🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
السنن الكبرى للبيهقي میں نمبر سے تلاش
حدیث نمبر لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں عربی متن سے تلاش
عربی حدیث کا متن لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں اردو متن سے تلاش
اردو حدیث کا متن لکھیں:
2062. -- باب: ترك الحائض الوداع
-- باب: حائضہ عورت کا طوافِ وداع ترک کرنے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 9759
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ، ثنا رَوْحٌ، أنبأ ابْنُ جُرَيْجٍ، أَخْبَرَنِي حَسَنُ بْنُ مُسْلِمٍ، عَنْ طَاوُسٍ، قَالَ: كُنْتُ مَعَ ابْنِ عَبَّاسٍ إِذْ قَالَ لَهُ زَيْدُ بْنُ ثَابِتٍ:" أَنْتَ تُفْتِي أَنْ تَصْدُرَ الْحَائِضُ، قَبْلَ أَنْ يَكُونَ آخِرُ عَهْدِهَا بِالْبَيْتِ؟" قَالَ:" نَعَمْ"، قَالَ:" فَلَا تُفْتِ بِذَلِكَ"، فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ:" أَمَّا لِي فَسَلْ فُلَانَةَ الْأَنْصَارِيَّةَ هَلْ أَمَرَهَا بِذَلِكَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟"، قَالَ: فَرَجَعَ إِلَيْهِ زَيْدُ بْنُ ثَابِتٍ يَضْحَكُ وَيَقُولُ:" مَا أَرَاكَ إِلَّا قَدْ صَدَقْتَ".
طاؤس رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں ابن عباس رضی اللہ عنہما کے ساتھ تھا، جب ان کو زید بن ثابت رضی اللہ عنہ نے کہا: ”کیا آپ یہ فتویٰ دیتے ہیں کہ حائضہ طوافِ وداع کرنے سے پہلے ہی لوٹ جائے؟“ انہوں نے کہا: ”جی ہاں!“ وہ کہنے لگے: ”آپ یہ فتویٰ نہ دیں“ تو ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: ”تو جا کر میرے لیے فلاں انصاری عورت سے پوچھ کہ کیا اس کو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کا حکم دیا تھا؟“ تو وہ ہنستے ہوئے واپس آئے اور کہنے لگے: ”آپ نے سچ کہا ہے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الحج/حدیث: 9759]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ مسلم 1328»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 9760
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا يَحْيَى بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى، ثنا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، ثنا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، فَذَكَرَهُ بِمَعْنَاهُ، رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ حَاتِمٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ.
یحییٰ بن سعید رحمہ اللہ نے ابن جریج رحمہ اللہ سے اسی قسم کی روایت نقل کی ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الحج/حدیث: 9760]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ انظر قبله»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 9761
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ بْنُ أَبِي عَلِيٍّ السَّقَّاءُ، وَأَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمُقْرِئُ الْإِسْفَرَايِينِيَّانِ قَالَا: أنبأ الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، ثنا يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ الْقَاضِي، ثنا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، ثنا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ عِكْرِمَةَ، قَالَ: سَأَلَ أَهْلُ الْمَدِينَةِ ابْنَ عَبَّاسٍ عَنِ امْرَأَةٍ، طَافَتْ بِالْبَيْتِ يَوْمَ النَّحْرِ ثُمَّ حَاضَتْ، فَقَالَ:" تَنْفِرُ"، فَقَالُوا: لَا نَأْخُذُ بِقَوْلِكَ، وَهَذَا زَيْدُ بْنُ ثَابِتٍ يُخَالِفُكَ، قَالَ:" إِذَا أَتَيْتُمُ الْمَدِينَةَ فَسَلُوا"، فَلَمَّا قَدِمُوا الْمَدِينَةَ سَأَلُوا فَأَخْبَرُوهُمْ بِصَفِيَّةَ وَكَانَ فِيمَنْ سَأَلُوا أُمُّ سُلَيْمٍ فَأَخْبَرَتْهُمْ بِصَفِيَّةَ رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ أَبِي النُّعْمَانِ، عَنْ حَمَّادٍ، قَالَ الْبُخَارِيُّ: وَرَوَاهُ خَالِدٌ وَقَتَادَةُ، عَنْ عِكْرِمَةَ.
عکرمہ رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ اہل مدینہ نے سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے اس عورت کے بارے میں سوال کیا جس نے یوم نحر کو بیت اللہ کا طواف کرلیا، پھر وہ حائضہ ہوگئی، تو انہوں نے فرمایا: ”وہ چلی جائے۔“ تو وہ کہنے لگے: ”ہم آپ کی بات نہیں مانتے، یہ سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ آپ کے خلاف فتویٰ دیتے ہیں۔“ تو انہوں نے فرمایا: ”جب تم مدینہ جاؤ تو وہاں جا کر پوچھنا۔“ تو وہ لوگ جب مدینہ گئے تو انہوں نے پوچھا، انہوں نے ان کو سیدہ صفیہ رضی اللہ عنہا والی بات بتائی اور جن لوگوں سے انہوں نے پوچھا تھا، ان میں سیدہ ام سلیم رضی اللہ عنہا بھی تھیں، انہوں نے بھی سیدہ صفیہ رضی اللہ عنہا والی بات ہی بتائی۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الحج/حدیث: 9761]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ بخاري 1671»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 9762
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ الْمُقْرِئُ، أنبأ الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، ثنا يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا أَبُو الرَّبِيعِ، ثنا هُشَيْمٌ، ثنا خَالِدٌ الْحَذَّاءُ، عَنْ عِكْرِمَةَ، أَنَّ زَيْدَ بْنَ ثَابِتٍ، قَالَ:" تُقِيمُ حَتَّى تَطْهُرَ وَيَكُونُ آخِرُ عَهْدِهَا بِالْبَيْتِ"، فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ:" إِذَا كَانَتْ قَدْ طَافَتْ يَوْمَ النَّحْرِ فَلْتَنْفِرْ"، فَأَرْسَلَ زَيْدُ بْنُ ثَابِتٍ إِلَى ابْنِ عَبَّاسٍ" أَنِّي وَجَدْتُ الَّذِي قُلْتَ كَمَا قُلْتَ"، قَالَ: فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ:" إِنِّي لَأَعْلَمُ قَوْلَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِلنِّسَاءِ، وَلَكِنِّي أَحْبَبْتُ أَنْ أَقُولَ بِمَا فِي كِتَابِ اللهِ"، ثُمَّ تَلَا هَذِهِ الْآيَةَ {ثُمَّ لْيَقْضُوا تَفَثَهُمْ وَلْيُوفُوا نُذُورَهُمْ وَلْيَطَّوَّفُوا بِالْبَيْتِ الْعَتِيقِ} [الحج: ٢٩] فَقَدْ قَضَتِ التَّفَثَ وَوَفَّتِ النَّذْرَ وَطَافَتْ بِالْبَيْتِ فَمَا بَقِيَ؟".
عکرمہ رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”وہ ٹھہری رہے حتیٰ کہ پاک ہو جائے اور اس کا آخری وقت بیت اللہ کے پاس گزرے“ تو سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: ”جب وہ یومِ نحر کو طواف کر چکی ہو تو چلی جائے“ تو سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ نے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کی طرف پیغام بھیجا کہ جو بات آپ نے کہی ہے وہ میں نے ویسے ہی پائی ہے تو سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: ”میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا قول عورتوں کے لیے جانتا ہوں لیکن میں یہ چاہتا ہوں کہ میں کتاب اللہ کی رو سے بات کروں“، پھر یہ آیت تلاوت کی: ﴿ثُمَّ لْيَقْضُوا تَفَثَهُمْ وَلْيُوفُوا نُذُورَهُمْ وَلْيَطَّوَّفُوا بِالْبَيْتِ الْعَتِيقِ﴾ [سورة الحج: 29] ”پھر وہ اپنی نذروں کو پورا کریں اور پرانے گھر کا طواف کریں، اس نے میل کچیل بھی اتار لی اور نذر پوری کی اور بیت اللہ کا طواف بھی کر لیا، اب کیا باقی ہے؟“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الحج/حدیث: 9762]
تخریج الحدیث: «صحيح»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 9763
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ، أنبأ مُعَلَّى بْنُ مَنْصُورٍ، ثنا هُشَيْمٌ، أنبأ خَالِدٌ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّهُ قَالَ:" إِذَا طَافَتْ يَوْمَ النَّحْرِ، ثُمَّ حَاضَتْ فَلْتَنْفِرْ" وَقَالَ زَيْدُ بْنُ ثَابِتٍ:" لَا تَنْفِرُ حَتَّى تَطْهُرَ وَتَطُوفَ بِالْبَيْتِ" ثُمَّ أَرْسَلَ بَعْدَ ذَلِكَ إِلَى ابْنِ عَبَّاسٍ فَذَكَرَ الْحَدِيثَ بِنَحْوِهِ.
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ جب (عورت) یومِ نحر کو طواف کر لے، پھر حائضہ ہو جائے تو وہ (اپنے گھر) لوٹ آئے، اور سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ نے کہا کہ وہ نہ لوٹے یہاں تک کہ پاک ہو جائے اور بیت اللہ کا طواف کرے۔ پھر اس کے بعد انہوں نے سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کی طرف پیغام بھیجا۔۔۔ سابقہ حدیث کی طرح ہی حدیث بیان کی۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الحج/حدیث: 9763]
تخریج الحدیث: «صحيح»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 9764
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ، أنبأ رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ، أنبأ سَعِيدٌ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ عِكْرِمَةَ، قَالَ: اخْتَلَفَ فِيهَا ابْنُ عَبَّاسٍ، وَزَيْدُ بْنُ ثَابِتٍ، فَقَالَ زَيْدٌ:" لِيَكُنْ آخِرُ عَهْدِهَا بِالْبَيْتِ" يَعْنِي الطَّوَافَ بِالْبَيْتِ، فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ:" إِذَا أَفَاضَتْ يَوْمَ النَّحْرِ، ثُمَّ حَاضَتْ فَلْتَنْفِرْ إِنْ شَاءَتْ"، فَقَالَتِ الْأَنْصَارُ: إِنَّا لَا نُتَابِعُكَ إِذَا خَالَفْتَ زَيْدَ بْنَ ثَابِتٍ، فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ:" سَلُوا صَاحِبَتَكُمْ أُمَّ سُلَيْمٍ"، فَسَأَلُوهَا فَأَنْبَأَتْ أَنَّ صَفِيَّةَ بِنْتَ حُيِيِّ بْنِ أَخْطَبَ حَاضَتْ بَعْدَمَا طَافَتْ بِالْبَيْتِ يَوْمَ النَّحْرِ فَقَالَتْ لَهَا عَائِشَةُ:" الْخَيْبَةُ لَكِ حَبَسْتِنَا"، فَذَكَرُوا ذَلِكَ لِرَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَمَرَهَا أَنْ تَنْفِرَ وَأَخْبَرَتْ أُمُّ سُلَيْمٍ" أَنَّهَا لَقِيَتْ ذَاكَ وَأَمَرَهَا أَنْ تَنْفِرَ"، أَشَارَ الْبُخَارِيُّ إِلَى هَاتَيْنِ الرِّوَايَتَيْنِ وَأَخْرَجَهُ مِنْ حَدِيثِ أَيُّوبَ، عَنْ عِكْرِمَةَ مُخْتَصَرًا.
عکرمہ رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ اس بارے میں سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما اور سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ نے اختلاف کیا، سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”اس کا آخری کام طوافِ بیت اللہ ہو“ اور سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: ”جب وہ قربانی والے دن افاضہ کر چکے، پھر حائضہ ہو جائے تو وہ جا سکتی ہے۔“ اگر چاہے تو انصار نے کہا: ”ہم تیری بات نہیں مانیں گے، کیونکہ زید بن ثابت رضی اللہ عنہ تیری مخالفت کرتے ہیں“ تو سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: ”ام سلیم رضی اللہ عنہا سے جا کر پوچھو“، تو انہوں نے پوچھا: وہ کہنے لگیں کہ سیدہ صفیہ بنت حیی بن اخطب رضی اللہ عنہا بیت اللہ کا طواف کرنے کے بعد یومِ نحر کو حائضہ ہو گئیں تو اس کو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: ”تیرے لیے رسوائی ہو، تو تو ہمیں روکنے والی ہے“، انہوں نے یہ بات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ذکر کی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے کوچ کا حکم دیا اور سیدہ ام سلیم رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میرے ساتھ بھی یہی معاملہ ہوا تو مجھے بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کوچ کا حکم دیا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الحج/حدیث: 9764]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ احمد 6/ 430۔ طيالسي 1651»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
2063. -- باب: الوقوف في الملتزم
-- باب: ملتزم کے پاس وقوف کرنے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 9765
أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدِ بْنُ يُوسُفَ، أنبأ أَبُو مُحَمَّدٍ دَعْلَجُ بْنُ أَحْمَدَ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ غَالِبٍ، ثنا أَبُو حُذَيْفَةَ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ بْنُ عَبْدَانَ، أنبأ سُلَيْمَانُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ أَيُّوبَ اللَّخْمِيُّ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ دَاوُدَ الْمَكِّيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، قَالَا: ثنا سُفْيَانُ، عَنِ الْمُثَنَّى بْنِ الصَّبَّاحِ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ رَأَيْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" يُلْزِقُ وَجْهَهُ وَصَدْرَهُ بِالْمُلْتَزَمِ".
عمرو بن شعیب اپنے والد سے اور وہ اپنے دادا رضی اللہ عنہما سے روایت کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا، آپ اپنا چہرہ اور سینہ ملتزم کے ساتھ لگاتے تھے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الحج/حدیث: 9765]
تخریج الحدیث: «ضعيف۔ دارقطني 2/ 289»

الحكم على الحديث: ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 9766
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ وَهْبٍ، عَنْ سُلَيْمَانَ يَعْنِي ابْنَ بِلَالٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ إِسْمَاعِيلَ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَبَّاسٍ أَنَّهُ كَانَ يَلْزَمُ مَا بَيْنَ الرُّكْنِ وَالْبَابِ وَكَانَ يَقُولُ:" مَا بَيْنَ الرُّكْنِ وَالْبَابِ يُدْعَى الْمُلْتَزَمَ لَا يَلْزَمُ مَا بَيْنَهُمَا أَحَدٌ يَسْأَلُ اللهَ شَيْئًا إِلَّا أَعْطَاهُ إِيَّاهُ" هَذَا مَوْقُوفٌ، وَسَائِرُ الْأَحَادِيثِ فِيهِ قَدْ مَضَتْ.
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما رکن اور دروازے کی درمیانی جگہ کو لازم پکڑتے اور فرماتے تھے: رکن اور دروازے کی درمیانی ملتزم نامی جگہ کو جو شخص بھی چمٹ کر اللہ سے کچھ بھی مانگے تو اللہ اس کو ضرور دے دیتا ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الحج/حدیث: 9766]
تخریج الحدیث: «ضعيف»

الحكم على الحديث: ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 9767
أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ الْأَصَمُّ، أنبأ الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، أنبأ الشَّافِعِيُّ، قَالَ:" أُحِبُّ لَهُ إِذَا وَدَّعَ الْبَيْتَ أَنْ يَقِفَ فِي الْمُلْتَزَمِ وَهُوَ بَيْنَ الرُّكْنِ وَالْبَابِ فَيَقُولُ: اللهُمَّ، الْبَيْتُ بَيْتُكَ، وَالْعَبْدُ عَبْدُكَ وَابْنُ عَبْدِكَ وَابْنُ أَمَتِكَ، حَمَلْتَنِي عَلَى مَا سَخَّرْتَ لِي مِنْ خَلْقِكَ حَتَّى سَيَّرْتَنِي فِي بِلَادِكَ، وَبَلَّغْتَنِي بِنِعْمَتِكَ حَتَّى أَعَنْتَنِي عَلَى قَضَاءِ مَنَاسِكِكَ فَإِنْ كُنْتَ رَضِيتَ عَنِّي فَازْدَدْ عَنِّي رِضًا، وَإِلَّا فَمِنَ الْآنِ قَبْلَ أَنْ تَنْأَى عَنْ بَيْتِكَ دَارِي فَهَذَا أَوَانُ انْصِرَافِي إِنْ أَذِنْتَ لِي غَيْرَ مُسْتَبْدِلٍ بِكَ وَلَا بِبَيْتِكَ وَلَا رَاغِبًا عَنْكَ وَلَا عَنْ بَيْتِكَ، ⦗٢٦٩⦘ اللهُمَّ فَاصْحَبْنِي بِالْعَافِيَةِ فِي بَدَنِي وَالْعِصْمَةِ فِي دِينِي، وَأَحْسِنْ مُنْقَلَبِي، وَارْزُقْنِي طَاعَتَكَ مَا أَبْقَيْتَنِي" وَهَذَا مِنْ قَوْلِ الشَّافِعِيِّ رَحِمَهُ اللهُ وَهُوَ حَسَنٌ.
امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ”میں پسند کرتا ہوں کہ جب وہ بیت اللہ کا الوداعی طواف کرے تو وہ ملتزم میں کھڑا ہو، اور یہ دروازے اور رکن کے درمیان ہے اور کہے: اے اللہ! یہ تیرا گھر ہے، اور بندہ تیرا بندہ ہے، تیرے بندے کا بیٹا اور تیری بندی کا بیٹا ہے، تو نے مجھے اپنی مخلوق میں سے اس سواری پر سوار کیا جسے تو نے میرے لیے مسخر کیا یہاں تک کہ تو نے مجھے اپنے شہروں میں چلایا، اور اپنی نعمت سے مجھے یہاں تک پہنچایا یہاں تک کہ تو نے اپنے مناسک ادا کرنے میں میری مدد فرمائی، پس اگر تو مجھ سے راضی ہو گیا ہے تو اپنی رضامندی مزید عطا فرما، اگر نہیں تو پھر ابھی سے ہی مجھ پر راضی ہو جا، اس سے پہلے کہ میرا گھر تیرے گھر سے دور ہو جائے۔ اب میرے کوچ کا وقت آ پہنچا، اگر تو مجھے اجازت دے، میں تیرے یا تیرے گھر کے علاوہ کچھ اور نہ چاہنے والا ہوں اور نہ ہی تجھ سے یا تیرے گھر سے بے رغبت ہونے والا ہوں، اے اللہ! تو میرے بدن میں عافیت دے اور دین میں عصمت عطا کر اور میرا لوٹنا اچھا بنا دے اور مجھے اپنی اطاعت کی توفیق دے جب تک تو مجھے زندہ رکھے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الحج/حدیث: 9767]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ ذكره الشافعي في الام 2/ 343»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
2064. -- باب: من كره أن يقال للذي لم يحج: صرورة
-- باب: ان کا بیان جنہوں نے حج نہ کرنے والے کو ”صرورہ“ کہنے کو مکروہ قرار دیا ہے۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 9768
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ سِنَانٍ الْقَزَّازُ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ الْبُرْسَانِيُّ، ثنا ابْنُ جُرَيْجٍ، أَخْبَرَنِي عُمَرُ بْنُ عَطَاءٍ يُقَالُ هُوَ عُمَرُ بْنُ عَطَاءِ بْنِ وَرَازٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَا صَرُورَةَ فِي الْإِسْلَامِ" أَخْرَجَهُ أَبُو دَاوُدَ فِي كِتَابِ السُّنَنِ.
ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اسلام میں صرورت نہیں ہے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الحج/حدیث: 9768]
تخریج الحدیث: «ضعيف۔ ابوداود 1729۔ احمد 1/ 312»

الحكم على الحديث: ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں