🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
السنن الكبرى للبيهقي میں نمبر سے تلاش
حدیث نمبر لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں عربی متن سے تلاش
عربی حدیث کا متن لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں اردو متن سے تلاش
اردو حدیث کا متن لکھیں:
2382. -- باب: حبس من عليه الدين إذا لم يظهر ماله، وما على الغني في المطل
-- باب: مقروض کو قید کرنے کا بیان جب اس کا مال ظاہر نہ ہو، اور مالدار شخص کے ٹال مٹول کرنے کی وعید کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 11280
أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ بِشْرَانَ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو الرَّزَّازُ، أنبأ يَحْيَى بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا الضَّحَّاكُ أَبُو عَاصِمٍ، ثنا وَبْرُ بْنُ أَبِي دُلَيْلَةَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللهِ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ، وَأَبُو نَصْرِ بْنُ قَتَادَةَ، قَالَا: أنبأ أَبُو عَمْرِو بْنُ نُجَيْدٍ، أنبأ أَبُو مُسْلِمٍ الْكَجِّيُّ وَهُوَ إِبْرَاهِيمُ بْنُ عَبْدِ اللهِ، ثنا أَبُو عَاصِمٍ، عَنْ وَبْرِ بْنِ أَبِي دُلَيْلَةَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ مَيْمُونٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ الشَّرِيدِ، عَنْ أَبِيهِ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لِيُّ الْوَاجِدِ يُحِلُّ عِرْضَهُ وَعُقُوبَتَهُ".
سیدنا عمرو بن شرید اپنے والد (سیدنا شرید رضی اللہ عنہ) سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس کے پاس مال ہو اور وہ قرض کی ادائیگی میں دیر کرے تو اس کی عزت حلال ہو جاتی ہے اور سزا دینا بھی جائز ہو جاتا ہے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب التفليس/حدیث: 11280]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 11281
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ دَاسَةَ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا النُّفَيْلِيُّ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ الْمُبَارَكِ، عَنْ وَبْرِ بْنِ أَبِي دُلَيْلَةَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ مَيْمُونٍ فَذَكَرَهُ، قَالَ ابْنُ الْمُبَارَكِ: يُحِلُّ عِرْضَهُ، يُغَلِّظُ لَهُ، وَعُقُوبَتُهُ يُحْبَسُ لَهُ.
محمد بن میمون سے بھی یہی حدیث منقول ہے۔ ابن مبارک رحمہ اللہ فرماتے ہیں: اس کی عزت حلال ہونے کا مطلب یہ ہے کہ اس سے سختی سے بات کی جائے اور سزا کا مطلب یہ ہے کہ اسے اس (قرض) کی وجہ سے قید کیا جائے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب التفليس/حدیث: 11281]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
2383. -- باب: ما جاء في التقاضي
-- باب: تقاضا کرنے (قرض مانگنے) کے متعلق جو وارد ہوا ہے۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 11282
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدِ اللهِ الْمُنَادِي، ثنا وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي الضُّحَى، عَنْ ⦗٨٦⦘ مَسْرُوقٍ، عَنْ خَبَّابٍ قَالَ:" كُنْتُ قَيْنًا فِي الْجَاهِلِيَّةِ، وَكَانَ لِي عَلَى الْعَاصِ بْنِ وَائِلٍ دَرَاهِمُ، فَأَتَيْتُهُ أَتَقَاضَاهُ، فَقَالَ: لَا أَقْضِيكَ حَتَّى تَكْفُرَ بِمُحَمَّدٍ، فَقُلْتُ: وَاللهِ لَا أَكْفُرُ حَتَّى يُمِيتَكَ اللهُ ثُمَّ يَبْعَثَكَ، قَالَ: فَذَرْنِي حَتَّى أَمُوتَ ثُمَّ أُبْعَثَ فَأُوتَى مَالًا وَوَلَدًا فَأَقْضِيكَ، فَنَزَلَ أَفَرَأَيْتَ الَّذِي كَفَرَ بِآيَاتِنَا وَقَالَ لَأُوتَيَنَّ مَالًا وَوَلَدًا" رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ إِسْحَاقَ، عَنْ وَهْبِ بْنِ جُرَيْجٍ وَأَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ مِنْ أَوْجُهٍ عَنِ الْأَعْمَشِ.
سیدنا خباب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں دور جاہلیت میں لوہار تھا۔ میں نے عاص بن وائل سے کچھ درہم لینے تھے۔ میں اس کے پاس آیا اور مطالبہ کیا تو اس نے کہا: میں تیری رقم نہیں دوں گا حتیٰ کہ تو محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا انکار کرے۔ میں نے کہا: اللہ کی قسم! میں محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا تیری موت اور دوبارہ اٹھنے تک انکار نہیں کروں گا، تو اس نے کہا: چلو ٹھیک ہے، اب میرا راستہ چھوڑ دو؛ جب میں مر جاؤں گا اور دوبارہ اٹھایا جاؤں گا، پھر مجھے مال اور اولاد دی جائے گی تو میں اسی وقت تجھے ادائیگی کر دوں گا، اللہ تعالیٰ نے پھر یہ آیت نازل فرمائی: ﴿أَفَرَأَيْتَ الَّذِي كَفَرَ بِآيَاتِنَا وَقَالَ لَأُوتَيَنَّ مَالًا وَوَلَدًا﴾ [سورة مريم: 77] ۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب التفليس/حدیث: 11282]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ بخاري 2091، مسلم 2795»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 11283
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ فُورَكٍ، أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ أَحْمَدَ بْنِ فَارِسٍ، ثنا يُونُسُ بْنُ حَبِيبٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا شُعْبَةُ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ كُهَيْلٍ قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا سَلَمَةَ بْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ بِمِنًى يُحَدِّثُ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ أَعْرَابِيًّا تَقَاضَى عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَيْنًا كَانَ لَهُ عَلَيْهِ، فَأَغْلَظَ لَهُ، فَهَمَّ بِهِ أَصْحَابُ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" دَعُوهُ؛ فَإِنَّ لِصَاحِبِ الْحَقِّ مَقَالًا"، ثُمَّ قَالَ:" اقْضُوهُ"، فَقَالُوا: لَا نَجِدُ إِلَّا سِنًّا أَفْضَلَ مِنْ سِنِّهِ، قَالَ:" اشْتَرُوهُ وَأَعْطُوهُ؛ فَإِنَّ خَيْرَكُمْ أَحْسَنُكُمْ قَضَاءً" أَخْرَجَاهُ فِي الصَّحِيحِ مِنْ حَدِيثِ شُعْبَةَ.
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ایک آدمی نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے کچھ قرضہ لینا تھا تو اس نے مطالبہ کیا اور سخت الفاظ کہے، صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے اسے سزا دینے کا ارادہ کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اسے کچھ نہ کہو بلاشبہ جس نے حق لینا ہوتا ہے وہ باتیں بھی کرتا ہے۔“ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس کو ادائیگی کر دو۔“ تو صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کہنے لگے: ہمارے پاس اس کے اونٹ سے اچھا اونٹ ہے، (آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:) ”اسے خریدو اور دے دو، تم میں سے بہتر وہ ہے جو قرض کی ادائیگی میں اچھا ہو۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب التفليس/حدیث: 11283]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ بخاري 2305 و مسلم 1601»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 11284
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ، أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ دَرَسْتَوَيْهِ، ثنا يَعْقُوبُ بْنُ سُفْيَانَ، حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي السَّرِيِّ، ثنا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حَمْزَةَ بْنِ يُوسُفَ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ سَلَامٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ قَالَ: قَالَ عَبْدُ اللهِ بْنُ سَلَامٍ: إِنَّ اللهَ لَمَّا أَرَادَ هَدْيَ زَيْدِ بْنِ سَعْنَةَ قَالَ زَيْدٌ: مَا مِنْ عَلَامَاتِ النُّبُوَّةِ شَيْءٌ إِلَّا وَقَدْ عَرَفْتُهَا فِي وَجْهِ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ نَظَرْتُ إِلَيْهِ، إِلَّا اثْنَتَانِ لَمْ أُخْبَرْهُمَا مِنْهُ: يَسْبِقُ حِلْمُهُ جَهْلَهُ، وَلَا تَزِيدُهُ شِدَّةُ الْجَهْلِ عَلَيْهِ إِلَّا حِلْمًا. فَذَكَرَ الْحَدِيثَ فِي مُبَايَعَتِهِ، قَالَ زَيْدُ بْنُ سَعْنَةَ: فَلَمَّا كَانَ قَبْلَ مَحِلِّ الْأَجَلِ بِيَوْمَيْنِ أَوْ ثَلَاثَةٍ خَرَجَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي جَنَازَةِ رَجُلٍ مِنَ الْأَنْصَارِ، وَمَعَهُ أَبُو بَكْرٍ وَعُمَرُ وَعُثْمَانُ فِي نَفَرٍ مِنْ أَصْحَابِهِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمْ، فَلَمَّا صَلَّى عَلَى الْجَنَازَةِ وَدَنَا مِنْ جِدَارٍ لِيَجْلِسَ إِلَيْهِ، أَتَيْتُهُ فَنَظَرْتُ إِلَيْهِ بِوَجْهٍ غَلِيظٍ، ثُمَّ أَخَذْتُ بِمَجَامِعِ قَمِيصِهِ وَرِدَائِهِ فَقُلْتُ: اقْضِنِي يَا مُحَمَّدُ حَقِّي، فَوَاللهِ مَا عَلِمْتُكُمْ بَنِي عَبْدِ الْمُطَّلِبِ لَمُطَّالٌ، لَقَدْ كَانَ لِي بِمُخَالَطَتِكُمْ عِلْمٌ، فَنَظَرْتُ إِلَى عُمَرَ وَعَيْنَاهُ تَدُورَانِ فِي وَجْهِهِ كَالْفَلَكِ الْمُسْتَدِيرِ، ثُمَّ رَمَانِي بِبَصَرِهِ فَقَالَ: يَا يَهُودِيُّ، أَتَفْعَلُ هَذَا بِرَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ فَوَالَّذِي بَعَثَهُ بِالْحَقِّ لَوْلَا مَا أُحَاذِرُ قُوَّتَهُ لَضَرَبْتُ بِسَيْفِي رَأْسَكَ، قَالَ: وَرَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَنْظُرُ إِلَى عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فِي سُكُونٍ وَتُؤَدَةٍ وَتَبَسُّمٍ، ثُمَّ قَالَ: يَا عُمَرُ:" أَنَا وَهُوَ كُنَّا إِلَى غَيْرِ هَذَا مِنْكَ أَحْوَجُ أَنْ تَأْمُرَنِي بِحُسْنِ الْأَدَاءِ، وَتَأْمُرَهُ بِحُسْنِ التِّبَاعَةِ، اذْهَبْ بِهِ يَا عُمَرُ فَاقْضِهِ حَقَّهُ وَزِدْهُ عِشْرِينَ صَاعًا مَنْ تَمْرٍ مَكَانَ مَا رَوَّعْتَهُ" وَذَكَرَ الْحَدِيثَ فِي إِسْلَامِهِ.
سیدنا عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: جب اللہ تعالیٰ نے زید بن سعنہ کی ہدایت کا ارادہ فرمایا تو زید کہنے لگے: جب میں نے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا تو نبوت کی تمام علامات پہچان لیں، سوائے دو علامات کے، ایک یہ کہ ان کا حلم ان کے جہل (یعنی غصے) پر غالب ہوگا اور جتنا ان کے ساتھ جہالت کا رویہ اختیار کیا جائے گا اتنا ہی ان کا حلم بڑھے گا۔ پھر انہوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک بیع کا تذکرہ کیا۔ زید فرماتے ہیں: وعدے کے دو یا تین دن پہلے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک انصاری صحابی کے جنازے کے لیے اپنے گھر سے نکلے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ سیدنا ابوبکر، عمر، عثمان رضی اللہ عنہم اور دیگر صحابہ بھی تھے۔ چنانچہ جب جنازہ پڑھ لیا اور دیوار کے ساتھ بیٹھ گئے تو میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور غصے سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف دیکھا، پھر میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی قمیص اور چادر کے پہلوؤں کو پکڑ کر کہا: اے محمد! میرا حق مجھے دو، اللہ کی قسم! تم سب عبدالمطلب کے خاندان والے قرض ادا کرنے میں لیت و لعل سے کام لیتے ہو، مجھے پہلے ہی پتا تھا کہ تم ایسے ہی کرو گے۔ فرماتے ہیں کہ میں نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو دیکھا کہ ان کی آنکھیں ان کے چہرے میں گھوم رہی تھیں۔ پھر انہوں نے مجھے غصے سے دیکھا اور کہا: اے یہودی! کیا تو اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایسا کر رہا ہے؟ اس ذات کی قسم جس نے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو حق دے کر بھیجا ہے! اگر مجھے کسی چیز کا ڈر نہ ہوتا تو اپنی تلوار تیرے سر میں مار دیتا۔ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کی طرف بڑے اطمینان، سکون اور مسکراہٹ کے ساتھ دیکھ رہے تھے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے عمر! میں اور وہ تم سے کسی اور سلوک کے خواہاں تھے۔ تم مجھے حسنِ ادائیگی کا کہتے اور اسے حسنِ تقاضا کا کہتے۔ اب اسے لے جا اور اس کا قرض ادا کر دے اور اسے بیس صاع کھجور اضافی دے دو؛ کیونکہ تو نے اسے دھمکایا ہے۔“ پھر انہوں نے اپنے اسلام قبول کرنے کا تذکرہ کیا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب التفليس/حدیث: 11284]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
2384. -- باب: ما جاء في الملازمة
-- باب: ملازمہ (قرض دار کے ساتھ چمٹے رہنے یا اس کا پیچھا کرنے) کے متعلق جو وارد ہوا ہے۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 11285
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مِلْحَانَ، ثنا يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ، حَدَّثَنِي اللَّيْثُ، حَدَّثَنِي جَعْفَرٌ يَعْنِي ابْنَ رَبِيعَةَ، عَنِ الْأَعْرَجِ قَالَ: أَخْبَرَنِي عَبْدُ اللهِ بْنُ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ الْأَنْصَارِيُّ، عَنْ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ، أَنَّهُ كَانَ لَهُ مَالٌ عَلَى عَبْدِ اللهِ بْنِ أَبِي حَدْرَدٍ الْأَسْلَمِيِّ، فَلَقِيَهُ فَلَزِمَهُ، فَتَكَلَّمَا حَتَّى ارْتَفَعَتِ الْأَصْوَاتُ، فَمَرَّ بِهِمَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ:" يَا كَعْبُ" وَأَشَارَ بِيَدِهِ كَأَنَّهُ يَقُولُ النِّصْفَ، فَأَخَذَ نِصْفَ مَا عَلَيْهِ وَتَرَكَ نِصْفًا رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ يَحْيَى بْنِ بُكَيْرٍ وَأَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ فَقَالَ: قَالَ اللَّيْثُ، فَذَكَرَهُ.
سیدنا کعب بن مالک رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ میں نے عبداللہ بن ابی حدرد اسلمی رضی اللہ عنہما سے کچھ پیسے لینے تھے، میری ملاقات ان سے ہوئی تو میں نے انہیں روک لیا، ہم ایک دوسرے سے جھگڑنے لگے اور ہماری آواز بلند ہوگئی، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس سے گزرے تو فرمایا: ”اے کعب!“ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ہاتھ سے اشارہ کیا، جیسے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کہہ رہے ہوں کہ نصف قرضہ لے، چنانچہ میں نے آدھا قرضہ لے لیا اور آدھا چھوڑ دیا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب التفليس/حدیث: 11285]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ بخاري 457، و مسلم 1558»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 11286
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ دَاسَةَ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا مُعَاذُ بْنُ أَسَدٍ، ثنا النَّضْرُ بْنُ شُمَيْلٍ، ثنا هِرْمَاسُ بْنُ حَبِيبٍ، رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ الْبَادِيَةِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ قَالَ: أَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِغَرِيمٍ لِي، فَقَالَ لِي:" الزَمْهُ"، ثُمَّ قَالَ لِي:" يَا أَخَا بَنِي تَمِيمٍ مَا تُرِيدُ أَنْ تَفْعَلَ بِأَسِيرِكَ؟".
ہرماس بن حبیب (جو ایک دیہاتی تھے) اپنے دادا رضی اللہ عنہ سے نقل فرماتے ہیں کہ میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس اپنے ایک مقروض کو لایا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے فرمایا: ”اسے پکڑے رکھ“، پھر مجھے فرمایا: ”اے بنی تمیم کے جوان! تو اپنے قیدی کے ساتھ کیا سلوک کرنا چاہتا ہے؟“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب التفليس/حدیث: 11286]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 11287
أَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرِ بْنُ قَتَادَةَ، أنبأ أَبُو حَاتِمٍ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ بْنِ إِسْحَاقَ بِهَرَاةَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ السَّامِيُّ، ثنا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، أنبأ النَّضْرُ بْنُ شُمَيْلٍ، ثنا هِرْمَاسُ بْنُ حَبِيبٍ الْعَنْبَرِيُّ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، أَنَّهُ اسْتَعْدَى رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى غَرِيمِهِ، فَقَالَ:" الزَمْهُ"، ثُمَّ لَقِيَهُ بَعْدَ ذَلِكَ، فَقَالَ" مَا فَعَلَ أَسِيرُكَ يَا أَخَا بَنِي الْعَنْبَرِ؟".
ہرماس بن حبیب عنبری اپنے والد سے اور وہ اپنے دادا رضی اللہ عنہ سے نقل فرماتے ہیں کہ وہ اپنے ایک مقروض کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لے گئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اسے پکڑے رکھ۔“ پھر کچھ عرصہ بعد ملے تو فرمایا: ”اے بنی عنبر کے جوان! تیرے قیدی کا کیا بنا؟“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب التفليس/حدیث: 11287]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 11288
أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ الْفَقِيهُ، ثنا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مُعَاوِيَةَ النَّيْسَابُورِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ مُسْلِمِ بْنِ وَارَةَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ سَابِقٍ، ثنا عَمْرُو بْنُ أَبِي قَيْسٍ، عَنِ ابْنِ أَبِي لَيْلَى، عَنْ أَخِيهِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أُبِيِّ بْنِ كَعْبٍ قَالَ: دَخَلَ نَبِيُّ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَسْجِدَ وَأُبِيُّ بْنُ كَعْبٍ مُلَازِمٌ رَجُلًا، قَالَ: فَصَلَّى وَقَضَى حَاجَتَهُ، ثُمَّ خَرَجَ فَإِذَا هُوَ مُلَازِمُهُ، قَالَ:" حَتَّى الْآنَ يَا أُبِيُّ حَتَّى الْآنَ يَا أُبِيُّ مَنْ طَلَبَ أَخَاهُ فَلْيَطْلُبْهُ بِعَفَافٍ، وَافٍ أَوْ غَيْرِ وَافٍ"، فَلَمَّا سَمِعَ ذَلِكَ تَرَكَهُ وَتَبِعَهُ، قَالَ: فَقَالَ: يَا نَبِيَّ اللهِ، قُلْتَ قَبْلُ:" مَنْ طَلَبَ أَخَاهُ فَلْيَطْلُبْهُ بِعَفَافٍ، وَافٍ أَوْ غَيْرِ وَافٍ"، قَالَ:" نَعَمْ"، قَالَ: يَا نَبِيَّ اللهِ، مَا الْعَفَافُ؟ قَالَ:" غَيْرَ شَاتِمِهِ، وَلَا مُتَشِدِّدٍ عَلَيْهِ، وَلَا مُتَفَحِّشٍ عَلَيْهِ، وَلَا مُؤْذِيهِ" قَالَ:" وَافٍ أَوْ غَيْرِ وَافٍ"؟ قَالَ:" مُسْتَوْفٍ حَقَّهُ، أَوْ تَارِكٌ بَعْضَهُ".
سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے مسجد میں ایک آدمی کو پکڑ کر بٹھایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آگئے۔ آپ نے نماز پڑھی، پھر اپنا جو کام کرنے آئے تھے وہ کیا۔ ابھی تک میں نے اسے پکڑا ہوا تھا۔ یہ دیکھ کر آپ نے فرمایا: ”اے ابی! تم نے ابھی تک پکڑا ہوا ہے؟ جو شخص اپنے بھائی سے قرض واپس کرنے کا مطالبہ کرے تو «الْعَفَافِ» ”عفاف“ کے ساتھ کرے اور «وَافٍ أَوْ غَيْرِ وَافٍ» ”وفا کرتے ہوئے یا غیر وفا کرتے ہوئے“ کرے۔“ جب میں نے یہ بات سنی تو اسے چھوڑ دیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور پوچھا: اے اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم ! آپ نے کچھ دیر پہلے کہا ہے کہ «الْعَفَافِ» ”عفاف“ کے ساتھ اور «وَافٍ أَوْ غَيْرِ وَافٍ» ”واف اور غیر واف“ کے ساتھ قرض کا مطالبہ کرے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں۔“ میں نے کہا: اے اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم ! «الْعَفَافِ» ”عفاف“ کسے کہتے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس کا مطلب ہے نہ اسے گالی دے، نہ اس پر سختی کرے، نہ فحش گوئی کرے اور نہ اسے تکلیف دے۔“ میں نے کہا: «وَافٍ أَوْ غَيْرِ وَافٍ» ”واف اور غیر واف“ کا کیا مطلب ہے؟ ”پورا حق لے یا کچھ چھوڑ دے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب التفليس/حدیث: 11288]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
2385. -- باب: استحلاف من ذكر عسرة
-- باب: جو شخص تنگ دستی کا دعویٰ کرے اس سے قسم لینے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 11289
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ سَهْلِ بْنِ بَحْرٍ، ثنا أَبُو الطَّاهِرِ أَحْمَدُ بْنُ عَمْرٍو، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ، أَخْبَرَنِي أَبُو أَحْمَدَ الْحَافِظُ، أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ سُلَيْمَانَ بْنِ الْأَشْعَثِ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ، قَالَا: ثنا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي جَرِيرُ بْنُ حَازِمٍ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ أَبِي قَتَادَةَ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّهُ كَانَ يَطْلُبُ رَجُلًا بِحَقٍّ، فَاخْتَفَى مِنْهُ، فَقَالَ: مَا حَمَلَكَ عَلَى هَذَا؟ قَالَ: الْعُسْرَةُ، قَالَ: فَاسْتَحْلَفَهُ عَلَى ذَلِكَ، فَحَلَفَ، فَدَعَا بِصَكِّهِ فَأَعْطَاهُ إِيَّاهُ وَقَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:" مَنْ آسَى مُعْسِرًا، أَوْ وَضَعَ عَنْهُ، نَجَّاهُ اللهُ مِنْ كُرَبِ يَوْمِ الْقِيَامَةِ" لَفْظُ حَدِيثِ أَحْمَدَ بْنِ صَالِحٍ، وَرَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ أَبِي الطَّاهِرِ.
عبداللہ بن ابی قتادہ اپنے والد (سیدنا ابوقتادہ رضی اللہ عنہ) سے نقل فرماتے ہیں کہ وہ ایک آدمی سے قرض واپس لینے کا مطالبہ کرتے تھے۔ پھر ایسا ہوا کہ وہ چھپ گیا۔ جب وہ دوبارہ ملا تو اس سے کہا: تو نے ایسا کیوں کیا؟ اس نے کہا: تنگدستی کی وجہ سے، تو انہوں نے اس سے قسم لی۔ تو اس نے قسم اٹھالی۔ انہوں نے اپنا اقرار نامہ منگوایا اور اسے دے دیا اور کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: ”جو شخص کسی تنگ دست سے نرمی کرے یا قرض معاف کرے تو اللہ تعالیٰ قیامت کی سختیوں سے اسے نجات دے گا۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب التفليس/حدیث: 11289]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ مسلم 1563»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں