🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
السنن الكبرى للبيهقي میں نمبر سے تلاش
حدیث نمبر لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں عربی متن سے تلاش
عربی حدیث کا متن لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں اردو متن سے تلاش
اردو حدیث کا متن لکھیں:
2341. -- باب: جواز الرهن والحميل في السلف
-- باب: بیعِ سلم میں گروی رکھنے اور ضامن بنانے کے جواز کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 11089
أَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَسَنِ، قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ هُوَ الْأَصَمُّ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَبْدِ الْحَكَمِ، أنبأ ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي ابْنُ جُرَيْجٍ، أَنَّ عَمْرَو بْنَ دِينَارٍ أَخْبَرَهُ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ" أَنَّهُ كَانَ لَا يَرَى بِالرَّهْنِ وَالْحَمِيلِ مَعَ السَّلَفِ بَأْسًا".
عمرو بن دینار، سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے نقل فرماتے ہیں کہ وہ بیع سلف میں گروی اور حمیل (ضامن) میں کوئی حرج نہیں سمجھتے تھے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب البيوع/حدیث: 11089]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
2342. -- باب: السلف في الشيء ليس في أيدي الناس إذا شرط محله في وقت يكون موجودا فيه
-- باب: ایسی چیز میں بیعِ سلم کرنا جو اس وقت لوگوں کے پاس موجود نہ ہو بشرطیکہ اس کی سپردگی کا وقت ایسا مقرر کیا گیا ہو جس میں وہ چیز عام طور پر دستیاب ہوتی ہو۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 11090
أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنبأ سُلَيْمَانُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ أَيُّوبَ الْحَافِظُ، ثنا ابْنُ أَبِي مَرْيَمَ، ثنا الْفِرْيَابِيُّ، ح قَالَ: وَأنبأ سُلَيْمَانُ، ثنا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا أَبُو نُعَيْمٍ، ح وَأنبأ أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ صَالِحِ بْنِ هَانِئٍ، ثنا السَّرِيُّ بْنُ ⦗٣٣⦘ خُزَيْمَةَ، ثنا أَبُو نُعَيْمٍ، قَالَا: ثنا سُفْيَانُ، عَنِ ابْنِ أَبِي نَجِيحٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ كَثِيرٍ، عَنْ أَبِي الْمِنْهَالِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: قَدِمَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَدِينَةَ وَهُمْ يُسْلِفُونَ فِي الثِّمَارِ السَّنَتَيْنِ وَالثَّلَاثَ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَسْلِفُوا فِي الثِّمَارِ فِي كَيْلٍ مَعْلُومٍ، إِلَى أَجَلٍ مَعْلُومٍ" لَفْظُ حَدِيثِ أَبِي نُعَيْمٍ، وَحَدِيثُ الْفِرْيَابِيِّ مِثْلُهُ، إِلَّا أَنَّهُ قَالَ:" فِي كَيْلٍ مَعْلُومٍ، وَوَزْنٍ مَعْلُومٍ، إِلَى أَجَلٍ مَعْلُومٍ" رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ أَبِي نُعَيْمٍ قَالَ: وَقَالَ عَبْدُ اللهِ بْنُ الْوَلِيدِ: ثنا سُفْيَانُ، عَنِ ابْنِ أَبِي نَجِيحٍ، وَقَالَ:" فِي كَيْلٍ مَعْلُومٍ، وَوَزْنٍ مَعْلُومٍ" وَأَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ مِنْ حَدِيثِ وَكِيعٍ وَعَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ مَهْدِيٍّ، عَنْ سُفْيَانَ الثَّوْرِيِّ.
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ تشریف لائے تو اہل مدینہ پھلوں میں دو سال اور تین سال کی بیعِ سلف کرتے تھے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پھلوں میں پیمانۂ معلوم اور مدتِ معلوم کی شرط لگا کر بیعِ سلف کیا کرو۔“ ایک حدیث میں ہے کہ: ”پھلوں میں پیمائشِ معلوم، وزنِ معلوم اور وقتِ معلوم کی شرط لگا کر بیعِ سلف کیا کرو۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب البيوع/حدیث: 11090]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 11091
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ دَاسَةَ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا حَفْصُ بْنُ عُمَرَ، ثنا شُعْبَةُ، ح قَالَ: وَحَدَّثَنَا ابْنُ كَثِيرٍ، ثنا شُعْبَةُ، أَخْبَرَنِي مُحَمَّدٌ، أَوْ عَبْدُ اللهِ بْنُ أَبِي مُجَالِدٍ قَالَ: اخْتَلَفَ عَبْدُ اللهِ بْنُ شَدَّادٍ وَأَبُو بُرْدَةَ فِي السَّلَفِ، فَبَعَثُونِي إِلَى ابْنِ أَبِي أَوْفَى، فَسَأَلْتُهُ، فَقَالَ:" إنْ كُنَّا لَنُسْلِفُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَبِي بَكْرٍ وَعُمَرَ فِي الْحِنْطَةِ وَالشَّعِيرِ وَالتَّمْرِ وَالزَّبِيبِ" زَادَ ابْنُ كَثِيرٍ: إِلَى قَوْمٍ مَا هُوَ عِنْدَهُمْ، ثُمَّ اتَّفَقَا، فَسَأَلْتُ ابْنَ أَبْزَى، فَقَالَ مِثْلَ ذَلِكَ. رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ حَفْصِ بْنِ عُمَرَ.
محمد یا عبداللہ بن ابی مجالد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ عبداللہ بن شداد اور ابو بردہ کا بیع سلف کے بارے میں اختلاف ہو گیا تو انہوں نے مجھے ابن ابی اوفی رضی اللہ عنہ کے پاس بھیجا۔ میں نے ان سے پوچھا تو انہوں نے جواب دیا: ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ، ابوبکر اور عمر رضی اللہ عنہما کے زمانے میں گندم، جو، کھجور اور کشمش میں بیع سلف کیا کرتے تھے۔ ابن کثیر نے یہ زیادتی کی ہے کہ یہ بیع ہم اس قوم کے ساتھ کرتے تھے جن کے پاس یہ چیزیں نہیں ہوتی تھیں۔ اس کے بعد دونوں راویوں کے الفاظ ایک جیسے ہیں: پھر میں نے یہی مسئلہ ابن ابزی رضی اللہ عنہ سے بھی پوچھا تو انہوں نے بھی یہی جواب دیا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب البيوع/حدیث: 11091]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ البخاري 2243»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 11092
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَمْرٍو الْأَدِيبُ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ الْإِسْمَاعِيلِيُّ، أنبأ الْحَسَنُ هُوَ ابْنُ سُفْيَانَ، ثنا حِبَّانُ بْنُ مُوسَى، أنبأ عَبْدُ اللهِ هُوَ ابْنُ الْمُبَارَكِ، أنبأ سُفْيَانُ، عَنِ الشَّيْبَانِيِّ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي مُجَالِدٍ قَالَ: أَرْسَلَنِي أَبُو بُرْدَةَ وَعَبْدُ اللهِ بْنُ شَدَّادٍ إِلَى عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبْزَى وَعَبْدِ اللهِ بْنِ أَبِي أَوْفَى، قَالَ: فَسَأَلْتُهُمَا عَنِ السَّلَفِ، فَقَالَا:" كُنَّا نُصِيبُ الْمَغَانِمَ مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَكَانَ يَأْتِينَا أَنْبَاطُ الشَّامِ فَنُسْلِفُهُمْ فِي الْحِنْطَةِ وَالشَّعِيرِ وَالزَّيْتِ إِلَى أَجَلٍ مُسَمًّى، قَالَ: أَكَانَ لَهُمْ زَرْعٌ، أَوْ لَمْ يَكُنْ لَهُمْ زَرْعٌ؟ قَالَ: مَا كُنَّا نَسْأَلُهُمْ" رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ مُقَاتِلٍ، عَنِ ابْنِ الْمُبَارَكِ.
محمد بن ابی مجالد رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ مجھے عبداللہ بن شداد رحمہ اللہ اور ابو بردہ رحمہ اللہ نے ابن ابزی اور ابن ابی اوفی رضی اللہ عنہما کے پاس بھیجا، میں نے ان دونوں سے بیع سلف کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے جواب دیا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ہمیں غنیمت کا حصہ ملتا تھا، پھر ہمارے پاس شام کے لوگ آتے، ہم ان سے گندم، جو اور زیتون کے تیل میں وقت مقررہ تک کے لیے بیع سلف کرتے تھے، ان سے کہا گیا: کیا ان کے پاس کھیتی ہوتی تھی؟ تو انہوں نے جواب دیا: ہم اس بارے میں ان سے نہیں پوچھتے تھے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب البيوع/حدیث: 11092]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ البخاري 2243»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 11093
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ، أنبأ إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ، ثنا سَعْدَانُ بْنُ نَصْرٍ، ثنا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ، أنبأ الرَّبِيعُ، أنبأ الشَّافِعِيُّ، أنبأ إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ" أَنَّهُ كَانَ لَا يَرَى بَأْسًا أَنْ يَبِيعَ الرَّجُلُ شَيْئًا إِلَى أَجَلٍ لَيْسَ عِنْدَهُ أَصْلُهُ".
ابو معاویہ، یحییٰ بن سعید سے اور ابراہیم بن محمد، یحییٰ بن سعید سے، وہ نافع سے اور وہ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت فرماتے ہیں کہ وہ اس بات میں کوئی حرج محسوس نہیں کرتے تھے کہ کوئی آدمی اپنی کوئی چیز وقتِ معلوم تک کے لیے بیچ ڈالے اور اس کے پاس اس کی اصل موجود نہ ہو۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب البيوع/حدیث: 11093]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 11094
قَالَ: وَأنبأ الشَّافِعِيُّ، أنبأ سَعِيدٌ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ مِثْلَهُ.
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے پچھلی روایت کی طرح منقول ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب البيوع/حدیث: 11094]
تخریج الحدیث: «صحيح»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
2343. -- باب: جواز السلم الحال قاله عطاء بن أبي رباح
-- باب: نقد (فوری) بیعِ سلم کے جواز کا بیان جیسا کہ عطاء بن ابی رباح نے فرمایا ہے۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 11095
وَأَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ الْفَقِيهُ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ الْقَطَّانُ، ثنا أَبُو الْأَزْهَرِ أَحْمَدُ بْنُ الْأَزْهَرِ، ثنا خَالِدُ بْنُ مَخْلَدٍ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا الْعَبَّاسُ الدُّورِيُّ، ثنا خَالِدُ بْنُ مَخْلَدٍ يَعْنِي الْقَطَوَانِيَّ، ثنا يَحْيَى بْنُ عُمَيْرٍ، ثنا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ قَالَتِ: اشْتَرَى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَزُورًا مِنْ أَعْرَابِيٍّ بِوَسْقِ تَمْرِ عَجْوَةٍ، فَطَلَبَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عِنْدَ أَهْلِهِ تَمْرًا، فَلَمْ يَجِدْهُ، فَذَكَرَ ذَلِكَ لِلْأَعْرَابِيِّ، فَصَاحَ الْأَعْرَابِيُّ: وَاغَدْرَاهُ فَقَالَ أَصْحَابُ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: بَلْ أَنْتَ يَا عَدُوَّ اللهِ أَغْدَرُ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" دَعُوهُ؛ فَإِنَّ لِصَاحِبِ الْحَقِّ مَقَالًا"، فَأَرْسَلَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى خَوْلَةَ بِنْتِ حَكِيمٍ، وَبَعَثَ بِالْأَعْرَابِيِّ مَعَ الرَّسُولِ، فَقَالَ:" قُلْ لَهَا إِنِّي ابْتَعْتُ هَذَا الْجَزُورَ مِنْ هَذَا الْأَعْرَابِيِّ بِوَسْقِ تَمْرِ عَجْوَةٍ، فَلَمْ أَجِدْهُ عِنْدَ أَهْلِي، فَأَسْلِفِينِي وَسْقَ تَمْرِ عَجْوَةٍ لِهَذَا الْأَعْرَابِيِّ"، فَلَمَّا قَبَضَ الْأَعْرَابِيُّ حَقَّهُ رَجَعَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ لَهُ:" قَبَضْتَ؟" قَالَ: نَعَمْ، وَأَوْفَيْتَ وَأَطَيَبْتَ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أُولَئِكَ خِيَارُ النَّاسِ الْمُوفُونَ الْمُطَيِّبُونَ" وَفِي رِوَايَةِ أَبِي الْأَزْهَرِ، حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ عُمَيْرٍ مَوْلَى بَنِي أَسَدٍ، حَدَّثَنِي هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، وَرُوِيَ هَذَا الْحَدِيثُ مُخْتَصَرًا عَنْ حَمَّادِ بْنِ سَلَمَةَ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ.
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک اعرابی سے ایک وسق عجوہ کھجور کے عوض ایک اونٹ خریدا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے گھر سے کھجور کا پتا کرایا تو گھر میں کچھ نہ تھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اعرابی کو بتایا کہ کھجور فی الحال نہیں ملی۔ اعرابی چیخ پڑا: ہائے دھوکا! صحابہ کرام نے اسے جواب دیتے ہوئے کہا: اے اللہ کے دشمن! تو دھوکے باز ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اسے چھوڑ دو، جس نے کچھ لینا ہوتا ہے وہ ایسی باتیں کرتا ہے۔“ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خولہ بنت حکیم رضی اللہ عنہا کی طرف اپنا ایک آدمی بھیجا اور اس کے ساتھ اعرابی کو بھی روانہ کر دیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے قاصد سے کہا کہ خولہ کو کہنا: ”میں نے یہ اونٹ خریدا ہے اعرابی سے ایک وسق عجوہ کھجور کے عوض، میرے گھر میں کھجور نہیں ملی، میری طرف سے اس اعرابی کو سلف کے طور پر ایک وسق عجوہ کھجور دے دو۔“ چنانچہ جب اعرابی نے اپنا حق وصول کر لیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لوٹا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”کھجور مل گئی؟“ اس نے کہا: جی ہاں! آپ نے تو پورا پورا وزن دیا ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وہی بہترین لوگ ہوتے ہیں جو پورا وعدہ نبھاتے ہیں اور پورا وزن دیتے ہیں۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب البيوع/حدیث: 11095]
تخریج الحدیث: «مسند احمد 6/268،26780»

الحكم على الحديث: مسند احمد 6/268،26780
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 11096
حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ إِمْلَاءً، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ، ثنا يُونُسُ بْنُ بُكَيْرٍ، ثنا يَزِيدُ بْنُ زِيَادِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ، عَنْ جَامِعِ بْنِ شَدَّادٍ، عَنْ طَارِقِ بْنِ عَبْدِ اللهِ الْمُحَارِبِيِّ قَالَ: رَأَيْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَرَّ بِسُوقِ ذِي الْمَجَازِ، وَأَنَا فِي بَيَاعَةٍ لِي، فَمَرَّ وَعَلَيْهِ حُلَّةٌ حَمْرَاءُ، فَسَمِعْتُهُ يَقُولُ:" يَا أَيُّهَا النَّاسُ، قُولُوا: لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ، تُفْلِحُوا" وَرَجُلٌ يَتَّبِعُهُ يَرْمِيهِ بِالْحِجَارَةِ قَدْ أَدْمَى كَعْبَيْهِ وَهُوَ يَقُولُ: يَا أَيُّهَا النَّاسُ، لَا تُطِيعُوا هَذَا؛ فَإِنَّهُ كَذَّابٌ، فَقُلْتُ: مَنْ هَذَا؟ فَقِيلَ: هَذَا غُلَامٌ مِنْ بَنِي عَبْدِ الْمُطَّلِبِ، فَقُلْتُ: فَمَنْ هَذَا يَرْمِيهِ بِالْحِجَارَةِ؟ قِيلَ: عَمُّهُ عَبْدُ الْعُزَّى أَبُو لَهَبِ بْنُ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ، فَلَمَّا ⦗٣٥⦘ أَظْهَرَ اللهُ الْإِسْلَامَ خَرَجْنَا مِنَ الرَّبَذَةِ وَمَعَنَا ظَعِينَةٌ، حَتَّى نَزَلْنَا قَرِيبًا مِنَ الْمَدِينَةِ، فَبَيْنَا نَحْنُ قُعُودٌ إِذْ أَتَانَا رَجُلٌ عَلَيْهِ ثَوْبَانِ فَسَلَّمَ عَلَيْنَا، فَقَالَ: مِنْ أِيِّ الْقَوْمِ؟ فَقُلْنَا: مِنَ الرَّبَذَةِ، وَمَعَنَا جَمَلٌ أَحْمَرُ، فَقَالَ:" تَبِيعُونِي الْجَمَلَ؟" قُلْنَا: نَعَمْ، فَقَالَ:" بِكَمْ؟" فَقُلْنَا بِكَذَا وَكَذَا صَاعًا مِنْ تَمْرٍ، قَالَ:" قَدْ أَخَذْتُهُ" وَمَا اسْتَقْصَى، فَأَخَذَ بِخِطَامِ الْجَمَلِ فَذَهَبَ بِهِ حَتَّى تَوَارَى فِي حِيطَانِ الْمَدِينَةِ، فَقَالَ بَعْضُنَا لِبَعْضٍ: تَعْرِفُونَ الرَّجُلَ؟ فَلَمْ يَكُنْ مِنَّا أَحَدٌ يَعْرِفُهُ، فَلَامَ الْقَوْمُ بَعْضُهُمْ بَعْضًا فَقَالُوا: تُعْطُونَ جَمَلَكُمْ مَنْ لَا تَعْرِفُونَ فَقَالَتِ الظَّعِينَةُ: فَلَا تَلَاوَمُوا، فَلَقَدْ رَأَيْنَا رَجُلًا لَا يَغْدِرُ بِكُمْ، مَا رَأَيْتُ شَيْئًا أَشْبَهَ بِالْقَمِرِ لَيْلَةَ الْبَدْرِ مِنْ وَجْهِهِ. فَلَمَّا كَانَ الْعَشِيُّ أَتَانَا رَجُلٌ فَقَالَ: السَّلَامُ عَلَيْكُمْ وَرَحْمَةُ اللهِ، أَأَنْتُمُ الَّذِينَ جِئْتُمْ مِنَ الرَّبَذَةِ؟ قُلْنَا: نَعَمْ، قَالَ: أَنَا رَسُولُ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَهُوَ يَأْمُرُكُمْ أَنْ تَأْكُلُوا مِنْ هَذَا التَّمْرِ حَتَّى تَشْبَعُوا، وَتَكْتَالُوا حَتَّى تَسْتَوْفُوا، فَأَكَلْنَا مِنَ التَّمْرِ حَتَّى شَبِعْنَا، وَاكْتَلْنَا حَتَّى اسْتَوْفَيْنَا، ثُمَّ قَدِمْنَا الْمَدِينَةَ مِنَ الْغَدِ، فَإِذَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَائِمٌ يَخْطُبُ النَّاسَ عَلَى الْمِنْبَرِ، فَسَمِعْتُهُ يَقُولُ:" يَدُ الْمُعْطِي الْعُلْيَا، وَابْدَأْ بِمَنْ تَعُولُ، أُمَّكَ وَأَبَاكَ وَأُخْتَكَ وَأَخَاكَ وَأَدْنَاكَ أَدْنَاكَ"، وَثَمَّ رَجُلٌ مِنَ الْأَنْصَارِ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ، هَؤُلَاءِ بَنُو ثَعْلَبَةَ بْنِ يَرْبُوعٍ الَّذِينَ قَتَلُوا فُلَانًا فِي الْجَاهِلِيَّةِ، فَخُذْ لَنَا بِثَأْرِنَا، فَرَفَعَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَدَيْهِ حَتَّى رَأَيْتُ بَيَاضَ إِبْطَيْهِ فَقَالَ:" لَا تَجْنِي أُمٌّ عَلَى وَلَدٍ، لَا تَجْنِي أُمٌّ عَلَى وَلَدٍ" وَذَكَرَ الْحَدِيثَ، وَرَوَاهُ أَيْضًا أَبُو جَنَابٍ الْكَلْبِيُّ، عَنْ جَامِعِ بْنِ شَدَّادٍ.
حضرت طارق بن عبداللہ محاربی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں ذی المجاز میں اپنی تجارت میں مشغول تھا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو گزرتے ہوئے دیکھا، آپ نے سرخ حُلّہ پہنا ہوا تھا، میں نے آپ کو فرماتے ہوئے سنا: ”اے لوگو! «لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ» کہو، تم فلاح پا جاؤ گے۔“ اور ایک آدمی آپ کے پیچھے آپ کو پتھر مار رہا تھا جس سے آپ کے ٹخنوں سے خون بہہ رہا تھا، وہ کہہ رہا تھا: اے لوگو! اس کی بات نہ ماننا، یہ جھوٹا ہے۔ میں نے کہا: یہ کون ہے؟ مجھے بتایا گیا کہ یہ بنو عبدالمطلب کا جوان ہے، میں نے کہا: جو پتھر مار رہا ہے وہ کون ہے؟ کہا گیا: وہ اس کا چچا عبدالعزیٰ ابو لہب بن عبدالمطلب ہے، چنانچہ جب اللہ تعالیٰ نے اسلام غالب کر دیا تو ہم ربذہ سے نکلے اور ہمارے ساتھ ایک عورت تھی۔ ہم نے مدینہ کے قریب پڑاؤ ڈالا، ہم ابھی بیٹھے ہوئے تھے کہ ہمارے پاس ایک آدمی آیا اس نے چادر پہنی ہوئی تھی، اس نے ہمیں سلام کہا، پھر اس نے کہا: ”کہاں سے آئے ہو؟“ ہم نے کہا: ربذہ سے۔ اور ہمارے پاس سرخ اونٹ تھا تو اس نے کہا: ”وہ مجھے بیچتے ہو؟“ ہم نے کہا: ہاں۔ اس نے کہا: ”کتنے کا؟“ ہم نے کہا: اتنے اتنے صاع کھجور کے عوض۔ اس نے کہا: ”ٹھیک ہے میں لیتا ہوں۔“ اور اس نے قیمت کم کرانے کی کوشش نہیں کی، چنانچہ وہ اونٹ کی مہار تھام کر روانہ ہو گیا اور مدینہ کی دیواروں اور باغوں میں چھپ گیا۔ ہم نے ایک دوسرے کو کہا: تم میں سے کوئی اسے جانتا ہے؟ کوئی بھی نہیں جانتا تھا۔ پھر ہم ایک دوسرے کو ملامت کرنے لگے کہ جسے جانتے تک نہیں اسے اونٹ پکڑا دیا، ہمارے پاس جو عورت تھی، اس نے کہا: کیوں ایک دوسرے کو ملامت کر رہے ہو؟ ہم نے ایک ایسے آدمی کا چہرہ دیکھا ہے جو تم سے کبھی دھوکا نہیں کرے گا، میں نے کسی چیز کو چودھویں کے چاند جیسا نہیں دیکھا سوائے اس چہرے کے۔ چنانچہ جب شام ہوئی تو ہمارے پاس ایک آدمی آیا اور اس نے کہا: «السَّلَامُ عَلَيْكُمْ وَرَحْمَةُ اللهِ»، کیا آپ لوگ ربذہ سے آئے ہیں؟ ہم نے کہا: جی جناب! اس نے کہا: میں تمہاری طرف رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا قاصد ہوں۔ وہ فرما رہے ہیں کہ: ”آپ یہ کھجوریں پہلے سیر ہو کر کھا لیں، پھر ماپ لیں اور پورا وزن ماپ لیں۔“ چنانچہ ہم نے وہ کھجوریں کھائیں، جب سیر ہو گئے تو ہم نے ماپ لیا، پھر ہم صبح مدینہ روانہ ہوئے، ہم نے دیکھا کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم منبر پر لوگوں کو خطبہ دے رہے ہیں اور میں نے سنا، آپ فرما رہے تھے: ”دینے والا ہاتھ اونچا ہوتا ہے۔ اپنے اہل و عیال میں سے ماں باپ، بہن بھائی اور اس کے بعد قریبی رشتہ داروں کو مقدم رکھو اور پہلے انھیں دو۔“ وہاں پر ایک انصاری صحابی رضی اللہ عنہ تھے، انہوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! یہ بنو ثعلبہ ہیں انھوں نے جاہلیت میں فلاں کو قتل کیا تھا، آپ ہمیں اس کا بدلہ دلوا دیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے دونوں ہاتھ اٹھائے حتیٰ کہ میں نے آپ کی بغل کی سفیدی دیکھی، پھر آپ نے فرمایا: ”کوئی ماں اپنی اولاد کے جرم کی ذمہ دار نہیں، کوئی ماں اپنی اولاد کے جرم کی ذمہ دار نہیں۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب البيوع/حدیث: 11096]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ ابن خزيمه رقم 195، صحيح ابن حبان 6562»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
2344. -- باب: من أجاز السلم في الحيوان بسن وصفة وأجل معلوم إن كان إلى أجل، ومن كرهه
-- باب: اس شخص کا قول جس نے جانوروں میں عمر، صفت اور معلوم مدت کی شرط کے ساتھ بیعِ سلم کو جائز قرار دیا اگر وہ مدت تک کے لیے ہو، اور جس نے اسے مکروہ سمجھا۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 11097
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ فِي آخَرِينَ، قَالُوا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، أنبأ الشَّافِعِيُّ، أنبأ مَالِكٌ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ سَلْمَانَ بْنِ الْحَسَنِ الْفَقِيهُ، ثنا سُلَيْمَانُ بْنُ الْأَشْعَثِ السِّجِسْتَانِيُّ بِالْبَصْرَةِ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ مَسْلَمَةَ الْقَعْنَبِيُّ، عَنْ مَالِكِ بْنِ أَنَسٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ أَبِي رَافِعٍ قَالَ: اسْتَسْلَفَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَكْرًا، فَجَاءَتْهُ إِبِلٌ مِنَ الصَّدَقَةِ، فَأَمَرَنِي أَنْ أَقْضِيَ الرَّجُلَ بَكْرَهُ، فَقُلْتُ: لَمْ أَجِدْ فِي الْإِبِلِ إِلَّا جَمَلًا خِيَارًا رَبَاعِيًّا، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَعْطِهِ إِيَّاهُ؛ فَإِنَّ خِيَارَ النَّاسِ أَحْسَنُهُمْ قَضَاءً" أَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ أَبِي طَاهِرٍ، عَنِ ابْنِ وَهْبٍ، عَنْ مَالِكٍ.
سیدنا ابو رافع رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک اونٹ سلف یعنی ادھار کے طور پر لیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس صدقے کے اونٹ آئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے حکم دیا کہ میں اس آدمی کو اونٹ کے بدلے ایک اونٹ دے دوں، میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا: صدقے کے اونٹوں میں سب اس سے اچھے ہیں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اسے اچھا اونٹ دے دو؛ کیونکہ بہترین لوگ وہ ہیں جو حق دینے میں سب سے اچھے ہوں۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب البيوع/حدیث: 11097]
تخریج الحدیث: «صحيح مسلم 1600»

الحكم على الحديث: صحيح مسلم 1600
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 11098
أَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا يَحْيَى بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى، أنبأ أَبُو سَهْلٍ ⦗٣٦⦘ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللهِ النَّحْوِيُّ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عِيسَى، ثنا أَبُو نُعَيْمٍ، ثنا سُفْيَانُ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ كُهَيْلٍ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: كَانَ لِرَجُلٍ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سِنٌّ مِنَ الْإِبِلِ، فَجَاءَ يَتَقَاضَاهُ، فَقَالَ:" أَعْطُوهُ"، فَطَلَبُوا فَلَمْ يَجِدُوا إِلَّا سِنًّا فَوْقَ سِنِّهِ، فَقَالَ:" أَعْطُوهُ"، فَقَالَ: أَوْفَيْتَنِي أَوْفَاكَ اللهُ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّ خِيَارَكُمْ أَحْسَنُكُمْ قَضَاءً" رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ أَبِي نُعَيْمٍ وَأَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ مِنْ وَجْهٍ آخَرَ عَنْ سُفْيَانَ. قَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ: فَهَذَا الْحَدِيثُ الثَّابِتُ عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَبِهِ آخُذُ، وَفِيهِ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ضَمِنَ بَعِيرًا بِالصِّفَةِ، وَفِي هَذَا مَا دَلَّ عَلَى أَنَّهُ يَجُوزُ أَنْ يُضْمَنَ الْحَيَوَانُ كُلُّهُ بِصِفَةٍ.
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک آدمی کا دوندا اونٹ دینا تھا، وہ آدمی اپنا حق لینے کے لیے آیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اسے دے دو۔“ صحابہ کرام نے تلاش کیا مگر اس سے بڑی عمر کا ملا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کوئی بات نہیں، اسے یہی اونٹ دے دو۔“ اس آدمی نے کہا: آپ نے مجھے پورا بدلہ دیا ہے، اللہ آپ کو پورا بدلہ دے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم میں سے بہترین لوگ وہی ہیں جو ادائیگی میں اچھے ہوں۔“
امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: یہ حدیث رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت ہے اور میرا موقف بھی یہی ہے۔ اس حدیث میں ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اونٹ کی صفت کے ساتھ سودا کیا تھا، اس سے معلوم ہوتا ہے کہ تمام جانوروں میں اس قسم کا سودا کیا جا سکتا ہے، یعنی یہ کہا جائے کہ میں تم سے دوندا لے رہا ہوں تو جب دوں گا تو دوندا ہی دوں گا۔ واللہ اعلم۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب البيوع/حدیث: 11098]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ بخاري و مسلم 1601»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں