السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
2118. -- باب: بيض النعامة يصيبها المحرم
-- باب: محرم کا شتر مرغ کا انڈا توڑنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 10020
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ، ثنا يَحْيَى بْنُ أَبِي طَالِبٍ، أنا عَبْدُ الْوَهَّابِ، قَالَ: سُئِلَ سَعِيدٌ، عَنْ بَيْضِ النَّعَامِ يُصِيبُهُ الْمُحْرِمُ فَأَخْبَرَنَا، عَنْ مَطَرٍ، فَذَكَرَهُ بِمَعْنَاهُ هَذَا هُوَ الْمَحْفُوظُ. وَقِيلَ فِيهِ: عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ قُرَّةَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى، عَنْ عَلِيٍّ، وَرُوِيَ مِنْ وَجْهٍ آخَرَ.
عبدالوہاب رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ سعید رحمہ اللہ سے شتر مرغ کے انڈوں کے بارے میں سوال ہوا جنہیں محرم آدمی پا لے (توڑ دے)، تو انہوں نے ہمیں مطر سے یہی روایت اسی مفہوم کے ساتھ بیان کی۔
یہی (روایت) محفوظ ہے۔ اس میں یہ بھی کہا گیا ہے: معاویہ بن قرہ سے، انہوں نے عبدالرحمٰن بن ابی لیلیٰ سے، انہوں نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الحج/حدیث: 10020]
یہی (روایت) محفوظ ہے۔ اس میں یہ بھی کہا گیا ہے: معاویہ بن قرہ سے، انہوں نے عبدالرحمٰن بن ابی لیلیٰ سے، انہوں نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الحج/حدیث: 10020]
تخریج الحدیث: «منكر۔ اخرجه الدارقطني 2/ 247»
الحكم على الحديث: منكر
حدیث نمبر: 10021
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ السُّلَمِيُّ وَأَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَحْمَدَ بْنِ الْحَارِثِ الْأَصْبَهَانِيُّ الْفَقِيهُ قَالَا: أنا عَلِيُّ بْنُ عُمَرَ الْحَافِظُ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ الْقَاسِمِ بْنِ زَكَرِيَّا، ثنا عَبَّادُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ أَبِي يَحْيَى، عَنْ حُسَيْنِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ عَبَّاسٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنْ كَعْبِ بْنِ عُجْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ" أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَضَى فِي بَيْضِ نَعَامٍ أَصَابَهُ مُحْرِمٌ بِقَدْرِ ثَمَنِهِ" وَرَوَاهُ مُوسَى بْنُ دَاوُدَ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ وَقَالَ بِقِيمَتِهِ، وَرُوِيَ ذَلِكَ عَنْ أَبِي الْمُهَزِّمِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَرُوِيَ فِي ذَلِكَ عَنْ جَمَاعَةٍ مِنَ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمْ أَجْمَعِينَ.
سیدنا کعب بن عجرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فیصلہ فرمایا: ”جب محرم شتر مرغ کے انڈے اٹھا لے تو اس کے عوض اس پر قیمت ڈالی جائے گی۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الحج/حدیث: 10021]
تخریج الحدیث: «ضعيف۔ اخرجه شافعي 636»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 10022
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ الْحِيرِيُّ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ الْأَصَمُّ، ثنا الرَّبِيعُ، أنا الشَّافِعِيُّ، أنا سَعِيدُ بْنُ سَالِمٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ بَشِيرٍ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ الْحُصَيْنِ، عَنْ أَبِي مُوسَى الْأَشْعَرِيِّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَنَّهُ قَالَ:" فِي بَيْضَةِ النَّعَامَةِ يُصِيبُهَا الْمُحْرِمُ صَوْمُ يَوْمٍ أَوْ إِطْعَامُ مِسْكِينٍ".
عبیداللہ بن حصین سیدنا ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے نقل فرماتے ہیں کہ جب محرم شتر مرغ کے انڈے اٹھا لے تو ایک انڈے کے عوض ایک روزہ یا ایک مسکین کا کھانا کھلائے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الحج/حدیث: 10022]
حدیث نمبر: 10023
وَبِإِسْنَادِهِ قَالَ: أنا الشَّافِعِيُّ، أنا سَعِيدٌ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ بَشِيرٍ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَبِي عُبَيْدَةَ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ، بِمِثْلِهِ.
ابوعبیدہ، سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے بھی اسی کی مثل نقل فرماتے ہیں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الحج/حدیث: 10023]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 10024
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ ⦗٣٤١⦘ مُكْرَمٍ، ثنا أَبُو النَّضْرِ، ثنا أَبُو خَيْثَمَةَ، ثنا خُصَيْفٌ، عَنْ أَبِي عُبَيْدَةَ، عَنْ عَبْدِ اللهِ، فِي بِيضِ النَّعَامِ يُصِيبُهُ الْمُحْرِمُ، قَالَ:" فِيهِ ثَمَنُهُ" أَوْ قَالَ:" قِيمَتُهُ".
ابوعبیدہ، سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ سے شتر مرغ کے انڈوں کے بارے میں، جنہیں محرم پا لے (توڑ دے)، نقل فرماتے ہیں کہ انہوں نے فرمایا: ”اس کے عوض اس کی قیمت ہے“، یا فرمایا: ”اس کی مالیت ہے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الحج/حدیث: 10024]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 10025
أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ الْأَصَمُّ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ عَفَّانَ، ثنا أَبُو أُسَامَةَ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ،" أَنَّهُ جَعَلَ فِي كُلِّ بَيْضَتَيْنِ مِنْ بَيْضِ حَمَامِ الْحَرَمِ دِرْهَمًا" وَرَوَاهُ الشَّافِعِيُّ، عَنْ سَعِيدٍ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنْ عَطَاءٍ مِنْ قَوْلِهِ، ثُمَّ قَالَ: أَرَى عَطَاءً أَرَادَ بِقَوْلِهِ هَذَا الْقِيمَةَ يَوْمَ قَالَهُ.
حضرت عطاء رحمہ اللہ، ابن عباس رضی اللہ عنہما سے نقل فرماتے ہیں کہ انہوں نے حرم کے کبوتروں کے ہر دو انڈوں کے عوض ایک درہم فدیہ مقرر کیا۔
(ب) امام شافعی رحمہ اللہ نے اسے ابن جریج کے واسطے سے حضرت عطاء رحمہ اللہ کے اپنے قول کے طور پر روایت کیا ہے، پھر فرمایا: میرا خیال ہے کہ عطاء کی اس بات سے مراد وہ قیمت تھی جو اس دن تھی جب انہوں نے یہ بات کہی۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الحج/حدیث: 10025]
(ب) امام شافعی رحمہ اللہ نے اسے ابن جریج کے واسطے سے حضرت عطاء رحمہ اللہ کے اپنے قول کے طور پر روایت کیا ہے، پھر فرمایا: میرا خیال ہے کہ عطاء کی اس بات سے مراد وہ قیمت تھی جو اس دن تھی جب انہوں نے یہ بات کہی۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الحج/حدیث: 10025]
تخریج الحدیث: «ضعيف۔ اخرجه الشافعي في الام 7/ 25»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 10026
أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ الْأَصَمُّ، أنا الرَّبِيعُ، قَالَ: قَالَ الشَّافِعِيُّ حِكَايَةً عَنْ هُشَيْمٍ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ عَلِيٍّ فِيمَنْ أَصَابَ بَيْضَ نَعَامٍ، قَالَ:" يَضْرِبُ بِقَدْرِهِنَّ نُوقًا"، قِيلَ لَهُ: فَإِنْ أَزْلَقَتْ مِنْهُنَّ نَاقَةٌ، قَالَ:" فَإِنَّ مِنَ الْبَيْضِ مَا يَكُونُ مَارِقًا" قَالَ الشَّافِعِيُّ: لَسْنَا وَلَا إِيَّاهُمْ يَعْنِي الْعِرَاقِيِّينَ وَلَا أَحَدٌ عَلِمْنَاهُ يَأْخُذُ بِهَذَا، نَقُولُ يَغْرَمُ ثَمَنَهُ، قَالَ الشَّافِعِيُّ فِي كِتَابِ الْمَنَاسِكِ، رَوَوْا هَذَا عَنْ عَلِيٍّ مِنْ وَجْهٍ لَا يُثْبِتُ أَهْلُ الْعِلْمِ بِالْحَدِيثِ مِثْلَهُ؛ وَلِذَلِكَ تَرَكْنَاهُ بِأَنَّ مَنْ وَجَبَ عَلَيْهِ شَيْءٌ لَمْ يَخْرُجْ بِمُغَيَّبٍ يَكُونُ وَلَا يَكُونُ، وَإِنَّمَا يُجْزِيهِ بِقَائِمٍ، قَالَ الشَّيْخُ: لَيْسَ فِيمَا أُورِدُهُ سَمَاعُ الْحَسَنِ مِنْ عَلِيٍّ، وَحَدِيثُ مُعَاوِيَةَ بْنِ قُرَّةَ مُنْقَطِعٌ وَقَدْ رَوَى فِيهِ أَنَّ ذَلِكَ كَانَ عَلَى عَهْدِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَدَّ سَائِلَهُ إِلَى صِيَامِ يَوْمٍ أَوْ إِطْعَامِ مِسْكِينٍ.
حسن رحمہ اللہ، سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے اس شخص کے بارے میں نقل فرماتے ہیں جس نے شتر مرغ کے انڈے توڑ ڈالے کہ وہ انڈوں کی تعداد کے بقدر اونٹنیوں کو جفتی کرائے۔ ان سے کہا گیا: اگر ان میں سے کوئی اونٹنی بچہ گرا دے؟ تو انہوں نے فرمایا: انڈوں میں سے بھی کوئی خراب نکلتا ہے۔
امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: نہ ہم، نہ اہل عراق اور نہ ہی کوئی ایسا شخص جسے ہم جانتے ہوں اس قول کو اختیار کرتا ہے، ہم کہتے ہیں کہ وہ اس کی قیمت بطور تاوان ادا کرے۔ امام شافعی رحمہ اللہ نے کتاب المناسک میں فرمایا: انہوں نے یہ بات سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے ایسی سند سے روایت کی ہے جس جیسی سند کو اہل علم بالحدیث ثابت نہیں مانتے، اسی لیے ہم نے اسے چھوڑ دیا، اور اس لیے کہ جس پر کوئی چیز واجب ہو وہ ایسی غائب چیز سے بری الذمہ نہیں ہوتا جو ہو بھی سکتی ہے اور نہیں بھی، بلکہ اسے موجود چیز ہی کافی ہوتی ہے۔
شیخ فرماتے ہیں: جو میں نے ذکر کیا ہے اس میں حسن کا سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے سماع (ثابت) نہیں ہے، اور معاویہ بن قرہ کی روایت منقطع ہے، اور اس میں یہ مروی ہے کہ یہ واقعہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں پیش آیا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سائل کو ایک دن کے روزے یا ایک مسکین کو کھانا کھلانے کی طرف لوٹا دیا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الحج/حدیث: 10026]
امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: نہ ہم، نہ اہل عراق اور نہ ہی کوئی ایسا شخص جسے ہم جانتے ہوں اس قول کو اختیار کرتا ہے، ہم کہتے ہیں کہ وہ اس کی قیمت بطور تاوان ادا کرے۔ امام شافعی رحمہ اللہ نے کتاب المناسک میں فرمایا: انہوں نے یہ بات سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے ایسی سند سے روایت کی ہے جس جیسی سند کو اہل علم بالحدیث ثابت نہیں مانتے، اسی لیے ہم نے اسے چھوڑ دیا، اور اس لیے کہ جس پر کوئی چیز واجب ہو وہ ایسی غائب چیز سے بری الذمہ نہیں ہوتا جو ہو بھی سکتی ہے اور نہیں بھی، بلکہ اسے موجود چیز ہی کافی ہوتی ہے۔
شیخ فرماتے ہیں: جو میں نے ذکر کیا ہے اس میں حسن کا سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے سماع (ثابت) نہیں ہے، اور معاویہ بن قرہ کی روایت منقطع ہے، اور اس میں یہ مروی ہے کہ یہ واقعہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں پیش آیا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سائل کو ایک دن کے روزے یا ایک مسکین کو کھانا کھلانے کی طرف لوٹا دیا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الحج/حدیث: 10026]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
2119. -- باب: ما للمحرم قتله من صيد البحر
-- باب: سمندری شکار میں سے جن کا مارنا محرم کے لیے جائز ہے ان کا بیان۔
حدیث نمبر: Q10027
قَالَ اللهُ تَعَالَى {أُحِلَّ لَكُمْ صَيْدُ الْبَحْرِ وَطَعَامُهُ مَتَاعًا لَكُمْ وَلِلسَّيَّارَةِ وَحُرِّمَ عَلَيْكُمْ صَيْدُ الْبَرِّ مَا دُمْتُمْ حُرُمًا} [المائدة: 96] .
اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: ﴿أُحِلَّ لَكُمْ صَيْدُ الْبَحْرِ وَطَعَامُهُ مَتَاعًا لَكُمْ وَلِلسَّيَّارَةِ وَحُرِّمَ عَلَيْكُمْ صَيْدُ الْبَرِّ مَا دُمْتُمْ حُرُمًا﴾ ”تمہارے لیے سمندر کا شکار پکڑنا اور اس کا کھانا حلال کر دیا گیا ہے، تمہارے اور قافلے والوں کے فائدے کے لیے، اور تم پر خشکی کا شکار حرام کر دیا گیا ہے جب تک تم احرام کی حالت میں ہو۔“ [سورة المائدة: 96] [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الحج/حدیث: Q10027]
حدیث نمبر: 10027
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مَرْزُوقٍ، ثنا عَمْرُو بْنُ حَبِيبٍ، عَنِ التَّيْمِيِّ، عَنْ أَبِي مِجْلَزٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ: {صَيْدُ الْبَحْرِ وَطَعَامُهُ} [المائدة: ٩٦] قَالَ:" طَعَامُهُ مَا قَذَفَ".
ابومجلز، ابن عباس رضی اللہ عنہما سے ﴿صَيْدُ الْبَحْرِ وَطَعَامُهُ﴾ [سورة المائدة: 96] کے بارے میں نقل فرماتے ہیں کہ اس کے کھانے سے مراد وہ ہے جو سمندر باہر پھینک دے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الحج/حدیث: 10027]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ اخرجه عبدالرزاق 8422»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 10028
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ، وَأَبُو بَكْرٍ قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ، ثنا إِبْرَاهِيمُ، ثنا رَوْحٌ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، قَالَ: قُلْتُ لِعَطَاءٍ: أَرَأَيْتَ صَيْدَ الْأَنْهَارِ وَقِلَاتَ السَّيْلِ أَصَيْدُ بَحْرٍ هُوَ؟ قَالَ:" نَعَمْ"، ثُمَّ تَلَا عَلَيَّ: {هَذَا عَذْبٌ فُرَاتٌ سَائِغٌ شَرَابُهُ وَهَذَا مِلْحٌ أُجَاجٌ وَمِنْ كُلٍّ تَأْكُلُونَ لَحْمًا طَرِيًّا} [فاطر: ١٢] .
ابن جریج رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں نے عطاء رحمہ اللہ سے کہا: نہروں اور سیلابی پانی کے گڑھوں کے شکار کے بارے میں آپ کا کیا خیال ہے، کیا وہ سمندر کا شکار ہے؟ فرمایا: ہاں، پھر مجھے یہ آیت سنائی: ﴿هَذَا عَذْبٌ فُرَاتٌ سَائِغٌ شَرَابُهُ وَهَذَا مِلْحٌ أُجَاجٌ وَمِنْ كُلٍّ تَأْكُلُونَ لَحْمًا طَرِيًّا﴾ [سورة فاطر: 12] ”ایک خوب میٹھا، اس کا پانی خوشگوار ہے اور دوسرا کھاری کڑوا، اور ہر ایک میں سے تم (مچھلی کا شکار کرکے) تازہ گوشت کھاتے ہو۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الحج/حدیث: 10028]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف