السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
2452. -- باب:
-- باب:
حدیث نمبر: 11605
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ، وَأَبُو زَكَرِيَّا يَحْيَى بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنبأ الرَّبِيعُ، أنبأ الشَّافِعِيُّ، أنبأ مَالِكٌ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو أَحْمَدَ عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْحَسَنِ الْعَدْلُ، ثنا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ الْمُزَكِّي، ثنا أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْبُوشَنْجِيُّ، ثنا يَحْيَى بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ بُكَيْرٍ، ثنا مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنْ أَبِيهِ أَنَّهُ قَالَ: خَرَجَ عَبْدُ اللهِ وَعُبَيْدُ اللهِ ابْنَا عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ فِي جَيْشٍ إِلَى الْعِرَاقِ، فَلَمَّا قَفَلَا مَرَّا عَلَى أَبِي مُوسَى الْأَشْعَرِيِّ، فَرَحَّبَ بِهِمَا وَسَهَّلَ، وَهُوَ أَمِيرُ الْبَصْرَةِ، فَقَالَ: لَوْ أَقْدِرُ لَكُمَا عَلَى أَمْرٍ أَنْفَعُكُمَا بِهِ لَفَعَلْتُ، ثُمَّ قَالَ: بَلَى، هَاهُنَا مَالٌ مِنْ مَالِ اللهِ، أُرِيدُ أَنْ أَبْعَثَ بِهِ إِلَى أَمِيرِ الْمُؤْمِنِينَ، فأُسَلِّفُكُمَاهُ فَتَبْتَاعَانِ بِهِ مَتَاعًا مِنْ مَتَاعِ الْعِرَاقِ فَتَبِيعَانِهِ بِالْمَدِينَةِ، فَتُؤَدِّيَانِ رَأْسَ الْمَالِ إِلَى أَمِيرِ الْمُؤْمِنِينَ وَيَكُونُ لَكُمَا الرِّبْحُ، فَقَالَا: وَدِدْنَا، فَفَعَلَا، فَكَتَبَ إِلَى عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ يَأْخُذُ مِنْهُمَا الْمَالَ، فَلَمَّا قَدِمَا الْمَدِينَةَ بَاعَا وَرَبِحَا، فَلَمَّا رَفَعَا ذَلِكَ إِلَى عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ:" أَكُلُّ الْجَيْشِ أَسْلَفَهُ كَمَا أَسْلَفَكُمَا؟" قَالَا: لَا، قَالَ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ:" ابْنَا أَمِيرِ الْمُؤْمِنِينَ فَأَسْلَفَكُمَا، أَدِّيَا الْمَالَ وَرِبْحَهُ" فَأَمَّا عَبْدُ اللهِ فَسَلَّمَ، وَأَمَّا عُبَيْدُ اللهِ فَقَالَ: لَا يَنْبَغِي لَكَ يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ، هَذَا لَوْ هَلَكَ الْمَالُ أَوْ نَقَصَ لَضَمِنَّاهُ، قَالَ:" أَدِّيَاهُ"، فَسَكَتَ عَبْدُ اللهِ، وَرَاجَعَهُ عُبَيْدُ اللهِ، فَقَالَ رَجُلٌ مِنْ جُلَسَاءِ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ: يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ، لَوْ جَعَلْتَهُ قِرَاضًا، فَقَالَ:" قَدْ جَعَلْتُهُ قِرَاضًا"، فَأَخَذَ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ الْمَالَ وَنِصْفَ رِبْحِهِ، وَأَخَذَ عَبْدُ اللهِ وَعُبَيْدُ اللهِ نِصْفَ رِبْحِ الْمَالِ مَعْنَى حَدِيثِهِمَا سَوَاءٌ، إِلَّا أَنَّ الشَّافِعِيَّ قَالَ فِي رِوَايَتِهِ: فَلَمَّا قَفَلَا مَرَّا عَلَى عَامِلٍ لِعُمَرَ.
سیدنا زید بن اسلم رحمہ اللہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے دو بیٹے سیدنا عبداللہ اور سیدنا عبیداللہ رضی اللہ عنہما عراق کے لشکر میں گئے۔ جب وہ واپس آئے تو سیدنا ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کے پاس سے گزرے۔ سیدنا ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ نے ان کو مرحبا کہا اور ان کی آؤ بھگت کی۔ ان دنوں وہ بصرہ کے گورنر تھے، انہوں نے کہا: اگر میں تم کو نفع پہنچا سکتا تو ضرور کرتا، پھر کہا: ہاں، یہاں پر اللہ کے مال (بیت المال) میں سے کچھ مال ہے، میں چاہتا ہوں کہ امیر المومنین (سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ) کو بھیج دوں۔ میں تم دونوں کو قرض کے طور پر دے دیتا ہوں، اس کے ساتھ عراق سے سامان خریدو، اسے مدینہ میں بیچ دینا، پھر اصل مال امیر المومنین کو دے دینا اور نفع رکھ لینا۔ ان دونوں نے ایسا ہی کیا، پھر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو لکھا گیا کہ ان سے مال وصول کر لینا؛ پس جب وہ مدینہ آئے تو انہوں نے سامان بیچا اور نفع حاصل کیا۔ جب سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو پتہ چلا تو پوچھا: کیا ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ نے سارے لشکر کو تمہاری طرح قرض دیا ہے؟ انہوں نے جواب دیا: نہیں۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: تم کو اس لیے دیا کہ تم امیر المومنین کے بیٹے ہو۔ پس مال بھی ادا کرو اور نفع بھی دے دو۔ سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ نے تسلیم کر لیا، لیکن سیدنا عبیداللہ رضی اللہ عنہ نے کہا: اے امیر المومنین! یہ آپ کے لیے جائز نہیں ہے، اگر مال ہلاک ہو جاتا یا کم ہو جاتا تو ہم ضامن بھی تھے۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: تم ادا کرو۔ سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ تو خاموش رہے اور سیدنا عبیداللہ رضی اللہ عنہ نے پھر وہی بات کہی۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے ہم نشینوں میں سے کسی نے کہا: اے امیر المومنین! اگر آپ اسے قراض (مضاربت) بنا لیں؛ پھر فرمایا: میں نے اسے قراض (مضاربت) بنا لیا۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے مال اور نصف نفع حاصل کیا اور دونوں بیٹوں نے نصف نفع لے لیا۔ ایک روایت کے الفاظ ہیں: جب وہ واپس ہوئے تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے گورنر کے پاس سے گزرے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب القراض/حدیث: 11605]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ مالك 1396»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 11606
أَخْبَرَنَا أَبُو أَحْمَدَ الْمِهْرَجَانِيُّ، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ثنا ابْنُ بُكَيْرٍ، ثنا مَالِكٌ، عَنِ الْعَلَاءِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَعْقُوبَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ،" أَنَّهُ عَمِلَ فِي مَالٍ لِعُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ عَلَى أَنَّ الرِّبْحَ بَيْنَهُمَا".
علاء بن عبدالرحمن بن یعقوب اپنے والد سے اور وہ اپنے دادا سے نقل فرماتے ہیں کہ انہوں نے عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کے مال سے اس شرط پر کام کیا کہ نفع میں دونوں مستحق ہوں گے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب القراض/حدیث: 11606]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 11607
أَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَسَنِ، قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ الْأَصَمُّ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَبْدِ الْحَكَمِ، أنبأ ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي مَالِكُ بْنُ ⦗١٨٤⦘ أَنَسٍ، أَخْبَرَنِي الْعَلَاءُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَعْقُوبَ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّهُ قَالَ: جِئْتُ عُثْمَانَ بْنَ عَفَّانَ فَقُلْتُ لَهُ: قَدْ قَدِمَتْ سِلْعَةٌ فَهَلْ لَكَ أَنْ تُعْطِيَنِي مَالًا فَأَشْتَرِي بِذَلِكَ؟ فَقَالَ:" أَتُرَاكَ فَاعِلًا؟" قَالَ: نَعَمْ، وَلَكِنِّي رَجُلٌ مُكَاتَبٌ؛ فَأَشْتَرِيهَا عَلَى أَنَّ الرِّبْحَ بَيْنِي وَبَيْنَكَ، قَالَ:" نَعَمْ"، فَأَعْطَانِي مَالًا عَلَى ذَلِكَ.
علاء اپنے والد سے نقل فرماتے ہیں کہ میں عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کے پاس آیا۔ میں نے ان سے کہا: سامان آیا ہے، آپ مجھے مال دیں، میں اسے خرید لوں۔ انہوں نے کہا: آپ ایسا کر لیں گے؟ اس نے کہا: ہاں، لیکن میں ایک مکاتب آدمی ہوں، پس میں اسے اس شرط پر خریدوں گا کہ نفع میں، میں اور آپ شریک ہوں گے۔ اس نے ہاں میں جواب دیا۔ پھر عثمان رضی اللہ عنہ نے مجھے اس شرط پر مال دیا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب القراض/حدیث: 11607]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 11608
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ بِبَغْدَادَ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ، أنبأ يَعْقُوبُ بْنُ سُفْيَانَ، ثنا أَبُو نُعَيْمٍ، ثنا هِشَامٌ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ نَافِعٍ، أَنَّ ابْنَ عُمَرَ" كَانَ يَكُونُ عِنْدَهُ مَالُ الْيَتِيمِ فَيُزَكِّيهِ، وَيُعْطِيهِ مُضَارَبَةً، وَيَسْتَقْرِضُ فِيهِ".
نافع رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما کے پاس یتیم کا مال تھا، وہ اس کی زکاۃ دیتے تھے اور اسے مضاربت پر دیتے تھے اور اس میں سے قرض لیا کرتے تھے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب القراض/حدیث: 11608]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 11609
وَأَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَسَنِ، وَأَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ، قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ الْأَصَمُّ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَبْدِ الْحَكَمِ، أنبأ ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي ابْنُ لَهِيعَةَ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ، أَنَّهُ سَأَلَهُ عَنِ الرَّجُلِ يُعْطِي الْمَالَ قِرَاضًا فَيَشْتَرِطُ لَهُ كَمَا أَعْطَاهُ نَحْوَ يَوْمِ يَأْخُذُهُ، قَالَ:" لَا بَأْسَ بِذَلِكَ".
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے ایک آدمی کے بارے میں سوال کیا گیا جو کسی کو قراض (مضاربت) کے طور پر مال دیتا ہے اور یہ شرط لگاتا ہے کہ جس دن وہ اسے واپس لے گا اس کے قریب اسے ویسا ہی ملے گا جیسا اس نے دیا تھا، تو انہوں نے فرمایا: اس میں کوئی حرج نہیں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب القراض/حدیث: 11609]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 11610
وَأَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ، وَأَبُو زَكَرِيَّا، قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ، أنبأ مُحَمَّدٌ، أنبأ ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي ابْنُ لَهِيعَةَ، وَحَيْوَةُ بْنُ شُرَيْحٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْأَسَدِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ حَكِيمِ بْنِ حِزَامٍ أَنَّهُ كَانَ يَدْفَعُ الْمَالَ مُقَارَضَةً إِلَى الرَّجُلِ وَيَشْتَرِطُ عَلَيْهِ أَنْ لَا يَمُرَّ بِهِ بَطْنَ وَادٍ، وَلَا يَبْتَاعَ بِهِ حَيَوَانًا، وَلَا يَحْمِلَهُ فِي بَحْرٍ، فَإِنْ فَعَلَ شَيْئًا مِنْ ذَلِكَ فَقَدْ ضَمِنَ ذَلِكَ الْمَالَ، قَالَ:" فَإِذَا تَعَدَّى أَمْرَهُ ضَمِنَهُ مَنْ فَعَلَ ذَلِكَ" وَقَدْ رُوِيَ فِيهِ حَدِيثٌ مُسْنَدٌ ضَعِيفٌ.
سیدنا حکیم بن حزام رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ وہ کسی آدمی کو قراض (مضاربت) کے طور پر مال دیتے تھے اور شرط لگاتے تھے کہ وہ مال کے ساتھ کسی وادی سے نہ گزرے گا، اور نہ کوئی حیوان خریدے گا، اور نہ سمندر میں لے کر جائے گا؛ اگر اس نے ان کاموں میں سے کوئی کام کیا تو وہ مال کا ضامن ہوگا، فرمایا: جب اس نے حد سے تجاوز کیا تو جو اس نے کیا وہ اس کا ضامن ہوگا۔
اس بارے میں ایک ضعیف مسند حدیث بھی مروی ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب القراض/حدیث: 11610]
اس بارے میں ایک ضعیف مسند حدیث بھی مروی ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب القراض/حدیث: 11610]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 11611
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ، ثنا تَمْتَامٌ مُحَمَّدُ بْنُ غَالِبٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عُقْبَةَ السَّدُوسِيُّ، ثنا يُونُسُ بْنُ أَرْقَمَ الْكِنْدِيُّ أَبُو أَرْقَمَ، ثنا أَبُو الْجَارُودِ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ يَسَارٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ:" كَانَ الْعَبَّاسُ بْنُ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ إِذَا دَفَعَ مَالًا مُضَارَبَةً اشْتَرَطَ عَلَى صَاحِبِهِ أَنْ لَا يَسْلُكَ بِهِ بَحْرًا، وَلَا يَنْزِلَ بِهِ وَادِيًا، وَلَا يَشْتَرِيَ بِهِ ذَاتَ كَبِدٍ رَطْبَةٍ، فَإِنْ فَعَلَ فَهُوَ ضَامِنٌ، فَرَفَعَ شَرْطَهُ إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَجَازَهُ".
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ سیدنا عباس بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہ جب کسی کو مضاربت پر مال دیتے تو شرط لگاتے کہ وہ مال لے کر سمندر میں نہیں جائے گا اور نہ کسی وادی میں اترے گا اور نہ کوئی جاندار خریدے گا۔ اگر اس نے ایسا کیا تو وہ ضامن ہو گا۔ یہ شرط رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تک پہنچی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی اجازت دے دی۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب القراض/حدیث: 11611]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 11612
وَأَخْبَرَنَا أَبُو سَعْدٍ الْمَالِينِيُّ، أنبأ أَبُو أَحْمَدَ بْنُ عَدِيٍّ، أنبأ أَبُو يَعْلَى، ثنا مِشْجَعُ بْنُ مُصْعَبٍ أَبُو الْحَكَمِ، ثنا يُونُسُ بْنُ أَرْقَمَ الْكِنْدِيُّ، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ مِثْلَهُ. تَفَرَّدَ بِهِ أَبُو الْجَارُودِ زِيَادُ بْنُ الْمُنْذِرِ، وَهُوَ كُوفِيٌّ ضَعِيفٌ كَذَّبَهُ يَحْيَى بْنُ مَعِينٍ، وَضَعَّفَهُ الْبَاقُونَ.
یونس بن ارقم کندی رحمہ اللہ نے پچھلی حدیث کی طرح روایت کیا ہے۔
اسے روایت کرنے میں ابو الجارود زیاد بن منذر منفرد ہے، وہ کوفی ضعیف راوی ہے، یحییٰ بن معین نے اسے جھوٹا کہا ہے اور باقی ائمہ نے اسے ضعیف قرار دیا ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب القراض/حدیث: 11612]
اسے روایت کرنے میں ابو الجارود زیاد بن منذر منفرد ہے، وہ کوفی ضعیف راوی ہے، یحییٰ بن معین نے اسے جھوٹا کہا ہے اور باقی ائمہ نے اسے ضعیف قرار دیا ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب القراض/حدیث: 11612]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
2453. -- باب: المضارب يخالف بما فيه زيادة لصاحبه، ومن تجر في مال غيره بغير أمره
-- باب: مضارب کا ایسی مخالفت کرنا جس میں مالک کا فائدہ ہو، اور اس شخص کا بیان جو کسی دوسرے کے مال سے اس کے حکم کے بغیر تجارت کرے۔
حدیث نمبر: 11613
أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللهِ بْنُ يُوسُفَ الْأَصْبَهَانِيُّ، أنبأ أَبُو سَعِيدِ بْنُ الْأَعْرَابِيِّ، ح وَأنبأ أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ، أنبأ إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ، قَالَا: ثنا سَعْدَانُ بْنُ نَصْرٍ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ، عَنْ شَبِيبِ بْنِ غَرْقَدَةَ، سَمِعَ قَوْمَهُ يُحَدِّثُونَ عَنْ عُرْوَةَ الْبَارِقِيِّ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" أَعْطَاهُ دِينَارًا لِيَشْتَرِيَ لَهُ شَاةً أُضْحِيَّةً، فَاشْتَرَى بِهِ شَاتَيْنِ، فَبَاعَ إِحْدَاهُمَا بِدِينَارٍ، وَأَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِشَاةٍ وَدِينَارٍ، فَدَعَا النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْبَرَكَةِ فِي بَيْعِهِ، فَكَانَ لَوِ اشْتَرَى التُّرَابَ رَبِحَ فِيهِ".
سیدنا عروہ بارقی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں ایک دینار دیا تاکہ وہ قربانی کی بکری خرید کر لائیں۔ انہوں نے ایک دینار سے دو بکریاں خریدیں۔ اب ان میں سے ایک بکری ایک دینار کی بیچ دی اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک بکری اور ایک دینار لے کر آگئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے لیے برکت کی دعا کی۔ پھر اگر وہ مٹی بھی خریدتے تو اس میں بھی انہیں نفع مل جاتا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب القراض/حدیث: 11613]
تخریج الحدیث: «بخاري 3643»
الحكم على الحديث: بخاري 3643
حدیث نمبر: 11614
وَأَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ، أنبأ أَبُو سَعِيدٍ، ح وَأنبأ أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ، أنبأ إِسْمَاعِيلُ الصَّفَّارُ، قَالَا: ثنا سَعْدَانُ، ثنا سُفْيَانُ، سَمِعَ شَبِيبَ بْنَ غَرْقَدَةَ، عَنْ عُرْوَةَ الْبَارِقِيِّ يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَوْ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:" الْخَيْرُ مَعْقُودٌ بِنَوَاصِي الْخَيْلِ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ" هَذَانِ حَدِيثَانِ سَمِعَ أَحَدَهُمَا شَبِيبُ بْنُ غَرْقَدَةَ مِنْ عُرْوَةَ الْبَارِقِيِّ، وَلَمْ يَسْمَعِ الْآخَرَ وَإِنَّمَا سَمِعَ الْحِيَّ يُخْبِرُونَهُ عَنْ عُرْوَةَ.
عروہ بارقی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یا میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا کہ ”بھلائی قیامت تک گھوڑوں کی پیشانی کے ساتھ باندھ دی گئی ہے۔“
یہ دو حدیثیں ہیں: ان میں سے ایک شبیب بن غرقدہ نے عروہ بارقی سے سنی ہے اور دوسری نہیں سنی، بلکہ اسے قبیلے کے لوگوں سے سنا جو عروہ سے بیان کرتے تھے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب القراض/حدیث: 11614]
یہ دو حدیثیں ہیں: ان میں سے ایک شبیب بن غرقدہ نے عروہ بارقی سے سنی ہے اور دوسری نہیں سنی، بلکہ اسے قبیلے کے لوگوں سے سنا جو عروہ سے بیان کرتے تھے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب القراض/حدیث: 11614]
تخریج الحدیث: «مسلم 1873»
الحكم على الحديث: مسلم 1873