🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
السنن الكبرى للبيهقي میں نمبر سے تلاش
حدیث نمبر لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں عربی متن سے تلاش
عربی حدیث کا متن لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں اردو متن سے تلاش
اردو حدیث کا متن لکھیں:
2379. -- باب: لا يؤاجر الحر في دين عليه، ولا يلازم إذا لم يوجد له شيء
-- باب: آزاد انسان کو اس پر موجود قرض کی وجہ سے مزدور نہیں بنایا جائے گا، اور اگر اس کے پاس کچھ نہ پایا جائے تو اس سے چمٹے نہیں رہا جائے گا۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 11270
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَارِثِ الْأَصْبَهَانِيُّ، أنبأ أَبُو مُحَمَّدِ بْنُ حَيَّانَ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ زَكَرِيَّا، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ بُكَيْرٍ، ثنا ابْنُ وَهْبٍ، عَنْ يُونُسَ بْنِ يَزِيدَ، عَنِ ⦗٨٣⦘ الزُّهْرِيِّ قَالَ: أَخْبَرَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ كَعْبٍ،" أَنَّ مُعَاذَ بْنَ جَبَلٍ، وَهُوَ أَحَدُ قَوْمِهِ مِنْ بَنِي سَلِمَةَ، كَثُرَ دَيْنُهُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَمْ يَزِدْ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ غُرَمَاءَهُ عَلَى أَنْ خَلَعَ لَهُمْ مَالَهُ".
حضرت عبد الرحمن بن کعب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ، جو اپنی قوم بنو سلمہ کے ایک فرد تھے، ان کا قرض رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں بہت بڑھ گیا، چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے صرف یہ کیا کہ حضرت معاذ رضی اللہ عنہ کا مال قرض خواہوں کے درمیان تقسیم کر دیا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب التفليس/حدیث: 11270]
تخریج الحدیث: «ابوداؤد في المراسيل 172»

الحكم على الحديث: ابوداؤد في المراسيل 172
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 11271
حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْأَصْبَهَانِيُّ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ الْجَهْمِ الْأَصْبَهَانِيُّ، ثنا الْحُسَيْنُ بْنُ الْفَرَجِ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عُمَرَ، حَدَّثَنِي عِيسَى بْنُ النُّعْمَانِ، عَنْ مُعَاذِ بْنِ رِفَاعَةَ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ قَالَ: كَانَ مُعَاذُ بْنُ جَبَلٍ مِنْ أَحْسَنِ النَّاسِ وَجْهًا، وَأَحْسَنِهِمْ خُلُقًا، وَأَسْمِحِهِمْ كَفًّا، فَادَّانَ دَيْنًا كَثِيرًا، فَلَزِمَهُ غُرَمَاؤُهُ حَتَّى تَغَيَّبَ عَنْهُمْ أَيَّامًا فِي بَيْتِهِ، حَتَّى اسْتَأْدَى رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ غُرَمَاؤُهُ، فَأَرْسَلَ إِلَيْهِ يَدْعُوهُ، فَجَاءَهُ وَمَعَهُ غُرَمَاؤُهُ، فَقَالُوا: يَا رَسُولَ اللهِ، خُذْ لَنَا حَقَّنَا مِنْهُ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" رَحِمَ اللهُ مَنْ تَصَدَّقَ عَلَيْهِ"، قَالَ: فَتَصَدَّقَ عَلَيْهِ نَاسٌ، وَأَبَى آخَرُونَ وَقَالُوا: يَا رَسُولَ اللهِ، خُذْ لَنَا بِحَقِّنَا مِنْهُ، قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" اصْبِرْ لَهُمْ يَا مُعَاذُ"، قَالَ: فَخَلَعَهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ مَالِهِ، فَدَفَعَهُ إِلَى غُرَمَائِهِ، فَاقْتَسَمُوهُ بَيْنَهُمْ، فَأَصَابَهُمْ خَمْسَةُ أَسْبَاعِ حُقُوقِهِمْ، قَالُوا: يَا رَسُولَ اللهِ، بِعْهُ لَنَا، قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" خَلُّوا عَنْهُ، فَلَيْسَ لَكُمْ عَلَيْهِ سَبِيلٌ" تَفَرَّدَ بِبَعْضِ أَلْفَاظِهِ الْوَاقِدِيُّ.
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ لوگوں میں سب سے خوبصورت چہرے والے، سب سے اچھے اخلاق والے اور سب سے زیادہ سخی تھے، ان پر بہت زیادہ قرضہ چڑھ گیا۔ قرض خواہ ان کے پیچھے پڑ گئے۔ وہ لوگوں سے چھپ کر کئی دن اپنے گھر میں ٹھہرے رہے۔ قرض خواہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے انہیں بلوانے کا مطالبہ کر دیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی طرف پیغام بھیجا تو وہ آئے اور قرض خواہ ان کے ساتھ تھے۔ وہ کہنے لگے: اے اللہ کے رسول! ہمیں اس سے ہمارا حق دلوائیے! رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو اس پر صدقہ کرے گا اللہ اس پر رحم فرمائے گا۔“ چند لوگوں نے صدقہ کیا اور کچھ نے انکار کر دیا اور برابر مطالبہ کرتے رہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے معاذ! ان کے معاملے میں صبر کرو۔“ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کا مال ان سے لے کر قرض خواہوں کے حوالے کر دیا جو انہوں نے آپس میں تقسیم کر لیا، تو انہیں اپنے حق کا سات میں سے پانچ حصے ملے، وہ کہنے لگے: اسے ہمارے ہاتھ بیچ دیجیے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اسے چھوڑ دو، تمہیں اس کا کوئی حق نہیں۔“ واقدی بعض الفاظ میں متفرد ہیں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب التفليس/حدیث: 11271]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
2380. -- باب: ما جاء في بيع الحر المفلس في دينه
-- باب: مقروض اور مفلس آزاد شخص کو بیچنے کے متعلق کیا وارد ہوا ہے۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 11272
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَحْمَدَ بْنِ الْحَارِثِ الْفَقِيهُ، أنبأ أَبُو مُحَمَّدِ بْنُ حَيَّانَ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْحَسَنِ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحَسَنِ الْمِصِّيصِيُّ، ثنا حَجَّاجٌ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" بَاعَ حُرًّا أَفْلَسَ فِي دَيْنِهِ" رَوَاهُ غَيْرُهُ عَنْ حَجَّاجِ بْنِ مُحَمَّدٍ بِالشَّكِّ فِي إِسْنَادِهِ.
سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک آزاد کو جو مفلس ہو گیا تھا اس کے قرضے میں بیچ دیا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب التفليس/حدیث: 11272]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 11273
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَارِثِ الْفَقِيهُ، أنبأ عَلِيُّ بْنُ عُمَرَ الْحَافِظُ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْجَرَّاحِ، ثنا يُوسُفُ بْنُ سَعِيدٍ، ثنا حَجَّاجٌ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ، أَوْ أَبِي سَعْدٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" بَاعَ حُرًّا أَفْلَسَ".
حضرت ابو سعید یا ابوسعد رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک آزاد کو جو مفلس ہو گیا تھا اس کے قرضے میں بیچ دیا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب التفليس/حدیث: 11273]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 11274
أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْوَاسِطِيُّ، ثنا هُدْبَةُ بْنُ خَالِدٍ، ثنا حَمَّادُ بْنُ الْجَعْدِ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ الْحَارِثِ، أَنَّ يَزِيدَ بْنَ أَبِي حَبِيبٍ حَدَّثَهُ، أَنَّ رَجُلًا قَدِمَ الْمَدِينَةَ فَذَكَرَ أَنَّهُ يُقْدَمُ لَهُ بِمَالٍ، فَأَخَذَ مَالًا كَثِيرًا فَاسْتَهْلَكَهُ، فَأُخِذَ الرَّجُلُ فَوُجِدَ لَا مَالَ لَهُ" فَأَمَرَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يُبَاعَ" هَذَا مُنْقَطِعٌ.
عمرو بن حارث رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ مجھے یزید بن ابی حبیب نے بتایا کہ ایک آدمی مدینہ میں آیا تو اس نے کہا: ”پیچھے سے میرا مال آ رہا ہے“، چنانچہ یہ سن کر بطور قرض، اسے لوگوں نے مال دیا، جس سے اس کا مال بڑھ گیا۔ اس نے بےدریغ مال خرچ کیا تو اس کا سارا مال ختم ہو گیا، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے بارے میں حکم دیا کہ ”اسے بیچ دیا جائے۔“ یہ منقطع ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب التفليس/حدیث: 11274]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 11275
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْوَلِيدِ الْفَقِيهُ، ح وَأنبأ أَبُو عَبْدِ اللهِ ⦗٨٤⦘ الْحَافِظُ، ثنا عَلِيُّ بْنُ عِيسَى الْحِيرِيُّ، قَالَا: ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ خُزَيْمَةَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، ثنا عَبْدُ الصَّمَدِ بْنُ عَبْدِ الْوَارِثِ، ثنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ دِينَارٍ، ثنا زَيْدُ بْنُ أَسْلَمَ قَالَ: رَأَيْتُ شَيْخًا بِالْإِسْكَنْدَرِيَّةِ يُقَالُ لَهُ سُرَّقٌ، فَقُلْتُ لَهُ: مَا هَذَا الِاسْمُ؟ فَقَالَ: اسْمٌ سَمَّانِيهِ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَلَنْ أَدَعَهُ، قُلْتُ: وَلِمَ سَمَّاكَ؟ قَالَ: قَدِمْتُ الْمَدِينَةَ فَأَخْبَرْتُهُمْ أَنَّ مَالِي يَقْدَمُ، فَبَايَعُونِي، فَاسْتَهْلَكْتُ أَمْوَالَهُمْ، فَأَتَوْا بِيَ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ:" أَنْتَ سُرَّقٌ"، فَبَاعَنِي بِأَرْبَعَةِ أَبْعِرَةٍ، فَقَالَ الْغُرَمَاءُ لِلَّذِي اشْتَرَانِي: مَا تَصْنَعُ بِهِ؟ قَالَ:" أُعْتِقُهُ"، قَالُوا: فَلَسْنَا بِأَزْهَدَ فِي الْأَجْرِ مِنْكَ، فَأَعْتَقُونِي بَيْنَهُمْ، وَبَقِيَ اسْمِي وَبِمَعْنَاهُ رَوَاهُ عَبْدُ الرَّحْمَنِ وَعَبْدُ اللهِ ابْنَا زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنْ أَبِيهِمَا، أَتَمَّ مِنْ ذَلِكَ فِي اشْتِرَائِهِ مِنْ أَعْرَابِيٍّ نَاقَةً، وَاسْتِهْلَاكِهِ ثَمَنَهَا. وَرَوَاهُ مُسْلِمُ بْنُ خَالِدٍ الزَّنْجِيُّ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنِ ابْنِ الْبَيْلَمَانِيِّ، عَنْ سُرَّقٍ، قَالَ الْإِمَامُ أَحْمَدُ: وَرَوَاهُ شَيْخُنَا فِي الْمُسْتَدْرَكِ فِيمَا لَمْ نَقْرَأْ عَلَيْهِ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ عَتَّابٍ الْعَبْدِيِّ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ، عَنْ عَبْدِ الصَّمَدِ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْبَيْلَمَانِيِّ قَالَ: رَأَيْتُ شَيْخًا فِي الْإِسْكَنْدَرِيَّةِ، فَذَكَرَهُ أَتَمَّ مِنْ حَدِيثِ ابْنِ بَشَّارٍ، وَمَدَارُ حَدِيثِ سُرَّقٍ عَلَى هَؤُلَاءِ، وَكُلُّهُمْ لَيْسُوا بِأَقْوِيَاءَ، عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَبْدِ اللهِ وَابْنَا زَيْدٍ، وَإِنْ كَانَ الْحَدِيثُ عَنْ زَيْدٍ عَنِ ابْنِ الْبَيْلَمَانِيِّ فَابْنُ الْبَيْلَمَانِيِّ ضَعِيفٌ فِي الْحَدِيثِ، وَفِي إِجمَاعِ الْعُلَمَاءِ عَلَى خِلَافِهِ، وَهُمْ لَا يُجْمِعُونَ عَلَى تَرْكِ رِوَايَةٍ ثَابِتَةٍ، دَلِيلٌ عَلَى ضَعْفِهِ أَوْ نَسْخِهِ إِنْ كَانَ ثَابِتًا، وَبِاللهِ التَّوْفِيقُ.
زید بن اسلم رحمہ اللہ فرماتے ہیں: میں نے اسکندریہ میں ایک ضعیف العمر شخص کو دیکھا جسے ”سرَّق“ کہا جاتا تھا۔ میں نے اس سے کہا: یہ کیسا نام ہے؟ اس نے کہا: یہ میرا نام رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے رکھا تھا، جسے میں ہرگز ترک نہیں کروں گا۔ اس نے کہا: میں مدینہ میں آیا تو میں نے لوگوں کو کہا: میرا مال آرہا ہے، تو انہوں نے میرے ساتھ بیع کی، میں نے ان کا مال سارے کا سارا خرچ کر ڈالا۔ وہ مجھے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لے گئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «أَنْتَ سَرَقٌ» ”تو چور ہے!“ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے چار اونٹوں کے عوض بیچ دیا۔ میرے قرض خواہوں نے مجھے خریدنے والے سے پوچھا: تم اس کا کیا کرو گے؟ تو اس نے کہا: میں اسے آزاد کروں گا، تو وہ کہنے لگے: ہم تیری نسبت ثواب کے زیادہ محتاج ہیں، پھر انہوں نے مجھے آزاد کردیا اور میرا نام باقی رہ گیا۔ اسی معنی کی ایک روایت اور ہے۔ عبدالرحمن اور عبداللہ رحمہما اللہ اپنے والد زید بن اسلم رحمہ اللہ سے روایت کرتے ہیں جو مذکورہ حدیث سے مکمل ہے۔ اس میں ہے کہ اس نے ایک اعرابی سے اونٹنی خریدی اور اس کی قیمت خرچ کر گیا۔ اسے مسلم بن خالد زنجی نے زید بن اسلم سے، انہوں نے ابن بیلمانی سے اور انہوں نے سرق سے روایت کیا ہے۔ امام احمد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اس روایت کو ہمارے شیخ امام حاکم رحمہ اللہ نے المستدرک میں بیان کیا ہے۔ اس میں ہے کہ عبدالرحمن بن بیلمانی رحمہ اللہ کہتے ہیں: میں نے اسکندریہ میں ایک بوڑھا دیکھا، اور انہوں نے مذکورہ ابن بشار کی حدیث سے مکمل بیان کی۔ یہ حدیث ضعیف ہے؛ کیونکہ سند میں اکثر راوی ضعیف ہیں: سرق کی حدیث کا دار و مدار عبدالرحمن بن عبداللہ اور زید کے دونوں بیٹوں پر ہے اور ان میں سے کوئی بھی قوی نہیں، اور اگر یہ حدیث زید عن ابن بیلمانی ہو تو ابن بیلمانی حدیث میں ضعیف ہیں۔ نیز علماء کا اس کے خلاف اجماع، جبکہ وہ کسی ثابت روایت کو ترک کرنے پر اجماع نہیں کرتے، اس کے ضعیف ہونے کی دلیل ہے، یا اگر یہ ثابت ہو تو اس کے منسوخ ہونے کی دلیل ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب التفليس/حدیث: 11275]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 11276
وَفِيمَا ذَكَرَ أَبُو دَاوُدَ فِي الْمَرَاسِيلِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عُبَيْدٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ ثَوْرٍ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ قَالَ:" كَانَ يَكُونُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دُيُونٌ عَلَى رِجَالٍ مَا عَلِمْنَا حُرًّا بِيعَ فِي دَيْنٍ" أَخْبَرَنَاهُ أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ مُحَمَّدٍ، أنبأ أَبُو الْحُسَيْنِ الْفَسَوِيُّ، ثنا أَبُو عَلِيٍّ اللُّؤْلُؤِيُّ، ثنا أَبُو دَاوُدَ فَذَكَرَهُ.
امام زہری رحمہ اللہ فرماتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں لوگوں پر قرضے ہوا کرتے تھے۔ ہم نہیں جانتے کہ کسی آزاد آدمی کو قرضے کے عوض بیچ دیا گیا ہو۔ ابوداؤد سے پچھلی روایت کی طرح منقول ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب التفليس/حدیث: 11276]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
2381. -- باب: العهدة ورجوع المشتري بالدرك
-- باب: عہدہ (ضمانت کی مدت) اور خریدار کا درک (نقصان یا استحقاق نکلنے) کی صورت میں رجوع کرنے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 11277
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الصَّغَانِيُّ، ثنا عَمْرُو بْنُ عَوْنٍ، أنبأ هُشَيْمٌ، عَنْ مُوسَى بْنِ السَّائِبِ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ سَمُرَةَ بْنِ جُنْدُبٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" الرَّجُلُ أَحَقُّ بِعَيْنِ مَالِهِ إِذَا وَجَدَهُ، وَيَتَّبِعُ الْبَيْعُ مَنْ بَاعَهُ" رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ عَوْنٍ بِمَعْنَاهُ.
سیدنا سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”آدمی اپنے مال کا زیادہ حق دار ہے، جب اسے پائے اور خریدنے والا بیچنے والے کے پیچھے جائے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب التفليس/حدیث: 11277]
تخریج الحدیث: «مسند احمد 5/13، ابوداؤد 3531»

الحكم على الحديث: مسند احمد 5/13، ابوداؤد 3531
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 11278
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ الْعَدْلُ بِبَغْدَادَ، أنبأ إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ ⦗٨٥⦘ الصَّفَّارُ، ثنا سَعْدَانُ بْنُ نَصْرٍ، ثنا أَبُو مُعَاوِيَةَ، ثنا الْحَجَّاجُ بْنُ أَرْطَاةَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ زَيْدِ بْنِ عُقْبَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ سَمُرَةَ بْنِ جُنْدُبٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" إِذَا ضَاعَ لِأَحَدِكُمْ مَتَاعٌ، أَوْ سُرِقَ لَهُ مَتَاعٌ، فَوَجَدَهُ فِي يَدِ رَجُلٍ بِعَيْنِهِ فَهُوَ أَحَقُّ بِهِ، وَيَرْجِعُ الْمُشْتَرِي عَلَى الْبَائِعِ بِالثَّمَنِ".
سیدنا سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم میں سے کسی آدمی کا مال ضائع ہو جائے یا چوری ہو جائے اور وہ اسے کسی آدمی کے پاس پا لے تو وہ اس کا زیادہ حق دار ہے، اور خریدنے والا بیچنے والے سے رجوع کرے گا اور اپنی قیمت واپس لے گا۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب التفليس/حدیث: 11278]
تخریج الحدیث: «مسند احمد 4/222، ابن ماجه 2331»

الحكم على الحديث: مسند احمد 4/222، ابن ماجه 2331
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
2382. -- باب: حبس من عليه الدين إذا لم يظهر ماله، وما على الغني في المطل
-- باب: مقروض کو قید کرنے کا بیان جب اس کا مال ظاہر نہ ہو، اور مالدار شخص کے ٹال مٹول کرنے کی وعید کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 11279
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ، أنبأ أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمِصْرِيُّ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي مَرْيَمَ، ثنا الْفِرْيَابِيُّ، ثنا سُفْيَانُ، عَنْ وَبْرِ بْنِ أَبِي دُلَيْلَةَ، عَنْ فُلَانِ بْنِ فُلَانٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ الشَّرِيدِ، عَنْ أَبِيهِ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لِيُّ الْوَاجِدِ يُحِلُّ عِرْضَهُ وَعُقُوبَتَهُ" قَالَ سُفْيَانُ: يَعْنِي عِرْضَهُ، أَنْ يَقُولَ: ظَلَمَنِي فِي حَقِّي، وَعُقُوبَتُهُ يُسْجَنُ. فُلَانُ بْنُ فُلَانٍ هَذَا هُوَ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ مَيْمُونِ بْنِ مُسَيْكَةَ.
سیدنا عمرو بن شرید اپنے والد (سیدنا شرید رضی اللہ عنہ) سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس کے پاس مال ہو اور وہ قرض کی ادائیگی میں دیر کرے تو اس کی عزت اور اسے سزا دینا جائز ہو جاتا ہے۔“ سفیان رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ عزت حلال ہونے کا مطلب یہ ہے کہ وہ کہے کہ اس نے میرا حق کھایا ہے اور سزا کے جائز ہونے کا مطلب یہ ہے کہ اسے قید کیا جائے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب التفليس/حدیث: 11279]
تخریج الحدیث: «مسند احمد 4/222 و ابو داؤد 3628»

الحكم على الحديث: مسند احمد 4/222 و ابو داؤد 3628
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں