السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
2472. -- باب: من أباح المزارعة بجزء معلوم مشاع وحمل النهي عنها على التنزيه أو على ما لو تضمن العقد شرطا فاسدا
-- باب: اس شخص کا قول جس نے پیداوار کے ایک معلوم مشترکہ حصے پر مزارعت کو مباح قرار دیا، اور اس کی ممانعت کو کراہت تنزیہی پر محمول کیا، یا اس صورت پر محمول کیا جب عقد کسی فاسد شرط پر مشتمل ہو۔
حدیث نمبر: 11736
أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ، أنبأ ابْنُ نَاجِيَةَ، ثنا ابْنُ أَبِي رِزْمَةَ، ثنا الْفَضْلُ بْنُ مُوسَى، عَنْ شَرِيكٍ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنْ طَاوُسٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" لَمْ يُحَرِّمِ الْمُزَارَعَةَ، وَلَكِنْ أَمَرَ أَنْ يَرْفُقَ النَّاسُ بَعْضُهُمْ مِنْ بَعْضِهِمْ" رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ عَلِيِّ بْنِ حُجْرٍ عَنِ الْفَضْلِ بْنِ مُوسَى.
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مزارعت کو حرام قرار نہیں دیا بلکہ آپ نے حکم دیا کہ ”لوگوں پر نرمی کی جائے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب المزارعة/حدیث: 11736]
تخریج الحدیث: «مسلم 1550»
الحكم على الحديث: مسلم 1550
حدیث نمبر: 11737
أَخْبَرَنَا أَبُو الْفَتْحِ هِلَالُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ جَعْفَرٍ الْحَفَّارُ، أَخْبَرَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ يَحْيَى بْنِ عَيَّاشٍ الْقَطَّانُ، ثنا أَبُو الْأَشْعَثِ، ثنا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ إِسْحَاقَ، ح وَحَدَّثَنَا أَبُو جَعْفَرٍ كَامِلُ بْنُ أَحْمَدَ الْمُسْتَمْلِي، ثنا بِشْرُ بْنُ أَحْمَدَ الِإسْفِرَايِينِيُّ، ثنا دَاوُدُ بْنُ الْحُسَيْنِ الْبَيْهَقِيُّ، ثنا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، ثنا بِشْرُ بْنُ الْمُفَضَّلِ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ إِسْحَاقَ، عَنْ أَبِي عُبَيْدَةَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَمَّارٍ، عَنِ الْوَلِيدِ بْنِ أَبِي الْوَلِيدِ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ أَنَّهُ قَالَ: يَغْفِرُ اللهُ لِرَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ، أَنَا وَاللهِ كُنْتُ أَعْلَمُ بِالْحَدِيثِ مِنْهُ، إِنَّمَا أَتَى رَجُلَانِ مِنَ الْأَنْصَارِ إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدِ اقْتَتَلَا، فَقَالَ:" إِنْ كَانَ هَذَا شَأْنَكُمْ فَلَا تُكْرُوا الْمَزَارِعَ"، فَسَمِعَ قَوْلَهُ:" لَا تُكْرُوا الْمَزَارِعَ" قَالَ الشَّيْخُ: زَيْدُ بْنُ ثَابِتٍ وَابْنُ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا كَأَنَّهُمَا أَنْكَرَا وَاللهُ أَعْلَمُ إِطْلَاقَ النَّهْيِ عَنْ كِرَاءِ الْمَزَارِعِ، وَعَنَى ابْنُ عَبَّاسٍ بِمَا لَمْ يَنْهَ عَنْهُ مِنْ ذَلِكَ كِرَاءَهَا بِالذَّهَبِ وَالْفِضَّةِ، وَبِمَا لَا غَرَرَ فِيهِ، وَقَدْ قَيَّدَ بَعْضُ الرُّوَاةِ عَنْ رَافِعٍ الْأَنْوَاعَ الَّتِي وَقَعَ النَّهْيُ عَنْهَا، وَبَيَّنَ عِلَّةَ النَّهْيِ وَهِيَ مَا يُخْشَى عَلَى الزَّرْعِ مِنَ الْهَلَاكِ، وَذَلِكَ غَرَرٌ فِي الْعِوَضِ يُوجِبُ فَسَادَ الْعَقْدِ، وَإِنْ كَانَ ابْنُ عَبَّاسٍ عَنَى بِمَا لَمْ يَنْهَ عَنْهُ كِرَاءَهَا بِبَعْضِ مَا يَخْرُجُ مِنْهَا، فَقَدْ رُوِّينَا عَمَّنْ سَمِعَ نَهْيَهُ عَنْهُ، فَالْحُكْمُ لَهُ دُونَهُ، وَقَدْ رُوِّينَا عَنْ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ مَا يُوَافِقُ رِوَايَةَ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ وَغَيْرِهِ، فَدَلَّ أَنَّ مَا أَنْكَرَهُ غَيْرُ مَا أَثْبَتَهُ وَاللهُ أَعْلَمُ، ⦗٢٢٣⦘ وَمِنَ الْعُلَمَاءِ مَنْ حَمَلَ أَخْبَارَ النَّهْيِ عَلَى مَا لَوْ وَقَعَتْ بِشُرُوطٍ فَاسِدَةٍ نَحْوَ شَرْطِ الْجَدَاوِلِ وَالْمَاذِيَانَاتِ، وَهِيَ الْأَنْهَارُ، وَهِيَ مَا كَانَ يُشْتَرَطُ عَلَى الزَّارِعِ أَنْ يَزْرَعَهُ عَلَى هَذِهِ الْأَنْهَارِ خَاصَّةً لِرَبِّ الْمَالِ، وَنَحْوُ شَرْطِ الْقُصَارَةِ، وَهِيَ مَا بَقِيَ مِنَ الْحَبِّ فِي السُّنْبُلِ بَعْدَمَا يُدَاسُ، وَيُقَالُ: الْقُصَرَّى، وَنَحْوُ شَرْطِ مَا يَسْقِي الرَّبِيعُ، وَهُوَ النَّهَرُ الصَّغِيرُ مِثْلُ الْجَدْوَلِ وَالسَّرِيِّ وَنَحْوِهِ، وَجَمْعُهُ أَرْبِعَاءُ كَمَا قَالُوا، فَكَانَتْ هَذِهِ وَمَا أَشْبَهَهَا شُرُوطًا شَرَطَهَا رَبُّ الْمَالِ لِنَفْسِهِ خَاصَّةً سِوَى الشَّرْطِ عَلَى النِّصْفِ وَالرُّبُعِ وَالثُّلُثِ، فَيَرَى أَنَّ نَهْيَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْمُزَارَعَةِ إِنَّمَا كَانَ لِهَذِهِ الشُّرُوطِ؛ لِأَنَّهَا مَجْهُولَةٌ، فَإِذَا كَانَتِ الْحِصَصُ مَعْلُومَةً نَحْوَ النِّصْفِ وَالثُّلُثِ وَالرُّبُعِ، وَكَانَتِ الشُّرُوطُ الْفَاسِدَةُ مَعْدُومَةً، كَانَتِ الْمُزَارَعَةُ جَائِزَةً، وَإِلَى هَذِهِ ذَهَبَ أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ رَحِمَهُ اللهُ، وَأَبُو عُبَيْدٍ، وَمُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ خُزَيْمَةَ، وَغَيْرُهُمْ مِنْ أَهْلِ الْحَدِيثِ، وَإِلَيْهِ ذَهَبَ أَبُو يُوسُفَ وَمُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ مِنْ أَصْحَابِ الرَّأْيِ، وَالْأَحَادِيثُ الَّتِي مَضَتْ فِي مُعَامَلَةِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَهْلَ خَيْبَرَ بِشَرْطِ مَا يَخْرُجُ مِنْهَا مِنْ ثَمَرٍ أَوْ زَرْعٍ دَلِيلٌ لَهُمْ فِي هَذِهِ الْمَسْأَلَةِ، وَضَعَّفَ أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ حَدِيثَ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ وَقَالَ: هُوَ كَثِيرُ الْأَلْوَانِ، يُرِيدُ مَا أَشَرْنَا إِلَيْهِ مِنَ الِاخْتِلَافِ عَلَيْهِ فِي إِسْنَادِهِ وَمَتْنِهِ.
سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ سے منقول ہے کہ اللہ تعالیٰ سیدنا رافع رضی اللہ عنہ کو معاف فرمائے، اللہ کی قسم! میں اس سے حدیث کو زیادہ جانتا ہوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس انصار کے دو آدمی آئے، وہ دونوں لڑتے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر تمہارا یہ معاملہ ہے تو کھیت کرایہ پر نہ دیا کرو۔“ سیدنا رافع رضی اللہ عنہ نے یہ لفظ سن لیے: «لَا تُكْرُوا الْمَزَارِعَ» ”مزارعت کو کرایہ پر نہ دو۔“
شیخ فرماتے ہیں: سیدنا زید بن ثابت اور سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما دونوں نے اس کا انکار کیا ہے، واللہ اعلم، کہ مزارعت کو کرایہ پر دینے کی نہی مطلق ہے۔ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کی نہی سے مراد یہ ہے کہ جس سے منع نہیں کیا گیا وہ اس کا سونے، چاندی اور ایسی چیز کے ساتھ کرایہ پر دینا ہے جس میں دھوکا نہیں ہے۔ سیدنا رافع رضی اللہ عنہ سے روایت کرنے والے بعض راویوں نے ان انواع کو مقید کیا ہے جن میں نہی واقع ہوئی ہے اور نہی کی علت بیان کی ہے اور وہ کھیتی کی بربادی (ہلاکت) کا ڈر ہے؛ کیونکہ اس میں دھوکا ہے، جو عقد کے فساد کو واجب کرتا ہے۔ اور اگر سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کی مراد یہ ہو کہ جس سے منع نہیں کیا گیا وہ زمین کو اس کی کچھ پیداوار کے عوض کرایہ پر دینا ہے، تو ہم نے ان لوگوں سے روایت کیا ہے جنہوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کی نہی سنی، پس حکم انہی کا ہے نہ کہ ان کا۔ ہم نے سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ سے بیان کیا ہے جو سیدنا رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ وغیرہ کی روایت کے موافق ہے، یہ اس بات کی دلیل ہے کہ جس کا انہوں نے انکار کیا ہے وہ اس کے علاوہ ہے جس کا انہوں نے اثبات کیا ہے، واللہ اعلم۔ بعض علماء نے نہی والی احادیث کو شروطِ فاسدہ والی مزارعت پر محمول کیا ہے، جیسے کھالوں اور نہروں کی شرط کسان پر کس طرح ہے کہ ان نہروں کی کھیتی (زراعت) صرف مالک کے لیے ہے۔ اسی طرح شرطِ قصارہ: یعنی سٹے میں جو دانہ باقی رہے گا اس کو گاہنے کے بعد قصری کہا جاتا ہے۔ اس طرح یہ شرط جس کو چھوٹی نہر سیراب کرے جیسے نالیاں وغیرہ جیسا کہ انہوں نے کہا، یہ شرطیں اور جو ان کے مشابہ ہیں مالک خاص اپنے لیے لگاتا ہے۔ نصف، ربع، ثلث کے علاوہ تو ہم دیکھتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مزارعت سے منع کیا ان شرطوں کی وجہ سے۔ جب حصے معلوم ہوں جیسے نصف، ربع، ثلث تو شروطِ فاسدہ معدوم ہوجائیں گی اور مزارعت جائز ہوجائے گی۔ یہی مذہب امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ کا ہے اور اسی کو ابوعبید، محمد بن اسحاق بن خزیمہ اور دوسرے اہل حدیث، امام ابو یوسف رحمہ اللہ اور محمد بن حسن جو اصحابِ رائے میں سے ہیں، انہوں نے اس کو اختیار کیا ہے اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی احادیث جو اہل خیبر کے ساتھ نصف آمدنی کے متعلق ہیں، جو ان کے پھل اور کھیتی پر لگائی تھی کہ اناج ان سے ملے گا وہ اس مسئلہ میں دلیل ہیں۔ امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ نے رافع بن خدیج والی حدیث کو ضعیف قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ اس میں بہت اختلاف ہے جس کی طرف ہم نے اشارہ کیا ہے کہ متن اور سند میں اختلاف ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب المزارعة/حدیث: 11737]
شیخ فرماتے ہیں: سیدنا زید بن ثابت اور سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما دونوں نے اس کا انکار کیا ہے، واللہ اعلم، کہ مزارعت کو کرایہ پر دینے کی نہی مطلق ہے۔ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کی نہی سے مراد یہ ہے کہ جس سے منع نہیں کیا گیا وہ اس کا سونے، چاندی اور ایسی چیز کے ساتھ کرایہ پر دینا ہے جس میں دھوکا نہیں ہے۔ سیدنا رافع رضی اللہ عنہ سے روایت کرنے والے بعض راویوں نے ان انواع کو مقید کیا ہے جن میں نہی واقع ہوئی ہے اور نہی کی علت بیان کی ہے اور وہ کھیتی کی بربادی (ہلاکت) کا ڈر ہے؛ کیونکہ اس میں دھوکا ہے، جو عقد کے فساد کو واجب کرتا ہے۔ اور اگر سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کی مراد یہ ہو کہ جس سے منع نہیں کیا گیا وہ زمین کو اس کی کچھ پیداوار کے عوض کرایہ پر دینا ہے، تو ہم نے ان لوگوں سے روایت کیا ہے جنہوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کی نہی سنی، پس حکم انہی کا ہے نہ کہ ان کا۔ ہم نے سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ سے بیان کیا ہے جو سیدنا رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ وغیرہ کی روایت کے موافق ہے، یہ اس بات کی دلیل ہے کہ جس کا انہوں نے انکار کیا ہے وہ اس کے علاوہ ہے جس کا انہوں نے اثبات کیا ہے، واللہ اعلم۔ بعض علماء نے نہی والی احادیث کو شروطِ فاسدہ والی مزارعت پر محمول کیا ہے، جیسے کھالوں اور نہروں کی شرط کسان پر کس طرح ہے کہ ان نہروں کی کھیتی (زراعت) صرف مالک کے لیے ہے۔ اسی طرح شرطِ قصارہ: یعنی سٹے میں جو دانہ باقی رہے گا اس کو گاہنے کے بعد قصری کہا جاتا ہے۔ اس طرح یہ شرط جس کو چھوٹی نہر سیراب کرے جیسے نالیاں وغیرہ جیسا کہ انہوں نے کہا، یہ شرطیں اور جو ان کے مشابہ ہیں مالک خاص اپنے لیے لگاتا ہے۔ نصف، ربع، ثلث کے علاوہ تو ہم دیکھتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مزارعت سے منع کیا ان شرطوں کی وجہ سے۔ جب حصے معلوم ہوں جیسے نصف، ربع، ثلث تو شروطِ فاسدہ معدوم ہوجائیں گی اور مزارعت جائز ہوجائے گی۔ یہی مذہب امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ کا ہے اور اسی کو ابوعبید، محمد بن اسحاق بن خزیمہ اور دوسرے اہل حدیث، امام ابو یوسف رحمہ اللہ اور محمد بن حسن جو اصحابِ رائے میں سے ہیں، انہوں نے اس کو اختیار کیا ہے اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی احادیث جو اہل خیبر کے ساتھ نصف آمدنی کے متعلق ہیں، جو ان کے پھل اور کھیتی پر لگائی تھی کہ اناج ان سے ملے گا وہ اس مسئلہ میں دلیل ہیں۔ امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ نے رافع بن خدیج والی حدیث کو ضعیف قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ اس میں بہت اختلاف ہے جس کی طرف ہم نے اشارہ کیا ہے کہ متن اور سند میں اختلاف ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب المزارعة/حدیث: 11737]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ عبدالرازق 14454»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 11738
وَقَدْ أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ الْعَلَوِيُّ رَحِمَهُ اللهُ، ثنا أَبُو حَامِدِ بْنُ الشَّرْقِيِّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى الذُّهْلِيُّ، وَأَبُو الْأَزْهَرِ، قَالَا: ثنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أنبأ مَعْمَرٌ، عَنْ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّهُ كَانَ يُكْرِي أَرَضَهُ، فَأُخْبِرَ بِحَدِيثِ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ، فَأَتَاهُ فَسَأَلَهُ عَنْهُ، فَأَخْبَرَهُ، فَقَالَ ابْنُ عُمَرَ:" قَدْ عَلِمْتُ أَنَّ أَهْلَ الْأَرْضِ قَدْ كَانُوا يُعْطُونَ أَرَضِيهِمْ عَلَى عَهْدِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَيَشْتَرِطُ صَاحِبُ الْأَرْضِ لِيَ الْمَاذِيَانَاتِ وَمَا يَسْقِي الرَّبِيعُ، وَيَشْتَرِطُ مِنَ الْجَرِينِ نَصِيبًا مَعْلُومًا، قَالَ: وَكَانَ ابْنُ عُمَرَ يَظُنُّ أَنَّ النَّهْيَ لِمَا كَانُوا يَشْتَرِطُونَ".
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے منقول ہے کہ وہ اپنی زمین کرایہ پر دیتے تھے، ان کو سیدنا رافع رضی اللہ عنہ کی حدیث کی خبر دی گئی تو وہ سیدنا رافع رضی اللہ عنہ کے پاس آئے اور ان سے سوال کیا، سیدنا رافع رضی اللہ عنہ نے بتایا، سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے کہا: تم جانتے ہو کہ زمینوں والے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں زمینیں (کرایے پر) دیتے تھے اور مالک نہر کے کنارے، فصل کے پانی اور معلوم حصے کی شرط لگاتے تھے اور سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما خیال کرتے تھے کہ منع ان شرائط کی وجہ سے ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب المزارعة/حدیث: 11738]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ عبد الرزاق 14454»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 11739
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيُّ، ثنا أَبُو الْحَسَنِ الْكَارِزِيُّ، ثنا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، عَنْ أَبِي عُبَيْدٍ، ثنا جَرِيرٌ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنْ أُسَيْدِ بْنِ ظُهَيْرِ بْنِ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْمُزَارَعَةِ" أَنَّ أَحَدَهُمْ كَانَ يَشْتَرِطُ ثَلَاثَةَ جَدَاوِلَ وَالْقُصَارَةَ وَمَا سَقَى الرَّبِيعُ، فَنَهَى النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ ذَلِكَ" قَالَ الشَّيْخُ: وَمَنْ ذَهَبَ إِلَى هَذَا زَعَمَ أَنَّ الْأَخْبَارَ الَّتِي وَرَدَ النَّهْيُ فِيهَا عَنْ كِرَائِهَا بِالنِّصْفِ أَوِ الثُّلُثِ أَوِ الرُّبُعِ إِنَّمَا هُوَ لِمَا كَانُوا يُلْحِقُونَ بِهِ مِنَ الشُّرُوطِ الْفَاسِدَةِ، فَقَصَرَ بَعْضُ الرُّوَاةِ بِذِكْرِهَا، وَقَدْ ذَكَرَهَا بَعْضُهُمْ، وَالنَّهْيُ يَتَعَلَّقُ بِهَا دُونَ غَيْرِهَا، وَاللهُ أَعْلَمُ.
سیدنا اسید بن ظہیر بن رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے مزارعت کے بارے میں نقل فرماتے ہیں کہ ان میں سے ہر ایک تین نالیوں کی، قصارہ (گاہنے کے بعد سٹے میں بچ جانے والے دانوں) کی اور جسے چھوٹی نہر سیراب کرے اس کی شرط لگاتا تھا، پس نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے منع فرما دیا۔
شیخ فرماتے ہیں: اور اس طرف گیا کہ وہ اخبار جو نہی پر وارد ہوتی ہیں نصف، ثلث اور ربع کرایہ پر اس وجہ سے ہے کہ وہ فاسد شرطیں لگاتے تھے۔ بعض راویوں نے اس کے ذکر میں تقصیر کی اور بعض نے ان کو ذکر دیا اور نہی کا تعلق انہی سے ہے اس کے علاوہ سے نہیں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب المزارعة/حدیث: 11739]
شیخ فرماتے ہیں: اور اس طرف گیا کہ وہ اخبار جو نہی پر وارد ہوتی ہیں نصف، ثلث اور ربع کرایہ پر اس وجہ سے ہے کہ وہ فاسد شرطیں لگاتے تھے۔ بعض راویوں نے اس کے ذکر میں تقصیر کی اور بعض نے ان کو ذکر دیا اور نہی کا تعلق انہی سے ہے اس کے علاوہ سے نہیں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب المزارعة/حدیث: 11739]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 11740
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ الْمُقْرِئُ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، ثنا يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ غِيَاثٍ، ثنا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي حَكِيمٍ، عَنْ عُمَرَ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ فِي مَرَضِهِ الَّذِي مَاتَ فِيهِ:" قَاتَلَ اللهُ الْيَهُودَ وَالنَّصَارَى؛ اتَّخَذُوا قُبُورَ أَنْبِيَائِهِمْ مَسَاجِدَ، لَا يَبْقَيَنَّ دِينَانِ بِأَرْضِ الْعَرَبِ"، فَلَمَّا اسْتُخْلِفَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَجْلَى أَهْلَ نَجْرَانَ إِلَى الْبَحْرَانِيَّةِ، وَاشْتَرَى عُقُرَهُمْ وَأَمْوَالَهُمْ، وَأَجْلَى أَهْلَ فَدَكٍ وَتَيْمَاءَ وَأَهْلَ خَيْبَرَ، وَاسْتَعْمَلَ يَعْلَى بْنَ مُنْيَةَ، فَأَعْطَى الْبَيَاضَ عَلَى أَنْ كَانَ الْبَذْرُ وَالْبَقَرُ وَالْحَدِيدُ مِنْ عُمَرَ، فَلِعُمَرَ الثُّلُثَانِ وَلَهُمُ الثُّلُثُ، وَإِنْ كَانَ مِنْهُمْ فَلَهُمُ الشَّطْرُ، وَأَعْطَى النَّخْلَ وَالْعِنَبَ عَلَى أَنَّ لِعُمَرَ الثُّلُثَيْنِ وَلَهُمُ الثُّلُثَ وَأَشَارَ الْبُخَارِيُّ إِلَيْهِ فِي تَرْجَمَةِ الْبَابِ وَهُوَ مُرْسَلٌ. قَالَ الْبُخَارِيُّ فِي تَرْجَمَةِ الْبَابِ: وَقَالَ قَيْسُ بْنُ مُسْلِمٍ: عَنْ أَبِي جَعْفَرٍ: مَا بِالْمَدِينَةِ أَهْلُ بَيْتِ هِجْرَةٍ إِلَّا يَزْرَعُونَ عَلَى الثُّلُثِ وَالرُّبُعِ قَالَ الْبُخَارِيُّ: وَزَارَعَ عَلِيٌّ، وَسَعْدُ بْنُ مَالِكٍ، وَابْنُ مَسْعُودٍ، وَعُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، وَالْقَاسِمُ، وَعُرْوَةُ، وَآلُ أَبِي بَكْرٍ، وَآلُ عُمَرَ، وَآلُ عَلِيٍّ، وَابْنُ سِيرِينَ وَقَالَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْأَسْوَدِ: كُنْتُ أُشَارِكُ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ يَزِيدَ فِي الزَّرْعِ.
عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی وفات والے مرض میں فرمایا: ”اللہ یہود و نصاریٰ کو ہلاک کرے، انہوں نے اپنے انبیاء کی قبروں کو سجدہ گاہ بنا لیا، جزیرہ عرب میں دو دین باقی نہیں رہیں گے۔“ جب عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ خلیفہ بنے تو اہل نجران کو بحرانیہ کی طرف جلا وطن کر دیا اور ان کی جائیدادیں اور مال خرید لیے اور اہل فدک، اہل تیماء اور اہل خیبر کو جلا وطن کیا اور یعلیٰ بن منیہ کو عامل مقرر کیا۔ اس کو صاف زمین دی اس شرط پر کہ بیج، گائے اور لوہا عمر رضی اللہ عنہ کی طرف سے ہوگا اور عمر رضی اللہ عنہ کے لیے دو تہائی اور ان کے لیے ایک تہائی، اور اگر یہ چیزیں ان کی طرف سے ہوں تو ان کے لیے نصف، اور کھجوریں اور انگور اس شرط پر دیے کہ عمر رضی اللہ عنہ کے لیے دو تہائی اور ان کے لیے ایک تہائی۔
(ب) امام بخاری رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ابو جعفر رحمہ اللہ سے منقول ہے کہ مدینہ میں مہاجرین ثلث اور ربع پر زراعت کرتے تھے۔ امام بخاری رحمہ اللہ فرماتے ہیں: علی رضی اللہ عنہ، سعد بن مالک رضی اللہ عنہ، ابن مسعود رضی اللہ عنہ، عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ، قاسم رحمہ اللہ، عروہ رحمہ اللہ، آل ابوبکر رضی اللہ عنہم، آل عمر رضی اللہ عنہم، آل علی رضی اللہ عنہم اور ابن سیرین رحمہ اللہ زراعت کرتے تھے، اور عبدالرحمن بن اسود رحمہ اللہ فرماتے ہیں: میں زراعت میں عبدالرحمن بن یزید رحمہ اللہ کا شریک تھا۔
عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ کی یہ روایت مرسل ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب المزارعة/حدیث: 11740]
(ب) امام بخاری رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ابو جعفر رحمہ اللہ سے منقول ہے کہ مدینہ میں مہاجرین ثلث اور ربع پر زراعت کرتے تھے۔ امام بخاری رحمہ اللہ فرماتے ہیں: علی رضی اللہ عنہ، سعد بن مالک رضی اللہ عنہ، ابن مسعود رضی اللہ عنہ، عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ، قاسم رحمہ اللہ، عروہ رحمہ اللہ، آل ابوبکر رضی اللہ عنہم، آل عمر رضی اللہ عنہم، آل علی رضی اللہ عنہم اور ابن سیرین رحمہ اللہ زراعت کرتے تھے، اور عبدالرحمن بن اسود رحمہ اللہ فرماتے ہیں: میں زراعت میں عبدالرحمن بن یزید رحمہ اللہ کا شریک تھا۔
عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ کی یہ روایت مرسل ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب المزارعة/حدیث: 11740]
حدیث نمبر: 11741
أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، ثنا أَبُو مُحَمَّدٍ الْمُزَنِيُّ، ثنا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عِيسَى، ثنا أَبُو الْيَمَانِ، ثنا شُعَيْبٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ قَالَ: كَانَ سَعِيدُ بْنُ الْمُسَيِّبِ يَقُولُ: لَيْسَ بِاسْتِكْرَاءِ الْأَرْضِ بِالذَّهَبِ وَالْوَرِقِ بَأْسٌ، وَقَدْ بَلَغَنَا أَنَّ رَافِعَ بْنَ خَدِيجٍ كَانَ يُحَدِّثُ أَنَّ عَمَّيْهِ، وَكَانَا قَدْ شَهِدَا بَدْرًا، يُحَدِّثَانِ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" نَهَى عَنْ كِرَاءِ الْأَرْضِ" فَلِذَلِكَ مِنْ حَدِيثِ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ كَانَ عَبْدُ اللهِ بْنُ عُمَرَ يَتْرُكُ كِرَاءَ أَرْضِهِ، فَلَمْ يَكُنْ يُكْرِيهَا لَا بِذَهَبٍ وَلَا بِوَرِقٍ وَلَا بِشَيْءٍ، فَأَخَذَ بِذَلِكَ مِنْ فُتْيَا رَافِعٍ أُنَاسٌ، وَتَرَكَهُ آخَرُونَ، فَأَمَّا الْمُعَامَلَةُ عَلَى الشَّطْرِ أَوِ الثُّلُثَيْنِ أَوْ مَا اصْطَلَحُوا عَلَيْهِ مِنْ ذَلِكَ فَقَدْ بَلَغَنَا أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ كَانَ عَامَلَ يَهُودَ خَيْبَرَ حِينَ أَفَاءَ اللهُ عَلَى الْمُسْلِمِينَ عَلَى الشَّطْرِ، وَذَلِكَ أَطْيَبُ أَمْرِ الْأَرْضِ وَأَحَلُّهُ قَالَ الشَّيْخُ: وَمَنْ قَالَ بِالْأَوَّلِ أَجَابَ عَنْ هَذَا وَزَعَمَ أَنَّ مَا ثَبَتَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَا حُجَّةَ فِي قَوْلِ أَحَدٍ دُونَهُ، وَحَدِيثُ رَافِعٍ حَدِيثٌ ثَابِتٌ، وَفِيهِ دَلِيلٌ عَلَى نَهْيِهِ عَنِ الْمُعَامَلَةِ عَلَيْهَا بِبَعْضِ مَا يَخْرُجُ مِنْهَا، إِلَّا أَنَّهُ أَسْنَدَهُ عَنْ بَعْضِ عُمُومَتِهِ مَرَّةً، وَأَرْسَلَهُ أُخْرَى، وَاسْتَقْصَى فِي رِوَايَتِهِ مَرَّةً، وَاخْتَصَرَهَا أُخْرَى، وَتَابَعَهُ عَلَى رِوَايَتِهِ جَابِرُ بْنُ عَبْدِ اللهِ وَغَيْرُهُ كَمَا قَدَّمْنَا ذِكْرَهُ، وَحَدِيثُ الْمُعَامَلَةِ بِشَطْرِ مَا يَخْرُجُ مِنْ خَيْبَرَ مِنْ ثَمَرٍ أَوْ زَرْعٍ مَقُولٌ بِهِ إِذَا كَانَ الزَّرْعُ بَيْنَ ظَهْرَانَيِ النَّخْلِ، وَفِي ذَلِكَ جَمْعٌ بَيْنَ الْأَخْبَارِ الْوَارِدَةِ فِيهِ، وَبِاللهِ التَّوْفِيقُ وَاللهُ أَعْلَمُ.
زہری رحمہ اللہ سے منقول ہے کہ سعید بن مسیب رحمہ اللہ زمین سونے اور چاندی کے عوض کرایہ پر دینے میں کوئی حرج نہ سمجھتے تھے اور رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ اپنے بدری چچوں سے نقل فرماتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ”زمین کرایہ پر دینے“ سے منع فرمایا ہے۔ ابن عمر رضی اللہ عنہما نے رافع رضی اللہ عنہ کی حدیث کی وجہ سے زمین کرایہ پر دینے سے چھوڑ دی۔ وہ اسے نہ سونے کے بدلے دیتے تھے نہ چاندی کے اور نہ کسی اور چیز کے بدلے۔ بعض لوگوں نے رافع رضی اللہ عنہ کے فتوے پر عمل کیا اور بعض نے چھوڑ دیا۔ رہا معاملہ نصف، دو تہائی یا جو وہ طے کرتے تھے، پس نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے خیبر کے یہود کو نصف پر مقرر کیا جب اللہ نے مسلمانوں کو غنیمت عطا کی اور یہ زمین کا اچھا حل ہے۔
شیخ رحمہ اللہ فرماتے ہیں: جس نے پہلی بات کہی اس نے اس کا جواب دیا اور کہا کہ جو بات نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت ہو تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے علاوہ کسی کی بات حجت نہیں ہے، اور رافع رضی اللہ عنہ کی حدیث ثابت ہے اور اس میں پیداوار کے کچھ حصے پر زمین کا معاملہ کرنے کی نہی کی دلیل ہے، مگر یہ کہ انہوں نے اسے کبھی اپنے بعض چچاؤں سے مسند بیان کیا اور کبھی مرسل، اور کبھی پوری روایت بیان کی اور کبھی مختصر، اور جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ وغیرہ نے ان کی روایت کی متابعت کی ہے جیسا کہ ہم پہلے ذکر کر چکے ہیں۔ اور خیبر کے پھلوں یا اناج کے نصف پر معاملے والی حدیث پر اس وقت عمل کیا جائے گا جب کھیتی کھجور کے درختوں کے درمیان ہو، اور اسی میں ان روایات کے درمیان تطبیق ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب المزارعة/حدیث: 11741]
شیخ رحمہ اللہ فرماتے ہیں: جس نے پہلی بات کہی اس نے اس کا جواب دیا اور کہا کہ جو بات نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت ہو تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے علاوہ کسی کی بات حجت نہیں ہے، اور رافع رضی اللہ عنہ کی حدیث ثابت ہے اور اس میں پیداوار کے کچھ حصے پر زمین کا معاملہ کرنے کی نہی کی دلیل ہے، مگر یہ کہ انہوں نے اسے کبھی اپنے بعض چچاؤں سے مسند بیان کیا اور کبھی مرسل، اور کبھی پوری روایت بیان کی اور کبھی مختصر، اور جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ وغیرہ نے ان کی روایت کی متابعت کی ہے جیسا کہ ہم پہلے ذکر کر چکے ہیں۔ اور خیبر کے پھلوں یا اناج کے نصف پر معاملے والی حدیث پر اس وقت عمل کیا جائے گا جب کھیتی کھجور کے درختوں کے درمیان ہو، اور اسی میں ان روایات کے درمیان تطبیق ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب المزارعة/حدیث: 11741]
2473. -- باب: من زرع في أرض غيره بغير إذنه أو بإذنه على سبيل المزارعة
-- باب: جس شخص نے کسی دوسرے کی زمین میں اس کی اجازت کے بغیر، یا اس کی اجازت سے مزارعت کے طور پر کھیتی باڑی کی۔
حدیث نمبر: 11742
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، وَأَبُو صَادِقِ بْنُ أَبِي الْفَوَارِسِ، قَالُوا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ عَفَّانَ، ثنا يَحْيَى بْنُ آدَمَ، ثنا شَرِيكٌ، ح وَأنبأ أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ الْمُزَكِّي، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ، ثنا الْعَبَّاسُ بْنُ الْفَضْلِ الْأَسْفَاطِيُّ، ثنا أَبُو الْوَلِيدِ، ثنا شَرِيكٌ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنْ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَنْ زَرَعَ فِي أَرْضِ قَوْمٍ بِغَيْرِ إِذْنِهِمْ فَلَيْسَ لَهُ فِي الزَّرْعِ شَيْءٌ، وَتُرَدُّ عَلَيْهِ نَفَقَتُهُ" هَذَا لَفْظُ حَدِيثِ أَبِي الْوَلِيدِ، وَفِي رِوَايَةِ يَحْيَى بْنِ آدَمَ قَالَ: يَرْفَعُهُ، وَقَالَ:" فَلَهُ نَفَقَتُهُ، وَلَيْسَ لَهُ مِنَ الزَّرْعِ شَيْءٌ".
سیدنا رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ سے منقول ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے کسی قوم کی زمین میں ان کی اجازت کے بغیر مزارعت کی اس کے لیے زراعت میں کوئی حصہ نہیں ہے اور اسے صرف اس کا خرچ دیا جائے گا۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب المزارعة/حدیث: 11742]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 11743
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، وَأَبُو صَادِقٍ الْعَطَّارُ، قَالُوا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ، ثنا الْحَسَنُ، ثنا يَحْيَى بْنُ آدَمَ، ثنا قَيْسٌ يَعْنِي ابْنَ الرَّبِيعِ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنْ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، مِثْلَهُ.
ایضاً۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب المزارعة/حدیث: 11743]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 11744
حَدَّثَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللهِ بْنُ يُوسُفَ الْأَصْبَهَانِيُّ، ثنا أَبُو مُحَمَّدٍ الْحَسَنُ بْنُ عِمْرَانَ الْقَاضِي، بِهُرَاةَ، ثنا أَبُو حَاتِمٍ عَبْدُ الْجَلِيلِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْهَرَوِيُّ، ثنا عُبَيْدُ اللهِ بْنُ مُوسَى، أنبأ بُكَيْرٌ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي نُعْمٍ، أَنَّ رَافِعَ بْنَ خَدِيجٍ أَخْبَرَهُ أَنَّهُ زَرَعَ أَرْضًا أَخَذَهَا مِنْ بَنِي فُلَانٍ، فَمَرَّ بِهِ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يَسْقِي زَرْعَهُ فَسَأَلَهُ:" لِمَنْ هَذَا؟" فَقَالَ: الزَّرْعُ لِي، وَهِيَ أَرْضُ بَنِي فُلَانٍ أَخَذْتُهَا، لِيَ الشَّطْرُ وَلَهُمُ الشَّطْرُ، قَالَ: فَقَالَ:" انْفُضْ يَدَكَ مِنْ غُبَارِهَا، وَرُدَّ الْأَرْضَ إِلَى أَهْلِهَا، وَخُذْ نَفَقَتَكَ"، قَالَ: فَانْطَلَقْتُ فَأَخْبَرْتُهُمْ بِمَا قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: فَأَخَذَ نَفَقَتَهُ وَرَدَّ إِلَيْهِمْ أَرْضَهُمْ.
سیدنا رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ نے خبر دی کہ انھوں نے بنی فلاں کی زمین میں زراعت کی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس سے گزرے اور میں کھیتوں کو پانی دے رہا تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”یہ کس کے کھیت ہیں؟“ سیدنا رافع رضی اللہ عنہ نے کہا: کھیت میرے ہیں اور زمین بنی فلاں کی ہے، میں نے اس سے نصف پر لی ہے اور نصف اس کا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس کے غبار سے اپنے ہاتھوں کو جھاڑ لے اور زمین مالک کو دے دے اور اپنا خرچہ لے لے۔“ سیدنا رافع رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں گیا، میں نے ان کو خبر دی جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا اور اپنا خرچ لیا اور ان کو ان کی زمین لوٹا دی۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب المزارعة/حدیث: 11744]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 11745
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ دَاسَةَ، أنبأ أَبُو دَاوُدَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، ثنا يَحْيَى، ثنا أَبُو جَعْفَرٍ الْخَطْمِيُّ قَالَ: بَعَثَنِي عمي أَنَا وَغُلَامًا لَهُ إِلَى سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ قَالَ: فَقُلْنَا لَهُ: شَيْءٌ بَلَغَنَا عَنْكَ فِي الْمُزَارَعَةِ، قَالَ: كَانَ ابْنُ عُمَرَ لَا يَرَى بِهَا بَأْسًا حَتَّى بَلَغَهُ عَنْ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ فِي حَدِيثٍ، فَأَتَاهُ، فَأَخْبَرَهُ رَافِعٌ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَتَى بَنِي حَارِثَةَ فَرَأَى زَرْعًا فِي أَرْضِ ظُهَيْرٍ فَقَالَ:" مَا أَحْسَنَ زَرْعَ ظُهَيْرٍ"، فَقَالُوا: لَيْسَ لِظُهَيْرٍ، قَالَ:" ⦗٢٢٦⦘ أَلَيْسَ أَرْضَ ظُهَيْرٍ؟" قَالُوا: بَلَى، وَلَكِنَّهُ زَرْعُ فُلَانٍ، قَالَ:" فَخُذُوا زَرْعَكُمْ وَرُدُّوا عَلَيْهِ النَّفَقَةَ"، قَالَ رَافِعٌ: فَأَخَذْنَا زَرْعَنَا، وَرَدَدْنَا إِلَيْهِ النَّفَقَةَ. قَالَ سَعِيدٌ: أَفْقِرْ أَخَاكَ أَوْ أَكِرْهُ بِالدَّرَاهِمِ. ظَاهِرُ هَذِهِ الْأَحَادِيثِ يَدُلُّ عَلَى أَنَّ الزَّرْعَ يَتْبَعُ الْأَرْضَ، وَفُقَهَاءُ الْأَمْصَارِ عَلَى أَنَّ الزَّرْعَ يَتْبَعُ الْبَذْرَ، وَلَوْ ثَبَتَ هَذِهِ الْأَحَادِيثُ لَمْ يَكُنْ لِأَحَدٍ فِي خِلَافِهَا حُجَّةٌ، إِلَّا أَنَّ الْحَدِيثَ الْأَوَّلَ يَنْفَرِدُ بِهِ شَرِيكُ بْنُ عَبْدِ اللهِ وَقَيْسُ بْنُ الرَّبِيعِ، وَقَيْسُ بْنُ الرَّبِيعِ ضَعِيفٌ عِنْدَ أَهْلِ الْعِلْمِ بِالْحَدِيثِ، وَشَرِيكُ بْنُ عَبْدِ اللهِ مُخْتَلَفٌ فِيهِ، كَانَ يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ الْقَطَّانُ لَا يَرْوِي عَنْهُ، وَيُضَعِّفُ حَدِيثَهُ جِدًّا، ثُمَّ هُوَ مُرْسَلٌ قَالَ الشَّافِعِيُّ فِي كِتَابِ الْبُوَيْطِيِّ: الْحَدِيثُ مُنْقَطِعٌ؛ لِأَنَّهُ لَمْ يَلْقَ عَطَاءً رَافِعًا.
ابو جعفر خطمی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: مجھے میرے چچا نے اپنے ایک غلام کے ساتھ سعید بن مسیب رحمہ اللہ کی طرف بھیجا، ہم نے ان سے پوچھا کہ زراعت کے بارے میں آپ سے ہمیں کچھ خبر ملی ہے تو انہوں نے کہا: سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما اس میں کوئی حرج نہ سمجھتے تھے، یہاں تک کہ ان کو سیدنا رافع رضی اللہ عنہ کی حدیث ملی۔ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سیدنا رافع رضی اللہ عنہ کے پاس آئے تو سیدنا رافع رضی اللہ عنہ نے بتایا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم بنی حارثہ کے پاس آئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ظہیر کی زمین میں زراعت دیکھی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کتنی اچھی کھیتی ہے ظہیر کی۔“ انہوں نے کہا: یہ کھیتی ظہیر کی نہیں ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”کیا یہ ظہیر کی زمین نہیں ہے؟“ انہوں نے جواب دیا: زمین ظہیر کی ہے لیکن کھیتی فلاں کی ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اپنی زراعت لے لو اور خرچ لوٹا دو۔“ سیدنا رافع رضی اللہ عنہ نے کہا: ہم نے اپنی کھیتی لے لی اور خرچہ لوٹا دیا۔ سعید رحمہ اللہ کہتے ہیں: اپنے بھائی کو دے دو یا درہموں کے بدلے کرایہ پر دے دو۔
ان احادیث کا ظاہر اس بات پر دلالت کرتا ہے کہ کھیتی زمین کے تابع ہے، جبکہ بڑے شہروں کے فقہاء اس پر ہیں کہ کھیتی بیج کے تابع ہے۔ اگر یہ احادیث ثابت ہوتیں تو کسی کے لیے ان کی مخالفت میں کوئی دلیل نہ ہوتی، مگر پہلی حدیث کو بیان کرنے میں شریک بن عبداللہ اور قیس بن ربیع منفرد ہیں۔ قیس بن ربیع اہل علم حدیث کے نزدیک ضعیف ہے اور شریک بن عبداللہ مختلف فیہ ہے، یحییٰ بن سعید قطان اس سے روایت نہیں کرتے تھے اور اس کی حدیث کو سخت ضعیف قرار دیتے تھے، پھر یہ مرسل بھی ہے۔ امام شافعی رحمہ اللہ نے کتاب البویطی میں فرمایا: یہ حدیث منقطع ہے؛ کیونکہ عطاء کی رافع سے ملاقات نہیں ہوئی۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب المزارعة/حدیث: 11745]
ان احادیث کا ظاہر اس بات پر دلالت کرتا ہے کہ کھیتی زمین کے تابع ہے، جبکہ بڑے شہروں کے فقہاء اس پر ہیں کہ کھیتی بیج کے تابع ہے۔ اگر یہ احادیث ثابت ہوتیں تو کسی کے لیے ان کی مخالفت میں کوئی دلیل نہ ہوتی، مگر پہلی حدیث کو بیان کرنے میں شریک بن عبداللہ اور قیس بن ربیع منفرد ہیں۔ قیس بن ربیع اہل علم حدیث کے نزدیک ضعیف ہے اور شریک بن عبداللہ مختلف فیہ ہے، یحییٰ بن سعید قطان اس سے روایت نہیں کرتے تھے اور اس کی حدیث کو سخت ضعیف قرار دیتے تھے، پھر یہ مرسل بھی ہے۔ امام شافعی رحمہ اللہ نے کتاب البویطی میں فرمایا: یہ حدیث منقطع ہے؛ کیونکہ عطاء کی رافع سے ملاقات نہیں ہوئی۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب المزارعة/حدیث: 11745]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ ابو داؤد 3401»
الحكم على الحديث: صحيح