🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
السنن الكبرى للبيهقي میں نمبر سے تلاش
حدیث نمبر لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں عربی متن سے تلاش
عربی حدیث کا متن لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں اردو متن سے تلاش
اردو حدیث کا متن لکھیں:
2112. -- باب: الحلال يصيد صيدا في الحل ثم يدخل به الحرم
-- باب: حلال (غیر محرم) شخص حل (حرم کے باہر) میں شکار کرے پھر اسے لے کر حرم میں داخل ہو۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 9992
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنِي أَبُو النَّضْرِ مُحَمَّدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يُوسُفَ الْفَقِيهُ بِالطَّابَرَانِ، ثنا عُثْمَانُ بْنُ سَعِيدٍ الدَّارِمِيُّ، ثنا مُسَدَّدٌ، ثنا عَبْدُ الْوَارِثِ، عَنْ أَبِي التَّيَّاحِ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَحْسَنَ النَّاسِ خُلُقًا، وَكَانَ لِي أَخٌ يُقَالُ لَهُ أَبُو عُمَيْرٍ، أَحْسَبُهُ قَالَ: فَطِيمٌ، فَكَانَ إِذَا جَاءَ، قَالَ:" أَبَا عُمَيْرٍ مَا فَعَلَ النُّغَيْرُ؟" كَانَ يَلْعَبُ بِهِ، وَرُبَّمَا حَضَرَتِ الصَّلَاةُ وَهُوَ فِي بَيْتِنَا فَيَأْمُرُ بِالْبِسَاطِ الَّذِي تَحْتَهُ فَيُكْنَسُ وَيُنْضَحُ، ثُمَّ يَقُومُ وَنَقُومُ خَلْفَهُ فَيُصَلِّي بِنَا رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ مُسَدَّدٍ، وَأَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ عَنْ أَبِي الرَّبِيعِ وَغَيْرِهِ، عَنْ عَبْدِ الْوَارِثِ.
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اخلاق کے اعتبار سے تمام لوگوں میں سب سے زیادہ اچھے تھے۔ میرا ایک چھوٹا بھائی تھا، اسے ابوعمیر کہا جاتا تھا، وہ فطیم (دودھ چھڑایا ہوا) تھا۔ جب بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لاتے تو فرماتے: ”اے ابوعمیر! چڑیا نے کیا کیا؟“ وہ اس کے ساتھ کھیلا کرتا تھا اور بعض اوقات نماز کا وقت آجاتا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے گھر میں ہوتے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے نیچے والی چٹائی کے بارے میں حکم فرماتے، تو اسے جھاڑو دے کر اور پانی چھڑک کر بچھا دیا جاتا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوتے اور ہم بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے کھڑے ہوتے اور آپ ہمیں نماز پڑھاتے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الحج/حدیث: 9992]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ انظر قبله»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 9993
وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عُمَرَ بْنِ حَفْصٍ الْمُقْرِئُ ابْنُ الْحَمَّامِيِّ بِبَغْدَادَ، أنا أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ سَلْمَانَ الْفَقِيهُ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِسْحَاقَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْأَنْصَارِيُّ، حَدَّثَنِي حُمَيْدٌ الطَّوِيلُ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ: كَانَ ابْنٌ لِأُمِّ سُلَيْمٍ يُقَالُ لَهُ أَبُو عُمَيْرٍ كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رُبَّمَا مَازَحَهُ إِذَا دَخَلَ عَلَى أُمِّ سُلَيْمٍ فَدَخَلَ يَوْمًا فَوَجَدَهُ حَزِينًا، فَقَالَ:" ⦗٣٣٣⦘ مَا لِأَبِي عُمَيْرٍ حَزِينًا؟" قَالُوا: يَا رَسُولَ اللهِ مَاتَ نُغَيْرُهُ الَّذِي كَانَ يَلْعَبُ بِهِ جَعَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ:" أَبَا عُمَيْرٍ مَا فَعَلَ النُّغَيْرُ؟".
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ سیدہ ام سلیم رضی اللہ عنہا کا ایک بیٹا تھا، اس کو ابوعمیر کہا جاتا تھا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم اس سے خوش طبعی فرماتے جب ام سلیم رضی اللہ عنہا کے پاس آتے۔ ایک دن آپ صلی اللہ علیہ وسلم آئے تو وہ پریشان تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”ابوعمیر غمگین کیوں ہے؟“ لوگوں نے کہا: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! اس کی چڑیا مر گئی ہے جس کے ساتھ وہ کھیلا کرتا تھا، تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کہنے لگے: «يَا أَبَا عُمَيْرٍ مَا فَعَلَ النُّغَيْرُ؟» ”اے ابوعمیر! چڑیا نے کیا کیا۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الحج/حدیث: 9993]
تخریج الحدیث: «صحيح»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 9994
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ، بِبَغْدَادَ وَأَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي بِنَيْسَابُورَ قَالَا: أنا أَبُو سَهْلِ بْنُ زِيَادٍ الْقَطَّانُ، ثنا إِسْحَاقُ بْنُ الْحَسَنِ الْحَرْبِيُّ، ثنا عَفَّانُ، ثنا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، قَالَ: سَمِعْتُ دَاوُدَ بْنَ أَبِي هِنْدَ يُحَدِّثُ فِي بَيْتِ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ عَطَاءٍ، أَنَّ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا أُهْدِيَ لَهَا طَيْرٌ أَوْ ظَبْيٌ فِي الْحَرَمِ فَأَرْسَلَتْهُ، فَقَالَ يَوْمَئِذٍ هِشَامٌ:" مَا عَلِمَ ابْنُ أَبِي رَبَاحٍ كَانَ أَمِيرُ الْمُؤْمِنِينَ، يَعْنِي عَبْدَ اللهِ بْنَ الزُّبَيْرِ بِمَكَّةَ تِسْعَ سِنِينَ وَأَصْحَابُ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقْدُمُونَ فَيَرَوْنَهَا فِي الْأَقْفَاصِ الْقُبَّارَى وَالْيَعَاقِيبَ".
عطاء رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کو حرم میں پرندہ یا ہرن تحفہ میں دیا گیا، تو انہوں نے اسے چھوڑ دیا۔ اس دن ہشام رحمہ اللہ نے کہا کہ ابن ابی رباح کو علم نہیں کہ امیر المؤمنین سیدنا عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما مکہ میں نو سال رہے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم آتے رہے، وہ پنجروں میں چنڈول اور چکور کو دیکھتے تھے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الحج/حدیث: 9994]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
2113. -- باب: النفر يصيبون الصيد
-- باب: چند لوگوں کا مل کر شکار مارنے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 9995
أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، وَثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنا الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، أنا الشَّافِعِيُّ، أنا مَالِكٌ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ قُرَيْرٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ، أَنَّ رَجُلًا جَاءَ إِلَى عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، فَقَالَ لَهُ: أَجْرَيْتُ أَنَا وَصَاحِبِي فَرَسَيْنِ نَسْتَبِقُ إِلَى ثُغْرَةِ الثَّنِيَّةِ فَأَصَبْنَا ظَبْيًا وَنَحْنُ مُحْرِمَانِ فَمَاذَا تَرَى؟ فَقَالَ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ لِرَجُلٍ إِلَى جَنْبِهِ:" تَعَالَ نَحْكُمْ أَنَا وَأَنْتَ"، فَحَكَمَا عَلَيْهِ بِعَنْزٍ وَذَكَرَ فِي الْحَدِيثِ أَنَّ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ:" هَذَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَوْفٍ".
محمد بن سیرین رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ایک آدمی سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے پاس آیا تو ان سے کہنے لگا کہ میں نے اور میرے ساتھی نے گھوڑے دوڑائے اور ہم ثغرہ ثنیہ تک مقابلہ کر رہے تھے۔ ہم نے ایک ہرن کو مار لیا اور ہم محرم تھے، آپ کا اس بارے میں کیا خیال ہے؟ تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے اپنے پہلو میں بیٹھے ہوئے شخص سے کہا: آؤ ہم دونوں مل کر فیصلہ کریں، ان دونوں رضی اللہ عنہما نے ایک بکری کے فدیہ کا فیصلہ فرمایا۔ اس نے حدیث میں تذکرہ کیا کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: یہ عبدالرحمن بن عوف ہیں۔ [ضعیف۔ تقدم برقم: 9857] [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الحج/حدیث: 9995]
تخریج الحدیث: «حسن»

الحكم على الحديث: حسن
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 9996
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُوسَى بْنِ الْفَضْلِ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ عَفَّانَ، ثنا أَبُو أُسَامَةَ، عَنْ عَبْدِ الْوَاحِدِ بْنِ زِيَادٍ أَبِي بِشْرٍ، ثنا أَبُو شَيْبَةَ سَعِيدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الزُّبَيْدِيُّ، ثنا مُجَاهِدٌ، قَالَ: جَاءَ نَفَرٌ مِنْ أَهْلِ الْعِرَاقِ إِلَى ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالُوا: إِنَّا أَنْفَجْنَا ضَبُعًا فَرَدَدْنَاهَا بَيْنَنَا فَأَصَبْنَاهَا وَمِنَّا الْحَلَالُ وَمِنَّا الْحَرَامُ، فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ:" إِنْ كَانَ ضَبُعًا فَكَبْشٌ سَمِينٌ، وَإِنْ كَانَ ضَبُعَةً فَنَعْجَةٌ سَمِينَةٌ". قَالَ: فَقَالُوا: يَا أَبَا الْعَبَّاسِ عَلَى كُلِّ رَجُلٍ مِنَّا؟ قَالَ:" لَا وَلَكِنْ تَخَارَجُوا بَيْنَكُمْ".
مجاہد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ عراق کا ایک گروہ ابن عباس رضی اللہ عنہما کے پاس آیا۔ انہوں نے کہا: ہم نے ایک بجو کو بھگایا اور اپنے درمیان دوڑاتے رہے، یہاں تک کہ ہم نے اس کو مار لیا اور ہمارے بعض ساتھی حلال اور بعض محرم تھے تو ابن عباس رضی اللہ عنہما فرمانے لگے: اگر بجو نر تھا تو اس کا عوض ایک موٹا تازہ مینڈھا ہے، اگر مادہ تھی تو اس کا عوض ایک موٹی تازی بھیڑ ہے، انہوں نے پوچھا: اے ابو العباس! کیا ہم میں سے ہر ایک پر؟ فرمایا: نہیں، بلکہ تم آپس میں حصہ ڈال کر ادا کرلو۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الحج/حدیث: 9996]
تخریج الحدیث: «ضعيف۔ اخرجه الدارقطني 2/ 250»

الحكم على الحديث: ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 9997
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَحْمَدَ بْنِ الْحَارِثِ الْأَصْبَهَانِيُّ الْفَقِيهُ، أنا عَلِيُّ بْنُ عُمَرَ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو بَكْرٍ النَّيْسَابُورِيُّ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ مَنْصُورٍ، ثنا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أنا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ عَمَّارٍ، مَوْلَى بَنِي هَاشِمٍ أَنَّ مَوَالِيَ، لِابْنِ الزُّبَيْرِ أَحْرَمُوا إِذْ مَرَّتْ بِهِمْ ضَبُعٌ فَحَذَفُوهَا بِعِصِيِّهِمْ فَأَصَابُوهَا فَوَقَعَ فِي أَنْفُسِهِمْ فَأَتَوْا إِلَى ابْنِ عُمَرَ فَذَكَرُوا ذَلِكَ لَهُ، فَقَالَ:" عَلَيْكُمْ كَبْشٌ"، قَالُوا: عَلَى كُلِّ وَاحِدٍ مِنَّا كَبْشٌ؟ قَالَ:" إِنَّكُمْ لَمُعَزَّزٌ بِكُمْ عَلَيْكُمْ كُلُّكُمْ كَبْشٌ" قَالَ عَلِيٌّ: قَالَ اللُّغَوِيُّونَ: لَمُعَزَّزٌ بِكُمْ: أَيْ لَمُشَدَّدٌ بِكُمْ، وَرَوَاهُ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ، وَسُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، عَنْ حَمَّادٍ، عَنْ عَمَّارِ بْنِ أَبِي عَمَّارٍ، عَنْ رَبَاحٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ مَوْصُولًا.
بنو ہاشم کے غلام عمار فرماتے ہیں کہ ابن زبیر رضی اللہ عنہما کے غلاموں نے احرام باندھا ہوا تھا کہ ان کے پاس سے ایک بجو گزرا تو انہوں نے اسے لاٹھیاں ماریں اور اس کو مار لیا۔ ان کے دل میں کھٹکا پیدا ہوا۔ وہ ابن عمر رضی اللہ عنہما کے پاس آئے اور ان کے سامنے تذکرہ کیا۔ ابن عمر رضی اللہ عنہما فرمانے لگے: تمہارے ذمہ ایک مینڈھا ہے، انہوں نے کہا: ہم میں سے ہر شخص کے ذمہ مینڈھا ہے؟ فرمانے لگے: تم پر سختی کی گئی ہے، تم میں سے ہر ایک کے اوپر مینڈھا ہے، علی (بن عمر) کہتے ہیں کہ لغویوں نے کہا: «لَمُعَزَّزٌ بِكُمْ» کا معنی «لَمُشَدَّدٌ بِكُمْ» ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الحج/حدیث: 9997]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ اخرجه مالك 922»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
2114. -- باب: من قال: يحل الصيد بالتحلل الأول، ومن قال: لا يحل
-- باب: ان کا بیان جنہوں نے فرمایا: ”پہلے تحلل (حلال ہونے) سے شکار کرنا حلال ہو جاتا ہے“، اور جنہوں نے فرمایا: ”حلال نہیں ہوتا“۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 9998
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ الْحِيرِيُّ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَبْدِ الْحَكَمِ، أنا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ، وَغَيْرُ وَاحِدٍ أَنَّ ⦗٣٣٥⦘ نَافِعًا، حَدَّثَهُمْ عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ خَطَبَ النَّاسَ بِعَرَفَةَ يُعَلِّمُهُمْ أَمْرَ الْحَجِّ، وَكَانَ فِيمَا قَالَ لَهُمْ:" إِذَا جِئْتُمْ مِنًى فَمَنْ رَمَى الْجَمْرَةَ فَقَدْ حَلَّ لَهُ مَا حُرِّمَ عَلَيْهِ إِلَّا النِّسَاءَ وَالطِّيبَ لَا يَمَسَّ أَحَدٌ نِسَاءً وَلَا طِيبًا حَتَّى يَطُوفَ بِالْبَيْتِ" قَالَ مَالِكٌ: وَحَدَّثَنِي عَبْدُ اللهِ بْنُ دِينَارٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: قَالَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ:" مَنْ رَمَى الْجَمْرَةَ ثُمَّ حَلَقَ أَوْ قَصَّرَ وَنَحَرَ هَدْيًا إِنْ كَانَ مَعَهُ، فَقَدْ حَلَّ لَهُ مَا حُرِّمَ عَلَيْهِ إِلَّا النِّسَاءَ وَالطِّيبَ حَتَّى يَطُوفَ بِالْبَيْتِ".
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے لوگوں کو عرفہ کے میدان میں خطبہ ارشاد فرمایا، آپ ان کو حج کے احکام سکھا رہے تھے۔ ان سے آپ نے جو باتیں کہیں ان میں یہ بھی تھی: ”جب تم منیٰ میں آؤ تو جس نے جمرہ کو رمی کر لی اس کے لیے وہ چیز حلال ہو جاتی ہے جو اس پر حرام تھی، سوائے عورتوں اور خوشبو کے۔ کوئی بھی بیت اللہ کا طواف کرنے سے پہلے نہ عورتوں کو چھوئے اور نہ خوشبو کو۔“
(ب) سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”جس نے جمرہ کو رمی کیا، پھر سر منڈوایا یا بال کتروائے، اگر پاس قربانی ہو تو ذبح کرے، تو اس کے لیے وہ اشیاء جائز ہیں جو اس پر حرام تھیں لیکن عورتیں اور خوشبو بیت اللہ کے طواف کے بعد جائز ہوں گی۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الحج/حدیث: 9998]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيره۔ تقدم برقم 9596»

الحكم على الحديث: صحيح لغيره
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 9999
أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ الْفَقِيهُ، أنا أَبُو طَاهِرٍ الْمُحَمَّدْآبَاذِيُّ، ثنا الْعَبَّاسُ الدُّورِيُّ، ثنا أَبُو دَاوُدَ الْحَفَرِيُّ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ كُهَيْلٍ، عَنِ الْحَسَنِ، يَعْنِي الْعُرَنِيَّ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ:" إِذَا رَمَيْتَ الْجَمْرَةَ فَقَدْ حَلَّ لَكَ كُلُّ شَيْءٍ إِلَّا النِّسَاءَ حَتَّى تَطُوفَ بِالْبَيْتِ"، فَقَالَ لَهُ رَجُلٌ: أَيَتَطَيَّبُ؟ قَالَ:" أَمَّا أَنَا فَقَدْ رَأَيْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُضَمِّخُ رَأْسَهُ بِالْمِسْكِ" أَوْ قَالَ:" بِالسُّكِّ أَفَطِيبٌ ذَلِكَ أَمْ لَا؟".
حسن عرنی حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے نقل فرماتے ہیں کہ جب آپ رمی جمار کر لیں تو آپ کے لیے ہر چیز جائز ہے سوائے عورتوں کے، جب تک آپ بیت اللہ کا طواف نہ کر لیں۔ ایک آدمی نے کہا: کیا وہ خوشبو لگا لے؟ انہوں نے کہا: میں نے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ وہ سر پر کستوری کا لیپ کرتے تھے، یا فرمایا: سُک (ایک خوشبو) کا، تو کیا یہ خوشبو ہے یا نہیں؟ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الحج/حدیث: 9999]
تخریج الحدیث: «صحيح»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 10000
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ هُوَ الْأَصَمُّ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مَرْزُوقٍ، ثنا حَبَّانُ بْنُ هِلَالٍ، ثنا عَبْدُ الْوَارِثِ، ثنا ابْنُ أَبِي نَجِيحٍ، عَنْ عَطَاءٍ، قَالَ:" إِذَا ذَبَحَ وَحَلَقَ وَأَصَابَ صَيْدًا قَبْلَ أَنْ يَزُورَ الْبَيْتَ فَإِنَّ عَلَيْهِ جَزَاءَهُ مَا بَقِيَ عَلَيْهِ مِنْ إِحْرَامِهِ شَيْءٌ، قَالَ اللهُ تَعَالَى {وَإِذْا حَلَلْتُمْ فَاصْطَادُوا} [المائدة: ٢] ".
ابن ابی نجیح رحمہ اللہ حضرت عطاء رحمہ اللہ سے نقل فرماتے ہیں کہ جب قربانی ذبح کرے اور سر منڈوائے اور طوافِ زیارت سے پہلے شکار کر لے، اس پر فدیہ ہے جب تک اس کے اوپر احرام کی کوئی چیز بھی باقی ہے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: ﴿وَإِذَا حَلَلْتُمْ فَاصْطَادُوا﴾ [سورة المائدة: 2] الآیہ، ”اور جب تم حلال ہو جاؤ تو شکار کرو۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الحج/حدیث: 10000]
تخریج الحدیث: «ضعيف»

الحكم على الحديث: ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 10001
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ الرَّفَّاءُ، أنا عُثْمَانُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ بِشْرٍ، ثنا إِسْمَاعِيلُ الْقَاضِي، ثنا ابْنُ أَبِي أُوَيْسٍ، ثنا ابْنُ أَبِي الزِّنَادِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ الْفُقَهَاءِ مِنْ أَهْلِ الْمَدِينَةِ كَانُوا يَقُولُونَ:" مَنْ أَصَابَ صَيْدًا وَقَدْ رَمَى الْجَمْرَةَ وَلَمْ يُفِضْ فَعَلَيْهِ جَزَاؤُهُ".
ابن ابی الزناد رحمہ اللہ اپنے والد سے اور وہ اہل مدینہ کے فقہاء سے نقل فرماتے ہیں کہ جس نے رمیِ جمرہ کے بعد شکار کر لیا اور طوافِ افاضہ نہ کیا ہو، اس پر فدیہ ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الحج/حدیث: 10001]
تخریج الحدیث: «ضعيف۔ اخرجه الشافعي 644»

الحكم على الحديث: ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں