السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
1693. -- باب: من ذرعه القيء لم يفطر، ومن استقاء أفطر
-- باب: اس شخص کا بیان جس پر قے غلبہ پا گئی تو اس کا روزہ نہیں ٹوٹا، اور جس نے جان بوجھ کر قے کی تو اس کا روزہ ٹوٹ گیا۔
حدیث نمبر: 8031
أَخْبَرَنَاهُ أَبُو طَاهِرٍ الْفَقِيهُ، أنبأ أَبُو الْحَسَنِ الطَّرَائِفِيُّ، ثنا عُثْمَانُ الدَّارِمِيُّ، ثنا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ثنا شُعْبَةُ، عَنْ أَبِي الْجُودِيِّ، عَنْ بَلْجٍ، عَنْ أَبِي شَيْبَةَ الْمَهْرِيِّ، قَالَ: قُلْنَا لِثَوْبَانَ: حَدَّثَنَا عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: رَأَيْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَاءَ فَأَفْطَرَ.
ابو شبیہ مصری رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ہم نے ثوبان رضی اللہ عنہ سے کہا: ہمیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے حدیث بیان کرو، تو انہوں نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے قے کی اور پھر افطار کر دیا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصيام/حدیث: 8031]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيره۔ اخرجه احمد»
الحكم على الحديث: صحيح لغيره
حدیث نمبر: 8032
وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ، أنبأ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمِصْرِيُّ، ثنا يَحْيَى بْنُ عُثْمَانَ بْنِ صَالِحٍ، ثنا أَبِي، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ لَهِيعَةَ، وَالْمُفَضَّلُ بْنُ فَضَالَةَ، قَالَا: ثنا يَزِيدُ بْنُ أَبِي حَبِيبٍ، عَنْ أَبِي مَرْزُوقٍ، عَنْ حَنَشِ بْنِ عَبْدِ اللهِ، عَنْ فَضَالَةَ بْنِ عُبَيْدٍ، قَالَ: أَصْبَحَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَائِمًا فَقَاءَ فَأَفْطَرَ، فَسُئِلَ عَنْ ذَلِكَ فَقَالَ: إِنِّي قِئْتُ" وَكَذَلِكَ رَوَاهُ يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ وَهُوَ أَيْضًا مَحْمُولٌ عَلَى الْعَمْدِ.
سیدنا فضالہ بن عبید رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے روزے کی حالت میں صبح کی، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے قے کی اور افطار کر لیا، اس کے متعلق آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں نے خود قے کی تھی“۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصيام/حدیث: 8032]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ اخرجه احمد»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 8033
وَأَمَّا الْحَدِيثُ الَّذِي أَخْبَرَنَاهُ أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، ثنا سُفْيَانُ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنْ رَجُلٍ مِنْ أَصْحَابِهِ، عَنْ رَجُلٍ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَا يُفْطِرُ مَنْ قَاءَ، وَلَا مَنِ احْتَلَمَ، وَلَا مَنِ احْتَجَمَ" فَهُوَ مَحْمُولٌ إِنْ ثَبَتَ عَلَى مَا لَوْ ذَرَعَهُ الْقَيْءُ.
زید بن اسلم رحمہ اللہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ایک صحابی رضی اللہ عنہ سے نقل فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے قے کی وہ افطار نہ کرے اور نہ ہی وہ جسے احتلام ہو جائے اور نہ ہی وہ جو سینگی لگوائے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصيام/حدیث: 8033]
تخریج الحدیث: «ضعيف۔ اخرجه ابوداؤد»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 8034
وَقَدْ رَوَاهُ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" ثَلَاثٌ لَا يُفَطِّرْنَ الصَّائِمَ: الْقَيْءُ، وَالِاحْتِلَامُ، وَالْحِجَامَةُ" وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ ضَعِيفٌ أَخْبَرَنَاهُ أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ، ثنا عُبَيْدُ بْنُ شَرِيكٍ، ثنا أَبُو الْجُمَاهِرِ، ثنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ فَذَكَرَهُ الْمَحْفُوظُ عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ هُوَ الْأَوَّلُ.
سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تین چیزیں ایسی ہیں جو روزے دار کا روزہ افطار نہیں کرتیں: قے، سینگی اور احتلام۔“
عبدالرحمن بن زید بن اسلم ضعیف ہے، اور زید بن اسلم سے محفوظ روایت پہلی ہی ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصيام/حدیث: 8034]
عبدالرحمن بن زید بن اسلم ضعیف ہے، اور زید بن اسلم سے محفوظ روایت پہلی ہی ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصيام/حدیث: 8034]
تخریج الحدیث: «منكر۔ انظر قبله»
الحكم على الحديث: منكر
1694. -- باب: من أصبح يوم الشك لا ينوي الصوم، ثم علم أنه من شهر رمضان أمسك بقية يومه استدلالا بما
-- باب: اس شخص کا بیان جس نے یومِ شک کو روزے کی نیت کے بغیر صبح کی، پھر اسے معلوم ہوا کہ یہ تو ماہِ رمضان کا دن ہے، تو اس نے دن کے بقیہ حصے میں خود کو روکے رکھا، اس حدیث سے استدلال کرتے ہوئے۔
حدیث نمبر: 8035
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ سَلْمَانَ الْفَقِيهُ، ثنا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ مُحَمَّدٍ الرَّقَاشِيُّ، ثنا أَبُو عَاصِمٍ، ثنا يَزِيدُ بْنُ أَبِي عُبَيْدٍ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ الْأَكْوَعِ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعَثَ رَجُلًا مِنْ أَسْلَمَ إِلَى قَوْمِهِ يَوْمَ عَاشُورَاءَ، فَقَالَ:" مُرْهُمْ فَلْيَصُومُوا هَذَا الْيَوْمَ"، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ، مَا أَرَانِي آتِيهِمْ حَتَّى يَطْعَمُوا، قَالَ:" مَنْ طَعِمَ مِنْهُمْ فَلْيَصُمْ بَقِيَّةَ يَوْمِهِ" رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ أَبِي عَاصِمٍ، وَأَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ مِنْ وَجْهٍ آخَرَ عَنْ يَزِيدَ وَقَدْ رُوِيَ فِي الْحَدِيثِ أَنَّهُ أَمَرَ بِالْقَضَاءِ، وَذَلِكَ فِيمَا.
سیدنا سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے قبیلہ اسلم کے ایک شخص کو یومِ عاشور کے دن ان کی قوم کی طرف بھیجا اور فرمایا: ”انہیں حکم دو کہ وہ اس دن کا روزہ رکھیں۔“ اس نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! مجھے بتائیں اگر وہ کھانا کھا چکے ہوں؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے ان میں سے کھا لیا ہو، وہ بقیہ دن روزہ رکھے۔“
امام بخاری رحمہ اللہ نے اسے اپنی صحیح میں نقل کیا ہے، اور ایک حدیث میں مروی ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے قضا کا حکم دیا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصيام/حدیث: 8035]
امام بخاری رحمہ اللہ نے اسے اپنی صحیح میں نقل کیا ہے، اور ایک حدیث میں مروی ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے قضا کا حکم دیا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصيام/حدیث: 8035]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ اخرجه البخاري»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 8036
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمُقْرِئُ، أنبأ الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، ثنا يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ الْمِنْهَالِ، ثنا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، ثنا شُعْبَةُ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ مَسْلَمَةَ، عَنْ عَمِّهِ، أَنَّ أَسْلَمَ أَتَتِ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ عَاشُورَاءَ، فَقَالَ:" صُمْتُمْ يَوْمَكُمْ هَذَا؟" قَالُوا: لَا، قَالَ:" فَأَتِمُّوا بَقِيَّةَ يَوْمِكُمْ وَاقْضُوهُ" رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ فِي السُّنَنِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمِنْهَالِ. وَكَذَلِكَ رَوَاهُ أَبُو قِلَابَةَ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمِنْهَالِ، عَنْ يَزِيدَ، عَنْ شُعْبَةَ وَوَقَعَ ذَلِكَ فِي بَعْضِ النُّسَخِ سَعِيدٌ، وَقَدْ رَوَاهُ أَيْضًا سَعِيدٌ فَخَالَفَ شُعْبَةَ فِي الْإِسْنَادِ وَالْمَتْنِ.
