السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
1648. -- باب: وجوه الصدقة، وما على كل سلامى من الناس منها كل يوم
-- باب: صدقہ کی مختلف صورتوں کا بیان، اور یہ کہ ہر روز انسان کے ہر جوڑ پر صدقہ لازم ہے۔
حدیث نمبر: 7829
وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي الْمَعْرُوفِ الْفَقِيهُ، أنبأ بِشْرُ بْنُ أَحْمَدَ الْإِسْفَرَائِنِيُّ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ الْحُسَيْنِ بْنِ نَصْرٍ، ثنا عَلِيُّ بْنُ الْمَدِينِيِّ، ثنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ بْنُ هَمَّامٍ، أنبأ مَعْمَرٌ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ، عَنِ ابْنِ أَبِي كَبْشَةَ الْأَنْمَارِيِّ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ضَرَبَ مَثَلَ هَذِهِ الْأُمَّةِ مَثَلَ أَرْبَعَةٍ، رَجُلٌ. فَذَكَرَ الْحَدِيثَ بِمَعْنَاهُ. [٣١٨] - قَالَ عَلِيٌّ: وَابْنُ أَبِي كَبْشَةَ هَذَا مَعْرُوفٌ وَهُوَ مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي كَبْشَةَ، قَدْ رُوِيَ عَنْهُ حَدِيثٌ آخَرُ، يَعْنِي عَنْ أَبِيهِ، فِي وَادِي ثَمُودَ.
سالم بن ابی الجعد رحمہ اللہ، ابن ابی کبشہ انماری رحمہ اللہ سے نقل فرماتے ہیں اور وہ اپنے والد رضی اللہ عنہ سے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ”اس امت کی مثال بیان کی اور اس میں چار آدمیوں کی مثال دی،“ آگے پوری حدیث اس معنیٰ میں بیان کی۔
علی (بن مدینی) کہتے ہیں: یہ ابن ابی کبشہ معروف ہیں اور یہ محمد بن ابی کبشہ ہیں، ان سے ایک اور حدیث بھی اپنے والد کے واسطے سے وادیٔ ثمود کے بارے میں مروی ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الزكاة/حدیث: 7829]
علی (بن مدینی) کہتے ہیں: یہ ابن ابی کبشہ معروف ہیں اور یہ محمد بن ابی کبشہ ہیں، ان سے ایک اور حدیث بھی اپنے والد کے واسطے سے وادیٔ ثمود کے بارے میں مروی ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الزكاة/حدیث: 7829]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ انظر قبله»
الحكم على الحديث: صحيح
1649. -- باب: فضل من أصبح صائما، وتبع جنازة، وأطعم مسكينا، وعاد مريضا
-- باب: اس شخص کی فضیلت کا بیان جس نے روزے کی حالت میں صبح کی، جنازے کے پیچھے چلا، مسکین کو کھانا کھلایا اور مریض کی عیادت کی۔
حدیث نمبر: 7830
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ الْأَخْرَمُ، وَمُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَلِيٍّ الْمُقْرِئُ، قَالَ: ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ شِيرَوَيْهِ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ أَبِي عُمَرَ، ثنا مَرْوَانُ بْنُ مُعَاوِيَةَ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ كَيْسَانَ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ الْأَشْجَعِيِّ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَنْ أَصْبَحَ مِنْكُمُ الْيَوْمَ صَائِمًا؟" قَالَ أَبُو بَكْرٍ: أَنَا، قَالَ:" فَمَنْ تَبِعَ مِنْكُمُ الْيَوْمَ جِنَازَةً؟"، قَالَ أَبُو بَكْرٍ: أَنَا، قَالَ:" فَمَنْ أَطْعَمَ مِنْكُمُ الْيَوْمَ مِسْكِينًا؟" قَالَ أَبُو بَكْرٍ: أَنَا، قَالَ:" فَمَنْ عَادَ مِنْكُمُ الْيَوْمَ مَرِيضًا؟" قَالَ أَبُو بَكْرٍ: أَنَا، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَا اجْتَمَعْنَ فِي امْرِئٍ إِلَّا دَخَلَ الْجَنَّةَ" رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنِ ابْنِ أَبِي عُمَرَ.
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”آج تم میں سے کس نے روزے کی حالت میں صبح کی ہے؟“ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کہا: ”میں نے۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”آج تم میں سے کس نے جنازے کی اتباع کی ہے؟“ تو سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کہا: ”میں نے۔“ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”آج تم میں سے کس نے مسکین کو کھلایا ہے؟“ تو سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کہا: ”میں نے۔“ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”آج تم میں سے کس نے تیمارداری کی ہے؟“ تو سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کہا: ”میں نے۔“ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نہیں جمع ہوں گی یہ سب کسی مسلمان میں مگر وہ جنت میں داخل ہوگا۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الزكاة/حدیث: 7830]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ اخرجه مسلم»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 7831
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو نَصْرٍ أَحْمَدُ بْنُ عَلِيٍّ الْفَامِيُّ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَوْفٍ الطَّائِيُّ، ثنا ابْنُ الْمُصَفَّى، ثنا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنِ الْمُخْتَارِ بْنِ فُلْفُلٍ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ:" بَاكِرُوا بِالصَّدَقَةِ؛ فَإِنَّ الْبَلَاءَ لَا يَتَخَطَّى الصَّدَقَةَ" مَوْقُوفٌ، وَكَانَ فِي كِتَابِ شَيْخِنَا أَبِي نَصْرٍ الْفَامِيِّ مَرْفُوعًا، وَهُوَ وَهْمٌ، وَرُوِيَ عَنْ أَبِي يُوسُفَ الْقَاضِي، عَنِ الْمُخْتَارِ بْنِ فُلْفُلٍ مَرْفُوعًا.
سیدنا انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ”صدقہ و خیرات میں جلدی کر، یقیناً مصائب صدقات کو نہیں روندتے۔“
یہ روایت موقوف ہے، ہمارے شیخ ابونصر فامی کی کتاب میں یہ مرفوع تھی اور یہ وہم (غلطی) ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الزكاة/حدیث: 7831]
یہ روایت موقوف ہے، ہمارے شیخ ابونصر فامی کی کتاب میں یہ مرفوع تھی اور یہ وہم (غلطی) ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الزكاة/حدیث: 7831]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
1650. -- باب: فضل صدقة الصحيح الشحيح
-- باب: تندرست اور مال کی حرص رکھنے والے شخص کے صدقہ کرنے کی فضیلت کا بیان۔
حدیث نمبر: 7832
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحُسَيْنُ بْنِ عُمَرَ بْنِ بُرْهَانَ الْغَزَّالُ، وَأَبُو الْحُسَيْنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ بِشْرَانَ الْعَدْلُ، وَأَبُو الْحُسَيْنِ مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ، وَأَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللهِ بْنُ يَحْيَى بْنِ عَبْدِ الْجَبَّارِ بِبَغْدَادَ، قَالُوا: أنبأ إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ عَرَفَةَ، ثنا جَرِيرُ بْنُ عَبْدِ الْحَمِيدِ، عَنْ عُمَارَةَ بْنِ الْقَعْقَاعِ، عَنْ أَبِي زُرْعَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: سُئِلَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أِيُّ الصَّدَقَةِ أَفْضَلُ؟ قَالَ:" لَتُنَبَّأَنَّ، أَنْ تَصَدَّقَ وَأَنْتَ صَحِيحٌ شَحِيحٌ، تَأْمُلُ الْبَقَاءَ، وَتَخَافُ الْفَقْرَ، وَلَا تُمْهِلُ حَتَّى إِذَا بَلَغَتِ الْحُلْقُومَ، قُلْتَ: لِفُلَانٍ كَذَا، وَلِفُلَانٍ كَذَا، إِلَّا وَقَدْ كَانَ لِفُلَانٍ" ⦗٣١٩⦘ رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ زُهَيْرِ بْنِ حَرْبٍ عَنْ جَرِيرٍ، وَأَخْرَجَهُ الْبُخَارِيُّ مِنْ وَجْهَيْنِ آخَرَيْنِ عَنْ عُمَارَةَ.
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا گیا: کون سا صدقہ افضل ہے؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم اس بارے میں آگاہ کیے جاؤ گے، تم صدقہ کرو اس حال میں کہ تندرست اور اس کی چاہت کرنے والے ہو، اپنے پاس رکھنے کی خواہش بھی ہو اور محتاجی کا ڈر بھی ہو، تو اس بات کا انتظار نہ کر کہ تیری روح حلق تک پہنچ جائے، پھر تو کہے کہ فلاں کا اتنا، فلاں کا اتنا، خبردار! وہ تو اب فلاں کا ہو چکا ہے۔“ (امام مسلم نے اپنی صحیح میں زہیر بن حرب کے حوالے سے اسے بیان کیا ہے اور امام بخاری نے دیگر واسناد سے بیان کیا ہے)۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الزكاة/حدیث: 7832]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ اخرجه البخاري»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 7833
أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ الْفَقِيهُ، أنبأ أَبُو عُثْمَانَ عَمْرُو بْنُ عَبْدِ اللهِ الْبَصْرِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ، أنبأ يَعْلَى بْنُ عُبَيْدٍ، ثنا سُفْيَانُ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ أَبِي حَبِيبَةَ، قَالَ: أَوْصَى إِلَيَّ رَجُلٌ بِطَائِفَةٍ مِنْ مَالِهِ أَضَعُهَا، فَأَتَيْتُ أَبَا الدَّرْدَاءِ، فَاسْتَأْمَرْتُهُ فِي الْفُقَرَاءِ، أَوْ فِي الْمُهَاجِرِينَ، فَقَالَ: أَمَّا أَنَا فَلَوْ كُنْتُ لَمْ أَعْدِلْ بِالْمُهَاجِرِينَ، سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:" مَثَلُ الَّذِي يُعْتِقُ عِنْدَ الْمَوْتِ كَالَّذِي يُهْدِي بَعْدَ الشِّبَعِ".
ابو حبیبہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ایک شخص نے مجھے اپنے مال کے ایک حصے کے بارے میں وصیت کی کہ میں اسے (مناسب جگہ) رکھوں، تو میں ابودرداء رضی اللہ عنہ کے پاس آیا اور میں نے ان سے فقراء یا مہاجرین (کو دینے) کے بارے میں مشورہ طلب کیا، تو انہوں نے فرمایا: جہاں تک میرا تعلق ہے تو اگر میں (تمہاری جگہ) ہوتا تو مہاجرین کے برابر کسی کو نہ سمجھتا۔ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا کہ ”اس شخص کی مثال جو موت کے وقت آزاد کرتا ہے وہ ایسی ہے جو پیٹ بھرنے کے بعد دیتا ہے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الزكاة/حدیث: 7833]
تخریج الحدیث: «ضعيف۔ ترمذي»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 7834
وَأَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ فُورَكٍ، أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا يُونُسُ بْنُ حَبِيبٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا شُعْبَةُ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ أَبِي حَبِيبَةَ الطَّائِيِّ، عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:" مَثَلُ الَّذِي يَتَصَدَّقُ أَوْ يُعْتِقُ عِنْدَ الْمَوْتِ مَثَلُ الَّذِي يُهْدِي بَعْدَ مَا يَشْبَعُ".
سیدنا ابودرداء رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: ”اس شخص کی مثال جو موت کے وقت صدقہ کرتا ہے یا (غلام) آزاد کرتا ہے، اس کی مانند ہے جو پیٹ بھرنے کے بعد (تحفہ) دیتا ہے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الزكاة/حدیث: 7834]
تخریج الحدیث: «ضعيف۔ انظر قبله»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 7835
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ، أنبأ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمِصْرِيُّ، ثنا مَالِكُ بْنُ يَحْيَى، ثنا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أنبأ شُعْبَةُ، عَنْ زُبَيْدٍ، عَنْ مُرَّةَ، عَنْ عَبْدِ اللهِ، فِي قَوْلِ اللهِ عَزَّ وَجَلَّ: {وَآتَى الْمَالَ عَلَى حُبِّهِ ذَوِي الْقُرْبَى وَالْيَتَامَى وَالْمَسَاكِينَ} [البقرة: ١٧٧] . قَالَ:" تَصَدَّقْ وَأَنْتَ صَحِيحٌ شَحِيحٌ، تَأْمُلُ الْغِنَى، وَتَخْشَى الْفَقْرَ".
مرہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ عبداللہ رضی اللہ عنہ نے اللہ تعالیٰ کے ارشاد ﴿وَآتَى الْمَالَ عَلَى حُبِّهِ ذَوِي الْقُرْبَى وَالْيَتَامَى وَالْمَسَاكِينَ﴾ [سورة البقرة: 177] کے بارے میں فرمایا کہ تو صدقہ و خیرات کر اس حال میں کہ تو تندرست ہو اور مال کی چاہت رکھتا ہو، مالدار ہونے کی امید ہو اور محتاجی کا ڈر ہو۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الزكاة/حدیث: 7835]
تخریج الحدیث: «حسن»
الحكم على الحديث: حسن
1651. -- باب: فضل صدقة السر
-- باب: خفیہ صدقہ کرنے کی فضیلت کا بیان۔
حدیث نمبر: 7836
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ بَالَوَيْهِ، ثنا مُوسَى بْنُ هَارُونَ، ثنا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، ثنا يَحْيَى، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ، أنبأ أَبُو الْفَضْلِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ سَلَمَةَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، قَالَا: ثنا يَحْيَى يَعْنِيَانِ ابْنَ سَعِيدٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللهِ يَعْنِي ابْنَ عُمَرَ، قَالَ: حَدَّثَنِي خُبَيْبُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ حَفْصِ بْنِ عَاصِمٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" سَبْعَةٌ يُظِلُّهُمُ اللهُ تَعَالَى فِي ظِلِّهِ يَوْمَ لَا ظِلَّ إِلَّا ظِلُّهُ: الْإِمَامُ الْعَدْلُ، وَرَجُلٌ نَشَأَ فِي عِبَادَةِ اللهِ، وَرَجُلٌ قَلْبُهُ مُعَلَّقٌ بِالْمَسَاجِدِ، وَرَجُلَانِ تَحَابَّا فِي اللهِ، اجْتَمَعَا عَلَيْهِ وَتَفَرَّقَا عَلَيْهِ، وَرَجُلٌ طَلَبَتْهُ امْرَأَةٌ ذَاتُ مَنْصِبٍ وَجَمَالٍ فَقَالَ: إِنِّي أَخَافُ اللهَ، وَرَجُلٌ تَصَدَّقَ بِصَدَقَةٍ فَأَخْفَاهَا، فَلَا تَعْلَمُ يَمِينُهُ مَا تُنْفِقُ شِمَالُهُ، وَرَجُلٌ ذَكَرَ اللهَ خَالِيًا فَفَاضَتْ عَيْنَاهُ"، رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ بَشَّارٍ، وَرَوَاهُ مُسْلِمٌ عَنْ زُهَيْرِ بْنِ حَرْبٍ وَمُحَمَّدِ بْنِ الْمُثَنَّى. كَذَا قَالُوا عَنْ يَحْيَى الْقَطَّانِ عَنْ عُبَيْدِ اللهِ:" لَا تَعْلَمُ يَمِينُهُ مَا تُنْفِقُ شِمَالُهُ"، وَسَائِرُ الرُّوَاةِ عَنْ يَحْيَى الْقَطَّانِ عَنْ عُبَيْدِ اللهِ قَالُوا فِيهِ: ⦗٣٢٠⦘.
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”سات افراد ایسے ہیں جنہیں اللہ تعالیٰ اپنے سائے میں جگہ دیں گے جس دن اس کے سائے کے علاوہ کوئی سایہ نہیں ہو گا: ایک امامِ عادل، دوسرا وہ جس نے اللہ کی عبادت میں پرورش پائی، تیسرا وہ جس کا دل مساجد کے ساتھ لگا ہوا ہے اور وہ افراد جو صرف اللہ کے لیے محبت کرتے ہیں اس بنا پر وہ اکٹھے ہوئے اور اسی لیے جدا ہوتے ہیں اور ایک وہ شخص جسے حسب نسب والی خوبصورت عورت نے بلایا تو اس نے کہا: میں تو اللہ سے ڈرتا ہوں اور ایک وہ شخص جس نے چھپا کر صدقہ کیا حتیٰ کہ دائیں ہاتھ کو بھی علم نہ ہوا کہ بائیں ہاتھ نے کیا خرچ کیا ہے اور ایک وہ جس نے علیحدگی میں اللہ کو یاد کیا اور اس کی آنکھوں میں آنسو آگئے۔“
امام مسلم رحمہ اللہ نے زہیر بن حرب کے حوالے سے یحییٰ قطان سے نقل کیا کہ عبیداللہ نے کہا: ”اس کا دایاں نہیں جانتا جو بائیں نے خرچ کیا۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الزكاة/حدیث: 7836]
امام مسلم رحمہ اللہ نے زہیر بن حرب کے حوالے سے یحییٰ قطان سے نقل کیا کہ عبیداللہ نے کہا: ”اس کا دایاں نہیں جانتا جو بائیں نے خرچ کیا۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الزكاة/حدیث: 7836]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ اخرجه البخاري»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 7837
كَمَا أَخْبَرَنَا أَبُو عَمْرٍو الْأَدِيبُ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ الْإِسْمَاعِيلِيُّ، أَخْبَرَنِي الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ خَلَّادٍ، ثنا يَحْيَى، ثنا عُبَيْدُ اللهِ، حَدَّثَنِي خُبَيْبُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ حَفْصِ بْنِ عَاصِمٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرَ الْحَدِيثَ قَالَ فِيهِ:" وَرَجُلٌ تَصَدَّقَ بِصَدَقَةٍ فَأَخْفَاهَا لَا تَعْلَمُ شِمَالُهُ مَا تُنْفِقُ يَمِينُهُ". رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ مُسَدَّدٍ، عَنْ يَحْيَى هَكَذَا، وَكَذَلِكَ رَوَاهُ أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ عَنْ يَحْيَى، وَبِمَعْنَاهُ رَوَاهُ سَائِرُ الرُّوَاةِ عَنْ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ.
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اور وہ آدمی جو چھپا کر صدقہ کرتا ہے اتنا کہ اس کے بائیں ہاتھ کو بھی علم نہیں ہوتا کہ اس کے دائیں ہاتھ نے کیا خرچ کیا ہے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الزكاة/حدیث: 7837]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ انظر قبله»
الحكم على الحديث: صحيح
1652. -- باب: فضل الصدقة من المال الحلال
-- باب: حلال مال سے صدقہ کرنے کی فضیلت کا بیان۔
حدیث نمبر: 7838
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو مُحَمَّدِ بْنُ أَبِي حَامِدٍ الْمُقْرِئُ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي، قَالُوا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا الْعَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدٍ الدُّورِيُّ، ثنا أَبُو النَّضْرِ هَاشِمُ بْنُ الْقَاسِمِ، ثنا وَرْقَاءُ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ دِينَارٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَنْ تَصَدَّقَ بِعَدْلِ تَمْرَةٍ مِنْ كَسْبٍ طَيِّبٍ، وَلَا يَصْعَدُ إِلَى اللهِ إِلَّا الطَّيِّبُ، فَإِنَّ اللهَ عَزَّ وَجَلَّ يَتَقَبَّلُهَا بِيَمِينِهِ وَيُرَبِّيهَا لِصَاحِبِهَا كَمَا يُرَبِّي أَحَدُكُمْ فَلُوَّهُ، حَتَّى تَكُونَ مِثْلَ أُحُدٍ" أَخْرَجَهُ الْبُخَارِيُّ فَقَالَ: وَقَالَ وَرْقَاءُ: فَذَكَرَهُ، وَأَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ مِنْ وَجْهٍ آخَرَ عَنْ سَعِيدٍ.
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس کسی نے پاکیزہ کمائی میں سے ایک کھجور کے برابر خرچ کیا، اور اللہ کی طرف صرف پاکیزہ کلمات (چیزیں) ہی چڑھتی ہیں، یقیناً اسے اللہ اپنے دائیں ہاتھ سے قبول فرماتے ہیں، پھر اس کے صاحب کے لیے اس کی پرورش کرتے ہیں، جس طرح تم میں سے کوئی اپنے بچھڑے کی پرورش کرتا ہے یہاں تک کہ وہ احد پہاڑ کی مانند ہو جاتا ہے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الزكاة/حدیث: 7838]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ اخرجه البخاري»
الحكم على الحديث: صحيح