🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
السنن الكبرى للبيهقي میں نمبر سے تلاش
حدیث نمبر لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں عربی متن سے تلاش
عربی حدیث کا متن لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں اردو متن سے تلاش
اردو حدیث کا متن لکھیں:
2524. -- باب: المكافأة في الهبة
-- باب: ہدیہ کا بدلہ دینے کے بیان میں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 12029
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ الرَّفَّاءُ، أنبأ عُثْمَانُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ بِشْرٍ، ثنا إِسْمَاعِيلُ الْقَاضِي، ثنا ابْنُ أَبِي أُوَيْسٍ، وَعِيسَى بْنُ مِينَاءٍ، قَالَا: ثنا ابْنُ أَبِي الزِّنَادِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ الْفُقَهَاءِ مِنْ أَهْلِ الْمَدِينَةِ، كَانُوا يَقُولُونَ:" فِي كُلِّ عَطِيَّةٍ أَعْطَاهَا ذُو طَوْلٍ أَنْ لَا عِوَضَ فِيهَا وَلَا ثَوَابَ" وَقَالُوا:" الثَّوَابُ لِمَنْ كَانَتْ عَطِيَّتُهُ عَلَى وَجْهِ الثَّوَابِ أَنَّهُ أَحَقُّ بِعَطِيَّتِهِ مَا لَمْ يُثَبْ مِنْهَا" وَقَضَى بِذَلِكَ عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ رَحِمَهُ اللهُ قَالَ عِيسَى بْنُ مِينَاءٍ فِي رِوَايَتِهِ: أَحَقُّ بِعَطِيَّتِهِ مَا لَمْ يُثَبْ مِنْهَا، وَمَا لَمْ تَفُتْ.
ابن ابی الزناد رحمہ اللہ اپنے والد سے اور وہ فقہاء مدینہ سے نقل فرماتے ہیں کہ وہ کہتے تھے کہ ہر وہ عطیہ جو کوئی صاحبِ حیثیت دے، نہ اس میں کوئی عوض ہے اور نہ کوئی بدلہ ہے، اور انہوں نے کہا: بدلہ اس کے لیے ہے جو اپنا عطیہ بدلے کی خاطر دے، وہی اپنے عطیے کا حق دار ہے جب تک وہ بدلہ نہ دیا جائے، اسی طرح عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ نے فیصلہ کیا۔
عیسیٰ بن میناء کی روایت میں ہے: وہی اپنے عطیے کا حق دار ہے جب تک اسے بدلہ نہ دیا جائے اور جب تک وہ (عطیہ) ضائع نہ ہو جائے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الهبات/حدیث: 12029]
تخریج الحدیث: «صحيح»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
2525. -- باب: شكر المعروف
-- باب: احسان کا شکر ادا کرنے کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 12030
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ دَاسَةَ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا مُسَدَّدٌ، ثنا بِشْرٌ، ثنا عُمَارَةُ بْنُ غَزِيَّةَ، حَدَّثَنِي رَجُلٌ مِنْ قَوْمِي، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَنْ أَعْطَى عَطَاءً فَوَجَدَ فَلْيَجْزِ بِهِ، فَإِنْ لَمْ يَجِدْ فَلْيُثْنِ؛ فَمَنْ أَثْنَى بِهِ فَقَدْ شَكَرَهُ، وَمَنْ كَتَمَهُ فَقَدْ كَفَرَهُ" قَالَ أَبُو دَاوُدَ: وَرَوَاهُ يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ، عَنْ عُمَارَةَ، عَنْ شُرَحْبِيلَ، عَنْ جَابِرٍ.
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جسے عطیہ دیا جائے وہ اسے قبول کر لے اور اس کا بدلہ بھی دے۔ اگر وہ بدلہ دینے کی استطاعت نہ رکھتا ہو تو اس کی تعریف کرے۔ جس نے اس کی تعریف کی گویا کہ اس نے اس کا شکریہ ادا کیا اور جس نے اسے چھپایا پس اس نے اس کی ناشکری کی۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الهبات/حدیث: 12030]
تخریج الحدیث: «ضعيف»

الحكم على الحديث: ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 12031
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الزَّاهِدُ الْأَصْبَهَانِيُّ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ بَحْرٍ الْبَرِّيُّ، ثنا يَحْيَى بْنُ إِسْحَاقَ السَّيْلَحِينِيُّ، ثنا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ، عَنْ عُمَارَةَ بْنِ غَزِيَّةَ، عَنْ شُرَحْبِيلَ الْأَنْصَارِيِّ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَنْ أُوتِيَ إِلَيْهِ مَعْرُوفٌ فَوَجَدَ فَلْيُكَافِئْهُ، وَمَنْ لَمْ يَجِدْ فَلْيُثْنِ بِهِ؛ فَإِنَّ مَنْ أَثْنَى بِهِ فَقَدْ شَكَرَهُ، وَمَنْ كَتَمَهُ فَقَدْ كَفَرَهُ، وَمَنْ تَحَلَّى بِمَا لَمْ يُعْطَ كَانَ كَلَابِسِ ثَوْبَيْ زُورٍ".
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جسے کوئی اچھی چیز دی جائے وہ اسے قبول کر لے، پھر اس کا بدلہ بھی دے اور جو بدلہ کی طاقت نہ رکھے وہ اس کی تعریف کرے۔ جس نے تعریف کی گویا کہ اس نے شکریہ ادا کیا اور جس نے اسے چھپایا گویا کہ اس نے ناشکری کی اور جس نے کسی چیز کو تحفہ کے طور پر ظاہر کیا حالانکہ تحفہ نہ دی گئی ہو تو گویا کہ اس نے جھوٹ کے دو کپڑے پہنے ہیں۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الهبات/حدیث: 12031]
تخریج الحدیث: «ضعيف»

الحكم على الحديث: ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 12032
أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ، ثنا تَمْتَامٌ، ثنا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ثنا الرَّبِيعُ بْنُ مُسْلِمٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" لَا يَشْكُرُ اللهَ مَنْ لَا يَشْكُرُ النَّاسَ" رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ فِي كِتَابِ السُّنَنِ عَنْ مُسْلِمِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، وَكَذَلِكَ رَوَاهُ يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ الْقَطَّانُ وَغَيْرُهُ عَنِ الرَّبِيعِ بْنِ مُسْلِمٍ.
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو لوگوں کا شکریہ ادا نہیں کرتا وہ اللہ کا شکر گزار بندہ نہیں بن سکتا۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الهبات/حدیث: 12032]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ احمد 7495۔ ابوداود4811»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 12033
وَأَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ فُورَكٍ، أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا يُونُسُ بْنُ حَبِيبٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ الطَّيَالِسِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ طَلْحَةَ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ شَرِيكٍ الْعَامِرِيِّ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَدِيٍّ الْكِنْدِيِّ، عَنِ الْأَشْعَثِ بْنِ قَيْسٍ قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَشْكَرُ النَّاسِ لِلَّهِ أَشْكَرُهُمْ لِلنَّاسِ".
سیدنا اشعث بن قیس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”لوگوں میں سے اللہ کا زیادہ شکر گزار وہ ہے جو ان میں سے لوگوں کا زیادہ شکریہ ادا کرتا ہے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الهبات/حدیث: 12033]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ اخرجه احمد 22182»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 12034
أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ الْفَقِيهُ، أنبأ عُبْدُوسُ بْنُ الْحُسَيْنِ بْنِ مَنْصُورٍ النَّيْسَابُورِيُّ، ثنا أَبُو حَاتِمٍ الرَّازِيُّ، ثنا الْأَنْصَارِيُّ، حَدَّثَنِي حُمَيْدٌ، عَنْ أَنَسٍ قَالَ: قَالَ الْمُهَاجِرُونَ: يَا رَسُولَ اللهِ، مَا رَأَيْنَا مِثْلَ قَوْمٍ قَدِمْنَا عَلَيْهِمُ الْمَدِينَةَ أَحْسَنَ بَذْلًا مِنْ كَثِيرٍ، وَلَا أَحْسَنَ مُوَاسَاةً مِنْ قَلِيلٍ، قَدْ كَفَوْنَا الْمُؤْنَةَ، وَأَشْرَكُونَا فِي الْمَهْنَأِ، فَقَدْ خَشِينَا أَنْ يَكُونُوا يَذْهَبُونَ بِالْأَجْرِ كُلِّهِ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" كَلَّا مَا أَثْنَيْتُمْ بِهِ عَلَيْهِمْ، وَدَعَوْتُمُ اللهَ لَهُمْ".
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ مہاجرین نے کہا: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! ہم مدینہ میں جن کے پاس آئے ہیں ان جیسی قوم ہم نے نہیں دیکھی جو زیادہ مال اور زیادہ اچھا خرچ کرنے والی ہو اور نہ تھوڑے مال سے حسنِ مواساۃ رکھنے والی ہو۔ انہوں نے ہمیں کام کرنے سے روک دیا اور راحت و آرام میں ہمیں شریک کیا، ہمیں ڈر ہے کہ وہ سارا اجر لے جائیں گے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہرگز نہیں، جب تک تم ان کی تعریف کرتے رہو اور اللہ سے ان کے لیے دعا کرتے رہو۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الهبات/حدیث: 12034]
تخریج الحدیث: «احمد 13106۔ الترمذي 2487»

الحكم على الحديث: احمد 13106
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 12035
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ دَاسَةَ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا مُوسَى بْنُ ⦗٣٠٣⦘ إِسْمَاعِيلَ، ثنا حَمَّادٌ، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ أَنَسٍ، أَنَّ الْمُهَاجِرِينَ قَالُوا: يَا رَسُولَ اللهِ، ذَهَبَتِ الْأَنْصَارُ بِالْأَجْرِ كُلِّهِ، قَالَ:" لَا مَا دَعَوْتُمُ اللهَ لَهُمْ، وَأَثْنَيْتُمْ عَلَيْهِمْ".
سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ مہاجرین نے کہا: اے اللہ کے رسول! انصار سارا اجر لے گئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نہیں، جب تک تم ان کے لیے اللہ سے دعا کرتے رہو اور ان کی تعریف کرتے رہو۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الهبات/حدیث: 12035]
تخریج الحدیث: «اخرجه البخاري في الادب المفرد 217»

الحكم على الحديث: اخرجه البخاري في الادب المفرد 217
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
2526. -- باب: ذكر الخبر الذي روي: " من أهديت له هدية وعنده ناس فهم شركاء فيها " قال البخاري: لم يصح ذلك
-- باب: اس روایت کا ذکر جو بیان کی گئی ہے: ”جسے کوئی ہدیہ دیا جائے اور اس کے پاس لوگ بیٹھے ہوں تو وہ بھی اس میں شریک ہیں“ امام بخاری نے فرمایا: یہ صحیح نہیں ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 12036
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ الْعَلَوِيُّ، أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْحَسَنِ بْنِ الشَّرْقِيِّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ الصَّلْتِ، ثنا مِنْدَلُ بْنُ عَلِيٍّ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَنْ أُهْدِيَتْ لَهُ هَدِيَّةٌ وَعِنْدَهُ نَاسٌ فَهُمْ شُرَكَاءُ فِيهَا" وَرُوِيَ ذَلِكَ مِنْ وَجْهٍ آخَرَ عَنْ عَمْرٍو، وَفِيهِ نَظَرٌ.
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جسے ہدیہ دیا گیا اور اس کے پاس لوگ ہوں تو وہ اس میں شریک ہوں گے۔“
یہ روایت عمرو سے ایک اور سند سے بھی مروی ہے اور اس میں کلام ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الهبات/حدیث: 12036]
تخریج الحدیث: «ضعيف»

الحكم على الحديث: ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 12037
أَخْبَرَنَاهُ أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ سُلَيْمَانَ بْنِ مَنْصُورٍ الْمُذَكِّرُ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ دَاوُدَ السِّمْنَانِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ السَّرِيِّ، ثنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ مُسْلِمٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَنْ أُهْدِيَ إِلَيْهِ وَعِنْدَهُ قَوْمٌ فَهُمْ شُرَكَاءُ" وَكَذَلِكَ رَوَاهُ أَبُو الْأَزْهَرِ عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ، وَرَوَاهُ أَحْمَدُ بْنُ يُوسُفَ عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ فَذَكَرَهُ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ مَوْقُوفًا غَيْرَ مَرْفُوعٍ، وَهُوَ أَصَحُّ.
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جسے ہدیہ دیا جائے اور اس کے پاس اور لوگ ہوں تو وہ بھی اس ہدیہ میں شریک ہوں گے۔“
احمد بن یوسف نے اسے عبدالرزاق سے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما پر موقوف (ان کا اپنا قول) روایت کیا ہے، مرفوع نہیں، اور یہی زیادہ صحیح ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الهبات/حدیث: 12037]
تخریج الحدیث: «حسن»

الحكم على الحديث: حسن
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
2527. -- باب: إباحة صدقة التطوع لمن لا تحل له صدقة الفرض من بني هاشم وبني عبد المطلب
-- باب: بنو ہاشم اور بنو عبدالمطلب کے ان افراد کے لیے نفلی صدقہ کے مباح ہونے کا بیان جن کے لیے فرض صدقہ (زکوٰۃ) حلال نہیں ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 12038
أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنبأ الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، أنبأ الشَّافِعِيُّ، أَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ شَافِعٍ، أَخْبَرَنِي عَبْدُ اللهِ بْنُ حَسَنِ بْنِ حَسَنٍ، عَنْ غَيْرِ وَاحِدٍ مِنْ أَهْلِ بَيْتِهِ، وَأَحْسِبُهُ قَالَ: زَيْدِ بْنِ عَلِيٍّ، أَنَّ فَاطِمَةَ بِنْتَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" تَصَدَّقَتْ بِمَالِهَا عَلَى بَنِي هَاشِمٍ وَبَنِي الْمُطَّلِبِ، وَأَنَّ عَلِيًّا رَضِيَ اللهُ عَنْهُ تَصَدَّقَ عَلَيْهِمْ، وَأَدْخَلَ مَعَهُمْ غَيْرَهُمْ".
سیدنا عبداللہ بن حسن رحمہ اللہ اہل بیت میں سے نقل فرماتے ہیں اور راوی کے خیال میں وہ زید بن علی رحمہ اللہ ہیں کہ سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا بنت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے مال کا بنی ہاشم اور بنی مطلب پر صدقہ کیا اور سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے صدقہ کیا ان پر اور ان کے ساتھ اور لوگوں کو بھی شامل کیا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الهبات/حدیث: 12038]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ الام للشافعي 4/ 57»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں