السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
2478. -- باب: ما جاء في قطع السدرة
-- باب: بیری کا درخت کاٹنے کے متعلق جو وارد ہوا ہے۔
حدیث نمبر: 11766
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ عَلِيٍّ الْحَافِظُ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عِمْرَانَ بْنِ خُزَيْمَةَ الدِّينَوَرِيُّ أَبُو بَكْرٍ، ثنا أَبُو عُبَيْدٍ الْمَخْزُومِيُّ سَعِيدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، ثنا هِشَامُ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، حَدَّثَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ يَزِيدَ الْمَكِّيُّ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنِ الْحَسَنِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَلِيٍّ، فَذَكَرَهُ. قَالَ أَبُو عَلِيٍّ: هَكَذَا قَالَ لَنَا هَذَا الشَّيْخُ، وَابْنُ جُرَيْجٍ فِي إِسْنَادِهِ وَهْمٌ، وَرَوَاهُ إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْمُنْذِرِ، عَنْ هِشَامِ بْنِ سُلَيْمَانَ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ يَزِيدَ، وَلَمْ يَذْكُرِ ابْنَ جُرَيْجٍ فِي إِسْنَادِهِ وَهُوَ الصَّوَابُ. وَرَوَاهُ عَلِيُّ بْنُ ثَابِتٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ يَزِيدَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيٍّ مُرْسَلًا، وَرَوَاهُ عَلِيُّ بْنُ هِشَامِ بْنِ الْبَرِيدِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ الْخُوزِيِّ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ وَسُلَيْمَانَ الْأَحْوَلِ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، عَنْ عَمْرِو بْنِ أَوْسٍ الثَّقَفِيِّ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَقَالَ:" إِلَّا مِنْ زَرْعٍ" قَالَ أَبُو عَلِيٍّ الْحَافِظُ: حَدِيثُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ يَزِيدَ مُضْطَرِبٌ، وَإِبْرَاهِيمُ ضَعِيفٌ قَالَ الشَّيْخُ: وَرَوَاهُ الْمُثَنَّى بْنُ الصَّبَّاحِ، عَنْ عَمْرٍو، عَنْ أَبِي جَعْفَرٍ.
ایک روایت کے الفاظ ہیں کہ: ”کھیتی کے علاوہ۔“
ابو علی فرماتے ہیں: اس شیخ نے ہمیں اسی طرح بیان کیا ہے، لیکن اس کی سند میں ابن جریج (کا ذکر) وہم ہے، ابراہیم بن منذر نے اسے ہشام بن سلیمان سے، انہوں نے ابراہیم بن یزید سے روایت کیا ہے اور اس کی سند میں ابن جریج کا ذکر نہیں کیا اور یہی درست ہے۔ ابو علی حافظ فرماتے ہیں: ابراہیم بن یزید کی حدیث مضطرب ہے اور ابراہیم ضعیف ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب المزارعة/حدیث: 11766]
ابو علی فرماتے ہیں: اس شیخ نے ہمیں اسی طرح بیان کیا ہے، لیکن اس کی سند میں ابن جریج (کا ذکر) وہم ہے، ابراہیم بن منذر نے اسے ہشام بن سلیمان سے، انہوں نے ابراہیم بن یزید سے روایت کیا ہے اور اس کی سند میں ابن جریج کا ذکر نہیں کیا اور یہی درست ہے۔ ابو علی حافظ فرماتے ہیں: ابراہیم بن یزید کی حدیث مضطرب ہے اور ابراہیم ضعیف ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب المزارعة/حدیث: 11766]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 11767
كَمَا أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ بِشْرَانَ، أنبأ إِسْمَاعِيلُ الصَّفَّارُ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ مَنْصُورٍ، ثنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ قَالَ: سَمِعْتُ الْمُثَنَّى بْنَ الصَّبَّاحِ يُحَدِّثُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنْ أَبِي جَعْفَرٍ قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِعَلِيٍّ فِي مَرَضِهِ الَّذِي مَاتَ فِيهِ:" اخْرُجْ يَا عَلِيُّ فَقُلْ عَنِ اللهِ لَا عَنْ رَسُولِ اللهِ: لَعَنَ اللهُ مَنْ يَقْطَعُ السِّدْرَ" قَالَ الْإِمَامُ أَحْمَدُ رَحِمَهُ اللهُ: كُلُّ ذَلِكَ مُنْقَطِعٌ وَضَعِيفٌ، إِلَّا حَدِيثَ ابْنِ جُرَيْجٍ، فَإِنِّي لَا أَدْرِي هَلْ سَمِعَ سَعِيدٌ مِنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ حَبَشِيٍّ أَمْ لَا، وَيُحْتَمَلُ أَنْ يَكُونَ سَمِعَهُ وَاللهُ أَعْلَمُ وَرُوِيَ بِإِسْنَادٍ آخَرَ مَوْصُولًا إِنْ كَانَ مَحْفُوظًا.
سیدنا ابوجعفر رحمہ اللہ سے منقول ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے مرضِ وفات میں سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے فرمایا: ”اے علی! جاؤ، اللہ کی طرف سے اعلان کرو، نہ کہ رسول کی طرف سے کہ اللہ لعنت کرے اس پر جو بیری کاٹے۔“
یہ سب روایات منقطع اور ضعیف ہیں، سوائے ابن جریج کی حدیث کے، کیونکہ میں نہیں جانتا کہ سعید نے عبداللہ بن حبشی سے سنا ہے یا نہیں، اور احتمال ہے کہ انہوں نے سنا ہو، واللہ اعلم۔ اور یہ ایک دوسری متصل سند سے بھی روایت کی گئی ہے، اگر وہ محفوظ ہو۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب المزارعة/حدیث: 11767]
یہ سب روایات منقطع اور ضعیف ہیں، سوائے ابن جریج کی حدیث کے، کیونکہ میں نہیں جانتا کہ سعید نے عبداللہ بن حبشی سے سنا ہے یا نہیں، اور احتمال ہے کہ انہوں نے سنا ہو، واللہ اعلم۔ اور یہ ایک دوسری متصل سند سے بھی روایت کی گئی ہے، اگر وہ محفوظ ہو۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب المزارعة/حدیث: 11767]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 11768
أَخْبَرَنَاهُ أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، حَدَّثَنِي الزُّبَيْرُ بْنُ عَبْدِ الْوَاحِدِ الْحَافِظُ، وَأَنَا سَأَلْتُهُ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ نُوحٍ الْجُنْدِيسَابُورِيُّ، ثنا عَبْدُ الْقُدُّوسِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الْكَبِيرِ بْنِ ⦗٢٣٣⦘ شُعَيْبِ بْنِ الْحَبْحَابِ، ثنا عَبْدُ الْقَاهِرِ بْنُ شُعَيْبٍ، عَنْ بَهْزِ بْنِ حَكِيمٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" قَاطِعُ السِّدْرِ يُصَوِّبُ اللهُ رَأْسَهُ فِي النَّارِ".
بہز بن حکیم اپنے والد سے اور وہ دادا (رضی اللہ عنہ) سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بیری کاٹنے والے کا سر اللہ آگ میں ڈالے گا۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب المزارعة/حدیث: 11768]
تخریج الحدیث: «منكر۔ الطبراني في الكبير 1610»
الحكم على الحديث: منكر
حدیث نمبر: 11769
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ، ثنا الزُّبَيْرُ بْنُ عَبْدِ الْوَاحِدِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو عَلِيٍّ مُحَمَّدُ بْنُ سُلَيْمَانَ الْمَالِكِيُّ بِالشَّجَرَةِ، ثنا زَيْدُ بْنُ أَخْزَمَ، ثنا يَحْيَى بْنُ الْحَارِثِ، عَنْ أَخِيهِ مُخَارِقِ بْنِ الْحَارِثِ، عَنْ بَهْزِ بْنِ حَكِيمٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" مِنَ اللهِ لَا مِنْ رَسُولِهِ: لَعَنَ اللهُ عَاضِدَ السِّدْرِ".
بہز بن حکیم اپنے والد سے اور وہ اپنے دادا (رضی اللہ عنہ) سے روایت کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ اللہ کی طرف سے ہے نہ کہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے کہ اللہ کی لعنت ہے بیری اکھاڑنے والے پر۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب المزارعة/حدیث: 11769]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 11770
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ دَاسَةَ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا عُبَيْدُ اللهِ بْنُ عُمَرَ بْنِ مَيْسَرَةَ، وَحُمَيْدُ بْنُ مَسْعَدَةَ، قَالَا: ثنا حَسَّانُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ قَالَ: سَأَلْتُ هِشَامَ بْنَ عُرْوَةَ عَنْ قَطْعِ السِّدْرِ، وَهُوَ مُسْنِدٌ إِلَى قَصْرِ عُرْوَةَ، فَقَالَ: أَتَرَى هَذِهِ الْأَبْوَابَ وَالْمَصَارِيعَ؟ إِنَّمَا هِيَ مِنْ سِدْرِ عُرْوَةَ، كَانَ عُرْوَةُ يَقْطَعُهُ مِنْ أَرْضِهِ وَقَالَ:" لَا بَأْسَ بِهِ" زَادَ حُمَيْدٌ فَقَالَ: هِيَ يَا عِرَاقِيُّ، جِئْتَنِي بِبِدْعَةٍ، قَالَ: قُلْتُ: إِنَّمَا الْبِدْعَةُ مِنْ قِبَلِكُمْ، سَمِعْتُ مَنْ يَقُولُ بِمَكَّةَ: لَعَنَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ قَطَعَ السِّدْرَ، فَقَالَ أَبُو دَاوُدَ: ثُمَّ سَاقَ مَعْنَاهُ، قَالَ أَبُو دَاوُدَ: يَعْنِي مَنْ قَطَعَ السِّدْرَ فِي فَلَاةٍ يَسْتَظِلُّ بِهَا ابْنُ السَّبِيلِ وَالْبَهَائِمُ عَبَثًا وَظُلْمًا بِغَيْرِ حَقٍّ يَكُونُ لَهُ فِيهَا. قَالَ الْإِمَامُ أَحْمَدُ رَحِمَهُ اللهُ: وَقَدْ قَرَأْتُ فِي كِتَابِ أَبِي الْحَسَنِ الْعَاصِمِيِّ رِوَايَتَهُ عَنْ أَبِي عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدِ بْنِ يُوسُفَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ يَعْقُوبَ بْنِ الْفَرَجِيِّ، عَنْ أَبِي ثَوْرٍ أَنَّهُ قَالَ: سَأَلْتُ أَبَا عَبْدِ اللهِ الشَّافِعِيَّ رَحِمَهُ اللهُ عَنْ قَطْعِ السِّدْرِ، فَقَالَ: لَا بَأْسَ بِهِ قَدْ رُوِيَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ:" اغْسِلْهُ بِمَاءٍ وَسِدْرٍ" قُلْتُ: فَالْحَدِيثُ الَّذِي رُوِيَ فِي قَاطِعِ السِّدْرِ يَكُونُ مَحْمُولًا عَلَى مَا حَمَلَهُ عَلَيْهِ أَبُو دَاوُدَ السِّجِسْتَانِيُّ رَحِمَهُ اللهُ إِنْ صَحَّ طَرِيقُهُ، فَفِيهِ مِنَ الِاخْتِلَافِ مَا قَدَّمْنَا ذِكْرَهُ، وَرُوِّينَا عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ أَنَّهُ كَانَ يَقْطَعُهُ مِنْ أَرْضِهِ، وَهُوَ أَحَدُ رُوَاةِ النَّهْيِ، فَيُشْبِهُ أَنْ يَكُونَ النَّهْيُ خَاصًّا كَمَا قَالَ أَبُو دَاوُدَ رَحِمَهُ اللهُ، وَاللهُ أَعْلَمُ. وَقَرَأْتُ فِي كِتَابِ أَبِي سُلَيْمَانَ الْخَطَّابِيِّ رَحِمَهُ اللهُ أَنَّ إِسْمَاعِيلَ بْنَ يَحْيَى الْمُزَنِيَّ رَحِمَهُ اللهُ سُئِلَ عَنْ هَذَا، فَقَالَ: وَجْهُهُ أَنْ يَكُونَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سُئِلَ عَمَّنْ هَجَمَ عَلَى قَطْعِ سِدْرٍ لِقَوْمٍ أَوْ لِيَتِيمٍ أَوْ لِمَنْ حَرَّمَ اللهُ أَنْ يُقْطَعَ عَلَيْهِ، فَتَحَامَلَ عَلَيْهِ بِقَطْعِهِ فَاسْتَحَقَّ مَا قَالَهُ، فَتَكُونَ الْمَسْأَلَةُ سَبَقَتِ السَّامِعَ، فَسَمِعَ الْجَوَابَ وَلَمْ يَسْمَعِ الْمَسْأَلَةَ، وَجَعَلَ نَظِيرَهُ حَدِيثَ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ أَنَّ ⦗٢٣٤⦘ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" إِنَّمَا الرِّبَا فِي النَّسِيئَةِ"، فَسَمِعَ الْجَوَابَ وَلَمْ يَسْمَعِ الْمَسْأَلَةَ، وَقَدْ قَالَ:" لَا تَبِيعُوا الذَّهَبَ بِالذَّهَبِ إِلَّا مِثْلًا بِمِثْلٍ، يَدًا بِيَدٍ"، وَاحْتَجَّ الْمُزَنِيُّ بِمَا احْتَجَّ بِهِ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُمَا اللهُ مِنْ إِجَازَةِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يُغَسَّلَ الْمَيِّتُ بِالسِّدْرِ، وَلَوْ كَانَ حَرَامًا لَمْ يَجُزِ الِانْتِفَاعُ بِهِ، قَالَ: وَالْوَرَقُ مِنَ السِّدْرِ كَالْغُصْنِ، وَقَدْ سَوَّى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِيمَا حَرَّمَ قَطْعَهُ مِنْ شَجَرِ الْحَرَمِ بَيْنَ وَرَقِهِ وَبَيْنَ غَيْرِهِ، فَلَمَّا لَمْ أَرَ أَحَدًا يُمْنَعُ مِنْ وَرَقِ السِّدْرِ دَلَّ عَلَى جَوَازِ قَطْعِ السِّدْرِ.
(الف) حسان بن ابراہیم فرماتے ہیں: میں نے ہشام بن عروہ رحمہ اللہ سے بیری کو کاٹنے کے بارے میں سوال کیا اور وہ عروہ رحمہ اللہ کے مکان سے ٹیک لگا کر بیٹھے تھے۔ انھوں نے کہا: ان دروازوں اور چوکھٹوں کو دیکھتے ہو؟ وہ عروہ رحمہ اللہ کی بیری کے ہیں۔ عروہ رحمہ اللہ نے اپنی زمین سے کاٹا تھا اور کہا تھا: اس میں کوئی حرج نہیں ہے۔ اور ہشام نے کہا: اے عراقی! یہ بدعت تو لے کر آیا ہے، حسان کہتے ہیں: میں نے کہا کہ بدعت تو تمہاری طرف سے ہے، میں نے اہل مکہ سے سنا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ”بیری کاٹنے والے پر لعنت کی ہے“۔ ابو داؤد رحمہ اللہ کہتے ہیں: یعنی جس نے کسی بیابان میں ایسی بیری بے مقصد اور ظلم سے، بغیر کسی حق کے کاٹی جس سے مسافر اور جانور سایہ لیتے ہوں۔
(ب) امام احمد رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ابو ثور رحمہ اللہ نے امام شافعی رحمہ اللہ سے بیری کاٹنے کے بارے میں سوال کیا تو انھوں نے فرمایا: اس میں کوئی حرج نہیں ہے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کیا گیا ہے کہ ”اس کو پانی کے ساتھ اور بیری کے ساتھ غسل دو“۔
(ج) میں نے کہا: بیری کاٹنے والے کے بارے میں جو حدیث روایت کی گئی ہے وہ امام ابو داؤد رحمہ اللہ کی توجیہ پر محمول ہوگی، اگر اس کی سند صحیح ہو، کیونکہ اس میں وہ اختلاف ہے جس کا ہم پہلے ذکر کر چکے ہیں۔
(د) ہم نے عروہ بن زبیر رحمہ اللہ سے روایت کیا ہے کہ وہ اپنی زمین سے اس کو کاٹ دیتے تھے، حالانکہ وہ نہی کے راویوں میں سے ایک ہیں، تو لگتا ہے کہ نہی خاص ہے جیسا کہ ابو داؤد رحمہ اللہ نے کہا، واللہ اعلم۔ اسماعیل بن یحییٰ مزنی رحمہ اللہ سے اس بارے میں سوال کیا گیا تو انھوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس شخص کے بارے میں سوال کیا گیا تھا جس نے کسی قوم کی یا کسی یتیم کی یا ایسے شخص کی بیری کاٹنے پر ہاتھ ڈالا جس کی بیری کاٹنا اللہ نے اس پر حرام کیا ہے، اور اسے کاٹ کر اس پر زیادتی کی، تو وہ اس وعید کا مستحق ہوا جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمائی۔ پس اس پر ہی محمول ہوگا سننے والے نے جواب سن لیا اور سوال نہ سنا اور وہ اس حدیث کی طرح ہے جو اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ سے منقول ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”سود صرف ادھار میں ہے“۔ اس راوی نے بھی سوال نہ سنا اور جواب سن لیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”سونے کو سونے کے بدلے نہ بیچو مگر برابر برابر، دست بدست“۔
(ر) اور مزنی رحمہ اللہ نے اسی سے دلیل پکڑی ہے جس سے امام شافعی رحمہ اللہ نے دلیل پکڑی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے میت کو بیری سے غسل دینے کی اجازت دی ہے۔ اگر حرام تھی تو اس سے فائدہ اٹھانا جائز نہ ہوتا۔ فرمایا: بیری کے پتے گویا کہ شاخیں ہیں اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حرم کے درختوں کو کاٹنے کی حرمت کو برابر رکھا چاہے صرف پتے ہوں یا کوئی اور چیز۔ جب میں نے کسی کو پتوں سے روکتے نہیں دیکھا تو یہ بیری کے کاٹنے پر جواز فراہم کرتا ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب المزارعة/حدیث: 11770]
(ب) امام احمد رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ابو ثور رحمہ اللہ نے امام شافعی رحمہ اللہ سے بیری کاٹنے کے بارے میں سوال کیا تو انھوں نے فرمایا: اس میں کوئی حرج نہیں ہے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کیا گیا ہے کہ ”اس کو پانی کے ساتھ اور بیری کے ساتھ غسل دو“۔
(ج) میں نے کہا: بیری کاٹنے والے کے بارے میں جو حدیث روایت کی گئی ہے وہ امام ابو داؤد رحمہ اللہ کی توجیہ پر محمول ہوگی، اگر اس کی سند صحیح ہو، کیونکہ اس میں وہ اختلاف ہے جس کا ہم پہلے ذکر کر چکے ہیں۔
(د) ہم نے عروہ بن زبیر رحمہ اللہ سے روایت کیا ہے کہ وہ اپنی زمین سے اس کو کاٹ دیتے تھے، حالانکہ وہ نہی کے راویوں میں سے ایک ہیں، تو لگتا ہے کہ نہی خاص ہے جیسا کہ ابو داؤد رحمہ اللہ نے کہا، واللہ اعلم۔ اسماعیل بن یحییٰ مزنی رحمہ اللہ سے اس بارے میں سوال کیا گیا تو انھوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس شخص کے بارے میں سوال کیا گیا تھا جس نے کسی قوم کی یا کسی یتیم کی یا ایسے شخص کی بیری کاٹنے پر ہاتھ ڈالا جس کی بیری کاٹنا اللہ نے اس پر حرام کیا ہے، اور اسے کاٹ کر اس پر زیادتی کی، تو وہ اس وعید کا مستحق ہوا جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمائی۔ پس اس پر ہی محمول ہوگا سننے والے نے جواب سن لیا اور سوال نہ سنا اور وہ اس حدیث کی طرح ہے جو اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ سے منقول ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”سود صرف ادھار میں ہے“۔ اس راوی نے بھی سوال نہ سنا اور جواب سن لیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”سونے کو سونے کے بدلے نہ بیچو مگر برابر برابر، دست بدست“۔
(ر) اور مزنی رحمہ اللہ نے اسی سے دلیل پکڑی ہے جس سے امام شافعی رحمہ اللہ نے دلیل پکڑی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے میت کو بیری سے غسل دینے کی اجازت دی ہے۔ اگر حرام تھی تو اس سے فائدہ اٹھانا جائز نہ ہوتا۔ فرمایا: بیری کے پتے گویا کہ شاخیں ہیں اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حرم کے درختوں کو کاٹنے کی حرمت کو برابر رکھا چاہے صرف پتے ہوں یا کوئی اور چیز۔ جب میں نے کسی کو پتوں سے روکتے نہیں دیکھا تو یہ بیری کے کاٹنے پر جواز فراہم کرتا ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب المزارعة/حدیث: 11770]
تخریج الحدیث: «حسن۔ ابوداؤد 5241»
الحكم على الحديث: حسن