السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
2250. -- باب: من قال: لا توضع الجائحة
-- باب: اس شخص کا قول جس نے کہا: ”جائحہ (آسمانی آفت سے ہونے والے نقصان) کی معافی نہیں دی جائے گی“۔
حدیث نمبر: Q10623
رُوِيَ ذَلِكَ عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ وَقَالَ الشَّافِعِيُّ: وَرُوِيَ عَنْ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ أَنَّهُ بَاعَ حَائِطًا لَهُ فَأَصَابَتْ مُشْتَرِيَهُ جَائِحَةٌ فَأَخَذَ الثَّمَنَ مِنْهُ، وَلَا أَدْرِي أَثَبَتَ أَمْ لَا؟.
یہ بات عمرو بن دینار رحمہ اللہ سے مروی ہے۔
اور امام شافعی رحمہ اللہ نے فرمایا: ”اور سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ انہوں نے اپنا ایک باغ فروخت کیا، پھر اس کے خریدار کو (پھلوں پر) کوئی آفت پہنچ گئی تو انہوں نے اس سے قیمت لے لی، اور میں نہیں جانتا کہ یہ (روایت) ثابت ہے یا نہیں؟“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب البيوع/حدیث: Q10623]
اور امام شافعی رحمہ اللہ نے فرمایا: ”اور سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ انہوں نے اپنا ایک باغ فروخت کیا، پھر اس کے خریدار کو (پھلوں پر) کوئی آفت پہنچ گئی تو انہوں نے اس سے قیمت لے لی، اور میں نہیں جانتا کہ یہ (روایت) ثابت ہے یا نہیں؟“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب البيوع/حدیث: Q10623]
حدیث نمبر: 10623
أَخْبَرَنَا أَبُو أَحْمَدَ عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْحَسَنِ الْمِهْرَجَانِيُّ الْعَدْلُ، أنا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ الْمُزَكِّي، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْعَبْدِيُّ، ثنا ابْنُ بُكَيْرٍ، ثنا مَالِكٌ، عَنْ حُمَيْدٍ الطَّوِيلِ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنْ بَيْعِ الثِّمَارِ حَتَّى تُزْهَى، فَقِيلَ: يَا رَسُولَ اللهِ وَمَا تُزْهَى؟ قَالَ:" حِينَ تَحْمَرُّ" وَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَرَأَيْتَ إِذَا مَنَعَ اللهُ الثَّمَرَةَ، فَبِمَ يَأْخُذُ أَحَدُكُمْ مَالَ أَخِيهِ؟" أَخْرَجَاهُ فِي الصَّحِيحِ كَمَا مَضَى ذِكْرُهُ..
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پھلوں کو پکنے سے پہلے فروخت کرنے سے منع فرمایا، کہا گیا: اس کا پکنا کیا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب وہ سرخ ہو جائیں۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تمہارا کیا خیال ہے جب اللہ پھل روک لے، پھر تم اپنے بھائی کا مال کیوں مباح خیال کرتے ہو۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب البيوع/حدیث: 10623]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ معني قريبا»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 10624
أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ، أنا الرَّبِيعُ، أنا الشَّافِعِيُّ، أنا مَالِكٌ فَذَكَرَهُ بِمِثْلِهِ. قَالَ الشَّافِعِيُّ خِلَالَ كَلَامِهِ فِي مَسْأَلَةِ الْجَائِحَةِ: لَوْ كَانَ مَالِكُ الثَّمَرَةِ لَا يَمْلِكُ ثَمَنَ مَا اجْتِيحَ مِنْ ثَمَرَتِهِ مَا كَانَ لِمَنْعِهِ أَنْ يَبِيعَهَا مَعْنَى إِذَا كَانَ يَحِلُّ بَيْعُهَا طَلْعًا، أَوْ بَلَحًا يُلْقَطُ وَيُقْطَعُ إِلَّا أَنَّهُ أَمَرَ بِبَيْعِهَا فِي الْحِينِ الَّذِي الْأَغْلَبُ فِيهَا أَنْ تَنْجُوَ مِنَ الْعَاهَةِ، وَلَوْ لَمْ يَلْزَمْهُ ثَمَنُ مَا أَصَابَتْهُ الْجَائِحَةُ مَا ضَرَّ ذَلِكَ الْبَائِعَ وَالْمُشْتَرِيَ، قَالَ: وَإِنْ ثَبَتَ الْحَدِيثُ فِي وَضَعِ الْجَائِحَةِ لَمْ يَكُنْ فِي هَذَا حُجَّةٌ، وَأَمْضَى الْحَدِيثَ عَلَى وَجْهِهِ.
امام شافعی رحمہ اللہ آفت (جائحہ) کے مسئلے پر گفتگو کے دوران فرماتے ہیں کہ اگر پھل کا مالک اپنے پھل کے آفت زدہ حصے کی قیمت کا مالک نہ ہوتا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اسے (پکنے سے پہلے) فروخت کرنے سے منع کرنے کا کوئی مطلب نہ ہوتا، جبکہ اسے گابھے کی حالت میں یا کچی کھجور کی صورت میں، جو چن لی جائے اور کاٹ لی جائے، فروخت کرنا جائز ہے، لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے اس وقت فروخت کرنے کا حکم دیا جب غالب گمان یہ ہو کہ وہ آفات سے بچ جائے گا۔ اگر آفت زدہ حصے کی قیمت خریدار پر لازم نہ ہوتی تو اس (پہلے کی بیع) سے فروخت کرنے والے اور خریدار کو کوئی نقصان نہ ہوتا۔ فرمایا: اگر آفت کی وجہ سے قیمت کم کرنے کی حدیث ثابت ہو جائے تو اس میں کوئی دلیل نہ ہوگی، اور اس حدیث کو اس کے ظاہر پر جاری رکھا جائے گا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب البيوع/حدیث: 10624]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ انظر قبله»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 10625
أَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ الْمُزَكِّي، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ الْأَصَمُّ، أنا الرَّبِيعُ، أنا الشَّافِعِيُّ، أنا مَالِكٌ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو أَحْمَدَ الْمِهْرَجَانِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ الْمُزَكِّي، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ثنا ابْنُ بُكَيْرٍ، ثنا مَالِكٌ، عَنْ أَبِي الرِّجَالِ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أُمِّهِ، عَمْرَةَ بِنْتِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ أَنَّهُ سَمِعَهَا تَقُولُ: ابْتَاعَ رَجُلٌ ثَمَرَ حَائِطٍ فِي زَمَانِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَعَالَجَهُ وَقَامَ فِيهِ حَتَّى تَبَيَّنَ لَهُ النُّقْصَانُ، فَسَأَلَ رَبَّ الْحَائِطِ أَنْ يَضَعَ عَنْهُ أَوْ أَنْ يُقِيلَهُ فَحَلَفَ أَنْ لَا يَفْعَلَ، فَذَهَبَتْ أُمُّ الْمُشْتَرِي إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَذَكَرَتْ ذَلِكَ لَهُ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" تَأَلَّى أَنْ لَا يَفْعَلَ خَيْرًا" فَسَمِعَ بِذَلِكَ رَبُّ الْحَائِطِ فَأَتَى إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: هُوَ لَهُ لَفْظُ حَدِيثِ ابْنِ بُكَيْرٍ، وَلَيْسَ فِي رِوَايَةِ الشَّافِعِيِّ: أَوْ أَنْ يُقِيلَهُ، وَقَالَ: فَعَالَجَهُ وَأَقَامَ عَلَيْهِ، زَادَنِي أَبُو سَعِيدٍ، عَنْ أَبِي الْعَبَّاسِ، عَنِ الرَّبِيعِ، عَنِ الشَّافِعِيِّ، قَالَ: حَدِيثُ عَمْرَةَ مُرْسَلٌ، وَأَهْلُ الْحَدِيثِ وَنَحْنُ لَا نُثْبِتُ الْمُرْسَلَ فَلَوْ ثَبَتَ حَدِيثُ عَمْرَةَ كَانَتْ فِيهِ وَاللهُ أَعْلَمُ دَلَالَةٌ عَلَى أَنْ لَا تُوضَعَ الْجَائِحَةُ لِقَوْلِهَا، قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" تَأَلَّى أَنْ لَا يَفْعَلَ خَيْرًا" وَلَوْ كَانَ الْحُكْمُ عَلَيْهِ أَنْ يَضَعَ الْجَائِحَةَ لَكَانَ أَشْبَهُ أَنْ يَقُولَ: ذَلِكَ لَازِمٌ لَهُ حَلَفَ أَوْ لَمْ يَحْلِفْ، ⦗٤٩٨⦘ قَالَ الشَّيْخُ: قَدْ أَسْنَدَهُ حَارِثَةُ بْنُ أَبِي الرِّجَالِ فَرَوَاهُ عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَمْرَةَ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا إِلَّا أَنَّ حَارِثَةَ ضَعِيفٌ لَا يُحْتَجُّ بِهِ، وَأَسْنَدَهُ يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ أَبِي الرِّجَالِ إِلَّا أَنَّهُ مُخْتَصَرٌ لَيْسَ فِيهِ ذِكْرُ الثَّمَرِ.
عمرہ بنت عبدالرحمن رحمہا اللہ فرماتی ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے دور میں ایک آدمی نے باغ کا پھل خریدا۔ اس نے اس میں کام کیا، لیکن پھر بھی نقصان ہو گیا، اس نے باغ کے مالک سے کہا کہ وہ قیمت کم کرے یا سودا فسخ کر دے۔ اس نے قسم اٹھائی کہ وہ ایسا نہ کرے گا تو خریدار کی والدہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس گئیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے جا کر تذکرہ کیا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس نے بھلائی نہ کرنے کی قسم کھائی ہے۔“ یہ بات باغ کے مالک نے سن لی، وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور اس نے کہا: ”یہ اس کے لیے ہے۔“
(ب) امام شافعی رحمہ اللہ کی روایت میں ”یا سودا فسخ کر دے“ کے الفاظ نہیں ہیں، اور فرمایا: ”اس پر وہ ہمیشہ کام کاج کرتا رہا۔“
(ج) امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ عمرہ بنت عبدالرحمن رحمہا اللہ کی حدیث مرسل ہے، محدثین اور ہم مرسل حدیث کو ثابت نہیں مانتے۔ اگر عمرہ کی حدیث ثابت ہو تو گویا کہ قیمت کو کم نہ کیا جائے گا۔ اگر یہ بات اس پر ثابت ہو کہ وہ قیمت کو کم کرے تو یہ اس کے مشابہ ہے کہ قسم اٹھائے نہ اٹھائے قیمت کم کرنا لازم ہے۔
اسے حارثہ بن ابی الرجال نے اپنے والد سے، انہوں نے عمرہ سے اور انہوں نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مسند بیان کیا ہے، لیکن حارثہ ضعیف ہیں، ان سے حجت نہیں لی جاتی۔ اور یحییٰ بن سعید نے بھی اسے ابوالرجال سے مسند بیان کیا ہے، لیکن وہ مختصر ہے، اس میں پھل کا ذکر نہیں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب البيوع/حدیث: 10625]
(ب) امام شافعی رحمہ اللہ کی روایت میں ”یا سودا فسخ کر دے“ کے الفاظ نہیں ہیں، اور فرمایا: ”اس پر وہ ہمیشہ کام کاج کرتا رہا۔“
(ج) امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ عمرہ بنت عبدالرحمن رحمہا اللہ کی حدیث مرسل ہے، محدثین اور ہم مرسل حدیث کو ثابت نہیں مانتے۔ اگر عمرہ کی حدیث ثابت ہو تو گویا کہ قیمت کو کم نہ کیا جائے گا۔ اگر یہ بات اس پر ثابت ہو کہ وہ قیمت کو کم کرے تو یہ اس کے مشابہ ہے کہ قسم اٹھائے نہ اٹھائے قیمت کم کرنا لازم ہے۔
اسے حارثہ بن ابی الرجال نے اپنے والد سے، انہوں نے عمرہ سے اور انہوں نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مسند بیان کیا ہے، لیکن حارثہ ضعیف ہیں، ان سے حجت نہیں لی جاتی۔ اور یحییٰ بن سعید نے بھی اسے ابوالرجال سے مسند بیان کیا ہے، لیکن وہ مختصر ہے، اس میں پھل کا ذکر نہیں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب البيوع/حدیث: 10625]
تخریج الحدیث: «ضعيف۔ اخرجه مالك 1286»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 10626
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ إِمْلَاءً، ثنا الْعَبَّاسُ بْنُ الْفَضْلِ الْأَسْفَاطِيُّ، وَالْحَسَنُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ زِيَادٍ، قَالَا: ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبِي أُوَيْسٍ، ثنا أَخِي، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ بِلَالٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ أَبِي الرِّجَالِ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أُمِّهِ عَمْرَةَ بِنْتِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، قَالَتْ: سَمِعْتُ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا تَقُولُ: سَمِعَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَوْتَ خُصُومٍ بِالْبَابِ عَالِيَةٍ أَصْوَاتُهُمْ، وَإِذَا أَحَدُهُمْ يَسْتَوْضِعُ الْآخَرَ وَيَسْتَرْفِقُهُ فِي شَيْءٍ، وَهُوَ يَقُولُ: وَاللهِ لَا أَفْعَلُ، فَخَرَجَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَيْهِمَا، فَقَالَ:" أَيْنَ الْمُتَأَلِّي عَلَى اللهِ لَا يَفْعَلُ الْمَعْرُوفَ؟" فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ أَنَا فَلَهُ أِيُّ ذَلِكَ أَحَبَّ، رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي أُوَيْسٍ، وَرَوَاهُ مُسْلِمٌ عَنْ بَعْضِ أَصْحَابِهِ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ.
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے دروازے پر جھگڑنے والوں کی بلند آوازیں سنیں، جب دوسرا قیمت کم کرنے اور نرمی کا مطالبہ کرتا تو وہ کہہ دیتا: اللہ کی قسم! میں ایسا نہ کروں گا۔
نبی صلی اللہ علیہ وسلم ان کے پاس گئے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”وہ قسم اٹھانے والا کدھر ہے، جو کہتا ہے کہ وہ اچھا کام نہ کرے گا؟“ اس نے کہا: اے اللہ کے رسول! میں ہوں۔ اس نے کہا: جو یہ پسند کرے اس کے لیے ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب البيوع/حدیث: 10626]
نبی صلی اللہ علیہ وسلم ان کے پاس گئے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”وہ قسم اٹھانے والا کدھر ہے، جو کہتا ہے کہ وہ اچھا کام نہ کرے گا؟“ اس نے کہا: اے اللہ کے رسول! میں ہوں۔ اس نے کہا: جو یہ پسند کرے اس کے لیے ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب البيوع/حدیث: 10626]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ بخاري 2558»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 10627
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا بَحْرُ بْنُ نَصْرٍ الْخَوْلَانِيُّ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ، عَنْ بُكَيْرِ بْنِ الْأَشَجِّ، عَنْ عِيَاضِ بْنِ عَبْدِ اللهِ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، قَالَ: أُصِيبَ رَجُلٌ فِي عَهْدِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي ثِمَارٍ ابْتَاعَهَا فَكَثُرَ دَيْنُهُ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" تَصَدَّقُوا عَلَيْهِ" فَتَصَدَّقُوا عَلَيْهِ فَلَمْ يَبْلُغْ ذَلِكَ وَفَاءَ دِينِهِ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" خُذُوا مَا وَجَدْتُمْ، وَلَيْسَ لَكُمْ إِلَّا ذَلِكَ"، رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ يُونُسَ بْنِ عَبْدِ الْأَعْلَى، عَنِ ابْنِ وَهْبٍ.
سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے دور میں ایک آدمی کو نقصان ہو گیا جو اس نے پھل خریدے تھے، اس کا قرض زیادہ ہو گیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم اس پر صدقہ کرو۔“ انہوں نے صدقہ کیا لیکن قرض پورا نہ ہوا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پکڑو جو تم پاؤ، تمہارے لیے صرف یہی ہے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب البيوع/حدیث: 10627]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ مسلم 1556»
الحكم على الحديث: صحيح
2251. -- باب: ما جاء في وضع الجائحة
-- باب: جائحہ (آسمانی آفت سے ہونے والے نقصان) کی معافی (نقصان وضع کرنے) کے متعلق جو وارد ہوا ہے۔
حدیث نمبر: 10628
أَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا يَحْيَى بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنا الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، أنا الشَّافِعِيُّ، أنا سُفْيَانُ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ قَيْسٍ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ عَتِيقٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ" أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنْ بَيْعِ السِّنِينَ، وَأَمَرَ بِوَضْعِ الْجَوَائِحَ" ⦗٤٩٩⦘ أَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ مُقَطَّعًا فَرَوَى حَدِيثَ النَّهْيِ عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ أَبِي شَيْبَةَ وَغَيْرِهِ، عَنْ سُفْيَانَ، وَرَوَى حَدِيثَ الْجَوَائِحِ عَنْ بِشْرِ بْنِ الْحَكَمِ وَغَيْرِهِ، عَنْ سُفْيَانَ وَلَمْ يُخَرِّجْهُ الْبُخَارِيُّ.
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ”کئی سالوں کی بیع کرنے سے منع کیا اور آفت کی وجہ سے قیمت کم کرنے کا حکم دیا۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب البيوع/حدیث: 10628]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ مسلم 1554»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 10629
أَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ، أنا الرَّبِيعُ، قَالَ: قَالَ الشَّافِعِيُّ: سَمِعْتُ سُفْيَانَ يُحَدِّثُ هَذَا الْحَدِيثَ كَثِيرًا فِي طُولِ مُجَالَسَتِي لَهُ مَا لَا أُحْصِي مَا سَمِعْتُهُ يُحَدِّثُ مِنْ كَثْرَتِهِ لَا يَذْكُرُ فِيهِ:" أَمَرَ بِوَضْعِ الْجَوَائِحِ" لَا يَزِيدُ عَلَى" أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنْ بَيْعِ السِّنِينَ"، ثُمَّ زَادَ بَعْدَ ذَلِكَ:" وَأَمَرَ بِوَضْعِ الْجَوَائِحِ" قَالَ سُفْيَانُ: وَكَانَ حُمَيْدٌ يَذْكُرُ بَعْدَ بَيْعِ السِّنِينَ كَلَامًا قَبْلَ وَضْعِ الْجَوَائِحِ لَا أَحْفَظُهُ، فَكُنْتُ أَكُفُّ عَنْ ذِكْرِ وَضْعِ الْجَوَائِحِ؛ لِأَنِّي لَا أَدْرِي كَيْفَ كَانَ الْكَلَامُ وَفِي الْحَدِيثِ: أَمَرَ بِوَضْعِ الْجَوَائِحِ، زَادَنِي أَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، عَنْ أَبِي الْعَبَّاسِ، عَنِ الرَّبِيعِ، عَنِ الشَّافِعِيِّ، قَالَ: فَقَدْ يَجُوزُ أَنْ يَكُونَ الْكَلَامُ الَّذِي لَمْ يَحْفَظْهُ سُفْيَانُ مِنْ حَدِيثِ حُمَيْدٍ، عَنْ حُمَيْدٍ يَدُلُّ عَلَى أَنَّ أَمْرَهُ بِوَضْعِهَا عَلَى مِثْلِ أَمْرِهِ بِالصُّلْحِ عَلَى النِّصْفِ، وَعَلَى مِثْلِ أَمْرِهِ بِالصَّدَقَةِ تَطَوُّعًا حَضًّا عَلَى الْخَيْرِ لَا حَتْمًا، وَمَا أَشْبَهَ ذَلِكَ، وَيَجُوزُ غَيْرُهُ فَلَمَّا احْتَمَلَ الْحَدِيثُ الْمَعْنَيَيْنِ مَعًا، وَلَمْ تَكُنْ فِيهِ دَلَالَةٌ عَلَى أَيِّهِمَا أَوْلَى بِهِ لَمْ يَجُزْ عِنْدَنَا، وَاللهُ أَعْلَمُ أَنْ يُحْكَمَ عَلَى النَّاسِ فِي أَمْوَالِهِمْ بِوَضْعِ مَا وَجَبَ لَهُمْ بِلَا خَبَرٍ ثَبَتَ بِوَضْعِهِ، قَالَ الشَّيْخُ: وَقَدْ رُوِيَ ذَلِكَ عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ.
امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت سفیان رحمہ اللہ سے بہت زیادہ مرتبہ یہ حدیث سنی، میں اس کو شمار نہیں کرسکتا۔ وہ اس میں قیمت کی کمی کا ذکر نہیں کرتے تھے اور اس سے زیادہ کچھ بیان نہ کرتے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ”پھلوں کی کئی سالوں کی بیع سے منع فرمایا ہے“، پھر اس کے بعد زائد کیا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ”خشک سالی کی وجہ سے قیمت کم کرنے کا حکم دیا“۔
(ب) سفیان رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ حمید رحمہ اللہ پھلوں کی کئی سالوں کی بیع کے بعد اور آفت کی وجہ سے قیمت کم کرنے سے پہلے کچھ کلام ذکر کرتے تھے جو مجھے یاد نہیں، اس لیے میں قیمت کی کمی کے الفاظ ذکر کرنے سے رک جاتا تھا، کیونکہ مجھے علم نہ تھا کہ وہ کلام کیسا تھا، حالانکہ حدیث میں آفات کی وجہ سے قیمت کم کرنے کا حکم موجود ہے۔ امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ہو سکتا ہے حمید رحمہ اللہ کی حدیث کا جو کلام سفیان رحمہ اللہ کو یاد نہیں رہا وہ اس بات پر دلالت کرتا ہو کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا قیمت کم کرنے کا حکم ایسا ہی ہے جیسے نصف پر صلح کرنے کا حکم یا نفلی صدقہ کا حکم، جو بھلائی کی ترغیب کے لیے ہے، لازمی نہیں، یا اس جیسی کوئی اور بات، اور اس کے علاوہ بھی ممکن ہے۔
جب حدیث میں دونوں معنوں کا احتمال موجود ہے اور اس میں کوئی دلالت نہیں کہ ان دونوں میں سے کون سا معنی زیادہ لائق ہے، تو ہمارے نزدیک (واللہ اعلم) یہ جائز نہیں کہ لوگوں کے مالوں میں ان کے خلاف یہ فیصلہ کیا جائے کہ وہ اپنا واجب حق چھوڑ دیں، جب تک اسے چھوڑنے کے بارے میں کوئی ثابت حدیث نہ ہو۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب البيوع/حدیث: 10629]
(ب) سفیان رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ حمید رحمہ اللہ پھلوں کی کئی سالوں کی بیع کے بعد اور آفت کی وجہ سے قیمت کم کرنے سے پہلے کچھ کلام ذکر کرتے تھے جو مجھے یاد نہیں، اس لیے میں قیمت کی کمی کے الفاظ ذکر کرنے سے رک جاتا تھا، کیونکہ مجھے علم نہ تھا کہ وہ کلام کیسا تھا، حالانکہ حدیث میں آفات کی وجہ سے قیمت کم کرنے کا حکم موجود ہے۔ امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ہو سکتا ہے حمید رحمہ اللہ کی حدیث کا جو کلام سفیان رحمہ اللہ کو یاد نہیں رہا وہ اس بات پر دلالت کرتا ہو کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا قیمت کم کرنے کا حکم ایسا ہی ہے جیسے نصف پر صلح کرنے کا حکم یا نفلی صدقہ کا حکم، جو بھلائی کی ترغیب کے لیے ہے، لازمی نہیں، یا اس جیسی کوئی اور بات، اور اس کے علاوہ بھی ممکن ہے۔
جب حدیث میں دونوں معنوں کا احتمال موجود ہے اور اس میں کوئی دلالت نہیں کہ ان دونوں میں سے کون سا معنی زیادہ لائق ہے، تو ہمارے نزدیک (واللہ اعلم) یہ جائز نہیں کہ لوگوں کے مالوں میں ان کے خلاف یہ فیصلہ کیا جائے کہ وہ اپنا واجب حق چھوڑ دیں، جب تک اسے چھوڑنے کے بارے میں کوئی ثابت حدیث نہ ہو۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب البيوع/حدیث: 10629]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ انظر قبله»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 10630
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنِي أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْعَنَزِيُّ، ثنا عُثْمَانُ بْنُ سَعِيدٍ الدَّارِمِيُّ، ثنا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللهِ، ثنا سُفْيَانُ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ قَيْسٍ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ عَتِيقٍ، عَنْ جَابِرٍ" أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَضَعَ الْجَوَائِحَ" قَالَ عَلِيٌّ: وَقَدْ كَانَ سُفْيَانُ، حَدَّثَنَا عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ وَضَعَ الْجَوَائِحَ كَذَا أَتَى بِهِ سُفْيَانُ، وَقَدْ رَوَاهُ ابْنُ جُرَيْجٍ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ.
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے قیمت کو کم کرنے کے بارے میں فرمایا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب البيوع/حدیث: 10630]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ انظر ما مضي»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 10631
كَمَا أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنا أَبُو أَحْمَدَ بَكْرُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ حَمْدَانَ الصَّيْرَفِيُّ بِمَرْوَ، ثنا أَبُو قِلَابَةَ الرَّقَاشِيُّ، ثنا أَبُو عَاصِمٍ، ثنا ابْنُ جُرَيْجٍ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ الْمَهْرِيُّ، وَأَحْمَدُ بْنُ سَعِيدٍ الْهَمْدَانِيُّ، قَالَا: أنا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي ابْنُ جُرَيْجٍ، ح قَالَ: وَثَنَا أَبُو دَاوُدَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ مَعْمَرٍ، ثنا أَبُو عَاصِمٍ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ الْمَعْنَى أَنَّ أَبَا الزُّبَيْرِ الْمَكِّيَّ أَخْبَرَهُ، عَنْ جَابِرِ بْنِ ⦗٥٠٠⦘ عَبْدِ اللهِ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" إِنْ بِعْتَ مِنْ أَخِيكَ ثَمَرًا فَأَصَابَتْهُ جَائِحَةٌ فَلَا يَحِلُّ لَكَ أَنْ تَأْخُذَ مِنْهُ شَيْئًا، بِمَ تَأْخُذُ مَالَ أَخِيكَ بِغَيْرِ حَقٍّ؟"، رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ أَبِي الطَّاهِرِ، عَنِ ابْنِ وَهْبٍ، وَعَنْ حَسَنٍ الْحُلْوَانِيِّ، عَنْ أَبِي عَاصِمٍ.
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر تم نے اپنے بھائی کو پھل فروخت کیا اور اس میں کوئی آفت آگئی تو تمہارے لیے جائز نہیں ہے کہ تم اس سے کچھ وصول کرو، تم اپنے بھائی سے ناحق مال کیسے لو گے؟“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب البيوع/حدیث: 10631]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ مسلم 1554»
الحكم على الحديث: صحيح