🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
السنن الكبرى للبيهقي میں نمبر سے تلاش
حدیث نمبر لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں عربی متن سے تلاش
عربی حدیث کا متن لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں اردو متن سے تلاش
اردو حدیث کا متن لکھیں:
2520. جماع أبواب عطية الرجل ولده -- باب: السنة في التسوية بين الأولاد في العطية
باب: انسان کا اپنی اولاد کو عطیہ دینے کے تمام ابواب کا مجموعہ -- باب: عطیہ دینے میں اولاد کے درمیان برابری کرنے کی سنت کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 11999
أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدِ بْنُ يَحْيَى بْنِ عَبْدِ الْجَبَّارِ السُّكَّرِيُّ بِبَغْدَادَ، أنبأ إِسْمَاعِيلُ الصَّفَّارُ، ثنا سَعْدَانُ بْنُ نَصْرٍ، ثنا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ، ثنا إِسْحَاقُ بْنُ الْحَسَنِ الْحَرْبِيُّ، ثنا سُلَيْمَانُ يَعْنِي ابْنَ حَرْبٍ، ثنا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ حَاجِبِ بْنِ الْمُفَضَّلِ بْنِ الْمُهَلَّبِ بْنِ أَبِي صُفْرَةَ، عَنْ أَبِيهِ قَالَ: سَمِعْتُ النُّعْمَانَ بْنَ بَشِيرٍ يَخْطُبُ يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" اعْدِلُوا بَيْنَ أَوْلَادِكُمُ، اعْدِلُوا بَيْنَ أَوْلَادِكُمْ" لَفْظُهُمَا سَوَاءٌ.
سیدنا نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ خطبہ دے رہے تھے، انہوں نے فرمایا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اپنی اولاد کے درمیان عدل کرو، اپنی اولاد کے درمیان عدل کرو۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الهبات/حدیث: 11999]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيره»

الحكم على الحديث: صحيح لغيره
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 12000
أَخْبَرَنَا أَبُو حَازِمٍ الْحَافِظُ، وَأَبُو نَصْرٍ عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ عُمَرَ بْنِ قَتَادَةَ، قَالَا: أنبأ أَبُو الْفَضْلِ بْنُ خَمِيرَوَيْهِ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ نَجْدَةَ، ثنا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَيَّاشٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ يُوسُفَ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" سَوُّوا بَيْنَ أَوْلَادِكُمْ فِي الْعَطِيَّةِ، فَلَوْ كُنْتُ مُفَضِّلًا أَحَدًا لَفَضَّلْتُ النِّسَاءَ".
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اپنی اولاد کے درمیان عطیہ میں برابری کرو، اگر میں کسی کو فضیلت دیتا تو عورتوں کو فضیلت دیتا۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الهبات/حدیث: 12000]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيره۔ الي كل العطية»

الحكم على الحديث: صحيح لغيره
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
2521. -- باب: ما يستدل به على أن أمره بالتسوية بينهم في العطية على الاختيار دون الإيجاب
-- باب: اس بات پر استدلال کہ آپ ﷺ کا اولاد کے درمیان عطیے میں برابری کرنے کا حکم اختیار پر مبنی ہے نہ کہ وجوب پر
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 12001
أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللهِ بْنُ يُوسُفَ الْأَصْبَهَانِيُّ، ثنا أَبُو سَعِيدٍ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ الْبَصْرِيُّ بِمَكَّةَ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الصَّبَّاحِ الزَّعْفَرَانِيُّ، ثنا رِبْعِيُّ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ابْنُ عُلَيَّةَ، عَنْ دَاوُدَ بْنِ أَبِي هِنْدَ، عَنْ عَامِرٍ الشَّعْبِيِّ، عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ قَالَ: جَاءَ بِي أَبِي يَحْمِلُنِي إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ، اشْهَدْ أَنِّي نَحَلْتُ النُّعْمَانَ مِنْ مَالِي كَذَا وَكَذَا، قَالَ:" كُلَّ بَنِيكَ نَحَلْتَ مِثْلَ الَّذِي نَحَلْتَ النُّعْمَانَ؟" قَالَ: لَا، قَالَ:" فَأَشْهِدْ عَلَى هَذَا غَيْرِي، أَلَيْسَ يَسُرُّكَ أَنْ يَكُونُوا إِلَيْكَ فِي الْبِرِّ سَوَاءً؟" قَالَ: بَلَى، قَالَ:" فَلَا إِذًا" أَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ مِنْ أَوْجُهٍ عَنْ دَاوُدَ بْنِ أَبِي هِنْدَ، وَكَذَلِكَ رَوَاهُ مُغِيرَةُ عَنِ الشَّعْبِيِّ:" أَلَيْسَ يَسُرُّكَ أَنْ يَكُونُوا لَكَ فِي الْبِرِّ وَاللُّطْفِ سَوَاءً؟" قَالَ: نَعَمْ، قَالَ:" فَأَشْهِدْ عَلَى هَذَا غَيْرِي".
سیدنا نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: میرے والد مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لے کر آئے اور عرض کیا: اے اللہ کے رسول! آپ گواہ بن جائیں کہ میں نے نعمان کو اپنے مال سے اتنا عطیہ دیا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا تو نے اپنے سارے بیٹوں کو عطیہ دیا ہے، جس طرح نعمان کو دیا ہے؟“ انہوں نے کہا: نہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میرے علاوہ کسی اور کو گواہ بنا لو، کیا تجھے پسند نہیں کہ وہ تیرے لیے نیکی میں سب برابر ہوں؟“ انہوں نے کہا: کیوں نہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس وقت نہیں۔“
شعبی رحمہ اللہ کے الفاظ ہیں: ”کیا تجھے پسند نہیں کہ وہ تیرے لیے نیکی اور کرم میں برابر ہوں؟“ انہوں نے کہا: ہاں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پھر اس پر میرے علاوہ کسی اور کو گواہ بنا لو۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الهبات/حدیث: 12001]
تخریج الحدیث: «صحيح»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 12002
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، ثنا هُشَيْمٌ، ثنا سَيَّارٌ، وَأَخْبَرَنَا مُغِيرَةُ، وَأنبأ دَاوُدَ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، وَمُجَالِدٍ، وَإِسْمَاعِيلَ بْنِ سَالِمٍ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ قَالَ: نَحَلَنِي أَبِي نُحْلًا، قَالَ: إِسْمَاعِيلُ بْنُ سَالِمٍ: مِنْ بَيْنِ الْقَوْمِ نَحَلَهُ غُلَامًا لَهُ، قَالَ: فَقَالَتْ لَهُ أُمِّي عَمْرَةُ بِنْتُ رَوَاحَةَ: ائْتِ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَشْهِدْهُ، قَالَ: فَأَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرَ ذَلِكَ لَهُ فَقَالَ: إِنِّي نَحَلْتُ ابْنِي النُّعْمَانَ نُحْلًا، وَإِنَّ عَمْرَةَ سَأَلَتْنِي أَنْ أُشْهِدَكَ عَلَى ذَلِكَ، قَالَ: فَقَالَ:" أَلَكَ وَلَدٌ سِوَاهُ؟" قَالَ: قُلْتُ: نَعَمْ، قَالَ:" وَكُلَّهُمْ أَعْطَيْتَ مِثْلَ الَّذِي أَعْطَيْتَ النُّعْمَانَ؟" قَالَ: لَا، قَالَ: فَقَالَ بَعْضُ هَؤُلَاءِ الْمُحَدِّثِينَ:" هَذَا جَوْرٌ"، وَقَالَ بَعْضُهُمْ:" هَذَا تَلْجِئَةٌ؛ فَأَشْهِدْ عَلَى هَذَا غَيْرِي" قَالَ مُغِيرَةُ فِي حَدِيثِهِ:" أَلَيْسَ يَسُرُّكَ أَنْ يَكُونُوا لَكَ فِي الْبِرِّ وَاللُّطْفِ سَوَاءً؟" قَالَ: نَعَمْ، قَالَ:" فَأَشْهِدْ عَلَى هَذَا غَيْرِي" وَذَكَرَ مُجَالِدٌ فِي حَدِيثِهِ:" إِنَّ لَهُمْ عَلَيْكَ مِنَ الْحَقِّ أَنْ تَعْدِلَ بَيْنَهُمْ، كَمَا أَنَّ لَكَ عَلَيْهِمْ مِنَ الْحَقِّ أَنْ يَبَرُّوكَ".
سیدنا نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ مجھے میرے والد نے عطیہ دیا، اسماعیل بن سالم نے لوگوں کے درمیان سے کہا: غلام کا عطیہ دیا۔ نعمان رضی اللہ عنہ نے کہا: میری ماں عمرہ بنت رواحہ رضی اللہ عنہا نے کہا: تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جا اور آپ کو گواہ بنا۔ وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے، آپ کے سامنے یہ ذکر کیا کہ میں نے اپنے بیٹے نعمان کو عطیہ دیا ہے اور عمرہ نے مجھ سے سوال کیا ہے کہ میں آپ کو گواہ بناؤں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”کیا تیرے اس کے علاوہ اور بھی بیٹے ہیں؟“ انہوں نے کہا: ہاں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا تو نے سب کو نعمان کی طرح عطیہ دیا ہے؟“ انہوں نے کہا: نہیں، بعض محدثین نے نقل کیا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ ظلم ہے۔“ اور بعض نے کہا: یہ خاص عطیہ ہے جو دوسروں کو چھوڑ کر اسے دیا گیا ہے یا مجبوری کا عطیہ ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پس میرے علاوہ کسی کو گواہ بنا لو۔“ مغیرہ کے الفاظ ہیں: ”کیا تجھے پسند نہیں وہ کہ نیکی اور کرم میں تیرے لیے برابر ہوں؟“ انہوں نے کہا: ہاں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میرے علاوہ کسی کو گواہ بنا لو۔“ اور مجالد نے اپنی حدیث میں ذکر کیا ہے کہ ”تیرے اوپر ان کے لیے حق ہے کہ ان کے درمیان عدل کر، جس طرح ان پر تیرا حق ہے کہ وہ تجھ سے نیکی کریں۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الهبات/حدیث: 12002]
تخریج الحدیث: «صحيح»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 12003
وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ الْمُقْرِئُ، أنبأ الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، ثنا يُوسُفَ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا أَبُو الرَّبِيعِ، ثنا جَرِيرُ بْنُ عَبْدِ الْحَمِيدِ، عَنْ مُغِيرَةَ، عَنِ الشَّعْبِيِّ قَالَ: سَمِعْتُ النُّعْمَانَ بْنَ بَشِيرٍ، فَذَكَرَ الْقِصَّةَ بِطُولِهَا، قَالَ فِي آخِرِهَا: عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" فَإِنِّي لَا أَشْهَدُ عَلَى هَذَا؛ هَذَا جَوْرٌ، أَشْهِدْ عَلَى هَذَا غَيْرِي، اعْدِلُوا بَيْنَ أَوْلَادِكُمْ فِي النُّحْلِ، كَمَا تُحِبُّونَ أَنْ يَعْدِلُوا بَيْنَكُمْ فِي الْبِرِّ وَاللُّطْفِ".
شعبی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں نے نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ سے لمبا قصہ سنا، انہوں نے آخر میں کہا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں اس پر گواہ نہیں بنتا، یہ ظلم ہے، اس پر کسی اور کو گواہ بنا لے اور اپنی اولاد کے درمیان عطیہ میں عدل کرو جس طرح تم پسند کرتے ہو کہ وہ نیکی میں تمہارے ساتھ عدل کریں۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الهبات/حدیث: 12003]
تخریج الحدیث: «صحيح»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 12004
وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ، ثنا قَاسِمُ بْنُ زَكَرِيَّا الْمُقْرِئُ، ثنا الْحُسَيْنُ بْنُ عِيسَى الْبِسْطَامِيُّ، ثنا أَزْهَرُ، عَنِ ابْنِ عَوْنٍ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ قَالَ: نَحَلَنِي أَبِي نِحْلَةً ثُمَّ أَتَى بِيَ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُشْهِدُهُ، فَقَالَ:" أَكُلَّ بَنِيكَ أَعْطَيْتَهُ هَذَا؟" قَالَ: لَا، قَالَ:" أَلَيْسَ تُرِيدُ مِنْهُمْ مِنَ الْبِرِّ مَا تُرِيدُ مِنْ هَذَا؟" قَالَ: بَلَى، قَالَ:" فَإِنِّي لَا أَشْهَدُ" قَالَ ابْنُ عَوْنٍ: فَحَدَّثْتُهُ مُحَمَّدًا يَعْنِي ابْنَ سِيرِينَ، فَقَالَ: إِنَّمَا تُحِدِّثْنَا أَنَّهُ قَالَ:" قَارِبُوا بَيْنَ أَوْلَادِكُمْ" رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ أَحْمَدَ بْنِ عُثْمَانَ النَّوْفَلِيِّ، عَنْ أَزْهَرَ بْنِ سَعْدٍ قَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ: وَقَدْ فَضَّلَ أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا بِنُحْلٍ قَالَ الشَّيْخُ: وَهَذَا فِيمَا أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، ثنا أَبُو مُحَمَّدٍ الْمُزَنِيُّ، أَنْبَأَ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عِيسَى، ثنا أَبُو الْيَمَانِ، أَخْبَرَنِي شُعَيْبٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، أَخْبَرَنِي عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ، أَنَّ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا قَالَتْ: كَانَ أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ نَحَلَنِي جِدَادَ عِشْرِينَ وَسْقًا مِنْ مَالِهِ، فَلَمَّا حَضَرَتْهُ الْوَفَاةُ جَلَسَ فَاحْتَبَى ثُمَّ تَشَهَّدَ ثُمَّ قَالَ: أَمَّا بَعْدُ، أَيْ بُنَيَّةُ، إِنَّ أَحَبَّ النَّاسِ إِلِيَّ غِنًى بَعْدِي لَأَنْتِ، وَإِنِّي كُنْتُ نَحَلْتُكِ جِدَادَ عِشْرِينَ وَسْقًا مِنْ مَالِي، فَوَدِدْتُ وَاللهِ أَنَّكِ كُنْتِ حُزْتِيهِ وَاجْتَدَدْتِيهِ، وَلَكِنْ إِنَّمَا هُوَ الْيَوْمُ مَالُ الْوَارِثِ، وَإِنَّمَا هُوَ أَخَوَاكِ وَأُخْتَاكِ، قَالَتْ: فَقُلْتُ: يَا أَبَتَاهُ، هَذِهِ أَسْمَاءُ، فَمَنِ الْأُخْرَى؟ قَالَ: ذُو بَطْنِ ابْنَةِ خَارِجَةَ، أُرَاهَا جَارِيَةً، قَالَتْ: فَقُلْتُ: لَوْ أَعْطَيْتَنِي مَا بَيْنَ كَذَا إِلَى كَذَا لَرَدَدْتُهُ إِلَيْكَ قَالَ الشَّافِعِيُّ: وَفَضَّلَ عُمَرُ عَاصِمَ بْنَ عُمَرَ بِشَيْءٍ أَعْطَاهُ إِيَّاهُ وَفَضَّلَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَوْفٍ وَلَدَ أُمِّ كُلْثُومٍ.
سیدنا نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ میرے والد نے مجھے عطیہ دیا، پھر وہ مجھے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لائے کہ آپ کو گواہ بنا لیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”کیا تو نے اپنے سارے بیٹوں کو عطیہ دیا ہے؟“ اس نے کہا: نہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہا: ”کیا تو ان سے نیکی کا ارادہ نہیں رکھتا جس طرح اس سے رکھتا ہے؟“ اس نے کہا: کیوں نہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں گواہ نہیں بن سکتا۔“ ابن عون کہتے ہیں: میں نے یہ حدیث محمد بن سیرین رحمہ اللہ کو بیان کی تو انہوں نے کہا: ہمیں تو یہ بیان کیا گیا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اپنی اولاد کے درمیان برابری کے قریب رہو۔“
امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کو عطیہ کے ساتھ فضیلت دی۔
شیخ فرماتے ہیں: عروہ بن زبیر کہتے ہیں: سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے مجھے اپنے مال سے بیس وسق کاٹنے والی کھجوریں دیں، جب وفات کا وقت آیا تو گوٹ مار کر بیٹھ گئے، پھر کلمہ شہادت پڑھا، پھر کہا: اے پیاری بیٹی! لوگوں میں سے میرے بعد تیرا غنی ہونا زیادہ پسندیدہ ہے اور بیشک میں نے تجھے بیس وسق کاٹنے والی کھجوریں دی تھیں۔ اللہ کی قسم! میری خواہش تھی کہ تو اسے اپنے قبضے میں لے لیتی اور کاٹ لیتی۔ لیکن آج وہ وارث کا مال ہے اور وہ تیرے دو بھائی اور دو بہنیں ہیں۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: اے ابا جان! یہ اسماء میری بہن ہے تو دوسری کون ہے؟ آپ نے کہا: خارجہ کی بیٹی کے پیٹ میں جو ہے میرے خیال میں وہ لڑکی ہے، سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: اگر آپ مجھے اس سے زیادہ بھی دیتے تو میں آپ کی طرف لوٹا دیتی۔
امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے عاصم بن عمر رضی اللہ عنہما کو عطیہ دے کر فضیلت دی اور سیدنا عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ نے ام کلثوم کے بیٹے کو فضیلت دی۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الهبات/حدیث: 12004]
تخریج الحدیث: «ضعيف»

الحكم على الحديث: ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 12005
أَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَسَنِ، قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ الْأَصَمُّ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَبْدِ الْحَكَمِ، أنبأ ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي ابْنُ لَهِيعَةَ، عَنْ بُكَيْرِ بْنِ الْأَشَجِّ، عَنْ نَافِعٍ، أَنَّ ابْنَ عُمَرَ" قَطَعَ ثَلَاثَةَ أَرْؤُسٍ أَوْ أَرْبَعَةً لِبَعْضِ وَلَدِهِ دُونَ بَعْضٍ".
نافع سے منقول ہے کہ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما نے اپنی بعض اولاد کو چھوڑ کر بعض اولاد کے لیے تین یا چار راس (غلام یا جانور) مخصوص کیے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الهبات/حدیث: 12005]
تخریج الحدیث: «ضعيف»

الحكم على الحديث: ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 12006
قَالَ بُكَيْرٌ: وَحَدَّثَنِي الْقَاسِمُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْأَنْصَارِيُّ، أَنَّهُ انْطَلَقَ هُوَ وَابْنُ عُمَرَ حَتَّى أَتَوْا رَجُلًا مِنَ الْأَنْصَارِ فَسَاوَمُوهُ بِأَرْضٍ لَهُ فَاشْتَرَاهَا مِنْهُ، فَأَتَاهُ رَجُلٌ فَقَالَ: إِنِّي رَأَيْتُ أَنَّكَ اشْتَرَيْتَ أَرْضًا وَتَصَدَّقْتَ بِهَا، قَالَ ابْنُ عُمَرَ:" فَإِنَّ هَذِهِ الْأَرْضَ لِابْنِي وَاقِدٍ؛ فَإِنَّهُ مِسْكِينٌ" نَحَلَهُ إِيَّاهَا دُونَ وَلَدِهِ.
قاسم بن عبدالرحمن انصاری رحمہ اللہ اور سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما انصار کے ایک آدمی کے پاس گئے، انہوں نے اس سے زمین کا سودا کیا اور اس سے خرید لیا، ایک آدمی آیا اور اس نے کہا: ”میں نے دیکھا ہے کہ آپ نے زمین خریدی ہے اور اس کو صدقہ کیا ہے“، سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما نے کہا: ”یہ زمین میرے بیٹے واقد کی ہے، وہ مسکین ہے، آپ نے اپنی دوسری اولاد کے علاوہ اس کو عطیہ دیا۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الهبات/حدیث: 12006]
تخریج الحدیث: «ضعيف»

الحكم على الحديث: ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 12007
قَالَ بُكَيْرٌ: وَحَدَّثَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْقَاسِمِ، أَنَّ أَبَاهُ كَانَ يَقْطَعُ وَلَدَهُ دُونَ بَعْضٍ، وَقَالَ: أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي سَعِيدُ بْنُ أَبِي أَيُّوبَ، عَنْ بَشِيرِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ، عَنْ عُمَرَ بْنِ الْمُنْكَدِرِ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" كُلُّ ذِي مَالٍ أَحَقُّ بِمَالِهِ" قَالَ ابْنُ وَهْبٍ: يَصْنَعُ بِهِ مَا شَاءَ.
عبدالرحمن بن قاسم رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ ان کے والد اپنی بعض اولاد کو چھوڑ کر بعض کو عطیہ دیتے تھے۔
عمر بن منکدر رحمہ اللہ سے منقول ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہر مال والا اپنے مال کا زیادہ حق دار ہے“، ابن وہب رحمہ اللہ نے کہا: وہ جو چاہے اس سے کرے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الهبات/حدیث: 12007]
تخریج الحدیث: «ضعيف»

الحكم على الحديث: ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
2522. -- باب: رجوع الوالد فيما وهب من ولده
-- باب: باپ کا اپنی اولاد کو ہبہ کی ہوئی چیز واپس لینے کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 12008
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ بْنُ عَبْدَانَ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ إِسْحَاقَ السَّرَّاجُ، ثنا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، وَمُحَمَّدِ بْنِ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ، عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ قَالَ: أَتَى أَبِي النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: إِنِّي نَحَلْتُ ابْنِي هَذَا غُلَامًا، قَالَ" أَكُلَّ بَنِيكَ نَحَلْتَ؟" قَالَ: لَا، قَالَ:" فَارْدُدْهُ" رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ يَحْيَى بْنِ يَحْيَى وَقَدْ مَضَى فِي رِوَايَاتِ مَالِكٍ عَنِ ابْنِ شِهَابٍ فِي هَذَا الْحَدِيثِ، فَقَالَ:" فَارْجِعْهُ".
سیدنا نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ مجھے میرے والد نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لائے اور کہا: میں نے اس بیٹے کو غلام کا عطیہ دیا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا تو نے سب بیٹوں کو عطیہ دیا ہے؟“ اس نے کہا: نہیں، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اسے بھی واپس لوٹا دو۔“ «فَارْجِعْهُ» کے لفظ ہی ہیں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الهبات/حدیث: 12008]
تخریج الحدیث: «صحيح»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں