🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
السنن الكبرى للبيهقي میں نمبر سے تلاش
حدیث نمبر لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں عربی متن سے تلاش
عربی حدیث کا متن لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں اردو متن سے تلاش
اردو حدیث کا متن لکھیں:
2440. -- باب: رد قيمته إن كان من ذوات القيم، أو رد مثله إن كان من ذوات الأمثال، إذا أتلفه الغاصب أو تلف في يديه
-- باب: اگر غصب کی گئی چیز قیمتی اشیاء میں سے ہو تو اس کی قیمت لوٹانا، یا اگر وہ مثلی اشیاء (جن کی مثل مل جاتی ہو) میں سے ہو تو اس کی مثل لوٹانا، جب غاصب اسے ضائع کر دے یا وہ اس کے ہاتھ میں تلف ہو جائے۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 11523
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمُقْرِئُ، أنبأ الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، ثنا يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ، ثنا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ سُفْيَانَ قَالَ: حَدَّثَنِي فُلَيْتٌ، عَنْ جَسْرَةَ بِنْتِ دَجَاجَةَ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا قَالَتْ: مَا رَأَيْتُ ⦗١٦٠⦘ صَانِعَةَ طَعَامٍ مِثْلَ صَفِيَّةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا، بَعَثَتْ إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِإِنَاءٍ فِيهِ طَعَامٌ، فَضَرَبْتُهُ بِيَدِي فَكَسَرْتُهُ فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ، مَا كَفَّارَةُ هَذَا؟ قَالَ:" إِنَاءٌ مَكَانُ إِنَاءٍ، وَطَعَامٌ مَكَانُ طَعَامٍ" فُلَيْتٌ الْعَامِرِيُّ وَجَسْرَةُ بِنْتُ دَجَاجَةَ فِيهِمَا نَظَرٌ ثُمَّ تَأْوِيلُ الْخَبَرِ مَا مَضَى، وَبِاللهِ التَّوْفِيقُ. وَرُوِّينَا عَنِ الشَّعْبِيِّ أَنَّهُ قَالَ فِي الرَّجُلِ تُسْتَهْلَكُ لَهُ الْحِنْطَةُ: إِنَّ عَلَى صَاحِبِهِ لَهُ طَعَامًا مِثْلَ طَعَامِهِ، وَكَيْلًا مِثْلَ كَيْلِهِ.
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ میں نے صفیہ رضی اللہ عنہا جیسا کھانا کسی کو بناتے نہیں دیکھا، انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک برتن میں کھانا بنا کر بھیجا۔ میں نے اپنا ہاتھ مارا اور اسے توڑ دیا۔ پھر میں نے پوچھا: یا رسول اللہ! اس کا کفارہ کیا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”برتن کے بدلے برتن اور کھانے کے بدلے کھانا۔“
فلیت عامری اور جسرہ بنت دجاجہ دونوں میں کلام ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الغصب/حدیث: 11523]
تخریج الحدیث: «ضعيف»

الحكم على الحديث: ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
2441. -- باب: لا يملك أحد بالجناية شيئا جنى عليه إلا أن يشاء هو والمالك
-- باب: کوئی شخص اپنے جرم (نقصان پہنچانے) کی وجہ سے اس چیز کا مالک نہیں بن جاتا جس کا اس نے نقصان کیا ہے، سوائے اس کے کہ وہ اور مالک دونوں یہ چاہیں۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 11524
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ الْفَقِيهُ، أنبأ الْعَبَّاسُ بْنُ الْفَضْلِ الْأَسْفَاطِيُّ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبِي أُوَيْسٍ، ح قَالَ: وَأَخْبَرَنِي إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْفَضْلِ الشَّعْرَانِيُّ، ثنا جَدِّي، ثنا ابْنُ أَبِي أُوَيْسٍ، حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ ثَوْرِ بْنِ زَيْدٍ الدِّيلِيِّ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَطَبَ النَّاسَ فِي حِجَّةِ الْوَدَاعِ، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ، وَفِيهِ:" لَا يَحِلُّ لِامْرِئٍ مِنْ مَالِ أَخِيهِ إِلَّا مَا أَعْطَاهُ مِنْ طِيبِ نَفْسٍ، وَلَا تَظْلِمُوا، وَلَا تَرْجِعُوا بَعْدِي كُفَّارًا يَضْرِبُ بَعْضُكُمْ رِقَابَ بَعْضٍ".
