ أَنْتَ؟ قَالَ: أَنَا رَسُولُ رَسُولِ اللهِ، صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ⦗٢٦٦⦘ فَرَحَّبَ وَقَالَ هَذِهِ غَنَمِي فَخُذْ أَيَّمَا أَحْبَبْتَ فَنَظَرَ إِلَى الشَّاةِ اللَّبُونِ فَقَالَ: هَذِهِ فَقَالَ الرَّجُلُ: هَذَا الْغُلَامُ كَمَا تَرَى لَيْسَ لَهُ طَعَامٌ وَلَا شَرَابٌ غَيْرُهَا فَقَالَ إِنْ كُنْتَ تُحِبُّ اللَّبَنَ فَأَنَا أُحِبُّهُ، فَقَالَ خُذْ شَاتَيْنِ مَكَانَهَا فَلَمْ يَزَلْ يَزِيدُهُ وَيَبْذِلُ حَتَّى بَذَلَ لَهُ خَمْسَ شِيَاهٍ شِصَاصٍ مَكَانَهَا فَأَبَى عَلَيْهِ، فَلَمَّا رَأَى ذَلِكَ عَمَدَ إِلَى قَوْسِهِ فَرَمَاهُ فَقَتَلَهُ، وَقَالَ: مَا يَنْبَغِي لِأَحَدٍ أَنْ يَأْتِيَ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِهَذَا الْخَبَرِ قَبْلِي فَأَتَى صَاحِبُ الْغَنَمِ صَالِحًا النَّبِيَّ عَلَيْهِ السَّلَامَ فَأَخْبَرَهُ فَقَالَ صَالِحٌ: اللهُمَّ الْعَنْ أَبَا رِغَالٍ اللهُمَّ الْعَنْ أَبَا رِغَالٍ، فَقَالَ سَعْدُ بْنَ عُبَادَةَ: يَا رَسُولَ اللهِ، اعْفُ قَيْسًا مِنَ السِّعَايَةِ.
سیدنا قیس بن سعد بن عبادہ انصاری رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں عامل بنا کر بھیجا تو ان کے والد نے انہیں کہا: تو اتنی دیر نہ جانا جب تک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے عہد نہ لے لے، جب انہوں نے نکلنے کا ارادہ کیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے قیس! قیامت کے دن اس حالت میں نہ آنا کہ تیری گردن پر اونٹ ہو اور وہ بلبلا رہا ہو، یا گائے کے ساتھ اس کی آواز ہو اور نہ بکری کے ساتھ کہ وہ منمنا رہی ہو، اور تو ابو رغال کی طرح نہ ہونا۔“ تو سیدنا سعد رضی اللہ عنہ نے کہا: اے اللہ کے رسول! ابو رغال کا کیا معاملہ ہوا؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وہ مصدق تھا جسے صالح نے بھیجا تھا، تو اس نے ایک آدمی کو تقریباً سو بکریوں کے ریوڑ میں دیکھا جو سب دودھ سے خشک تھیں سوائے ایک بکری کے، اور اس کا ایک چھوٹا بیٹا تھا جس کی ماں نہیں تھی، اس بکری کا دودھ ہی اس کی زندگی تھی، تو بکریوں والے نے کہا: تو کون ہے؟ تو اس نے کہا: میں اللہ کے رسول کا ایلچی ہوں، تو اس نے خوش آمدید کہا اور اس نے کہا: یہ میری بکریاں ہیں، جو تجھے پسند ہے وہ وصول کر، تو اس نے دودھ والی بکری کو دیکھا اور کہا کہ یہ ہے، تو اس آدمی نے کہا: یہ بچہ بھی ہے جسے تو دیکھتا ہے کہ اس کے لیے اس کے سوا کھانے پینے کی چیز نہیں ہے، تو اس نے کہا: اگر تو دودھ پسند کرتا ہے تو میں بھی دودھ پسند کرتا ہوں، اس نے کہا: تو اس کے عوض دو بکریاں وصول کر لے، تو وہ اسی طرح اضافہ کرتا رہا حتیٰ کہ اس نے دودھ سے خشک پانچ بکریاں پیش کر دیں مگر اس نے پھر بھی انکار کیا، جب اس نے یہ دیکھا تو اپنے تیر کو لیا اور اسے مار کر قتل کر دیا اور کہنے لگا: کسی کو لائق نہیں کہ مجھ سے پہلے یہ خبر لے کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس پہنچے، تو بکریوں والا صالح کے پاس آیا اور خبر دی تو صالح نے کہا: «اللّٰهُمَّ الْعَنْ أَبَا رِغَالٍ، اللّٰهُمَّ الْعَنْ أَبَا رِغَالٍ» ”اے اللہ! ابو رغال پر لعنت کر، اے اللہ! ابو رغال پر لعنت کر۔““ تو سیدنا سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ نے کہا: اے اللہ کے رسول! قیس کو عاملیت سے معاف رکھیے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الزكاة/حدیث: 7659]
تخریج الحدیث: «ضعيف۔ أخرجه ابن خريجه»

الحكم على الحديث: ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7660
أَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ، وَغَيْرُهُ، قَالُوا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنبأ الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، أنبأ الشَّافِعِيُّ، أنبأ مَالِكٌ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو أَحْمَدَ الْمِهْرَجَانِيُّ، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ثنا ابْنُ بُكَيْرٍ، ثنا مَالِكٌ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى بْنِ حِبَّانَ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ عَائِشَةَ، زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهَا قَالَتْ: مُرَّ عَلَى عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ بِغَنَمٍ مِنَ الصَّدَقَةِ فَرَأَى فِيهَا شَاةً حَافِلًا ذَاتَ ضَرْعٍ عَظِيمٍ، فَقَالَ عُمَرُ:" مَا هَذِهِ الشَّاةُ؟" فَقَالُوا: شَاةٌ مِنَ الصَّدَقَةِ، فَقَالَ عُمَرُ:" مَا أَعْطَى هَذِهِ أَهْلُهَا وَهُمْ طَائِعُونَ لَا تَفْتِنُوا النَّاسَ لَا تَأْخُذُوا حَرَزَاتِ الْمُسْلِمِينَ نَكِّبُوا عَنِ الطَّعَامِ".
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے پاس سے صدقے کی بکریاں گزاری گئیں تو انہوں نے ایک بڑے تھنوں والی دودھ سے بھری بکری دیکھی، تو عمر رضی اللہ عنہ نے پوچھا کہ ”یہ بکری کیسی ہے؟“ انہوں نے کہا: ”یہ زکاۃ کی بکری ہے“، تو عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”مالکوں نے خوشی سے نہیں دی ہوگی، اس لیے تم لوگوں کو فتنے میں مبتلا نہ کرو، تم مسلمانوں کے عمدہ اور قیمتی مال نہ لو، کھانے (کے جانوروں یعنی دودھ والے جانوروں) سے بچو۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الزكاة/حدیث: 7660]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ أخرجه مالك»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں