🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
السنن الكبرى للبيهقي میں نمبر سے تلاش
حدیث نمبر لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں عربی متن سے تلاش
عربی حدیث کا متن لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں اردو متن سے تلاش
اردو حدیث کا متن لکھیں:
2281. -- باب: الاستبراء في البيع
-- باب: بیع (کے ذریعے لونڈی خریدنے کی صورت) میں استبراءِ رحم (رحم کے خالی ہونے کا یقین کرنے) کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 10792
وَأَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ، أنا أَبُو عَبْدِ اللهِ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ، أنا جَعْفَرُ بْنُ عَوْنٍ، أنا زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي زَائِدَةَ، قَالَ: سُئِلَ عَامِرٌ عَنْ رَجُلٍ اشْتَرَى جَارِيَةً أَيَقَعُ عَلَيْهَا قَبْلَ أَنْ يَسْتَبْرِئَ رَحِمَهَا؟ فَقَالَ: أَصَابَ الْمُسْلِمُونَ سَبَايَا يَوْمَ أَوْطَاسٍ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَا يَمَسَّ رَجُلٌ امْرَأَةً حُبْلَى حَتَّى تَضَعَ حَمْلَهَا، وَلَا غَيْرَ ذَاتِ حَمْلٍ حَتَّى تَحِيضَ حَيْضَةً" وَهَذَا الْمُرْسَلُ شَاهِدٌ لِمَا تَقَدَّمَ وَرُوِّينَا عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ أَنَّهُ قَالَ: تُسْتَبْرَأُ الْأَمَةُ إِذَا اشْتُرِيَتْ بِحَيْضَةٍ.
زکریا بن ابی زائدہ فرماتے ہیں کہ عامر سے سوال کیا گیا کہ ایک شخص لونڈی خریدتا ہے، کیا وہ استبراءِ رحم سے پہلے اس سے مجامعت کر لے؟ کہتے ہیں کہ مسلمانوں کو اوطاس کے دن عورتیں ملیں تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کوئی حاملہ عورت کے قریب نہ جائے، اس کے وضعِ حمل تک اور غیر حاملہ کا ایک حیض تک انتظار کیا جائے۔“
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: جب لونڈی خریدی جائے تو اس کے رحم کی صفائی کا ایک حیض تک انتظار کیا جائے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب البيوع/حدیث: 10792]
تخریج الحدیث: «حسن لغيره»

الحكم على الحديث: حسن لغيره
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
2282. -- باب: المرابحة
-- باب: بیعِ مرابحہ (اصل قیمت پر نفع بتا کر بیچنے) کا بیان۔
مرابحہ سے مراد ہے کہ فروخت کنندہ کوئی چیز اس وضاحت کے ساتھ بیچے کہ اس پر میری یہ لاگت آئی ہے اور اب میں اتنے منافع کے ساتھ فلاں قیمت پر بیچتا ہوں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب البيوع/حدیث: Q10793]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 10793
أَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرِ بْنُ قَتَادَةَ، أنا أَبُو عَمْرِو بْنُ نُجَيْدٍ، أنا أَبُو مُسْلِمٍ، ثنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ يَعْنِي ابْنَ حَمَّادٍ الشُّعَيْثِيَّ، ثنا ابْنُ عَوْنٍ، عَنْ مُحَمَّدٍ، أَنَّ عُثْمَانَ بْنَ عَفَّانَ كَانَ يَشْتَرِي الْعِيرَ فَيَقُولُ:" مَنْ يُرْبِحُنِي عَقْلَهَا؟، مَنْ يَضَعُ فِي يَدِي دِينَارًا".
محمد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ جب اونٹ کے قافلے کو خریدتے تو فرماتے: کون مجھے اس رسی پر ایک دینار منافع دے گا؟ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب البيوع/حدیث: 10793]
تخریج الحدیث: «حسن لغيره»

الحكم على الحديث: حسن لغيره
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 10794
وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ، أنا أَبُو عَمْرِو بْنُ السَّمَّاكِ، ثنا حَنْبَلُ بْنُ إِسْحَاقَ، ثنا أَبُو عَبْدِ اللهِ يَعْنِي أَحْمَدَ بْنَ حَنْبَلٍ، ثنا وَكِيعٌ، ثنا مِسْعَرٌ، عَنْ أَبِي بَحْرٍ، عَنْ شَيْخٍ لَهُمْ، قَالَ: رَأَيْتُ عَلَى عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ إِزَارًا غَلِيظًا، قَالَ:" اشْتَرَيْتُ بِخَمْسَةِ دَرَاهِمَ فَمَنْ أَرْبَحَنِي فِيهِ دِرْهَمًا بِعْتُهُ إِيَّاهُ" وَرُوِّينَا عَنْ شُرَيْحٍ، وَسَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، وَإِبْرَاهِيمَ النَّخَعِيِّ أَنَّهُمْ كَانُوا يُجِيزُونَ بَيْعَ دَهْ دُو ازْدَهْ.
ابوبحر اپنے شیخ سے نقل فرماتے ہیں کہ میں نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو دیکھا، ان پر ایک موٹی چادر تھی۔ انہوں نے کہا: میں نے پانچ درہم کی خریدی ہے، جو مجھے ایک درہم نفع دے گا میں اس کو فروخت کروں گا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب البيوع/حدیث: 10794]
تخریج الحدیث: «ضعيف۔ اخرجه احمد في فضائل الصحابة 885»

الحكم على الحديث: ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 10795
أَخْبَرَنَا أَبُو حَازِمٍ الْحَافِظُ، أنا أَبُو الْفَضْلِ بْنُ خُمَيْرَوَيْهِ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ نَجْدَةَ، ثنا ⦗٥٣٩⦘ سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، ثنا سُفْيَانُ، عَنْ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ أَبِي زِيَادَةَ، أَوْ يَزِيدَ، سَمِعَ ابْنَ عَبَّاسٍ يَنْهَى عَنْ بَيْعِ دَهْ يَا زِدَهْ أَوْ دَهْ دُو ازْدَهْ وَقَالَ:" إِنَّمَا هُوَ بَيْعُ الْأَعَاجِمِ" وَهَذَا يَحْتَمِلُ أَنْ يَكُونَ إِنَّمَا نَهَى عَنْهُ إِذَا قَالَ: هُوَ لَكَ بِدَهْ يَا زْدَهْ أَوْ قَالَ: بِدَهْ دُو ازْدَهْ لَمْ يُسَمِّ رَأْسَ الْمَالِ ثُمَّ سَمَّاهُ عِنْدَ النَّقْدِ، وَكَذَلِكَ مَا رُوِيَ عَنِ ابْنِ عُمَرَ فِي ذَلِكَ وَاللهُ أَعْلَمُ.
عبیداللہ بن ابی زیاد یا یزید نے سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے سنا کہ وہ دس کی چیز گیارہ کے بدلے یا دس کی چیز بارہ کے بدلے (بیچنے) سے منع فرما رہے تھے اور فرمایا: یہ تو عجمیوں کی بیع ہے۔ یہ احتمال ہے کہ اس سے منع کیا گیا ہے، جب کہا جائے کہ آپ کے لیے دس کی چیز بارہ کے بدلے لیکن اصل مال کا نام نہیں لیتا، پھر نقدی کے موقع پر نام لیتا ہے، اسی طرح سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب البيوع/حدیث: 10795]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ اخرجه عبدالرزاق 15011»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
2283. -- باب: التشديد على من كذب في ثمن ما يبيع أو فيما طلب منه به
-- باب: جو شخص اپنی فروخت کی جانے والی چیز کی قیمت میں یا جو قیمت اس سے طلب کی گئی اس میں جھوٹ بولے، اس پر سختی کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 10796
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ، ثنا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" ثَلَاثَةٌ لَا يُكَلِّمُهُمُ اللهُ وَلَا يُزَكِّيهِمْ وَلَهُمْ عَذَابٌ أَلِيمٌ: رَجُلٌ بَايَعَ رَجُلًا سِلْعَةً بَعْدَ الْعَصْرِ فَحَلَفَ لَهُ بِاللهِ لَأَخَذَهَا بِكَذَا وَكَذَا فَصَدَّقَهُ، فَأَخَذَهَا وَهُوَ عَلَى غَيْرِ ذَلِكَ، وَرَجُلٌ بَايَعَ إِمَامًا لَا يُبَايِعُهُ إِلَّا لِلدُّنْيَا فَإِنْ أَعْطَاهُ مِنْهَا وَفَّى، وَإِنْ لَمْ يُعْطِهِ مِنْهَا لَمْ يَفِ لَهُ، وَرَجُلٌ عَلَى فَضْلِ مَاءٍ بِالْفَلَاةِ فَيَمْنَعُهُ مِنَ ابْنِ السَّبِيلِ"، رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنِ ابْنِ أَبِي شَيْبَةَ، عَنْ أَبِي مُعَاوِيَةَ.
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تین شخص ایسے ہیں جن سے اللہ کلام نہ فرمائے گا، نہ ان کو پاک کرے گا اور ان کے لیے دردناک عذاب ہے: 1 جو شخص عصر کے بعد اپنا سامان قسم اٹھا کر فروخت کرتا ہے کہ اس نے اتنے کا لیا ہے، خریدنے والا اس کی تصدیق کرتے ہوئے اس سے سامان لے لیتا ہے حالانکہ بات اس طرح نہ تھی، 2 جو شخص امام سے صرف دنیا کے لیے بیعت کرتا ہے، اگر مل جائے تو پوری کرتا ہے یعنی وفا کرتا ہے، اگر دنیا نہ ملے تو وفا نہیں کرتا، 3 جو بندہ زائد پانی جنگل میں مسافروں سے روک لیتا ہے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب البيوع/حدیث: 10796]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ مسلم 108»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 10797
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا الْعَبَّاسُ الدُّورِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ، ثنا الْعَوَّامُّ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ السَّكْسَكِيِّ، عَنِ ابْنِ أَبِي أَوْفَى أَنَّ رَجُلًا أَقَامَ سِلْعَةً لَهُ فَحَلَفَ بِاللهِ لَقَدْ أَعْطَى بِهَا مَا لَمْ يُعْطِ بِهَا فَنَزَلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ {إِنَّ الَّذِينَ يَشْتَرُونَ بِعَهْدِ اللهِ وَأَيْمَانِهِمْ ثَمَنًا قَلِيلًا} [آل عمران: ٧٧] الْآيَةَ، قَالَ: وَقَالَ ابْنُ أَبِي أَوْفَى: النَّاجِشُ آكِلُ رِبًا خَائِنٌ، أَخْرَجَهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ مِنْ وَجْهَيْنِ آخَرَيْنِ عَنِ الْعَوَّامِّ بْنِ حَوْشَبٍ.
ابن ابی اوفی رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ ایک آدمی کا سامان پڑا تھا، اس نے اللہ کی قسم اٹھائی کہ اس نے اس کے اتنے پیسے دیے ہیں، اتنے کا لیا ہے، حالانکہ اس کی اتنی رقم نہ دی گئی تھی، تب یہ آیت نازل ہوئی: ﴿إِنَّ الَّذِينَ يَشْتَرُونَ بِعَهْدِ اللَّهِ وَأَيْمَانِهِمْ ثَمَنًا قَلِيلًا﴾ [سورة آل عمران: 77] ”وہ لوگ جو اللہ کے عہد اور اپنی قسموں کے عوض تھوڑی قیمت وصول کرتے ہیں۔“ ابن ابی اوفی رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ بھاؤ بڑھانے والا سود کھانے والا خائن ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب البيوع/حدیث: 10797]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ بخاري 1982»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
2284. -- باب:: الرجل يبيع الشيء إلى أجل ثم يشتريه بأقل
-- باب: ”کوئی شخص کسی چیز کو ایک مقررہ مدت تک ادھار بیچے، پھر اسے کم قیمت پر خرید لے“۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 10798
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنا خَلَفُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْكَرَابِيسِيُّ، ثنا صَالِحُ بْنُ مُحَمَّدٍ، ثنا عَلِيُّ بْنُ الْجَعْدِ، ح وَأَخْبَرَنَا الشَّرِيفُ أَبُو الْفَتْحِ الْعُمَرِيُّ الْإِمَامُ، أنا أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي شُرَيْحٍ الْأَنْصَارِيُّ، أنا أَبُو الْقَاسِمِ عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا عَلِيُّ بْنُ الْجَعْدِ، قَالَ: أنا شُعْبَةُ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، قَالَ: دَخَلَتِ امْرَأَتِي عَلَى عَائِشَةَ وَأُمِّ وَلَدٍ لِزَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ فَقَالَتْ لَهَا أُمُّ وَلَدِ زَيْدٍ: إِنِّي بِعْتُ مِنْ زَيْدٍ عَبْدًا بِثَمَانِمِائَةٍ نَسِيئَةً وَاشْتَرَيْتُهُ مِنْهُ بِسِتِّمِائَةٍ نَقْدًا فَقَالَتْ عَائِشَةُ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا:" أَبْلِغِي زَيْدًا أَنْ قَدْ أَبْطَلْتَ جِهَادَكَ مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَّا أَنْ تَتُوبَ، بِئْسَمَا شَرَيْتَ، وَبِئْسَ مَا اشْتَرَيْتَ" كَذَا جَاءَ بِهِ شُعْبَةُ، عَنْ طَرِيقِ الْإِرْسَالِ.
ابواسحاق رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میری بیوی اور زید بن ارقم رضی اللہ عنہ کی ام ولد حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس آئیں تو زید بن ارقم کی ام ولد نے کہا: میں نے زید کو ایک غلام 800 درہم میں ادھار فروخت کیا، پھر میں نے ان سے وہ 600 درہم میں نقد خرید لیا، حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: میری جانب سے حضرت زید رضی اللہ عنہ کو یہ بات بتانا کہ آپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کیا ہوا جہاد بھی باطل کر لیا۔ ہاں توبہ کرو اور برا ہے جو تو نے خریدا اور جو فروخت کیا۔
شعبہ نے اسے اسی طرح مرسل طریق سے روایت کیا ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب البيوع/حدیث: 10798]
تخریج الحدیث: «ضعيف۔ اخرجه ابن الجعد 451»

الحكم على الحديث: ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 10799
أَخْبَرَنَا أَبُو حَازِمٍ الْحَافِظُ، أنا أَبُو الْفَضْلِ بْنُ خُمَيْرَوَيْهِ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ نَجْدَةَ، ثنا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، ثنا أَبُو الْأَحْوَصِ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنِ الْعَالِيَةِ، قَالَتْ: كُنْتُ قَاعِدَةً عِنْدَ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا فَأَتَتْهَا أُمُّ مَحَبَّةٍ فَقَالَتْ لَهَا: يَا أُمَّ الْمُؤْمِنِينَ أَكُنْتِ تَعْرِفِينَ زَيْدَ بْنَ أَرْقَمَ؟ قَالَتْ: نَعَمْ، قَالَتْ: فَإِنِّي بِعْتُهُ جَارِيَةً إِلَى عَطَائِهِ بِثَمَانِمِائَةٍ نَسِيئَةً وَإِنَّهُ أَرَادَ بَيْعَهَا فَاشْتَرَيْتُهَا مِنْهُ بِسِتِّمِائَةٍ نَقْدًا، فَقَالَتْ لَهَا:" بِئْسَ مَا اشْتَرَيْتِ وَبِئْسَ مَا اشْتَرَى أَبْلِغِي زَيْدًا أَنَّهُ قَدْ أَبْطَلَ جِهَادَهُ مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنْ لَمْ يَتُبْ".
ابواسحاق عالیہ سے نقل فرماتے ہیں کہ وہ کہتی ہیں: میں سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس بیٹھی ہوئی تھی کہ ام محبہ آئی، اس نے کہا: اے ام المومنین! کیا آپ سیدنا زید بن ارقم رضی اللہ عنہ کو جانتی ہیں؟ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں: ہاں۔ (ام محبہ نے کہا:) میں نے ان کو اپنی لونڈی ان کا وظیفہ ملنے تک 800 درہم ادھار پر فروخت کی تھی، پھر انہوں نے اسے بیچنا چاہا تو میں نے ان سے وہ 600 درہم نقد میں خرید لی۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے ام محبہ سے کہا: برا ہے جو تو نے خریدا اور برا ہے جو انہوں نے خریدا۔ میری بات زید تک پہنچا دو، اگر انہوں نے توبہ نہ کی تو انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کیا ہوا اپنا جہاد بھی باطل کر لیا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب البيوع/حدیث: 10799]
تخریج الحدیث: «ضعيف۔ انظر قبله»

الحكم على الحديث: ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 10800
وَرَوَاهُ سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنِ امْرَأَتِهِ الْعَالِيَةِ أَنَّ امْرَأَةَ أَبِي السَّفَرِ بَاعَتْ جَارِيَةً لَهَا إِلَى الْعَطَاءِ مِنْ زَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ بِثَمَانِمِائَةِ دِرْهَمٍ فَذَكَرَهُ، إِلَّا أَنَّهُ قَالَ:" بِئْسَ مَا شَرَيْتِ وَبِئْسَ مَا اشْتَرَيْتِ" وَزَادَ، قَالَتْ: أَرَأَيْتِ إِنْ لَمْ آخُذْ إِلَّا رَأْسَ مَالِي، قَالَتْ:" فَمَنْ جَاءَهُ مَوْعِظَةٌ مِنْ رَبِّهِ فَانْتَهَى فَلَهُ مَا سَلَفَ" أَخْبَرَنَاهُ أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْأَرْدَسْتَانِيُّ الْحَافِظُ، أنا أَبُو نَصْرٍ الْعِرَاقِيُّ، أنا سُفْيَانُ بْنُ مُحَمَّدٍ، ثنا عَلِيُّ بْنُ الْحَسَنِ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ الْوَلِيدِ، ثنا سُفْيَانُ، فَذَكَرَهُ. كَذَا رَوَاهُ يُونُسُ بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ أُمِّهِ الْعَالِيَةِ بِنْتِ أَيْفَعَ، قَالَتْ: خَرَجْتُ أَنَا وَأُمُّ مَحَبَّةَ إِلَى مَكَّةَ فَدَخَلْنَا عَلَى عَائِشَةَ فَذَكَرَهُ..
ابواسحاق اپنی زوجہ عالیہ سے نقل فرماتے ہیں کہ ابواسفر کی بیوی نے سیدنا زید بن ارقم رضی اللہ عنہ کو ایک لونڈی 800 درہم میں فروخت کر دی۔ اس نے ذکر کیا ہے کہ آپ (سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا) نے فرمایا: ”تم نے برا فروخت کیا ہے اور برا ہی خریدا ہے۔“ اس نے زیادہ (مزید) کیا ہے کہ اس نے کہا: آپ کا کیا خیال ہے اگر میں اپنا اصل مال لوں؟ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرمانے لگیں: ﴿فَمَنْ جَاءَهُ مَوْعِظَةٌ مِّن رَّبِّهِ فَانْتَهَىٰ فَلَهُ مَا سَلَفَ﴾ [سورة البقرة: 275] ”جس کے پاس اس کے رب کی نصیحت آگئی، وہ رک گیا تو اس کے لیے وہ ہے جو گزر گیا۔“
(ب) یونس بن ابی اسحاق اپنی والدہ عالیہ بنت ایفع سے نقل فرماتے ہیں کہ انہوں نے کہا کہ میں اور ام محبہ مکہ گئیں تو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس حاضر ہوئیں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب البيوع/حدیث: 10800]
تخریج الحدیث: «ضعيف۔ انظر قبله»

الحكم على الحديث: ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں