السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
1686. -- باب: الوقت الذي يحرم فيه الطعام على الصائم
-- باب: اس وقت کا بیان جس میں روزے دار پر کھانا حرام ہو جاتا ہے۔
حدیث نمبر: 8001
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ مَخْلَدُ بْنُ جَعْفَرٍ الدَّقَّاقُ، ثنا يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا أَبُو الرَّبِيعِ، ثنا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ سَوَادَةَ الْقُشَيْرِيُّ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ سَمُرَةَ بْنِ جُنْدُبٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَا يَغُرَّنَّكُمْ مِنْ سُحُورِكُمْ أَذَانُ بِلَالٍ، وَلَا بَيَاضُ الْأُفُقِ الْمُسْتَطِيلِ هَكَذَا، حَتَّى يَسْتَطِيرَ هَكَذَا" وَحَكَى حَمَّادٌ بِيَدِهِ، قَالَ: يَعْنِي مُعْتَرِضًا، رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ أَبِي الرَّبِيعِ الزَّهْرَانِيِّ.
سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”سحری کے بارے میں تمہیں بلال کی اذان دھوکا نہ دے اور نہ افق کی وہ سفیدی جو اس طرح لمبی ہوتی ہے، یہاں تک کہ وہ اس طرح پھیل جائے۔“ حماد نے اپنے ہاتھ سے اشارہ کر کے بتایا، یعنی چوڑائی میں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصيام/حدیث: 8001]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ اخرجه مسلم»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 8002
أَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ الْمُزَكِّي، وَأَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا بَحْرُ بْنُ نَصْرٍ، قَالَ: قُرِئَ عَلَى ابْنِ وَهْبٍ: أَخْبَرَكَ ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ، عَنِ الْحَارِثِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ ثَوْبَانَ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" هُمَا فَجْرَانِ، فَأَمَّا الَّذِي كَأَنَّهُ ذَنَبُ السِّرْحَانِ فَإِنَّهُ لَا يُحِلُّ شَيْئًا وَلَا يُحَرِّمُهُ، وَأَمَّا الْمُسْتَطِيلُ الَّذِي يَأْخُذُ بِالْأُفُقِ فَإِنَّهُ يُحِلُّ الصَّلَاةَ وَيُحَرِّمُ الطَّعَامَ". هَذَا مُرْسَلٌ، وَقَدْ رُوِيَ مَوْصُولًا بِذِكْرِ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ فِيهِ.
محمد بن عبدالرحمن بن ثوبان رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”دو فجریں ہوتی ہیں، جو بھیڑیے کی دم کی طرح ہوتی ہے، وہ کسی چیز کو حرام کرتی ہے اور نہ حلال کرتی ہے، لیکن وہ جو کناروں میں پھیلی ہوتی ہے وہ کھانے کو حرام کرتی ہے اور نماز کو جائز کرتی ہے۔“
یہ روایت مرسل ہے، اور یہ جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کے ذکر کے ساتھ موصول بھی روایت کی گئی ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصيام/حدیث: 8002]
یہ روایت مرسل ہے، اور یہ جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کے ذکر کے ساتھ موصول بھی روایت کی گئی ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصيام/حدیث: 8002]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ اخرجه ابن ابي شبيه»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 8003
أَخْبَرَنَا أَبُو سَعْدٍ سَعِيدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَحْمَدَ الشُّعَيْبِيُّ، أنبأ أَبُو الْحُسَيْنِ عَبْدُ اللهِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ جَعْفَرٍ الْبَزَّازُ الزَّيْنَبِيُّ بِبَغْدَادَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ مَرْزُوقِ بْنِ أَبِي عَوْفٍ، ثنا عَمْرٌو النَّاقِدُ، ثنا أَبُو أَحْمَدَ الزُّبَيْرِيُّ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو النَّضْرِ الْفَقِيهُ، ثنا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ خُزَيْمَةَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ مُحْرِزٍ الْبَغْدَادِيُّ بِالْفُسْطَاطِ بِخَبَرٍ غَرِيبٍ، ثنا أَبُو أَحْمَدَ الزُّبَيْرِيُّ، ثنا سُفْيَانُ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" الْفَجْرُ فَجْرَانِ، فَأَمَّا الْأَوَّلُ فَإِنَّهُ لَا يُحَرِّمُ الطَّعَامَ، وَلَا يُحِلُّ الصَّلَاةَ، وَأَمَّا الثَّانِي فَإِنَّهُ يُحَرِّمُ الطَّعَامَ وَيُحِلُّ الصَّلَاةَ" لَفْظُ حَدِيثِ ابْنِ مُحْرِزٍ، وَفِي رِوَايَةِ عَمْرٍو النَّاقِدِ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" الْفَجْرُ فَجْرَانِ: فَجْرٌ يَحِلُّ فِيهِ الطَّعَامُ وَتَحْرُمُ فِيهِ الصَّلَاةُ، وَفَجْرٌ تَحِلُّ فِيهِ الصَّلَاةُ، وَيَحْرُمُ فِيهِ الطَّعَامُ". أَسْنَدَهُ أَبُو أَحْمَدَ الزُّبَيْرِيُّ وَرَوَاهُ غَيْرُهُ عَنِ الثَّوْرِيِّ مَوْقُوفًا عَلَى ابْنِ عَبَّاسٍ.
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما بیان فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”فجر دو طرح کی ہوتی ہے: جو پہلی ہے وہ نہ کھانا حرام کرتی ہے اور نہ ہی نماز کو جائز کرتی ہے، لیکن جو دوسری فجر ہے وہ کھانے کو حرام اور نماز کو جائز کرتی ہے۔“
اسے ابو احمد زبیری نے مرفوع بیان کیا ہے، جبکہ دوسروں نے اسے ثوری سے ابن عباس رضی اللہ عنہما پر موقوف روایت کیا ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصيام/حدیث: 8003]
اسے ابو احمد زبیری نے مرفوع بیان کیا ہے، جبکہ دوسروں نے اسے ثوری سے ابن عباس رضی اللہ عنہما پر موقوف روایت کیا ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصيام/حدیث: 8003]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيره۔ اخرجه ابن خزيمه»
الحكم على الحديث: صحيح لغيره
1687. -- باب: الوقت الذي يحل فيه فطر الصائم
-- باب: اس وقت کا بیان جس میں روزے دار کے لیے روزہ افطار کرنا حلال ہو جاتا ہے۔
حدیث نمبر: 8004
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا عَلِيُّ بْنُ حَمْشَاذٍ الْعَدْلُ، ثنا بِشْرُ بْنُ مُوسَى، ثنا الْحُمَيْدِيُّ، ثنا سُفْيَانُ، ثنا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، أَخْبَرَنِي أَبِي قَالَ: سَمِعْتُ عَاصِمَ بْنَ عُمَرَ، ⦗٣٦٥⦘ يُحَدِّثُ عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:"" إِذَا أَقْبَلَ اللَّيْلُ مِنْ هَا هُنَا، وَأَدْبَرَ النَّهَارُ مِنْ هَا هُنَا، وَغَرَبَتِ الشَّمْسُ فَقَدْ أَفْطَرَ الصَّائِمُ"" رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنِ الْحُمَيْدِيِّ، وَأَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ مِنْ أَوْجُهٍ عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ.
ہشام بن عروہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ مجھے میرے والد نے خبر دی کہ میں نے عاصم بن عمر رضی اللہ عنہما سے سنا، وہ اپنے والد سے نقل فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب رات ادھر سے آ جائے اور دن ادھر کو چلا جائے اور سورج غروب ہو جائے تو روزہ دار روزہ افطار کرے گا۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصيام/حدیث: 8004]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ اخرجه البخاري»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 8005
حَدَّثَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللهِ بْنُ يُوسُفَ الْأَصْبَهَانِيُّ إِمْلَاءً، أنبأ أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ الشَّيْبَانِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عُمَرٍو الْحَرَشِيُّ، ثنا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، أنبأ هُشَيْمٌ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ الشَّيْبَانِيِّ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ أَبِي أَوْفَى قَالَ: كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سَفَرٍ فِي شَهْرِ رَمَضَانَ، فَلَمَّا غَابَتِ الشَّمْسُ، قَالَ:" يَا فُلَانُ، انْزِلْ فَاجْدَحْ لَنَا"، قَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ، إِنَّ عَلَيْكَ نَهَارًا، قَالَ": انْزِلْ فَاجْدَحْ لَنَا"، فَنَزَلَ فَجَدَحَ لَهُ، فَأَتَاهُ بِهِ، فَشَرِبَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ثُمَّ قَالَ بِيَدِهِ:" إِذَا غَابَتِ الشَّمْسُ مِنْ هَا هُنَا وَجَاءَ اللَّيْلُ مِنْ هَا هُنَا فَقَدْ أَفْطَرَ الصَّائِمُ" رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ يَحْيَى بْنِ يَحْيَى، وَأَخْرَجَهُ الْبُخَارِيُّ مِنْ وَجْهٍ آخَرَ عَنِ الشَّيْبَانِيِّ.
سیدنا عبداللہ بن ابی اوفی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ایک سفر میں ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے اور رمضان کا مہینہ تھا۔ جب سورج غروب ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے فلاں! اتر اور ہمارے لیے ستو بنا۔“ اس نے کہا: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! ابھی تو دن ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اتر اور ہمارے لیے ستو بنا۔“ پھر وہ اترا اور ستو بنا کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پیا، پھر اپنے ہاتھ سے فرمایا (اشارہ کیا): ”جب سورج ادھر غائب ہو جائے اور ادھر سے رات آ جائے تو روزہ دار افطار کر لے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصيام/حدیث: 8005]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ اخرجه البخاري»
الحكم على الحديث: صحيح
1688. -- باب: التغليظ على من أفطر قبل غروب الشمس
-- باب: اس شخص پر سختی کا بیان جس نے سورج غروب ہونے سے قبل روزہ افطار کر لیا۔
حدیث نمبر: 8006
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا بَحْرُ بْنُ نَصْرِ بْنِ سَابِقٍ الْخَوْلَانِيُّ، ثنا بِشْرُ بْنُ بَكْرٍ، ثنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ بْنِ جَابِرٍ، عَنْ سُلَيْمِ بْنِ عَامِرٍ أَبِي يَحْيَى الْكَلَاعِيِّ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبُو أُمَامَةَ الْبَاهِلِيُّ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:" بَيْنَا أَنَا نَائِمٌ إِذْ أَتَانِي رَجُلَانِ فَأَخَذَا بِضَبْعِيَّ، فَأَتَيَا بِي جَبَلًا وَعْرًا، فَقَالَا لِيَ: اصْعَدْ، فَقُلْتُ: إِنِّي لَا أُطِيقُهُ، فَقَالَا: إِنَّا سَنُسَهِّلُهُ لَكَ، فَصَعِدْتُ، حَتَّى إِذَا كُنْتُ فِي سَوَاءِ الْجَبَلِ، إِذَا أَنَا بِأَصْوَاتٍ شَدِيدَةٍ، فَقُلْتُ: مَا هَذِهِ الْأَصْوَاتُ؟ قَالُوا: هَذَا عُوَاءُ أَهْلِ النَّارِ، ثُمَّ انْطُلِقَ بِي، فَإِذَا أَنَا بِقَوْمٍ مُعَلَّقِينَ بِعَرَاقِيبِهِمْ، مُشَقَّقَةٌ أَشْدَاقُهُمْ، تَسِيلُ أَشْدَاقُهُمْ دَمًا، قَالَ: قُلْتُ: مَنْ هَؤُلَاءِ؟ قَالَ: هَؤُلَاءِ الَّذِينَ يُفْطِرُونَ قَبْلَ تَحِلَّةِ صَوْمِهِمْ".
سیدنا ابو امامہ باہلی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا: ”ایک دفعہ میں سو رہا تھا تو میرے پاس دو آدمی آئے اور انہوں نے مجھے کندھوں سے پکڑا اور ایک دشوار گزار پہاڑ پر لے آئے اور مجھ سے کہنے لگے: ”اس پر چڑھئیے“، میں نے کہا: ”میں اس پر چڑھنے کی طاقت نہیں رکھتا ہوں۔“ انہوں نے کہا: ”ہم آپ کے لیے اس کو آسان کر دیں گے“ تو میں اس پر چڑھا حتیٰ کہ جب میں پہاڑ پر آیا تو میں نے شدید آوازیں سنیں تو میں نے کہا: ”یہ آوازیں کیسی ہیں؟“ انہوں نے کہا: ”یہ جہنمیوں کی چیخ و پکار ہے۔“ پھر مجھے آگے لے جایا گیا یہاں تک کہ میں ایک ایسی قوم کے پاس تھا جو الٹے لٹکائے ہوئے تھے اور ان کی باچھیں چیری ہوئی تھیں اور ان سے خون بہہ رہا تھا۔ میں نے کہا: ”یہ کون لوگ ہیں؟“ تو انہوں نے کہا: ”یہ وہ لوگ ہیں جو افطار کے جائز ہونے سے پہلے افطار کر لیتے تھے۔““ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصيام/حدیث: 8006]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ اخرجه الحاكم»
الحكم على الحديث: صحيح
1689. -- باب: من أكل وهو يرى أن الفجر لم يطلع، ثم بان أنه كان قد طلع
-- باب: اس شخص کا بیان جس نے یہ گمان کرتے ہوئے کھا لیا کہ فجر طلوع نہیں ہوئی، پھر ظاہر ہوا کہ وہ طلوع ہو چکی تھی۔
حدیث نمبر: 8007
أَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرِ بْنُ قَتَادَةَ، أنبأ أَبُو مَنْصُورٍ الْعَبَّاسُ بْنُ الْفَضْلِ النَّضْرَوِيُّ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ نَجْدَةَ، ثنا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، ثنا هُشَيْمٌ، قَالَ: ثنا خَالِدٌ، وَمَنْصُورٌ، عَنِ ابْنِ سِيرِينَ، عَنْ يَحْيَى بْنِ الْجَزَّارِ، قَالَ: سُئِلَ ابْنُ مَسْعُودٍ عَنْ رَجُلٍ تَسَحَّرَ وَهُوَ يَرَى أَنَّ عَلَيْهِ لَيْلًا وَقَدِ اطَّلَعَ الْفَجْرُ، فَقَالَ:" مَنْ أَكَلَ مِنْ أَوَّلِ النَّهَارِ فَلْيَأْكُلْ مِنْ آخِرِهِ" ⦗٣٦٦⦘.
یحییٰ بن جزار فرماتے ہیں کہ سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے ایسے شخص کے بارے میں پوچھا گیا جس نے سحری کی اور سمجھا کہ ابھی رات ہے، جبکہ فجر طلوع ہوچکی ہو تو انہوں نے کہا: جس نے دن کے شروع میں کھایا وہ اس کے آخر میں بھی کھائے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصيام/حدیث: 8007]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ رجاله ثقات»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 8008
قَالَ: وَحَدَّثَنَا سَعِيدٌ، حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ، أنبأ مَنْصُورٌ، عَنِ ابْنِ سِيرِينَ، أَنَّهُ قَالَ مِثْلَ ذَلِكَ.
ہشیم، منصور سے روایت کرتے ہیں کہ ابن سیرین رحمہ اللہ نے ایسے ہی بیان کیا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصيام/حدیث: 8008]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ رجاله ثقات»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 8009
قَالَ: وَقَالَ الْحَسَنُ:" يُتِمُّ صَوْمَهُ وَلَا شَيْءَ عَلَيْهِ".
راوی بیان کرتے ہیں کہ حسن رحمہ اللہ نے کہا: ”وہ روزہ پورا کرے اور اس پر کوئی حرج نہیں۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصيام/حدیث: 8009]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ تقدم سنده»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 8010
قَالَ: وَحَدَّثَنَا سَعِيدٌ، ثنا عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْوَاحِدِ مِنْ أَهْلِ دِمَشْقَ عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ الْمُنْذِرِ الْغَسَّانِيِّ، عَنْ مَكْحُولٍ، قَالَ: سُئِلَ أَبُو سَعِيدٍ الْخُدْرِيُّ عَنْ رَجُلٍ تَسَحَّرَ وَهُوَ يَرَى أَنَّ عَلَيْهِ لَيْلًا، وَقَدْ طَلَعَ الْفَجْرُ، قَالَ:" إِنْ كَانَ شَهْرُ رَمَضَانَ صَامَهُ وَقَضَى يَوْمًا مَكَانَهُ، وَإِنْ كَانَ مِنْ غَيْرِ شَهْرِ رَمَضَانَ فَلْيَأْكُلْ مِنْ آخِرِهِ، فَقَدْ أَكَلَ مِنْ أَوَّلِهِ" وَرُوِّينَا عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ مِثْلَ قَوْلِ ابْنِ سِيرِينَ، وَعَنْ مُجَاهِدٍ مِثْلَ قَوْلِ الْحَسَنِ، وَقَوْلُ مَنْ قَالَ يَقْضِي أَصَحُّ؛ لِمَا مَضَى مِنَ الدَّلَالَةِ عَلَى وُجُوبِ الصَّوْمِ مِنْ وَقْتِ طُلُوعِ الْفَجْرِ، مَعَ مَا رُوِّينَا فِي هَذَا الْبَابِ مِنَ الْأَثَرِ، وَبِاللهِ التَّوْفِيقُ.
مکحول رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے اس شخص کے بارے میں پوچھا گیا جس نے سحری کی اور وہ سمجھا کہ رات ہے حالانکہ فجر طلوع ہو چکی ہو تو انہوں نے فرمایا: اگر رمضان کا مہینہ تھا تو وہ روزہ پورا کرے گا اور قضا بھی دے گا۔ اگر رمضان کے علاوہ کی بات ہے تو وہ اس کے آخر میں بھی کھائے جس نے شروع میں کھایا۔
سعید بن جبیر رحمہ اللہ سے ابن سیرین رحمہ اللہ کے قول جیسا اور مجاہد رحمہ اللہ سے حسن رحمہ اللہ کے قول جیسا قول بیان کیا گیا ہے، اور جو قضا کے قائل ہیں ان کا قول زیادہ صحیح ہے، ان دلائل کی بنا پر جو طلوع فجر کے وقت سے روزہ واجب ہونے کے بارے میں گزر چکے ہیں، نیز اس اثر کی بنا پر جو ہم نے اس باب میں بیان کیا ہے۔ اور توفیق اللہ ہی کی طرف سے ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصيام/حدیث: 8010]
سعید بن جبیر رحمہ اللہ سے ابن سیرین رحمہ اللہ کے قول جیسا اور مجاہد رحمہ اللہ سے حسن رحمہ اللہ کے قول جیسا قول بیان کیا گیا ہے، اور جو قضا کے قائل ہیں ان کا قول زیادہ صحیح ہے، ان دلائل کی بنا پر جو طلوع فجر کے وقت سے روزہ واجب ہونے کے بارے میں گزر چکے ہیں، نیز اس اثر کی بنا پر جو ہم نے اس باب میں بیان کیا ہے۔ اور توفیق اللہ ہی کی طرف سے ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصيام/حدیث: 8010]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف