السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
2645. -- باب: بيان مصرف الغنيمة في ابتداء الإسلام وأنها كانت لرسول الله صلى الله عليه وسلم يضعها فيمن يراه ممن شهد الوقعة وممن لم يشهدها، حتى نزل قوله عز وجل واعلموا أنما غنمتم من شيء فأن لله خمسه وللرسول ولذي القربى واليتامى والمساكين وابن السبيل، فكان الخمس
-- باب: ابتدائے اسلام میں مالِ غنیمت کے مصرف کا بیان اور یہ کہ وہ رسول اللہ ﷺ کے اختیار میں تھا، آپ ﷺ اسے جنگ میں شریک ہونے والے اور شریک نہ ہونے والے جس شخص کے لیے مناسب سمجھتے عطا فرما دیتے، یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان نازل ہوا ”اور جان لو کہ تم جو کچھ مال غنیمت حاصل کرو اس کا پانچواں حصہ اللہ، اس کے رسول، رشتہ داروں، یتیموں، مسکینوں اور مسافروں کے لیے ہے“ تو پھر خمس (پانچواں حصہ) مقرر ہو گیا
حدیث نمبر: 12715
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنِي دَعْلَجُ بْنُ أَحْمَدَ السِّجْزِيُّ، ثنا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُعَاوِيَةَ الْبَصْرِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ جَهْضَمٍ الْخُرَاسَانِيُّ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْحَارِثِ، عَنْ سُلَيْمَانَ الْأَشْدَقِ، عَنْ مَكْحُولٍ، عَنْ أَبِي سَلَّامٍ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ الْبَاهِلِيِّ صَاحِبِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ أَنَّهُ قَالَ:" خَرَجَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى بَدْرٍ فَلَقِيَ الْعَدُوَّ، فَلَمَّا هَزَمَهُمُ اللهُ اتَّبَعَهُمْ طَائِفَةٌ مِنَ الْمُسْلِمِينَ يَقْتُلُونَهُمْ، وَأَحْدَقَتْ طَائِفَةٌ بِرَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَاسْتَوْلَتْ طَائِفَةٌ بِالْعَسْكَرِ، فَلَمَّا كَفَى اللهُ الْعَدُوَّ، وَرَجَعَ الَّذِينَ قَتَلُوهُمْ قَالُوا: لَنَا النَّفْلُ؛ نَحْنُ قَتَلْنَا الْعَدُوَّ، وَبِنَا نَفَاهُمُ اللهُ وَهَزَمَهُمْ، وَقَالَ الَّذِينَ كَانُوا أَحْدَقُوا بِرَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: وَاللهِ مَا أَنْتُمْ بِأَحَقَّ مِنَّا، هُوَ لَنَا؛ نَحْنُ أَحْدَقْنَا بِرَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا يَنَالُ الْعَدُوُّ مِنْهُ غِرَّةً، وَقَالَ الَّذِينَ اسْتَوْلَوْا عَلَى الْعَسْكَرِ: وَاللهِ مَا أَنْتُمْ بِأَحَقَّ بِهِ مِنَّا؛ نَحْنُ اسْتَوْلَيْنَا عَلَى الْعَسْكَرِ، فَأَنْزَلَ اللهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى {يَسْأَلُونَكَ عَنِ الْأَنْفَالِ قُلِ الْأَنْفَالُ لِلَّهِ وَالرَّسُولِ فَاتَّقُوا اللهَ وَأَصْلِحُوا ذَاتَ بَيْنِكُمْ} [الأنفال: ١] إِلَى قَوْلِهِ {إِنْ كُنْتُمْ مُؤْمِنِينَ} [البقرة: ٩١] ، فَقَسَمَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَهُمْ عَنْ فَوَاقٍ".
سیدنا عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بدر کے دن نکلے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم دشمن سے ملے۔ جب اللہ نے ان کو شکست دی تو مسلمانوں کی ایک جماعت نے ان کا پیچھا کیا، ان کو قتل کرنے لگے اور ایک جماعت نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو گھیرے میں لے لیا اور ایک جماعت مال اکٹھا کرنے لگ گئی، جب اللہ تعالیٰ دشمن کو کافی ہو گئے اور جنہوں نے ان کو قتل کیا تھا وہ لوٹ آئے انہوں نے کہا: دشمن کو ہم نے قتل کیا لہٰذا ہمارے لیے غنیمت ہے اور ہماری وجہ سے اللہ نے ان کو شکست دی اور جن لوگوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو گھیرے میں لیا تھا، انہوں نے کہا: اللہ کی قسم! تم ہم سے زیادہ حق دار نہیں ہو اس لیے کہ ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو گھیرے میں لیا تھا تاکہ دشمن آپ تک نہ پہنچ سکے اور ان لوگوں نے کہا جو مال کی طرف گئے تھے کہ ہم اس کے حق دار ہیں، پس اللہ تعالیٰ نے آیت ﴿يَسْأَلُونَكَ عَنِ الْأَنْفَالِ﴾ [سورة الأنفال: 1] نازل کی۔ پس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان میں مناسب طریقے سے تقسیم کر دیا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب قسم الفيء والغنيمة/حدیث: 12715]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 12716
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ فُورَكٍ، أنا عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا يُونُسُ بْنُ حَبِيبٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا أَبُو عَوَانَةَ، وَشَيْبَانُ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ مَوْهَبٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ أَنَّهُ قَالَ لِرَجُلٍ:" أَمَّا قَوْلُكَ الَّذِي سَأَلْتَنِي عَنْهُ: أَشَهِدَ عُثْمَانُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ بَدْرًا؟ فَإِنَّهُ شُغِلَ بِابْنَةِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَضَرَبَ لَهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِسَهْمِهِ" وَذَكَرَ الْحَدِيثَ. أَخْرَجَهُ الْبُخَارِيُّ مِنْ حَدِيثِ أَبِي عَوَانَةَ.
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما نے ایک آدمی سے کہا: تیری یہ بات جو تو نے مجھ سے سوال کیا ہے کہ کیا عثمان رضی اللہ عنہ بدر میں حاضر ہوئے تھے؟ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بیٹی تیمارداری میں مشغول تھے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کا حصہ بھی نکالا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب قسم الفيء والغنيمة/حدیث: 12716]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ بخاري 4066»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 12717
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنا أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللهِ الْبَغْدَادِيُّ، أنا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ خَالِدٍ، ثنا أَبِي، ثنا ابْنُ لَهِيعَةَ، عَنْ أَبِي الْأَسْوَدِ، عَنْ عُرْوَةَ،.
ابوالاسود رحمہ اللہ نے عروہ رحمہ اللہ سے روایت کیا ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب قسم الفيء والغنيمة/حدیث: 12717]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 12718
وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ بِبَغْدَادَ، أنا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ أَحْمَدَ بْنِ عَتَّابٍ، ثنا أَبُو مُحَمَّدٍ الْقَاسِمُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ الْمُغِيرَةِ الْجَوْهَرِيُّ، أنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبِي أُوَيْسٍ، حَدَّثَنِي إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ عُقْبَةَ، عَنْ عَمِّهِ مُوسَى بْنُ عُقْبَةَ فِي مَغَازِي رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي تَسْمِيَةِ مَنْ شَهِدَ بَدْرًا، وَمَنْ تَخَلَّفَ عَنْهُ فَضَرَبَ لَهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِسَهْمِهِ: عُثْمَانُ بْنُ عَفَّانَ بْنِ أَبِي الْعَاصِ تَخَلَّفَ عَلَى امْرَأَتِهِ رُقَيَّةَ بِنْتِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَكَانَتْ وَجِعَةً، فَتَخَلَّفَ عَلَيْهَا حَتَّى تُوُفِّيَتْ يَوْمَ قَدِمَ أَهْلُ بَدْرٍ الْمَدِينَةَ، فَضَرَبَ لَهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِسَهْمِهِ، قَالَ: وَأَجْرِي يَا رَسُولَ اللهِ؟ قَالَ:" وَأَجْرُكَ"، قَالَ: وَقَدِمَ طَلْحَةُ بْنُ عُبَيْدِ اللهِ مِنَ الشَّامَ بَعْدَمَا رَجَعَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ بَدْرٍ، فَكَلَّمَ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سَهْمِهِ، فَقَالَ:" لَكَ سَهْمُكَ"، قَالَ: وَأَجْرِي يَا رَسُولَ اللهِ؟ قَالَ:" وَأَجْرُكَ"، وَقَدِمَ سَعِيدُ بْنُ زَيْدٍ مِنَ الشَّامِ بَعْدَ مَقْدِمِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ بَدْرٍ، فَكَلَّمَ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سَهْمِهِ، فَقَالَ:" لَكَ سَهْمُكَ"، قَالَ: وَأَجْرِي يَا رَسُولَ اللهِ؟ قَالَ:" وَأَجْرُكَ" وَأَبُو لُبَابَةَ خَرَجَ مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى بَدْرٍ فَرَجَّعَهُ وَأَمَّرَهُ عَلَى الْمَدِينَةِ وَضَرَبَ لَهُ بِسَهْمِهِ مَعَ أَصْحَابِ بَدْرٍ، وَخَوَّاتُ بْنُ جُبَيْرٍ خَرَجَ مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى بَلَغَ الصَّفْرَاءَ فَأَصَابَ سَاقَهُ حَجَرٌ، فَرَجَعَ، فَضَرَبَ لَهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِسَهْمِهِ، وَعَاصِمُ بْنُ عَدِيٍّ خَرَجَ زَعَمُوا مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَرَدَّهُ فَرَجَعَ مِنَ الرَّوْحَاءِ، فَضَرَبَ لَهُ بِسَهْمِهِ، وَالْحَارِثُ بْنُ الصِّمَّةِ كُسِرَ بِالرَّوْحَاءِ فَضَرَبَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِسَهْمِهِ لَفْظُ حَدِيثِ مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ، وَحَدِيثُ عُرْوَةَ بِمَعْنَاهُ، وَزَادَ فِي حَدِيثِ عُرْوَةَ الْحَارِثُ بْنُ حَاطِبٍ: رَدَّهُ وَضَرَبَ لَهُ بِسَهْمِهِ.
اسماعیل بن ابراہیم اپنے چچا موسیٰ بن عقبہ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے غزوات کے بارے میں نقل فرماتے ہیں، جو بدر میں حاضر ہوا اور جو پیچھے رہا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے لیے حصہ رکھا۔ عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ پیچھے رہے تھے اپنی بیوی رقیہ بنت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر اور وہ بیمار تھیں، یہاں تک کہ وہ فوت ہو گئیں، جس دن اہل بدر مدینہ میں آئے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کا حصہ نکالا۔ انہوں نے کہا: ”اے اللہ کے رسول! میرا اجر!“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تیرے لیے اجر ہے“۔ طلحہ بن عبیداللہ رضی اللہ عنہ شام سے آئے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بدر سے لوٹنے کے بعد۔ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اپنے حصے کے بارے میں بات کی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تیرے لیے حصہ ہے“۔ انہوں نے کہا: ”اے اللہ کے رسول! میرا اجر؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تیرے لیے بھی اجر ہے“۔ سعید بن زید رضی اللہ عنہ شام سے آئے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بدر سے لوٹنے کے بعد، انہوں نے بھی کہا: ”اے اللہ کے رسول! میرا حصہ“، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تیرے لیے حصہ ہے“، انہوں نے کہا: ”اے اللہ کے رسول! میرا اجر؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تیرا اجر بھی ہے“۔ ابولبابہ رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے، بدر میں وہ لوٹ آئے تھے، ان کو مدینہ پر امیر مقرر کیا تھا، ان کے لیے بھی اصحابِ بدر کے ساتھ حصہ رکھا۔ خوات بن جبیر رضی اللہ عنہ بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نکلے تھے، یہاں تک کہ جب صفراء مقام پر پہنچے تو ان کی پنڈلی پر پتھر لگا وہ بھی لوٹ آئے، ان کے لیے بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حصہ نکالا۔ عاصم بن عدی رضی اللہ عنہ بھی نکلے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں لوٹا دیا، اس کے لیے بھی حصہ رکھا۔ حارث بن الصمہ رضی اللہ عنہ بھی نکلے تھے، روحاء کے مقام پر ان کی ٹانگ ٹوٹ گئی، ان کے لیے بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حصہ رکھا۔
(ب) ابن عباس رضی اللہ عنہما سے اللہ تعالیٰ کے فرمان ﴿يَسْأَلُونَكَ عَنِ الْأَنْفَالِ ۖ قُلِ الْأَنْفَالُ لِلَّهِ وَالرَّسُولِ﴾ [سورة الأنفال: 1] کے بارے میں منقول ہے کہ انفال: غنیمتیں جو خالصتاً رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے تھیں، کسی کے لیے اس میں سے کچھ نہ تھا، جو بھی غزوہ مسلمانوں کو پہنچتا، وہ وہاں سے غنیمتیں لاتے تھے، جو شخص اس میں سے کوئی چیز بھی روک لیتا تھا، پس وہ خیانت تھی۔ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا کہ وہ ان کو دے دیں، تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿يَسْأَلُونَكَ عَنِ الْأَنْفَالِ ۖ قُلِ الْأَنْفَالُ﴾ [سورة الأنفال: 1] ”وہ میرے لیے ہے، میں نے اس کو اپنے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے بنا دیا ہے، تمہارے لیے اس میں کچھ نہیں ہے“۔ ﴿فَاتَّقُوا اللَّهَ وَأَصْلِحُوا ذَاتَ بَيْنِكُمْ﴾ [سورة الأنفال: 1] ”تم اللہ سے ڈرو اور اپنی اصلاح کرو“ الی قولہ ﴿إِنْ كُنْتُمْ مُؤْمِنِينَ﴾ [سورة الأنفال: 1] پھر اللہ تعالیٰ نے نازل کیا: ﴿وَاعْلَمُوا أَنَّمَا غَنِمْتُمْ مِنْ شَيْءٍ فَأَنَّ لِلَّهِ خُمُسَهُ وَلِلرَّسُولِ﴾ [سورة الأنفال: 41]
پھر یہ تقسیم کیا گیا کہ خمس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے، رشتہ داروں کے لیے، یتیموں اور مساکین اور مجاہدوں کے لیے اللہ کے راستے میں اور باقی چار حصے لوگوں کے لیے، لوگ اس میں برابر ہیں، گھوڑے کے لیے دو حصے، اس کے صاحب کے لیے ایک حصہ، پیدل چلنے والے، اسی طرح کتاب میں واقع ہے اور مجاہدین کا نام غلط ہے، بیشک وہ مسافر ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب قسم الفيء والغنيمة/حدیث: 12718]
(ب) ابن عباس رضی اللہ عنہما سے اللہ تعالیٰ کے فرمان ﴿يَسْأَلُونَكَ عَنِ الْأَنْفَالِ ۖ قُلِ الْأَنْفَالُ لِلَّهِ وَالرَّسُولِ﴾ [سورة الأنفال: 1] کے بارے میں منقول ہے کہ انفال: غنیمتیں جو خالصتاً رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے تھیں، کسی کے لیے اس میں سے کچھ نہ تھا، جو بھی غزوہ مسلمانوں کو پہنچتا، وہ وہاں سے غنیمتیں لاتے تھے، جو شخص اس میں سے کوئی چیز بھی روک لیتا تھا، پس وہ خیانت تھی۔ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا کہ وہ ان کو دے دیں، تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿يَسْأَلُونَكَ عَنِ الْأَنْفَالِ ۖ قُلِ الْأَنْفَالُ﴾ [سورة الأنفال: 1] ”وہ میرے لیے ہے، میں نے اس کو اپنے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے بنا دیا ہے، تمہارے لیے اس میں کچھ نہیں ہے“۔ ﴿فَاتَّقُوا اللَّهَ وَأَصْلِحُوا ذَاتَ بَيْنِكُمْ﴾ [سورة الأنفال: 1] ”تم اللہ سے ڈرو اور اپنی اصلاح کرو“ الی قولہ ﴿إِنْ كُنْتُمْ مُؤْمِنِينَ﴾ [سورة الأنفال: 1] پھر اللہ تعالیٰ نے نازل کیا: ﴿وَاعْلَمُوا أَنَّمَا غَنِمْتُمْ مِنْ شَيْءٍ فَأَنَّ لِلَّهِ خُمُسَهُ وَلِلرَّسُولِ﴾ [سورة الأنفال: 41]
پھر یہ تقسیم کیا گیا کہ خمس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے، رشتہ داروں کے لیے، یتیموں اور مساکین اور مجاہدوں کے لیے اللہ کے راستے میں اور باقی چار حصے لوگوں کے لیے، لوگ اس میں برابر ہیں، گھوڑے کے لیے دو حصے، اس کے صاحب کے لیے ایک حصہ، پیدل چلنے والے، اسی طرح کتاب میں واقع ہے اور مجاہدین کا نام غلط ہے، بیشک وہ مسافر ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب قسم الفيء والغنيمة/حدیث: 12718]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 12719
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا أَبُو صَالِحٍ مَحْبُوبُ بْنُ مُوسَى، أنا أَبُو إِسْحَاقَ الْفَزَارِيُّ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ شَوْذَبٍ، حَدَّثَنِي عَامِرُ بْنُ عَبْدِ الْوَاحِدِ، عَنِ ابْنِ بُرَيْدَةَ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَمْرٍو قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا أَصَابَ غَنِيمَةً أَمَرَ بِلَالًا فَيُنَادِي فِي النَّاسِ، فَيَجِيئُونَ بِغَنَائِمِهِمْ فَيُخَمِّسُهَا وَيَقْسِمُهَا، فَجَاءَ رَجُلٌ بَعْدَ ذَلِكَ بِزِمَامٍ مِنْ شَعَرٍ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ، هَذَا فِيمَا كُنَّا أَصَبْنَاهُ مِنَ الْغَنِيمَةِ، فَقَالَ:" أَسَمِعْتَ بِلَالًا نَادَى ثَلَاثًا؟" قَالَ: نَعَمْ، قَالَ:" فَمَا مَنَعَكَ أَنْ تَجِيءَ بِهِ؟" فَاعْتَذَرَ، فَقَالَ:" كُنْ أَنْتَ تَجِيءُ بِهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ، فَلَنْ أَقْبَلَهُ عَنْكَ".
سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ جب غنیمت کا مال آتا تھا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سیدنا بلال رضی اللہ عنہ کو حکم دیتے تھے، وہ لوگوں میں اعلان کرتے، وہ اپنی غنیمتیں لاتے، وہ اس میں سے خمس نکالتے اور اسے تقسیم کرتے۔ ایک آدمی بعد میں بالوں کی لگام لے کر آیا، اس نے کہا: ”اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! یہ ہمیں غنیمت سے ملا تھا“، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا تو نے بلال کی آواز سنی تھی، اس نے تین دفعہ بلایا تھا؟“ اس نے کہا: ”ہاں۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تجھے یہ لے آنے سے کس نے روکا تھا؟“ اس نے معذرت کی یا عذر کیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”لے جا تو قیامت کے دن لے کر آئے گا، میں اب تجھ سے قبول نہ کروں گا۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب قسم الفيء والغنيمة/حدیث: 12719]
تخریج الحدیث: «حسن»
الحكم على الحديث: حسن
2646. -- باب: وجوب الخمس في الغنيمة والفيء، ومن قال: لا تخمس الجزية وما في معناها
-- باب: مالِ غنیمت اور مالِ فے میں خمس (پانچویں حصے) کے وجوب کا بیان، اور اس شخص کا قول کہ جزیہ اور اس کے ہم معنی اموال میں خمس نہیں نکالا جائے گا
حدیث نمبر: Q12720
قَالَ الشَّافِعِيُّ: وَالْغَنِيمَةُ وَالْفَيْءُ يَجْتَمِعَانِ فِي أَنَّ فِيهِمَا مَعًا الْخُمُسَ مِنْ جَمِيعِهِمَا لِمَنْ سَمَّاهُ اللهُ لَهُ فِي الْآيَتَيْنِ مَعًا وَقَالَ فِي الْقَدِيمِ: إِنَّمَا يُخَمَّسُ مَا أُوجِفَ عَلَيْهِ.
امام شافعی رحمہ اللہ نے فرمایا: ”غنیمت اور فے دونوں اس بات میں یکساں ہیں کہ ان دونوں کے پورے مال میں سے خمس (پانچواں حصہ) ان لوگوں کے لیے ہے جن کا نام اللہ تعالیٰ نے ان دونوں آیتوں میں ذکر فرمایا ہے۔“
اور انہوں نے (اپنے) قدیم (قول) میں فرمایا: ”صرف اسی مال میں سے خمس نکالا جائے گا جس پر (گھوڑے اور اونٹ) دوڑا کر (یعنی جنگ کر کے) حاصل کیا گیا ہو۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب قسم الفيء والغنيمة/حدیث: Q12720]
اور انہوں نے (اپنے) قدیم (قول) میں فرمایا: ”صرف اسی مال میں سے خمس نکالا جائے گا جس پر (گھوڑے اور اونٹ) دوڑا کر (یعنی جنگ کر کے) حاصل کیا گیا ہو۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب قسم الفيء والغنيمة/حدیث: Q12720]
حدیث نمبر: 12720
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنُ فُورَكٍ، أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا يُونُسُ بْنُ حَبِيبٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا شُعْبَةُ، عَنْ أَبِي جَمْرَةَ قَالَ: سَمِعْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ يَقُولُ: إِنَّ وَفْدَ عَبْدِ الْقَيْسِ لَمَّا قَدِمُوا عَلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" مِمَّنِ الْقَوْمُ؟" قَالُوا: مِنْ رَبِيعَةَ، قَالَ:" مَرْحَبًا بِالْوَفْدِ غَيْرِ الْخَزَايَا، وَلَا النَّدَامَى"، فَقَالُوا: يَا رَسُولَ اللهِ، إِنَّا حَيٌّ مِنْ رَبِيعَةَ، وَإِنَّا نَأْتِيكَ مِنْ شُقَّةٍ ⦗٤٨٢⦘ بَعِيدَةٍ، وَإِنَّهُ يَحُولُ بَيْنَنَا وَبَيْنَكَ هَذَا الْحِيُّ مِنْ كُفَّارِ مُضَرَ، وَإِنَّا لَا نَصِلُ إِلَيْكَ إِلَّا فِي الشَّهْرِ الْحَرَامِ، فَمُرْنَا بِأَمْرٍ فَصْلٍ نَدْعُو إِلَيْهِ مَنْ وَرَاءَنَا، وَنَدْخُلُ بِهِ الْجَنَّةَ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" آمُرُكُمْ بِأَرْبَعٍ، وَأَنْهَاكُمْ عَنْ أَرْبَعٍ: آمُرُكُمْ بِالْإِيمَانِ بِاللهِ وَحْدَهُ، أَتَدْرُونَ مَا الْإِيمَانُ بِاللهِ؟ شَهَادَةُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ، وَأَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَإِقَامُ الصَّلَاةِ، وَإِيتَاءُ الزَّكَاةِ، وَصَوْمُ رَمَضَانَ، وَأَنْ تُعْطُوا مِنَ الْغَنَائِمِ الْخُمُسَ، وَأَنْهَاكُمْ عَنْ أَرْبَعٍ: عَنِ الدُّبَّاءِ وَالْحَنْتَمِ وَالنَّقِيرِ وَالْمُزَفَّتِ، وَرُبَّمَا قَالَ: وَالْمُقَيَّرِ، فَاحْفَظُوهُنَّ وَادْعُوا إِلَيْهِنَّ مَنْ وَرَاءَكُمْ" رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ عَلِيِّ بْنِ الْجَعْدِ عَنْ شُعْبَةَ، وَأَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ مِنْ وَجْهٍ آخَرَ عَنْ شُعْبَةَ..
ابو جمرہ کہتے ہیں: میں نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے سنا کہ عبدالقیس کا وفد جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”کون لوگ ہیں؟“ انہوں نے کہا: ربیعہ سے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مرحبا قوم کو بغیر کسی ندامت کے۔“ انہوں نے کہا: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! ہم ربیعہ کے قبیلے سے ہیں، ہم آپ کے پاس بڑی مشقت کے بعد آئے ہیں، ہمارے اور آپ کے درمیان کفار کا قبیلہ مضر حائل ہے، ہم آپ کے پاس صرف اشہرِ حرم میں پہنچ سکتے ہیں، پس ہمیں کوئی واضح حکم دے دیں، ہم اس کی طرف اپنے پچھلوں کو بھی دعوت دیں اور ہم جنت میں داخل ہو جائیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں تمہیں چار چیزوں کا حکم دیتا ہوں اور چار چیزوں سے روکتا ہوں، میں تمہیں ایک اللہ پر ایمان کا حکم دیتا ہوں، کیا تم جانتے ہو ایمان باللہ کیا ہے؟ اس بات کی گواہی دینا کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں ہے اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے رسول ہیں اور نماز قائم کرنا اور زکوٰۃ ادا کرنا اور رمضان کے روزے رکھنا اور یہ کہ تم غنیمت کے مال سے خمس دو گے اور میں تمہیں چار چیزوں سے روکتا ہوں: «الدُّبَّاءُ» (کدو) سے، «الحَنْتَمُ» (سبز لاکھی برتن) سے، «النَّقِيرُ» (کریدی ہوئی لکڑی کے برتن) سے، «المُزَفَّتُ» (روغنی برتن) سے“—اور کبھی «المُقَيَّرُ» کا لفظ بولا—اور فرمایا: ”ان کو یاد رکھو اور اپنے پچھلوں کو بھی ان کی دعوت دو۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب قسم الفيء والغنيمة/حدیث: 12720]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ بخاري 53۔ مسلم»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 12721
أَخْبَرَنَا الْإِمَامُ أَبُو الْفَتْحِ الْعُمَرِيُّ نَاصِرُ بْنُ الْحُسَيْنِ، ثنا أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي شُرَيْحٍ، أنا أَبُو الْقَاسِمِ الْبَغَوِيُّ، ثنا عَلِيُّ بْنُ الْجَعْدِ، أنا شُعْبَةُ، فَذَكَرَهُ بِإِسْنَادِهِ وَمَعْنَاهُ.
شعبہ رحمہ اللہ نے اس (پچھلی حدیث) سند اور متن سے روایت بیان کی ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب قسم الفيء والغنيمة/حدیث: 12721]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 12722
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الصَّغَانِيُّ، ثنا يُوسُفُ بْنُ مَنَازِلَ التَّيْمِيُّ، أنا عَبْدُ اللهِ بْنُ إِدْرِيسَ الْأَوْدِيُّ، ثنا خَالِدُ بْنُ أَبِي كَرِيمَةَ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ قُرَّةَ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" بَعَثَ أَبَاهُ جَدَّ مُعَاوِيَةَ إِلَى رَجُلٍ أَعْرَسَ بِامْرَأَةِ أَبِيهِ، فَضَرَبَ عُنُقَهُ وَخَمَّسَ مَالَهُ".
معاویہ بن قرہ اپنے والد رضی اللہ عنہ سے نقل فرماتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے والد، یعنی معاویہ کے دادا کو ایک آدمی کی طرف بھیجا، اس نے اپنے باپ کی بیوی سے شادی کی تھی، اس نے اس کی گردن اتاری اور اس کے مال کا خمس لیا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب قسم الفيء والغنيمة/حدیث: 12722]
تخریج الحدیث: «حسن»
الحكم على الحديث: حسن
حدیث نمبر: 12723
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا مَحْمُودُ بْنُ خَالِدٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَائِذٍ، ثنا الْوَلِيدُ، ثنا عِيسَى بْنُ يُونُسَ، حَدَّثَنِي فِيمَا حَدَّثَهُ ابْنٌ لِعَدِيِّ بْنِ عَدِيٍّ الْكِنْدِيِّ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ عَبْدِ الْعَزِيزِ كَتَبَ" أَنَّ مَنْ سَأَلَ عَنْ مَوَاضِعِ الْفَيْءِ، فَهُوَ مَا حَكَمَ فِيهِ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فَرَآهُ الْمُؤْمِنُونَ عَدْلًا مُوَافِقًا لِقَوْلِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" جَعَلَ اللهُ الْحَقَّ عَلَى لِسَانِ عُمَرَ وَقَلْبِهِ"، فَرَضَ الْأُعْطِيَةَ وَعَقَدَ لِأَهْلِ الْأَدْيَانِ ذِمَّةً بِمَا فَرَضَ عَلَيْهِمْ مِنَ الْجِزْيَةِ لَمْ يَضْرِبْ فِيهَا بِخُمُسٍ وَلَا مَغْنَمٍ" رِوَايَةُ عُمَرَ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ مُنْقَطِعَةٌ، وَاللهُ أَعْلَمُ.
حضرت عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ نے لکھا کہ جو شخص پوچھے کہ مالِ فئی کو کہاں کہاں صرف کرنا چاہیے تو اس کا جواب یہ ہے کہ جیسے عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے حکم دیا، پھر مسلمانوں نے اسے انصاف کے موافق اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان کے موافق سمجھا کہ ”اللہ تعالیٰ نے حق عمر کی زبان اور دل پر جاری کر دیا ہے“۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے عطاؤں کو مقرر کیا اور سب دین والوں کا ذمہ لیا جزیے کے بدلے میں، نہ ان میں خمس مقرر کیا اور نہ اسے مالِ غنیمت کی مثل سمجھا۔
عمر بن عبدالعزیز کی عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے روایت منقطع ہے، واللہ اعلم۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب قسم الفيء والغنيمة/حدیث: 12723]
عمر بن عبدالعزیز کی عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے روایت منقطع ہے، واللہ اعلم۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب قسم الفيء والغنيمة/حدیث: 12723]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف