🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
السنن الكبرى للبيهقي میں نمبر سے تلاش
حدیث نمبر لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں عربی متن سے تلاش
عربی حدیث کا متن لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں اردو متن سے تلاش
اردو حدیث کا متن لکھیں:
1733. -- باب: القوم يخطئون في رؤية الهلال
-- باب: لوگوں کا چاند دیکھنے میں غلطی کر جانے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8209
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ دَرَسْتَوَيْهِ النَّحْوِيُّ بِبَغْدَادَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ بْنِ أَبِي الْحُنَيْنِ، ثنا عَارِمٌ أَبُو النُّعْمَانِ، ثنا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا حَنِيفَةَ، يُحَدِّثُ عَمْرَو بْنَ دِينَارٍ قَالَ: حَدَّثَنِي عَلِيُّ بْنُ الْأَقْمَرِ، عَنْ مَسْرُوقٍ، قَالَ: دَخَلْتُ عَلَى عَائِشَةَ يَوْمَ عَرَفَةَ، فَقَالَتْ:" اسْقُوا مَسْرُوقًا سَوِيقًا، وَأَكْثِرُوا حَلْوَاهُ"، قَالَ: فَقُلْتُ: إِنِّي لَمْ يَمْنَعْنِي أَنْ أَصُومَ الْيَوْمَ إِلَّا أَنِّي خِفْتُ أَنْ يَكُونَ يَوْمَ النَّحْرِ، فَقَالَتْ عَائِشَةُ:" النَّحْرُ يَوْمَ يَنْحَرُ النَّاسُ، وَالْفِطْرُ يَوْمَ يُفْطِرُ النَّاسُ".
مسروق رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ یومِ عرفہ کو میں سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس گیا تو انہوں نے فرمایا: مسروق کو ستو پلاؤ اور میٹھا زیادہ ڈالنا، فرماتے ہیں: میں نے کہا: مجھے آج روزہ رکھنے سے صرف اس بات نے روکا کہ میں ڈرا کہ شاید آج یومِ نحر ہو تو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: نحر وہ ہے جس دن لوگ قربانی کرتے ہیں اور فطر وہ ہے جس دن لوگ افطار کرتے ہیں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصيام/حدیث: 8209]
تخریج الحدیث: «ضعيف»

الحكم على الحديث: ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
1734. -- باب: المفطر من شهر رمضان يؤخر القضاء ما بينه وبين رمضان آخر
-- باب: ماہِ رمضان کا روزہ چھوڑنے والے کا اس (رمضان) اور دوسرے رمضان کے درمیانی عرصے میں قضا کو مؤخر کرنے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8210
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا يَحْيَى بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى، ثنا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ، ثنا زُهَيْرٌ، ثنا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا، قَالَتْ:" كَانَ يَكُونُ عَلَيَّ الصَّوْمُ مِنْ رَمَضَانَ فَمَا أَسْتَطِيعُ أَنْ أَقْضِيَهُ إِلَّا فِي شَعْبَانَ" قَالَ يَحْيَى: الشُّغُلُ مِنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ، وَمُسْلِمٌ جَمِيعًا فِي الصَّحِيحِ عَنْ أَحْمَدَ بْنِ يُونُسَ.
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ مجھ پر رمضان کے روزوں کی قضا ہوتی مگر میں ان کی قضا نہ کر پاتی مگر شعبان میں۔ یحییٰ نے کہا: یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی مصروفیت کی وجہ سے تھا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصيام/حدیث: 8210]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ اخرجه البخاري»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
1735. -- باب: المفطر يمكنه أن يصوم ففرط حتى جاء رمضان آخر
-- باب: روزہ چھوڑنے والے کے لیے روزہ رکھنا ممکن ہو مگر وہ کوتاہی کرے یہاں تک کہ دوسرا رمضان آ جائے۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8211
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ مُكْرَمٍ، ثنا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، ثنا شُعْبَةُ، عَنِ الْحَكَمِ، عَنْ مَيْمُونِ بْنِ مِهْرَانَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، فِي رَجُلٍ أَدْرَكَهُ رَمَضَانُ وَعَلَيْهِ رَمَضَانُ آخَرُ، قَالَ:" يَصُومُ هَذَا، وَيُطْعِمُ عَنْ ذَاكَ كُلَّ يَوْمٍ مِسْكِينًا، وَيَقْضِيهِ".
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما اس آدمی کے بارے میں فرماتے ہیں جس کو رمضان نے پالیا جب کہ اس کے دوسرے رمضان کے روزے باقی تھے تو وہ اس رمضان کے روزے رکھے اور پچھلے رمضان کے ہر دن کے عوض مسکین کو کھانا کھلا دے اور قضا کرے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصيام/حدیث: 8211]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ اخرجه اهل الجمه»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8212
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ ⦗٤٢٣⦘ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا يَحْيَى بْنُ أَبِي طَالِبٍ، قَالَ: قَالَ عَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ عَطَاءٍ: سُئِلَ سَعِيدٌ هُوَ ابْنُ أَبِي عَرُوبَةَ عَنْ رَجُلٍ تَتَابَعَ عَلَيْهِ رَمَضَانَانِ وَفَرَّطَ فِيمَا بَيْنَهُمَا، فَأَخْبَرَنَا عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ صَالِحٍ أَبِي الْخَلِيلِ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّهُ قَالَ: يَصُومُ الَّذِي حَضَرَ، وَيَقْضِي الْآخَرَ، وَيُطْعِمُ لِكُلِّ يَوْمٍ مِسْكِينًا قَالَ: وَأَخْبَرَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ، أنبأ سَعِيدٌ، عَنْ قَيْسِ بْنِ سَعْدٍ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ بِمِثْلِهِ، وَرَوَاهُ ابْنُ جُرَيْجٍ عَنْ عَطَاءٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، وَقَالَ: مُدًّا مِنْ حِنْطَةٍ لِكُلِّ مِسْكِينٍ.
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ وہ اس رمضان کے روزے رکھے گا جو حاضر ہے اور دوسرے کی قضا کرے گا اور ہر دن کے عوض مسکین کو کھلائے گا۔
ابن جریج، عطاء کے حوالے سے نقل فرماتے ہیں کہ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ ہر مسکین کے لیے گندم کا ایک مد ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصيام/حدیث: 8212]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ ابن عرويه»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8213
وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ بِبَغْدَادَ، أنبأ أَبُو سَهْلِ بْنُ زِيَادٍ الْقَطَّانُ، ثنا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي الشَّوَارِبِ، ثنا سَهْلُ بْنُ بَكَّارٍ، ثنا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ رَقَبَةَ، قَالَ: زَعَمَ عَطَاءٌ أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ، قَالَ فِي الْمَرِيضِ يَمْرَضُ وَلَا يَصُومُ رَمَضَانَ ثُمَّ يَبْرَأُ وَلَا يَصُومُ حَتَّى يُدْرِكَهُ رَمَضَانُ آخَرُ، قَالَ:" يَصُومُ الَّذِي حَضَرَهُ، وَيَصُومُ الْآخَرَ، وَيُطْعِمُ لِكُلِّ لَيْلَةٍ مِسْكِينًا" وَرَوَى هَذَا الْحَدِيثَ إِبْرَاهِيمُ بْنُ نَافِعٍ الْجَلَّابُ عَنْ عُمَرَ بْنِ مُوسَى بْنِ وَجِيهٍ عَنِ الْحَكَمِ عَنْ مُجَاهِدٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ مَرْفُوعًا، وَلَيْسَ بِشَيْءٍ، إِبْرَاهِيمُ وَعُمَرُ مَتْرُوكَانِ، وَرُوِّينَا عَنِ ابْنِ عُمَرَ وَأَبِي هُرَيْرَةَ فِي الَّذِي لَمْ يَصِحَّ حَتَّى أَدْرَكَهُ رَمَضَانُ آخَرُ: يُطْعِمُ وَلَا قَضَاءَ عَلَيْهِ، وَعَنِ الْحَسَنِ وَطَاوُسٍ وَالنَّخَعِيِّ: يَقْضِي وَلَا كَفَّارَةَ عَلَيْهِ، وَبِهِ نَقُولُ، لِقَوْلِهِ تَعَالَى: {فَعِدَّةٌ مِنْ أَيَّامٍ أُخَرَ} [البقرة: ١٨٤] .
عطاء رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ انہوں نے سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے سنا کہ انہوں نے اس مریض کے بارے میں فرمایا جو بیمار ہوتا ہے اور رمضان کا روزہ نہیں رکھتا، پھر وہ تندرست ہو جاتا ہے اور روزے نہیں رکھتا یہاں تک کہ دوسرا رمضان آ جاتا ہے۔ انہوں نے فرمایا کہ پھر وہ اس رمضان کے روزے رکھے گا جو موجود ہے، بعد میں دوسرے کے رکھے گا اور ہر رات کے عوض مسکین کو کھانا کھلائے گا۔
یہ حدیث ابراہیم بن نافع جلاب نے عمر بن موسیٰ بن وجیہ سے، انہوں نے حکم سے، انہوں نے مجاہد سے، انہوں نے سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مرفوعاً روایت کی ہے، اور یہ کچھ بھی نہیں، ابراہیم اور عمر دونوں متروک ہیں۔
سیدنا عبداللہ بن عمر اور سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہما سے اس کے بارے میں منقول ہے جو دوسرے رمضان تک صحیح نہیں ہوتا کہ وہ کھانا کھلائے اور اس پر قضا نہیں ہے۔ حسن، طاؤس اور نخعی رحمہم اللہ فرماتے ہیں کہ قضا ہے لیکن کفارہ نہیں اور ہم اللہ تعالیٰ کے فرمان کے تحت کہتے ہیں: ﴿فَعِدَّةٌ مِّنْ أَيَّامٍ أُخَرَ﴾ [سورة البقرة: 184] ۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصيام/حدیث: 8213]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ رجاله ثقات»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
1736. -- باب: المريض يفطر ثم لم يصح حتى مات فلا يكون عليه شيء
-- باب: مریض روزہ چھوڑ دے پھر وہ صحت یاب نہ ہو یہاں تک کہ وفات پا جائے، تو اس پر کوئی قضا لازم نہیں۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: Q8214
رُوِيَ ذَلِكَ عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَبَّاسٍ وَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِذَا أَمَرْتُكُمْ بِأَمْرٍ فَأْتُوا مِنْهُ مَا اسْتَطَعْتُمْ".
یہ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے، اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب میں تمہیں کسی کام کا حکم دوں تو اپنی استطاعت کے مطابق اسے بجا لاؤ۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصيام/حدیث: Q8214]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8214
أَخْبَرَنَاهُ أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ الْعَدْلُ بِبَغْدَادَ، أنبأ إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ مَنْصُورٍ، ثنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أنبأ مَعْمَرٌ، عَنْ هَمَّامِ بْنِ مُنَبِّهٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" ذَرُونِي مَا تَرَكْتُكُمْ، فَإِنَّمَا هَلَكَ الَّذِينَ مِنْ قَبْلِكُمْ بِكَثْرَةِ سُؤَالِهِمْ، وَاخْتِلَافِهِمْ عَلَى أَنْبِيَائِهِمْ، فَإِذَا نَهَيْتُكُمْ عَنْ شَيْءٍ فَاجْتَنِبُوهُ، وَإِذَا أَمَرْتُكُمْ بِالْأَمْرِ فَأْتُوا مِنْهُ مَا اسْتَطَعْتُمْ" رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ رَافِعٍ عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ.
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”چھوڑ دو اس میں جس میں تمہیں چھوڑا ہے۔ بیشک تم سے پہلے لوگ کثرتِ سوال کی وجہ سے ہلاک کیے گئے اور انبیاء سے اختلاف کی وجہ سے۔ سو جب میں تمہیں کسی کام سے منع کر دوں تو تم اسے چھوڑ دیا کرو اور جب تمہیں کسی کام کا کرنے کا حکم دوں تو جس قدر تم میں طاقت ہے اسے کرو۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصيام/حدیث: 8214]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ اخرجه مسلم»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
1737. -- باب: من قال إذا فرط في القضاء بعد الإمكان حتى مات أطعم عنه مكان كل يوم مسكين مدا من طعام
-- باب: ان ائمہ کا بیان جنھوں نے کہا کہ ”جب کوئی شخص قضا ممکن ہونے کے باوجود کوتاہی کرے یہاں تک کہ وفات پا جائے، تو اس کی طرف سے ہر دن کے بدلے ایک مسکین کو ایک مد کھانا کھلایا جائے گا“۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8215
أَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ الْمُزَكِّي، أنبأ أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ، أنبأ جَعْفَرُ بْنُ عَوْنٍ، أنبأ يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنِ الْقَاسِمِ، وَنَافِعٍ، أَنَّ ابْنَ عُمَرَ كَانَ إِذَا سُئِلَ عَنِ الرَّجُلِ يَمُوتُ وَعَلَيْهِ صَوْمٌ مِنْ رَمَضَانَ أَوْ نَذْرٌ، يَقُولُ:" لَا يَصُومُ أَحَدٌ عَنْ أَحَدٍ، وَلَكِنْ تَصَدَّقُوا عَنْهُ مِنْ مَالِهِ لِلصَّوْمِ، لِكُلِّ يَوْمٍ مِسْكِينًا".
نافع رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ جب سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے ایسے آدمی کے بارے میں پوچھا گیا جو فوت ہو گیا اور اس کے ذمے رمضان یا نذر وغیرہ کے روزے تھے تو وہ فرماتے: ”کوئی کسی کی طرف سے روزے نہ رکھے لیکن اس کے مال میں سے صدقہ دو، ہر دن کے روزے کے عوض ایک مسکین۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصيام/حدیث: 8215]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ رجاله ثقات»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8216
وَأَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرٍ عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ عُمَرَ بْنِ قَتَادَةَ الْأَنْصَارِيُّ، أنبأ أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ الْفَضْلِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَقِيلٍ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ هَاشِمٍ الْبَغَوِيُّ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَسْمَاءٍ، حَدَّثَنِي جُوَيْرِيَةُ بْنُ أَسْمَاءٍ، عَنْ نَافِعٍ، أَنَّ عَبْدَ اللهِ بْنَ عُمَرَ، كَانَ يَقُولُ:" مَنْ أَفْطَرَ فِي رَمَضَانَ أَيَّامًا وَهُوَ مَرِيضٌ ثُمَّ مَاتَ قَبْلَ أَنْ يَقْضِيَ فَلْيُطْعِمْ عَنْهُ مَكَانَ كُلِّ يَوْمٍ أَفْطَرَهُ مِنْ تِلْكَ الْأَيَّامِ مِسْكِينًا مُدًّا مِنْ حِنْطَةٍ، فَإِنْ أَدْرَكَهُ رَمَضَانُ عَامَ قَابِلٍ قَبْلَ أَنْ يَصُومَهُ فَأَطَاقَ صَوْمَ الَّذِي أَدْرَكَ فَلْيُطْعِمْ عَمَّا مَضَى كُلَّ يَوْمٍ مِسْكِينًا مُدًّا مِنْ حِنْطَةٍ، وَلْيَصُمِ الَّذِي اسْتَقْبَلَ" هَذَا هُوَ الصَّحِيحُ مَوْقُوفٌ عَلَى ابْنِ عُمَرَ، وَقَدْ رَوَاهُ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى عَنْ نَافِعٍ فَأَخْطَأَ فِيهِ.
نافع بیان کرتے ہیں کہ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہا کرتے تھے کہ جس نے رمضان میں مرض کی وجہ سے کچھ دن افطار کیا، پھر وہ قضا سے پہلے ہی فوت ہو گیا تو اس کی جانب سے ہر دن کے عوض ایک مسکین کو ایک مد کھانا دیا جائے، ان تمام دنوں کے عوض۔ اگر اسے آئندہ رمضان آئے اس کے روزے رکھنے سے پہلے اور وہ اس کے روزے رکھنے کی طاقت رکھتا ہو تو جو گزر چکے ہیں، ان کے عوض مسکین کو ایک مد گندم دے اور جو رمضان گزر رہا ہے اس کے روزے رکھے۔
یہی صحیح ہے کہ یہ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما پر موقوف ہے، اور محمد بن عبدالرحمن بن ابی لیلیٰ نے اسے نافع سے روایت کیا تو اس میں غلطی کی۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصيام/حدیث: 8216]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ رجاله ثقات»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8217
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَارِثِ الْفَقِيهُ، أنبأ أَبُو مُحَمَّدِ بْنُ حَيَّانَ الْأَصْبَهَانِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَبَّاسِ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ بْنِ الْبَخْتَرِيُّ، ثنا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أنبأ شَرِيكٌ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى، عَنْ نَافِعٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الَّذِي يَمُوتُ وَعَلَيْهِ رَمَضَانُ وَلَمْ يَقْضِهِ، قَالَ:" يُطْعَمُ عَنْهُ لِكُلِّ يَوْمٍ نِصْفُ صَاعٍ مِنْ بُرٍّ" هَذَا خَطَأٌ مِنْ وَجْهَيْنِ، أَحَدُهُمَا رَفْعُهُ الْحَدِيثَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَإِنَّمَا هُوَ مِنْ قَوْلِ ابْنِ عُمَرَ، وَالْآخَرُ قَوْلُهُ: نِصْفُ صَاعٍ، وَإِنَّمَا قَالَ ابْنُ عُمَرَ: مُدًّا مِنْ حِنْطَةٍ، وَرُوِيَ مِنْ وَجْهٍ آخَرَ عَنِ ابْنِ أَبِي لَيْلَى لَيْسَ فِيهِ ذِكْرُ الصَّاعِ.
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس شخص کے بارے میں نقل فرماتے ہیں کہ جو فوت ہو گیا اور اس کے ذمے رمضان کے وہ روزے ہیں جس کی قضا نہیں کر سکا: ”تو ہر دن کے عوض مسکین کو نصف صاع کھانا دیا جائے۔“
یہ دو لحاظ سے غلط ہے؛ ایک یہ کہ اسے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے مرفوعاً بیان کیا، جب کہ وہ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کا قول ہے۔ دوسری یہ کہ وہ آدھا صاع ہے، جب کہ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا: گندم کا ایک مد۔ دوسری روایت ابن ابی لیلیٰ سے ہے جس میں صاع کا تذکرہ نہیں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصيام/حدیث: 8217]
تخریج الحدیث: «منكر۔ ابن ابي ليلٰي»

الحكم على الحديث: منكر
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں