🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
السنن الكبرى للبيهقي میں نمبر سے تلاش
حدیث نمبر لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں عربی متن سے تلاش
عربی حدیث کا متن لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں اردو متن سے تلاش
اردو حدیث کا متن لکھیں:
1644. -- باب: ما ورد في المنيحة
-- باب: منیحہ (عاریتاً دودھ پینے کے لیے جانور دینے) کے متعلق جو منقول ہے۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7799
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ دَاسَةَ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا مُسَدَّدٌ، ثنا عِيسَى، عَنِ الْأَوْزَاعِيِّ، عَنْ حَسَّانَ بْنِ عَطِيَّةَ، عَنْ أَبِي كَبْشَةَ السَّلُولِيِّ، قَالَ: سَمِعْتُ عَبْدَ اللهِ بْنَ عَمْرٍو، يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَرْبَعُونَ خَصْلَةً، أَعْلَاهُنَّ مَنِيحَةُ الْعَنْزِ، مَا يَعْمَلُ عَبْدٌ مِنْهَا بِخَصْلَةٍ رَجَاءَ ثَوَابِهَا، وَتَصْدِيقَ مَوْعُودِهَا، إِلَّا أَدْخَلَهُ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ بِهَا الْجَنَّةَ" ثُمَّ ذَكَرَ قَوْلَ حَسَّانَ بِمَعْنَاهُ. رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ مُسَدَّدٍ.
سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”چالیس خصلتیں اچھی ہیں، ان سب میں سے بہترین دودھ والا جانور (بطور عاریت) دینا ہے، کوئی بندہ ان میں سے کسی بھی خصلت پر ثواب کی امید اور وعدے کی تصدیق کرتے ہوئے عمل کرتا ہے تو اللہ اسے جنت میں داخل کرے گا۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الزكاة/حدیث: 7799]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ تقدم قبله»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7800
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ الْحَافِظُ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ ⦗٣١٠⦘ إِسْحَاقَ الْأَنْمَاطِيُّ، ثنا هَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللهِ، ثنا زَكَرِيَّا بْنُ عَدِيٍّ، ثنا عُبَيْدُ اللهِ بْنُ عَمْرٍو، عَنْ زَيْدٍ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ ثَابِتٍ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ نَهَى وَذَكَرَ خِصَالًا، وَقَالَ:" وَمَنْ مَنَحَ مَنِيحَةً غَدَتْ بِصَدَقَةٍ، وَرَاحَتْ بِصَدَقَةٍ، صَبُوحُهَا وَغَبُوقُهَا" رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ أَحْمَدَ بْنِ أَبِي خَلَفٍ عَنْ زَكَرِيَّا.
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے منع کیا اور ان خصائل کا تذکرہ کیا، پھر فرمایا: ”جس نے کوئی دودھ والا جانور (عاریتاً) دیا تو وہ صبح کو بھی صدقے کے ساتھ جاتا ہے اور شام کو بھی صدقے کے ساتھ لوٹتا ہے، اس کا صبح کا دودھ بھی اور شام کا دودھ بھی۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الزكاة/حدیث: 7800]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ اخرجه مسلم»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7801
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ سَهْلٍ، ثنا عَبْدُ الْجَبَّارِ بْنُ الْعَلَاءِ، ثنا سُفْيَانُ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنِ الْأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، يَبْلُغُ بِهِ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" أَفْضَلُ الصَّدَقَةِ الْمَنِيحَةُ، إِلَّا رَجُلٌ مِنَ الْمُسْلِمِينَ يَمْنَحُ أَهْلَ بَيْتٍ نَاقَةً تَغْدُو بِرِفْدٍ، وَتَرُوحُ بِرِفْدَانِ، أَجْرُهَا عِنْدَ اللهِ عَظِيمٌ" رَوَاهُ مُسْلِمٌ بِبَعْضِ مَعْنَاهُ عَنْ زُهَيْرِ بْنِ حَرْبٍ عَنْ سُفْيَانَ.
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے منقول ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”سب سے افضل صدقہ دودھ والا جانور (عاریتاً) دینا ہے، یعنی کوئی مسلمان آدمی کسی گھر والوں کو ایسی اونٹنی دے جو صبح ایک برتن (دودھ) دے اور شام کو دو برتن دے، اس کا اجر اللہ کے ہاں بہت بڑا ہے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الزكاة/حدیث: 7801]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ مسلم»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
1645. -- باب: ما ورد في قوله تعالى: ويؤثرون على أنفسهم ولو كان بهم خصاصة
-- باب: اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کے متعلق جو منقول ہے کہ ”اور وہ اپنے آپ پر دوسروں کو ترجیح دیتے ہیں، اگرچہ وہ خود تنگ دستی کا شکار ہوں“۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7802
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ الْمُزَكِّي، قَالَا: أنبأ أَبُو الْحُسَيْنِ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدُوسٍ، ثنا عُثْمَانُ بْنُ سَعِيدٍ الدَّارِمِيُّ، ثنا مُسَدَّدٌ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ دَاوُدَ، عَنْ فُضَيْلٍ يَعْنِي ابْنَ غَزْوَانَ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ: أَنَّ رَجُلًا أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَبَعَثَ إِلَى نِسَائِهِ، فَقَالُوا: مَا عِنْدَنَا إِلَّا الْمَاءُ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَنْ يُضَيِّفُ هَذَا؟" فَقَالَ رَجُلٌ مِنَ الْأَنْصَارِ: أَنَا، فَانْطَلَقَ بِهِ إِلَى امْرَأَتِهِ، فَقَالَ: أَكْرِمِي ضَيْفَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَتْ: مَا مَعَنَا إِلَّا قُوتُ الصِّبْيَانِ، فَقَالَ" هَيِّئِي طَعَامَكِ وَأَطْفِئِي سِرَاجَكِ، وَنَوِّمِي صِبْيَانَكِ إِذَا أَرَادُوا الْعَشَاءَ، فَهَيَّأَتْ طَعَامَهَا، وَأَصْلَحَتْ سِرَاجَهَا، وَنَوَّمَتْ صِبْيَانَهَا، ثُمَّ قَامَتْ كَأَنَّهَا تُصْلِحُ سِرَاجَهَا فَأَطْفَأَتْهُ، وَجَعَلَا يُرِيَانِهِ أَنَّهُمَا يَأْكُلَانِ وَبَاتَا طَاوِيَيْنِ، فَلَمَّا أَصْبَحَ غَدَا إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ:" لَقَدْ ضَحِكَ اللهُ اللَّيْلَةَ، أَوْ عَجِبَ مِنْ فِعَالِكُمْ"، وَقَالَ: وَأَنْزَلَ اللهُ: {وَيُؤْثِرُونَ عَلَى أَنْفُسِهِمْ وَلَوْ كَانَ بِهِمْ خَصَاصَةٌ} [الحشر: ٩] ، تَلَا الْآيَةَ. رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ مُسَدَّدٍ، وَأَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ مِنْ أوْجُهٍ عَنْ فُضَيْلِ بْنِ غَزْوَانَ.
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ایک شخص آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی ازواج کی طرف پیغام بھیجا تو انھوں نے کہا: ہمارے پاس تو پانی کے سوا کچھ نہیں، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پھر اس مہمان کی مہمان نوازی کون کرے گا؟“ تو انصاری شخص نے کہا: میں کروں گا، پھر وہ اسے لے کر اپنے گھر کی طرف چلا اور اپنی بیوی سے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا مہمان ہے اس کی عزت کرو، تو اس نے کہا: میں نے تو صرف بچوں کا کھانا رکھا ہوا ہے، تو انھوں نے کہا: کھانا تیار کرو اور چراغ گل کر دو اور بچوں کو سلا دو۔ سو جب انھوں نے کھانا کھانے کا ارادہ کیا تو اس کی بیوی نے کھانا تیار کیا اور دیے (چراغ) کو ٹھیک کیا اور بچوں کو سلا دیا۔ پھر وہ چراغ کو ٹھیک کرنے کھڑی ہوئی اور چراغ کو بند کر دیا اور وہ دونوں اس پر یہ ظاہر کرتے رہے کہ وہ دونوں بھی کھانا کھا رہے ہیں اور بھوک میں رات گزار دی۔ جب صبح ہوئی تو وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس رات نے اللہ کو ہنسا دیا ہے“ یا فرمایا: ”تمہارے فعل کی وجہ سے تعجب کیا۔“ اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی: ﴿وَيُؤْثِرُونَ عَلَىٰ أَنْفُسِهِمْ وَلَوْ كَانَ بِهِمْ خَصَاصَةٌ﴾ [سورة الحشر: 9] کہ وہ اپنے پر دوسروں کو ترجیح دیتے ہیں اگرچہ خود بھوک سے ہوں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الزكاة/حدیث: 7802]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ اخرجه البخاري»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7803
أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللهِ بْنُ يُوسُفَ الْأَصْبَهَانِيُّ، أنبأ أَبُو سَعِيدِ بْنُ الْأَعْرَابِيِّ، ثنا سَعْدَانُ بْنُ نَصْرٍ، ثنا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ نَافِعٍ، قَالَ: مَرِضَ ابْنُ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فَاشْتَهَى عِنَبًا أَوَّلَ مَا جَاءَ الْعِنَبُ فَأَرْسَلَتْ صَفِيَّةُ بِدِرْهَمٍ فَاشْتَرَتْ عُنْقُودًا بِدِرْهَمٍ، فَاتَّبَعَ ⦗٣١١⦘ الرَّسُولَ سَائِلٌ، فَلَمَّا أَتَى الْبَابَ دَخَلَ، قَالَ السَّائِلُ: السَّائِلُ، قَالَ ابْنُ عُمَرَ:" أَعْطُوهُ إِيَّاهُ"، فَأَعْطَوْهُ إِيَّاهُ، ثُمَّ أَرْسَلَتْ بِدِرْهَمٍ آخَرَ فَاشْتَرَتْ بِهِ عُنْقُودًا، فَاتَّبَعَ الرَّسُولَ السَّائِلُ فَلَمَّا انْتَهَى إِلَى الْبَابِ وَدَخَلَ قَالَ السَّائِلُ: السَّائِلُ، قَالَ ابْنُ عُمَرَ:" أَعْطُوهُ إِيَّاهُ"، فَأَعْطَوْهُ إِيَّاهُ، وَأَرْسَلَتْ صَفِيَّةُ إِلَى السَّائِلِ، فَقَالَتْ: وَاللهِ لَئِنْ عُدْتَ لَا تُصِيبَنَّ مِنِّي خَيْرًا أَبَدًا، ثُمَّ أَرْسَلَتْ بِدِرْهَمٍ آخَرَ، فَاشْتَرَتْ بِهِ.
نافع رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیمار ہو گئے تو انہوں نے انگور کی خواہش کی، (جب) سب سے پہلے انگور آئے۔ سیدہ صفیہ رضی اللہ عنہا نے ایک درہم بھیجا اور ایک درہم سے انگور کا گچھا خریدا گیا اور پیغام لانے والے کے پیچھے ایک سائل چلا، جب وہ دروازے پر آیا اور اندر داخل ہوا تو سائل نے کہا: سائل ہے، سائل ہے، تو ابن عمر رضی اللہ عنہما نے کہا: یہ اس کو دے دو، تو انہوں نے اسے دے دیا۔ پھر انہوں نے ایک اور درہم بھیجا اور اس سے انگور کا گچھا خریدا گیا، تو سائل پھر قاصد کے پیچھے چلا، جب وہ دروازے پر پہنچا اور اندر داخل ہوا تو سائل نے کہا: سائل ہے، سائل ہے، تو ابن عمر رضی اللہ عنہما نے کہا: یہ اس کو دے دو، تو انہوں نے اسے دے دیا، تو سیدہ صفیہ رضی اللہ عنہا نے سائل کو پیغام بھیجا اور کہا: اللہ کی قسم! اگر تو پھر آیا تو مجھ سے کبھی بھلائی نہ پائے گا، پھر انہوں نے ایک اور درہم بھیجا اور اس سے (انگور) خریدے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الزكاة/حدیث: 7803]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ الطبراني»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
1646. -- باب: ما ورد في سقي الماء
-- باب: پانی پلانے کے متعلق جو منقول ہے۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7804
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ الْعَدْلُ بِبَغْدَادَ، أنبأ أَبُو جَعْفَرٍ الرَّزَّازُ، ثنا جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ شَاكِرٍ، ثنا عَفَّانُ، ثنا شُعْبَةُ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا عَلِيُّ بْنُ الْحَسَنِ الْهِلَالِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَرْعَرَةَ، ثنا شُعْبَةُ، عَنْ قَتَادَةَ عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، وَالْحَسَنِ، عَنْ سَعْدِ بْنِ عُبَادَةَ أَنَّهُ أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: أَيُّ الصَّدَقَةِ أَعْجَبُ إِلَيْكَ، قَالَ:" سَقْيُ الْمَاءِ" لَفْظُ حَدِيثِ مُحَمَّدِ بْنِ عَرْعَرَةَ، وَفِي حَدِيثِ عَفَّانَ أَنَّ سَعْدَ بْنَ عُبَادَةَ، قَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ أِيُّ الصَّدَقَةِ أَفْضَلُ؟ وَزَادَ قَالَ: وَكَانَ لِسَعْدٍ سِقَايَةٌ بِالْمَدِينَةِ، قَالَ: قُلْتُ: لِقَتَادَةَ مَنْ قَالَ لِآلِ سَعْدٍ؟ قَالَ الْحَسَنُ.
سیدنا سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور عرض کیا: کون سا صدقہ بہتر ہے؟ (آپ کو پسند ہے) تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پانی پلانا۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الزكاة/حدیث: 7804]
تخریج الحدیث: «ضعيف۔ اخرجه ابو داؤد»

الحكم على الحديث: ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7805
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا عَلِيُّ بْنُ الْحُسَيْنِ، ثنا أَبُو بَدْرٍ، ثنا أَبُو خَالِدٍ الَّذِي كَانَ يَنْزِلُ فِي بَنِي دَالِانَ، عَنْ نُبَيْحٍ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" أَيُّمَا مُسْلِمٍ كَسَا ثَوْبًا عَلَى عُرْيٍ كَسَاهُ اللهُ مِنْ خَضِرِ الْجَنَّةِ، وَأَيُّمَا مُسْلِمٍ أَطْعَمَ مُسْلِمًا عَلَى جُوعٍ أَطْعَمَهُ اللهُ مِنْ ثِمَارِ الْجَنَّةِ، وَأَيُّمَا مُسْلِمٍ سَقَى مُسْلِمًا عَلَى ظَمَأٍ سَقَاهُ اللهُ مِنَ الرَّحِيقِ الْمَخْتُومِ".
سیدنا ابوسعید رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس مسلمان نے کسی کو کپڑے پہنائے، اس کی حاجت پر اللہ تعالیٰ اسے جنت کے ریشم سے پہنائے گا اور جس نے کسی مسلمان کو بھوک میں کھلایا، اسے اللہ تعالیٰ جنت کے پھل کھلائے گا اور جس کسی نے مسلمان کو پیاس کی وجہ سے پلایا، اللہ اسے ﴿رَحِيقٍ مَّخْتُومٍ﴾ [سورة المطففين: 25] (عمدہ شراب) پلائیں گے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الزكاة/حدیث: 7805]
تخریج الحدیث: «ضعيف۔ اخرجه ابوداؤد»

الحكم على الحديث: ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7806
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِسْحَاقَ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ مَسْلَمَةَ، عَنْ مَالِكٍ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ بْنُ أَبِي الْمَعْرُوفِ الْفَقِيهُ الْمِهْرَجَانِيُّ بِهَا، ثنا بِشْرُ بْنُ أَحْمَدَ، ثنا دَاوُدُ بْنُ الْحَسَنِ الْبَيْهَقِيُّ، ثنا قُتَيْبَةُ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ سُمَيٍّ مَوْلَى أَبِي بَكْرٍ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ السَّمَّانِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" بَيْنَمَا رَجُلٌ يَمْشِي بِطَرِيقٍ اشْتَدَّ عَلَيْهِ الْعَطَشُ، فَوَجَدَ بِئْرًا، فَنَزَلَ بِهَا، فَشَرِبَ ثُمَّ خَرَجَ، فَإِذَا كَلْبٌ يَلْهَثُ، يَأْكُلُ الثَّرَى مِنَ الْعَطَشِ، فَقَالَ الرَّجُلُ: لَقَدْ بَلَغَ بِهَذَا مِنَ الْعَطَشِ مِثْلُ الَّذِي كَانَ بَلَغَنِي، وَفِي رِوَايَةِ قُتَيْبَةَ: مِثْلُ مَا بَلَغْتُ، فَنَزَلَ الْبِئْرَ فَمَلَأَ خُفَّهُ مَاءً، فَأَمْسَكَهُ بِفِيهِ حتَّى رَقِيَ، فَسَقَى الْكَلْبَ، فَشَكَرَ اللهُ لَهُ، فَغَفَرَ لَهُ"، فَقَالُوا: يَا رَسُولَ اللهِ، وَإِنَّ لَنَا فِي الْبَهَائِمِ لَأَجْرًا؟ فَقَالَ:" فِي كُلِّ ذَاتِ كَبِدٍ رَطْبَةٍ أَجْرٌ" ⦗٣١٢⦘ رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْلَمَةَ الْقَعْنَبِيِّ، وَرَوَاهُ مُسْلِمٌ عَنْ قُتَيْبَةَ بْنِ سَعِيدٍ.
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ایک مرتبہ ایک آدمی راستے میں چل رہا تھا، اسے سخت پیاس محسوس ہوئی، تو اس نے ایک کنواں پایا اور اس میں اتر کر پانی پیا۔ پھر وہ نکلا تو اس نے دیکھا کہ ایک کتا ہانپ رہا ہے اور پیاس کی وجہ سے مٹی چاٹ رہا ہے۔ اس آدمی نے کہا: اسے بھی ویسی ہی پیاس لگی ہے جیسی مجھے لگی تھی (قتیبہ کی روایت میں ہے: جیسی مجھے پہنچی تھی)۔
پھر وہ کنویں میں اترا اور اپنے جوتے کو پانی سے بھرا اور اسے اپنے منہ میں دبا لیا، یہاں تک کہ وہ اوپر چڑھ آیا اور کتے کو پانی پلایا، اللہ تعالیٰ نے اس کے اس فعل کی قدر کی اور اسے بخش دیا۔“ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے عرض کیا: کیا ہمارے لیے جانوروں میں بھی اجر ہے؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہر تر جگر والے میں اجر ہے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الزكاة/حدیث: 7806]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7807
أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ بِشْرَانَ بِبَغْدَادَ، أنبأ إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ مَنْصُورٍ الرَّمَادِيُّ، ثنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أنبأ مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ سُرَاقَةَ بْنِ مَالِكِ بْنِ جُعْشُمٍ أَنَّهُ جَاءَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي وَجَعِهِ، فَقَالَ: أَرَأَيْتَ الضَّالَّةَ تَرِدُ عَلَى حَوْضِ إِبِلِي، هَلْ لِي أَجْرٌ إِنْ سَقَيْتُهَا؟ قَالَ:" نَعَمْ، فِي الْكَبِدِ الْحَرَّى أَجْرٌ".
سیدنا سراقہ بن مالک بن جعشم رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ وہ اپنی بیماری (تکلیف) میں پیارے پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے تو کہا: ”مجھے بتائیں اگر گمشدہ جانور میرے اونٹ کے حوض پر آجائے تو کیا اسے پلانے سے اجر ملے گا؟“ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں! زندہ دل والے میں اجر ہے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الزكاة/حدیث: 7807]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ اخرجه ابن ماجه»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7808
وَرَوَاهُ مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ يَسَارٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ، عَنْ عَمِّهِ سُرَاقَةَ بْنِ مَالِكِ بْنِ جُعْشُمٍ قَالَ: سَأَلْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الضَّالَّةِ مِنَ الْإِبِلِ تَغْشَى حَوْضِي، هَلْ لِي مِنْ أَجْرٍ؟ قَالَ:" نَعَمْ، وَكُلُّ ذِي كَبِدِ حَرَّى"، أَخْبَرَنَاهُ أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ دَاوُدَ الرَّزَّازُ بِبَغْدَادَ، وَأنبأ أَبُو بَكْرٍ الشَّافِعِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ الْجَهْمِ، ثنا يَعْلَى بْنُ عُبَيْدٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ فَذَكَرَهُ وَرَوَاهُ يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَمِّهِ.
سراقہ بن مالک بن جعشم رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے گمشدہ اونٹ کے بارے میں دریافت کیا جو میرے حوض پر آتا ہے، اگر میں اسے پلاؤں تو کیا مجھے اجر ملے گا؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں، ہر زندہ دل والے میں اجر ہے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الزكاة/حدیث: 7808]
تخریج الحدیث: «صحيح»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں