السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
2057. -- باب: ما يستدل به على أن دخوله ليس بواجب
-- باب: ان شواہد کا بیان جن سے استدلال کیا جاتا ہے کہ اس (بیت اللہ) میں داخل ہونا واجب نہیں ہے۔
حدیث نمبر: 9729
أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدِ بْنُ يُوسُفَ، أنبأ أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ الْفَاكِهِيُّ، ثنا أَبُو يَحْيَى بْنُ أَبِي مَسَرَّةَ، ثنا خَلَّادُ بْنُ يَحْيَى، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنُ أَبِي الصِّفَيْرِ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الصَّفَّارُ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ مِهْرَانَ بْنِ خَالِدٍ، ثنا عُبَيْدُ اللهِ بْنُ مُوسَى، أنبأ إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ، عَنِ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، رَضِيَ اللهُ عَنْهَا، قَالَتْ: خَرَجَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ عِنْدِي وَهُوَ قَرِيرُ الْعَيْنِ طَيِّبُ النَّفْسِ ثُمَّ رَجَعَ إِلِيَّ وَهُوَ حَزِينٌ فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ خَرَجْتَ مِنْ عِنْدِي وَأَنْتَ كَذَا وَكَذَا، قَالَ:" إِنِّي دَخَلْتُ الْكَعْبَةَ وَوَدِدْتُ أَنِّي لَمْ أَكُنْ فَعَلْتُهُ إِنِّي أَخَافُ أَنْ أَكُونَ قَدْ أَتْعَبْتُ أُمَّتِي بَعْدِي، قَالَ الشَّيْخُ: وَهَذَا يَكُونُ فِي حَجَّتِهِ وَحَدِيثُ ابْنِ أَبِي أَوْفَى فِي عُمْرَتِهِ فَلَا يَكُونُ أَحَدُهُمَا مُخَالِفًا لِلْآخَرِ.
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس سے نکلے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم خوش و خرم تھے اور جب واپس لوٹے تو غمزدہ تھے، تو میں نے پوچھا: آپ صلی اللہ علیہ وسلم جاتے ہوئے تو اس اس طرح گئے تھے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں کعبہ میں داخل ہوا تھا اور اب سوچتا ہوں کہ کاش ایسا نہ کرتا، مجھے ڈر ہے کہ میں نے اپنے بعد اپنی امت کو تھکا دیا ہے۔“
شیخ صاحب رحمہ اللہ فرماتے ہیں: یہ حج کی بات ہوگی اور ابن ابی اوفی رضی اللہ عنہ والی حدیث عمرہ کے بارے میں ہے، لہٰذا دونوں ایک دوسرے کے مخالف نہیں ہیں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الحج/حدیث: 9729]
شیخ صاحب رحمہ اللہ فرماتے ہیں: یہ حج کی بات ہوگی اور ابن ابی اوفی رضی اللہ عنہ والی حدیث عمرہ کے بارے میں ہے، لہٰذا دونوں ایک دوسرے کے مخالف نہیں ہیں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الحج/حدیث: 9729]
تخریج الحدیث: «ضعيف۔ ترمذي 873۔ ابن ماجه 3064»
الحكم على الحديث: ضعيف
2058. -- باب: ما جاء في مال الكعبة وكسوتها
-- باب: کعبہ کے مال اور اس کے غلاف کے بارے میں جو مروی ہے۔
حدیث نمبر: 9730
أَخْبَرَنَا أَبُو عَمْرٍو الْأَدِيبُ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ الْإِسْمَاعِيلِيُّ، أَخْبَرَنِي هَارُونُ بْنُ يُوسُفَ أَبُو أَحْمَدَ، ثنا ابْنُ أَبِي عُمَرَ، ثنا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ سُفْيَانَ الثَّوْرِيِّ، عَنْ وَاصِلِ بْنِ حَيَّانَ ⦗٢٦٠⦘ الْأَحْدَبِ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ شَقِيقِ بْنِ سَلَمَةَ، قَالَ: جَلَسْتُ إِلَى شَيْبَةَ بْنِ عُثْمَانَ فِي الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ، فَقَالَ لِي جَلَسَ إِلَيَّ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ مَجْلِسَكَ هَذَا، فَقَالَ: لَقَدْ هَمَمْتُ أَنْ لَا أَتْرُكَ فِيهَا صَفْرَاءَ وَلَا بَيْضَاءَ إِلَّا قَسَمْتُهَا يَعْنِي الْكَعْبَةَ، قَالَ شَيْبَةُ: فَقُلْتُ: إِنَّهُ كَانَ لَكَ صَاحِبَانِ فَلَمْ يَفْعَلَاهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، فَقَالَ عُمَرُ: هُمَا الْمَرْءَانِ أَقْتَدِي بِهِمَا أَخْرَجَهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ مِنْ حَدِيثِ سُفْيَانَ الثَّوْرِيِّ.
شقیق بن سلمہ فرماتے ہیں کہ میں شیبہ بن عثمان کے ساتھ مسجد حرام میں بیٹھا تو انہوں نے کہا: جس طرح تو میرے ساتھ بیٹھا ہے بالکل اسی طرح عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ بیٹھے تھے اور وہ کہنے لگے کہ میرا ارادہ ہے کہ میں کعبہ کا سارا سونا اور چاندی کچھ بھی نہ چھوڑوں، سب تقسیم کر دوں، شیبہ کہتے ہیں: میں نے کہا: آپ کے دو ساتھیوں نے تو یہ کام نہیں کیا، یعنی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور ابوبکر رضی اللہ عنہ نے، تو عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: وہ دونوں ایسے آدمی ہیں کہ میں جن کی اقتدا کرتا ہوں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الحج/حدیث: 9730]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ بخاري 6847»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 9731
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي الْمَعْرُوفِ الْفَقِيهُ، أنبأ بِشْرُ بْنُ أَحْمَدَ الْإِسْفَرَايِينِيُّ، أنبأ أَبُو جَعْفَرٍ أَحْمَدُ بْنُ الْحُسَيْنِ بْنِ نَصْرٍ الْحَذَّاءُ، ثنا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْمَدِينِيُّ، حَدَّثَنِي أَبِي، أَخْبَرَنِي عَلْقَمَةُ بْنُ أَبِي عَلْقَمَةَ، عَنْ أُمِّهِ، قَالَتْ: دَخَلَ شَيْبَةُ بْنُ عُثْمَانَ الْحَجَبِيُّ عَلَى عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهَا، فَقَالَ: يَا أُمَّ الْمُؤْمِنِينَ إِنَّ ثِيَابَ الْكَعْبَةِ تَجْتَمِعُ عَلَيْنَا فَتَكْثُرُ فَنَعْمَدُ إِلَى آبَارٍ فَنَحْتَفِرُهَا فَنُعَمِّقُهَا ثُمَّ نَدْفِنُ ثِيَابَ الْكَعْبَةِ فِيهَا كَيْلَا يَلْبَسَهَا الْجُنُبُ وَالْحَائِضُ فَقَالَتْ لَهُ عَائِشَةُ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهَا: مَا أَحْسَنْتَ وَلَبِئْسَ مَا صَنَعْتَ إِنَّ ثِيَابَ الْكَعْبَةِ إِذَا نُزِعَتْ مِنْهَا لَمْ يَضُرَّهَا أَنْ يَلْبَسَهَا الْجُنُبُ وَالْحَائِضُ وَلَكِنْ بِعْهَا وَاجْعَلْ ثَمَنَهَا فِي الْمَسَاكِينِ وَفِي سَبِيلِ اللهِ قَالَتْ: فَكَانَ شَيْبَةُ بَعْدَ ذَلِكَ يُرْسِلُ بِهَا إِلَى الْيَمَنِ فَتُبَاعُ هُنَاكَ ثُمَّ يَجْعَلُ ثَمَنَهَا فِي الْمَسَاكِينِ وَفِي سَبِيلِ اللهِ وَابْنِ السَّبِيلِ.
شیبہ بن عثمان جعفی سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس گئے اور کہا: اے ام المومنین! کعبہ کا غلاف ہمارے پاس جمع ہوتا ہے اور جب وہ زیادہ ہو جائے تو ہم کنویں کھود کر اس میں دفن کر دیتے ہیں تاکہ کوئی جنبی یا حائضہ انہیں نہ پہن لے۔ تو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: تم نے اچھا نہیں کیا اور بہت برا کام کیا ہے، کعبہ کا غلاف جب اتار لیا جائے تو جنبی و حائضہ کے پہننے میں کوئی حرج نہیں ہے، لیکن تو اس کو بیچ دے اور اس کی قیمت مساکین اور جہاد میں لگا دے۔ کہتی ہیں کہ اس کے بعد شیبہ اس غلاف کو یمن بھیجتا، اسے وہاں بیچ دیا جاتا پھر اس کی قیمت مساکین، جہاد اور مسافروں پر خرچ کی جاتی۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الحج/حدیث: 9731]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 9732
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَمْرٍو الْأَدِيبُ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ الْإِسْمَاعِيلِيُّ، أنبأ الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، ثنا حَبَّانُ، عَنِ ابْنِ الْمُبَارَكِ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ، أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا يَعْقُوبُ بْنُ سُفْيَانَ، ثنا عَلِيُّ بْنُ الْحَسَنِ، أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ الْمُبَارَكِ، أنبأ مُحَمَّدٌ يَعْنِي ابْنَ أَبِي حَفْصَةَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، رَضِيَ اللهُ عَنْهَا، قَالَتْ: كَانُوا يَصُومُونَ عَاشُورَاءَ قَبْلَ أَنْ يُفْرَضَ رَمَضَانُ وَكَانَ يَوْمًا تُسْتَرُ فِيهِ الْكَعْبَةُ، قَالَتْ: فَلَمَّا فَرَضَ اللهُ رَمَضَانَ، قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَنْ شَاءَ أَنْ يَصُومَهُ فَلْيَصُمْهُ وَمَنْ شَاءَ أَنْ يَتْرُكَهُ تَرَكَهُ"، رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ مُقَاتِلٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ الْمُبَارَكِ.
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ رمضان کے روزے فرض ہونے سے پہلے لوگ عاشورا کا روزہ رکھا کرتے تھے اور اسی دن کعبہ کو غلاف پہنایا جاتا تھا۔ جب اللہ نے رمضان کو فرض قرار دے دیا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو عاشورا کا روزہ رکھنا چاہتا ہے تو رکھ لے اور جو چھوڑنا چاہتا ہے چھوڑ دے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الحج/حدیث: 9732]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ بخاري 1515»
الحكم على الحديث: صحيح
2059. -- باب: الصلاة بالمحصب والنزول بها
-- باب: محصب (وادیِ ابطح) میں نماز پڑھنے اور وہاں پڑاؤ ڈالنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 9733
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ إِسْحَاقُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يُوسُفَ السُّوسِيُّ ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنبأ الْعَبَّاسُ بْنُ الْوَلِيدِ بْنِ مَزْيَدٍ، أَخْبَرَنِي أَبِي، ثنا الْأَوْزَاعِيُّ، حَدَّثَنِي ابْنُ شِهَابٍ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ حِينَ أَرَادَ أَنْ يَنْفِرَ مِنْ مِنًى:" نَحْنُ نَازِلُونَ غَدًا إِنْ شَاءَ اللهُ بِخَيْفِ بَنِي كِنَانَةَ حَيْثُ تَقَاسَمُوا ⦗٢٦١⦘ عَلَى الْكُفْرِ" يَعْنِي بِذَلِكَ الْمُحَصَّبِ وَذَلِكَ أَنَّ قُرَيْشًا وَبَنِي كِنَانَةَ تَقَاسَمُوا عَلَى بَنِي هَاشِمٍ وَبَنِي الْمُطَّلِبِ أَنْ لَا يُنَاكِحُوهَا وَلَا يَكُونُ بَيْنَهُمْ شَيْءٌ حَتَّى يُسَلِّمُوا إِلَيْهِمْ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَخْرَجَهُ الْبُخَارِيُّ، وَمُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ مِنْ حَدِيثِ الْأَوْزَاعِيِّ.
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے جب منیٰ سے نکلنے کا ارادہ کیا تو فرمایا: ”ہم کل خیف بنی کنانہ میں اترنے والے ہیں «إِنْ شَاءَ اللّٰهُ» ”اگر اللہ نے چاہا“، جہاں انہوں نے کفر پر قسمیں اٹھائی تھیں“، یعنی وادی محصب میں اور بات یہ تھی کہ قریش اور بنی کنانہ نے بنی ہاشم اور بنی مطلب کے خلاف قسمیں اٹھائی تھیں کہ وہ ان سے نہ تو نکاح کریں گے اور نہ ہی کوئی اور معاملہ حتیٰ کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ان کے سپرد نہ کر دیں۔ [صحیح: بخاری: 1523، مسلم: 1314] [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الحج/حدیث: 9733]
حدیث نمبر: 9734
وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي الْمَعْرُوفِ الْفَقِيهُ الْمِهْرَجَانِيُّ بِهَا، أنبأ أَبُو سَهْلٍ بِشْرُ بْنُ أَحْمَدَ، أنبأ أَبُو جَعْفَرٍ أَحْمَدُ بْنُ الْحُسَيْنِ بْنُ نَصْرٍ الْحَذَّاءُ، ثنا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْمَدِينِيُّ، ثنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ بْنُ هَمَّامٍ، أَخْبَرَنِي مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ حُسَيْنٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ، عَنْ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُ، قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ أَيْنَ تَنْزِلُ؟ وَذَلِكَ فِي حَجَّتِهِ، قَالَ: وَهَلْ تَرَكَ لَنَا عُقَيْلٌ مَنْزِلًا، ثُمَّ قَالَ: نَحْنُ نَازِلُونَ غَدًا بِخَيْفِ بَنِي كِنَانَةَ حَيْثُ تَقَاسَمُوا الْكُفَّارَ يَعْنِي بِذَلِكَ الْمُحَصَّبَ وَذَلِكَ أَنَّ قُرَيْشًا وَكِنَانَةَ تَحَالَفَتْ عَلَى بَنِي هَاشِمٍ أَنْ لَا يُنَاكِحُوهُمْ وَلَا يُبَايِعُوهُمْ وَلَا يُؤْوُهُمْ، قَالَ الزُّهْرِيُّ: وَالْخَيْفُ الْوَادِي، رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ مَحْمُودٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ، وَرَوَاهُ مُسْلِمٌ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ مِهْرَانَ وَغَيْرِهِ، عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ.
سیدنا اسامہ بن زید رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ میں نے حج کے موقع پر کہا: ”اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! آپ کہاں اتریں گے؟“ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا عقیل نے ہمارے لیے کوئی جگہ چھوڑی ہے؟“ پھر فرمایا: ”ہم کل خیف بنی کنانہ میں اتریں گے جہاں کافروں نے قسمیں اٹھائی تھیں“، یعنی وادی محصب میں اور بات یہ ہے کہ قریش اور کنانہ نے بنی ہاشم پر قسم اٹھائی تھی کہ وہ ان سے نکاح نہیں کریں گے، تجارت نہیں کریں گے اور ان کو پناہ نہیں دیں گے۔ زہری کہتے ہیں کہ خیف کا معنی وادی ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الحج/حدیث: 9734]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ بخاري 2893۔ مسلم 1351»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 9735
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، حَدَّثَنِي أَبِي، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، ثنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أنبأ مَعْمَرٌ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ" أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَأَبَا بَكْرٍ، وَعُمَرَ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمَا كَانُوا يَنْزِلُونَ الْأَبْطَحَ" رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ مِهْرَانَ الرَّازِيِّ، عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ، وَأَخْرَجَهُ أَيْضًا مِنْ حَدِيثِ صَخْرِ بْنِ جُوَيْرِيَةَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ أَنَّهُ كَانَ يَرَى التَّحْصِيبَ سُنَّةً وَكَانَ يُصَلِّي الظُّهْرَ يَوْمَ النَّفْرِ بِالْحَصْبَةِ، قَالَ نَافِعٌ: قَدْ حَصَّبَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَالْخُلَفَاءُ بَعْدَهُ.
ابن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما ابطح میں اترا کرتے تھے۔ صخر بن جویریہ نافع سے نقل فرماتے ہیں کہ ابن عمر رضی اللہ عنہما محصب میں اترنا سنت سمجھتے تھے اور کوچ والے دن ظہر کی نماز محصب میں ادا کرتے تھے۔ نافع کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے بعد خلفاء نے محصب میں پڑاؤ کیا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الحج/حدیث: 9735]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ مسلم 1310»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 9736
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، حَدَّثَنِي عَبْدُ اللهِ بْنُ سَعْدٍ الْبَزَّازُ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي خَالِدٍ، وَإِبْرَاهِيمُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ يُوسُفَ، قَالَا: ثنا حُمَيْدُ بْنُ مَسْعَدَةَ، ثنا خَالِدُ بْنُ الْحَارِثِ، ثنا عُبَيْدُ اللهِ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّهُ كَانَ يُصَلِّي بِهَا يَعْنِي الْمُحَصَّبَ الظُّهْرَ وَالْعَصْرَ، قَالَ خَالِدٌ: وَأَحْسَبُهُ الْمَغْرِبَ وَالْعِشَاءَ، قَالَ: وَيَهْجَعُ وَيَذْكُرُ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَعَلَ ذَلِكَ أَوْ كَانَ يَفْعَلُ، رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنِ الْحَجَبِيِّ، عَنْ خَالِدِ بْنِ الْحَارِثِ.
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما ظہر اور عصر کی نماز محصب میں ادا کرتے تھے اور خالد کہتے ہیں کہ مغرب اور عشا بھی، اور وہیں سوتے اور کہتے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ”اسی طرح کیا کرتے تھے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الحج/حدیث: 9736]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ بخاري 1679»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 9737
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ وَأَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي، قَالُوا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَبْدِ الْحَكَمِ، أنبأ ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ، أَنَّ قَتَادَةَ بْنَ دِعَامَةَ، حَدَّثَهُ، عَنْ ⦗٢٦٢⦘ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَّى الظُّهْرَ وَالْعَصْرَ وَالْمَغْرِبَ وَالْعِشَاءَ وَرَقَدَ رَقْدَةً بِالْمُحَصَّبِ ثُمَّ رَكِبَ إِلَى الْبَيْتِ فَطَافَ بِهِ، رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ عَبْدِ الْمُتَعَالِ بْنِ طَالِبٍ، عَنِ ابْنِ وَهْبٍ.
انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ظہر، عصر، مغرب اور عشاء کی نماز محصب میں ادا کی اور وہیں سوئے، پھر بیت اللہ کی طرف گئے اور اس کا طواف کیا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الحج/حدیث: 9737]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ بخاري 1675»
الحكم على الحديث: صحيح
2060. -- باب: الدليل على أن النزول بالمحصب ليس بنسك يجب بتركه شيء
-- باب: اس دلیل کا بیان کہ محصب میں پڑاؤ ڈالنا کوئی ایسا مناسکِ حج نہیں جس کے ترک کرنے سے کچھ واجب ہوتا ہو۔
حدیث نمبر: 9738
حَدَّثَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللهِ بْنُ يُوسُفَ الْأَصْبَهَانِيُّ، إِمْلَاءً، أنبأ أَبُو سَعِيدٍ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ الْبَصْرِيُّ بِمَكَّةَ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدٍ الزَّعْفَرَانِيُّ، ثنا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ أَبِي رَبَاحٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَنَّهُ قَالَ: لَيْسَ الْمُحَصَّبُ بِشَيْءٍ إِنَّمَا هُوَ مَنْزِلٌ نَزَلَهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ عَلِيِّ بْنِ الْمَدِينِيِّ، وَرَوَاهُ مُسْلِمٌ عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ أَبِي شَيْبَةَ وَغَيْرِهِ، عَنْ سُفْيَانَ.
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ محصب کچھ بھی نہیں ہے، یہ تو صرف اترنے کی جگہ ہے جہاں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اترے تھے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الحج/حدیث: 9738]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ بخاري 1677۔ مسلم 1312»
الحكم على الحديث: صحيح