السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
2246. -- باب: الوقت الذي يحل فيه بيع الثمار
-- باب: اس وقت کا بیان جس میں پھلوں کی بیع حلال ہوتی ہے۔
حدیث نمبر: 10603
أَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيٍّ الْفَقِيهُ، ثنا أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا يَحْيَى بْنُ مُحَمَّدٍ، أنا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ، ثنا زُهَيْرٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ عِصْمَةَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ الْعَدْلُ، ثنا أَبِي، ثنا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، أنا أَبُو خَيْثَمَةَ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ:" نَهَى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ بَيْعِ الثَّمَرَةِ حَتَّى تَطِيبَ"، رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ يَحْيَى بْنِ يَحْيَى، وَأَحْمَدَ بْنِ يُونُسَ.
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ”پھل کو اس کے عمدہ یا پک جانے سے پہلے فروخت کرنے“ سے منع فرمایا ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب البيوع/حدیث: 10603]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ مسلم 1536»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 10604
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحُسَيْنِ، ثنا آدَمُ، ثنا شُعْبَةُ، ثنا عَمْرُو بْنُ مُرَّةَ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا الْبَخْتَرِيِّ الطَّائِيَّ، يَقُولُ: ح وَأنا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنا أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ، ثنا أَبُو ⦗٤٩٢⦘ مُسْلِمٍ، ثنا الْوَلِيدُ، وَسُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، قَالَا: ثنا شُعْبَةُ، حَدَّثَنِي عَمْرُو بْنُ مُرَّةَ، عَنْ أَبِي الْبَخْتَرِيِّ، قَالَ: سَأَلْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ عَنِ السَّلَمِ فِي النَّخْلِ، فَقَالَ:" نَهَى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ بَيْعِ النَّخْلِ حَتَّى يُؤْكَلَ مِنْهُ وَحَتَّى يُوزَنَ"، قُلْتُ: مَا يُوزَنُ؟ فَقَالَ رَجُلٌ مِنَ الْقَوْمِ: حَتَّى يُحْزَرَ - وَفِي رِوَايَةِ آدَمَ - فَقَالَ رَجُلٌ: وَأِيُّ شَيْءٍ يُوزَنُ؟، فَقَالَ رَجُلٌ إِلَى جَنْبِهِ: حَتَّى يُحْزَرَ، رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ آدَمَ، عَنْ أَبِي الْوَلِيدِ، وَأَخْرَجَهُ هُوَ وَمُسْلِمٌ مِنْ حَدِيثِ غُنْدَرٍ، عَنْ شُعْبَةَ.
ابو البغزی فرماتے ہیں کہ میں نے سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے «سَلَمٌ فِي النَّخْلِ» (درخت پر لگی کھجور میں بیعِ سَلَم) کے بارے میں سوال کیا، انہوں نے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ”کھجور کو فروخت کرنے سے منع فرمایا، جب تک کہ وہ کھانے کے قابل نہ ہو جائے یا اس کا وزن نہ کر لیا جائے۔“ میں نے پوچھا: اس کا وزن کرنا کیا ہے؟ تو لوگوں میں سے ایک آدمی نے کہا کہ اس سے مراد اندازہ کرنا ہے۔
(ب) آدم کی روایت میں ہے کہ اس آدمی نے کہا: کس چیز کے ساتھ وزن کیا جائے؟ تو اس کے پہلو میں بیٹھے شخص نے کہا کہ اس سے مراد اندازہ لگانا ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب البيوع/حدیث: 10604]
(ب) آدم کی روایت میں ہے کہ اس آدمی نے کہا: کس چیز کے ساتھ وزن کیا جائے؟ تو اس کے پہلو میں بیٹھے شخص نے کہا کہ اس سے مراد اندازہ لگانا ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب البيوع/حدیث: 10604]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ مسلم 1537»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 10605
أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ الْفَقِيهُ، وَأَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، قَالُوا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَبْدِ الْحَكَمِ، ثنا أَبُو زُرْعَةَ وَهْبُ اللهِ بْنُ رَاشِدِ، عَنْ يُونُسَ، قَالَ: قَالَ أَبُو الزِّنَادِ: وَكَانَ عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ يُحَدِّثُ عَنْ سَهْلِ بْنِ أَبِي حَثْمَةَ أَنَّهُ أَخْبَرَهُ أَنَّ زَيْدَ بْنَ ثَابِتٍ كَانَ يَقُولُ: كَانَ النَّاسُ فِي عَهْدِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَتَبَايَعُونَ الثِّمَارَ فَإِذَا جَدَّ النَّاسُ وَحَضَرَ تَقَاضِيهِمْ، قَالَ الْمُبْتَاعُ: إِنَّهُ أَصَابَ الثَّمَرَ الْعَفَنُ الدُّمَانُ، أَصَابَهُ مَرَاقٌ، أَصَابَهُ قُشَامٌ، عَاهَاتٌ يَحْتَجُّونَ بِهَا، وَالْقُشَامُ شَيْءٌ يُصِيبُهُ حَتَّى لَا يَرْطَبَ، قَالَ: فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمَّا كَثُرَتْ عِنْدَهُ الْخُصُومَةُ فِي ذَلِكَ:" فَأَمَّا لَا فَلَا تَبَايَعُوا حَتَّى يَبْدُوَ صَلَاحُ الثَّمَرِ" كَالْمَشُورَةِ يُشِيرُ بِهَا؛ لِكَثْرَةِ خُصُومَتِهِمْ، قَالَ: وَقَالَ أَبُو الزِّنَادِ: وَأَخْبَرَنِي خَارِجَةُ بْنُ زَيْدٍ أَنَّ زَيْدَ بْنَ ثَابِتٍ لَمْ يَكُنْ يَبِيعُ ثِمَارَ أَمْوَالِهِ حَتَّى تَطْلُعَ الثُّرَيَّا فَيَسْتَبِينَ الْأَحْمَرُ مِنَ الْأَصْفَرِ، أَخْرَجَهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ فَقَالَ: وَقَالَ اللَّيْثُ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ فَذَكَرَهُ، وَقَالَ: مُرَاضٌ بَدَلَ مَرَاقٍ، قَالَ الْأَصْمَعِيُّ: الدُّمَانُ: أَنْ تَنْشَقَّ النَّخْلَةُ أَوَّلَ مَا يَبْدُو قَلْبُهَا عَنْ عَفَنٍ وَسَوَادٍ، قَالَ: وَالْقُشَامُ أَنْ يُنْتَقَصَ ثَمَرُ النَّخْلِ قَبْلَ أَنْ يَصِيرَ بَلَحًا، وَالْمُرَاضُ: اسْمٌ لِأَنْوَاعِ الْأَمْرَاضِ.
سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں پھلوں کی بیع کرتے تھے، جب لوگ پھل توڑتے اور تقاضے کا وقت آتا تو پھر خریدنے والا یہ کہہ دیتا کہ پھلوں کو «الدُّمَانُ» (یعنی پھل بننے سے پہلے کی بیماری) لگ گئی تھی، اس کو مختلف قسم کی بیماریاں لگ گئی تھیں۔ «قُشَام» (ایسی بیماری جو کھجور کے پھل کو پکنے سے پہلے لگ جائے)۔ اس طرح کے حیلہ و حجت کرتے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جب جھگڑے زیادہ ہو گئے تو فرمایا: ”پھلوں کو فروخت نہ کرو جب تک ان میں پکنے کے آثار واضح نہ ہو جائیں“، گویا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان کو مشورہ دے رہے تھے ان کے زیادہ جھگڑے ہونے کی وجہ سے۔
(ب) خارجہ بن زید بن ثابت رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ زید بن ثابت رضی اللہ عنہ اپنے مالوں کے پھل فروخت نہ کرتے تھے جب تک ثریا ستارہ طلوع نہ ہو جاتا تاکہ سرخی زردی سے واضح ہو جائے۔ ابوزناد رحمہ اللہ نے «مَرَاض» کے الفاظ ذکر کیے ہیں، «مَرَاقٍ» کے بدلے۔
اصمعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: «الدُّمَانُ» کھجور کا پھٹ جانا اس کے گابھے سے ظاہر ہونے سے پہلے۔
«القُشَام»: کھجور کا پھل پکنے سے پہلے گر جائے۔ «مَرَاض»: مختلف قسم کی بیماریاں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب البيوع/حدیث: 10605]
(ب) خارجہ بن زید بن ثابت رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ زید بن ثابت رضی اللہ عنہ اپنے مالوں کے پھل فروخت نہ کرتے تھے جب تک ثریا ستارہ طلوع نہ ہو جاتا تاکہ سرخی زردی سے واضح ہو جائے۔ ابوزناد رحمہ اللہ نے «مَرَاض» کے الفاظ ذکر کیے ہیں، «مَرَاقٍ» کے بدلے۔
اصمعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: «الدُّمَانُ» کھجور کا پھٹ جانا اس کے گابھے سے ظاہر ہونے سے پہلے۔
«القُشَام»: کھجور کا پھل پکنے سے پہلے گر جائے۔ «مَرَاض»: مختلف قسم کی بیماریاں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب البيوع/حدیث: 10605]
تخریج الحدیث: «حسن۔ اخرجه البخاري 2087»
الحكم على الحديث: حسن
حدیث نمبر: 10606
أَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنا الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، أنا الشَّافِعِيُّ، أنا ابْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ عَمْرٍو، عَنْ طَاوُسٍ، سَمِعَ ابْنَ عُمَرَ، يَقُولُ:" لَا يُبْتَاعُ الثَّمَرُ حَتَّى يَبْدُوَ صَلَاحُهُ"، قَالَ: وَسَمِعْنَا ابْنَ عَبَّاسٍ، يَقُولُ:" لَا يُبَاعُ الثَّمَرُ حَتَّى يُطْعَمَ".
طاؤس رحمہ اللہ نے ابن عمر رضی اللہ عنہما سے سنا کہ ”پھلوں کو پکنے سے پہلے فروخت نہ کیا جائے۔“
(ب) ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ ”پھل کو فروخت نہ کیا جائے یہاں تک کہ وہ کھایا جا سکے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب البيوع/حدیث: 10606]
(ب) ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ ”پھل کو فروخت نہ کیا جائے یہاں تک کہ وہ کھایا جا سکے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب البيوع/حدیث: 10606]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ اخرجه الشافعي 695»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 10607
أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللهِ بْنُ يُوسُفَ، أنا أَبُو سَعِيدِ بْنُ الْأَعْرَابِيِّ، ثنا سَعْدَانُ بْنُ نَصْرٍ، ثنا سُفْيَانُ، عَنْ عَمْرٍو، عَنْ أَبِي مَعْبَدٍ مَوْلَى ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ ابْنَ عَبَّاسٍ، كَانَ يَبِيعُ الثَّمَرَ مِنْ غُلَامِهِ قَبْلَ أَنْ يَبْدُوَ صَلَاحُهُ وَيَقُولُ:" لَيْسَ بَيْنَ الْعَبْدِ وَبَيْنَ سَيِّدِهِ رِبًا".
ابو معبد، جو سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کے غلام ہیں، سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما اپنے پھل پکنے سے پہلے اپنے غلام کو فروخت کر دیتے اور فرماتے کہ سید اور غلام کے درمیان سود نہیں ہوتا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب البيوع/حدیث: 10607]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ ابن ابي شيبه 2004»
الحكم على الحديث: صحيح
2247. -- باب: النهي عن بيع السنين، وأن ما لم يخلق من الحمل الثاني لا يتبع ما خلق من الحمل الأول
-- باب: بیعِ سنین (کئی سالوں تک کے پھل کی پیشگی بیع) کی ممانعت اور اس بات کا بیان کہ دوسری پیداوار جو ابھی پیدا نہیں ہوئی، وہ پہلی پیدا شدہ پیداوار کے تابع نہیں ہوتی۔
حدیث نمبر: 10608
حَدَّثَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللهِ بْنُ يُوسُفَ الْأَصْبَهَانِيُّ إِمْلَاءً، أنا أَبُو سَعِيدٍ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ الْبَصْرِيُّ بِمَكَّةَ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الصَّبَّاحِ الزَّعْفَرَانِيُّ، ثنا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ حُمَيْدٍ الْأَعْرَجِ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ عَتِيقٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ" أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنْ بَيْعِ الثَّمَرِ سِنِينَ"، رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ سَعِيدِ بْنِ مَنْصُورٍ وَغَيْرِهِ، عَنْ سُفْيَانَ.
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ”پھلوں کی کئی سالوں کی بیع کرنے سے منع کیا ہے“۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب البيوع/حدیث: 10608]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ مسلم 1536»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 10609
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ بْنِ حُمَيْدٍ الْأُشْنَانِيُّ، وَأَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللهِ الْعَطَّارُ الْحِيرِيُّ قَالَا: ثنا أَبُو عَمْرٍو إِسْمَاعِيلُ بْنُ نُجَيْدٍ، ثنا أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْعَبْدِيُّ، ثنا أُمَيَّةُ بْنُ بِسْطَامٍ، ثنا الْمُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ" أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنْ بَيْعِ الْغَرَرِ".
نافع، سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے نقل فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ”دھوکے کی بیع سے بھی منع فرمایا۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب البيوع/حدیث: 10609]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
2248. -- باب: ما يذكر في بيع الحنطة في سنبلها
-- باب: گندم کو اس کی بالی کے اندر رہتے ہوئے فروخت کرنے کے متعلق جو ذکر کیا گیا ہے۔
حدیث نمبر: 10610
أَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ فِي آخَرِينَ، قَالُوا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ عَفَّانَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ" أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنْ بَيْعِ الْغَرَرِ، وَعَنْ بَيْعِ الْحَصَى"، أَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ مِنْ حَدِيثِ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ كَمَا مَضَى.
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ”دھوکے اور کنکری کی بیع سے منع فرمایا ہے“۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب البيوع/حدیث: 10610]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ مسلم 1513»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 10611
أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنا ⦗٤٩٤⦘ الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، قَالَ: قُلْنَا لِلشَّافِعِيِّ: إِنَّ عَلِيَّ بْنَ مَعْبَدٍ أَخْبَرَنَا بِإِسْنَادٍ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ أَجَازَ بَيْعَ الْقَمْحِ فِي سُنْبُلِهِ إِذَا ابْيَضَّ، فَقَالَ:" أَمَّا هُوَ فَغَرَرٌ؛ لِأَنَّهُ مَحُولٌ دُونَهُ لَا يُرَى"، فَإِنْ ثَبَتَ الْخَبَرُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قُلْنَا بِهِ، وَكَانَ هَذَا خَاصًّا مُسْتَخْرَجًا مِنْ عَامٍّ؛ لِأَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنْ بَيْعِ الْغَرَرِ وَأَجَازَ هَذَا.
ربیع بن سلیمان کہتے ہیں: ہم نے امام شافعی رحمہ اللہ سے کہا کہ علی بن معبد رحمہ اللہ اپنی سند سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے گندم کو بالیوں میں فروخت کرنے کی اجازت دی جب بالیاں سفید ہو جائیں، تو امام شافعی رحمہ اللہ نے فرمایا: ”رہی یہ (بیع) تو یہ دھوکا ہے، کیونکہ اس (دانے) کے آگے رکاوٹ ہے، وہ دکھائی نہیں دیتا۔ اگر یہ حدیث نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت ہو جائے تو ہم اسی کے قائل ہوں گے، اور یہ خاص ہوگا جو عام سے نکالا گیا ہے، کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دھوکے کی بیع سے منع کیا ہے اور اس کی اجازت دی ہے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب البيوع/حدیث: 10611]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ ذكر الشافعي في الام 3/81»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 10612
أَخْبَرَنَا بِالْحَدِيثِ الَّذِي وَرَدَ فِي ذَلِكَ أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدٍ النُّفَيْلِيُّ، ثنا ابْنُ عُلَيَّةَ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ" أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنْ بَيْعِ النَّخْلِ حَتَّى يَزْهُوَ، وَعَنْ بَيْعِ السُّنْبُلِ حَتَّى يَبْيَضَّ وَيَأْمَنَ الْعَاهَةَ نَهَى الْبَائِعَ وَالْمُشْتَرِيَ" رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ عَلِيِّ بْنِ حُجْرٍ وَزُهَيْرِ بْنِ حَرْبٍ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ عُلَيَّةَ، قَالَ الشَّيْخُ: وَذِكْرِ السُّنْبُلِ فِي هَذَا الْحَدِيثِ مِمَّا تَفَرَّدَ بِهِ أَيُّوبُ السِّخْتِيَانِيُّ، عَنْ نَافِعٍ مِنْ بَيْنِ أَصْحَابِ نَافِعٍ، وَأَيُّوبُ ثِقَةٌ حُجَّةٌ، وَالزِّيَادَةُ مِنْ مِثْلِهِ مَقْبُولَةٌ، وَهَذَا الْحَدِيثُ مِمَّا اخْتَلَفَ الْبُخَارِيُّ وَمُسْلِمٌ فِي إِخْرَاجِهِ فِي الصَّحِيحِ فَأَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ وَتَرَكَهُ الْبُخَارِيُّ فَقَدْ رَوَى حَدِيثَ النَّهْيِ عَنْ بَيْعِ الثَّمَرَةِ حَتَّى يَبْدُوَ صَلَاحُهَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ الْأَنْصَارِيُّ، وَمُوسَى بْنُ عُقْبَةَ، وَمَالِكُ بْنُ أَنَسٍ، وَعُبَيْدُ اللهِ بْنُ عُمَرَ، وَالضَّحَّاكُ بْنُ عُثْمَانَ وَغَيْرُهُمْ عَنْ نَافِعٍ، لَمْ يَذْكُرْ وَاحِدٌ مِنْهُمْ فِيهِ النَّهْيَ عَنْ بَيْعِ السُّنْبُلِ حَتَّى يَبْيَضَّ غَيْرُ أَيُّوبَ، وَرَوَاهُ سَالِمُ بْنُ عَبْدِ اللهِ، وَعَبْدُ اللهِ بْنُ دِينَارٍ، وَغَيْرُهُمَا، عَنِ ابْنِ عُمَرَ لَمْ يَذْكُرْ وَاحِدٌ مِنْهُمْ فِيهِ مَا ذَكَرَ أَيُّوبُ، وَرَوَاهُ جَابِرُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْأَنْصَارِيُّ، وَزَيْدُ بْنُ ثَابِتٍ، وَعَبْدُ اللهِ بْنُ عَبَّاسٍ، وَأَبُو هُرَيْرَةَ وَغَيْرُهُمْ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمْ يَذْكُرْ وَاحِدٌ مِنْهُمْ فِيهِ مَا ذَكَرَ أَيُّوبُ إِلَّا مَا:.
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ”کھجور کے پکنے سے پہلے اس کی بیع سے منع فرمایا ہے اور گندم کی بالیوں کی بیع سے (منع فرمایا ہے) جب تک کہ وہ سفید نہ ہو جائیں اور وہ آفات سے محفوظ ہو جائیں۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے خریدنے اور فروخت کرنے والے کو منع فرمایا ہے۔
(ب) امام مسلم رحمہ اللہ نے یہ حدیث بیان کی ہے کہ پھلوں کو پکنے سے پہلے فروخت کرنا ممنوع ہے، اور امام بخاری رحمہ اللہ نے اسے بیان نہیں کیا۔ اس حدیث میں بالیوں کا ذکر نافع کے شاگردوں میں سے صرف ایوب سختیانی نے نافع سے کیا ہے، اور ایوب ثقہ اور حجت ہیں، ان جیسے راوی کا اضافہ مقبول ہے۔
(ج) ایوب کے علاوہ کسی نے بھی نافع سے یہ بیان نہیں کیا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بالیوں کے سفید ہونے تک انہیں فروخت کرنے سے منع فرمایا ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب البيوع/حدیث: 10612]
(ب) امام مسلم رحمہ اللہ نے یہ حدیث بیان کی ہے کہ پھلوں کو پکنے سے پہلے فروخت کرنا ممنوع ہے، اور امام بخاری رحمہ اللہ نے اسے بیان نہیں کیا۔ اس حدیث میں بالیوں کا ذکر نافع کے شاگردوں میں سے صرف ایوب سختیانی نے نافع سے کیا ہے، اور ایوب ثقہ اور حجت ہیں، ان جیسے راوی کا اضافہ مقبول ہے۔
(ج) ایوب کے علاوہ کسی نے بھی نافع سے یہ بیان نہیں کیا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بالیوں کے سفید ہونے تک انہیں فروخت کرنے سے منع فرمایا ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب البيوع/حدیث: 10612]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ مسلم 1535»
الحكم على الحديث: صحيح