عبدالرحمن بن مسلمہ رضی اللہ عنہ اپنے چچا سے نقل فرماتے ہیں کہ وہ یومِ عاشور میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم نے آج کے دن کا روزہ رکھا ہے؟“ انہوں نے کہا: نہیں، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بقیہ دن کا روزہ مکمل کرو اور اس کی قضا کرو۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصيام/حدیث: 8036]
تخریج الحدیث: «منكر۔ اخرجه ابوداؤد»
الحكم على الحديث: منكر
1695. -- باب: من رأى إعادة صومه وإن لم يأكل ولم يشرب وحديث الأمر بالقضاء في صوم عاشوراء يحتمل أن يكون عاما في الذي أكل والذي لم يأكل، ويحتمل غير ذلك، وقد اختلفوا في كونه واجبا في الأصل
-- باب: اس شخص کی رائے کا بیان جس نے روزہ دہرانے کو ضروری سمجھا، خواہ اس نے کھایا پیا نہ ہو، اور عاشورہ کے روزے کی قضا کے حکم پر مبنی حدیث اس بات کا احتمال رکھتی ہے کہ یہ حکم کھانے والے اور نہ کھانے والے دونوں کے لیے عام ہو، اور اس کے علاوہ کا بھی احتمال رکھتی ہے، اور علما کا عاشورہ کے روزے کے اصلاً واجب ہونے کے بارے میں اختلاف ہے۔
حدیث نمبر: 8037
وَقَدْ حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيُّ، وَأَبُو الْقَاسِمِ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مُحَمَّدٍ السَّرَّاجُ، قَالَا: أنبأ أَبُو الْحَسَنِ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدُوسٍ الطَّرَائِفِيُّ، ثنا عُثْمَانُ بْنُ سَعِيدٍ الدَّارِمِيُّ، ثنا سَعِيدُ بْنُ أَبِي مَرْيَمَ، ثنا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ سَالِمٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ حَفْصَةَ، عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" مَنْ لَمْ يَجْمَعِ الصِّيَامَ مِنَ اللَّيْلِ فَلَا صِيَامَ لَهُ".
سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے رات سے روزے کی نیت نہ کی اس کا روزہ نہیں۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصيام/حدیث: 8037]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ مضي تخريجه»
الحكم على الحديث: صحيح
1696. -- باب: من أكل وهو شاك في طلوع الفجر
-- باب: اس شخص کا بیان جس نے اس حال میں کھا لیا کہ اسے فجر طلوع ہونے میں شک تھا۔
حدیث نمبر: 8038
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا أَسِيدُ بْنُ عَاصِمٍ، ثنا الْحُسَيْنُ بْنُ حَفْصٍ، عَنْ سُفْيَانَ، حَدَّثَنِي الْأَعْمَشُ، وَالْحَسَنُ بْنُ عُبَيْدِ اللهِ، عَنْ أَبِي الضُّحَى أَنَّ رَجُلًا قَالَ لِابْنِ عَبَّاسٍ: مَتَى أَدَعُ السُّحُورَ؟ فَقَالَ رَجُلٌ: إِذَا شَكَكْتَ، فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ:" كُلْ مَا شَكَكْتَ حَتَّى يَتَبَيَّنَ لَكَ".
ابو الضحیٰ رحمہ اللہ بیان فرماتے ہیں کہ ایک شخص نے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے کہا: میں سحری کب ترک کروں؟ تو آدمی نے کہا: جب تجھے شک ہونے لگے۔ پھر سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: جب تک تجھے شک رہے کھاتا رہ، یہاں تک کہ تیرے لیے واضح ہو جائے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصيام/حدیث: 8038]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ اخرجه عبدالرزاق»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 8039
أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ الْفَقِيهُ، أنبأ أَبُو عُثْمَانَ الْبَصْرِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ، ثنا يَعْلَى بْنُ عُبَيْدٍ، ثنا سُفْيَانُ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ أَبِي ثَابِتٍ، قَالَ: أَرْسَلَ ابْنُ عَبَّاسٍ رَجُلَيْنِ يَنْظُرَانِ إِلَى الْفَجْرِ فَقَالَ أَحَدُهُمَا: أَصْبَحْتُ، وَقَالَ الْآخَرُ: لَا، قَالَ:" اخْتَلَفْتُمَا أَرِنِي شَرَابِي" وَرُوِيَ فِي هَذَا عَنْ أَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيقِ، وَعُمَرَ، وَابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمْ.
حبیب بن ابی ثابت رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے دو آدمیوں کو بھیجا کہ وہ فجر کو دیکھیں، تو ان میں سے ایک نے کہا: تو نے صبح کر لی اور دوسرے نے کہا: تو نے صبح نہیں کی۔ انہوں نے کہا: تم اختلاف کرتے ہو، میرے لیے پانی لاؤ۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصيام/حدیث: 8039]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
1697. -- باب: كفارة من أتى أهله في نهار رمضان وهو صائم
-- باب: اس شخص کے کفارے کا بیان جس نے رمضان کے دن میں روزے کی حالت میں اپنی بیوی سے جماع کیا۔
حدیث نمبر: 8040
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ الْحَافِظُ، ثنا جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْحُسَيْنِ بْنِ عَبْدِ اللهِ، ثنا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، أنبأ سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: هَلَكْتُ يَا رَسُولَ اللهِ، قَالَ:" وَمَا أَهْلَكَكَ؟" قَالَ: وَقَعْتُ عَلَى امْرَأَتِي فِي رَمَضَانَ، قَالَ:" فَهَلْ تَجِدُ مَا تُعْتِقُ رَقَبَةً؟" قَالَ: لَا، قَالَ:" فَهَلْ تَسْتَطِيعُ أَنْ تَصُومَ شَهْرَيْنِ مُتَتَابِعَيْنِ؟" قَالَ: لَا، قَالَ:" فَهَلْ تَجِدْ مَا تُطْعِمُ سِتِّينَ مِسْكِينًا؟" قَالَ: لَا، قَالَ: ثُمَّ جَلَسَ، فَأُتِيَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِعَرَقٍ فِيهِ تَمْرٌ فَقَالَ:" تَصَدَّقْ بِهَذَا" فَقَالَ: أَفْقَرُ مِنَّا، فَمَا بَيْنَ لَابَتَيْهَا بَيْتٌ أَحْوَجُ إِلَيْهِ مِنَّا، فَضَحِكَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى بَدَتْ أَنْيَابُهُ، ثُمَّ قَالَ لَهُ" اذْهَبْ فَأَطْعِمْهُ أَهْلَكَ" رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ عَلِيِّ بْنِ عَبْدِ اللهِ عَنْ سُفْيَانَ، وَرَوَاهُ مُسْلِمٌ عَنْ يَحْيَى بْنِ يَحْيَى.
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ایک آدمی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور کہنے لگا: اے اللہ کے رسول! میں ہلاک ہو گیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کس نے تجھے ہلاک کر دیا؟“ اس نے کہا: رمضان میں اپنی بیوی سے جماع کر بیٹھا ہوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا تیرے پاس استطاعت ہے کہ تو غلام آزاد کرے؟“ اس نے کہا: نہیں، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا تو متواتر دو مہینوں کے روزے رکھ سکتا ہے؟“ اس نے کہا: نہیں، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا تو ساٹھ مسکینوں کو کھانا کھلائے گا؟“ اس نے کہا: نہیں، پھر وہ بیٹھ گیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس کھجوروں کا ایک ٹوکرا لایا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس کا صدقہ کر دے“، پھر اس نے کہا: اس وادی میں مجھ سے زیادہ محتاج کوئی نہیں، تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مسکرا دیے یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی داڑھیں ظاہر ہو گئیں، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرمایا: ”جا، اپنے اہل و عیال کو کھلا دے“۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصيام/حدیث: 8040]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ اخرجه البخاري»
الحكم على الحديث: صحيح