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حجۃ الوداع کے خطبہ میں فرمایا: ”کسی انسان کے لیے اس کے بھائی کے مال سے کوئی چیز حلال نہیں ہے مگر جو وہ خوشی سے دے اور نہ تم ظلم کرو اور نہ میرے بعد کفر میں لوٹ جانا کہ ایک دوسرے کو قتل کرنے لگ جاؤ۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الغصب/حدیث: 11524]
تخریج الحدیث: «حسن لغيره»

الحكم على الحديث: حسن لغيره
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 11525
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ بِبَغْدَادَ، أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا يَعْقُوبُ بْنُ سُفْيَانَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، ثنا أَبُو عَامِرٍ، ثنا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ الْحَسَنِ، حَدَّثَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي سَعِيدٍ قَالَ: سَمِعْتُ عُمَارَةَ بْنَ حَارِثَةَ الضَّمْرِيَّ يُحَدِّثُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ يَثْرِبِيٍّ الضَّمْرِيِّ قَالَ: شَهِدْتُ خُطْبَةَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِنًى، فَكَانَ فِيمَا خَطَبَ بِهِ قَالَ:" وَلَا يَحِلُّ لِأَحَدٍ مِنْ مَالِ أَخِيهِ إِلَّا مَا طَابَتْ بِهِ نَفْسُهُ"، فَلَمَّا سَمِعَهُ قَالَ ذَلِكَ قَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ، أَرَأَيْتَ لَوْ لَقِيتُ غَنَمَ ابْنِ عَمِّي فَأَخَذْتُ مِنْهُ شَاةً فَاجْتَزَرْتُهَا فَعَلَيَّ فِي ذَلِكَ شَيْءٌ؟ قَالَ:" إِنْ لَقِيتَهَا نَعْجَةً تَحْمِلُ شَفْرَةً وَزِنَادًا بِخَبْتِ الْجَمِيشِ فَلَا تَمَسَّهَا" قِيلَ: هِيَ أَرْضٌ بَيْنَ مَكَّةَ وَالْجَارِ، أَرْضٌ لَيْسَ بِهَا أَنِيسٌ.
سیدنا عمرو بن یثربی ضمری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں منیٰ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے خطبے میں حاضر ہوا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے خطبے میں ارشاد فرمایا: ”کسی کے لیے اپنے بھائی کا مال حلال نہیں ہے مگر جو وہ خوشی سے دے۔“ جب اس (راوی) نے سنا تو اس نے کہا: یا رسول اللہ! آپ کا کیا خیال ہے اگر میں اپنے چچا زاد کی بکریاں پاؤں اور میں ایک بکری پکڑ لوں اور اسے ذبح کر لوں تو مجھ پر کچھ ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر تو دنبی کو مثلاً خبتِ جمیش میں کسی ویران زمین میں پائے اور تو چھری یا کوئی اوزار اٹھائے تو بھی اس کو نہ چھونا۔“ کہا گیا کہ وہ مکہ اور جار کے درمیان ایک ویران جگہ ہے جہاں کوئی نہیں رہتا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الغصب/حدیث: 11525]
تخریج الحدیث: «ضعيف»

الحكم على الحديث: ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 11526
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو مُحَمَّدِ بْنُ أَبِي حَامِدٍ الْمُقْرِئُ، قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا أَبُو عَلِيٍّ الْحَسَنُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ يَزِيدَ الْعَطَّارُ، ثنا زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ، أَخْبَرَنِي مُوسَى بْنُ عُبَيْدَةَ، أَخْبَرَنِي صَدَقَةُ بْنُ يَسَارٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ فِي خُطْبَةِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَسَطَ أَيَّامِ التَّشْرِيقِ فِي حَجَّتِهِ، وَقَالَ فِيهَا:" أَيُّهَا النَّاسُ، مَنْ كَانَتْ عِنْدَهُ وَدِيعَةٌ فَلْيَرُدَّهَا إِلَى مَنِ ائْتَمَنَهُ عَلَيْهَا، أَيُّهَا النَّاسُ إِنَّهُ لَا يَحِلُّ لِامْرِئٍ مِنْ مَالِ أَخِيهِ شَيْءٌ إِلَّا مَا طَابَتْ بِهِ نَفْسُهُ".
