🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
السنن الكبرى للبيهقي میں نمبر سے تلاش
حدیث نمبر لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں عربی متن سے تلاش
عربی حدیث کا متن لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں اردو متن سے تلاش
اردو حدیث کا متن لکھیں:
2311. -- باب: الرجل يقضيه خيرا منه بلا شرط طيبة به نفسه
-- باب: کوئی شخص بلا شرط اپنی خوشی سے (قرض کے بدلے) اس سے بہتر چیز ادا کرے۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 10940
أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ الْفَقِيهُ، ثنا أَبُو مُحَمَّدٍ يَحْيَى بْنُ مَنْصُورٍ الْقَاضِي إِمْلَاءً، ثنا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْبُوشَنْجِيُّ مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ثنا أَبُو صَالِحٍ الْفَرَّاءُ مَحْبُوبُ بْنُ مُوسَى، أنا عَبْدُ اللهِ بْنُ الْمُبَارَكِ، عَنْ حَمْزَةَ الزَّيَّاتِ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ أَبِي ثَابِتٍ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: أَتَى رَجُلٌ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَسْأَلُهُ فَاسْتَسْلَفَ لَهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَطْرَ وَسْقٍ فَأَعْطَاهُ إِيَّاهُ، فَجَاءَ الرَّجُلُ يَتَقَاضَاهُ فَأَعْطَاهُ وَسْقًا، وَقَالَ:" نِصْفٌ لَكَ قَضَاءٌ وَنِصْفُ لَكَ نَائِلٌ مِنْ عِنْدِي".
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ایک آدمی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور سوال کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نصف وسق قرض کا مطالبہ کیا، اس نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیا، ایک آدمی نے قرض کا تقاضا کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو ایک وسق دیا اور فرمایا: ”نصف تو قرض کی ادائیگی ہے اور نصف میری جانب سے ہے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب البيوع/حدیث: 10940]
تخریج الحدیث: «ضعيف»

الحكم على الحديث: ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 10941
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَبْدِ الْحَكَمِ، أنا عَبْدُ اللهِ بْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي مُعَاوِيَةُ بْنُ صَالِحٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ هَانِئٍ، عَنِ الْعِرْبَاضِ بْنِ سَارِيَةَ السُّلَمِيِّ، قَالَ: بِعْتُ مِنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَكْرًا، فَجِئْتُ أَتَقَاضَاهُ، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ اقْضِنِي ثَمَنَ بَكْرِي، قَالَ:" نَعَمْ لَا أَقْضِيكَهَا إِلَّا بُخْتِيَّةً" ثُمَّ قَضَانِي فَأَحْسَنَ قَضَائِي، ثُمَّ جَاءَ أَعْرَابِيٌّ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ اقْضِنِي بَكْرِي فَقَضَاهُ بَعِيرًا مُسِنًّا، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ هَذَا أَفْضَلُ مِنْ بَكْرِي، فَقَالَ:" هُوَ لَكَ، إِنَّ خَيْرَ الْقَوْمِ خَيْرُهُمْ قَضَاءً".
سیدنا عرباض بن ساریہ سلمی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اونٹ فروخت کیا، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آکر قرض کا تقاضا کیا، میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! میرے اونٹ کی قیمت دیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں بختی اونٹ عطا کروں گا۔“ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے میرا قرض احسن طریقے سے ادا کیا، پھر ایک دیہاتی آیا، اس نے کہا: میرا اونٹ دو۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دو دانت والا اونٹ عطا کیا تو دیہاتی کہنے لگا: یہ میرے اونٹ سے بہتر ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بہترین لوگ وہ ہیں جو ادائیگی کے اعتبار سے اچھے ہیں۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب البيوع/حدیث: 10941]
تخریج الحدیث: «حسن۔ اخرجه الحاكم 2/ 35»

الحكم على الحديث: حسن
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 10942
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنا أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ، ثنا الْبَاغَنْدِيُّ، ثنا خَلَّادُ بْنُ يَحْيَى، وَثَابِتٌ، يَعْنِي ابْنَ مُحَمَّدٍ الزَّاهِدَ، وَعُبَيْدُ اللهِ بْنُ مُوسَى، قَالُوا: ثنا مِسْعَرُ بْنُ كِدَامٍ، عَنْ مُحَارِبِ بْنِ دِثَارٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ الْأَنْصَارِيِّ، قَالَ: دَخَلْتُ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْمَسْجِدِ ضُحًى، فَقَالَ لِي:" قُمْ فَصَلِّ" وَكَانَ لِي عَلَيْهِ دَيْنٌ فَقَضَانِي وَزَادَنِي رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ خَلَّادِ بْنِ يَحْيَى، وَثَابِتٍ الزَّاهِدِ.
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ میں چاشت کے وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے فرمایا: ”کھڑے ہو جاؤ، نماز پڑھو۔“ اور میرا قرض آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ذمہ تھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے وہ ادا بھی کیا اور زیادہ بھی دیا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب البيوع/حدیث: 10942]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ بخاري 423»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 10943
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ عَفَّانَ، ثنا ابْنُ نُمَيْرٍ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ سَالِمٍ، يَعْنِي ابْنَ أَبِي الْجَعْدِ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ، قَالَ: مَرَرْتُ عَلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَمَعِي بَعِيرٌ مُعْتَلٌّ وَأَنَا أَسُوقُهُ فِي آخِرِ الْقَوْمِ، فَقَالَ:" مَا شَأْنُ بَعِيرِكَ هَذَا؟" قَالَ: قُلْتُ: مُعْتَلٌّ أَوْ ظَالِعٌ يَا رَسُولَ اللهِ، فَأَخَذَ بِذَنَبِهِ فَضَرَبَهُ ثُمَّ قَالَ:" ارْكَبْ" فَلَقَدْ رَأَيْتُنِي فِي أَوَّلِهِ وَإِنِّي لَأَحْبِسُهُ فَلَمَّا دَنَوْنَا أَرَدْتُ أَنْ أَتَعَجَّلَ إِلَى أَهْلِي، فَقَالَ:" لَا تَأْتِ أَهْلَكَ طَرُوقًا" قَالَ: ثُمَّ قَالَ:" مَا تَزَوَّجْتَ؟" قَالَ: قُلْتُ: نَعَمْ، قَالَ:" بِكْرٌ أَمْ ثَيِّبٌ؟" قُلْتُ: ثَيِّبٌ، قَالَ:" فَهَلَّا بِكْرًا تُلَاعِبُهَا وَتُلَاعِبُكَ"، قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ إِنَّ عَبْدَ اللهِ تَرَكَ جَوَارِيَ فَكَرِهْتُ أَنْ أَضُمَّ إِلَيْهِنَّ مِثْلَهُنَّ فَأَرَدْتُ أَنْ أَتَزَوَّجَ امْرَأَةً قَدْ عَقَلَتْ، فَمَا قَالَ لِي أَسَأْتَ وَلَا أَحْسَنْتَ، ⦗٥٧٦⦘ ثُمَّ قَالَ لِي:" بِعْنِي بَعِيرَكَ هَذَا" قَالَ: قُلْتُ: هُوَ لَكَ يَا رَسُولَ اللهِ، قَالَ:" بِعْنِيهِ" قُلْتُ: هُوَ لَكَ يَا رَسُولَ اللهِ، فَلَمَّا أَكْثَرَ عَلَيَّ قُلْتُ: فَإِنَّ لِرَجُلٍ عَلَيَّ وُقِيَّةَ ذَهَبٍ فَهُوَ لَكَ بِهَا، قَالَ:" نَعَمْ، تَبْلُغُ عَلَيْهِ إِلَى أَهْلِكَ" وَأَرْسَلَ إِلَيَ بِلَالٍ، فَقَالَ:" أَعْطِهِ وُقِيَّةَ ذَهَبٍ وَزِدْهُ" فَأَعْطَانِي وُقِيَّةً وَزَادَنِي قِيرَاطًا، فَقُلْتُ: لَا يُفَارِقْنِي هَذَا الْقِيرَاطُ، شَيْءٌ زَادَنِي رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَجَعَلْتُهُ فِي كِيسٍ، فَلَمْ يَزَلْ عِنْدِي حَتَّى أَخَذَهُ أَهْلُ الشَّامِ يَوْمَ الْحَرَّةِ. أَخْرَجَاهُ فِي الصَّحِيحِ مِنْ حَدِيثِ الْأَعْمَشِ، الْبُخَارِيُّ بِالْإِشَارَةِ إِلَيْهِ، وَمُسْلِمٌ بِالرِّوَايَةِ.
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سے گزرا اور میرے پاس تھکا ہوا اونٹ بھی تھا اور لوگوں کے آخر میں چل رہا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تیرے اونٹ کی کیا حالت ہے؟“ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! یہ تھکا ہوا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی دم کو پکڑ کر مارا، پھر فرمایا: ”سوار ہو جاؤ۔“ پھر میں نے اپنے آپ کو سب سے اگلے لوگوں میں پایا اور مجھے اسے روکنا پڑتا تھا۔ جب ہم قریب ہوئے تو اپنے گھر جانے کی جلدی کی۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اپنے گھر رات کو داخل نہ ہونا،“ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”کیا تو نے شادی کی ہے؟“ میں نے کہا: ہاں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”بیوہ یا کنواری سے؟“ میں نے کہا: بیوہ سے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کنواری سے کرتے وہ تجھ سے کھیلتی، مذاق کرتی اور آپ اس سے کھیلتے۔“ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! میرے والد عبداللہ نے بچیاں چھوڑی ہیں، میں ان جیسی ان کے پاس نہیں لانا چاہتا تھا، میں نے سمجھدار عورت سے شادی کا ارادہ کیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے یہ نہ فرمایا کہ تو نے اچھا یا برا کیا ہے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مجھے اپنا اونٹ فروخت کر دو،“ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! یہ آپ کا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مجھے فروخت کر دو۔“ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! یہ آپ کا ہے، جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بار بار کہا تو میں نے کہا کہ فلاں کا ایک اوقیہ سونا میرے ذمہ ہے اس کے عوض خرید لیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس پر اپنے گھر تک چلو۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بلال رضی اللہ عنہ کو حکم دیا کہ اس کو ایک اوقیہ سونا دو اور زیادہ بھی دینا۔ سیدنا بلال رضی اللہ عنہ نے مجھے ایک اوقیہ اور ایک قیراط سونا دیا، میں نے کہا: یہ قیراط جو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے زیادہ دیا ہے مجھ سے جدا نہ ہوگا، میں نے جیب میں ڈال لیا، وہ ہمیشہ میرے پاس رہا، یہاں تک کہ وہ شامیوں نے حرہ کے دن لے لیا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب البيوع/حدیث: 10943]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ مسلم 715»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 10944
أَخْبَرَنَا أَبُو أَحْمَدَ الْمِهْرَجَانِيُّ، أنا أَبُو بَكْرِ بْنُ جَعْفَرٍ الْمُزَكِّي، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ثنا ابْنُ بُكَيْرٍ، ثنا مَالِكٌ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ قَيْسٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، أَنَّهُ قَالَ: اسْتَسْلَفَ عَبْدُ اللهِ بْنُ عُمَرَ مِنْ رَجُلٍ دَرَاهِمَ، ثُمَّ قَضَاهُ دَرَاهِمَ خَيْرًا مِنْهَا، فَقَالَ الرَّجُلُ: يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ هَذِهِ خَيْرٌ مِنْ دَرَاهِمِي الَّتِي أَسْلَفْتُكَ، فَقَالَ عَبْدُ اللهِ بْنُ عُمَرَ:" قَدْ عَلِمْتُ ذَلِكَ وَلَكِنَّ نَفْسِي بِذَلِكَ طَيِّبَةٌ".
مجاہد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے کسی سے چند درہم قرض لیا، پھر اس سے بہتر واپس کر دیا، اس آدمی نے کہا: ”اے ابوعبدالرحمن! یہ درہم میرے درہموں سے زیادہ اچھے ہیں۔“ تو حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: ”میں جانتا تھا لیکن میں نے اپنی خوشی سے ادا کیے ہیں۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب البيوع/حدیث: 10944]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ اخرجه مالك 1360»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
2312. -- باب: ما جاء في السفاتج
-- باب: سفاتج (ہنڈی یا ڈرافٹ کے ذریعے رقم بھیجنے) کے متعلق جو وارد ہوا ہے۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 10945
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ، أنا جَعْفَرُ بْنُ عَوْنٍ، ح وَأنا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ حَازِمِ بْنِ أَبِي غَرَزَةَ، ثنا جَعْفَرُ بْنُ عَوْنٍ، عَنْ أَبِي عُمَيْسٍ، عَنِ ابْنِ جُعْدُبَةَ، عَنْ عُبَيْدٍ وَهُو ابْنُ السَّبَّاقِ، عَنْ زَيْنَبَ، قَالَتْ: أَعْطَانِي رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَمْسِينَ وَسْقًا تَمْرًا بِخَيْبَرَ وَعِشْرِينَ شَعِيرًا، قَالَتْ: فَجَاءَنِي عَاصِمُ بْنُ عَدِيٍّ، فَقَالَ لِي: هَلْ لَكِ أَنْ أُوتِيَكِ مَالَكِ بِخَيْبَرَ هَا هُنَا بِالْمَدِينَةِ فَأَقْبَضَهُ مِنْكِ بِكَيْلِهِ بِخَيْبَرَ؟ فَقَالَتْ: لَا حَتَّى أَسْأَلَ عَنْ ذَلِكَ، قَالَتْ: فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لِعُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ، فَقَالَ:" لَا تَفْعَلِي فَكَيْفَ لَكِ بِالضَّمَانِ فِيمَا بَيْنَ ذَلِكَ" لَفْظُ حَدِيثِ ابْنِ أَبِي غَرَزَةَ وَفِي رِوَايَةِ ابْنِ عَبْدِ الْوَهَّابِ، قَالَتْ: فَجَاءَنِي عَاصِمُ بْنُ عَدِيٍّ فِي إِمَارَةِ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، وَرُوِّينَا عَنْ إِبْرَاهِيمَ النَّخَعِيِّ أَنَّهُ كَرِهَ ذَلِكَ، وَرُوِيَ فِي حَدِيثٍ مَرْفُوعٍ وَهُوَ ضَعِيفٌ بِمَرَّةٍ فَلَمْ أَذْكُرْهُ؛ لِضَعْفِهِ.
سیدہ زینب رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے خیبر میں 50 وسق کھجوریں عطا کیں اور 20 وسق جو دیے، عاصم بن عدی رضی اللہ عنہ میرے پاس آئے اور کہا: ”کیا میں آپ کو خیبر والے مال کے بدلے مدینہ میں خیبر کا ماپ ادا کروں؟“ میں نے کہا: ”میں سوال کر لوں“، پھر میں نے سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے تذکرہ کیا تو انہوں نے فرمایا: ”ایسا نہ کرنا، کیونکہ تم دونوں کے درمیان ضمانتی کون ہے؟“
(ب) ابن عبدالوہاب کی روایت میں ہے کہ عاصم میرے پاس سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے دورِ حکومت میں آئے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب البيوع/حدیث: 10945]
تخریج الحدیث: «ضعيف۔ اخرجه ابن ابي شيبه 21028»

الحكم على الحديث: ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 10946
وَأَخْبَرَنَا أَبُو حَازِمٍ الْحَافِظُ، أنا أَبُو الْفَضْلِ بْنُ خُمَيْرَوَيْهِ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ نَجْدَةَ، ثنا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، ثنا هُشَيْمٌ، أنا خَالِدٌ، عَنِ ابْنِ سِيرِينَ" أَنَّهُ كَانَ لَا يَرَى بِالسَّفْتَجَاتِ بَأْسًا إِذَا كَانَ عَلَى الْوَجْهِ الْمَعْرُوفِ".
ابن سیرین رحمہ اللہ چیک وغیرہ میں کوئی حرج محسوس نہ کرتے تھے جب وہ معروف طریقے سے ہو۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب البيوع/حدیث: 10946]
تخریج الحدیث: «صحيح»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 10947
قَالَ: وحَدَّثَنَا هُشَيْمٌ، أنا حَجَّاجُ بْنُ أَرْطَاةَ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ أَبِي رَبَاحٍ أَنَّ ⦗٥٧٧⦘ عَبْدَ اللهِ بْنَ الزُّبَيْرِ كَانَ يَأْخُذُ مِنْ قَوْمٍ بِمَكَّةَ دَرَاهِمَ، ثُمَّ يَكْتُبُ بِهَا إِلَى مُصْعَبِ بْنِ الزُّبَيْرِ بِالْعِرَاقِ فَيَأْخُذُونَهَا مِنْهُ، فَسُئِلَ ابْنُ عَبَّاسٍ عَنْ ذَلِكَ فَلَمْ يَرَ بِهِ بَأْسًا، فَقِيلَ لَهُ: إِنْ أَخَذُوا أَفْضَلَ مِنْ دَرَاهِمِهِمْ، قَالَ:" لَا بَأْسَ إِذَا أَخَذُوا بِوَزْنِ دَرَاهِمِهِمْ" وَرُوِيَ فِي ذَلِكَ أَيْضًا عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فَإِنْ صَحَّ ذَلِكَ عَنْهُ، وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا، فَإِنَّمَا أَرَادَ وَاللهُ أَعْلَمُ إِذَا كَانَ ذَلِكَ بِغَيْرِ شَرْطٍ، وَاللهُ أَعْلَمُ.
عطاء بن ابی رباح رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ سیدنا عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ مکہ میں لوگوں سے رقم لیتے، پھر عراق میں مصعب بن زبیر کو خط لکھ دیتے، یہ لوگ ان سے رقم وصول کر لیتے، سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے اس بارے میں سوال ہوا۔ وہ بھی کوئی حرج محسوس نہ کرتے تھے۔ ان سے کہا گیا: وہ اس سے بہتر وصول کر لیں؟ فرمایا: کوئی حرج نہیں، جب وہ اپنے درہموں کے وزن کے مطابق وصول کریں۔
(ب) یہ بات سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے بھی مروی ہے، اگر یہ ان سے اور سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے صحیح ثابت ہو تو اس سے ان کی مراد، واللہ اعلم، یہ ہے جو بغیر شرط کے ہو۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب البيوع/حدیث: 10947]
تخریج الحدیث: «ضعيف»

الحكم على الحديث: ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
2313. -- باب: قرض الحيوان غير الجواري
-- باب: لونڈیوں کے علاوہ دیگر جانوروں کو قرض پر لینے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 10948
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ، أنا مُوسَى بْنُ الْحَسَنِ بْنِ عَبَّادٍ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الْخَطَّابِ بْنِ عُمَرَ، قَالَا: ثنا أَبُو نُعَيْمٍ، ثنا سُفْيَانُ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ كُهَيْلٍ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: كَانَ لِرَجُلٍ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعِيرٌ مِنَ الْإِبِلِ فَجَاءَهُ يَتَقَاضَاهُ، فَقَالَ:" أَعْطُوهُ" فَطَلَبُوا فَلَمْ يَجِدُوا إِلَّا سِنًّا فَوْقَ سِنِّهِ، فَقَالَ:" أَعْطُوهُ" فَقَالَ: أَوْفَيْتَنِي أَوْفَاكَ اللهُ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّ خِيَارَكُمْ أَحْسَنُكُمْ قَضَاءً" رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ أَبِي نُعَيْمٍ، وَأَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ مِنْ وَجْهٍ آخَرَ، عَنْ سُفْيَانَ.
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ذمہ ایک آدمی کا دو دانت والا ایک اونٹ قرض تھا۔ اس نے قرض کا تقاضا کیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم اس کو دو۔“ انہوں نے تلاش کیا تو اس سے بہتر پایا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس کو دے دو۔“ اس نے کہا: آپ نے مجھے پورا دیا ہے، اللہ آپ کو مکمل عطا کرے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم میں سے بہتر شخص وہ ہے جو اپنے قرض کو اچھے انداز سے ادا کر دے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب البيوع/حدیث: 10948]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ بخاري 2182»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 10949
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنا مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدٍ ثنا أَبُو كُرَيْبٍ، ثنا وَكِيعٌ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ صَالِحٍ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ كُهَيْلٍ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، قَالَ: اسْتَقْرَضَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ رَجُلٍ سِنًّا فَأَعْطَاهُ سِنًّا فَوْقَ سِنِّهِ، فَقَالَ:" خِيَارُكُمْ أَحَاسِنُكُمْ قَضَاءً" رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ أَبِي كُرَيْبٍ.
ابوسلمہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے نقل فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دو دانت والا اونٹ قبضہ میں لیا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے بڑی عمر کا اونٹ واپس کردیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم سے بہترین وہ ہے جو قرض کی ادائیگی کے اعتبار سے اچھا ہے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب البيوع/حدیث: 10949]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ انظر قبله»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں