السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
2437. -- باب: تحريم الغصب وأخذ أموال الناس بغير حق
-- باب: غصب کرنے اور لوگوں کے مال ناحق لینے کی حرمت کا بیان۔
حدیث نمبر: 11493
وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْفَتْحِ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ أَبِي الْفَوَارِسِ الْحَافِظُ بِبَغْدَادَ، أنبأ أَحْمَدُ بْنِ يُوسُفَ، ثنا الْحَارِثُ بْنُ مُحَمَّدٍ، ح قَالَ: وَحَدَّثَنَا أَبُو عَلِيٍّ الصَّوَّافُ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى الْمَرْوَزِيُّ، قَالَا: ثنا عَاصِمُ بْنُ عَلِيٍّ، ثنا عَاصِمُ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنْ وَاقِدِ بْنِ مُحَمَّدٍ قَالَ: سَمِعْتُ أَبِي وَهُوَ يَقُولُ: قَالَ عَبْدُ اللهِ هُوَ ابْنُ عُمَرَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي حِجَّةِ الْوَدَاعِ:" أَلَا أِيُّ شَهْرٍ تَعْلَمُونَهُ أَعْظَمَ حُرْمَةً؟" قَالُوا: شَهْرُنَا هَذَا، قَالَ:" أِيُّ بَلَدٍ تَعْلَمُونَهُ أَعْظَمَ حُرْمَةً؟" قَالُوا: بَلَدُنَا هَذَا، قَالَ:" تَعْلَمُونَ أِيَّ يَوْمٍ أَعْظَمَ؟" قَالُوا: يَوْمُنَا هَذَا، قَالَ:" فَإِنَّ اللهَ حَرَّمَ عَلَيْكُمْ دِمَاءَكُمْ وَأَمْوَالَكُمْ وَأَعْرَاضَكُمْ إِلَّا بِحَقِّهَا، كَحُرْمَةِ يَوْمِي هَذَا فِي بَلَدِكُمْ هَذَا، أَلَا هَلْ بَلَّغْتُ؟ ثَلَاثًا، كُلُّ ذَلِكَ يُجِيبُونَهُ: أَلَا نَعَمْ.
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حجۃ الوداع کے موقع پر فرمایا: ”سنو! تم کس مہینے کو زیادہ حرمت والا خیال کرتے ہو؟“ انھوں نے جواب دیا: اپنے اس (ذوالحجہ) مہینے کو۔ پھر فرمایا: ”کس شہر کو زیادہ حرمت والا خیال کرتے ہو؟“ انھوں نے جواب دیا: اس شہر (مکہ) کو۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا تم جانتے ہو، کون سا دن زیادہ حرمت والا ہے؟“ انھوں نے کہا: ہمارا یہ دن (حج کا دن)۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ نے تم پر حرام کر دیا ہے، تمہارے خون، مال اور عزتوں کو مگر حق کے ساتھ جس طرح تمہارے اس دن کی حرمت ہے تمہارے اس شہر میں، خبردار! کیا میں نے پیغامِ الٰہی پہنچا دیا؟“ تین دفعہ پوچھا، سب نے ہاں میں جواب دیا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الغصب/حدیث: 11493]
تخریج الحدیث: «بخاري 6785، مسلم 66»
الحكم على الحديث: بخاري 6785، مسلم 66
حدیث نمبر: 11494
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو سَعِيدٍ أَحْمَدُ بْنُ يَعْقُوبَ الثَّقَفِيُّ، ثنا أَبُو بَكْرٍ عُمَرُ بْنُ حَفْصٍ السَّدُوسِيُّ، ثنا عَاصِمُ بْنُ عَلِيٍّ، فَذَكَرَهُ بِإِسْنَادِهِ نَحْوَهُ، إِلَّا أَنَّهُ قَالَ:" أَلَا أِيُّ بَلَدٍ"،" أَلَا أِيُّ يَوْمٍ" وَقَالَ:" أَلَا شَهْرُنَا هَذَا"،" أَلَا بَلَدُنَا هَذَا"،" أَلَا يَوْمُنَا هَذَا"، وَزَادَ فِيهِ:" مِنْ شَهْرِكُمْ هَذَا"، وَزَادَ فِي آخِرِهِ: وَقَالَ:" وَيْحَكُمْ" أَوْ" وَيْلَكُمْ لَا تَرْجِعُوا بَعْدِي كُفَّارًا يَضْرِبُ بَعْضُكُمْ رِقَابَ بَعْضٍ" رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللهِ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ عَلِيٍّ.
ایک سند کے ساتھ اسی طرح روایت ہے، مگر اس میں یہ ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”سنو! کون سا شہر“ اور ”سنو! کون سا دن“ اور (لوگوں کے جواب میں) یہ ہے: ”سنو! ہمارا یہ مہینہ“، ”سنو! ہمارا یہ شہر“، ”سنو! ہمارا یہ دن“۔ اور اس میں ”تمہارے اس مہینے میں“ کا اضافہ ہے، اور آخر میں یہ اضافہ ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”افسوس ہے تم پر“ یا ”ہلاکت ہو تمہارے لیے! میرے بعد تم کفر میں نہ لوٹ جانا کہ تم ایک دوسرے کی گردنیں اتارنے لگ جاؤ۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الغصب/حدیث: 11494]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 11495
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ الْفَضْلِ بْنِ نَظِيفٍ الْمِصْرِيُّ بِمَكَّةَ، ثنا أَبُو الْفَضْلِ الْعَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ نَصْرِ بْنِ السَّرِيِّ الرَّافِقِيُّ إِمْلَاءً، ثنا أَبُو عُمَرَ هِلَالُ بْنُ الْعَلَاءِ بْنِ هِلَالٍ الرَّقِّيُّ، ثنا هَوْذَةُ بْنُ خَلِيفَةَ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ عَوْنٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي بَكْرَةَ، عَنْ أَبِي بَكْرَةَ قَالَ: لَمَّا كَانَ ذَلِكَ الْيَوْمُ رَكِبَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَاقَتَهُ ثُمَّ وَقَفَ فَقَالَ:" أَتَدْرُونَ أِيُّ يَوْمٍ هَذَا؟"، فَسَكَتْنَا حَتَّى رَأَيْنَا أَنَّهُ سَيُسَمِّيهِ سِوَى اسْمِهِ، فَقَالَ:" ⦗١٥٣⦘ أَلَيْسَ يَوْمَ النَّحْرِ؟" قُلْنَا: بَلَى، ثُمَّ قَالَ:" أَتَدْرُونَ أِيُّ شَهْرٍ هَذَا؟" فَسَكَتْنَا حَتَّى رَأَيْنَا أَنَّهُ سَيُسَمِّيهِ سِوَى اسْمِهِ، قَالَ:" أَلَيْسَ ذَا الْحِجَّةِ؟" قَالُوا: بَلَى يَا رَسُولَ اللهِ، قَالَ:" أَتَدْرُونَ أِيُّ بَلَدٍ هَذَا؟" فَسَكَتْنَا حَتَّى رَأَيْنَا أَنَّهُ سَيُسَمِّيهِ سِوَى اسْمِهِ، قَالَ:" أَلَيْسَ الْبَلْدَةَ؟" فَقُلْنَا: بَلَى، قَالَ: فَإِنَّ أَمْوَالَكُمْ وَأَعْرَاضَكُمْ وَدِمَاءَكُمْ حَرَامٌ بَيْنَكُمْ مِثْلُ يَوْمِكُمْ، فِي مِثْلِ شَهْرِكُمْ، فِي مِثْلِ بَلَدِكُمْ، أَلَا لِيُبَلِّغِ الشَّاهِدُ الْغَائِبَ، مَرَّتَيْنِ، فَرُبَّ مُبَلَّغٍ هُوَ أَوْعَى مِنْ سَامِعٍ"، ثُمَّ مَالَ عَلَى نَاقَتِهِ إِلَى غُنَيْمَاتٍ فَجَعَلَ يَقْسِمُهَا، بَيْنَ الرَّجُلَيْنِ الشَّاةُ، وَالثَّلَاثَةِ الشَّاةُ أَخْرَجَهُ الْبُخَارِيُّ وَمُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ مِنْ حَدِيثِ ابْنِ عَوْنٍ وَغَيْرِهِ.
سیدنا ابوبکرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جب حجۃ الوداع کا دن تھا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی اونٹنی پر سوار ہوئے، پھر ٹھہرے اور فرمایا: ”کیا تم جانتے ہو یہ کون سا دن ہے؟“ ہم خاموش ہو گئے، ہم نے خیال کیا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس نام کے علاوہ نام لیں گے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا یہ قربانی کا دن نہیں ہے؟“ ہم نے کہا: کیوں نہیں یا رسول اللہ! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا تم جانتے ہو یہ کون سا مہینہ ہے؟“ ہم خاموش ہو گئے، ہم نے خیال کیا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس کے نام کے علاوہ نام لیں گے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا یہ ذوالحجہ نہیں ہے؟“ ہم نے کہا: کیوں نہیں یا رسول اللہ! پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”کیا تم جانتے ہو یہ کون سا شہر ہے؟“ ہم خاموش رہے یہاں تک کہ ہم نے گمان کیا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس نام کے علاوہ نام لیں گے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا یہ (حرمت والا) شہر نہیں ہے؟“ ہم نے کہا: ہاں یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بیشک تمہارا مال، عزتیں اور تمہارے خون آپس میں حرام ہیں، جس طرح تمہارے اس دن، اس شہر اور اس مہینے کی حرمت ہے۔ خبردار! جو حاضر ہے اسے غائب تک پہنچا دینا چاہیے۔“ یہ دو مرتبہ فرمایا۔ ”بسا اوقات جسے پہنچایا جاتا ہے وہ سننے والے سے زیادہ یاد رکھتا ہے۔“ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی اونٹنی پر چند بکریوں کی طرف مائل ہوئے اور انہیں تقسیم کرنے لگے، ایک بکری دو آدمیوں کے درمیان اور تین کے درمیان بھی ایک بکری۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الغصب/حدیث: 11495]
تخریج الحدیث: «بخاري 1742، مسلم 1679»
الحكم على الحديث: بخاري 1742، مسلم 1679
حدیث نمبر: 11496
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ إِمْلَاءً، أنبأ أَبُو الْمُثَنَّى، وَمُحَمَّدُ بْنُ عِيسَى بْنِ السَّكَنِ، وَهِشَامُ بْنُ عَلِيٍّ، قَالُوا: ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ مَسْلَمَةَ الْقَعْنَبِيُّ، ثنا دَاوُدُ بْنُ قَيْسٍ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ مَوْلَى عَامِرِ بْنِ كَرِيزٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" لَا تَحَاسَدُوا، وَلَا تَبَاغَضُوا، وَلَا تَنَاجَشُوا، وَلَا تَدَابَرُوا، وَلَا يَبِعْ بَعْضُكُمْ عَلَى بَيْعِ بَعْضٍ، وَكُونُوا عِبَادَ اللهِ إِخْوَانًا، الْمُسْلِمُ أَخُو الْمُسْلِمِ لَا يَظْلِمُهُ وَلَا يَخْذُلُهُ وَلَا يَحْقِرُهُ، التَّقْوَى هَا هُنَا، يُشِيرُ إِلَى صَدْرِهِ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ، بِحَسْبِ امْرِئٍ مِنَ الشَّرِّ أَنْ يَحْقِرَ أَخَاهُ الْمُسْلِمَ، كُلُّ الْمُسْلِمِ عَلَى الْمُسْلِمِ حَرَامٌ، دَمُهُ وَمَالُهُ وَعِرْضُهُ" رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنِ الْقَعْنَبِيِّ.
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم آپس میں حسد نہ کرو، نہ بغض رکھو اور نہ (خریدنے کی نیت کے بغیر) بولی بڑھاؤ اور نہ ایک دوسرے سے منہ پھیرو اور نہ تم اپنے بھائی کی بیع پر بیع کرو اور اللہ کے بندے! آپس میں بھائی بھائی بن جاؤ۔ مسلمان مسلمان کا بھائی ہے، وہ اس پر ظلم نہیں کرتا اور نہ اسے ذلیل کرتا ہے اور نہ حقیر خیال کرتا ہے۔ تقویٰ یہاں ہے،“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے سینے کی طرف تین مرتبہ اشارہ کیا، ”آدمی کے برا ہونے کے لیے یہی کافی ہے کہ وہ اپنے مسلمان بھائی کو حقیر خیال کرے۔ ہر مسلمان کا دوسرے مسلمان پر خون، عزت اور مال حرام ہے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الغصب/حدیث: 11496]
تخریج الحدیث: «مسلم 2564»
الحكم على الحديث: مسلم 2564
حدیث نمبر: 11497
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ إِسْحَاقَ، أنبأ إِسْمَاعِيلُ بْنُ قُتَيْبَةَ، ثنا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى قَالَ: قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" لَا يَحْلُبَنَّ أَحَدُكُمْ مَاشِيَةَ غَيْرِهِ إِلَّا بِإِذْنِهِ، أَيُحِبُّ أَحَدُكُمْ أَنْ تُؤْتَى مَشْرُبَتُهُ فَتُكْسَرَ خِزَانَتُهُ فَيُنْتَقَلَ طَعَامُهُ، فَإِنَّمَا يَخْزُنُ لَهُمْ ضُرُوعُ مَوَاشِيهِمْ أَطْعِمَتَهُمْ، فَلَا يَحْلُبَنَّ أَحَدٌ مَاشِيَةَ أَحَدٍ إِلَّا بِإِذْنِهِ" رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ يَحْيَى بْنِ يَحْيَى، وَرَوَاهُ الْبُخَارِيُّ عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ يُوسُفَ، عَنْ مَالِكٍ.
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کوئی کسی کے جانور کا بغیر اجازت دودھ نہ دوہے، کیا تم میں سے کوئی پسند کرتا ہے کہ اس کے بالاخانے (گودام) میں آ کر اس کا خزانہ توڑ دیا جائے، پھر اس کا کھانا اٹھا کر لے جایا جائے؟ اسی طرح ان کے مویشیوں کے تھن بھی ان کے لیے ان کی غذا کا خزانہ ہوتے ہیں، ان میں ان کی غذا ہوتی ہے، لہٰذا کوئی شخص بھی دوسرے کی اجازت کے بغیر اس جانور کا دودھ نہ نکالے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الغصب/حدیث: 11497]
تخریج الحدیث: «بخاري 2435، مسلم 1726»
الحكم على الحديث: بخاري 2435، مسلم 1726
حدیث نمبر: 11498
وَأَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ جَنَاحُ بْنُ نَذِيرِ بْنِ جَنَاحٍ الْقَاضِي الْمُحَارِبِيُّ بِالْكُوفَةِ، ثنا أَبُو الْقَاسِمِ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْحَسَنِ الْأَسَدِيُّ الْهَمَذَانِيُّ فِي الْمَرْجِعِ مِنْ مَكَّةَ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحُسَيْنِ، ثنا آدَمُ بْنُ أَبِي إِيَاسٍ، ثنا شُعْبَةُ، ثنا عَدِيُّ بْنُ ثَابِتٍ قَالَ: سَمِعْتُ عَبْدَ اللهِ بْنَ يَزِيدَ الْأَنْصَارِيَّ، وَهُوَ جَدُّهُ أَبُو أُمِّهِ، قَالَ:" نَهَى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ النُّهْبَى وَالْمُثْلَةِ" رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ آدَمَ بْنِ أبِي إِيَاسٍ.
سیدنا عبداللہ بن یزید انصاری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ”لوٹ مار کرنے اور مثلہ کرنے سے منع فرمایا۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الغصب/حدیث: 11498]
تخریج الحدیث: «بخاري 2474»
الحكم على الحديث: بخاري 2474
حدیث نمبر: 11499
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا الْعَبَّاسُ يَعْنِي ابْنَ مُحَمَّدٍ الدُّورِيَّ، أنبأ يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أنبأ ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ السَّائِبِ بْنِ يَزِيدَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، أَنَّهُ سَمِعَ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:" لَا يَأْخُذْ أَحَدُكُمْ مَتَاعَ أَخِيهِ لَاعِبًا أَوْ جَادًّا، وَإِذَا أَخَذَ أَحَدُكُمْ عَصَا أَخِيهِ فَلْيَرُدَّهَا إِلَيْهِ".
عبداللہ بن سائب بن یزید اپنے والد سے اور وہ اپنے دادا رضی اللہ عنہ سے نقل فرماتے ہیں کہ انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا کہ ”تم میں سے کوئی بھی اپنے بھائی کا سامان نہ ہنسی مذاق میں لے اور نہ سنجیدگی سے، اور جب تم میں سے کوئی اپنے بھائی کی چھڑی لے تو اسے واپس کر دے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الغصب/حدیث: 11499]
حدیث نمبر: 11500
حَدَّثَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللهِ بْنُ يُوسُفَ الْأَصْبَهَانِيُّ، أنبأ أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ الشَّيْبَانِيُّ الْحَافِظُ، ثنا يَحْيَى بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى، ثنا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ يُونُسَ، ثنا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ دِينَارٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" الظُّلْمُ ظُلُمَاتٌ يَوْمَ الْقِيَامَةِ" رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ أَحْمَدَ بْنِ يُونُسَ، وَأَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ مِنْ وَجْهٍ آخَرَ عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ.
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ظلم قیامت کی تاریکیوں میں سے ہے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الغصب/حدیث: 11500]
تخریج الحدیث: «بخاري 2447، مسلم 2579»
الحكم على الحديث: بخاري 2447، مسلم 2579
حدیث نمبر: 11501
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ بَكْرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّيْرَفِيُّ بِمَرْوَ، ثنا عَبْدُ الصَّمَدِ بْنُ الْفَضْلِ، ثنا الْقَعْنَبِيُّ، ثنا دَاوُدُ بْنُ قَيْسٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ مِقْسَمٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" اتَّقُوا الظُّلْمَ؛ فَإِنَّ الظُّلْمَ ظُلُمَاتٌ يَوْمَ الْقِيَامَةِ، وَاتَّقُوا الشُّحَّ؛ فَإِنَّ الشُّحَّ أَهْلَكَ مَنْ كَانَ قَبْلَكُمْ، حَمَلَهُمْ عَلَى أَنْ سَفَكُوا دِمَاءَهُمْ وَاسْتَحَلُّوا مَحَارِمَهُمْ" رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنِ الْقَعْنَبِيِّ.
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ظلم سے بچو، بیشک ظلم قیامت کے اندھیروں میں سے ہے اور بخل سے بچو، بیشک بخل نے تم سے پہلے لوگوں کو ہلاک کر دیا، اس نے ان کو اس پر ابھارا، پھر انہوں نے خون بہائے اور حرام کو حلال کر دیا۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الغصب/حدیث: 11501]
تخریج الحدیث: «مسلم 2578»
الحكم على الحديث: مسلم 2578
حدیث نمبر: 11502
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا يَحْيَى بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى، ثنا أَحْمَدُ بْنِ حَنْبَلٍ، ثنا وَكِيعٌ، ثنا زَكَرِيَّا بْنُ إِسْحَاقَ الْمَكِّيُّ، عَنْ يَحْيَى بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ صَيْفِيٍّ، عَنْ أَبِي مَعْبَدٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعَثَ مُعَاذَ بْنَ جَبَلٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ إِلَى الْيَمَنِ، الْحَدِيثَ، وَقَالَ فِي آخِرِهِ:" وَاتَّقِ دَعْوَةَ الْمَظْلُومِ؛ فَإِنَّهُ لَيْسَ بَيْنَهَا وَبَيْنَ اللهِ حِجَابٌ" وَأَخْرَجَهُ الْبُخَارِيُّ وَمُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ مِنْ حَدِيثِ وَكِيعٍ وَغَيْرِهِ.
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ کو یمن کی طرف بھیجا۔۔۔ اس کے آخر میں فرمایا: ”مظلوم کی بددعا سے بچنا، بیشک اس کی بددعا اور اللہ کے درمیان پردہ نہیں ہوتا۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الغصب/حدیث: 11502]
تخریج الحدیث: «بخاري 2448، مسلم 19»
الحكم على الحديث: بخاري 2448، مسلم 19