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے ایام تشریق میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے خطبہ حج کی حدیث بیان کی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے لوگو! جس کے پاس کوئی چیز ہو وہ اسے لوٹا دے، جس کی امانت ہے۔ اے لوگو! کسی کے لیے اپنے بھائی کے مال سے کچھ بھی حلال نہیں مگر جو وہ خوشی سے دے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الغصب/حدیث: 11526]
تخریج الحدیث: «ضعيف»

الحكم على الحديث: ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 11527
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ، أنبأ أَبُو مُحَمَّدٍ دَعْلَجُ بْنُ أَحْمَدَ، ثنا الْفِرْيَابِيُّ، حَدَّثَنِي أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمُقَدَّمِيُّ، حَدَّثَنِي ابْنُ أَبِي أُوَيْسٍ، حَدَّثَنِي أَخِي، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ بِلَالٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنِي أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدٍ النَّسَوِيُّ، ثنا حَمَّادُ بْنُ شَاكِرٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبِي أُوَيْسٍ، حَدَّثَنِي أَخِي، عَنْ سُلَيْمَانَ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا قَالَتْ: كَانَ لِأَبِي بَكْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ غُلَامٌ يُخْرِجُ لَهُ الْخَرَاجَ، وَكَانَ أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ يَأْكُلُ مِنْ خَرَاجِهِ، فَجَاءَ يَوْمًا بِشَيْءٍ فَأَكَلَ مِنْهُ أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، فَقَالَ لَهُ الْغُلَامُ: أَتَدْرِي مَا هَذَا؟ فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: وَمَا هُوَ؟ قَالَ: كُنْتُ تَكَهَّنْتُ لِإِنْسَانٍ فِي الْجَاهِلِيَّةِ، وَمَا أُحْسِنُ الْكِهَانَةَ، إِلَّا أَنِّي خَدَعْتُهُ، فَلَقِيَنِي فَأَعْطَانِي بِذَلِكَ، فَهَذَا الَّذِي أَكَلْتَ مِنْهُ، فَأَدْخَلَ أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ يَدَهُ فَقَاءَ كُلَّ شَيْءٍ فِي بَطْنِهِ لَفْظُ حَدِيثِهِمَا سَوَاءٌ، وَإِنَّمَا الِاخْتِلَافُ فِي الْإِسْنَادِ أَخْرَجَهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ هَكَذَا.
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کا ایک غلام تھا، وہ آپ کے لیے چیزیں لایا کرتا تھا اور سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ اس کی چیزوں کو کھا لیا کرتے تھے۔ ایک دن وہ کوئی چیز لے کر آیا، سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے اس میں سے کھا لیا۔ غلام نے ان سے کہا: کیا آپ جانتے ہیں کہ یہ کیا تھا؟ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے پوچھا: کیا تھا؟ وہ کہنے لگا: میں نے جاہلیت میں ایک انسان کے لیے کہانت کی تھی، حالانکہ میں کہانت اچھی طرح نہیں جانتا تھا، بس میں نے اسے دھوکا دیا تھا۔ وہ آدمی مجھے ملا، اس نے مجھے یہ دیا جو آپ نے کھا لیا ہے۔ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے اپنا ہاتھ داخل کیا اور قے کر دی جو بھی پیٹ میں تھا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الغصب/حدیث: 11527]
تخریج الحدیث: «بخاري 3842»

الحكم على الحديث: بخاري 3842
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 11528
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَارِثِ الْأَصْبَهَانِيُّ الْفَقِيهُ، أنبأ عَلِيُّ بْنُ عُمَرَ الْحَافِظُ، ثنا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، وَأَحْمَدُ بْنُ الْحُسَيْنِ بْنِ الْجُنَيْدِ، قَالَا: ثنا يُوسُفُ بْنُ مُوسَى، ثنا جَرِيرٌ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ كُلَيْبٍ الْجَرْمِيِّ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ رَجُلٍ مِنْ مُزَيْنَةَ قَالَ: صَنَعَتِ امْرَأَةٌ مِنَ الْمُسْلِمِينَ مِنْ قُرَيْشٍ لِرَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ طَعَامًا فَدَعَتْهُ وَأَصْحَابَهُ، قَالَ: فَذَهَبَ بِي أَبِي مَعَهُ، قَالَ: فَجَلَسْنَا بَيْنَ يَدَيْ آبَائِنَا مَجَالِسَ الْأَبْنَاءِ مِنْ آبَائِهِمْ، قَالَ: فَلَمْ يَأْكُلُوا حَتَّى رَأَوْا رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَكَلَ، فَلَمَّا أَخَذَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لُقْمَةً رَمَى بِهَا ثُمَّ قَالَ:" إِنِّي لَأَجِدُ طَعْمَ لَحْمِ شَاةٍ ذُبِحَتْ بِغَيْرِ إِذْنِ صَاحِبِهَا"، فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللهِ، أَخِي وَأَنَا مِنْ أَعَزِّ النَّاسِ عَلَيْهِ، وَلَوْ كَانَ خَيْرًا مِنْهَا لَمْ يُغَيِّرْ عَلَيَّ، وَعَلَيَّ أَنْ أُرْضِيَهُ بِأَفْضَلَ مِنْهَا، فَأَبَى أَنْ يَأْكُلَ مِنْهَا، وَأَمَرَ بِالطَّعَامِ لِلْأُسَارَى قَالَ الشَّيْخُ: وَهَذَا؛ لِأَنَّهُ كَانَ يَخْشَى عَلَيْهِ الْفَسَادَ، وَصَاحِبُهَا كَانَ غَائِبًا، فَرَأَى مِنَ الْمَصْلَحَةِ أَنْ يُطْعِمَهَا الْأُسَارَى، وَاللهُ أَعْلَمُ، ثُمَّ يَضْمَنُ لِصَاحِبِهَا.
عاصم بن کلیب رحمہ اللہ اپنے والد سے مزینہ کے ایک آدمی کے بارے میں نقل فرماتے ہیں کہ اس نے فرمایا: قریش میں سے مسلمانوں کی ایک عورت نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے کھانا بنایا، اس نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اور آپ کے صحابہ رضی اللہ عنہم کو دعوت دی۔ (راوی) فرماتے ہیں: مجھے میرے باپ ساتھ لے گئے۔ ہم بیٹوں کی مجلس میں بیٹھ گئے، انہوں نے نہیں کھایا مگر جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کھایا۔ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے لقمہ پکڑا تو اس کو پھینک دیا، پھر فرمایا: ”میں ایسی بکری کے گوشت کا ذائقہ پاتا ہوں جو اس کے مالک کی اجازت کے بغیر ذبح کی گئی ہے“۔ اس عورت نے کہا: یا رسول اللہ! (یہ) میرے بھائی کی ہے اور میں اس کے نزدیک لوگوں میں سب سے زیادہ عزیز ہوں، اگر یہ اس سے بہتر بھی ہوتی تو وہ مجھ سے ناراض نہ ہوتا، اور میرے ذمہ ہے کہ میں اسے اس سے بہتر چیز دے کر راضی کر لوں گی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کھانے سے انکار کر دیا اور حکم دیا کہ یہ کھانا قیدیوں کو کھلا دیا جائے۔
شیخ رحمہ اللہ فرماتے ہیں: یہ فساد کے ڈر کی وجہ سے تھا کہ اس کا مالک غائب تھا، پس مصلحت کے تحت آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے قیدیوں کو کھلانے کا حکم دے دیا، پھر اس کے مالک کو اس کا تاوان دیا جائے گا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الغصب/حدیث: 11528]
تخریج الحدیث: «ضعيف»

الحكم على الحديث: ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 11529
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يُوسُفَ الرَّفَّاءُ، أنبأ أَبُو عَمْرٍو عُثْمَانُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ بِشْرٍ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِسْحَاقَ الْقَاضِي، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبِي أُوَيْسٍ، وَعِيسَى بْنُ مِينَاءٍ، قَالَا: ثنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي الزِّنَادِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ الْفُقَهَاءِ مِنْ أَهْلِ الْمَدِينَةِ" أَنَّهُمْ كَانُوا ⦗١٦٢⦘ يَجْعَلُونَ فِي كُلِّ بَهِيمَةٍ أُصِيبَتْ مَا بَيْنَ قِيمَةِ الْبَهِيمَةِ صَحِيحَةِ الْعَيْنِ وَمُصَابَةِ الْعَيْنِ، وَكُلُّ مَا أُصِيبَ مِنَ الْبَهِيمَةِ فَعَلَى قَدْرِ ذَلِكَ" قَالَ عِيسَى بْنُ مِينَاءٍ: فَأَمَّا جِرَاحُ الْعَبْدِ، فَإِنَّهُمْ يَجْعَلُونَ جِرَاحَ الْعَبْدِ تَجْرِي جِرَاحُهُ كُلُّهَا فِي قِيمَتِهِ يَوْمَ يُصَابُ كَمَا تَجْرِي جِرَاحُ الْحُرِّ فِي دِيَتِهِ.
عبدالرحمن بن ابی الزناد رحمہ اللہ اپنے والد (ابو الزناد) رحمہ اللہ سے اور وہ فقہائے اہل مدینہ رحمہ اللہ علیہم سے روایت کرتے ہیں کہ وہ ہر جاندار جس کو زخم لگا ہوتا تو صحیح اور زخمی میں قیمت کا تعین کرتے تھے۔ ہر زخمی جانور کو وہ اس طرح مقرر کرتے تھے۔ عیسیٰ بن مینا رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ زخمی غلام (یعنی اس کے زخم کو) اس کی قیمت میں اس دن شمار کرتے تھے جس دن وہ زخمی ہو، جیسے آزاد کے زخم کو دیت میں جاری کیا جاتا ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الغصب/حدیث: 11529]
تخریج الحدیث: «حسن لغيره»

الحكم على الحديث: حسن لغيره
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 11530
أَخْبَرَنَا أَبُو حَازِمٍ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو الْفَضْلِ بْنُ خَمِيرَوَيْهِ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ نَجْدَةَ، ثنا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ثنا أَيُّوبُ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ قَالَ: قَالَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ:" فِي عَيْنِ الدَّابَّةِ رُبُعُ ثَمَنِهَا" وَهَذَا مُنْقَطِعٌ، وَرُوِي عَنْ إِبْرَاهِيمَ النَّخَعِيِّ، عَنْ عُمَرَ أَنَّهُ كَتَبَ بِهِ إِلَى شُرَيْحٍ، وَهُوَ أَيْضًا مُنْقَطِعٌ، وَرَوَاهُ جَابِرٌ الْجُعْفِيُّ، وَهُوَ ضَعِيفٌ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ شُرَيْحٍ، أَنَّ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ كَتَبَ إِلَيْهِ بِذَلِكَ، ورَوَاهُ مُجَالِدٌ عَنِ الشَّعْبِيِّ قَالَ: كَتَبَ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ إِلَى شُرَيْحٍ، وَهُوَ مُنْقَطِعٌ.
سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: جانور کی آنکھ کی چٹی اس کی چوتھائی قیمت ہے۔
یہ (سند) منقطع ہے۔ ابراہیم نخعی سے بھی روایت ہے کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے یہ بات شریح کو لکھی، یہ بھی منقطع ہے۔ اور اسے جابر جعفی نے، جو ضعیف ہے، شعبی سے، انہوں نے شریح سے روایت کیا کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے انہیں یہ لکھا، اور مجالد نے شعبی سے روایت کیا کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے شریح کو لکھا، اور یہ منقطع ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الغصب/حدیث: 11530]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
2442. -- باب: التشديد في غصب الأراضي وتضمينها بالغصب
-- باب: زمینوں کو غصب کرنے کی وعید اور غصب کی صورت میں ان کی ضمانت لازم ہونے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 11531
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو الْحَسَنِ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عُبْدُوسٍ، ثنا عُثْمَانُ بْنُ سَعِيدٍ الدَّارِمِيُّ قَالَ: قَرَأْنَاهُ عَلَى أَبِي الْيَمَانِ، أَنَّ شُعَيْبَ بْنَ أَبِي حَمْزَةَ أَخْبَرَهُ، عَنِ الزُّهْرِيِّ قَالَ: حَدَّثَنِي طَلْحَةُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَوْفٍ، أَنَّ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ عَمْرِو بْنِ سَهْلٍ أَخْبَرَهُ، أَنَّ سَعِيدَ بْنَ زَيْدٍ قَالَ: سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:" مَنْ ظَلَمَ مِنَ الْأَرْضِ شَيْئًا فَإِنَّهُ يُطَوَّقُهُ مِنْ سَبْعِ أَرَضِينَ" رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ عَنْ أَبِي الْيَمَانِ.
سیدنا سعید بن زید رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا کہ ”جس نے زمین میں ظلم کیا، اسے سات زمینوں کا طوق پہنایا جائے گا۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الغصب/حدیث: 11531]
تخریج الحدیث: «بخاري 2452، مسلم 1610»

الحكم على الحديث: بخاري 2452، مسلم 1610
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 11532
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنِي أَبُو النَّضْرِ الْفَقِيهُ، ثنا عَلِيُّ بْنُ طَيْفُورٍ، ثنا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ جَعْفَرٍ، عَنِ الْعَلَاءِ، عَنْ عَبَّاسِ بْنِ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ زَيْدٍ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" مَنِ اقْتَطَعَ شِبْرًا مِنَ الْأَرْضِ ظُلْمًا طَوَّقَهُ اللهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ مِنْ سَبْعِ أَرَضِينَ" رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ عَلِيِّ بْنِ حُجْرٍ وَغَيْرِهِ.
سیدنا سعید بن زید رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے ایک بالشت زمین ظلم کے ساتھ ہتھیالی، اللہ اسے قیامت کے دن سات زمینوں کا طوق پہنائیں گے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الغصب/حدیث: 11532]
تخریج الحدیث: «صحيح»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں