السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
2534. -- باب: تعريف اللقطة ومعرفتها والإشهاد عليها
-- باب: لقطہ (گری پڑی چیز) کا اعلان کرنے، اس کی پہچان رکھنے اور اس پر گواہ بنانے کے بیان میں
حدیث نمبر: 12090
أَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنبأ الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، أنبأ الشَّافِعِيُّ، أنبأ مَالِكٌ، عَنْ أَيُّوبَ بْنِ مُوسَى، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ بَدْرٍ، أَنَّ أَبَاهُ أَخْبَرَهُ أَنَّهُ نَزَلَ مَنْزِلًا بِطَرِيقِ الشَّامِ فَوَجَدَ صُرَّةً فِيهَا ثَمَانُونَ دِينَارًا، فَذَكَرَ ذَلِكَ لِعُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ، فَقَالَ لَهُ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ:" عَرِّفْهَا عَلَى أَبْوَابِ الْمَسْجِدِ، وَاذْكُرْهَا لِمَنْ يَقْدَمُ مِنَ الشَّامِ سَنَةً، فَإِذَا أَمْضَتِ السَّنَةَ فَشَأْنَكَ بِهَا".
معاویہ بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کو ان کے والد نے خبر دی کہ وہ شام کے ایک راستے میں اترے، وہاں ایک تھیلی پائی جس میں ٨٠ دینار تھے، انہوں نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے سامنے ذکر کیا، حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: مسجد کے دروازوں پر اس کا اعلان کرو اور جو شام سے آئے ایک سال تک اسے بھی بتاؤ، پس جب ایک سال گزر جائے تو وہ تیرے لیے ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب اللقطة/حدیث: 12090]
تخریج الحدیث: «ضعيف۔ مالك 1483»
الحكم على الحديث: ضعيف
2535. -- باب: بيان مدة التعريف
-- باب: (لقطہ کے) اعلان کی مدت کے بیان میں
حدیث نمبر: Q12091
اتَّفَقَتْ رِوَايَةُ زَيْدِ بْنِ خَالِدٍ الْجُهَنِيِّ وَعَبْدِ اللهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، عَلَى تَعْرِيفِ اللُّقَطَةِ سَنَةً وَاحِدَةً، وَقَدْ مَضَتِ الرِّوَايَةُ عَنْهُمَا، وَكَذَلِكَ عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَعَنْ عُقْبَةَ بْنِ سُوَيْدٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَأَمَّا حَدِيثُ سَلَمَةَ بْنِ كُهَيْلٍ عَنْ سُوَيْدِ بْنِ غَفَلَةَ، عَنْ أُبِيِّ بْنِ كَعْبٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَرِوَايَةُ الْأَعْمَشِ وَزَيْدِ بْنِ أَبِي أُنَيْسَةَ وَحَمَّادٍ عَنْ سَلَمَةَ بْنِ كُهَيْلٍ تَدُلُّ عَلَى أَنَّهُ يُعَرِّفُهَا ثَلَاثَةَ أَحْوَالٍ. وَرُوِّينَا عَنْ شُعْبَةَ عَنْ سَلَمَةَ كَذَلِكَ، قَالَ شُعْبَةُ: فَلَقِيتُهُ بَعْدَ ذَلِكَ بِمَكَّةَ، فَقَالَ: لَا أَدْرِي ثَلَاثَةَ أَحْوَالٍ أَوْ حَوْلًا وَاحِدًا.
سیدنا زید بن خالد جہنی اور سیدنا عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہما کی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت اس بات پر متفق ہے کہ گری پڑی چیز (لقطہ) کی ایک سال تک تشہیر کی جائے، اور ان دونوں سے یہ روایت گزر چکی ہے، اور اسی طرح سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے، اور عقبہ بن سوید سے ان کے والد کے واسطے سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے (بھی یہی مروی ہے)۔
رہی سلمہ بن کہیل کی حدیث جو سوید بن غفلہ سے، وہ سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ سے اور وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں، تو سلمہ بن کہیل سے اعمش، زید بن ابی انیسہ اور حماد کی روایت اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ وہ اس کی تین سال تک تشہیر کرے گا۔
اور ہمیں شعبہ کے واسطے سے سلمہ سے اسی طرح روایت پہنچی ہے، شعبہ رحمہ اللہ نے فرمایا: ”پھر اس کے بعد میں ان (سلمہ) سے مکہ میں ملا تو انہوں نے فرمایا: ”مجھے معلوم نہیں کہ تین سال (فرمایا تھا) یا ایک سال۔““ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب اللقطة/حدیث: Q12091]
رہی سلمہ بن کہیل کی حدیث جو سوید بن غفلہ سے، وہ سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ سے اور وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں، تو سلمہ بن کہیل سے اعمش، زید بن ابی انیسہ اور حماد کی روایت اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ وہ اس کی تین سال تک تشہیر کرے گا۔
اور ہمیں شعبہ کے واسطے سے سلمہ سے اسی طرح روایت پہنچی ہے، شعبہ رحمہ اللہ نے فرمایا: ”پھر اس کے بعد میں ان (سلمہ) سے مکہ میں ملا تو انہوں نے فرمایا: ”مجھے معلوم نہیں کہ تین سال (فرمایا تھا) یا ایک سال۔““ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب اللقطة/حدیث: Q12091]
حدیث نمبر: 12091
أَخْبَرَنَاهُ أَبُو بَكْرِ بْنُ فُورَكٍ، أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا يُونُسُ بْنُ حَبِيبٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا شُعْبَةُ، أَخْبَرَنِي سَلَمَةُ بْنُ كُهَيْلٍ قَالَ: سَمِعْتُ سُوَيْدَ بْنَ غَفَلَةَ يَقُولُ: غَزَوْتُ أَنَا وَزَيْدُ بْنُ صُوحَانَ وَسَلْمَانُ بْنُ رَبِيعَةَ، فَوَجَدْتُ سَوْطًا فَأَخَذْتُهُ، فَقَالَا لِي: أَلْقِهِ، فَقُلْتُ: لَا، وَلَكِنِّي أُعَرِّفُهُ، فَإِنْ وَجَدْتُ مَنْ يَعْرِفُهُ وَإِلَّا اسْتَمْتَعْتُ بِهِ، فَأَبَيْتُ عَلَيْهِمَا، فَلَمَّا رَجَعْنَا مِنْ غَزَاتِنَا قُضِيَ لِي أَنِّي حَجَجْتُ، فَأَتَيْتُ الْمَدِينَةَ فَلَقِيتُ أُبِيَّ بْنَ كَعْبٍ فَأَخْبَرْتُهُ بِشَأْنِ السَّوْطِ وَبِقَوْلِهِمَا، فَقَالَ أُبِيُّ بْنُ كَعْبٍ: وَجَدْتُ صُرَّةً فِيهَا مِائَةُ دِينَارٍ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَتَيْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لَهُ، فَقَالَ:" عَرِّفْهَا حَوْلًا"، فَعَرَّفْتُهَا فَلَمْ أَجِدْ مَنْ يَعْرِفُهَا ثَلَاثَ مَرَّاتٍ، فَقَالَ:" احْفَظْ عَدَدَهَا وَوِكَاءَهَا وَوِعَاءَهَا، فَإِنْ جَاءَ صَاحِبُهَا وَإِلَّا فَاسْتَمْتِعْ بِهَا" قَالَ شُعْبَةُ: فَلَقِيتُ سَلَمَةَ بَعْدَ ذَلِكَ، فَقَالَ: لَا أَدْرِي ثَلَاثَةَ أَحْوَالٍ أَوْ حَوْلًا وَاحِدًا، فَأَعْجَبَنِي هَذَا الْحَدِيثُ فَقُلْتُ لِأَبِي صَادِقٍ: تَعَالَ فَاسْمَعْهُ مِنْهُ وَرَوَاهُ بَهْزُ بْنُ أَسَدٍ عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ سَلَمَةَ. قَالَ شُعْبَةُ: فَسَمِعْتُهُ بَعْدَ عَشْرِ سِنِينَ يَقُولُ: عَرِّفْهَا عَامًا وَاحِدًا..
سلمہ بن کہیل رحمہ اللہ فرماتے ہیں: میں نے سوید بن غفلہ رحمہ اللہ سے سنا کہ میں ایک غزوہ میں تھا، مجھے ایک کوڑا ملا، میں نے اسے پکڑ لیا۔ مجھے زید بن صوحان اور سلمان بن ربیعہ رضی اللہ عنہما نے کہا: اسے پھینک دو۔ میں نے انکار کر دیا، ہم نے غزوہ مکمل کیا، پھر میں نے حج کیا اور میں مدینہ سے گزرا تو مجھے ابی بن کعب رضی اللہ عنہ ملے۔ میں نے یہ قصہ ذکر کیا۔ انہوں نے مجھے کہا کہ مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دور میں سو دینار کی تھیلی ملی، میں وہ لے کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے فرمایا: ”ایک سال تک اس کا اعلان کرو۔“ میں نے ایک سال تک اعلان کیا، لیکن میں نے ایسا کوئی نہ پایا جو اسے پہچان لیتا۔ پھر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ایک سال اس کا اعلان کرو۔“ میں نے ایسا ہی کیا، پھر واپس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ایک سال اور اعلان کرو۔“ میں نے ایسا ہی کیا پھر واپس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا چوتھی دفعہ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ان کو شمار کرو اور اس کے بندھن کو اچھی طرح یاد کرلو۔ اگر اس کا مالک آئے تو دے دینا ورنہ اس سے فائدہ اٹھا۔“ سلمہ رحمہ اللہ کہتے ہیں: میں نہیں جانتا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تین دفعہ اعلان کا کہا یا ایک دفعہ۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب اللقطة/حدیث: 12091]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 12092
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو الْفَضْلِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ سَلَمَةَ، ثنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ بِشْرٍ، ثنا بَهْزٌ، ثنا شُعْبَةُ، فَذَكَرَهُ رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، وَكَأَنَّ سَلَمَةَ بْنَ كُهَيْلٍ كَانَ يَشُكُّ فِيهِ ثُمَّ يَذْكُرُ فَيَثْبُتُ عَلَى عَامٍ وَاحِدٍ.
اسے امام مسلم نے صحیح میں عبدالرحمن رحمہ اللہ سے روایت کیا ہے۔ گویا سلمہ بن کہیل رحمہ اللہ کو اس میں شک ہوتا تھا، پھر ان کو یاد آ جاتا تو وہ ایک سال پر ثابت قدم رہتے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب اللقطة/حدیث: 12092]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 12093
وَأَمَّا مَا أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيٍّ الْمُقْرِئُ، أنبأ الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، ثنا يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ عِيسَى، ثنا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ، أَنَّ بُكَيْرَ بْنَ الْأَشَجِّ حَدَّثَهُ، أَنَّ عُبَيْدَ اللهِ بْنَ مِقْسَمٍ حَدَّثَهُ، عَنْ رَجُلٍ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، أَنَّ عَلِيَّ بْنَ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ وَجَدَ دِينَارًا فَأَتَى بِهِ فَاطِمَةَ عَلَيْهِمَا السَّلَامُ، فَقَالَتْ: هَذَا رِزْقٌ رَزَقَنَا اللهُ عَزَّ وَجَلَّ، لِلَّهِ الْحَمْدُ، فَاشْتَرَى بِهِ لَحْمًا وَطَعَامًا فَهَيَّأَ طَعَامًا، فَقَالَ لِفَاطِمَةَ عَلَيْهَا السَّلَامُ: أَرْسِلِي إِلَى أَبِيكِ فَتُخْبِرِيهِ، فَإِنْ رَآهُ حَلَالًا أَكَلْنَاهُ، فَلَمَّا صَنَعُوا طَعَامًا دَعَوْا رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَلَمَّا أَتَى ذَكَرُوا ذَلِكَ لَهُ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" هُوَ رِزْقُ اللهِ"، فَأَكَلَ مِنْهُ وَأَكَلُوا، فَلَمَّا كَانَ بَعْدَ ذَلِكَ أَتَتِ امْرَأَةٌ تَنْشُدُ الدِّينَارَ: أَنْشُدُ اللهَ الدِّينَارَ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" يَا عَلِيُّ، أَدِّ الدِّينَارَ".
سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کو ایک دینار ملا، وہ اسے سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کے پاس لے کر آئے۔ انہوں نے کہا: یہ رزق ہے جو ہمیں اللہ تعالیٰ نے دیا ہے، اللہ تعالیٰ کے لیے تمام تعریفیں ہیں، اس کے ساتھ گوشت اور کھانا خرید لائیں۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کھانا خرید لائے، پھر انہوں نے سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا سے کہا: اپنے باپ (محمد صلی اللہ علیہ وسلم ) کو اس کی خبر دیں، اگر وہ اسے حلال سمجھیں تو ہم کھا لیں گے۔ جب انہوں نے کھانا بنایا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو بلایا۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے تو انہوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کا ذکر کیا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ اللہ کا رزق ہے“، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی کھایا اور انہوں نے بھی کھایا۔ اس کے بعد ایک عورت آئی، وہ ایک دینار گم کر بیٹھی تھی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے علی! دینار اسے دے دو“۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب اللقطة/حدیث: 12093]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 12094
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ دَاسَةَ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا جَعْفَرُ بْنُ مُسَافِرٍ، ثنا ابْنُ أَبِي فُدَيْكٍ، ثنا مُوسَى بْنُ يَعْقُوبَ الزَّمْعِيُّ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ أَخْبَرَهُ أَنَّ عَلِيَّ بْنَ أَبِي طَالِبٍ دَخَلَ عَلَى فَاطِمَةَ، وَحَسَنٌ وَحُسَيْنٌ عَلَيْهِمُ السَّلَامُ ⦗٣٢١⦘ يَبْكِيَانِ، فَقَالَ: مَا يُبْكِيهِمَا؟ قَالَتِ: الْجُوعُ، فَخَرَجَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فَوَجَدَ دِينَارًا بِالسُّوقِ، فَجَاءَ إِلَى فَاطِمَةَ عَلَيْهَا السَّلَامُ فَأَخْبَرَهَا، فَقَالَتِ: اذْهَبْ إِلَى فُلَانٍ الْيَهُودِيِّ فَخُذْ لَنَا دَقِيقًا، فَجَاءَ الْيَهُودِيَّ فَاشْتَرَى بِهِ دَقِيقًا، فَقَالَ الْيَهُودِيُّ: أَنْتَ خَتَنُ هَذَا الَّذِي يَزْعُمُ أَنَّهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ قَالَ: نَعَمْ، قَالَ فَخُذْ دِينَارَكَ وَلَكَ الدَّقِيقُ، فَخَرَجَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ حَتَّى جَاءَ بِه فَاطِمَةَ عَلَيْهَا السَّلَامُ فَأَخْبَرَهَا، فَقَالَتِ: اذْهَبْ إِلَى فُلَانٍ الْجَزَّارِ فَخُذْ لَنَا بِدِرْهَمٍ لَحْمًا، فَذَهَبَ وَرَهَنَ الدِّينَارَ بِدِرْهَمٍ لَحْمًا، فَجَاءَ بِهِ فَعَجَنَتْ وَنَصَبَتْ وَخَبَزَتْ، فَأَرْسَلَتْ إِلَى أَبِيهَا فَجَاءَهُمْ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ، أَذْكُرُ لَكَ فَإِنْ رَأَيْتَهُ لَنَا حَلَالًا أَكَلْنَاهُ وَأَكَلْتَ، مِنْ شَأْنِهِ كَذَا وَكَذَا، فَقَالَ:" كُلُوا بِاسْمِ اللهِ"، فَأَكَلُوا، فَبَيْنَا هُمْ مَكَانَهُمْ إِذَا غُلَامٌ يَنْشُدُ اللهَ وَالْإِسْلَامَ الدِّينَارَ، فَأَمَرَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَدُعِيَ لَهُ، فَسَأَلَهُ، فَقَالَ: سَقَطَ مِنِّي فِي السُّوقِ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" يَا عَلِيُّ اذْهَبْ إِلَى الْجَزَّارِ فَقُلْ لَهُ إِنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ لَكَ: أَرْسِلْ إِلِيَّ بِالدِّينَارِ وَدِرْهَمُكَ عَلَيَّ"، فَأَرْسَلَ بِهِ، فَدَفَعَهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَيْهِ قَالَ الشَّيْخُ: ظَاهِرُ الْحَدِيثِ عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فِي هَذَا الْبَابِ يَدُلُّ عَلَى أَنَّهُ أَنْفَقَهُ قَبْلَ التَّعْرِيفِ فِي الْوَقْتِ، وَقَدْ رُوِّينَا عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فِي هَذِهِ الْقِصَّةِ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمَرَهُ أَنْ يُعَرِّفَهُ فَلَمْ يُعْتَرَفْ، فَأَمَرَهُ أَنْ يَأْكُلَهُ، وَظَاهِرُ تِلْكَ الرِّوَايَةِ أَنَّهُ شَرَطَ التَّعْرِيفَ فِي الْوَقْتِ وَأَبَاحَ أَكْلَهُ قَبْلَ مُضِيِّ السَّنَةِ، وَالْأَحَادِيثُ الَّتِي وَرَدَتْ فِي اشْتِرَاطِ التَّعْرِيفِ سَنَةً فِي جَوَازِ الْأَكْلِ أَصَحُّ وَأَكْثَرُ، فَهِيَ أَوْلَى، وَيُحْتَمَلُ أَنْ يَكُونَ إِنَّمَا أَبَاحَ لَهُ إِنْفَاقَهُ قَبْلَ مُضِيِّ سَنَةٍ لِوُقُوعِ الِاضْطِرَارِ إِلَيْهِ، وَالْقِصَّةُ تَدُلُّ عَلَيْهِ، وَيُحْتَمَلُ أَنَّهُ لَمْ يَشْتَرِطْ مُضِيَّ سَنَةٍ فِي قَلِيلِ اللُّقَطَةِ، وَاللهُ أَعْلَمُ.
سہل بن سعد رضی اللہ عنہ نے خبر دی کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا، حسن اور حسین رضی اللہ عنہما کے پاس گئے، وہ دونوں رو رہے تھے، انہوں نے پوچھا: ”یہ دونوں کیوں رو رہے ہیں؟“ سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا نے بتایا: بھوک کی وجہ سے۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ گھر سے نکلے، بازار میں سے انہیں ایک دینار مل گیا، پھر وہ سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کے پاس آئے اور انہیں خبر دی، سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا نے کہا: فلاں یہودی کے پاس جاؤ اور ہمارے لیے آٹا لے کر آؤ۔ وہ یہودی کے پاس آئے اور اس سے آٹا خریدا۔ یہودی نے کہا: تو اس شخص کا داماد ہے جو گمان کرتا ہے کہ وہ اللہ کا رسول ہے؟ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے کہا: ہاں۔ اس نے کہا: دینار بھی لے جاؤ اور آٹا بھی۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نکلے اور سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کے پاس آئے اور انہیں بتایا، سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا نے کہا: فلاں قصاب کے پاس جاؤ اور ایک درہم کا ہمارے لیے گوشت لے کر آؤ۔ وہ گئے اور دینار ایک درہم گوشت کے بدلے گروی رکھا اور گوشت لے کر آئے، سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا نے آٹا گوندھا اور روٹی پکائی، پھر اپنے ابا جان (محمد صلی اللہ علیہ وسلم ) کو بلایا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم بھی ان کے پاس آئے۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے کہا: ”اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! میں آپ کو بتاتا ہوں، اگر آپ ہمارے لیے حلال خیال کریں گے تو ہم کھا لیں گے اور آپ بھی کھا لینا“، پھر سارا معاملہ بیان کیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ کے نام کے ساتھ کھاؤ“۔ چنانچہ انہوں نے کھایا، وہ ابھی اسی جگہ پر تھے کہ ایک غلام دینار گم ہونے کی صدا لگا رہا تھا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم سے اسے بلایا گیا اور اس سے سوال کیا گیا، اس نے کہا: بازار میں میرا دینار گر گیا تھا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے علی! قصاب کے پاس جاؤ، اسے کہو کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تیرے لیے کہا ہے کہ دینار واپس کر دو اور تیرا درہم مجھ پر ہے“۔ قصاب نے دینار بھیج دیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے وہ دینار اسے دے دیا۔
شیخ فرماتے ہیں: سیدنا علی رضی اللہ عنہ والی حدیث کا ظاہر اس بات پر دلالت کرتا ہے کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے اسے اعلان سے پہلے ہی خرچ کر لیا تھا، اور ایک دوسری روایت میں سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کا اعلان کرنے کا حکم دیا لیکن کوئی بھی پہچان نہ سکا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے کھانے کا حکم دیا، اور روایت کا ظاہر دلالت کرتا ہے کہ اس وقت اس کا اعلان کرنا شرط ہے اور ایک سال گزرنے سے پہلے اس کا کھانا جائز ہے، اور وہ احادیث جو ایک سال کی شرط کے بارے میں وارد ہوئی ہیں کہ کھانا جائز ہے وہ زیادہ صحیح ہیں اور یہی اولیٰ ہے، اور یہ بھی احتمال ہے کہ ان کا کھانا ایک سال گزرنے سے پہلے مجبوری کی وجہ سے مباح ہو اور یہ قصہ اسی پر دلالت کرتا ہے، اور یہ بھی احتمال ہے کہ تھوڑی چیز پر سال گزرنے کی شرط نہ ہو۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب اللقطة/حدیث: 12094]
شیخ فرماتے ہیں: سیدنا علی رضی اللہ عنہ والی حدیث کا ظاہر اس بات پر دلالت کرتا ہے کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے اسے اعلان سے پہلے ہی خرچ کر لیا تھا، اور ایک دوسری روایت میں سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کا اعلان کرنے کا حکم دیا لیکن کوئی بھی پہچان نہ سکا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے کھانے کا حکم دیا، اور روایت کا ظاہر دلالت کرتا ہے کہ اس وقت اس کا اعلان کرنا شرط ہے اور ایک سال گزرنے سے پہلے اس کا کھانا جائز ہے، اور وہ احادیث جو ایک سال کی شرط کے بارے میں وارد ہوئی ہیں کہ کھانا جائز ہے وہ زیادہ صحیح ہیں اور یہی اولیٰ ہے، اور یہ بھی احتمال ہے کہ ان کا کھانا ایک سال گزرنے سے پہلے مجبوری کی وجہ سے مباح ہو اور یہ قصہ اسی پر دلالت کرتا ہے، اور یہ بھی احتمال ہے کہ تھوڑی چیز پر سال گزرنے کی شرط نہ ہو۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب اللقطة/حدیث: 12094]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 12095
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ دَاسَةَ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا الْهَيْثَمُ بْنُ خَالِدٍ الْجُهَنِيُّ، ثنا وَكِيعٌ، عَنْ سَعْدِ بْنِ أَوْسٍ، عَنْ بِلَالِ بْنِ يَحْيَى الْعَبْسِيِّ، عَنْ عَلِيٍّ عَلَيْهِ السَّلَامُ" أَنْهُ الْتَقَطَ دِينَارًا فَاشْتَرَى بِهِ دَقِيقًا، فَعَرَفَهُ صَاحِبُ الدَّقِيقِ، فَرَدَّ عَلَيْهِ الدِّينَارَ، فَأَخَذَهُ عَلِيٌّ فَقَطَعَ مِنْهُ قِيرَاطَيْنِ فَاشْتَرَى بِهِ لَحْمًا" فِي مَتْنِ هَذَا الْحَدِيثِ اخْتِلَافٌ، وَفِي أَسَانِيدِهِ ضَعْفٌ، وَاللهُ أَعْلَمُ.
سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو دینار ملا، انہوں نے اس سے آٹا خریدا تو آٹے والے نے اسے پہچان لیا اور اس نے دینار لوٹا دیا۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے وہ لے لیا اور دو قیراط کا گوشت خریدا۔
اس حدیث کے متن میں اختلاف ہے اور اس کی سندوں میں ضعف ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب اللقطة/حدیث: 12095]
اس حدیث کے متن میں اختلاف ہے اور اس کی سندوں میں ضعف ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب اللقطة/حدیث: 12095]
تخریج الحدیث: «حسن»
الحكم على الحديث: حسن
2536. -- باب: ما جاء في قليل اللقطة
-- باب: تھوڑی مقدار والے لقطہ کے متعلق جو مروی ہے
حدیث نمبر: Q12096
ظَاهِرُ الْأَحَادِيثِ عَنْ زَيْدِ بْنِ خَالِدٍ الْجُهَنِيِّ وَعَبْدِ اللهِ بْنِ عَمْرٍو عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَدُلُّ عَلَى التَّسْوِيَةِ بَيْنَ قَلِيلِ اللُّقَطَةِ وَكَثِيرِهَا فِي التَّعْرِيفِ.
سیدنا زید بن خالد جہنی اور سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما کی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے مروی احادیث کا ظاہر اس بات پر دلالت کرتا ہے کہ تشہیر کے معاملے میں گری پڑی چیز (لقطہ) کی تھوڑی اور زیادہ مقدار میں کوئی فرق نہیں ہے (دونوں برابر ہیں)۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب اللقطة/حدیث: Q12096]
حدیث نمبر: 12096
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو عَلِيٍّ الْحُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ الْحَافِظُ إِمْلَاءً، ثنا أَحْمَدُ بْنُ الْحُسَيْنِ الْعِجْلِيُّ بِالْكُوفَةِ، ثنا أَبُو كُرَيْبٍ، ثنا أَبُو أُسَامَةَ، عَنْ زَائِدَةَ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ طَلْحَةَ بْنِ مُصَرِّفٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَرَّ بِتَمْرَةٍ بِالطَّرِيقِ فَقَالَ:" لَوْلَا أَنْ تَكُونَ مِنَ الصَّدَقَةِ لَأَكَلْتُهَا" رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ أَبِي كُرَيْبٍ، وَقَالَ الْبُخَارِيُّ: وَقَالَ زَائِدَةُ: عَنْ مَنْصُورٍ فَذَكَرَهُ.
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک کھجور
کے پاس سے گزرے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر یہ صدقہ کی نہ ہوتی تو میں اسے کھا لیتا۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب اللقطة/حدیث: 12096]
کے پاس سے گزرے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر یہ صدقہ کی نہ ہوتی تو میں اسے کھا لیتا۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب اللقطة/حدیث: 12096]
تخریج الحدیث: «بخاري 2055۔ مسلم 1071»
الحكم على الحديث: بخاري 2055
حدیث نمبر: 12097
أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ جَنَاحُ بْنُ نُذَيْرِ بْنِ جَنَاحٍ، ثنا أَبُو جَعْفَرِ بْنُ دُحَيْمٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ بْنِ أَبِي الْحُنَيْنِ الْقَزَّازُ، ثنا قَبِيصَةُ بْنُ عُقْبَةَ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ طَلْحَةَ بْنِ مُصَرِّفٍ، عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: مَرَّ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى تَمْرَةٍ فِي الطَّرِيقِ مَطْرُوحَةٍ فَقَالَ:" لَوْلَا أَنِّي أَخْشَى أَنْ تَكُونَ مِنَ الصَّدَقَةِ لَأَكَلْتُهَا".
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک کھجور کے پاس سے گزرے جو راستے میں پڑی ہوئی تھی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر مجھے یہ ڈر نہ ہوتا کہ یہ صدقہ کی ہے تو میں اسے کھا لیتا۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب اللقطة/حدیث: 12097]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح