🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
السنن الكبرى للبيهقي میں نمبر سے تلاش
حدیث نمبر لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں عربی متن سے تلاش
عربی حدیث کا متن لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں اردو متن سے تلاش
اردو حدیث کا متن لکھیں:
2530. -- باب: اللقطة يأكلها الغني والفقير إذا لم تعترف بعد تعريف سنة
-- باب: مالدار اور فقیر کا لقطہ کو استعمال کر لینا جب ایک سال تک اعلان کرنے کے بعد اسے پہچانا نہ جا سکے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 12060
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُوسَى بْنِ الْفَضْلِ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنبأ الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، أنبأ الشَّافِعِيُّ، أَخْبَرَنِي الدَّرَاوَرْدِيُّ، عَنْ شَرِيكِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ أَبِي نَمِرٍ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَنَّهُ وَجَدَ دِينَارًا عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَذَكَرَهُ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ،" فَأَمَرَهُ أَنْ يُعَرِّفَهُ، فَلَمْ يُعْتَرَفْ، فَأَمَرَهُ أَنْ يَأَكُلَهُ، ثُمَّ جَاءَ صَاحِبُهُ، فَأَمَرَهُ أَنْ يَغْرَمَهُ" ⦗٣١١⦘ قَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ: وَعَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ مِمَّنْ تَحْرُمُ عَلَيْهِ الصَّدَقَةُ؛ لِأَنَّهُ مِنْ صَلِيبَةِ بَنِي هَاشِمٍ.
عطاء بن یسار رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں ایک دینار ملا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا کہ ”اس کا اعلان کرو“، لیکن کسی نے نہ پہچانا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو حکم دیا کہ ”اس کو کھا لو“، پھر اس کا مالک آگیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو حکم دیا کہ ”اسے ادا کرو“۔
امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ ان میں سے ہیں جن پر صدقہ حرام ہے اس لیے کہ وہ بنی ہاشم سے ہیں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب اللقطة/حدیث: 12060]
تخریج الحدیث: «حسن۔ الام شافعي 4/ 72»

الحكم على الحديث: حسن
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 12061
أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ الْأَصَمُّ، أنبأ الرَّبِيعُ قَالَ: قَالَ الشَّافِعِيُّ حِكَايَةً، عَنْ رَجُلٍ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ أَبِي قَيْسٍ قَالَ: سَمِعْتُ هُزَيْلًا يَقُولُ: رَأَيْتُ عَبْدَ اللهِ يَعْنِي ابْنَ مَسْعُودٍ أَتَاهُ رَجُلٌ بِصُرَّةٍ مَخْتُومَةٍ، فَقَالَ: قَدْ عَرَّفْتُهَا وَلَمْ أَجِدْ مَنْ يَعْرِفُهَا، قَالَ:" اسْتَمْتِعْ بِهَا" قَالَ الشَّافِعِيُّ: وَهَكَذَا السُّنَّةُ الثَّابِتَةُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَرَوَوْا حَدِيثًا عَنْ عَامِرٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَبْدِ اللهِ أَنَّهُ اشْتَرَى جَارِيَةً، فَذَهَبَ صَاحِبُهَا فَتَصَدَّقَ بِثَمَنِهَا وَقَالَ: اللهُمَّ عَنْ صَاحِبِهَا، فَإِنْ كَرِهَ فَلِي وَعَلَيَّ الْغُرْمُ، ثُمَّ قَالَ: وَهَكَذَا يُفْعَلُ بِاللُّقَطَةِ، فَخَالَفُوا السُّنَّةَ فِي اللُّقَطَةِ الَّتِي لَا حُجَّةَ مَعَهَا، وَخَالَفُوا حَدِيثَ عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ الَّذِي يُوَافِقُ السُّنَّةَ، وَهُوَ عِنْدَهُمْ ثَابِتٌ، وَاحْتَجُّوا بِهَذَا الْحَدِيثِ، وَهُمْ يُخَالِفُونَهُ فِيمَا هُوَ فِيهِ بِعَيْنِهِ قَالَ الشَّيْخُ: وَقَدْ رُوِيَ عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ مِنْ قَوْلِهِ مَا يُوَافِقُ قَوْلَ الْعِرَاقِيِّينَ.
ہذیل رحمہ اللہ کہتے ہیں: میں نے سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کو دیکھا، ان کے پاس ایک آدمی ایک بند تھیلی لے کر آیا اور کہا: ”میں نے اس کا اعلان کیا ہے لیکن کسی نے اسے نہیں پہچانا۔“ سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”اس سے فائدہ اٹھا۔“
امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: یہی سنتِ نبوی صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت ہے اور انہوں نے عامر رحمہ اللہ سے، انہوں نے اپنے والد عبداللہ رحمہ اللہ سے حدیث بیان کی ہے کہ سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے لونڈی خریدی، اس کا مالک گیا اور اس کی قیمت صدقہ کردی اور کہا: «اللَّهُمَّ هَذَا عَنْ رَبِّهَا» ”اے اللہ! یہ اس کے مالک کی طرف سے ہے۔ اگر اس نے لونڈی کو ناپسند کیا تو میری ہے اور مجھ پر اس کی قیمت ہے۔“ پھر کہا: ”اسی طرح گری پڑی چیز کا حکم ہے۔“ انہوں نے گری ہوئی چیز کے بارے میں سنت کی مخالفت کی، ان کے پاس دلیل نہ تھی اور انہوں نے سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کی حدیث کی مخالفت کی جو سنت کے موافق ہے اور وہ ان کے ہاں ثابت ہے اور انہوں نے اس حدیث سے دلیل لی ہے حالانکہ وہ خود اسی بات میں اس کی مخالفت کرتے ہیں جس کے بارے میں یہ حدیث ہے۔
شیخ (امام بیہقی رحمہ اللہ) فرماتے ہیں: سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے ان کا اپنا قول عراقیوں کے قول کے موافق روایت کیا گیا ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب اللقطة/حدیث: 12061]
تخریج الحدیث: «ضعيف»

الحكم على الحديث: ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 12062
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ هَارُونَ إِمْلَاءً، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ أَيُّوبَ، ثنا أَبُو عُمَرَ حَفْصُ بْنُ عُمَرَ، ثنا شُعْبَةُ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ ضَمْرَةَ، أَنَّ رَجُلًا مِنْ بَنِي رُؤَاسٍ وَجَدَ صُرَّةً فَأَتَى بِهَا عَلِيًّا رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فَقَالَ: إِنِّي وَجَدْتُ صُرَّةً فِيهَا دَرَاهِمَ، وَقَدْ عَرَّفْتُهَا وَلَمْ أَجِدْ مَنْ يَعْرِفُهَا، وَجَعَلْتُ أَشْتَهِي أَنْ لَا يَجِيءَ مَنْ يَعْرِفُهَا، قَالَ:" تَصَدَّقْ بِهَا، فَإِنْ جَاءَ صَاحِبُهَا فَرَضِيَ كَانَ لَهُ الْأَجْرُ، وَإِنْ لَمْ يَرْضَ غَرِمْتَهَا وَكَانَ لَكَ الْأَجْرُ" عَاصِمُ بْنُ ضَمْرَةَ غَيْرُ قَوِيٍّ وَقَدْ رُوِّينَا عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ مَرْفُوعًا جَوَازَ الْأَكْلِ، ⦗٣١٢⦘ وَرُوِّينَاهُ بِأَسَانِيدَ صِحَاحٍ مَوْصُولَةٍ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَسُنَّةُ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الثَّابِتَةُ أَوْلَى بِالِاتِّبَاعِ، وَبِاللهِ التَّوْفِيقُ.
عاصم بن ضمرہ رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ بنی رواس کے ایک آدمی کو ایک تھیلی ملی، وہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے پاس تھیلی لے کر آیا، اس نے کہا: ”میں نے اس میں رقم پائی ہے اور میں نے اس کو متعارف بھی کروایا ہے، لیکن کسی نے اسے پہچانا نہیں ہے اور میں یہ چاہنے لگا کہ کوئی اسے پہچاننے والا نہ آئے۔“ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”اسے صدقہ کر دو، اگر اس کا مالک آ جائے اور وہ صدقہ پر راضی ہو تو اس کے لیے اجر ہو گا، ورنہ تو اسے (رقم) دے دینا اور تجھے اجر مل جائے گا۔“
عاصم بن ضمرہ قوی نہیں ہیں۔ اور ہم نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مرفوعاً (گری پڑی چیز) کھانے کا جواز روایت کیا ہے، اور اسے صحیح متصل سندوں کے ساتھ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کیا ہے، اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ثابت شدہ سنت ہی پیروی کے زیادہ لائق ہے، اور توفیق اللہ ہی کی طرف سے ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب اللقطة/حدیث: 12062]
تخریج الحدیث: «حسن»

الحكم على الحديث: حسن
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 12063
أَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ، وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنبأ الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، أنبأ الشَّافِعِيُّ، أنبأ مَالِكٌ، عَنْ نَافِعٍ، أَنَّ رَجُلًا وَجَدَ لُقَطَةً فَجَاءَ إِلَى عَبْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ فَقَالَ لَهُ: إِنِّي وَجَدْتُ لُقَطَةً، فَمَاذَا تَرَى؟ فَقَالَ لَهُ ابْنُ عُمَرَ:" عَرِّفْهَا"، قَالَ: قَدْ فَعَلْتُ، قَالَ:" زِدْ"، قَالَ: قَدْ فَعَلْتُ، قَالَ:" لَا آمُرُكَ أَنْ تَأَكُلَهَا، وَلَوْ شِئْتَ لَمْ تَأْخُذْهَا" زَادَ أَبُو سَعِيدٍ فِي رِوَايَتِهِ: قَالَ الشَّافِعِيُّ: ابْنُ عُمَرَ لَعَلَّهُ أَنْ لَا يَكُونَ سَمِعَ الْحَدِيثَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي اللُّقَطَةِ، وَلَوْ لَمْ نَسْمَعْهُ انْبَغَى أَنْ نَقُولَ: لَا يَأْكُلُهَا، كَمَا قَالَ ابْنُ عُمَرَ.
نافع سے روایت ہے کہ ایک آدمی کو کوئی گری پڑی چیز ملی، وہ لے کر سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے پاس آیا، اس نے کہا: مجھے یہ چیز ملی ہے، آپ کا کیا خیال ہے؟ ابن عمر رضی اللہ عنہما نے اسے کہا: اس کا اعلان کر دو۔ اس نے کہا: میں نے ایسا کیا ہے، ابن عمر رضی اللہ عنہما نے کہا: اور زیادہ کر۔ اس نے کہا: میں نے کیا ہے۔ ابن عمر رضی اللہ عنہما نے کہا: میں تجھے یہ حکم نہیں دیتا کہ اسے کھالے، اگر تو چاہتا تو نہ پکڑتا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب اللقطة/حدیث: 12063]
تخریج الحدیث: «صحيح»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 12064
وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ الْفَضْلِ، أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا يَعْقُوبُ بْنُ سُفْيَانَ، ثنا قَبِيصَةُ، ثنا سُفْيَانُ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ أَبِي ثَابِتٍ قَالَ: سَمِعْتُ ابْنَ عُمَرَ وَسُئِلَ عَنِ اللُّقَطَةِ قَالَ:" ادْفَعْهَا إِلَى الْأَمِيرِ".
حبیب بن ثابت کہتے ہیں کہ میں نے سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے سنا، ان سے گری پڑی چیز کے بارے میں سوال کیا گیا تو آپ رضی اللہ عنہما نے فرمایا: اسے امیر کو دے دو۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب اللقطة/حدیث: 12064]
تخریج الحدیث: «صحيح»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
2531. -- باب: ما يجوز له أخذه وما لا يجوز مما يجده
-- باب: ملنے والی چیزوں میں سے جن کا اٹھانا جائز ہے اور جن کا جائز نہیں ان کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 12065
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَبْدِ الْحَكَمِ بْنِ أَعْيَنَ الْمِصْرِيُّ، أنبأ ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ، وَعَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ، وَسُفْيَانُ بْنُ سَعِيدٍ الثَّوْرِيُّ، وَغَيْرُهُمْ، أَنَّ رَبِيعَةَ بْنَ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ حَدَّثَهُمْ، عَنْ يَزِيدَ مَوْلَى الْمُنْبَعِثِ، عَنْ زَيْدِ بْنِ خَالِدٍ الْجُهَنِيِّ أَنَّهُ قَالَ: أَتَى رَجُلٌ إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَنَا مَعَهُ فَسَأَلَهُ عَنِ اللُّقَطَةِ، فَقَالَ:" اعْرِفْ عِفَاصَهَا وَوِكَاءهَا ثُمَّ عَرِّفْهَا سَنَةً، فَإِنْ جَاءَ صَاحِبُهَا وَإِلَّا فَشَأْنَكَ بِهَا"، قَالَ: فَضَالَّةُ الْغَنَمِ؟ قَالَ:" لَكَ أَوْ لِأَخِيكَ أَوْ لِلذِّئْبِ"، قَالَ: فَضَالَّةُ الْإِبِلِ؟ قَالَ:" مَعَهَا حِذَاؤُهَا وَسِقَاؤُهَا، وَتَرِدُ الْمَاءَ، وَتَأْكُلُ الشَّجَرَ حَتَّى يَلْقَاهَا رَبُّهَا" أَخْرَجَهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ مِنْ حَدِيثِ مَالِكٍ وَالثَّوْرِيِّ وَرَوَاهُ مُسْلِمٌ عَنْ أَبِي الطَّاهِرِ، عَنِ ابْنِ وَهْبٍ، عَنْ ثَلَاثَتِهِمْ.
سیدنا زید بن خالد جہنی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک آدمی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھا، اس نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے گری پڑی چیز کے بارے میں سوال کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس کی تھیلی اور اس کے بندھن کو پہچان لو، پھر ایک سال تک اس کا اعلان کرو، اگر اس کا مالک آ جائے (تو اسے دے دو) ورنہ وہ تیرے اختیار میں ہے۔“ اس نے پوچھا: گم شدہ بکری؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وہ تیرے لیے ہے یا تیرے بھائی کے لیے یا بھیڑیے کے لیے۔“ اس نے پوچھا: گم شدہ اونٹ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس کے ساتھ اس کے کھر اور اس کی سیرابی کا سامان ہے، وہ پانی پر جاتا ہے اور درختوں کے پتے کھاتا ہے یہاں تک کہ اس کا مالک اسے پا لے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب اللقطة/حدیث: 12065]
تخریج الحدیث: «صحيح»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 12066
أَخْبَرَنَا أَبُو عَمْرٍو مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْأَدِيبُ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ الْإِسْمَاعِيلِيُّ، أنبأ أَبُو عَبْدِ اللهِ الصُّوفِيُّ، ثنا يَحْيَى، عَنْ أَيُّوبَ ح وَأنبأ أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنِي أَبُو الْوَلِيدِ الْفَقِيهُ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، ثنا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، قَالَا: ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ جَعْفَرٍ، عَنْ رَبِيعَةَ بْنِ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ يَزِيدَ مَوْلَى الْمُنْبَعِثِ، عَنْ زَيْدِ بْنِ خَالِدٍ الْجُهَنِيِّ، أَنَّ رَجُلًا سَأَلَ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ اللُّقَطَةِ، فَقَالَ:" عَرِّفْهَا سَنَةً، ثُمَّ اعْرِفْ وِكَاءَهَا وَعِفَاصَهَا، ثُمَّ اسْتَنْفِقْ بِهَا، فَإِنْ جَاءَ رَبُّهَا فَأَدِّهَا إِلَيْهِ"، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ، فَضَالَّةُ الْغَنَمِ؟ قَالَ:" خُذْهَا؛ فَإِنَّمَا هِيَ لَكَ أَوْ لِأَخِيكَ أَوْ لِلذِّئْبِ"، قَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ، فَضَالَّةُ الْإِبِلِ؟ قَالَ: فَغَضِبَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى احْمَرَّتْ وَجْنَتَاهُ، أَوِ احْمَرَّ وَجْهُهُ، قَالَ:" مَا لَكَ وَلَهَا؟ مَعَهَا حِذَاؤُهَا وَسِقَاؤُهَا حَتَّى يَلْقَاهَا رَبُّهَا" وَقَالَ يَحْيَى: عَنْ أَيُّوبَ:" دَعْهَا حَتَّى يَلْقَاهَا رَبُّهَا" رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ قُتَيْبَةَ، وَرَوَاهُ مُسْلِمٌ عَنْ يَحْيَى بْنِ أَيُّوبَ وَقُتَيْبَةَ وَعَلِيِّ بْنِ حُجْرٍ.
سیدنا زید بن خالد جہنی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک آدمی نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے گری پڑی چیز کے بارے میں سوال کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ایک سال تک اعلان کرو۔ پھر اس کی تھیلی اور بندھن کو اچھی طرح پہچان لو۔ پھر اسے اپنے خرچہ میں شامل کر لو۔ اگر اس کا مالک آ جائے تو اسے دے دینا۔“ اس نے کہا: اے اللہ کے رسول! گم شدہ بکریوں کے بارے میں کیا خیال ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وہ تیرے لیے ہیں یا تیرے بھائی کے لیے یا بھیڑیے کے لیے ہیں۔“ اس نے کہا: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! گم شدہ اونٹ کے بارے میں کیا حکم ہے؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم غصہ میں آ گئے، یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا چہرہ مبارک سرخ ہو گیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تیرے لیے اس میں کیا ہے؟ اس کے ساتھ اس کا کھر اور سیراب کرنا ہے، یہاں تک کہ اسے اس کا مالک پا لے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب اللقطة/حدیث: 12066]
تخریج الحدیث: «صحيح»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 12067
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ الْحَافِظُ، وَيَحْيَى بْنُ مَنْصُورٍ الْقَاضِي، وَمُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْهَاشِمِيُّ، قَالُوا: ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو الْحَرَشِيُّ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو صَالِحِ بْنُ أَبِي طَاهِرٍ الْعَنْبَرِيُّ، أنبأ جَدِّي يَحْيَى بْنُ مَنْصُورٍ الْقَاضِي، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو قِشْمَرْدُ، أنبأ الْقَعْنَبِيُّ، ثنا سُلَيْمَانُ بْنُ بِلَالٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ يَزِيدَ مَوْلَى الْمُنْبَعِثِ، أَنَّهُ سَمِعَ زَيْدَ بْنَ خَالِدٍ الْجُهَنِيَّ صَاحِبَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: سُئِلَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ اللُّقَطَةِ الذَّهَبِ أَوِ الْوَرِقِ، فَقَالَ:" اعْرِفْ وِكَاءهَا وَعِفَاصَهَا، ثُمَّ عَرِّفْهَا سَنَةً، فَإِنْ لَمْ تُعْتَرَفْ فَاسْتَنْفِقْهَا، وَلْتَكُنْ وَدِيعَةً عِنْدَكَ، فَإِنْ جَاءَ طَالِبُهَا يَوْمًا مِنَ الدَّهْرِ فَأَدِّهَا إِلَيْهِ"، وَسَأَلَهُ عَنْ ضَالَّةِ الْإِبِلِ، ⦗٣١٤⦘ فَقَالَ:" مَا لَكَ وَلَهَا؟ دَعْهَا؛ فَإِنَّ مَعَهَا حِذَاءَهَا وَسِقَاءَهَا، تَرِدُ الْمَاءَ، وَتَأْكُلُ الشَّجَرَ حَتَّى يَجِدَهَا رَبُّهَا"، وَسَأَلَهُ عَنِ الشَّاةِ، فَقَالَ:" خُذْهَا؛ فَإِنَّمَا هِيَ لَكَ أَوْ لِأَخِيكَ أَوْ لِلذِّئْبِ" رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنِ ابْنِ أَبِي أُوَيْسٍ، عَنْ سُلَيْمَانَ، وَرَوَاهُ مُسْلِمٌ عَنِ الْقَعْنَبِيِّ.
سیدنا زید بن خالد جہنی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے گم شدہ سونے اور چاندی کے بارے میں پوچھا گیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس کی تھیلی اور بندھن کو پہچان لو۔ پھر ایک سال تک اس کا اعلان کرو۔ اگر نہ پہچانی جائے تو اسے اپنے خرچہ میں شامل کر لے اور وہ تیرے پاس امانت ہو گی۔ اگر اس کا مالک کسی بھی وقت آجائے تو اسے دے دینا“۔ اس نے گم شدہ اونٹ کے بارے میں پوچھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تیرے لیے اس میں کیا ہے! پس اسے چھوڑ دو، اس کے ساتھ اس کا کھر اور سیراب کرنا ہے، وہ پانی پر وارد ہو سکتا ہے اور درختوں کے پتے کھا سکتا ہے یہاں تک کہ اس کو اس کا مالک پا لے“۔ اس نے بکری کے بارے میں پوچھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اسے لے لو، وہ تیرے لیے ہے یا تیرے بھائی کے لیے یا بھیڑیے کے لیے“۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب اللقطة/حدیث: 12067]
تخریج الحدیث: «صحيح»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 12068
أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْحَمِيدِ الْحَارِثِيُّ، ثنا أَبُو أُسَامَةَ، عَنِ الْوَلِيدِ بْنِ كَثِيرٍ، حَدَّثَنِي عَمْرُو بْنُ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ قَالَ: سَمِعْتُ رَجُلًا مِنْ مُزَيْنَةَ سَأَلَ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَنَا أَسْمَعُ عَنِ الضَّالَّةِ مِنَ الْإِبِلِ، فَقَالَ:" مَعَهَا سِقَاؤُهَا وَحِذَاؤُهَا، لَا يَأْكُلُهَا الذِّئْبُ، تَرِدُ الْمَاءَ وَتَأْكُلُ الشَّجَرَ، فَدَعْهَا مَكَانَهَا حَتَّى يَأْتِيَ بَاغِيهَا"، قَالَ: فَضَالَّةُ الْغَنَمِ، قَالَ:" لَكَ أَوْ لِأَخِيكَ أَوْ لِلذِّئْبِ، اجْمَعْهَا حَتَّى يَأْتِيَهَا بَاغِيهَا"، قَالَ: اللُّقَطَةُ يَجِدُهَا؟ قَالَ:" مَا كَانَ فِي الْعَامِرَةِ وَالسَّبِيلِ الْغَامِرَةِ فَعَرِّفْهَا سَنَةً، فَإِنْ جَاءَ بَاغِيهَا فَأَدِّهَا إِلَيْهِ، وَإِلَّا فَهِيَ لَكَ"، قَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ، فَمَا يُوجَدُ فِي الْقَرْيَةِ الْخَرَابِ الْعَادِيِّ؟ قَالَ:" فِيهِ وَفِي الرِّكَازِ الْخُمُسُ" وَرَوَاهُ عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ وَهِشَامُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ وَبِمَعْنَاهُ، قَالَ فِيهِ: فَكَيْفَ تَرَى فِي ضَالَّةِ الْغَنَمِ؟ قَالَ:" طَعَامٌ مَأْكُولٌ، لَكَ أَوْ لِأَخِيكَ أَوْ لِلذِّئْبِ، احْبِسْ عَلَى أَخِيكَ ضَالَّتَهُ"، وَقَدْ مَضَى بِإِسْنَادِهِ فِي كِتَابِ الزَّكَاةِ.
حضرت عمرو بن شعیب اپنے والد سے اور وہ اپنے دادا رضی اللہ عنہ سے نقل فرماتے ہیں کہ میں نے مزینہ کے ایک آدمی رضی اللہ عنہ سے سنا، اس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے گم شدہ اونٹ کے بارے میں سوال کیا اور میں سن رہا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس کے ساتھ اس کے کھر اور سیراب کرنے کی چیز ہے، اسے بھیڑیا نہیں کھا سکتا، وہ پانی پی لیتا ہے اور درختوں کے پتے کھا سکتا ہے، اسے اس کی جگہ پر چھوڑ دو یہاں تک کہ اس کو تلاش کرنے والا آ جائے۔“ اس نے گم شدہ بکری کے بارے میں پوچھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تیرے لیے یا تیرے بھائی کے لیے یا بھیڑیے کے لیے ہے، اس کو پکڑ لو یہاں تک کہ اس کو تلاش کرنے والا آ جائے۔“ اس نے کہا: جو گری پڑی چیز ہم پا لیتے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو آبادی میں ہو یا آباد راستے میں اسے ایک سال تک متعارف کراؤ، اگر اسے تلاش کرنے والا آ جائے تو اسے دے دو ورنہ وہ تیرے لیے ہے۔“ اس نے پوچھا: اے اللہ کے رسول! جو کسی غیر آباد جگہ سے ملے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس میں اور «الرِّكَازِ» ”رکاز“ میں «الْخُمُسُ» ”خمس“ ہے۔“ ایک روایت میں ہے کہ اس نے کہا: گم شدہ بکری کے بارے میں آپ کا کیا خیال ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ کھانا ہے جو تیرے یا تیرے بھائی کے لیے یا بھیڑیے کے لیے ہے؟ اسے روک لو اپنے بھائی کے لیے جس نے اسے گم کیا ہے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب اللقطة/حدیث: 12068]
تخریج الحدیث: «حسن۔ ابوداود 1708۔ ترمذي 1289»

الحكم على الحديث: حسن
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 12069
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمُقْرِئُ، أنبأ الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، ثنا يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ الْقَاضِي، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ، ثنا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ أَبِي حَيَّانَ التَّيْمِيِّ، حَدَّثَنِي الضَّحَّاكُ، خَالُ الْمُنْذِرِ بْنِ جَرِيرٍ، عَنِ الْمُنْذِرِ بْنِ جَرِيرٍ قَالَ: كُنْتُ مَعَ أَبِي بِالْبَوَازِيجِ بِالسَّوَادِ، فَرَاحَتِ الْبَقَرُ، فَرَأَى بَقَرَةً أَنْكَرَهَا فَقَالَ: مَا هَذِهِ الْبَقَرَةُ؟ قَالُوا: بَقَرَةٌ لَحِقَتْ بِالْبَقَرِ، فَأَمَرَ بِهَا فَطُرِدَتْ حَتَّى تَوَارَتْ، ثُمَّ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:" لَا يَأْوِي الضَّالَّةَ إِلَّا ضَالٌّ".
حضرت منذر بن جریر رحمہ اللہ فرماتے ہیں: میں اپنے والد کے ساتھ سواد (عراق) کے مقام بوازیج میں تھا، (شام کو) گائیں واپس آئیں تو انہوں نے ایک اجنبی گائے دیکھی اور کہا: یہ گائے کس کی ہے؟ انہوں نے (لشکر والوں) نے جواب دیا: یہ گائے ہماری گائے کے ساتھ مل گئی ہے، تو انہوں نے حکم دیا کہ اسے نکال دو۔ وہ نکال دی گئی یہاں تک کہ وہ چھپ گئی۔ پھر کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”گمشدہ چیز کو گمراہ شخص ہی پناہ دیتا ہے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب اللقطة/حدیث: 12069]
تخریج الحدیث: «ضعيف»

الحكم على الحديث: ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں