🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
السنن الكبرى للبيهقي میں نمبر سے تلاش
حدیث نمبر لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں عربی متن سے تلاش
عربی حدیث کا متن لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں اردو متن سے تلاش
اردو حدیث کا متن لکھیں:
1728. -- باب: من لم يقبل على رؤية هلال الفطر إلا شاهدين عدلين
-- باب: ان ائمہ کا بیان جنھوں نے عید الفطر کا چاند دیکھنے پر دو عادل گواہوں کے سوا کسی کی گواہی قبول نہیں کی۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8190
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ نُصَيْرٍ الْخُلْدِيُّ، ثنا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا إِسْحَاقُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ الطَّالْقَانِيُّ، ثنا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ رِبْعِيِّ بْنِ حِرَاشٍ، عَنْ أَبِي مَسْعُودٍ، قَالَ: أَصْبَحَ النَّاسُ صِيَامًا لِتَمَامِ ثَلَاثِينَ، فَجَاءَ رَجُلَانِ فَشَهِدَا أَنَّهُمَا رَأَيَا الْهِلَالَ بِالْأَمْسِ، فَأَمَرَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ النَّاسَ فَأَفْطَرُوا. وَكَذَلِكَ رَوَاهُ إِبْرَاهِيمُ بْنُ بَشَّارٍ عَنْ سُفْيَانَ بْنِ عُيَيْنَةَ.
ابو مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ تیس کی صبح لوگوں نے روزے کی حالت میں کی، پھر دو آدمی آئے اور انہوں نے گواہی دی کہ انہوں نے کل چاند دیکھا ہے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کو افطار کرنے کا حکم دے دیا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصيام/حدیث: 8190]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ انظر قبله»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8191
أَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ، أنبأ أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا أَبُو أَحْمَدَ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ، أنبأ جَعْفَرُ بْنُ عَوْنٍ، أنبأ الْأَعْمَشُ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ، قَالَ: أَهْلَلْنَا هِلَالَ رَمَضَانَ وَنَحْنُ بِخَانِقِينَ، فَمِنَّا مَنْ صَامَ وَمِنَّا مَنْ أَفْطَرَ، قَالَ: فَجَاءَنَا كِتَابُ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ:" إِذَا رَأَيْتُمُ الْهِلَالَ نَهَارًا فَلَا تُفْطِرُوا حَتَّى يَشْهَدَ شَاهِدَانِ مُسْلِمَانِ أَنَّهُمَا رَأَيَاهُ بِالْأَمْسِ" قَالَ الشَّيْخُ: يُرِيدُ بِهِ هِلَالَ آخِرِ رَمَضَانَ.
ابووائل رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ہم پر رمضان کا چاند طلوع ہوا اور ہم خانقین میں تھے، تو ہم میں سے کچھ نے روزہ رکھا اور کچھ نے افطار کیا، تو عمر رضی اللہ عنہ کی تحریر ہمارے پاس آئی کہ جب تم دن میں چاند دیکھو پھر افطار نہ کرو حتیٰ کہ دو مسلمان آدمی گواہی نہ دیں کہ انہوں نے کل چاند دیکھا ہے۔ شیخ فرماتے ہیں کہ اس سے مراد رمضان کے آخر کا چاند ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصيام/حدیث: 8191]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ اخراجه ابن البعد»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8192
وَأَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرٍ عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، أنبأ أَبُو الْحُسَيْنِ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ مُحَمَّدٍ الْقُهُسْتَانِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ أَيُّوبَ، أنبأ حَفْصُ بْنُ عُمَرَ، ثنا شُعْبَةُ، عَنْ سُلَيْمَانَ الْأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ، قَالَ: كَتَبَ إِلَيْنَا عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ وَنَحْنُ بِخَانِقِينَ:" إِنَّ الْأَهِلَّةَ بَعْضُهَا أَعْظَمُ مِنْ بَعْضٍ، فَإِذَا رَأَيْتُمُ الْهِلَالَ أَوْلَ النَّهَارِ فَلَا تُفْطِرُوا حَتَّى يَشْهَدَ شَاهِدَانِ ذَوَا عَدْلٍ أَنَّهُمَا رَأَيَاهُ بِالْأَمْسِ" هَذَا أَثَرٌ صَحِيحٌ عَنْ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ.
سیدنا ابو وائل رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے ہماری طرف خط لکھا اور ہم خانقین میں تھے کہ بے شک چاند ایک دوسرے سے بڑا ہوتا ہے، سو جب تم چاند دن کے شروع میں دیکھو تو افطار نہ کرو حتیٰ کہ دو عادل لوگ گواہی نہ دے دیں کہ انہوں نے کل چاند دیکھا ہے۔
یہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے صحیح اثر ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصيام/حدیث: 8192]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ انظرقبله»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8193
وَقَدْ أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو طَاهِرٍ الْفَقِيهُ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي، وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، قَالُوا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ أَبِي دَاوُدَ الْمُنَادِي، ثنا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أنبأ وَرْقَاءُ بْنُ عُمَرَ، عَنْ عَبْدِ الْأَعْلَى الثَّعْلَبِيِّ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى، قَالَ: كُنْتُ مَعَ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ وَعُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا بِالْبَقِيعِ، فَنَظَرَ إِلَى الْهِلَالِ، فَأَقْبَلَ رَاكِبٌ، فَتَلَقَّاهُ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، فَقَالَ:" مِنْ أَيْنَ جِئْتَ؟" قَالَ: مِنَ الْمَغْرِبِ، قَالَ:" أَهْلَلْتَ"، قَالَ: نَعَمْ، قَالَ عُمَرُ:" اللهُ أَكْبَرُ، إِنَّمَا يَكْفِي الْمُسْلِمِينَ الرَّجُلُ"، ثُمَّ قَامَ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فَتَوَضَّأَ وَمَسَحَ عَلَى خُفَّيْهِ ثُمَّ صَلَّى الْمَغْرِبَ، ثُمَّ قَالَ:" هَكَذَا رَأَيْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَنَعَ".
عبدالرحمن بن ابی لیلیٰ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں سیدنا براء بن عازب اور سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہما کے ساتھ بقیع میں ساتھ تھا، انہوں نے چاند کی طرف دیکھا، اتنے میں ایک سوار آیا، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ اس سے ملے اور اس سے پوچھا: تو کہاں سے آیا ہے؟ اس نے بتایا: مغرب سے، تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے اسے کہا: کیا تو نے چاند دیکھا ہے؟ اس نے کہا: جی ہاں، تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: «اللّٰهُ أَكْبَرُ» ”اللہ سب سے بڑا ہے“، بے شک مسلمانوں کو یہی آدمی کافی ہے، پھر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے اور وضو کیا اور موزوں پر مسح کیا، پھر مغرب کی نماز پڑھائی، پھر کہا: میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو ایسے ہی کرتے دیکھا ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصيام/حدیث: 8193]
تخریج الحدیث: «ضعيف۔ اخرجه احمد»

الحكم على الحديث: ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8194
َأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ، ثنا مُحَمَّدٌ، ثنا يَزِيدُ، أنبأ إِسْرَائِيلُ بْنُ يُونُسَ، عَنْ عَبْدِ الْأَعْلَى الثَّعْلَبِيِّ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى، قَالَ: كُنْتُ مَعَ ⦗٤١٨⦘ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فَأَتَاهُ رَجُلٌ، فَقَالَ: رَأَيْتُ الْهِلَالَ هِلَالَ شَوَّالٍ، فَقَالَ عُمَرُ: أَيُّهَا النَّاسُ، أَفْطِرُوا، ثُمَّ ذَكَرَ الْحَدِيثَ فِي الْمَسْحِ عَلَى الْخُفَّيْنِ.
عبدالرحمن بن ابی لیلیٰ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے ساتھ تھا کہ ایک آدمی آیا اور اس نے کہا: میں نے شوال کا چاند دیکھا ہے، تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: اے لوگو! افطار کرو۔ پھر موزوں پر مسح کرنے تک حدیث بیان کی۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصيام/حدیث: 8194]
تخریج الحدیث: «ضعيف۔ انظر قبله»

الحكم على الحديث: ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8195
وَأَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَارِثِ الْفَقِيهُ، أنبأ عَلِيُّ بْنُ عُمَرَ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو بَكْرٍ النَّيْسَابُورِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى، ثنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ، ثنا سُفْيَانُ، عَنْ عَبْدِ الْأَعْلَى، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى، أَنَّ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَجَازَ شَهَادَةَ رَجُلٍ وَاحِدٍ فِي رُؤْيَةِ الْهِلَالِ فِي فِطْرٍ أَوْ أَضْحَى، وَأَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَارِثِ، أَنْبَأَ عَلِيُّ بْنُ عُمَرَ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو بَكْرٍ النَّيْسَابُورِيُّ، قَالَ: قَالَ مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيٍّ الْوَرَّاقُ: قُلْتُ لِأَبِي نُعَيْمٍ: سَمِعَ ابْنُ أَبِي لَيْلَى مِنْ عُمَرَ؟ قَالَ: لَا أَدْرِي، قَالَ مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيٍّ: قُلْتُ لِيَحْيَى بْنِ مَعِينٍ: سَمِعَ ابْنُ أَبِي لَيْلَى مِنْ عُمَرَ؟ فَلَمْ يُثْبِتْ ذَلِكَ. قَالَ عَلِيٌّ: عَبْدُ الْأَعْلَى هُوَ ابْنُ عَامِرٍ الثَّعْلَبِيُّ، غَيْرُهُ أَثْبَتُ مِنْهُ، وَحَدِيثُ أَبِي وَائِلٍ أَصَحُّ إِسْنَادًا عَنْ عُمَرَ مِنْهُ، رَوَاهُ الْأَعْمَشُ وَمَنْصُورٌ عَنْ أَبِي وَائِلٍ. أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا الْعَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدٍ الدُّورِيُّ، قَالَ: سُئِلَ يَحْيَى بْنُ مَعِينٍ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى عَنْ عُمَرَ، فَقَالَ: لَمْ يَرَهُ، فَقُلْتُ لَهُ الْحَدِيثَ الَّذِي يَرْوِي: كُنَّا مَعَ عُمَرَ نَتَرَاءَى الْهِلَالَ، فَقَالَ لَيْسَ بِشَيْءٍ.
عبدالرحمن بن ابی لیلیٰ بیان کرتے ہیں کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے ایک آدمی کی گواہی کو عید الفطر یا اضحیٰ کا چاند دیکھنے کے لیے جائز قرار دیا۔
محمد بن علی وراق کہتے ہیں: میں نے ابونعیم سے پوچھا: کیا ابن ابی لیلیٰ نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے سنا ہے؟ انہوں نے کہا: میں نہیں جانتا۔ میں نے یحییٰ بن معین سے پوچھا: کیا ابن ابی لیلیٰ نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے سنا ہے؟ تو انہوں نے اسے ثابت نہیں کیا۔ علی (دارقطنی) کہتے ہیں: عبدالاعلیٰ، ابن عامر ثعلبی ہیں، دوسرے راوی ان سے زیادہ پختہ ہیں، اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے ابووائل کی حدیث اس سے زیادہ صحیح سند والی ہے، اسے اعمش اور منصور نے ابووائل سے روایت کیا ہے۔
یحییٰ بن معین سے عبدالرحمن بن ابی لیلیٰ کی سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے روایت کے بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے کہا: انہوں نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو نہیں دیکھا۔ میں نے ان سے کہا: وہ حدیث جو وہ بیان کرتے ہیں کہ ہم سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے ساتھ چاند دیکھ رہے تھے؟ تو انہوں نے فرمایا: ”یہ کچھ بھی نہیں۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصيام/حدیث: 8195]
تخریج الحدیث: «ضعيف»

الحكم على الحديث: ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
1729. -- باب: الشهادة تثبت على رؤية هلال الفطر بعد الزوال
-- باب: زوال کے بعد عید الفطر کا چاند دیکھنے کی گواہی ثابت ہونے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8196
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمُقْرِئُ، أنبأ الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، ثنا يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ الْقَاضِي، ثنا أَبُو الرَّبِيعِ، ثنا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ أَبِي بِشْرٍ، عَنْ أَبِي عُمَيْرِ بْنِ أَنَسٍ، عَنْ عُمُومَةٍ لَهُ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: أَصْبَحَ أَهْلُ الْمَدِينَةِ صِيَامًا فِي آخِرِ يَوْمٍ مِنْ رَمَضَانَ عَلَى عَهْدِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَدِمَ رَكْبٌ مِنْ آخِرِ النَّهَارِ فَشَهِدُوا عِنْدَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُمْ رَأَوَا الْهِلَالَ بِالْأَمْسِ، فَأَمَرَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ النَّاسَ أَنْ يُفْطِرُوا وَيَغْدُوا إِلَى مُصَلَّاهُمْ وَكَذَلِكَ رَوَاهُ بِمَعْنَاهُ شُعْبَةُ وَهُشَيْمُ بْنُ بَشِيرٍ عَنْ أَبِي بِشْرٍ جَعْفَرِ بْنِ أَبِي وَحْشِيَّةَ، وَهُوَ إِسْنَادٌ حَسَنٌ، وَأَبُو عُمَيْرٍ رَوَاهُ عَنْ عُمُومَةٍ لَهُ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَصْحَابُ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كُلُّهُمْ ثِقَاتٌ، فَسَوَاءٌ سُمُّوا أَوْ لَمْ يُسَمَّوْا.
ابوعمیر بن انس اپنے چچاؤں سے، جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ رضی اللہ عنہم میں سے تھے، نقل فرماتے ہیں کہ اہل مدینہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دور میں رمضان کے آخری دن صبح روزے کی حالت میں کی۔ دن کے اخیر میں ایک قافلہ آیا اور انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس گواہی دی کہ انہوں نے کل چاند دیکھا ہے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کو افطار کا حکم دیا اور وہ صبح عیدگاہ پہنچیں۔
یہ سند حسن ہے، ابوعمیر نے اسے اپنے چچاؤں سے روایت کیا ہے جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ میں سے تھے، اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے تمام صحابہ ثقہ ہیں، خواہ ان کے نام لیے جائیں یا نہ لیے جائیں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصيام/حدیث: 8196]
تخریج الحدیث: «حسن۔ اخرجه ابوداؤد»

الحكم على الحديث: حسن
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8197
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ هُوَ الْأَصَمُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الصَّغَانِيُّ، ثنا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ثنا سَعِيدُ بْنُ عَامِرٍ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسٍ أَنَّ عُمُومَةً لَهُ مِنَ الْأَنْصَارِ، شَهِدُوا عِنْدَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى رُؤْيَةِ الْهِلَالِ، فَأَمَرَهُمْ أَنْ يَخْرُجُوا لِعِيدِهِمْ مِنَ الْغَدِ تَفَرَّدَ بِهِ سَعِيدُ بْنُ عَامِرٍ عَنْ شُعْبَةَ وَغَلِطَ فِيهِ، إِنَّمَا رَوَاهُ شُعْبَةُ عَنْ أَبِي بِشْرٍ.
انس رضی اللہ عنہ اپنے انصار چچاؤں رضی اللہ عنہم سے نقل فرماتے ہیں، انہوں نے کہا کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس چاند دیکھنے کی گواہی دی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں حکم دیا کہ ”کل عید کے لیے نکلیں۔“
اسے شعبہ سے روایت کرنے میں سعید بن عامر منفرد ہیں اور انہوں نے اس میں غلطی کی ہے، شعبہ نے تو اسے صرف ابوبشر سے روایت کیا ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصيام/حدیث: 8197]
تخریج الحدیث: «منكر الاسناد۔ اخرجه احمد»

الحكم على الحديث: منكر الاسناد
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8198
أَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ إِسْمَاعِيلَ الطَّبَرَانِيُّ بِهَا، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ مَنْصُورٍ الطُّوسِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ الصَّائِغُ، ثنا رَوْحٌ، ثنا شُعْبَةُ، عَنْ أَبِي بِشْرٍ، عَنْ أَبِي عُمَيْرِ بْنِ أَنَسٍ، عَنْ عُمُومَتِهِ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: جَاءَ رَكْبٌ إِلَى نَبِيِّ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَشَهِدُوا أَنَّهُمْ رَأَوْهُ بِالْأَمْسِ، يَعْنِي الْهِلَالَ، فَأَمَرَهُمْ أَنْ يُفْطِرُوا، وَأَنْ يَخْرُجُوا مِنَ الْغَدِ قَالَ شُعْبَةُ: أَرَاهُ مِنْ آخِرِ النَّهَارِ.
عمیر بن انس اپنے چچاؤں سے نقل فرماتے ہیں جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابی رضی اللہ عنہم تھے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک قافلہ آیا اور انہوں نے چاند دیکھنے کی گواہی دی کہ ہم نے کل چاند دیکھا ہے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں ”افطار کا حکم دیا اور یہ کہ کل عیدگاہ کی طرف نکلیں“۔ شعبہ کہتے ہیں: یہ دن کا آخر تھا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصيام/حدیث: 8198]
تخریج الحدیث: «حسن۔ معنيٰ آنفاً»

الحكم على الحديث: حسن
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8199
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ دَاسَةَ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا خَلَفُ بْنُ هِشَامٍ الْمُقْرِئُ، ثنا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ رِبْعِيِّ بْنِ حِرَاشٍ، عَنْ رَجُلٍ، مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: اخْتَلَفَ النَّاسُ فِي آخِرِ يَوْمٍ مِنْ رَمَضَانَ، فَقَدِمَ أَعْرَابِيَّانِ فَشَهِدَا عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِاللهِ لَأَهَلَّا الْهِلَالَ أَمْسِ عَشِيَّةً، فَأَمَرَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ النَّاسَ أَنْ يُفْطِرُوا، وَأَنْ يَغْدُوا إِلَى مُصَلَّاهُمْ.
ربعی بن حراش ایک صحابی رضی اللہ عنہ سے نقل فرماتے ہیں کہ رمضان کے آخری دن میں لوگوں نے اختلاف کیا تو دو دیہاتی آئے، انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس گواہی دی کہ انہوں نے کل چاند دیکھا ہے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کو ”افطار کا حکم دے دیا اور یہ کہ کل عیدگاہ آئیں۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصيام/حدیث: 8199]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ معنيٰ قريباً»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں