السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
2306. -- باب: النهي عن تلقي السلع
-- باب: تجارتی سامان لے کر آنے والوں سے (منڈی پہنچنے سے پہلے) آگے بڑھ کر ملنے کی ممانعت کا بیان۔
حدیث نمبر: 10920
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنا أَبُو بَكْرِ بْنُ دَاسَةَ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا الرَّبِيعُ بْنُ نَافِعٍ أَبُو تَوْبَةَ، فَذَكَرَهُ بِمِثْلِهِ إِلَّا أَنَّهُ زَادَ" فَإِنْ تَلَقَّاهُ مُتَلَقٍّ مُشْتَرٍ فَاشْتَرَاهُ".
ابو توبہ ربیع بن نافع رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اگر کوئی شہر سے باہر جا کر سامان فروخت کرنے والے سے سامان خرید لیتا ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب البيوع/حدیث: 10920]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ انظر قبله»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 10921
أَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرٍ عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ عُمَرَ بْنِ قَتَادَةَ، أنا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ الْفَضْلِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَقِيلٍ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ هَاشِمٍ الْبَغَوِيُّ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَسْمَاءَ، حَدَّثَنِي عَمِّي، جُوَيْرِيَةُ بْنُ أَسْمَاءَ، عَنْ نَافِعٍ، أَنَّ عَبْدَ اللهِ بْنَ عُمَرَ، حَدَّثَهُ" أَنَّهُمْ كَانُوا يَتَبَايَعُونَ الطَّعَامَ فِي عَهْدِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنَ الرُّكْبَانِ فَنَهَاهُمْ أَنْ يَبِيعُوهُ فِي مَكَانِهِ الَّذِي ابْتَاعُوهُ فِيهِ حَتَّى يَنْقُلُوهُ إِلَى سُوقِ الطَّعَامِ" رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ مُوسَى بْنِ إِسْمَاعِيلَ، عَنْ جُوَيْرِيَةَ وَقَالَ فِي مَتْنِهِ:" كُنَّا نَتَلَقَّى الرُّكْبَانَ فَنَشْتَرِيَ مِنْهُمُ الطَّعَامَ فَنَهَانَا النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ نَبِيعَهُ حَتَّى نَبْلُغَ بِهِ سُوقَ الطَّعَامِ"، وَفِي هَذَا دَلَالَةٌ عَلَى صِحَّةِ الِابْتِيَاعِ مِنَ الرُّكْبَانِ وَإِنَّمَا مُنِعُوا مِنْ بَيْعِهِ بَعْدَ الْقَبْضِ حَتَّى يَنْقُلُوهُ إِلَى سُوقِ الطَّعَامِ؛ لِئَلَّا يُغْلُوا هُنَاكَ عَلَى مَنْ يُقَدِّرُ أَنَّهُ فِي ذَلِكَ الْمَوْضِعِ أَرْخَصُ، وَاللهُ أَعْلَمُ.
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دور میں تجارتی قافلوں سے سامان خریدتے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو منع فرما دیا کہ وہ اس جگہ فروخت کریں جہاں سے انہوں نے خریدا ہے، یہاں تک کہ بازار منتقل کیا جائے۔
(ب) جویریہ کی روایت میں ہے کہ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ ہم تجارتی قافلوں کو شہر سے باہر ملتے، ان سے غلہ خریدتے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بازار لے جانے سے پہلے فروخت نہ کرو۔“
نوٹ: تجارتی قافلوں سے سامان خریدنا درست ہے، صرف قبضے کی وجہ سے منع کیا گیا کہ وہ اس کو منتقل کر لیں، ممکن ہے اس جگہ سے دوسری جگہ غلہ زیادہ قیمت کا ہو۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب البيوع/حدیث: 10921]
(ب) جویریہ کی روایت میں ہے کہ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ ہم تجارتی قافلوں کو شہر سے باہر ملتے، ان سے غلہ خریدتے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بازار لے جانے سے پہلے فروخت نہ کرو۔“
نوٹ: تجارتی قافلوں سے سامان خریدنا درست ہے، صرف قبضے کی وجہ سے منع کیا گیا کہ وہ اس کو منتقل کر لیں، ممکن ہے اس جگہ سے دوسری جگہ غلہ زیادہ قیمت کا ہو۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب البيوع/حدیث: 10921]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ بخاري 2048»
الحكم على الحديث: صحيح
2307. -- باب: النهي عن بيع وسلف
-- باب: بیع (خرید و فروخت) اور سلف (قرض) کو ایک ساتھ ملانے کی ممانعت کا بیان۔
حدیث نمبر: 10922
أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ الْفَقِيهُ، وَأَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ، وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، قَالُوا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَبْدِ الْحَكَمِ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ نَافِعٍ، ثنا دَاوُدُ بْنُ قَيْسٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنْ بَيْعٍ وَسَلَفٍ وَنَهَى عَنْ بَيْعَتَيْنِ فِي بَيْعَةٍ، وَنَهَى عَنْ رِبْحِ مَا لَمْ يُضْمَنْ".
سیدنا عمرو بن شعیب اپنے والد سے اور وہ اپنے دادا (سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما) سے نقل فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ”قرض اور بیع سے منع فرمایا اور ایک بیع میں دو سودوں سے بھی منع فرمایا اور ایسے سامان کا نفع وصول کرنے سے جس کے نقصان کی ذمہ داری نہ لی گئی ہو۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب البيوع/حدیث: 10922]
تخریج الحدیث: «حسن۔ تقدم برقم 10880»
الحكم على الحديث: حسن
2308. -- باب: ما ورد في غبن المسترسل
-- باب: مسترسل (بھولے بھالے خریدار) کو دھوکہ دینے کے متعلق جو وارد ہوا ہے۔
حدیث نمبر: 10923
أَخْبَرَنَا أَبُو سَعْدٍ الْمَالِينِيُّ، أنا أَبُو أَحْمَدَ بْنُ عَدِيٍّ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ زَيْدَانَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ يَعْنِي الْمُحَارِبِيَّ، ثنا مُوسَى بْنُ عُمَيْرٍ، عَنْ مَكْحُولٍ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَنِ اسْتَرْسَلَ إِلَى مُؤْمِنٍ فَغَبَنَهُ كَانَ غَبْنُهُ ذَلِكَ رِبًا" مُوسَى بْنُ عُمَيْرٍ الْقُرَشِيُّ هَذَا تَكَلَّمُوا فِيهِ، قَالَ أَبُو سَعْدٍ الْمَالِينِيُّ، قَالَ أَبُو أَحْمَدَ بْنُ عَدِيٍّ الْحَافِظُ: مُوسَى بْنُ عُمَيْرٍ عَامَّةُ مَا يَرْوِيهِ مِمَّا لَا يُتَابِعُهُ الثِّقَاتُ عَلَيْهِ قَالَ الشَّيْخُ: وَقَدْ رُوِيَ مَعْنَاهُ عَنْ يَعِيشَ بْنِ هِشَامٍ الْقَرْقِيسِيَانِيِّ، عَنْ مَالِكٍ وَاخْتُلِفَ عَلَيْهِ فِي إِسْنَادِهِ وَهُوَ أَضْعَفُ مِنْ هَذَا.
سیدنا ابو امامہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے مومن پر بھروسہ کیا اس نے دھوکا کیا تو اس کا یہ دھوکا سود ہے۔“
موسیٰ بن عمیر قرشی پر محدثین نے کلام کیا ہے، ابن عدی فرماتے ہیں: موسیٰ بن عمیر کی اکثر روایات ایسی ہیں جن پر ثقہ راوی ان کی متابعت نہیں کرتے۔ اس کا مفہوم یعیش بن ہشام قرقیسیانی کی امام مالک سے روایت میں بھی آیا ہے، اس کی سند میں اختلاف ہے اور وہ اس سے بھی زیادہ ضعیف ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب البيوع/حدیث: 10923]
موسیٰ بن عمیر قرشی پر محدثین نے کلام کیا ہے، ابن عدی فرماتے ہیں: موسیٰ بن عمیر کی اکثر روایات ایسی ہیں جن پر ثقہ راوی ان کی متابعت نہیں کرتے۔ اس کا مفہوم یعیش بن ہشام قرقیسیانی کی امام مالک سے روایت میں بھی آیا ہے، اس کی سند میں اختلاف ہے اور وہ اس سے بھی زیادہ ضعیف ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب البيوع/حدیث: 10923]
تخریج الحدیث: «باطل۔ اخرجه ابن عدي 6716»
الحكم على الحديث: باطل
حدیث نمبر: 10924
أَخْبَرَنَاهُ أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، حَدَّثَنِي أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ النَّسَوِيِّ الْفَقِيهُ بِالدَّامَغَانِ مِنْ أَصْلِ كِتَابِهِ، ثنا الْخَلِيلُ بْنُ أَحْمَدَ النَّسَوِيُّ، أَمَلَّهُ عَلَيْنَا إِمْلَاءً، ثنا خِدَاشُ بْنُ مَخْلَدٍ، ثنا يَعِيشُ بْنُ هِشَامٍ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" غَبْنُ الْمُسْتَرْسِلُ رِبًا".
حضرت جابر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”قابل بھروسہ آدمی کا دھوکا کرنا سود ہے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب البيوع/حدیث: 10924]
تخریج الحدیث: «باطل»
الحكم على الحديث: باطل
حدیث نمبر: 10925
وَحَدَّثَنَا أَبُو الْحَسَنِ مُحَمَّدُ بْنُ ظَفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ الْعَلَوِيُّ، أنا أَبُو الْحُسَيْنِ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ إِسْحَاقَ الدَّقَّاقُ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْقُرَشِيُّ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْمَنْبِجِيُّ، ثنا يَعِيشُ بْنُ هِشَامٍ الْقَرْقِيسِيَانِيُّ، ثنا مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" غَبْنُ الْمُسْتَرْسِلِ رِبًا" وَعَنْ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" غَبْنُ الْمُسْتَرْسِلِ رِبًا".
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”قابل اعتماد آدمی کا دھوکا کرنا سود ہے۔“
(ب) حضرت علی رضی اللہ عنہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے نقل فرماتے ہیں کہ: ”قابل بھروسہ آدمی کا دھوکا کرنا سود ہے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب البيوع/حدیث: 10925]
(ب) حضرت علی رضی اللہ عنہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے نقل فرماتے ہیں کہ: ”قابل بھروسہ آدمی کا دھوکا کرنا سود ہے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب البيوع/حدیث: 10925]
تخریج الحدیث: «باطل»
الحكم على الحديث: باطل
2309. -- باب: كل قرض جر منفعة فهو ربا
-- باب: ”ہر وہ قرض جو کسی نفع کا باعث بنے وہ سود ہے“۔
حدیث نمبر: 10926
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْحَمِيدِ الْحَارِثِيُّ، ثنا أَبُو أُسَامَةَ، ثنا بُرَيْدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ أَبِي بُرْدَةَ، ثنا أَبُو بُرْدَةَ، قَالَ: قَدِمْتُ الْمَدِينَةَ فَلَقِيتُ عَبْدَ اللهِ بْنَ سَلَامٍ، فَقَالَ:" انْطَلِقْ مَعِي الْمَنْزِلَ فَأَسْقِيَكَ فِي قَدَحٍ شَرِبَ فِيهِ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَتُصَلِّي فِي مَسْجِدٍ صَلَّى فِيهِ"، فَانْطَلَقْتُ مَعَهُ فَسَقَانِي سَوِيقًا، وَأَطْعَمَنِي تَمْرًا وَصَلَّيْتُ فِي مَسْجِدِهِ، فَقَالَ لِي:" إِنَّكَ فِي أَرْضٍ الرِّبَا فِيهَا فَاشٍ وَإنَّ مِنْ أَبْوَابِ الرِّبَا أَنَّ أَحَدَكُمْ يُقْرِضُ الْقَرْضَ إِلَى أَجَلٍ فَإِذَا بَلَغَ أَتَاهُ بِهِ وَبِسَلَّةٍ فِيهَا هَدِيَّةٌ فَاتَّقِ تِلْكَ السَّلَّةَ وَمَا فِيهَا"، رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ أَبِي كُرَيْبٍ، عَنْ أَبِي أُسَامَةَ.
ابوبردہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں مدینہ میں سیدنا عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہما سے ملا، انہوں نے کہا: میرے ساتھ گھر چلو میں تجھے اس پیالے میں نوش کراؤں جس میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پیا تھا اور آپ اس جگہ نماز پڑھیں جہاں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پڑھی تھی۔ میں ان کے ساتھ چلا تو انہوں نے مجھے ستو پلایا اور کھجوریں کھلائیں۔ میں نے اس مسجد میں نماز پڑھی تو سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہما نے کہا کہ آپ سود کے علاقے میں ہیں، جہاں سود عام ہے اور سود کا دروازہ یہ ہے کہ جب کوئی قرض مقررہ مدت کے لیے دیتا ہے، جب مدت ختم ہوتی ہے تو وہ قرض واپس کرنے کے لیے آتا ہے، اس کی ٹوکری ہدیہ سے بھری ہوئی ہوتی ہے۔ تو اس ٹوکری اور سامان سے بچو۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب البيوع/حدیث: 10926]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ بخاري 6910»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 10927
وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمُقْرِئُ، أنا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، ثنا يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا حَفْصُ بْنُ عُمَرَ الْحَوْضِيُّ، ثنا شُعْبَةُ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي بُرْدَةَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: أَتَيْتُ الْمَدِينَةَ فَلَقِيتُ عَبْدَ اللهِ بْنَ سَلَامٍ، فَقَالَ لِي:" أَلَا تَجِيءُ إِلَى الْبَيْتِ حَتَّى أُطْعِمَكَ سَوِيقًا وَتَمْرًا؟" فَذَهَبْنَا فَأَطْعَمَنَا سَوِيقًا وَتَمْرًا ثُمَّ قَالَ:" إِنَّكَ بِأَرْضٍ الرِّبَا فِيهَا فَاشٍ فَإِذَا كَانَ لَكَ عَلَى رَجُلٍ دَيْنٌ فَأَهْدَى إِلَيْكَ حَبَلَةً مِنْ عَلَفٍ، أَوْ شَعِيرٍ، أَوْ حَبَلَةً مِنْ تُبْنٍ فَلَا تَقْبَلْهُ فَإِنَّ ذَلِكَ مِنَ الرِّبَا" رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ حَرْبٍ، عَنْ شُعْبَةَ. وَرُوِّينَا عَنْ زِرِّ بْنِ حُبَيْشٍ، عَنْ أُبِيِّ بْنِ كَعْبٍ قِصَّةً شَبِيهَةً بِهَذِهِ الْقِصَّةِ فِي الْقَرْضِ وَالْهَدِيَّةِ.
سعید بن ابی بردہ اپنے والد ابوبردہ رحمہ اللہ سے نقل فرماتے ہیں کہ میں مدینہ میں آکر سیدنا عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ سے ملا تو انہوں نے کہا: کیا آپ گھر نہیں آئیں گے کہ میں آپ کو ستو اور کھجور کھلاؤں؟ ہم گئے تو انہوں نے ہمیں ستو اور کھجوریں کھلائیں، پھر فرمایا: آپ ایسے علاقے میں ہیں جہاں سود عام ہے، جب کسی آدمی کے ذمہ قرض ہو اور وہ آپ کو رسی میں باندھی خشک گھاس یا جَو کا گٹھا یا بھوسہ ہدیہ میں دے تو اسے قبول نہ کرنا، کیونکہ یہ سود ہے۔
(ب) سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ نے اس کے مشابہ قصہ بیان کیا ہے جو قرض اور ہدیہ کے مشابہ ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب البيوع/حدیث: 10927]
(ب) سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ نے اس کے مشابہ قصہ بیان کیا ہے جو قرض اور ہدیہ کے مشابہ ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب البيوع/حدیث: 10927]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ بخاري 3603»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 10928
أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنا أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ، ثنا تَمْتَامٌ مُحَمَّدُ بْنُ غَالِبٍ، ثنا عَبَّادُ بْنُ مُوسَى الْأَزْرَقُ، ثنا سُفْيَانُ، عَنِ الْأَسْوَدِ بْنِ قَيْسٍ، حَدَّثَنِي كُلْثُومُ بْنُ الْأَقْمَرِ، عَنْ زِرِّ بْنِ حُبَيْشٍ، قَالَ: قُلْتُ لِأُبِيِّ بْنِ كَعْبٍ: يَا أَبَا الْمُنْذِرِ إِنِّي أُرِيدُ الْجِهَادَ فَآتِي الْعِرَاقَ فَأُقْرِضُ، قَالَ:" إِنَّكَ بِأَرْضٍ الرِّبَا فِيهَا كَثِيرٌ فَاشٍ فَإِذَا أَقْرَضْتَ رَجُلًا فَأَهْدَى إِلَيْكَ هَدِيَّةً، فَخُذْ قَرْضَكَ وَارْدُدْ إِلَيْهِ هَدِيَّتَهُ".
زر بن حبیش رحمہ اللہ فرماتے ہیں: میں نے سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ سے کہا: اے ابومنذر! میں جہاد میں جانا چاہتا ہوں، میں عراق جاتا ہوں اور قرض دیتا ہوں۔ انہوں نے کہا: آپ سودی علاقے میں ہیں، جہاں سود عام ہوتا ہے، جب آپ کسی کو قرض دیں اور وہ آپ کو ہدیہ دے تو اپنا قرض واپس لو اور ہدیہ واپس کر دو۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب البيوع/حدیث: 10928]
تخریج الحدیث: «ضعيف۔ اخرجه عبدالرزاق 14652»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 10929
وَأَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرِ بْنُ قَتَادَةَ، أنا أَبُو عَمْرِو بْنُ نُجَيْدٍ، أنا أَبُو مُسْلِمٍ، ثنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ حَمَّادٍ، ثنا ابْنُ عَوْنٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ، أَنَّ أُبِيَّ بْنَ كَعْبٍ، أَهْدَى إِلَى عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ مِنْ ثَمَرَةِ أَرْضِهِ فَرَدَّهَا، فَقَالَ أُبَيٌّ:" لِمَ رَدَدْتَ عَلَيَّ هَدِيَّتِي، وَقَدْ عَلِمْتَ أَنِّي مِنْ أَطْيَبِ أَهْلِ الْمَدِينَةِ ثَمَرَةً؟، خُذْ عَنِّي مَا تَرُدُّ عَلَيَّ هَدِيَّتِي" وَكَانَ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَسْلَفَهُ عَشَرَةَ آلَافِ دِرْهَمٍ هَذَا مُنْقَطِعٌ.
محمد بن سیرین رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو اپنی زمین کا پھل تحفہ میں دیا، انہوں نے واپس کر دیا، سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ نے کہا: آپ نے میرا ہدیہ واپس کیوں کیا؟ آپ جانتے ہیں کہ اہل مدینہ سے میرا پھل عمدہ ہوتا ہے، میرا ہدیہ قبول کریں۔ کیونکہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے ان کو دس ہزار درہم قرض دیا تھا۔
یہ سند منقطع ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب البيوع/حدیث: 10929]
یہ سند منقطع ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب البيوع/حدیث: 10929]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف