السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
2019. -- باب: الدفع من المزدلفة قبل طلوع الشمس
-- باب: سورج طلوع ہونے سے پہلے مزدلفہ سے روانہ ہونے کا بیان۔
حدیث نمبر: 9520
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ بْنِ دَاوُدَ الْعَلَوِيُّ رَحِمَهُ اللهُ، أَنْبَأَ أَبُو حَامِدِ بْنُ الشَّرْقِيِّ الْحَافِظُ، إِمْلَاءً مِنْ حِفْظِهِ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى الذُّهْلِيُّ، ثنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ بْنُ هَمَّامٍ رَحِمَهُ اللهُ، أنبأ مَعْمَرٌ، قَالَ: قَالَ لِي أَيُّوبُ وَنَحْنُ هَا هُنَا: اذْهَبْ بِنَا إِلَى جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ فَإِنَّهُ بَلَغَنِي أَنَّهُ أَمَرَ النَّاسَ أَنْ لَا يَنْفِرُوا مِنْ جَمْعٍ حَتَّى تَطْلُعَ الشَّمْسُ، قَالَ مَعْمَرٌ: فَذَهَبْتُ مَعَ أَيُّوبَ حَتَّى أَتَيْنَا فُسْطَاطَهُ فَإِذَا عِنْدَهُ قَوْمٌ مِنَ الْعَلَوِيَّةِ وَهُوَ يَتَحَدَّثُ مَعَهُمْ فَلَمَّا بَصُرَ بِأَيُّوبَ قَامَ، فَخَرَجَ مِنْ فُسْطَاطِهِ حَتَّى اعْتَنَقَ أَيُّوبَ، ثُمَّ أَخَذَ بِيَدِهِ فَحَوَّلَهُ إِلَى فُسْطَاطٍ آخَرَ، قَالَ مَعْمَرٌ: كَرِهَ أَنْ يُجْلِسَهُ مَعَهُمْ، قَالَ: ثُمَّ دَعَا بِطَبَقٍ مِنْ تَمْرٍ فَجَعَلَ يُنَاوِلُ أَيُّوبَ بِيَدِهِ، ثُمَّ قَالَ: اذْهَبُوا إِلَى هَؤُلَاءِ بِطَبَقٍ فَإِنَّا إِنْ بَعَثْنَا إِلَيْهِمْ تَرَكُونَا وَإِلَّا شَنَّعُوا عَلَيْنَا، فَقَالَ لَهُ أَيُّوبُ: مَا هَذَا الَّذِي بَلَغَنِي عَنْكَ؟ قَالَ: وَمَا بَلَغَكَ عَنِّي؟ قَالَ: بَلَغَنِي أَنَّكَ أَمَرْتَ النَّاسَ أَنْ لَا يَدْفَعُوا مِنْ جَمْعٍ حَتَّى تَطْلُعَ الشَّمْسُ، فَقَالَ: سُبْحَانَ اللهِ، خِلَافَ سُنَّةِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ" أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَفَعَ مِنْ جَمْعٍ قَبْلَ أَنْ تَطْلُعَ الشَّمْسُ" وَلَكِنَّ النَّاسَ يَحْمِلُونَ عَلَيْنَا وَيَرْوُونَ عَنَّا مَا لَا نَقُولُ، وَيَزْعُمُونَ أَنَّ عِنْدَنَا عِلْمًا لَيْسَ عِنْدَ النَّاسِ، وَاللهِ إنَّ عِنْدَ بَعْضِ النَّاسِ لَعِلْمًا لَيْسَ عِنْدَنَا وَلَكِنْ لَنَا حَقٌّ وَقَرَابَةٌ، فَلَمْ يَزَلْ يَذْكُرُ مِنْ حَقِّهِمْ وَقَرَابَتِهِمْ حَتَّى رَأَيْتُ الدَّمْعَ يَجْرِي مِنْ عَيْنِ أَيُّوبَ.
معمر رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ مجھے ایوب رحمہ اللہ نے کہا: ”ہمارے ساتھ جعفر بن محمد رحمہ اللہ کے خیمے میں آؤ، کیونکہ مجھے یہ بات پہنچی ہے کہ انہوں نے لوگوں کو حکم دیا ہے کہ سورج کے طلوع ہونے سے پہلے جمع سے نہ نکلو۔“ معمر رحمہ اللہ کہتے ہیں: میں ایوب رحمہ اللہ کے ساتھ گیا حتیٰ کہ ہم ان کے خیمے پر پہنچے تو ان کے پاس علوی قوم کے لوگ موجود تھے اور وہ ان کے ساتھ باتیں کر رہے تھے۔ جب انہوں نے ایوب رحمہ اللہ کو دیکھا تو کھڑے ہوئے اور خیمے سے نکلے، ایوب رحمہ اللہ کے ساتھ معانقہ کیا، پھر ان کا ہاتھ پکڑا اور ان کو لے کر دوسرے خیمے کی طرف گئے، معمر رحمہ اللہ کہتے ہیں: انہوں نے ان کو ان لوگوں کے ساتھ بٹھانا مناسب نہ سمجھا، پھر کھجوروں کا تھال منگوایا اور ایوب رحمہ اللہ کے ہاتھ میں پکڑانے لگے، پھر کہا: ”ان لوگوں کی طرف طبق لے جاؤ، اگر ہم ان کی طرف بھیجیں تو وہ ہمیں چھوڑ دیں گے اور اگر نہ بھیجیں تو ہمیں برا کہیں گے۔“ تو اس پر ایوب رحمہ اللہ نے کہا: ”یہ کیا بات ہے جو مجھے آپ کے بارے میں پہنچی ہے؟“ کہنے لگے: ”کیا پہنچی ہے؟“ انہوں نے کہا: ”مجھے یہ خبر ملی ہے کہ آپ لوگوں کو کہتے ہیں کہ جمع سے سورج طلوع ہونے سے پہلے نہ نکلو۔“ انہوں نے کہا: «سُبْحَانَ اللّٰهِ» ”اللہ پاک ہے، یہ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت کے خلاف ہے، مجھے میرے والد نے سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے روایت کرتے ہوئے بیان کیا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جمع سے سورج طلوع ہونے سے پہلے نکلے، لیکن لوگ ہم پر جھوٹ باندھتے ہیں اور ہم سے وہ کچھ روایت کرتے ہیں جو ہم نے نہیں کہا اور سمجھتے ہیں کہ ہمارے پاس وہ علم ہے جو لوگوں کے پاس نہیں ہے، اللہ کی قسم! بعض لوگوں کے پاس ایسا علم ہے، جو ہمارے پاس نہیں ہے لیکن ہمارے لیے حق ہے اور قرابت ہے“ اور وہ اپنا حق اور قرابت بیان کرتے رہے حتیٰ کہ میں نے ایوب رحمہ اللہ کی آنکھوں سے آنسو جاری ہوتے دیکھے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الحج/حدیث: 9520]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 9521
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ الشَّيْبَانِيُّ، ثنا يَحْيَى بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى، ثنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْمُبَارَكِ الْعَنْسِيُّ، ثنا عَبْدُ الْوَارِثِ بْنُ سَعِيدٍ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ قَيْسِ بْنِ مَخْرَمَةَ، عَنِ الْمِسْوَرِ بْنِ مَخْرَمَةَ ⦗٢٠٤⦘ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا، قَالَ: خَطَبَنَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِعَرَفَةَ فَحَمِدَ اللهَ وَأَثْنَى عَلَيْهِ ثُمَّ قَالَ:" أَمَّا بَعْدُ فَإِنَّ أَهْلَ الشِّرْكِ وَالْأَوْثَانِ كَانُوا يَدْفَعُونَ مِنْ هَا هُنَا عِنْدَ غُرُوبِ الشَّمْسِ حَتَّى تَكُونَ الشَّمْسُ عَلَى رُءُوسِ الْجِبَالِ مِثْلَ عَمَائِمِ الرِّجَالِ عَلَى رُءُوسِهَا، هَدْيُنَا مُخَالِفٌ هَدْيَهُمْ، وَكَانُوا يَدْفَعُونَ مِنَ الْمَشْعَرِ الْحَرَامِ عِنْدَ طُلُوعِ الشَّمْسِ عَلَى رُءُوسِ الْجِبَالِ مِثْلَ عَمَائِمِ الرِّجَالِ عَلَى رُءُوسِهَا، هَدْيُنَا مُخَالِفٌ لِهَدْيِهِمْ" رَوَاهُ عَبْدُ اللهِ بْنُ إِدْرِيسَ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ قَيْسِ بْنِ مَخْرَمَةَ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَطَبَ يَوْمَ عَرَفَةَ، فَقَالَ:" هَذَا يَوْمُ الْحَجِّ الْأَكْبَرِ" ثُمَّ ذَكَرَ مَا بَعْدَهُ بِمَعْنَاهُ مُرْسَلًا.
سیدنا مسور بن مخرمہ رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: ہمیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عرفہ میں خطبہ دیا، اللہ کی حمد و ثنا بیان کی، پھر فرمایا: ”اما بعد! یقیناً مشرک اور بت پرست یہاں سے سورج غروب ہونے کے قریب جاتے تھے حتیٰ کہ سورج پہاڑوں کے سروں پر ایسے ہوتا جیسے پگڑیاں آدمیوں کے سروں پر ہوتی ہیں اور ہمارا طریقہ ان کے طریقے کے مخالف ہے اور وہ مشعر حرام سے سورج کے پہاڑوں کے سروں پر طلوع ہونے کے وقت جاتے جس طرح آدمیوں کی پگڑیاں ان کے سروں پر ہوتی ہیں اور ہمارا طریقہ ان کے طریقہ کے مخالف ہے۔“
اس حدیث کو عبداللہ بن ادریس نے ابن جریج سے محمد بن قیس بن مخرمہ کے واسطے سے روایت کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عرفہ کے دن خطبہ ارشاد فرمایا تو (اس میں) فرمایا: «هَذَا يَوْمُ الْحَجِّ الْأَكْبَرِ» ”یہ حج اکبر کا دن ہے۔“ پھر اس کے بعد والی حدیث اس کے ہم معنی مرسل ذکر کی۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الحج/حدیث: 9521]
اس حدیث کو عبداللہ بن ادریس نے ابن جریج سے محمد بن قیس بن مخرمہ کے واسطے سے روایت کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عرفہ کے دن خطبہ ارشاد فرمایا تو (اس میں) فرمایا: «هَذَا يَوْمُ الْحَجِّ الْأَكْبَرِ» ”یہ حج اکبر کا دن ہے۔“ پھر اس کے بعد والی حدیث اس کے ہم معنی مرسل ذکر کی۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الحج/حدیث: 9521]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيره۔ حاكم 2/ 304۔ طبراني كبير 28»
الحكم على الحديث: صحيح لغيره
حدیث نمبر: 9522
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ بِشْرَانَ بِبَغْدَادَ، أنبأ إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ، ثنا سَعْدَانُ بْنُ نَصْرٍ، ثنا سُفْيَانُ، عَنِ ابْنِ الْمُنْكَدِرِ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَرْبُوعٍ، عَنْ جُبَيْرِ بْنِ الْحُوَيْرِثِ، قَالَ: رَأَيْتُ أَبَا بَكْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ وَاقِفًا عَلَى قُزَحَ وَهُوَ يَقُولُ:" أَيُّهَا النَّاسُ أَصْبِحُوا أَيُّهَا النَّاسُ أَصْبِحُوا"، ثُمَّ دَفَعَ فَإِنِّي لَأَنْظُرُ إِلَى فَخِذِهِ قَدِ انْكَشَفَتْ مِمَّا يُحِرِّشُ بَعِيرَهُ بِمِحْجَنِهِ.
جبیر بن حویرث رحمہ اللہ فرماتے ہیں: میں نے سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کو قزح پر کھڑے دیکھا اور وہ کہہ رہے تھے: اے لوگو! صبح کرو، اے لوگو! صبح کرو، پھر وہ چلے گئے اور میں ان کی ران کو کھلا ہوا دیکھ رہا تھا، اپنے اونٹ کو لاٹھی کے ساتھ بھگانے کی وجہ سے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الحج/حدیث: 9522]
تخریج الحدیث: «ضعيف۔ شافعي 1726۔ ابن ابي شيبه 15325»
الحكم على الحديث: ضعيف
2020. -- باب: الإيضاع في وادي محسر
-- باب: وادیِ محسر میں سواری تیز دوڑانے کا بیان۔
حدیث نمبر: 9523
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنِي أَبُو عَمْرٍو الْمُقْرِئُ، وَأَبُو بَكْرٍ الْوَرَّاقُ قَالَا: أنبأ الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، ثنا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ قَالَا: ثنا حَاتِمُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، ثنا جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَابِرٍ فِي حَجِّ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" حَتَّى إِذَا أَتَى مُحَسِّرًا حَرَّكَ قَلِيلًا"، رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ أَبِي شَيْبَةَ.
جابر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم محسر میں آئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تھوڑی حرکت (تیزی) کی۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الحج/حدیث: 9523]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 9524
وَأَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنبأ سُلَيْمَانُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ أَيُّوبَ، ثنا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا أَبُو نُعَيْمٍ، قَالَ: وَحَدَّثَنَا حَفْصٌ، ثنا قَبِيصَةُ، قَالَ: وَحَدَّثَنَا يُوسُفُ الْقَاضِي، وَمُعَاذُ بْنُ الْمُثَنَّى، قَالَا: ثنا ابْنُ كَثِيرٍ، قَالُوا: ثنا سُفْيَانُ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ: أَفَاضَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَعَلَيْهِ السَّكِينَةُ، وَأَمَرَهُمْ بِالسَّكِينَةِ وَأَوْضَعَ فِي وَادِي مُحَسِّرٍ وَأَمَرَهُمْ أَنْ يَرْمُوا الْجِمَارَ مِثْلَ حَصَى الْخَذْفِ وَقَالَ:" خُذُوا عَنِّي مَنَاسِكَكُمْ لَعَلِّي لَا أَرَاكُمْ بَعْدَ عَامِي هَذَا".
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم لوٹے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر سکینت تھی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو بھی سکینت کا حکم دیا اور وادیِ محسر میں تیزی سے چلے اور انہیں حکم دیا کہ جمروں کو چھوٹی چھوٹی کنکریاں ماریں اور فرمایا: ”مجھ سے مناسک سیکھ لو، شاید کہ میں تمہیں اس سال کے بعد نہ دیکھ سکوں۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الحج/حدیث: 9524]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ ترمذي 886۔ نسائي 3021۔ ابن ماجه 3023»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 9525
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمُقْرِئُ، أنبأ الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، ثنا يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْأَسَدِيُّ، ثنا سُفْيَانُ بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحَارِثِ، عَنْ زَيْدِ بْنِ عَلِيٍّ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ ⦗٢٠٥⦘ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ أَبِي رَافِعٍ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُ" أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَفَاضَ مِنْ جَمْعٍ حَتَّى أَتَى مُحَسِّرًا، فَفَزَّعَ نَاقَتَهُ حَتَّى جَاوَزَ الْوَادِيَ، فَوَقَفَ ثُمَّ أَرْدَفَ الْفَضْلَ ثُمَّ أَتَى الْجَمْرَةَ فَرَمَاهَا".
سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جمع سے لوٹے حتیٰ کہ وادی محسر پہنچے تو اپنی اونٹنی کو دوڑایا حتیٰ کہ وادی سے گزر گئے، پھر ٹھہرے، پھر سیدنا فضل رضی اللہ عنہما کو ردیف بنایا، پھر جمرہ کے پاس آئے اور اس کو مارا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الحج/حدیث: 9525]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 9526
حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الصَّفَّارُ، ثنا أَبُو إِسْمَاعِيلَ مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، ثنا أَيُّوبُ بْنُ سُلَيْمَانَ بْنِ بِلَالٍ، حَدَّثَنِي أَبُو بَكْرٍ وَهُوُ ابْنُ أَبِي أُوَيْسٍ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ بِلَالٍ، قَالَ: قَالَ يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ أَنَّ أَبَا مَعْبَدٍ مَوْلَى عَبْدِ اللهِ بْنِ عَبَّاسٍ أَخْبَرَهُ أَنَّهُ، سَمِعَ عَبْدَ اللهِ بْنَ الْعَبَّاسِ، يُحَدِّثُ عَنِ الْعَبَّاسِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَنَّهُ قَالَ: لَمَّا كَانَ يَوْمُ عَرَفَةَ وَالْفَضْلُ رَدِيفُ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَالنَّاسُ كَثِيرٌ حَوْلَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَمَّا كَثُرَ النَّاسُ قُلْتُ: سَيُحَدِّثُنِي الْفَضْلُ عَمَّا صَنَعَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ الْفَضْلُ: دَفَعَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَدَفَعَ النَّاسُ مَعَهُ، فَجَعَلَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُمْسِكُ بِزِمَامِ بَعِيرِهِ وَجَعَلَ يُنَادِي النَّاسَ" عَلَيْكُمُ السَّكِينَةَ" فَلَمَّا بَلَغَ الْمُزْدَلِفَةَ نَزَلَ فَصَلَّى الْمَغْرِبَ وَالْعِشَاءَ الْآخِرَةَ جَمِيعًا حَتَّى إِذَا طَلَعَ الْفَجْرُ صَلَّى الصُّبْحَ ثُمَّ وَقَفَ بِالْمُزْدَلِفَةِ عِنْدَ الْمَشْعَرِ الْحَرَامِ ثُمَّ دَفَعَ، وَدَفَعَ النَّاسُ مَعَهُ يُمْسِكُ بِرَأْسِ بَعِيرِهِ وَجَعَلَ يَقُولُ:" أَيُّهَا النَّاسُ عَلَيْكُمُ السَّكِينَةَ" حَتَّى إِذَا بَلَغَ مُحَسِّرًا أَوْضَعَ شَيْئًا وَجَعَلَ يَقُولُ:" عَلَيْكُمْ بِحَصَى الْخَذْفِ" وَكَذَلِكَ رَوَاهُ إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبِي أُوَيْسٍ، عَنْ أَخِيهِ.
سیدنا عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ جب عرفہ کا دن تھا تو سیدنا فضل رضی اللہ عنہما نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ردیف تھے اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے گرد لوگ بہت زیادہ تھے۔ جب لوگ زیادہ ہو گئے تو میں نے کہا: مجھے فضل بتا ہی دے گا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کیا کیا، سیدنا فضل رضی اللہ عنہما نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم گئے اور لوگ بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ہی چلے گئے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے اونٹ کی مہار تھامے ہوئے لوگوں کو کہنے لگے: ”تم سکون کو لازم پکڑو۔“ جب مزدلفہ پہنچے تو اترے اور مغرب اور عشاء ادا کی حتیٰ کہ فجر طلوع ہوئی، صبح پڑھائی پھر مشعر حرام کے پاس مزدلفہ میں ٹھہرے رہے۔ پھر لوٹے اور لوگ بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے اونٹ کے سر کو پکڑا ہوا تھا اور کہہ رہے تھے: ”اے لوگو! آرام و سکون سے چلو“ حتیٰ کہ جب محسر میں پہنچے تو رفتار تھوڑی سی تیز کی اور کہنے لگے: ”چھوٹی کنکریوں کو لازم پکڑو۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الحج/حدیث: 9526]
تخریج الحدیث: «حسن۔ نسائي 3020۔ احمد 1/ 210۔ دارمي 1891۔ ابن خزيمه 2843»
الحكم على الحديث: حسن
حدیث نمبر: 9527
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ سَلْمَانَ الْفَقِيهُ بِبَغْدَادَ، وَأَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ قُرْقُوبٍ التَّمَّارُ بِهَمَذَانَ قَالَا: أنبأ أَبُو عَلِيٍّ مُحَمَّدُ بْنُ مُعَاذِ بْنِ الْمُسْتَهِلِّ الْمَعْرُوفُ بِدَرَّانٍ بِحَلَبَ، ثنا الْقَعْنَبِيُّ، حَدَّثَنِي أَبِي مَسْلَمَةُ بْنُ قَعْنَبٍ، ثنا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ الْمِسْوَرِ بْنِ مَخْرَمَةَ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ كَانَ يُوضِعُ وَيَقُولُ:".
مسور بن مخرمہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سواری کو بھگا رہے تھے اور فرما رہے تھے: ”تیری طرف دوڑتے ہیں پریشان و اداس اور اس کے مضبوط لوگ، اس کا دین عیسائیوں کے دین کے مخالف ہے۔“
اور ابن زبیر رضی اللہ عنہما بہت تیز دوڑایا کرتے تھے، انہوں نے یہ طریقہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے لیا ہے، یعنی وادیِ محسر میں سواری کو دوڑانا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الحج/حدیث: 9527]
اور ابن زبیر رضی اللہ عنہما بہت تیز دوڑایا کرتے تھے، انہوں نے یہ طریقہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے لیا ہے، یعنی وادیِ محسر میں سواری کو دوڑانا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الحج/حدیث: 9527]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 9528
أَخْبَرَنَا أَبُو أَحْمَدَ الْمِهْرَجَانِيُّ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ثنا ابْنُ بُكَيْرٍ، ثنا مَالِكٌ، عَنْ نَافِعٍ" أَنَّ عَبْدَ اللهِ بْنَ عُمَرَ كَانَ يُحَرِّكُ رَاحِلَتَهُ فِي بَطْنِ مُحَسِّرٍ قَدْرَ رَمْيَةٍ بِحَجَرٍ".
نافع سے روایت ہے کہ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما اپنی سواری کو وادیٔ محسر میں ایک پتھر پھینکنے کے فاصلے تک حرکت دیتے (تیز چلاتے) تھے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الحج/حدیث: 9528]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ اخرجه مالك 879»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 9529
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ وَهْبٍ، أنبأ سُلَيْمَانُ بْنُ بِلَالٍ، عَنْ ⦗٢٠٦⦘ عَلْقَمَةَ، عَنْ أُمِّهِ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا أَنَّهَا كَانَتْ إِذَا نَفَرَتْ غَدَاةَ الْمُزْدَلِفَةِ فَإِذَا جَاءَتْ بَطْنَ مُحَسِّرٍ قَالَتْ لِي" ازْجُرِي الدَّابَّةَ وَارْفَعِيهَا"، قَالَتْ: فَزَجَرْتُهَا يَوْمًا، فَوَقَعَتِ الدَّابَّةُ عَلَى يَدَيْهَا وَعَلَيْهَا الْهَوْدَجُ ثُمَّ زَجَرْتُهَا الثَّانِيَةَ فَرَفَعَهَا اللهُ فَلَمْ يَضُرَّهَا شَيْئًا وَكَانَتْ تَرْفَعُ دَابَّتَهَا حَتَّى تَقْطَعَ بَطْنَ مُحَسِّرٍ وَتَدْخُلَ بَطْنَ مِنًى وَرُوِّينَا فِي ذَلِكَ عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ وَحُسَيْنِ بْنِ عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمْ.
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ وہ مزدلفہ کی صبح جب سواری کو بھگاتیں، جب وہ وادیٔ محسر کے وسط میں پہنچتیں تو مجھے فرماتیں: سواری کو جھڑکو (بھگاؤ) اور اس کو بلند کرو۔ (اُم علقمہ) فرماتی ہیں: میں نے ایک دن سواری کو ڈانٹا تو سواری اپنے اگلے پاؤں کے بل گر گئی اور اس پر کجاوہ تھا۔ پھر دوسری دفعہ میں نے سواری کو ڈانٹا تو اللہ نے اسے اٹھا (بلند کر) دیا اور انہیں کچھ نقصان نہ دیا۔ وہ اپنی سواری کو اٹھاتی (بلند کرتی) تھیں حتیٰ کہ وادیٔ محسر کو عبور کر کے منیٰ کی وادی (وسط) میں داخل ہو جاتی تھیں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الحج/حدیث: 9529]
تخریج الحدیث: «ضعيف۔ ام علقمه مجهول الحال»
الحكم على الحديث: ضعيف