🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
السنن الكبرى للبيهقي میں نمبر سے تلاش
حدیث نمبر لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں عربی متن سے تلاش
عربی حدیث کا متن لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں اردو متن سے تلاش
اردو حدیث کا متن لکھیں:
1636. -- باب: الاختيار في صدقة التطوع
-- باب: نفلی صدقے کے حوالے سے اختیار کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7760
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو طَاهِرٍ الْفَقِيهُ، وَأَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ، وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، قَالُوا: أنبأ أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَبْدِ الْحَكَمِ، أنبأ أَنَسُ بْنُ عِيَاضٍ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ أَنَّهُ أَخْبَرَهُ عَبْدُ اللهِ بْنُ عَبْدِ اللهِ، عَنْ رَيْطَةَ بِنْتِ عَبْدِ اللهِ امْرَأَةِ عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ وَأُمِّ وَلَدِهِ، وَكَانَتِ امْرَأَةً صَنَّاعَةً، وَلَيْسَ لِعَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ مَالٌ، وَكَانَتْ تُنْفِقُ عَلَيْهِ وَعَلَى وَلَدِهِ مِنْ ثَمَنِ صَنْعَتِهَا، فَقَالَتْ: وَاللهِ لَقَدْ شَغَلْتَنِي أَنْتَ وَوَلَدُكَ عَنِ الصَّدَقَةِ، فَمَا أَسْتَطِيعُ أَنْ أَتَصَدَّقَ مَعَكُمْ، فَقَالَ: مَا أُحِبُّ إِنْ لَمْ يَكُنْ لَكِ فِي ذَلِكَ أَجْرٌ أَنْ تَفْعَلِي، فَسَأَلَتْ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ هِيَ وَهُوَ، فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللهِ إِنَّنِي امْرَأَةٌ ذَاتُ صَنْعَةٍ أَبِيعُ مِنْهَا، وَلَيْسَ لِي وَلَا لِوَلَدِي وَلَا لِزَوْجِي شَيْءٌ، فَشَغَلُونِي فَلَا ⦗٣٠٠⦘ أَتَصَدَّقُ، فَهَلْ لِي فِي ذَلِكَ أَجْرٌ؟ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَكِ فِي ذَلِكَ أَجْرٌ مَا أَنْفَقَتِ عَلَيْهِمْ فَأَنْفَقِي عَلَيْهِمْ".
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کی بیوی اور ان کے بچوں کی ماں سیدہ ریطہ بنت عبداللہ رضی اللہ عنہا ہنرمند عورت تھیں اور عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے پاس مال نہیں تھا، وہ اپنی دستکاری کی قیمت سے ان پر اور ان کے بچوں پر خرچ کیا کرتی تھیں۔ انہوں نے کہا: اللہ کی قسم! تم نے اور تمہارے بچوں نے مجھے صدقہ کرنے سے روک رکھا ہے، میں تمہارے ساتھ صدقہ نہیں کر سکتی۔ انہوں نے کہا: اگر اس میں تمہارے لیے اجر نہ ہو تو میں پسند نہیں کرتا کہ تم ایسا کرو۔ چنانچہ ان دونوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا، انہوں نے عرض کیا: ”اے اللہ کے رسول! میں کاریگر عورت ہوں، میں اس میں سے فروخت کرتی ہوں، لیکن میرے لیے، میرے بچے اور خاوند کے لیے کچھ نہیں۔ انہوں نے مجھے مصروف کر رکھا ہے، اس لیے میں صدقہ نہیں کر سکتی۔ کیا اس میں میرے لیے کوئی اجر ہے؟“ تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تیرے لیے اس میں اجر ہے جو بھی تو ان پر خرچ کرے گی، سو تو ان پر خرچ کرتی رہ۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الزكاة/حدیث: 7760]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ أخرجه ابن حبان»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7761
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ الْعَدْلُ بِبَغْدَادَ، أنبأ إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ مَنْصُورٍ، ثنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أنبأ مَعْمَرٌ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ زَيْنَبَ بِنْتِ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا أَنَّهَا قَالَتْ: يَا رَسُولَ اللهِ، إِنَّ بَنِي أَبِي سَلَمَةَ فِي حَجْرِي، وَلَيْسَ لَهُمْ شَيْءٌ إِلَّا مَا أَنْفَقْتُ عَلَيْهِمْ، وَلَسْتُ بِتَارِكَتِهِمْ كَذَا وَكَذَا، فَلِي أَجْرٌ إِنْ أَنْفَقْتُ عَلَيْهِمْ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَنْفِقِي عَلَيْهِمْ، فَإِنَّ لَكِ أَجْرَ مَا أَنْفَقْتِ عَلَيْهِمْ" رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ، وَأَخْرَجَهُ الْبُخَارِيُّ مِنْ وَجْهٍ آخَرَ عَنْ هِشَامٍ.
ام سلمہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! ابو سلمہ رضی اللہ عنہ کے بیٹے میری پرورش میں ہیں اور ان کے لیے کچھ بھی نہیں مگر جو میں ان پر خرچ کرتی ہوں اور میں انہیں اس اس وجہ سے چھوڑ بھی نہیں سکتی۔ اگر میں ان پر خرچ کروں تو کیا مجھے اس کا کوئی اجر ہے؟ تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو تو ان پر خرچ کرے گی یقیناً تجھے اجر ملے گا۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الزكاة/حدیث: 7761]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ أخرجه البخاري»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7762
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا الْحُسَيْنُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ مُهَاجِرٍ، ثنا هَارُونُ بْنُ سَعِيدٍ الْأَيْلِيُّ، ثنا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ، عَنْ كُرَيْبٍ، عَنْ مَيْمُونَةَ بِنْتِ الْحَارِثِ، أَنَّهَا أَعْتَقَتْ وَلِيدَةً فِي زَمَنِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرَتْ ذَلِكَ لِرَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ:" لَوْ أَعْطَيْتِهَا أَخْوَالَكِ كَانَ أَعْظَمَ لِأَجْرِكِ" رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ هَارُونَ بْنِ سَعِيدٍ، وَأَخْرَجَهُ الْبُخَارِيُّ مِنْ وَجْهٍ آخَرَ عَنْ عُمَرٍو.
سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہا بنت حارث فرماتی ہیں کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دور میں ایک باندی آزاد کی، اس کا تذکرہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر تو اپنے ماموں کو دے دیتی تو تجھے زیادہ اجر و ثواب ملتا۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الزكاة/حدیث: 7762]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ أخرجه البخاري»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7763
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ، ثنا أَبُو مُسْلِمٍ إِبْرَاهِيمُ بْنُ عَبْدِ اللهِ، ثنا الْأَنْصَارِيُّ، ثنا بَهْزُ بْنُ حَكِيمٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ، مَنْ أَبَرُّ؟ قَالَ:" أُمُّكَ" قُلْتُ: ثُمَّ مَنْ؟ قَالَ:" ثُمَّ أُمُّكَ" قُلْتُ: ثُمَّ مَنْ؟ قَالَ:" ثُمَّ أُمُّكَ؟ قُلْتُ: ثُمَّ مَنْ؟ قَالَ:" ثُمَّ أَبَاكَ، ثُمَّ الْأَقْرَبُ فَالْأَقْرَبُ".
بہز بن حکیم رحمہ اللہ اپنے والد سے اور وہ اپنے دادا (رضی اللہ عنہ) سے نقل فرماتے ہیں کہ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! کون نیکی کا زیادہ مستحق ہے؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تیری ماں۔“ میں نے کہا: پھر کون؟ فرمایا: ”تیری ماں!“ میں نے کہا: پھر کون؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تیری ماں!“ میں نے کہا: پھر کون؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پھر تیرا والد، پھر اس کے بعد قریبی رشتہ دار، پھر اس کے بعد رشتہ دار۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الزكاة/حدیث: 7763]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيرهٖ۔ ابو داؤد»

الحكم على الحديث: صحيح لغيرهٖ
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7764
وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ، أنبأ أَحْمَدُ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ الْفَرَجِ، ثنا السَّهْمِيُّ يَعْنِي عَبْدَ اللهِ بْنَ بَكْرٍ، ثنا بَهْزُ بْنُ حَكِيمٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:" لَا يَأْتِي رَجُلٌ مَوْلَاهُ فَيَسْأَلَهُ مِنْ فَضْلٍ هُوَ عِنْدَهُ فَيَمْنَعَهُ إِيَّاهُ إِلَّا دُعِيَ إِلَيْهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ شُجَاعًا أَقْرَعَ يَتَلَمَّظُ فَضْلَهُ الَّذِي مَنْعَ".
بہز بن حکیم اپنے والد سے، وہ اپنے دادا رضی اللہ عنہ سے نقل فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا کہ ”کسی آدمی کے پاس اس کا غلام آئے، وہ اس سے کوئی چیز مانگے جو اس کے پاس ہے، پھر وہ اس سے روک لے تو وہ قیامت کے دن اس کی طرف بڑے اژدھا کی صورت میں بلایا جائے گا اور وہ اس سے چمٹ جائے گا جس سے اس نے منع کیا تھا۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الزكاة/حدیث: 7764]
تخریج الحدیث: «حسن۔ أخرجه احمد»

الحكم على الحديث: حسن
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7765
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ ⦗٣٠١⦘ عِيسَى، ثنا الْحَارِثُ بْنُ مُرَّةَ، ثنا كُلَيْبُ بْنُ مَنْفَعَةَ، عَنْ جَدِّهِ: أَنَّهُ أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ، مَنْ أَبَرُّ؟ قَالَ:" أُمَّكَ وَأَبَاكَ، وَأُخْتَكَ وَأَخَاكَ، وَمَوْلَاكَ الَّذِي يَلِي ذَلِكَ، حَقًّا وَاجِبًا وَرَحِمًا مَوْصُولَةً".
کلیب بن منفعہ اپنے دادا رضی اللہ عنہ سے نقل فرماتے ہیں کہ وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور عرض کی: ”اے اللہ کے رسول! نیکی کا سب سے زیادہ حق دار کون ہے؟“ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تیری ماں، والد، بہن، بھائی اور تیرا وہ غلام جس کا حق تیرے ساتھ ملا ہوا ہے اور جس کے ساتھ صلہ رحمی واجب ہے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الزكاة/حدیث: 7765]
تخریج الحدیث: «ضعيف۔ ابو داؤد»

الحكم على الحديث: ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7766
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، وَأَبُو بَكْرٍ الْقَاضِي، قَالُوا: حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا أَبُو عُتْبَةَ، ثنا بَقِيَّةُ بْنُ الْوَلِيدِ، عَنْ بَحِيرِ بْنِ سَعْدٍ، عَنْ خَالِدِ بْنِ مَعْدَانَ، عَنِ الْمِقْدَامِ بْنِ مَعْدِ يَكْرِبَ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:" إِنَّ اللهَ يُوصِيكُمْ بِأُمَّهَاتِكُمْ ثُمَّ يُوصِيكُمْ بِآبَائِكُمْ ثُمَّ يُوصِيكُمْ بِالْأَقْرَبِ فَالْأَقْرَبِ".
سیدنا مقدام بن معد یکرب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا: ”اللہ تعالیٰ تمہیں تمہاری ماؤں کے حق میں وصیت کرتے ہیں، پھر تمہارے والدوں کے حق میں، پھر اس کے بعد جو زیادہ قریبی رشتہ دار ہیں، ان کے حق میں وصیت کرتے ہیں۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الزكاة/حدیث: 7766]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ أخرجه ابن ماجه»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7767
أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ، ثنا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ الضَّبِّيُّ، ثنا مُسَدَّدٌ، ثنا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ عُرْفُطَةَ، عَنْ خِدَاشٍ أَبِي سَلَامَةَ، قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أُوْصِي امْرَأً بِأُمِّهِ ثَلَاثًا، أُوصِي امْرَأً بِأَبِيهِ مَرَّتَيْنِ، أُوصِي امْرَأً بِمَوْلَاهُ الَّذِي يَلِيهِ وَإِنْ كَانَتْ عَلَيْهِ أَذَاةٌ تُؤْذِيهِ" قَالَ الشَّيْخُ: اخْتَلَفَ أَصْحَابُ مَنْصُورٍ عَلَى مَنْصُورٍ فِي اسْمِ مَنْ رَوَاهُ عَنْهُ فَقِيلَ عَنْهُ هَكَذَا، وَقِيلَ عَنْهُ عَنْ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ عَلِيٍّ، وَقِيلَ غَيْرُ ذَلِكَ وَاللهُ أَعْلَمُ.
خداش ابو سلامہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں آدمی کو ماں کے بارے میں تین مرتبہ وصیت کرتا ہوں اور والد کے بارے میں دو مرتبہ وصیت کرتا ہوں اور اس کے غلام کے بارے میں وصیت کرتا ہوں اگرچہ وہ اس کے لیے تکلیف کا باعث ہے جو اسے تکلیف دیتا ہے۔“
شیخ نے کہا کہ اصحاب منصور نے منصور سے راویوں کے ناموں میں اختلاف کیا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الزكاة/حدیث: 7767]
تخریج الحدیث: «ضعيف۔ أخرجه ابن ماجه»

الحكم على الحديث: ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
1637. -- باب: " أبر البر أن يصل الرجل ود أبيه "
-- باب: اس فرمان کا بیان کہ ”سب سے بڑی نیکی یہ ہے کہ آدمی اپنے باپ کے دوستوں کے ساتھ صلہ رحمی کرے“۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7768
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، ثنا أَبُو الطَّاهِرِ، ح وَأَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيٍّ الْفَقِيهُ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يُونُسَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ سَعِيدٍ، قَالَا: ثنا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي سَعِيدُ بْنُ أَبِي أَيُّوبَ، عَنِ الْوَلِيدِ بْنِ أَبِي الْوَلِيدِ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ دِينَارٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ: أَنَّ رَجُلًا مِنَ الْأَعْرَابِ لَقِيَهُ بِطَرِيقِ مَكَّةَ فَسَلَّمَ عَلَيْهِ عَبْدُ اللهِ، وَحَمَلَهُ عَلَى حِمَارٍ كَانَ يَرْكَبُهُ، وَأَعْطَاهُ عِمَامَةً كَانَتْ عَلَى رَأْسِهِ، فَقَالَ ابْنُ دِينَارٍ: فَقُلْنَا لَهُ: أَصْلَحَكَ اللهُ، إِنَّهُمُ الْأَعَرَابُ، وَهُمْ يَرْضَوْنَ بِالْيَسِيرِ، فَقَالَ عَبْدُ اللهِ، إِنَّ أَبَا هَذَا كَانَ وَادًّا لِعُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، وَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:" إِنَّ أَبَرَّ الْبِرِّ صِلَةُ الْوَلَدِ أَهْلَ وُدِّ أَبِيهِ" رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ أَبِي الطَّاهِرِ.
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ دیہاتیوں میں سے ایک شخص مکہ کے راستے میں ملا تو عبداللہ رضی اللہ عنہما نے اسے سلام کہا اور جس گدھے پر سوار تھے اسے بھی سوار کر لیا اور اپنا عمامہ جو سر پر تھا اسے دے دیا۔ ابن دینار رحمہ اللہ کہتے ہیں: ہم نے انہیں کہا: «أَصْلَحَكَ اللَّهُ» ”اللہ آپ کی اصلاح کرے“، وہ دیہاتی لوگ بہت کم پر خوش ہو جاتے ہیں تو عبداللہ رضی اللہ عنہما نے کہا: اس کا والد عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے بہت پیار کرتا تھا اور میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے تھے: ”نیکیوں میں سے بڑی نیکی والد کے ساتھ محبت کرنے والوں سے صلہ رحمی اور محبت کرنا ہے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الزكاة/حدیث: 7768]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ اخرجه مسلم»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
1638. -- باب: " خير الصدقة ما كان عن ظهر غنى "
-- باب: اس فرمان کا بیان کہ ”بہترین صدقہ وہ ہے جو مالداری کی حالت میں دیا جائے“۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7769
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو الْعَبَّاسِ الْقَاسِمُ بْنُ الْقَاسِمِ السَّيَّارِيُّ بِمَرْوٍ، ثنا أَبُو الْمُوَجِّهِ، أنبأ عَبْدَانُ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللهِ، أنبأ يُونُسُ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، حدَّثَنِي سَعِيدُ بْنُ الْمُسَيِّبِ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ، يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" خَيْرُ الصَّدَقَةِ مَا كَانَ عَنْ ظَهْرِ غِنًى، وَابْدَأْ بِمَنْ تَعُولُ" رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ عَبْدَانَ.
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بہترین صدقہ وہ ہے جو غنیٰ کے بعد ہو اور اس کا آغاز اپنے عیال سے کرو۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الزكاة/حدیث: 7769]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ اخرجه البخاري»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں