السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
1646. -- باب: ما ورد في سقي الماء
-- باب: پانی پلانے کے متعلق جو منقول ہے۔
حدیث نمبر: 7809
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ، أنبأ إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ مَنْصُورٍ، ثنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أنبأ مَعْمَرٌ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، أَخْبَرَنِي كُدَيْرٌ الضَّبِّيُّ، أَنَّ رَجُلًا أَعْرَابِيًّا أَتَى رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: أَخْبِرْنِي بِعَمَلٍ يُقَرِّبُنِي مِنْ طَاعَتِهِ، وَيُبَاعِدُنِي مِنَ النَّارِ، قَالَ:" أَوَ هُمَا أَعْمَلَتَاكَ؟". قَالَ: نَعَمْ، قَالَ:" تَقُولُ الْعَدْلَ، وَتُعْطِي الْفَضْلَ"، قَالَ: وَاللهِ مَا أَسْتَطِيعُ أَنْ أَقُولَ الْعَدْلَ كُلَّ سَاعَةٍ، وَمَا أَسْتَطِيعُ أَنْ أُعْطِيَ فَضْلَ مَالِي، قَالَ:" فَتُطْعِمُ الطَّعَامَ، وَتُفْشِي السَّلَامَ" قَالَ: هَذِهِ أَيْضًا شَدِيدَةٌ، قَالَ:" فَهَلْ لَكَ إِبِلٌ؟". قَالَ: نَعَمْ، قَالَ:" فَانْظُرْ بَعِيرًا مِنْ إِبِلِكَ وَسِقَاءٍ، ثُمَّ اعْمَدْ إِلَى أَهْلِ أَبْيَاتٍ لَا يَشْرَبُونَ الْمَاءَ إِلَّا غِبًّا فَاسْقِهِمْ، فَلَعَلَّكَ أَنْ لَا يَهْلِكَ بَعِيرُكَ، وَلَا يَنْخَرِقَ سِقَاؤُكَ حَتَّى تَجِبَ لَكَ الْجَنَّةُ". قَالَ: فَانْطَلَقَ الْأَعْرَابِيُّ يُكَبِّرُ، قَالَ: فَمَا انْخَرَقَ سِقَاؤُهُ، وَلَا هَلَكَ بَعِيرُهُ حَتَّى قُتِلَ شَهِيدًا".
کُدَیر ضَبّی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ایک دیہاتی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور عرض کیا: مجھے ایسا عمل بتلائیں جو مجھے اس (جنت) کے قریب قریب کر دے اور دوزخ سے دور کر دے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”کیا تو ان پر عمل کرے گا؟“ اس نے کہا: جی ہاں، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”انصاف کی بات کہو اور مال سے بچا ہوا دے دو۔“ تو اس نے کہا: اللہ کی قسم! میں استطاعت نہیں رکھتا کہ ہر وقت عدل کی بات کروں اور نہ ہی اپنا بچا ہوا مال دینے کی استطاعت رکھتا ہوں، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پھر تو کھانا کھلا اور سلام عام کر۔“ اس نے کہا: یہ بھی مشکل ہے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا تیرے اونٹ ہیں؟“ اس نے کہا: جی ہاں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پھر تو اپنے اونٹوں میں سے ایک اونٹ اور ایک مشکیزہ لے اور ایسے گھر والوں کی طرف جا جو ایک دن چھوڑ کر ہی پانی پیتے ہیں، سو تو انہیں پلا، شاید تیرا اونٹ ہلاک نہ ہو اور تیرا مشکیزہ نہ پھٹے، یہاں تک کہ تجھ پر جنت واجب ہو جائے۔“ وہ کہتے ہیں: وہ دیہاتی تکبیر کہتے ہوئے چلا گیا۔ راوی کہتے ہیں کہ نہ تو اس کا مشکیزہ پھٹا اور نہ ہی اس کا اونٹ ہلاک ہوا، یہاں تک کہ وہ شہید ہو گیا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الزكاة/حدیث: 7809]
تخریج الحدیث: «ضعيف۔ اخرجه ابن خزيمه»
الحكم على الحديث: ضعيف
1647. -- باب: كراهية البخل والشح، والإقتار
-- باب: بخل، شدید حرص (کنجوسی) اور خرچ میں تنگی کرنے کی کراہت کا بیان۔
حدیث نمبر: 7810
حَدَّثَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللهِ بْنُ يُوسُفَ الْأَصْبَهَانِيُّ، أنبأ أَبُو سَعِيدِ بْنُ الْأَعْرَابِيِّ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، وَأَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ، قَالَ: أنبأ إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ، قَالَ: ثنا سَعْدَانُ بْنُ نَصْرٍ، ثنا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنِ الْأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، يَبْلُغُ بِهِ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" مَثَلُ الْمُنْفِقِ وَالْبَخِيلِ كَمَثَلِ رَجُلَيْنِ عَلَيْهِمَا جُنَّتَانِ، أَوْ جُبَّتَانِ مِنْ حَدِيدٍ مِنْ لَدُنْ ثَدْيَيْهِمَا إِلَى تَرَاقِيهِمَا، فَإِذَا أَرَادَ الْمُنْفِقُ أَنْ يُنْفِقَ سُبِغَتْ عَلَيْهِ الدِّرْعُ، أَوْ مَرَّتْ حَتَّى تُجِنَّ بَنَانَهُ، وَتَعْفُوَ أَثَرَهُ، وَإِذَا أَرَادَ الْبَخِيلُ أَنْ يُنْفِقَ قَلَصَتْ عَلَيْهِ، وَلَزِمَتْ كُلُّ حَلْقَةٍ مَوْضِعَهَا حَتَّى أَخَذَتْ بِعُنُقِهِ، أَوْ بِتَرْقُوَتِهِ، فَهُوَ يُوَسِّعُهَا وَهِيَ لَا تَتَّسِعُ، فَهُوَ يُوَسِّعُهَا وَهِيَ لَا تَتَّسِعُ".
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”خرچ کرنے والے اور بخیل کی مثال ایسے دو آدمیوں کی طرح ہے جن پر لوہے کی قمیصیں یا جبے ہیں جو ان کی چھاتیوں سے گردن تک ہیں، سو جب وہ خرچ کرنے والا خرچ کرنا چاہتا ہے تو اس کی قمیص کشادہ ہوجاتی ہے، یہاں تک کہ وہ اس کے قدموں تک پہنچ جاتی ہے اور اس کے قدموں کے نشان بھی مٹا دیتی ہے اور جب بخیل خرچ کرنا چاہتا ہے تو وہ اس پر سکڑ جاتی ہے اور ہر کڑی اپنی جگہ پر چمٹ جاتی ہے، یہاں تک کہ اسے گردن سے پکڑ لیتی ہے یا حلق سے، سو وہ اسے کشادہ کرنے کی کوشش کرتا ہے مگر وہ کشادہ نہیں ہوتی۔ پھر وہ کوشش کرتا ہے مگر اسے کامیابی نہیں ہوتی۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الزكاة/حدیث: 7810]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ اخرجه البخاري»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 7811
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ وَغَيْرُهُمَا، قَالُوا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنبأ الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، أنبأ الشَّافِعِيُّ، أنبأ سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، فَذَكَرَهُ بِإِسْنَادِهِ نَحْوَهُ، إِلَّا أَنَّهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَلَمْ يَقُلْ: مِنْ حَدِيدٍ فَهُوَ يُوَسِّعُهَا وَلَا تَتَّسِعُ، مَرَّةً وَاحِدَةً..
امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: مجھے سفیان بن عیینہ رحمہ اللہ نے اسی سند کے ساتھ ایسی حدیث بیان کی، سوائے اس کے کہ انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، یہ نہیں کہا کہ وہ لوہے کی ہوتی ہے، ”وہ اسے کشادہ کرنا چاہتا ہے مگر کشادہ نہیں ہوتی۔“ یہ بھی ایک مرتبہ کہا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الزكاة/حدیث: 7811]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ انظر قبله»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 7812
قَالَ: وَأَخْبَرَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنِ الْحَسَنِ بْنِ مُسْلِمٍ، عَنْ طَاوُسٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِثْلَهُ، إِلَّا أَنَّهُ قَالَ:" فَهُوَ يُوَسِّعُهَا وَلَا تَتَوَسَّعُ". رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ عَمْرٍو النَّاقِدِ، عَنْ سُفْيَانَ بِالْإِسْنَادَيْنِ جَمِيعًا، وَأَخْرَجَهُ الْبُخَارِيُّ مِنْ وَجْهٍ آخَرَ عَنِ الْحَسَنِ بْنِ مُسْلِمٍ.
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ایسی ہی حدیث بیان کی مگر یہ کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وہ اسے کشادہ کرنا چاہے گا مگر کشادہ نہیں ہوگی۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الزكاة/حدیث: 7812]
حدیث نمبر: 7813
أَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ، ثنا أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الْوَهَّابِ بْنِ حَبِيبٍ الْفَرَّاءُ، أنبأ مُحَاضِرٌ، ثنا هِشَامٌ وَهُوَ ابْنُ عُرْوَةَ، عَنْ فَاطِمَةَ يَعْنِي بِنْتَ الْمُنْذِرِ، عَنْ أَسْمَاءَ يَعْنِي بِنْتَ أَبِي بَكْرٍ، رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا، قَالَتْ: قَالَ لِي رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَنْفِقِي وَانْضَحِي هَكَذَا وَهَكَذَا، وَلَا تُحْصِي فَيُحْصِيَ اللهُ عَلَيْكِ، وَلَا تُوعِي فَيُوعِيَ اللهُ عَلَيْكِ" أَخْرَجَهُ الْبُخَارِيُّ، وَمُسْلِمٌ مِنْ أَوْجُهٍ، عَنْ هِشَامٍ.
سیدتنا اسماء بنت ابی بکر رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تو خرچ کر اور ایسے ایسے بکھیر دے اور شمار نہ کر ورنہ اللہ تجھے شمار کر کے دے گا اور (مال) روک کر جمع نہ کر ورنہ اللہ بھی تجھ سے روک لے گا۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الزكاة/حدیث: 7813]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ اخرجه البخاري»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 7814
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو مُحَمَّدِ بْنُ أَبِي حَامِدٍ الْمُقْرِئُ، وَأَبُو صَادِقِ بْنُ أَبِي الْفَوَارِسِ الْعَطَّارُ، قَالُوا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا الْعَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدٍ الدُّورِيُّ، ثنا الْحَجَّاجُ الْأَعْوَرُ، قَالَ: قَالَ ابْنُ جُرَيْجٍ: أَخْبَرَنِي ابْنُ أَبِي مُلَيْكَةَ، عَنْ عَبَّادِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ الزُّبَيْرِ أَنَّهُ أَخْبَرَهُ، عَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ أَبِي بَكْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا أَنَّهَا جَاءَتِ ⦗٣١٤⦘ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَتْ: يَا نَبِيَّ اللهِ، لَيْسَ لِي شَيْءٌ إِلَّا مَا أَدْخَلَ عَلَيَّ الزُّبَيْرُ، فَهَلْ عَلَيَّ جُنَاحٌ فِي أَنْ أَرْضَخَ مِمَّا يَدْخُلُ عَلَيَّ، فَقَالَ:" ارْضَخِي مَا اسْتَطَعْتِ، وَلَا تُوعِي فَيُوعِيَ اللهُ عَلَيْكِ". أَخْرَجَاهُ فِي الصَّحِيحَيْنِ، فَرَوَاهُ الْبُخَارِيُّ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحِيمِ عَنْ حَجَّاجٍ، وَرَوَاهُ مُسْلِمٌ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ حَاتِمٍ وَغَيْرِهِ، عَنْ حَجَّاجٍ.
سیدہ اسماء بنت ابی بکر رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئیں اور عرض کیا: ”یا نبی اللہ! میرے پاس کچھ بھی نہیں سوائے اس کے جو زبیر مجھے دیتا ہے، کیا مجھ پر گناہ ہے کہ میں اس میں سے خرچ کروں جو وہ مجھے دیتا ہے؟“ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس قدر تیری استطاعت ہے تو خرچ کر اور (مال) روک کر جمع نہ کر ورنہ اللہ بھی تجھ سے روک لے گا۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الزكاة/حدیث: 7814]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ انظر قبله»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 7815
أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ الْفَقِيهُ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ الْقَطَّانُ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ يُوسُفَ، ثنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أنبأ مَعْمَرٌ، عَنْ هَمَّامِ بْنِ مُنَبِّهِ، قَالَ: هَذَا مَا حَدَّثَنَا أَبُو هُرَيْرَةَ، قَالَ: وَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّ اللهَ قَالَ لِي: أَنْفِقْ أُنْفِقْ عَلَيْكَ"، رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ رَافِعٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ.
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بیشک اللہ تعالیٰ نے مجھ سے فرمایا کہ تو خرچ کر، میں تجھ پر خرچ کروں گا۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الزكاة/حدیث: 7815]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ اخرجه البخاري»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 7816
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو الْقَاسِمِ الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ حَبِيبٍ الْمُفَسِّرُ، مِنْ أَصْلِهِ، وَأَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي، قَالُوا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنبأ الْعَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدٍ الدُّورِيُّ، ثنا خَالِدُ بْنُ مَخْلَدٍ، ثنا سُلَيْمَانُ بْنُ بِلَالٍ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ أَبِي مُزَرِّدٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَا مِنْ يوْمٍ يُصْبِحُ الْعِبَادُ فِيهِ إِلَّا مَلَكَانِ يَنْزِلَانِ فَيَقُولُ أَحَدُهُمَا: اللهُمَّ أَعْطِ مُنْفِقًا خَلَفًا، وَيَقُولُ الْآخَرُ اللهُمَّ أَعْطِ مُمْسِكًا تَلَفًا". رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ زَكَرِيَّا عَنْ خَالِدِ بْنِ مَخْلَدٍ، وَأَخْرَجَهُ الْبُخَارِيُّ مِنْ وَجْهٍ آخَرَ عَنْ سُلَيْمَانَ.
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کوئی دن ایسا نہیں ہے جس میں لوگ صبح کرتے ہیں مگر دو فرشتے اترتے ہیں، ان میں سے ایک کہتا ہے: «اللّٰهُمَّ أَعْطِ مُنْفِقًا خَلَفًا» ”اے اللہ! خرچ کرنے والے کو زیادہ عطا کر جو باقی رہنے والا ہو“ اور دوسرا کہتا ہے: «اللّٰهُمَّ أَعْطِ مُمْسِكًا تَلَفًا» ”اے اللہ! نہ خرچ کرنے والے کو ختم ہونے والا عطا کر۔““ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الزكاة/حدیث: 7816]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ اخرجه البخاري»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 7817
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو عَبْدِ اللهِ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ نُعَيْمٍ، ثنا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ جَعْفَرٍ، عَنِ الْعَلَاءِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" مَا نَقَصَتْ صَدَقَةٌ مِنْ مَالٍ، وَمَا زَادَ اللهُ بِعَفْوٍ إِلَّا عِزًّا، أَوْ مَا تَوَاضَعَ أَحَدٌ لِلَّهِ إِلَّا رَفَعَهُ" رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ قُتَيْبَةَ بْنِ سَعِيدٍ.
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”صدقہ مال میں کوئی کمی نہیں کرتا اور اللہ تعالیٰ بندے کو معاف کرنے سے عزت میں اضافہ کرتے ہیں اور جو کوئی اللہ کے لیے عاجزی کرتا ہے اللہ تعالیٰ اسے بلند کر دیتے ہیں۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الزكاة/حدیث: 7817]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ اخرجه مسلم»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 7818
أَخْبَرَنَا الْفَقِيهُ أَبُو الْحَسَنِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ بِالطَّابِرَانِ، ثنا أَبُو الْقَاسِمِ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْعَبَّاسِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْبَزَّازُ لَفْظًا، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ إِسْحَاقَ الْحَرْبِيُّ، ثنا عَفَّانُ، ثنا شُعْبَةُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ، سَمِعْتُ عَبْدَ اللهِ بْنَ الْحَارِثِ، يُحَدِّثُ عَنْ أَبِي كَثِيرٍ أَنَّهُ سَمِعَ عَبْدَ اللهِ بْنَ عَمْرٍو، عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" إِيَّاكُمْ وَالشُّحَّ؛ فَإِنَّهُ أَهْلَكَ مَنْ كَانَ قَبْلَكُمْ، أَمَرَهُمْ بِالْقَطِيعَةِ فَقَطَعُوا، وَأَمَرَهُمْ بِالْبُخْلِ فَبَخِلُوا، وَأَمَرَهُمْ بِالْفُجُورِ فَفَجَرُوا".
عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم بخیلی سے بچو، یقیناً اس نے تم سے پہلوں کو ہلاک کر دیا؛ اس نے انہیں قطع رحمی کا حکم دیا تو انہوں نے قطع رحمی کی، اس نے انہیں بخل کا حکم دیا تو انہوں نے بخل کیا، اس نے انہیں گناہوں کا حکم دیا تو انہوں نے گناہ کیے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الزكاة/حدیث: 7818]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ اخرجه ابوداؤد»
الحكم على الحديث: صحيح