السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
2410. -- باب: ما يستدل به على أن الضمان لا ينقل الحق بل يزيد في محل الحق فيكون لرب المال أن يأخذهما وكل واحد منهما
-- باب: ان دلائل کا بیان جن سے ثابت ہوتا ہے کہ ضمانت حق کو منتقل نہیں کرتی بلکہ حق کے محل میں اضافہ کرتی ہے، پس مال کے مالک کو اختیار ہے کہ ان دونوں (مقروض اور ضامن) سے یا ان میں سے کسی ایک سے اپنا حق وصول کر لے۔
حدیث نمبر: 11402
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ الْفَقِيهُ، أنبأ عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا الْقَعْنَبِيُّ، ح وَأنبأ عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ، ثنا إِسْمَاعِيلُ الْقَاضِي، ⦗١٢٣⦘ ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ مَسْلَمَةَ، وَإِبْرَاهِيمُ بْنُ حَمْزَةَ، قَالَا: ثنا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ أَبِي عَمْرٍو، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ رَجُلًا لَزِمَ غَرِيمًا لَهُ بِعَشَرَةِ دَنَانِيرَ، فَقَالَ لَهُ: وَاللهِ مَا عِنْدِي قَضَاءٌ أَقْضِيَكَهُ الْيَوْمَ، قَالَ: فَوَاللهِ لَا أُفَارِقُكَ حَتَّى تُعْطِيَنِي أَوْ تَأْتِيَ بِحَمِيلٍ يَتَحَمَّلُ عَنْكَ، قَالَ: وَاللهِ مَا عِنْدِي قَضَاءٌ، وَمَا أَجِدُ مَنْ يَتَحَمَّلُ عَنِّي، فَجَرَّهُ إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ، إِنَّ هَذَا لَزِمَنِي وَاسْتَنْظَرْتُهُ شَهْرًا وَاحِدًا، فَأَبَى حَتَّى أَقْضِيَهُ أَوْ آتِيَهُ بِحَمِيلٍ، فَقُلْتُ: وَاللهِ مَا أَجِدُ حَمِيلًا، وَلَا عِنْدِي قَضَاءٌ الْيَوْمَ، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" هَلْ تَسْتَنْظِرُهُ إِلَّا شَهْرًا وَاحِدًا؟" قَالَ: لَا، قَالَ: فَأَنَا أَتَحَمَّلُ بِهَا عَنْكَ، فَتَحَمَّلَ بِهَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَذَهَبَ الرَّجُلُ فَأَتَاهُ بِقَدْرِ مَا وَعَدَهُ، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مِنْ أَيْنَ جِئْتَ بِهَذَا الذَّهَبِ؟" قَالَ: مِنْ مَعْدِنٍ، قَالَ:" اذْهَبْ فَلَا حَاجَةَ لَنَا فِيهَا؛ لَيْسَ فِيهَا خَيْرٌ"، قَالَ: فَقَضَاهَا عَنْهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَفِي هَذَا كَالدَّلَالَةِ عَلَى أَنَّ الْحَقَّ بَقِيَ فِي ذِمَّتِهِ بَعْدَ التَّحَمُّلِ حَتَّى أَكَّدَ عَلَيْهِ مِقْدَارَ الِاسْتِنْظَارِ، ثُمَّ إِنَّهُ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَطَوَّعَ بِالْقَضَاءِ عَنْهُ، وَتَنَزَّهَ عَنِ التَّصَرُّفِ فِي مَالِ الْمَعْدِنِ، وَاللهُ أَعْلَمُ. وَقَدْ رُوِّينَا عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ:" نَفْسُ الْمُؤْمِنِ مُعَلَّقَةٌ بِدَيْنِهِ حَتَّى يُقْضَى عَنْهُ".
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ ایک آدمی پر دس دینار قرض تھے۔ اس نے اسے پکڑ لیا۔ مقروض نے کہا: میرے پاس قرض ادا کرنے کے لیے کچھ نہیں ہے، تجھے کسی اور دن دے دوں گا۔ اس نے کہا: اللہ کی قسم! میں تجھے نہیں چھوڑوں گا یہاں تک کہ تو مجھے قرض لوٹا دے یا اپنی طرف سے ضامن پیش کر دے۔ اس نے جواب دیا: اللہ کی قسم! نہ میرے پاس قرض دینے کی کوئی چیز ہے اور نہ میں کسی ضامن کو پاتا ہوں۔ پس وہ اسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لے آیا اور (مقروض نے) کہا: اے اللہ کے رسول! اس نے مجھے پکڑ رکھا ہے، میں نے اس سے ایک مہینے کی مہلت مانگی تو اس نے انکار کر دیا یہاں تک کہ میں قرض ادا کروں یا کوئی ضامن پیش کروں۔ پس میں نے کہا: اللہ کی قسم! آج میرے پاس نہ کوئی ضامن ہے اور نہ قرض لوٹانے کی رقم۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے پوچھا: ”کیا تو ایک مہینہ اور ٹھہر سکتا ہے؟“ اس نے کہا: نہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں تیری طرف سے ضامن ہوں۔“ آدمی چلا گیا، وعدے کے مطابق وہ آدمی واپس آیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”یہ سونا کہاں سے لایا ہے؟“ اس نے کہا: کان سے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”چلا جا ہمیں اس کی ضرورت نہیں ہے، اس میں کوئی خیر نہیں۔“ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی طرف سے اس کا قرض دے دیا۔ یہ اس بات پر دلالت ہے کہ ضمانت کے بعد بھی حق اس کے ذمہ میں رہتا ہے، اسی لیے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مہلت کی مقدار کی تاکید کی۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی طرف سے قرض لوٹا دیا اور کان کے مال سے بچے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول ہے کہ: ”مومن آدمی کی روح اس کے قرض کی وجہ سے لٹکی رہتی ہے حتیٰ کہ ادا کر دیا جائے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الضمان/حدیث: 11402]
تخریج الحدیث: «حسن»
الحكم على الحديث: حسن
2411. -- باب: رجوع الضامن على المضمون عنه بما غرم وضمن بأمره
-- باب: ضامن کا اس شخص کی طرف رجوع کرنے کا بیان جس کی اس نے ضمانت دی تھی، اس تاوان کے بدلے جو اس نے ادا کیا اور اس کے حکم سے ضمانت دی تھی۔
حدیث نمبر: 11403
أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ أَبِي قَمَّاشٍ، ثنا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ أَبُو عِمْرَانَ الْجَبَلِيُّ، ثنا مَعْنُ بْنُ عِيسَى الْقَزَّازُ، عَنِ الْحَارِثِ بْنِ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ إِيَاسٍ اللَّيْثِيِّ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ يَزِيدَ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ قُسَيْطٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنِ الْفَضْلِ بْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: أَتَانِي رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يُوعَكُ وَعْكًا شَدِيدًا، وَقَدْ عَصَبَ رَأْسَهُ فَقَالَ:" خُذْ بِيَدِي يَا فَضْلُ"، فَأَخَذْتُ بِيَدِهِ حَتَّى قَعَدَ عَلَى الْمِنْبَرِ، ثُمَّ قَالَ: فَذَكَرَ الْحَدِيثَ إِلَى أَنْ قَالَ:" مَنْ قَدْ كُنْتُ أَخَذْتُ لَهُ مَالًا فَهَذَا مَالِي فَلْيَأْخُذْ مِنْهُ"، فَقَامَ رَجُلٌ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ، إِنَّ لِي عِنْدَكَ ثَلَاثَةَ دَرَاهِمَ، فَقَالَ:" أَمَّا أَنَا فَلَا أُكَذِّبُ قَائِلًا، وَلَا أَسْتَحْلِفُ عَلَى يَمِينٍ فِيمَ كَانَتْ لَكَ عِنْدِي؟" قَالَ: أَمَا تَذْكُرُ أَنَّهُ مَرَّ بِكَ سَائِلٌ فَأَمَرْتَنِي فَأَعْطَيْتُهُ ثَلَاثَةَ دَرَاهِمَ؟ قَالَ:" أَعْطِهِ يَا فَضْلُ".
سیدنا فضل بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: میرے پاس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم شدید بیماری میں تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا سرِ مبارک بندھا ہوا تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے فضل! میرا ہاتھ پکڑو“، پس میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا ہاتھ پکڑا یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم منبر پر تشریف فرما ہوئے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں نے جس سے مال لیا ہو میرا یہ مال ہے وہ اس سے لے لے“۔ ایک آدمی کھڑا ہوا، اس نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! میرے آپ پر تین درہم ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں نہ (حق کا مطالبہ) کہنے والے کو جھوٹا کہتا ہوں اور نہ اس پر قسم مانگتا ہوں جو میرے ذمہ ہے، کس چیز میں تیرے درہم میرے ذمہ ہیں؟“ اس نے عرض کیا: کیا آپ کو یاد ہے آپ کے پاس سے ایک آدمی گزرا، اس نے سوال کیا تو آپ نے مجھے فرمایا تھا کہ میں اسے تین درہم دے دوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے فضل! اسے دے دو“۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الضمان/حدیث: 11403]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
2412. -- باب: الضمان عن الميت
-- باب: میت کی طرف سے (اس کے قرض کی) ضمانت دینے کا بیان۔
حدیث نمبر: 11404
أَخْبَرَنَا أَبُو عَمْرٍو مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْأَدِيَبُ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ الْإِسْمَاعِيلِيُّ، أنبأ الْقَاسِمُ بْنُ زَكَرِيَّا، ثنا الْوَلِيدُ بْنُ شُجَاعٍ، وَيُوسُفُ، قَالَا: ثنا أَبُو عَاصِمٍ، عَنْ يَزِيدَ هُوَ ابْنُ أَبِي عُبَيْدٍ، عَنْ سَلَمَةَ هُوَ ابْنُ الْأَكْوَعِ قَالَ: أُتِيَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِجِنَازَةٍ، فَقَالُوا: يَا نَبِيَّ اللهِ، صَلِّ ⦗١٢٤⦘ عَلَيْهَا، قَالَ:" هَلْ تَرَكَ مِنْ شَيْءٍ؟" قَالُوا: لَا، قَالَ:" هَلْ تَرَكَ مِنْ دَيْنٍ؟" قَالُوا: لَا، قَالَ: فَصَلَّى عَلَيْهَا. ثُمَّ أُتِيَ بِجِنَازَةٍ، فَقَالُوا: يَا نَبِيَّ اللهِ، صَلِّ عَلَيْهَا، قَالَ:" هَلْ تَرَكَ مِنْ دَيْنٍ؟" قَالُوا: نَعَمْ، أَوْ قَالُوا: لَا، قَالَ: فَهَلْ تَرَكَ مِنْ شَيْءٍ؟" قَالُوا: ثَلَاثَةَ دَنَانِيرَ، قَالَ:" ثَلَاثَ كَيَّاتٍ"، قَالَ هَكَذَا بِيَدِهِ، ثُمَّ أُتِيَ بِجِنَازَةٍ أُخْرَى، فَقِيلَ: يَا نَبِيَّ اللهِ، صَلِّ عَلَيْهَا، قَالَ:" هَلْ تَرَكَ مِنْ دَيْنٍ؟" قَالُوا:" نَعَمْ، قَالَ:" هَلْ تَرَكَ مِنْ شَيْءٍ؟" قَالُوا: لَا، قَالَ:" صَلُّوا عَلَى صَاحِبِكُمْ"، قَالَ أَبُو قَتَادَةَ: يَا نَبِيَّ اللهِ، عَلَيَّ دَيْنُهُ، قَالَ: فَصَلَّى عَلَيْهِ رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ مُخْتَصَرًا عَنْ أَبِي عَاصِمٍ.
اس کا ترجمہ حدیث نمبر ۱۱۳۹۶ کے تحت گزر چکا ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الضمان/حدیث: 11404]
تخریج الحدیث: «بخاري 2295»
الحكم على الحديث: بخاري 2295
حدیث نمبر: 11405
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ شَاذَانَ، ثنا مُعَاوِيَةُ بْنُ عَمْرٍو، ثنا زَائِدَةُ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَقِيلٍ قَالَ: قَالَ جَابِرٌ: تُوُفِّيَ رَجُلٌ فَغَسَّلْنَاهُ وَحَنَّطْنَاهُ وَكَفَّنَّاهُ، ثُمَّ أَتَيْنَا النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقُلْنَا لَهُ: تُصَلِّي عَلَيْهِ؟ فَقَامَ فَخَطَا خُطًى ثُمَّ قَالَ:" عَلَيْهِ دَيْنٌ؟" قَالَ: فَقِيلَ: دِينَارَانِ، قَالَ: فَانْصَرَفَ. قَالَ: فَتَحَمَّلَهُمَا أَبُو قَتَادَةَ، قَالَ: فَأَتَيْنَاهُ، قَالَ: فَقَالَ أَبُو قَتَادَةَ: الدِّينَارَانِ عَلَيَّ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" حَقُّ الْغَرِيمِ، وَبَرِئَ مِنْهُمَا الْمَيِّتُ"، قَالَ: نَعَمْ، فَصَلَّى عَلَيْهِ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: فَقَالَ لَهُ بَعْدَ ذَلِكَ بِيَوْمٍ:" مَا فَعَلَ الدِّينَارَانِ؟" قَالَ: إِنَّمَا مَاتَ أَمْسِ، قَالَ: فَعَادَ إِلَيْهِ كَالْغَدِ قَالَ: قَدْ قَضَيْتُهُمَا، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" الْآنَ بَرَدَتْ عَلَيْهِ جِلْدُهُ".
اس کا ترجمہ حدیث نمبر ۱۱۴۰۱ کے تحت گزر چکا ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الضمان/حدیث: 11405]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 11406
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ أَبِي دَاوُدَ الْمُنَادِي، ثنا يُونُسُ بْنُ مُحَمَّدٍ، ثنا عِيسَى بْنُ صَدَقَةَ قَالَ: دَخَلْتُ أَنَا وَأَبِي وَإِمَامُ الْحِيِّ عَلَى أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، فَقَالُوا لَهُ: حَدِّثْنَا حَدِيثًا سَمِعْتَهُ مِنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَنْفَعُنَا اللهُ بِهِ، قَالَ: مَاتَ رَجُلٌ فَجَاءَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقُلْنَا: يَا رَسُولَ اللهِ، أَتُصَلِّي عَلَيْهِ؟ فَقَالَ:" هَلْ عَلَيْهِ دَيْنٌ؟" قُلْنَا: نَعَمْ، قَالَ: أَفَيَضْمَنُهُ مِنْكُمْ أَحَدٌ حَتَّى أُصَلِّيَ عَلَيْهِ؟" قَالُوا: لَا، قَالَ:" فَمَا يَنْفَعُكُمْ أَنْ أُصَلِّيَ عَلَى رَجُلٍ مُرْتَهَنٍ فِي قَبْرِهِ حَتَّى يَبْعَثَهُ اللهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ فَيُحَاسِبَهُ؟" وَرَوَاهُ أَبُو الْوَلِيدِ الطَّيَالِسِيُّ عَنْ عِيسَى فَأَدْخَلَ بَيْنَهُ وَبَيْنَ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ عَبْدَ الْحَمِيدِ بْنَ أَبِي أُمَيَّةَ.
عیسیٰ بن صدقہ فرماتے ہیں: میں، میرے والد اور محلے کے امام سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ کے پاس گئے اور کہا کہ ہمیں حدیث بیان کریں جو آپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی ہو، اللہ اسے ہمارے لیے نفع کا باعث بنائے۔ سیدنا انس رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ایک آدمی فوت ہو گیا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے۔ ہم نے کہا: اے اللہ کے رسول! کیا آپ اس کی نمازِ جنازہ پڑھائیں گے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا اس پر کوئی قرض ہے؟“ ہم نے کہا: ہاں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم میں سے کوئی اس کی ضمانت دے گا تاکہ میں نمازِ جنازہ پڑھاؤں؟“ انہوں نے نہ میں جواب دیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پس تمہیں یہ بات نفع نہیں دے گی کہ میں کسی ایسے آدمی کی نمازِ جنازہ پڑھاؤں جسے اس کی قبر میں رہن کے طور پر رکھا جا رہا ہو، یہاں تک کہ اللہ اسے قیامت کے دن اٹھائے اور اس سے حساب کتاب کیا جائے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الضمان/حدیث: 11406]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 11407
أَخْبَرَنَاهُ أَبُو الْحَسَنِ بْنُ عَبْدَانَ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ، ثنا مُعَاذُ بْنُ الْمُثَنَّى، ثنا أَبُو الْوَلِيدِ الطَّيَالِسِيُّ، ثنا عِيسَى بْنُ صَدَقَةَ، عَنْ عَبْدِ الْحَمِيدِ بْنِ أَبِي أُمَيَّةَ قَالَ: شَهِدْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ وَهُوَ يَقُولُ: الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي حَبَسَ السَّمَاءَ أَنْ تَقَعَ عَلَى الْأَرْضِ إِلَّا بِإِذْنِهِ، فَقَالَ لَهُ رَجُلٌ: يَا أَبَا حَمْزَةَ، لَوْ حَدَّثْتَنَا حَدِيثًا عَسَى اللهُ أَنْ يَنْفَعَنَا بِهِ، قَالَ: مَنِ اسْتَطَاعَ مِنْكُمْ أَنْ ⦗١٢٥⦘ يَمُوتَ وَلَيْسَ عَلَيْهِ دَيْنٌ فَلْيَفْعَلْ؛ فَإِنِّي شَهِدْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأُتِيَ بِجِنَازَةِ رَجُلٍ لِيُصَلِّيَ عَلَيْهِ فَقَالَ:" عَلَيْهِ دَيْنٌ؟" قَالُوا: نَعَمْ، قَالَ:" فَمَا يَنْفَعُهُ أَنْ أُصَلِّيَ عَلَى رَجُلٍ رُوحُهُ مُرْتَهَنٌ فِي قَبْرِهِ، لَا تَصْعَدُ رُوحُهُ إِلَى اللهِ، فَلَوْ ضَمِنَ رَجُلٌ دَيْنَهُ قُمْتُ فَصَلَّيْتُ عَلَيْهِ؛ فَإِنَّ صَلَاتِي تَنْفَعُهُ".
عبدالحمید رحمہ اللہ فرماتے ہیں: میں سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ کے پاس گیا، وہ فرما رہے تھے: تمام تعریفیں اس ذات کے لیے ہیں جس نے آسمان کو زمین پر واقع ہونے سے روک رکھا ہے اپنی اجازت سے۔ ایک آدمی نے کہا: اے ابو حمزہ! اگر آپ ہمیں کوئی حدیث بیان کردیں تو ہوسکتا ہے کہ اللہ ہمیں اس سے نفع پہنچائے۔ سیدنا انس رضی اللہ عنہ فرمانے لگے: تم میں سے جو طاقت رکھتا ہے کہ اس حالت میں فوت ہو کہ اس پر قرض نہ ہو تو ضرور ایسا کرے۔ بیشک میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس تھا، ایک جنازہ لایا گیا تاکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس کی نماز جنازہ پڑھائیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”یہ مقروض تو نہیں؟“ انہوں نے کہا: ہاں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میرا اس آدمی پر نماز پڑھانا اسے نفع نہیں دے گا جس کی روح اس کی قبر میں رہن رکھی ہوئی ہو۔ پھر اس کی روح اللہ کی طرف نہیں چڑھائی جاتی۔ پس اگر کوئی آدمی اس کی ضمانت دے اس کے قرض کی تو میں جنازہ پڑھا دیتا ہوں۔ میرا نماز جنازہ پڑھانا اسے نفع دے گا۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الضمان/حدیث: 11407]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 11408
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ الْفَارِسِيُّ، أَنْبَأَ إِبْرَاهِيمُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْأَصْفَهَانِيُّ، أَنْبَأَ أَبُو أَحْمَدَ بْنُ فَارِسٍ قَالَ: قَالَ الْبُخَارِيُّ: قَالَ أَبُو الْوَلِيدِ: هُوَ ضَعِيفٌ، يَعْنِي عِيسَى بْنَ صَدَقَةَ، هَذَا وَخَالَفَهُمَا عُبَيْدُ اللهِ بْنُ مُوسَى فَقَالَ: صَدَقَةُ بْنُ عِيسَى، وَوَافَقَ يُونُسَ فِي ذِكْرِ سَمَاعِهِ مِنْ أَنَسٍ.
امام بخاری رحمہ اللہ نے کہا: ابو الولید نے کہا: وہ ضعیف ہے، یعنی عیسیٰ بن صدقہ۔ عبید اللہ بن موسیٰ نے ان دونوں کی مخالفت کی اور (اس کا نام) صدقہ بن عیسیٰ بیان کیا، اور سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے اس کے سماع کے ذکر میں یونس کی موافقت کی۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الضمان/حدیث: 11408]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 11409
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي، ثنا أَبُو جَعْفَرِ بْنُ دُحَيْمٍ الشَّيْبَانِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ بْنِ أَبِي الْحُنَيْنِ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ثنا عُبَيْدُ اللهِ بْنُ مُوسَى، عَنْ صَدَقَةَ بْنِ عِيسَى قَالَ: سَمِعْتُ أَنَسًا يَقُولُ: أُتِيَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِرَجُلٍ يُصَلِّي عَلَيْهِ، فَقَالَ:" عَلَيْهِ دَيْنٌ؟" قَالُوا: نَعَمْ، قَالَ:" إِنْ ضَمِنْتُمْ دَيْنَهُ صَلَّيْتُ عَلَيْهِ" قَالَ: الْبُخَارِيُّ: وَقَالَ أَبُو دَاوُدَ: ثنا صَدَقَةُ أَبُو مُحْرِزٍ، سَمِعَ أَنَسًا.
صدقہ بن عیسیٰ رحمہ اللہ فرماتے ہیں: میں نے سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے سنا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک جنازہ لایا گیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا: ”کیا اس پر قرض تو نہیں؟“ انہوں نے عرض کیا: جی ہاں، (آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:) ”اگر تم اس کی ضمانت دو تو میں نماز جنازہ پڑھا دیتا ہوں۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الضمان/حدیث: 11409]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 11410
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْفَضْلِ الْحَسَنُ بْنُ يَعْقُوبَ الْعَدْلُ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ الْعَبْدِيُّ، ثنا جَعْفَرُ بْنُ عَوْنٍ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبِي خَالِدٍ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ، أنبأ أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ الْحَافِظُ، ثنا يَحْيَى بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى، ثنا مُسَدَّدٌ، ثنا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي خَالِدٍ، حَدَّثَنِي عَامِرٌ الشَّعْبِيُّ، عَنْ سَمُرَةَ بْنِ جُنْدُبٍ قَالَ: صَلَّى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ يَوْمٍ فَلَمَّا أَقْبَلَ قَالَ:" هَا هُنَا مِنْ بَنِي فُلَانٍ أَحَدٌ؟" فَسَكَتَ الْقَوْمُ، وَكَانَ إِذَا ابْتَدَأَهُمْ بِشَيْءٍ سَكَتُوا، ثُمَّ قَالَ:" هَا هُنَا مِنْ بَنِي فُلَانٍ أَحَدٌ؟" فَقَالَ رَجُلٌ: هَذَا فُلَانٌ، فَقَالَ:" أَمَا إِنَّ صَاحِبَكُمْ قَدْ حُبِسَ عَلَى بَابِ الْجَنَّةِ بِدَيْنٍ كَانَ عَلَيْهِ"، فَقَالَ رَجُلٌ: عَلَيَّ دَيْنُهُ، فَقَضَاهُ وَبِمَعْنَاهُ رَوَاهُ جَمَاعَةٌ عَنِ الشَّعْبِيِّ. وَرَوَاهُ سَعِيدُ بْنُ مَسْرُوقٍ الثَّوْرِيُّ عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ سَمْعَانَ بْنِ مُشَنَّجٍ، عَنْ سَمُرَةَ. وَقَدْ مَضَى ذِكْرُهُ فِي كِتَابِ التَّفْلِيسِ.
سیدنا سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک دن نماز پڑھائی پھر جب متوجہ ہوئے تو پوچھا: ”کیا بنی فلاں کا کوئی آدمی ادھر ہے؟“ لوگ خاموش رہے، اور جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان سے کسی بات کی ابتدا کرتے تو وہ خاموش رہتے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر پوچھا: ”کیا بنی فلاں کا کوئی آدمی ادھر ہے؟“ ایک آدمی نے کہا: یہ فلاں ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تمہارا ساتھی جنت کے دروازے پر قرض کی وجہ سے رک گیا ہے۔“ ایک آدمی نے کہا: اس کا قرض مجھ پر ہے، پھر اس نے ادا کر دیا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الضمان/حدیث: 11410]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 11411
أَخْبَرَنَا أَبُو صَادِقٍ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ مُحَمَّدٍ الْعَطَّارُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ عَفَّانَ الْعَامِرِيُّ، ثنا أَبُو أُسَامَةَ، ثنا زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي زَائِدَةَ، عَنْ سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" نَفْسُ الْمُؤْمِنِ مُعَلَّقَةٌ بِدَيْنِهِ حَتَّى يُقْضَى عَنْهُ".
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مسلمان کی جان اس کے قرض کی وجہ سے لٹکا دی جاتی ہے یہاں تک کہ وہ ادا کر دیا جائے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الضمان/حدیث: 11411]
تخریج الحدیث: «احمد 4402، 9677»
الحكم على الحديث: احمد 4402، 9677