السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
2105. -- باب: ما ورد في سلب من قطع من شجر حرم المدينة أو أصاب فيه صيدا
-- باب: اس شخص کا سامان چھین لینے کے بارے میں جو وارد ہوا ہے جو حرمِ مدینہ کا درخت کاٹے یا اس میں کوئی شکار کرے۔
حدیث نمبر: 9974
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ فُورَكٍ، أنا عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا يُونُسُ بْنُ حَبِيبٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ، عَنْ صَالِحٍ مَوْلَى التَّوْأَمَةِ، حَدَّثَنِي بَعْضُ وَلَدِ سَعْدٍ، عَنْ سَعْدٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" مَنْ أَخَذْتُمُوهُ يَقْطَعُ مِنَ الشَّجَرِ شَيْئًا، يَعْنِي ⦗٣٢٧⦘ شَجَرَ حَرَمِ الْمَدِينَةِ فَلَكُمْ سَلَبُهُ، لَا يُعْضَدُ شَجَرُهَا وَلَا يُقْطَعُ" قَالَ: فَرَأَى سَعْدٌ غِلْمَانًا يَقْطَعُونَ فَأَخَذَ مَتَاعَهُمْ فَانْتَهُوا إِلَى مَوَالِيهِمْ فَأَخْبَرُوهُمْ أَنَّ سَعْدًا رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فَعَلَ كَذَا وَكَذَا، فَأَتَوْهُ فَقَالُوا: يَا أَبَا إِسْحَاقَ إِنَّ غِلْمَانَكَ أَوْ مَوَالِيَكَ أَخَذُوا مَتَاعَ غِلْمَانِنَا، قَالَ: بَلْ أَنَا أَخَذْتُهُ سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ:" مَنْ أَخَذْتُمُوهُ يَقْطَعُ مِنْ شَجَرِ الْحَرَمِ فَلَكُمْ سَلَبُهُ" وَلَكِنْ سَلُونِي مِنْ مَالِي مَا شِئْتُمْ.
سعد کی اولاد سیدنا سعد رضی اللہ عنہ سے نقل کرتی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس کو تم پکڑ لو کہ وہ حرمِ مدینہ سے درخت کاٹ رہا ہے، اس کی سلب یعنی سامان تمہارے لیے ہے۔ اس کے درختوں کا کاٹنا یا اکھاڑنا درست نہیں ہے۔“ راوی فرماتے ہیں کہ سیدنا سعد رضی اللہ عنہ نے کچھ غلاموں کو درخت کاٹتے ہوئے پایا تو ان کا سامان لے لیا، وہ اپنے آقاؤں کے پاس گئے اور انہیں خبر دی کہ سیدنا سعد رضی اللہ عنہ نے اس طرح کیا ہے۔ وہ آئے اور انہوں نے کہا: اے ابو اسحاق! آپ کے غلاموں یا آزاد کردہ غلاموں نے ہمارے غلاموں کا سامان چھین لیا ہے؟ سیدنا سعد رضی اللہ عنہ فرمانے لگے: بلکہ میں نے ہی چھینا ہے، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے کہ: ”جس کو تم پکڑ لو کہ وہ حرم کے درخت کاٹ رہا ہو تو، اس کا سامان تمہارے لیے ہے“، لیکن تم میرے مال میں سے جو چاہو مجھ سے مانگ لو۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الحج/حدیث: 9974]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيره»
الحكم على الحديث: صحيح لغيره
حدیث نمبر: 9975
وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمُقْرِئُ، وَأَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ أَبِي عَلِيٍّ السَّقَّاءُ قَالَا: أنا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، ثنا يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ، ثنا بِشْرُ بْنُ الْمُفَضَّلِ، ثنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِسْحَاقَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَامِرِ بْنِ سَعْدٍ، عَنْ أَبِيهِ أَنَّهُ كَانَ يَخْرُجُ مِنَ الْمَدِينَةِ فَيَجِدُ الْحَاطِبَ مَعَهُ شَجَرٌ رَطْبٌ قَدْ عَضَدَهُ مِنْ بَعْضِ شَجَرِ الْمَدِينَةِ فَيَأْخُذُ سَلَبَهُ فَيُكَلَّمُ فِيهِ فَيَقُولُ:" لَا أَدَعُ غَنِيمَةً غَنَّمَنِيهَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ"، قَالَ:" وَإِنِّي لَمِنْ أَكْثَرِ النَّاسِ مَالًا" أَبُوهُ إِسْحَاقُ بْنُ الْحَارِثِ الْقُرَشِيُّ.
عامر بن سعد اپنے والد (رضی اللہ عنہ) سے نقل فرماتے ہیں کہ وہ مدینہ سے نکلتے تو کسی لکڑہارے کو پاتے جس کے پاس تر درخت ہوتا جو اس نے مدینہ کے درختوں میں سے کاٹا ہوتا، تو وہ اس کا سامان لے لیتے، اس کے بارے میں ان سے بات کی جاتی تو وہ کہتے: میں مالِ غنیمت نہ چھوڑوں گا جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے عطا کیا ہے، اور فرمایا: اگرچہ میں لوگوں میں سے سب سے زیادہ مال والوں میں سے ہوں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الحج/حدیث: 9975]
تخریج الحدیث: «ضعيف۔ اخرجه ابوداود 2037»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 9976
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا أَبُو سَلَمَةَ مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، ثنا جَرِيرُ بْنُ حَازِمٍ، حَدَّثَنِي يَعْلَى بْنِ حَكِيمٍ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ أَبِي عَبْدِ اللهِ، قَالَ: رَأَيْتُ سَعْدَ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ أَخَذَ رَجُلًا يَصِيدُ فِي حَرَمِ الْمَدِينَةِ الَّذِي حَرَّمَهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَسَلَبَهُ ثِيَابَهُ فَجَاءُوا مَوَالِيهِ فَكَلَّمُوهُ فِيهِ، فَقَالَ: إِنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَرَّمَ هَذَا الْحَرَمَ وَقَالَ:" مَنْ أَخَذَ أَحَدًا يَصِيدُ فِيهِ فَلْيَسْلُبْهُ"، فَلَا أَرُدُّ عَلَيْكُمْ طُعْمَةً أَطْعَمَنِيهَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلَكِنْ إِنْ شِئْتُمْ دَفَعْتُ إِلَيْكُمْ ثَمَنَهُ.
سلیمان بن ابی عبداللہ فرماتے ہیں کہ میں نے سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کو دیکھا، انہوں نے ایک آدمی کو پکڑا جو حرم مدینہ میں شکار کر رہا تھا، جس کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حرم قرار دیا تھا۔ انہوں نے اس کے کپڑے چھین لیے۔ اس کے آقا آئے، انہوں نے اس کے بارے میں کلام کیا تو سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کہنے لگے کہ اس کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حرم قرار دیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے کسی کو شکار کرتے پکڑ لیا وہ اس کا سامان لے لے۔“ میں تو وہ روزی جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے عطا کی ہے ہرگز واپس نہ کروں گا، لیکن اگر تم چاہو تو میں اس کی قیمت تمہیں دے دیتا ہوں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الحج/حدیث: 9976]
تخریج الحدیث: «ضعيف۔ اخرجه ابوداود 2032»
الحكم على الحديث: ضعيف
2106. -- باب: كراهية قتل الصيد وقطع الشجر بوج من الطائف
-- باب: طائف کی وادیِ وج میں شکار کرنے اور درخت کاٹنے کی کراہت کا بیان۔
حدیث نمبر: 9977
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ الْحِيرِيُّ قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ مَيْمُونٍ الرَّقِّيُّ، ثنا الْحُمَيْدِيُّ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ الْحَارِثِ بْنِ عَبْدِ الْمَلِكِ الْمَخْزُومِيُّ، حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ إِنْسَانٍ قَالَ الْحُمَيْدِيُّ: بَطْنٌ مِنَ الْعَرَبِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ أَبِيهِ الزُّبَيْرِ بْنِ الْعَوَّامِّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، قَالَ: أَقْبَلْنَا مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ لِيَّةَ نُرِيدُ مَكَّةَ حَتَّى إِذَا كُنَّا عِنْدَ السِّدْرَةِ طَرَفِ الْقَرْنِ الْأَسْوَدِ حَذْوَهَا اسْتَقْبَلَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَخْبًا بِبَصَرِهِ ثُمَّ وَقَفَ حَتَّى اتَّفَقَ النَّاسُ، ثُمَّ قَالَ:" أَلَا إنَّ صَيْدَ وَجٍّ وَعِضَاهَهُ، يَعْنِي شَجَرَهُ حَرَامٌ مُحَرَّمٌ" وَذَلِكَ قَبْلَ نُزُولِهِ الطَّائِفَ وَحِصَارِهِ ثَقِيفًا، ⦗٣٢٨⦘ وَرَوَاهُ أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ الْحَارِثِ وَقَالَ فِيهِ: وَاسْتَقْبَلَ نَخْبًا بِبَصَرِهِ يَعْنِي وَادِيًا.
سیدنا عروہ بن زبیر رحمہ اللہ اپنے والد سیدنا زبیر بن عوام رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ہم ”لیہ“ سے آئے اور مکہ کا ارادہ تھا۔ جب ہم ”سدرہ“ (بیری) کے پاس قرنِ اسود کے کنارے اس کے برابر ہوئے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک وادی کی طرف نظریں جمائیں، پھر ٹھہر گئے یہاں تک کہ لوگ اکٹھے ہو گئے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”خبردار! وج کا شکار اور اس کے کانٹے دار درخت حرام اور ممنوع ہیں۔“ اور یہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے طائف میں پڑاؤ کرنے اور ثقیف کا محاصرہ کرنے سے پہلے کی بات ہے۔
(ب) احمد بن حنبل کی عبداللہ بن حارث سے روایت میں ہے کہ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نظر جما کر ایک وادی کی طرف دیکھا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الحج/حدیث: 9977]
(ب) احمد بن حنبل کی عبداللہ بن حارث سے روایت میں ہے کہ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نظر جما کر ایک وادی کی طرف دیکھا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الحج/حدیث: 9977]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيره۔ اخرجه ابوداود 2039»
الحكم على الحديث: صحيح لغيره
2107. -- باب: كراهية قطع الشجر بكل موضع حماه النبي صلى الله عليه وسلم
-- باب: ہر اس جگہ کے درخت کاٹنے کی کراہت کا بیان جسے نبی ﷺ نے چراگاہ (حرم) قرار دیا ہو۔
حدیث نمبر: 9978
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ حَفْصٍ أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ خَالِدٍ، أَوْ قَالَ: مَخْلَدٌ، أَخْبَرَنِي خَارِجَةُ بْنُ الْحَارِثِ، أَخْبَرَنِي أَبِي، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" لَا يُخْبَطْ وَلَا يُعْضَدْ حِمَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَلَكِنْ يُهَشُّ هَشًّا رَفِيقًا" كَذَا قَالَ.
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی چراگاہ کے نہ تو پتے جھاڑے جائیں گے اور نہ ہی درخت کاٹے جائیں گے، لیکن نرمی سے پتے گرائے جاسکتے ہیں۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الحج/حدیث: 9978]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيره»
الحكم على الحديث: صحيح لغيره
حدیث نمبر: 9979
وَأَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرٍ عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ عُمَرَ بْنِ قَتَادَةَ، أنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الضَّبُعِيُّ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ زِيَادٍ السُّرِّيُّ، ثنا ابْنُ أَبِي أُوَيْسٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي خَارِجَةُ بْنُ الْحَارِثِ، عَنْ أَبِيهِ الْحَارِثِ بْنِ رَافِعِ بْنِ مَكِيثٍ الْجُهَنِيِّ ثُمَّ الرِّبْعِيِّ، أَنَّهُ سَأَلَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللهِ السُّلَمِيَّ صَاحِبَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" إِنَّ لَنَا غَنَمًا وَغِلْمَانًا وَهُمْ يَخْبِطُونَ عَلَى غَنَمِهِمْ مِنْ هَذِهِ الثَّمَرَةِ الْحَبَلَةِ"، قَالَ خَارِجَةُ: وَهِيَ ثَمَرَةُ السَّمُرَةِ، قَالَ جَابِرٌ:" لَا ثُمَّ لَا، لَا يُخْبَطْ وَلَا يُعْضَدْ حِمَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلَكِنْ هُشُّوا هَشًّا"، قَالَ جَابِرٌ:" إِنْ كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَظُنُّهُ قَالَ: يَنْهَى أَنْ يُقْطَعَ الْمَسَدُ" قَالَ جَابِرٌ: وَالْمَسَدُ: مِرْوَدٌ لِلْبَكْرَةِ، قَالَ ابْنُ أَبِي أُوَيْسٍ: الْحِمَى حَوْلَ الْمَدِينَةِ.
خارجہ بن حارث اپنے والد حارث بن رافع بن مکیث جہنی سے نقل فرماتے ہیں کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابی جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے سوال کیا کہ ہماری بکریاں ہیں اور غلام ہیں، وہ اپنی بکریوں کے لیے اس حبلہ پھل (والے درخت) سے پتے جھاڑتے ہیں۔ خارجہ کہتے ہیں: یہ ببول کے درخت کا پھل ہے۔ جابر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”نہیں، پھر نہیں! رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی چراگاہ کے نہ پتے جھاڑے جائیں اور نہ درخت کاٹے جائیں، لیکن آرام و سکون سے پتے گرا لو۔“ جابر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم “، میرا گمان ہے کہ انہوں نے کہا: ”مسد کاٹنے سے منع فرماتے تھے۔“ جابر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: مسد چرخی کا دھرا (محور) ہوتا ہے۔ ابن ابی اویس کہتے ہیں: یہ چراگاہ مدینہ کے اردگرد ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الحج/حدیث: 9979]
تخریج الحدیث: «ضعيف۔ اخرجه ابن الجعد 1/ 48»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 9980
أَخْبَرَنَا أَبُو الْفَتْحِ الْفَقِيهُ، أنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ الشُّرَيْحِيُّ، أنا أَبُو الْقَاسِمِ الْبَغَوِيُّ، ثنا عَلِيُّ بْنُ الْجَعْدِ، ثنا الْقَاسِمُ بْنُ الْفَضْلِ الْحُدَّانِيُّ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ، قَالَ: كَانَ جَدِّي مَوْلًى لِعُثْمَانَ بْنِ مَظْعُونٍ وَكَانَ يَلِي أَرْضًا لِعُثْمَانَ فِيهَا بَقْلٌ وَقِثَّاءٌ، قَالَ: فَرُبَّمَا أَتَانِي عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ نِصْفَ النَّهَارِ وَاضِعًا ثَوْبَهُ عَلَى رَأْسِهِ يَتَعَاهَدُ الْحِمَى أَنْ لَا يُعْضَدَ شَجَرُهُ وَلَا يُخْبَطَ، قَالَ: فَيَجْلِسُ إِلِيَّ فَيُحَدِّثُنِي وَأُطْعِمُهُ مِنَ الْقِثَّاءِ وَالْبَقْلِ، فَقَالَ لِي يَوْمًا:" أَرَاكَ لَا تَخْرُجُ مِنْ هَا هُنَا"، قَالَ: قُلْتُ: أَجَلْ، قَالَ:" إِنِّي أَسْتَعْمِلُكَ عَلَى مَا هَا هُنَا فَمَنْ رَأَيْتَ يَعْضِدُ شَجَرًا، أَوْ يَخْبِطُ فَخُذْ فَأْسَهُ وَحَبْلَهُ"، قَالَ: قُلْتُ: آخُذُ رِدَاءَهُ؟، قَالَ:" لَا".
محمد بن زیاد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میرے دادا سیدنا عثمان بن مظعون رضی اللہ عنہ کے آزاد کردہ غلام تھے، وہ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کی ایک زمین کی دیکھ بھال کرتے تھے جس میں ترکاریاں اور ککڑیاں تھیں، کہتے ہیں: بعض اوقات میرے پاس سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ دوپہر کے وقت تشریف لاتے اور اپنا کپڑا سر پر رکھے ہوئے ہوتے، چراگاہ کی دیکھ بھال فرماتے کہ اس کے درخت نہ کاٹے جائیں اور نہ پتے جھاڑے جائیں، راوی کہتے ہیں کہ وہ میرے پاس آکر بیٹھ جاتے اور میرے ساتھ باتیں کرتے، میں ان کو ککڑیاں اور ترکاریاں کھلاتا، انہوں نے ایک دن مجھ سے کہا: میں دیکھتا ہوں کہ آپ یہاں سے نہیں نکلتے، کہتے ہیں: میں نے کہا: جی ہاں، فرمانے لگے: میں تجھے یہاں کا عامل بناتا ہوں، جس کو تو دیکھے کہ وہ درخت کاٹتا ہے یا پتے جھاڑتا ہے تو اس کا کلہاڑا اور رسی پکڑ لینا، کہتے ہیں: میں نے کہا: کیا میں اس کی چادر لے لوں؟ فرمانے لگے: نہیں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الحج/حدیث: 9980]
تخریج الحدیث: «ضعيف۔ اخرجه احمد 2/ 155»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 9981
حَدَّثَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللهِ بْنُ يُوسُفَ الْأَصْبَهَانِيُّ، إِمْلَاءً، ثنا أَبُو سَعِيدٍ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ الْبَصْرِيُّ بِمَكَّةَ، أنا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدٍ الزَّعْفَرَانِيُّ، ثنا حَمَّادُ بْنُ خَالِدٍ الْخَيَّاطُ، عَنِ الْعُمَرِيِّ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ" أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَمَى الْبَقِيعَ لِلْخَيْلِ" وَرُوِّينَا ذَلِكَ أَيْضًا عَنِ ابْنِ شِهَابٍ الزُّهْرِيِّ.
نافع ابن عمر رضی اللہ عنہما سے نقل فرماتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بقیع کو گھوڑوں کے لیے چراگاہ مقرر فرمایا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الحج/حدیث: 9981]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ مسلم 1374»
الحكم على الحديث: صحيح
2108. -- باب: جواز الرعي في الحرم
-- باب: حدودِ حرم میں جانور چرانے کے جواز کا بیان۔
حدیث نمبر: 9982
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أَنَا أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدِ بْنِ إِسْمَاعِيلَ، قِرَاءَةً عَلَيْهِ، ثنا الْمَعْمَرِيُّ يَعْنِي الْحَسَنَ بْنَ عَلِيِّ بْنِ شَبِيبٍ، ثنا حَمَّادُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ بْنِ عُلَيَّةَ، ثنا أَبِي، عَنْ وُهَيْبٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي إِسْحَاقَ أَنَّهُ حَدَّثَ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ مَوْلَى الْمَهْرِيِّ أَنَّهُ أَصَابَهُمْ بِالْمَدِينَةِ جَهْدٌ وَشِدَّةٌ وَأَنَّهُ أَتَى أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ، فَقَالَ لَهُ: إِنِّي كَثِيرُ الْعِيَالِ، وَقَدْ أَصَابَنَا شِدَّةٌ فَأَرَدْتُ أَنْ أَنْقُلَ عِيَالِي إِلَى بَعْضِ الرِّيفِ، فَقَالَ أَبُو سَعِيدٍ: لَا تَفْعَلْ، الزَمِ الْمَدِينَةَ فَإِنَّا خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَظُنُّهُ، قَالَ: حَتَّى قَدِمْنَا عُسْفَانَ، قَالَ: فَأَقَامَ بِهَا لَيَالِيَ، فَقَالَ النَّاسُ: وَاللهِ مَا نَحْنُ هَا هُنَا فِي شَيْءٍ إِنَّ عِيَالَنَا لَخُلُوفٌ وَمَا نَأْمَنُ عَلَيْهِمْ فَبَلَغَ ذَلِكَ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ:" مَا هَذَا الَّذِي يَبْلُغُنِي مِنْ حَدِيثِكُمْ؟" مَا أَدْرِي كَيْفَ قَالَ، قَالَ:" وَالَّذِي أَحْلِفُ بِهِ"، أَوْ" وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ، لَقَدْ هَمَمْتُ"، أَوْ" إِنِّي سَأَهُمُّ" لَا أَدْرِي أَيُّهُمَا قَالَ" لَآمُرَنَّ بِنَاقَتِي تُرَحَّلُ ثُمَّ لَا أَحُلَّ لَهَا عُقْدَةً حَتَّى أَقْدَمَ الْمَدِينَةَ" وَقَالَ:" اللهُمَّ إِنَّ إِبْرَاهِيمَ حَرَّمَ مَكَّةَ فَجَعَلَهَا حَرَمًا اللهُمَّ إِنِّي حَرَّمْتُ الْمَدِينَةَ حَرَامًا مَا بَيْنَ مَأْزِمَيْهَا أَنْ لَا يُهَرَاقَ فِيهَا دَمٌ وَلَا يُحْمَلَ فِيهَا سِلَاحٌ لِقِتَالٍ وَلَا تُخْبَطَ فِيهَا شَجَرَةٌ إِلَّا لِعَلْفٍ، اللهُمَّ بَارِكْ لَنَا فِي مَدِينَتِنَا، اللهُمَّ بَارِكْ لَنَا فِي صَاعِنَا، اللهُمَّ بَارِكْ لَنَا فِي مُدِّنَا" ثَلَاثًا" اللهُمَّ اجْعَلْ مَعَ الْبَرَكَةِ بَرَكَتَيْنِ وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ مَا بَيْنَ الْمَدِينَةِ مِنْ شِعْبٍ وَلَا نَقْبٍ إِلَّا عَلَيْهِ مَلَكَانِ يَحْرُسَانِهِ حَتَّى تَقْدَمُوا إِلَيْهَا" ثُمَّ قَالَ لِلنَّاسِ:" ارْتَحِلُوا" فَارْتَحَلْنَا فَأَقْبَلْنَا إِلَى الْمَدِينَةِ فَوَالَّذِي نَحْلِفُ بِهِ، أَوْ يُحْلَفُ بِهِ - شَكَّ حَمَّادٌ فِي هَذِهِ الْكَلِمَةِ وَحْدَهَا -، مَا وَضَعْنَا رِحَالَنَا حِينَ دَخَلْنَا الْمَدِينَةَ حَتَّى أَغَارَ عَلَيْهَا بَنُو عَبْدِ اللهِ بْنِ غَطَفَانَ وَمَا يُهَيِّجُهُمْ قَبْلَ ذَلِكَ شَيْءٌ رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ حَمَّادِ بْنِ إِسْمَاعِيلَ.
مہری کے آزاد کردہ غلام ابو سعید سے روایت ہے کہ ان کو مدینہ میں سخت اور مشکل دن آگئے۔ وہ سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ کے پاس آئے اور ان سے کہنے لگے: میں زیادہ عیال دار ہوں اور ہمیں سختی آئی ہے، میں ارادہ رکھتا ہوں کہ اپنے گھر والوں کو کسی سرسبز دیہات میں منتقل کر دوں۔ سیدنا ابوسعید رضی اللہ عنہ کہنے لگے: ایسا نہ کرنا، مدینہ کو لازم پکڑو؛ کیونکہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نکلے، میرا گمان ہے کہ انہوں نے کہا: یہاں تک کہ ہم عسفان آگئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے وہاں پر چند راتیں قیام کیا، لوگوں نے کہا: اللہ کی قسم! ہم تو یہاں کسی کام میں نہیں جبکہ ہمارے گھر والے پیچھے اکیلے ہیں اور ہم ان کے بارے میں بے خوف نہیں ہیں۔ یہ بات نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو پہنچی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ کیا ہے جو تمہاری باتوں کی مجھے خبر ملی ہے؟“ (راوی کہتے ہیں:) میں نہیں جانتا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کیسے فرمایا، پھر فرمایا: ”اس ذات کی قسم جس کی میں قسم اٹھاتا ہوں“ یا ”اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے، میں نے ارادہ کیا“ یا ”میں عنقریب ارادہ کروں گا“، میں نہیں جانتا دونوں میں سے کیا فرمایا: ”کہ میں اپنی اونٹنی پر کجاوہ کسنے کا حکم دوں، پھر میں اس کی کوئی گرہ نہ کھولوں یہاں تک کہ مدینہ آجاؤں“ اور فرمایا: ”اے اللہ! ابراہیم علیہ السلام نے مکہ کو حرمت والا بنایا اور اسے حرم قرار دیا، اے اللہ! میں نے مدینہ کو اس کی دونوں گھاٹیوں کے درمیان حرم قرار دیا ہے کہ اس میں خون نہ بہایا جائے، لڑائی کی غرض سے ہتھیار نہ اٹھائے جائیں اور کسی درخت کے پتے نہ جھاڑے جائیں مگر چارے کے لیے۔ اے اللہ! ہمارے مدینہ میں برکت فرما، اے اللہ! ہمارے صاع میں برکت فرما، اے اللہ! ہمارے مد میں برکت فرما“ تین مرتبہ فرمایا: ”اے اللہ! برکت کے ساتھ دو برکتیں اور دے۔ اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے، مدینہ کی کوئی گھاٹی اور راستہ ایسا نہیں جس پر دو فرشتے پہرہ نہ دیتے ہوں، یہاں تک کہ تم اس کی طرف آؤ۔“ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں سے فرمایا: ”کوچ کرو“، ہم نے کوچ کیا اور مدینہ کی طرف آئے۔ اس ذات کی قسم جس کی ہم قسم اٹھاتے ہیں یا جس کی قسم اٹھائی جاتی ہے، حماد کو صرف اس ایک کلمہ کے بارے میں شک ہے، ہم نے مدینہ میں داخل ہو کر ابھی کجاوے نہ اتارے تھے کہ بنو عبداللہ بن غطفان نے اس پر حملہ کر دیا، حالانکہ اس سے پہلے کسی چیز نے ان کو اس پر نہ ابھارا تھا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الحج/حدیث: 9982]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيره۔ اخرجه ابوداود 2035»
الحكم على الحديث: صحيح لغيره
حدیث نمبر: 9983
أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنا أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ، ثنا تَمْتَامٌ، ثنا هُدْبَةُ، ثنا هَمَّامٌ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا الْمُثَنَّى، ثنا عَبْدُ الصَّمَدِ، ثنا هَمَّامٌ، ثنا قَتَادَةُ، عَنْ أَبِي حَسَّانَ، عَنْ عَلِيٍّ فِي قِصَّةِ حَرَمِ الْمَدِينَةِ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" لَا يُخْتَلَى خَلَاهَا وَلَا يُنَفَّرُ صَيْدُهَا، وَلَا يُلْتَقَطُ لُقَطَتُهَا إِلَّا لِمَنْ أَشَادَ بِهَا، وَلَا يَصْلُحُ لِرَجُلٍ أَنْ يَحْمِلَ فِيهَا السِّلَاحَ لِقِتَالٍ، وَلَا يَصْلُحُ لِرَجُلٍ أَنْ يَقْطَعَ مِنْهَا شَجَرَةً إِلَّا أَنْ يَعْلِفَ رَجُلٌ بَعِيرَهُ" - وَفِي رِوَايَةِ هُدْبَةَ -" بَعِيرًا".
ابو حسان سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے حرمِ مدینہ کے بارے میں روایت کرتے ہیں جو انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کیا، فرمایا: ”اس کا گھاس نہ کاٹا جائے، شکار نہ بھگایا جائے اور گری پڑی چیز صرف اعلان کرنے والا اٹھائے۔ کسی آدمی کے لیے لڑائی کی غرض سے اس میں اسلحہ اٹھانا درست نہیں اور کسی آدمی کے لیے اس کا درخت کاٹنا بھی درست نہیں، سوائے اس کے کہ کوئی آدمی اپنے اونٹ کو چارہ کھلائے۔“ ہدبہ کی روایت میں «بَعِيرًا» (کسی اونٹ کو) کے الفاظ ہیں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الحج/حدیث: 9983]
تخریج الحدیث: «ضعيف۔ اخرجه احمد 2/ 12»
الحكم على الحديث: ضعيف