السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
2022. -- باب: أخذ الحصى لرمي جمرة العقبة وكيفية ذلك
-- باب: جمرہ عقبہ کی رمی کے لیے کنکریاں لینے اور اس کے طریقہ کار کا بیان۔
حدیث نمبر: 9540
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا أَبُو يَحْيَى زَكَرِيَّا بْنُ يَحْيَى، ثنا سُفْيَانُ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي زِيَادٍ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْأَحْوَصِ الْأَزْدِيِّ، عَنْ أُمِّهِ، قَالَتْ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ فِي بَطْنِ الْوَادِي وَهُوَ يَرْمِي الْجَمْرَةَ وَهُوَ يَقُولُ:" يَا أَيُّهَا النَّاسُ لَا يَقْتُلْ بَعْضُكُمْ بَعْضًا، وَإِذَا رَمَيْتُمُ الْجَمْرَةَ فَارْمُوا بِمِثْلِ حَصَى الْخَذْفِ".
سلیمان بن عمرو بن احوص ازدی رحمہ اللہ اپنی والدہ رضی اللہ عنہا سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو وادی کے درمیان سے جمروں کو مارتے ہوئے یہ کہتے سنا: ”اے لوگو! ایک دوسرے کو ہلاک نہ کرو، جب تم جمرہ کو کنکریاں مارو تو چھوٹی پتھریاں مارو۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الحج/حدیث: 9540]
تخریج الحدیث: «ضعيف۔ انظر قبله»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 9541
وَأَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدِ اللهِ النَّرْسِيُّ، ثنا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أنبأ الْحَجَّاجُ بْنُ أَرْطَاةَ، عَنْ أَبِي يَزِيدَ مَوْلَى عَبْدِ اللهِ بْنِ الْحَارِثِ يَعْنِي عَنْ أُمِّ جُنْدُبٍ، قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَيُّهَا النَّاسُ لَا تَقْتُلُوا أَنْفُسَكُمْ عِنْدَ جَمْرَةِ الْعَقَبَةِ، وَعَلَيْكُمْ بِمِثْلِ حَصَى الْخَذْفِ" ⦗٢٠٩⦘ قَالَ الْحَجَّاجُ: وَقَالَ عَطَاءٌ: حَصَى الْخَذْفِ مِثْلُ طَرَفِ الْأُصْبُعِ، لَمْ يُثْبِتْ شَيْخُنَا أُمَّ جُنْدُبٍ، وَهِيَ أُمُّ جُنْدُبٍ قَالَهُ أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ هَارُونَ. قَالَ أَبُو عِيسَى التِّرْمِذِيُّ: سَأَلْتُ الْبُخَارِيَّ عَنْ هَذَا الْحَدِيثِ، فَقَالَ: أُمُّهُ اسْمُهَا أُمُّ جُنْدُبٍ قُلْتُ: فَحَدِيثُ الْحَجَّاجِ، قَالَ: أَرَى أَنَّ الْحَجَّاجَ أَخَذَهُ عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي زِيَادٍ وَأَظُنُّهُ هُوَ حَدِيثُ سُلَيْمَانَ بْنِ عَمْرٍو، عَنْ أُمِّهِ.
سیدہ ام جندب رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے لوگو! اپنے آپ کو جمرہ عقبہ کے پاس ہلاک نہ کرو اور چھوٹی کنکریاں لازم پکڑو۔“
حجاج کہتے ہیں: عطاء رحمہ اللہ نے فرمایا: خذف کی کنکریاں انگلی کے پور جتنی ہوتی ہیں۔
ہمارے شیخ نے ام جندب (کا نام) پختہ طور پر ذکر نہیں کیا، اور وہ ام جندب ہی ہیں، جیسا کہ احمد بن منیع نے یزید بن ہارون سے بیان کیا ہے۔ امام ابوعیسیٰ ترمذی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: میں نے امام بخاری رحمہ اللہ سے اس حدیث کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے فرمایا: ان کی والدہ کا نام ام جندب ہے۔ میں نے کہا: تو حجاج کی حدیث؟ فرمایا: میرا خیال ہے کہ حجاج نے اسے یزید بن ابی زیاد سے لیا ہے اور میرا گمان ہے کہ یہ وہی سلیمان بن عمرو کی اپنی والدہ سے روایت کردہ حدیث ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الحج/حدیث: 9541]
حجاج کہتے ہیں: عطاء رحمہ اللہ نے فرمایا: خذف کی کنکریاں انگلی کے پور جتنی ہوتی ہیں۔
ہمارے شیخ نے ام جندب (کا نام) پختہ طور پر ذکر نہیں کیا، اور وہ ام جندب ہی ہیں، جیسا کہ احمد بن منیع نے یزید بن ہارون سے بیان کیا ہے۔ امام ابوعیسیٰ ترمذی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: میں نے امام بخاری رحمہ اللہ سے اس حدیث کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے فرمایا: ان کی والدہ کا نام ام جندب ہے۔ میں نے کہا: تو حجاج کی حدیث؟ فرمایا: میرا خیال ہے کہ حجاج نے اسے یزید بن ابی زیاد سے لیا ہے اور میرا گمان ہے کہ یہ وہی سلیمان بن عمرو کی اپنی والدہ سے روایت کردہ حدیث ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الحج/حدیث: 9541]
تخریج الحدیث: «باطل۔ احمد 6/ 376»
الحكم على الحديث: باطل
حدیث نمبر: 9542
أَخْبَرَنَا أَبُو عَمْرٍو الْأَدِيبُ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ الْإِسْمَاعِيلِيُّ، أنبأ إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْكُوفِيُّ، ثنا أَبُو غَسَّانَ، ثنا مُوسَى بْنُ مُحَمَّدٍ الْأَنْصَارِيُّ، عَنْ جَمِيلِ بْنِ زَيْدٍ، قَالَ:" رَأَيْتُ ابْنَ عُمَرَ يَرْمِي الْجِمَارَ مِثْلَ بَعْرِ الْغَنَمِ" وَرُوِّينَا، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ" أَنَّهُ كَانَ يَأْخُذُ الْحَصَى مِنْ جَمْعٍ كَرَاهِيَةَ أَنْ يَنْزِلَ" قَالَ الشَّافِعِيُّ: وَمِنْ حَيْثُ أَخَذَ أَجْزَأَهُ إِلَّا أَنِّي أَكْرَهُهُ مِنَ الْمَسْجِدِ؛ لِئَلَّا يَخْرُجَ حَصَى الْمَسْجِدِ مِنْهُ وَمِنَ الْحُشِّ؛ لِنَجَاسَتِهِ وَمِنَ الْجَمْرَةِ؛ لِأَنَّهُ حَصًى غَيْرُ مُتَقَبَّلٍ، قَالَ الشَّيْخُ: وَقَدْ رُوِّينَا فِي كِتَابِ الصَّلَاةِ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ مَرْفُوعًا أَنَّ الْحَصَى يُنَاشِدُ الَّذِي يُخْرِجُهُ مِنَ الْمَسْجِدِ.
(الف) جمیل بن زید رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں نے سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما کو بکری کی مینگنی جیسی کنکریاں مارتے دیکھا۔
(ب) سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نیچے اترنے کو مکروہ خیال کرتے ہوئے وہ مزدلفہ ہی سے کنکریاں لے لیا کرتے تھے۔
(ج) امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: انہوں نے لیا ہے مگر یہ کہ وہ جہاں سے بھی لیں ان کو کفایت کر جائیں گی، مگر میں مسجد سے کنکریاں لینا مکروہ سمجھتا ہوں کہ کہیں مسجد سے ساری کنکریاں نہ نکالی جائیں اور کسی باغ یا بیت الخلا وغیرہ سے اس لیے کہ وہ نجس ہوتی ہیں اور وہیں جمرہ سے اٹھانے کو اس لیے کہ وہ غیر مقبول کنکریاں ہیں۔
(د) شیخ رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ہم کتاب الصلاة میں ابو صالح رحمہ اللہ سے سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے واسطہ سے مرفوع روایت نقل کر چکے ہیں کہ ”کنکری اس آدمی سے اپیل کرتی ہے جو اس کو مسجد سے نکالتا ہے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الحج/حدیث: 9542]
(ب) سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نیچے اترنے کو مکروہ خیال کرتے ہوئے وہ مزدلفہ ہی سے کنکریاں لے لیا کرتے تھے۔
(ج) امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: انہوں نے لیا ہے مگر یہ کہ وہ جہاں سے بھی لیں ان کو کفایت کر جائیں گی، مگر میں مسجد سے کنکریاں لینا مکروہ سمجھتا ہوں کہ کہیں مسجد سے ساری کنکریاں نہ نکالی جائیں اور کسی باغ یا بیت الخلا وغیرہ سے اس لیے کہ وہ نجس ہوتی ہیں اور وہیں جمرہ سے اٹھانے کو اس لیے کہ وہ غیر مقبول کنکریاں ہیں۔
(د) شیخ رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ہم کتاب الصلاة میں ابو صالح رحمہ اللہ سے سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے واسطہ سے مرفوع روایت نقل کر چکے ہیں کہ ”کنکری اس آدمی سے اپیل کرتی ہے جو اس کو مسجد سے نکالتا ہے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الحج/حدیث: 9542]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 9543
وَأَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ إِسْمَاعِيلَ الطَّابَرَانِيُّ بِهَا، ثنا أَبُو النَّضْرِ مُحَمَّدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يُوسُفَ الْفَقِيهُ إِمْلَاءً، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ يُونُسَ الْقُرَشِيُّ، ثنا أَزْهَرُ بْنُ سَعْدٍ السَّمَّانُ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ عُثْمَانَ بْنِ خُثَيْمٍ، عَنْ أَبِي الطُّفَيْلِ، قَالَ: سَأَلْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ عَنِ الْحَصَى الَّذِي يُرْمَى فِي الْجِمَارِ مُنْذُ قَامَ الْإِسْلَامُ، فَقَالَ:" مَا تُقُبِّلَ مِنْهُمْ رُفِعَ، وَمَا لَمْ يُتَقَبَّلْ مِنْهُمْ تُرِكَ وَلَوْلَا ذَلِكَ لَسَدَّ مَا بَيْنَ الْجَبَلَيْنِ" وَرُوِّينَا، عَنْ سُفْيَانَ الثَّوْرِيِّ، عَنِ ابْنِ خُثَيْمٍ، عَنْ أَبِي الطُّفَيْلِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ:" وُكِّلَ بِهِ مَلَكٌ مَا تُقُبِّلَ مِنْهُ رَفَعَ، وَمَا لَمْ يُتَقَبَّلْ مِنْهُ تَرَكَ" وَعَنْ سُفْيَانَ، قَالَ: حَدَّثَنِي سُلَيْمَانُ الْعَبْسِيُّ، عَنِ ابْنِ أَبِي نُعَيْمٍ، قَالَ: سَأَلْتُ أَبَا سَعِيدٍ، عَنْ رَمْيِ الْجِمَارِ، فَقَالَ لِي:" مَا تُقُبِّلَ مِنْهُ رُفِعَ، وَلَوْلَا ذَلِكَ كَانَ أَطْوَلَ مِنْ ثَبِيرٍ".
ابوطفیل رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے ان کنکریوں کے بارے میں پوچھا جن کے ساتھ اسلام کے بعد جمروں کو مارا جاتا ہے تو انہوں نے کہا: ”جو ان میں سے قبول کی گئی اس کو اٹھا لیا گیا اور جو نہ کی گئی اس کو چھوڑ دیا گیا اور اگر یہ نہ ہوتا تو دونوں پہاڑوں کا درمیان بند ہو جاتا۔“
سفیان ثوری کی روایت میں سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے منقول ہے کہ ”اس پر ایک فرشتے کی ذمہ داری لگائی گئی ہے، اس میں سے جو قبول کیا جاتا ہے وہ اٹھا لیا جاتا ہے اور جو قبول نہ ہو وہ باقی چھوڑ دیا جاتا ہے۔“
ابن ابی نعیم رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں نے سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے کنکریوں کے بارے میں دریافت کیا تو انہوں نے مجھے بتایا کہ ”ان میں سے جو قبول کی جاتی ہیں وہ اٹھا لی جاتی ہیں اور اگر اس طرح نہ ہوتا تو یہاں یہ ثبیر پہاڑ سے بھی بلند پہاڑ بن جاتا۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الحج/حدیث: 9543]
سفیان ثوری کی روایت میں سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے منقول ہے کہ ”اس پر ایک فرشتے کی ذمہ داری لگائی گئی ہے، اس میں سے جو قبول کیا جاتا ہے وہ اٹھا لیا جاتا ہے اور جو قبول نہ ہو وہ باقی چھوڑ دیا جاتا ہے۔“
ابن ابی نعیم رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں نے سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے کنکریوں کے بارے میں دریافت کیا تو انہوں نے مجھے بتایا کہ ”ان میں سے جو قبول کی جاتی ہیں وہ اٹھا لی جاتی ہیں اور اگر اس طرح نہ ہوتا تو یہاں یہ ثبیر پہاڑ سے بھی بلند پہاڑ بن جاتا۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الحج/حدیث: 9543]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 9544
أَخْبَرَنِي بِهَذَيْنِ الْأَثَرَيْنِ أَبُو بَكْرٍ الْأَصْبَهَانِيُّ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو نَصْرٍ الْعِرَاقِيُّ، ثنا سُفْيَانُ بْنُ مُحَمَّدٍ، ثنا عَلِيُّ بْنُ الْحَسَنِ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ الْوَلِيدِ، ثنا سُفْيَانُ، فَذَكَرَهُمَا، وَذَكَرَ حَدِيثَ سُفْيَانَ، عَنْ عُبَيْدِ اللهِ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ" أَنَّهُ كَانَ يَأْخُذُ الْحَصَى مِنْ جَمْعٍ كَرَاهِيَةَ أَنْ يَنْزِلَ"، وَقَدْ رُوِيَ حَدِيثُ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ مَرْفُوعًا مِنْ وَجْهٍ ضَعِيفٍ.
ایضاً
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما کے بارے میں منقول ہے کہ وہ اترنے کو مکروہ سمجھتے ہوئے پہلے ہی کنکریاں رکھ لیا کرتے تھے۔
سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کی حدیث ایک ضعیف سند سے مرفوعاً بھی روایت کی گئی ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الحج/حدیث: 9544]
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما کے بارے میں منقول ہے کہ وہ اترنے کو مکروہ سمجھتے ہوئے پہلے ہی کنکریاں رکھ لیا کرتے تھے۔
سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کی حدیث ایک ضعیف سند سے مرفوعاً بھی روایت کی گئی ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الحج/حدیث: 9544]
تخریج الحدیث: «حسن»
الحكم على الحديث: حسن
حدیث نمبر: 9545
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنِي يَحْيَى بْنُ مَنْصُورٍ الْقَاضِي، ثنا أَبُو عَمْرٍو أَحْمَدُ بْنُ الْمُبَارَكِ الْمُسْتَمْلِيُّ، ثنا سَعِيدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ الْأُمَوِيُّ، ثنا أَبِي، ثنا يَزِيدُ بْنُ سِنَانٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَبِي أُنَيْسَةَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، عَنْ أَبِيهِ أَبِي سَعِيدٍ، قَالَ: قُلْنَا: يَا رَسُولَ اللهِ هَذِهِ الْأَحْجَارُ الَّتِي يُرْمَى بِهَا يُحْمَلُ فَيُحْسَبُ أَنَّهَا تَنْقَعِرُ، قَالَ:" إِنَّهُ مَا تُقُبِّلَ مِنْهَا يُرْفَعُ، وَلَوْلَا ذَلِكَ لَرَأَيْتَهَا مِثْلَ الْجِبَالِ" يَزِيدُ بْنُ سِنَانٍ لَيْسَ بِالْقَوِيِّ فِي الْحَدِيثِ، وَرُوِي مِنْ وَجْهٍ آخَرَ ضَعِيفٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ مَرْفُوعًا.
سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں، ہم نے عرض کیا: ”اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! یہ پتھر جن کے ساتھ مارا جاتا ہے، اٹھا لیے جاتے ہیں، سمجھا جاتا ہے کہ یہ کاٹے جاتے ہیں۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو قبول کیا جاتا ہے وہ اٹھا لیا جاتا ہے۔ اگر ایسا نہ ہوتا تو تم ان کو پہاڑوں کی طرح دیکھتے۔“
یزید بن سنان حدیث میں قوی نہیں ہے، اور یہ روایت ایک دوسری ضعیف سند سے سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مرفوعاً بھی مروی ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الحج/حدیث: 9545]
یزید بن سنان حدیث میں قوی نہیں ہے، اور یہ روایت ایک دوسری ضعیف سند سے سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مرفوعاً بھی مروی ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الحج/حدیث: 9545]
تخریج الحدیث: «ضعيف۔ حاكم 1/ 650»
الحكم على الحديث: ضعيف
2023. -- باب: إتيان منى، ولا يعرج حتى يرمي جمرة العقبة بسبع حصيات يكبر مع كل حصاة
-- باب: منیٰ آنے کا بیان، اور وہ کہیں نہ رکے یہاں تک کہ جمرہ عقبہ کو سات کنکریاں مارے، اور ہر کنکری کے ساتھ تکبیر کہے۔
حدیث نمبر: 9546
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنِي أَبُو عَمْرٍو الْمُقْرِئُ، وَأَبُو بَكْرٍ الْوَرَّاقُ قَالَا: أنبأ الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، ثنا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ قَالَا: ثنا حَاتِمُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، ثنا جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَابِرٍ فِي حَجِّ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" ثُمَّ سَلَكَ الطَّرِيقَ الْوُسْطَى الَّتِي تُخْرِجُكَ عَلَى الْجَمْرَةِ الْكُبْرَى حَتَّى أَتَى الْجَمْرَةَ الَّتِي عِنْدَ الْمَسْجِدِ، فَرَمَى بِسَبْعِ حَصَيَاتٍ يُكَبِّرُ مَعَ كُلِّ حَصَاةٍ مِنْهَا مِثْلِ حَصَى الْخَذْفِ رَمَى مِنْ بَطْنِ الْوَادِي، ثُمَّ انْصَرَفَ إِلَى النَّحْرِ"، رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ أَبِي شَيْبَةَ.
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے حج کے بارے میں فرماتے ہیں کہ پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم درمیانے راستے پر چلے جو کہ جمرہ کبریٰ کی طرف جا نکلتا ہے، حتیٰ کہ اس جمرہ کے پاس آئے جو مسجد کے قریب ہے تو سات کنکریاں ماریں، ان میں سے ہر کنکری کے ساتھ تکبیر کہی، یہ کنکریاں خذف کی طرح چھوٹی چھوٹی تھیں، اور وادی کے درمیان کھڑے ہو کر رمی کی، پھر قربانی کی جگہ کی طرف واپس آگئے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الحج/حدیث: 9546]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ مسلم»
الحكم على الحديث: صحيح
2024. -- باب: رمي الجمرة من بطن الوادي، وكيفية الوقوف للرمي
-- باب: وادی کے نشیب سے جمرہ کی رمی کرنے اور رمی کے لیے کھڑے ہونے کی کیفیت کا بیان۔
حدیث نمبر: 9547
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا يَحْيَى بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى، ثنا مُسَدَّدٌ، ثنا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ زِيَادٍ، ثنا الْأَعْمَشُ، قَالَ: وَثَنَا يَحْيَى بْنُ مُحَمَّدٍ، ثنا مِنْجَابُ بْنُ الْحَارِثِ، أنبأ عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ، عَنِ الْأَعْمَشِ قَالَ: سَمِعْتُ الْحَجَّاجَ بْنَ يُوسُفَ، يَقُولُ وَهُوَ يَخْطُبُ عَلَى الْمِنْبَرِ: أَلِّفُوا الْقُرْآنَ كَمَا أَلَّفَهُ جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلَامُ السُّورَةُ الَّتِي تُذْكَرُ فِيهَا الْبَقَرَةُ، وَالسُّورَةُ الَّتِي تُذْكَرُ فِيهَا النِّسَاءُ، وَالسُّورَةُ الَّتِي يُذْكَرُ فِيهَا آلُ عِمْرَانَ، قَالَ: فَلَقِيتُ إِبْرَاهِيمَ، فَأَخْبَرْتُهُ بِقَوْلِهِ فَسَبَّهُ ثُمَّ قَالَ: حَدَّثَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ يَزِيدَ أَنَّهُ كَانَ مَعَ عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ فَأَتَى جَمْرَةَ الْعَقَبَةِ فَاسْتَبْطَنَ الْوَادِيَ فَاسْتَعْرَضَهَا فَرَمَاهَا مِنْ بَطْنِ الْوَادِي بِسَبْعِ حَصَيَاتٍ يُكَبِّرُ مَعَ كُلِّ حَصَاةٍ فَقُلْتُ: يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ إِنَّ النَّاسَ يَرْمُونَهَا مِنْ فَوْقِهَا، فَقَالَ:" هَذَا وَالَّذِي لَا إِلَهَ غَيْرُهُ مَقَامُ الَّذِي أُنْزِلَتْ عَلَيْهِ سُورَةُ الْبَقَرَةِ"، ⦗٢١١⦘ رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ مُسَدَّدٍ، وَرَوَاهُ مُسْلِمٌ عَنْ مِنْجَابِ بْنِ الْحَارِثِ.
اعمش کہتے ہیں کہ میں نے حجاج کو منبر پر خطبہ دیتے ہوئے سنا کہ قرآن کو ایسے تالیف کرو جیسے جبریل علیہ السلام نے کیا ہے: وہ سورہ جس میں گائے کا ذکر ہے، وہ سورہ جس میں نساء کا ذکر ہے، وہ سورہ جس میں آل عمران کا ذکر ہے؛ تو میں ابراہیم رحمہ اللہ کو ملا اور ان کو یہ بات بتائی تو انہوں نے اس کو برا بھلا کہا، پھر فرمایا: مجھے عبدالرحمن بن یزید نے خبر دی کہ وہ سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے ساتھ جمرہ عقبہ پر تھے، جب وہ وہاں پہنچے تو وادی کے درمیان میں کھڑے ہوئے اور اس کو سامنے رکھ کر سات چھوٹی چھوٹی کنکریاں ماریں اور ہر کنکری کے ساتھ تکبیر کہی، میں نے کہا: لوگ تو ان کو اوپر سے مارتے ہیں، تو انہوں نے کہا: اس ذات کی قسم جس کے علاوہ کوئی اور معبود نہیں ہے! یہ اس شخص کا مقام ہے جس پر سورہ البقرہ اتری۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الحج/حدیث: 9547]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ بخاري 163۔ مسلم 1296»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 9548
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيِّ الْحُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدٍ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ الْحُسَيْنُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ أَيُّوبَ الطُّوسِيُّ، أنبأ أَبُو حَاتِمٍ الرَّازِيُّ، ثنا عُبَيْدُ اللهِ بْنُ مُوسَى، ثنا شُعْبَةُ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنِي عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْكَعْبِيُّ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ أَيُّوبَ، أنبأ أَبُو عُمَرَ، ثنا شُعْبَةُ، عَنِ الْحَكَمِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ، عَنْ عَبْدِ اللهِ، قَالَ: لَمَّا انْتَهَيْنَا إِلَى الْجَمْرَةِ الْكُبْرَى جَعَلَ الْبَيْتَ عَنْ يَسَارِهِ وَمِنًى عَنْ يَمِينِهِ وَرَمَى الْجَمْرَةَ بِسَبْعِ حَصَيَاتٍ وَقَالَ:" هَكَذَا رَمَى الَّذِي أُنْزِلَتْ عَلَيْهِ سُورَةُ الْبَقَرَةِ" لَفْظُ حَدِيثِ أَبِي عَبْدِ اللهِ، وَفِي رِوَايَةِ الرُّوذْبَارِيِّ، قَالَ: حَجَجْتُ مَعَ عَبْدِ اللهِ فَلَمَّا أَتَى مِنًى جَعَلَ مِنًى عَنْ يَمِينِهِ وَالْبَيْتَ عَلَى يَسَارِهِ وَرَمَى الْجَمْرَةَ بِسَبْعِ حَصَيَاتٍ وَقَالَ:" هَذَا مَقَامُ الَّذِي أُنْزِلَتْ عَلَيْهِ سُورَةُ الْبَقَرَةِ"، رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ حَفْصِ بْنِ عُمَرَ أَبِي عُمَرَ، وَرَوَاهُ مُسْلِمٌ مِنْ وَجْهَيْنِ آخَرَيْنِ، عَنْ شُعْبَةَ.
عبدالرحمن بن یزید رحمہ اللہ، سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ سے نقل فرماتے ہیں کہ جب ہم جمرۂ کبریٰ کے پاس پہنچے تو انہوں نے بیت اللہ کو اپنی بائیں طرف کیا اور منیٰ کو دائیں طرف اور جمرہ کو سات کنکریاں ماریں اور فرمایا: جس پر ﴿سورة البقرة﴾ اتری ہے، اس نے اسی طرح مارا تھا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الحج/حدیث: 9548]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ بخاري 1661۔ مسلم 1296»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 9549
وَحَدَّثَنَا أَبُو إِسْحَاقَ إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْأَرْمَوِيُّ، أنبأ أَبُو الْقَاسِمِ عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدٍ النَّسَوِيُّ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ثنا ابْنُ إِدْرِيسَ، عَنْ لَيْثٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: أَفَضْتُ مَعَ عَبْدِ اللهِ مِنْ جَمْعٍ فَمَا زَالَ يُلَبِّي حَتَّى رَمَى جَمْرَةَ الْعَقَبَةِ فَاسْتَبْطَنَ الْوَادِيَ، ثُمَّ قَالَ:" يَا ابْنَ أَخِي، نَاوِلْنِي سَبْعَةَ أَحْجَارٍ" فَرَمَاهَا بِسَبْعِ حَصَيَاتٍ يُكَبِّرُ مَعَ كُلِّ حَصَاةٍ حَتَّى إِذَا فَرَغَ قَالَ:" اللهُمَّ اجْعَلْهُ حَجًّا مَبْرُورًا وَذَنْبًا مَغْفُورًا" ثُمَّ قَالَ:" هَكَذَا رَأَيْتُ الَّذِي أُنْزِلَتْ عَلَيْهِ سُورَةُ الْبَقَرَةِ صَنَعَ".
محمد بن عبدالرحمن بن یزید رحمہ اللہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ انھوں نے کہا: ”میں عبداللہ رضی اللہ عنہ کے ساتھ جمع سے لوٹا تو وہ تلبیہ کہتے رہے حتیٰ کہ جمرہ عقبہ کو مارا، پھر وادی کے درمیان میں ہوئے اور کہا: اے میرے بھتیجے! مجھے سات پتھر پکڑاؤ، تو انھوں نے سات کنکریاں ماریں، ہر کنکری کے ساتھ تکبیر کہتے تھے، حتیٰ کہ جب فارغ ہوئے تو کہا: اے اللہ! اس حج کو مقبول بنا لے اور گناہوں کو معاف فرما دے۔ پھر کہا: میں نے اسی طرح کرتے ہوئے اس ذات صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا جس پر سورۃ البقرہ نازل ہوئی۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الحج/حدیث: 9549]
تخریج الحدیث: «منكر۔ ابن ابي شيبه 14016»
الحكم على الحديث: منكر