🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
السنن الكبرى للبيهقي میں نمبر سے تلاش
حدیث نمبر لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں عربی متن سے تلاش
عربی حدیث کا متن لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں اردو متن سے تلاش
اردو حدیث کا متن لکھیں:
2650. -- باب: سهم الصفي
-- باب: صفی (مالِ غنیمت میں سے رسول اللہ ﷺ کے خاص حصے) کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 12753
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ، أنا أَبُو بَكْرِ بْنُ دَاسَةَ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا مَحْمُودُ بْنُ خَالِدٍ السَّهْمِيُّ، ثنا عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْوَاحِدِ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ بََشِيرٍ، عَنْ قَتَادَةَ قَالَ:" كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا غَزَا كَانَ لَهُ سَهْمٌ صَافٍ يَأْخُذُهُ مِنْ حَيْثُ شَاءَ، فَكَانَتْ صَفِيَّةُ مِنْ ذَلِكَ السَّهْمِ، وَكَانَ إِذَا لَمْ يَغْزُ بِنَفْسِهِ ضُرِبَ لَهُ بِسَهْمِهِ وَلَمْ يَخْتَرْ".
قتادہ رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خود لڑائی میں شریک ہوتے تو ایک حصہ چھانٹ کر جہاں سے چاہتے لے لیتے۔ سیدہ صفیہ رضی اللہ عنہا اسی حصہ میں سے تھیں اور جب آپ خود لڑائی میں شریک نہ ہوتے تو ایک حصہ آپ کے لیے الگ کیا جاتا مگر آپ کو اختیار نہ ہوتا کہ جو چاہیں چھانٹ کرلیں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب قسم الفيء والغنيمة/حدیث: 12753]
تخریج الحدیث: «ضعيف۔ السجستاني 2993»

الحكم على الحديث: ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 12754
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنا أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الصَّفَّارُ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عِيسَى الْقَاضِي، ثنا أَبُو حُذَيْفَةَ، وَأَبُو نُعَيْمٍ، قَالَا: ثنا سُفْيَانُ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا قَالَتْ:" كَانَتْ صَفِيَّةُ مِنَ الصَّفِيِّ".
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، صفیہ رضی اللہ عنہا «الصَّفِيُّ» ”منتخب حصے“ میں سے تھیں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب قسم الفيء والغنيمة/حدیث: 12754]
تخریج الحدیث: «صحيح»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 12755
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الصَّغَانِيُّ، ثنا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، ثنا يَعْقُوبُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنِي أَحْمَدُ بْنُ سَهْلٍ الْفَقِيهُ بِبُخَارَى، ثنا قَيْسُ بْنُ أُنَيْفٍ، ثنا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، ثنا يَعْقُوبُ يَعْنِي ابْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ عَمْرِو بْنِ أَبِي عَمْرٍو، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لِأَبِي طَلْحَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ:" الْتَمِسْ غُلَامًا مِنْ غِلْمَانِكُمْ يَخْدُمُنِي حَتَّى أَخْرُجَ إِلَى خَيْبَرَ"، فَخَرَجَ بِي أَبُو طَلْحَةَ مُرْدِفِي، وَأَنَا غُلَامٌ رَاهَقْتُ الْحُلُمَ، فَكُنْتُ أَخْدُمُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا نَزَلَ، فَكُنْتُ أَسْمَعُهُ كَثِيرًا يَقُولُ:" اللهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنَ الْهَمِّ وَالْحَزَنِ، وَالْعَجْزِ وَالْكَسَلِ، وَالْبُخْلِ وَالْجُبْنِ، وَضَلَعِ الدَّيْنِ وَغَلَبَةِ الرِّجَالِ". ثُمَّ قَدِمْنَا خَيْبَرَ، فَلَمَّا فَتَحَ اللهُ عَلَيْهِ الْحِصْنَ ذُكِرَ لَهُ جَمَالُ صَفِيَّةَ بِنْتِ حُيِيِّ بْنِ أَخْطَبَ، وَقَدْ قُتِلَ زَوْجُهَا، وَكَانَتْ عَرُوسًا، فَاصْطَفَاهَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِنَفْسِهِ، فَخَرَجَ بِهَا حَتَّى بَلَغْنَا سَدَّ الصَّهْبَاءِ حَلَّتْ، فَبَنَى بِهَا، ثُمَّ صَنَعَ حَيْسًا فِي نِطَعٍ صَغِيرٍ، ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَئْذِنْ مَنْ حَوْلَكَ"، فَكَانَتْ تِلْكَ وَلِيمَةَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى صَفِيَّةَ بِنْتِ حُيَيٍّ، ثُمَّ خَرَجْنَا إِلَى الْمَدِينَةِ، فَرَأَيْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُحَوِّي لَهَا وَرَاءَهُ بِعَبَاءٍ، ثُمَّ يَجْلِسُ عِنْدَ بَعِيرِهِ فَيَضَعُ رُكْبَتَهُ، فَتَضَعُ صَفِيَّةُ رِجْلَهَا عَلَى رُكْبَتِهِ حَتَّى تَرْكَبَ، فَسِرْنَا حَتَّى إِذَا أَشْرَفْنَا عَلَى الْمَدِينَةِ نَظَرَ إِلَى أُحُدٍ فَقَالَ:" هَذَا جَبَلٌ يُحِبُّنَا وَنُحِبُّهُ"، ثُمَّ نَظَرَ إِلَى الْمَدِينَةِ فَقَالَ:" اللهُمَّ إِنِّي أُحَرِّمُ مَا بَيْنَ لَابَتَيْهَا مِثْلَ مَا حَرَّمَ إِبْرَاهِيمُ مَكَّةَ، اللهُمَّ بَارِكْ لَهُمْ فِي مُدِّهِمْ وَصَاعِهِمْ" لَفْظُ حَدِيثِ قُتَيْبَةَ، رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ وَمُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ قُتَيْبَةَ، وَرَوَاهُ مُسْلِمٌ أَيْضًا عَنْ سَعِيدِ بْنِ مَنْصُورٍ، كَذَا فِي هَذِهِ الرِّوَايَةِ عَنْ أَنَسٍ.
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت ابوطلحہ رضی اللہ عنہ سے فرمایا: ”اپنے غلاموں میں سے کوئی غلام تلاش کرو جو میری خدمت کرے، یہاں تک کہ میں خیبر کی طرف نکل جاؤں۔“ پس حضرت ابوطلحہ رضی اللہ عنہ مجھے اپنی سواری پر ردیف بنا کر لے گئے اور میں بلوغت کے قریب تھا، پس میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت کرتا تھا، جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم اترتے تھے، میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے اکثر یہ دعا سنتا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے تھے: «اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنَ الْهَمِّ وَالْحَزَنِ، وَالْعَجْزِ وَالْكَسَلِ، وَالْبُخْلِ وَالْجُبْنِ، وَضَلَعِ الدَّيْنِ، وَغَلَبَةِ الرِّجَالِ» ”اے اللہ! میں تیری پناہ مانگتا ہوں، غم اور عاجزی سے، سستی، بخل، بزدلی، قرض داری کے بوجھ اور ظالم کے اپنے اوپر غلبہ سے۔“
پھر ہم خیبر آئے، جب اللہ تعالیٰ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو قلعہ پر فتح عطا فرمائی تو حضرت صفیہ بنت حیی رضی اللہ عنہا کی خوبصورتی کا ذکر کیا گیا اور تحقیق ان کا خاوند قتل ہو چکا تھا اور وہ نئی دلہن تھیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اپنے لیے منتخب فرما لیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم انہیں لے کر روانہ ہوئے یہاں تک کہ جب ہم مقام صہباء پر پہنچے تو وہ حیض سے پاک ہوئیں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے خلوت فرمائی، اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حیس (حلوہ) تیار کرا کر چھوٹے سے دستر خوان پر رکھوایا اور مجھے حکم دیا کہ اپنے آس پاس کے لوگوں کو دعوت دے دو اور یہی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا حضرت صفیہ رضی اللہ عنہا کے ساتھ نکاح کا ولیمہ تھا، آخر ہم مدینہ کی طرف چلے، میں نے دیکھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت صفیہ رضی اللہ عنہا کی وجہ سے اپنے پیچھے اپنی چادر سے پردہ کیا ہوا تھا، جب حضرت صفیہ رضی اللہ عنہا سوار ہونے لگتیں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے اونٹ کے پاس بیٹھ جاتے اور اپنا گھٹنا کھڑا رکھتے اور حضرت صفیہ رضی اللہ عنہا اپنا پاؤں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے گھٹنے پر رکھ کر سوار ہوتیں، اسی طرح ہم چلتے رہے، اور جب مدینہ کے قریب پہنچے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے احد پہاڑ کو دیکھا اور فرمایا: ”یہ پہاڑ ہم سے محبت کرتا ہے اور ہم اس سے محبت رکھتے ہیں۔“ اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ کی طرف نگاہ اٹھائی اور فرمایا: ”اے اللہ! میں اس کے دونوں پتھریلے میدان کے درمیان کے خطے کو حرمت والا قرار دیتا ہوں، جس طرح ابراہیم نے مکہ معظمہ کو حرمت والا قرار دیا تھا، اے اللہ! مدینہ کے لوگوں کو ان کے مد اور صاع میں برکت عطا فرما۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب قسم الفيء والغنيمة/حدیث: 12755]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ مسلم 1365»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 12756
وَأَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَخْتَوَيْهِ الْعَدْلُ، ثنا مُوسَى بْنُ الْحَسَنِ، وَمُحَمَّدُ بْنُ غَالِبٍ، وَمُحَمَّدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ بُطْحَا، ⦗٤٩٧⦘ قَالُوا: ثنا عفَّانُ ثنا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، أنا ثَابِتٌ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ: وَقَعَ فِي سَهْمِ دِحْيَةَ جَارِيَةٌ، فَقِيلَ: يَا رَسُولَ اللهِ، إِنَّهُ وَقَعَتْ فِي سَهْمِ دِحْيَةَ جَارِيَةٌ جَمِيلَةٌ، قَالَ:" فَاشْتَرَاهَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِسَبْعَةِ أَرْؤُسٍ، ثُمَّ دَفَعَهَا إِلَى أُمِّ سُلَيْمٍ تَصْنَعُهَا وَتُهَيِّئُهَا" قَالَ: وَأَحْسَبُهُ قَالَ:" تَعْتَدُّ فِي بَيْتِهَا، وَهِيَ صَفِيَّةُ بِنْتُ حُيَيٍّ" رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ أَبِي شَيْبَةَ عَنْ عَفَّانَ.
سیدنا انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ دحیہ کے حصہ میں ایک لونڈی آئی، تو عرض کیا گیا: ”اے اللہ کے رسول! دحیہ کے حصہ میں خوبصورت لونڈی آئی ہے۔“ انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے سات شخصوں کے بدلے میں خرید لیا اور پھر ام سلیم (رضی اللہ عنہا) کے سپرد کر دیا کہ انہیں تیار کر دیں۔ راوی کہتے ہیں: میرے خیال میں لونڈی نے ان کے گھر عدت گزاری تھی اور وہ صفیہ (رضی اللہ عنہا) تھیں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب قسم الفيء والغنيمة/حدیث: 12756]
تخریج الحدیث: «صحيح»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
2651. -- باب: قسمة الغنيمة في دار الحرب
-- باب: دارالحرب میں مالِ غنیمت تقسیم کرنے کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 12757
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ، ثنا يُونُسُ بْنُ بُكَيْرٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ بْنِ يَسَارٍ قَالَ:" وَمَضَى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَلَمَّا خَرَجَ مِنْ مَضِيقٍ يُقَالُ لَهُ الصَّفْرَاءُ خَرَجَ مِنْهُ إِلَى كَثِيبٍ يُقَالُ لَهُ سَيْرٌ عَلَى مَسِيرَةِ لَيْلَةٍ مِنْ بَدْرٍ أَوْ أَكْثَرَ، فَقَسَمَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ النَّفْلَ بَيْنَ الْمُسْلِمِينَ عَلَى ذَلِكَ الْكَثِيبِ" قَالَ الشَّافِعِيُّ: وَمَنْ حَوْلَ سَيْرٍ وَأَهْلُهُ مُشْرِكُونَ قَالَ الشَّافِعِيُّ: وَقَسَمَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمْوَالَ بَنِي الْمُصْطَلِقِ وَسَبْيَهُمْ فِي الْمَوْضِعِ الَّذِي غَنِمَهَا فِيهِ، قَبْلَ أَنْ يَتَحَوَّلَ عَنْهُ، وَمَا حَوْلَهُ كُلُّهُ بِلَادُ شِرْكٍ، وَأَكْثَرُ مَا قَسَمَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأُمَرَاءُ سَرَايَاهُ مَا غَنِمُوا بِبِلَادِ أَهْلِ الْحَرْبِ.
محمد بن اسحاق بن یسار کہتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم گزرے، جب مضیق سے نکلے جس کو صفراء کہا جاتا ہے تو اس سے نکل کر ایک ٹیلے کی طرف آئے جسے سَیر کہا جاتا ہے، جو بدر سے ایک رات کی مسافت پر ہے یا اس سے زیادہ، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے غنیمت کو مسلمانوں میں اس ٹیلے پر تقسیم کیا۔
امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: سَیر کے اردگرد والے اور اس کے رہنے والے مشرک تھے اور شافعی نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بنی مصطلق کے اموال اور ان کے قیدیوں کو تقسیم کیا اس جگہ پر جہاں یہ غنیمت حاصل ہوئی تھی، قبل اس سے کہ وہاں سے پھرتے اور اس کے اردگرد سارے مشرکوں کے گھر تھے اور اکثر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے امراء جو بھی غنیمت ملتی اسے اہل حرب کے شہروں میں ہی تقسیم کرتے تھے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب قسم الفيء والغنيمة/حدیث: 12757]
تخریج الحدیث: «ضعيف»

الحكم على الحديث: ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 12758
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ صَالِحٍ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ وَهْبٍ، ثنا حُيَيٌّ، عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْحُبُلِيِّ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَمْرٍو، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَرَجَ يَوْمَ بَدْرٍ فِي ثَلَاثِمِائَةٍ وَخَمْسَةَ عَشَرَ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" اللهُمَّ إِنَّهُمْ حُفَاةٌ فَاحْمِلْهُمُ، اللهُمَّ إِنَّهُمْ عُرَاةٌ فَاكْسُهُمُ، اللهُمَّ إِنَّهُمْ جِيَاعٌ فَأَشْبِعْهُمْ" فَفَتَحَ اللهُ لَهُ يَوْمَ بَدْرٍ، فَانْقَلَبُوا حِينَ انْقَلَبُوا وَمَا مِنْهُمْ رَجُلٌ إِلَّا قَدْ رَجَعَ بِجَمَلٍ أَوْ جَمَلَيْنِ، وَاكْتَسَوْا وَشَبِعُوا. ⦗٤٩٨⦘ قَالَ الشَّيْخُ: قَدْ أَعَادَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ هَذِهِ الْمَسْأَلَةَ فِي كِتَابِ السِّيَرِ، وَنَحْنُ نَذْكُرُهَا بِتَمَامِهَا فِي مَوْضِعِهَا مِنْ كِتَابِ السِّيَرِ إِنْ شَاءَ اللهُ تَعَالَى.
سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بدر کے دن نکلے اس حال میں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی تعداد تین سو پندرہ تھی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے اللہ! وہ ننگے پاؤں ہیں تو انہیں سواری عطا فرما، اے اللہ! وہ ننگے بدن ہیں تو ان کو پہنا دے، اے اللہ! وہ بھوکے ہیں تو ان کو سیر کر دے۔“ پس اللہ تعالیٰ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو بدر کے دن فتح عطا فرمائی۔ پس جب وہ لوٹے تو کوئی آدمی ایسا نہ تھا مگر جب لوٹا تو اونٹ کے ساتھ یا دو اونٹوں کے ساتھ اور وہ پہنے ہوئے تھے اور وہ سیر تھے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب قسم الفيء والغنيمة/حدیث: 12758]
تخریج الحدیث: «ضعيف اخرجه السجستاني: 2747»

الحكم على الحديث: ضعيف اخرجه السجستاني: 2747
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
2652. جماع أبواب الأنفال -- باب: السلب للقاتل
باب: انفال (زائد عطیات اور مالِ غنیمت) کے تمام ابواب کا مجموعہ -- باب: مقتول کا سامان قاتل کو ملنے کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 12759
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ بِشْرَانَ الْعَدْلُ بِبَغْدَادَ، ثنا أَبُو عَلِيٍّ إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ، ثنا عُبَيْدُ اللهِ بْنُ عُمَرَ، ثنا يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ بْنِ الْمَاجِشُونِ قَالَ: أَخْبَرَنِي ح وَحَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا عَلِيُّ بْنُ حَمْشَاذٍ، ثنا أَبُو الْمُثَنَّى الْعَنْبَرِيُّ، ثنا مُسَدَّدٌ، ثنا يُوسُفُ بْنُ الْمَاجِشُونِ، عَنْ صَالِحِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ قَالَ: بَيْنَا أَنَا وَاقِفٌ فِي الصَّفِّ يَوْمَ بَدْرٍ نَظَرْتُ عَنْ يَمِينِي وَعَنْ شِمَالِي، فَإِذَا أَنَا بَيْنَ غُلَامَيْنِ مِنَ الْأَنْصَارِ حَدِيثَةٌ أَسْنَانُهُمْ، تَمَنَّيْتُ أَنْ أَكُونَ بَيْنَ أَضْلَعَ مِنْهُمَا، فَغَمَزَنِي أَحَدُهُمَا فَقَالَ: يَا عَمَّاهُ، هَلْ تَعْرِفُ أَبَا جَهْلٍ؟ قُلْتُ: نَعَمْ، وَمَا حَاجَتُكَ إِلَيْهِ يَا ابْنَ أَخِي؟ قَالَ: أُخْبِرْتُ أَنَّهُ يَسُبُّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ، لَئِنْ رَأَيْتُهُ لَا يُفَارِقُ سَوَادِي سَوَادَهُ حَتَّى يَمُوتَ الْأَعْجَلُ مِنَّا، وَتَعَجَّبْتُ لِذَلِكَ، فَغَمَزَنِي الْآخَرُ فَقَالَ لِي مِثْلَهَا، فَلَمْ أَنْشَبْ أَنْ نَظَرْتُ إِلَى أَبِي جَهْلٍ يَدُورُ فِي النَّاسِ، فَقُلْتُ لَهُمَا: أَلَا إِنَّ هَذَا صَاحِبُكُمَا الَّذِي تَسْأَلَانِ عَنْهُ، فَابْتَدَرَاهُ بِسَيْفَيْهِمَا فَضَرَبَاهُ حَتَّى قَتَلَاهُ، ثُمَّ انْصَرَفَا إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَخْبَرَاهُ، فَقَالَ:" أَيُّكُمَا قَتَلَهُ؟" فَقَالَ كُلُّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا: أَنَا قَتَلْتُهُ، فَقَالَ:" هَلْ مَسَحْتُمَا سَيْفَيْكُمَا؟" قَالَا: لَا، فَنَظَرَ فِي السَّيْفَيْنِ فَقَالَ:" كِلَاكُمَا قَتَلَهُ"، وَقَضَى بِسَلَبِهِ لِمُعَاذِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْجَمُوحِ، وَكَانَا مُعَاذَ ابْنَ عَفْرَاءَ وَمُعَاذَ بْنَ عَمْرِو بْنِ الْجَمُوحِ.
سیدنا عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: میں بدر کے دن صف میں کھڑا تھا، میں نے اپنے دائیں بائیں دیکھا تو انصار کے دو نو عمر لڑکے تھے، میں نے خواہش کی کہ کاش میں کسی بڑی عمر والے آدمی کے ساتھ ہوتا، پس ان میں سے ایک نے مجھے اشارہ کیا اور کہا: اے چچا! کیا آپ ابوجہل کو جانتے ہو؟ میں نے کہا: ہاں اور اے بھتیجے! تجھے اس کی کیا ضرورت ہے؟ اس نے کہا: مجھے خبر دی گئی ہے کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو گالیاں نکالتا ہے، اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے، اگر میں نے اسے دیکھ لیا تو میں اس سے علیحدہ نہیں ہوں گا، حتیٰ کہ ہم میں سے پہلے فوت ہونے والا فوت ہو جائے، مجھے اس پر بڑا تعجب ہوا، اتنے میں دوسرے نے بھی ایسی ہی بات کہی، تھوڑی ہی دیر میں میں نے ابوجہل کو دیکھا، وہ لوگوں میں گھوم رہا تھا، میں نے ان سے کہا: وہ ہے، جس کے بارے میں تم مجھ سے سوال کر رہے تھے، وہ دونوں اپنی تلواریں لے کر اس کی طرف دوڑے، ان دونوں نے اس کو مارا یہاں تک کہ اسے قتل کردیا، پھر وہ دونوں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف لوٹے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو خبر دی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”دونوں میں سے اسے کس نے قتل کیا ہے؟“ دونوں میں سے ہر ایک نے کہا: میں نے اسے قتل کیا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا تم نے اپنی تلواریں صاف کرلی ہیں؟“ دونوں نے کہا: نہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دونوں کی تلواروں کو دیکھا تو فرمایا: ”دونوں نے ہی اسے قتل کیا ہے“ اور اس (ابوجہل) کے سلب کا فیصلہ معاذ بن عمرو بن جموع رضی اللہ عنہ کے حق میں کیا اور وہ دونوں معاذ بن عفراء اور معاذ بن عمرو بن جموع رضی اللہ عنہما تھے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب قسم الفيء والغنيمة/حدیث: 12759]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ بخاري 3141۔ مسلم 1752»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 12760
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ، وَإِسْمَاعِيلُ بْنُ قُتَيْبَةَ، قَالَا: ثنا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، أنا يُوسُفُ بْنُ الْمَاجِشُونِ، فَذَكَرَهُ. رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ مُسَدَّدٍ، وَرَوَاهُ مُسْلِمٌ عَنْ يَحْيَى بْنِ يَحْيَى وَالِاحْتِجَاجُ بِهَذَا فِي هَذِهِ الْمَسْأَلَةِ غَيْرُ جَيِّدٍ؛ فَقَدْ مَضَى فِي كِتَابِنَا هَذَا كَيْفَ كَانَتْ حَالُ الْغَنِيمَةِ يَوْمَ بَدْرٍ حَتَّى نَزَلَتِ الْآيَةُ، وَإِنَّمَا الْحُجَّةُ فِي إِعْطَائِهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِلْقَاتِلِ السَّلَبَ بَعْدَ وَقْعَةِ بَدْرٍ، وَذَلِكَ بَيِّنٌ فِي حَدِيثِ أَبِي قَتَادَةَ وَغَيْرِهِ.
اس حدیث سے اس مسئلہ میں دلیل لینا صحیح نہیں ہے۔ ہماری اس کتاب میں گزر چکا ہے کہ بدر کے دن غنیمت کا کیا حال تھا یہاں تک کہ آیت نازل ہوئی، اس مسئلہ کی دلیل تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا جنگِ بدر کے بعد قاتل کو سلب دینا ہے اور یہ سیدنا ابوقتادہ رضی اللہ عنہ وغیرہ کی حدیث میں واضح ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب قسم الفيء والغنيمة/حدیث: 12760]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ تقدم قبله»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 12761
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنا مُحَمَّدُ بْنُ ⦗٤٩٩⦘ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَبْدِ الْحَكَمِ، أنا عَبْدُ اللهِ بْنُ وَهْبٍ قَالَ: وَسَمِعْتُ مَالِكَ بْنَ أَنَسٍ يَقُولُ: حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَسَنِ، وَغَيْرُهُمَا، قَالُوا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنا الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، أنا الشَّافِعِيُّ، أنا مَالِكٌ ح وَأنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عُبْدُوسٍ، ثنا عُثْمَانُ بْنُ سَعِيدٍ، ثنا الْقَعْنَبِيُّ فِيمَا قَرَأَ عَلَى مَالِكٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ عُمَرَ بْنِ كَثِيرِ بْنِ أَفْلَحَ، عَنْ أَبِي مُحَمَّدٍ مَوْلَى أَبِي قَتَادَةَ، عَنْ أَبِي قَتَادَةَ الْأَنْصَارِيِّ قَالَ: خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَامَ حُنَيْنٍ، فَلَمَّا الْتَقَيْنَا كَانَتْ لِلْمُسْلِمِينَ جَوْلَةٌ، فَرَأَيْتُ رَجُلًا مِنَ الْمُشْرِكِينَ قَدْ عَلَا رَجُلًا مِنَ الْمُسْلِمِينَ، قَالَ: فَاسْتَدَرْتُ لَهُ حَتَّى أَتَيْتُ مِنْ وَرَائِهِ فَضَرَبْتُهُ عَلَى حَبْلِ عَاتِقِهِ ضَرْبَةً، فَأَقْبَلَ عَلَيَّ وَضَمَّنِي ضَمَّةً وَجَدْتُ مِنْهَا رِيحَ الْمَوْتِ، ثُمَّ أَدْرَكَهُ الْمَوْتُ فَأَرْسَلَنِي، فَلَحِقْتُ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فَقُلْتُ لَهُ: مَا بَالُ النَّاسِ؟ قَالَ: أَمْرُ اللهِ، ثُمَّ إِنَّ النَّاسَ رَجَعُوا، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَنْ قَتَلَ قَتِيلًا لَهُ عَلَيْهِ بَيِّنَةٌ فَلَهُ سَلَبُهُ"، فَقُمْتُ فَقُلْتُ: مَنْ يَشْهَدُ لِي؟ ثُمَّ جَلَسْتُ، فَقَالَهَا الثَّانِيَةَ، فَقُمْتُ فَقُلْتُ: مَنْ يَشْهَدُ لِي؟ ثُمَّ جَلَسْتُ، فَقَالَهَا الثَّالِثَةَ، فَقُمْتُ فِي الثَّالِثَةِ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَا لَكَ يَا أَبَا قَتَادَةَ؟" فَاقْتَصَصْتُ عَلَيْهِ الْقِصَّةَ، فَقَالَ رَجُلٌ مِنَ الْقَوْمِ: صَدَقَ يَا رَسُولَ اللهِ، وَسَلَبُ ذَلِكَ الْقَتِيلِ عِنْدِي، فَأَرْضِهِ مِنْهُ، فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ: لَاهَا اللهِ إِذًا لَا يَعْمِدُ إِلَى أَسَدٍ مِنْ أُسْدِ اللهِ يُقَاتِلُ عَنِ اللهِ فَيُعْطِيكَ سَلَبَهُ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" صَدَقَ؛ فَأَعْطِهِ إِيَّاهُ" قَالَ أَبُو قَتَادَةَ: فَأَعْطَنِيهِ، فَبِعْتُ الدِّرْعَ فَابْتَعْتُ بِهِ مَخْرَفًا فِي بَنِي سَلِمَةَ، فَإِنَّهُ لَأَوَّلُ مَالٍ تَأَثَّلْتُهُ فِي الْإِسْلَامِ قَالَ الشَّافِعِيُّ: قَالَ مَالِكٌ: الْمَخْرَفُ: النَّخْلُ لَفْظُ حَدِيثِ الشَّافِعِيِّ، رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنِ الْقَعْنَبِيِّ، وَرَوَاهُ مُسْلِمٌ عَنْ أَبِي الطَّاهِرِ عَنِ ابْنِ وَهْبٍ.
سیدنا ابوقتادہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: ”ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ حنین کے دن نکلے، جب دشمن سے ہمارا آمنا سامنا ہوا تو مسلمان شکست میں تھے، میں نے مشرکین کے ایک آدمی کو دیکھا کہ وہ مسلمانوں کے (ایک) آدمی پر غلبہ پا رہا ہے، (قتادہ کہتے ہیں) میں واپس پھرا، میں اس کے پیچھے سے آیا، میں نے اس کی گردن پر ضرب لگائی، وہ میری طرف لپکا، اس نے مجھے دبوچ لیا، میں نے اس سے اپنی روح قبض ہوتی پائی، پھر وہ فوت ہو گیا، اس نے مجھے چھوڑ دیا، میں سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کو ملا، میں نے پوچھا: مسلمانوں کا کیا حال ہے؟ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: اللہ والا معاملہ ہے، پھر لوگ فتح پر لوٹ آئے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو کوئی قتل کرے پھر اس پر گواہ بنا لے تو اس کے لیے مقتول کا سامان ہے،“ میں کھڑا ہوا اور میں نے کہا: کون میری گواہی دے گا؟ (جب کوئی نہ کھڑا ہوا) تو میں بیٹھ گیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دوسری دفعہ پھر کہا، میں پھر کھڑا ہوا، میں نے کہا: کون میری گواہی دے گا؟ (جب کوئی نہ اٹھا) تو میں بیٹھ گیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر تیسری بار وہی بات کہی، میں پھر کھڑا ہوا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ابوقتادہ! تجھے کیا ہے؟“ میں نے سارا قصہ بیان کیا، ایک آدمی نے کہا: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! اس نے سچ کہا اور اس کا مال میرے پاس ہے، آپ قتادہ کو راضی کر دیں، سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے کہا: اللہ کی قسم! وہ ہرگز ایسا نہ کریں گے، اللہ کے شیر کے بارے میں جو اللہ کی طرف سے لڑا ہے کہ تجھے اس کا سلب دے دیں، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس نے سچ کہا، پس تو وہ قتادہ کو دے دے،“ سیدنا ابوقتادہ رضی اللہ عنہ نے کہا: اس (شخص) نے وہ سامان مجھے دے دیا، میں نے اس زرہ کو بیچ دیا، اس کی قیمت سے بنو سلمہ میں ایک باغ خریدا، وہ میرا پہلا مال تھا جو مجھے اسلام میں حاصل ہوا۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب قسم الفيء والغنيمة/حدیث: 12761]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ بخاري، مسلم»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 12762
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ فُورَكٍ، أنا عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا يُونُسُ بْنُ حَبِيبٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ بْنُ عَبْدَانَ، أنا أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ، ثنا الْكَجِّيُّ يَعْنِي أَبَا مُسْلِمٍ، ثنا حَجَّاجٌ، ثنا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، أنا إِسْحَاقُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ، عَنْ أَنَسٍ، أَنَّ هَوَازِنَ جَاءَتْ يَوْمَ حُنَيْنٍ بِالنِّسَاءِ وَالصِّبْيَانِ وَالْإِبِلِ وَالْغَنَمِ، فَجَعَلُوهُمْ صُفُوفًا؛ يُكْثِرُونَ عَلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَالْتَقَى الْمُسْلِمُونَ وَالْمُشْرِكُونَ، فَوَلَّى الْمُسْلِمُونَ مُدْبِرِينَ كَمَا قَالَ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" يَا عِبَادَ اللهِ، أَنَا عَبْدُ اللهِ وَرَسُولُهُ، يَا مَعْشَرَ الْأَنْصَارِ، أَنَا عَبْدُ اللهِ وَرَسُولُهُ"، فَهَزَمَ اللهُ الْمُشْرِكِينَ وَلَمْ يُضْرَبْ بِسَيْفٍ، وَلَمْ يُطْعَنْ بِرُمْحٍ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَئِذٍ:" ⦗٥٠٠⦘ مَنْ قَتَلَ كَافِرًا فَلَهُ سَلَبُهُ"، فَأَخَذَ وَفِي حَدِيثِ أَبِي دَاوُدَ: فَقَتَلَ أَبُو طَلْحَةَ يَوْمَئِذٍ عِشْرِينَ رَجُلًا، فَأَخَذَ أَسْلَابَهُمْ، فَقَالَ أَبُو قَتَادَةَ: يَا رَسُولَ اللهِ، إِنِّي قَدْ ضَرَبْتُ رَجُلًا عَلَى حَبْلِ الْعَاتِقِ وَعَلَيْهِ دِرْعٌ عَجِلْتُ عَنْهُ أَنْ آخُذَ سَلَبَهُ، فَانْظُرْ مَعَ مَنْ فَأَعْطِنِيهَا، فَقَالَ رَجُلٌ: أَنَا أَخَذْتُهَا، فَأَرْضِهِ مِنْهَا وَأَعْطِنِيهَا، فَسَكَتَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَكَانَ لَا يُسْأَلُ شَيْئًا إِلَّا أَعْطَاهُ أَوْ سَكَتَ، فَقَالَ عُمَرُ: وَاللهِ لَا يُفِيئُهَا اللهُ تَعَالَى عَلَى أَسَدٍ مِنْ أُسْدِهِ وَيُعْطِيكَهَا، فَضَحِكَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَالَ:" صَدَقَ عُمَرُ"، وَلَقِيَ أَبُو طَلْحَةَ أُمَّ سُلَيْمٍ وَمَعَهَا خِنْجَرٌ فَقَالَ: يَا أُمَّ سُلَيْمٍ، مَا هَذَا مَعَكِ؟ قَالَتْ: إِنْ دَنَا مِنِّي رَجُلٌ مِنَ الْمُشْرِكِينَ أَبْعَجُ بَطْنَهُ، فَأَخْبَرَ بِذَلِكَ أَبُو طَلْحَةَ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَتْ أُمُّ سُلَيْمٍ: يَا رَسُولَ اللهِ، اقْتُلْ مَنْ بَعْدَنَا الطُّلَقَاءَ، فَقَالَ:" يَا أُمَّ سُلَيْمٍ، إِنَّ اللهَ قَدْ كَفَى وَأَحْسَنَ" أَخْرَجَ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ آخِرَ هَذَا الْحَدِيثِ فِي قِصَّةِ أُمِّ سُلَيْمٍ، وَهُوَ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِهِ.
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ قبیلہ ہوازن حنین کے دن عورتوں، بچوں، اونٹوں اور بکریوں کو لے آئے، انہوں نے سب کچھ صفوں میں کھڑا کر دیا، وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے مقابلے میں زیادہ تھے۔ مسلمانوں اور مشرکوں کا آمنا سامنا ہوا، مسلمان واپس پلٹنے لگے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے اللہ کے بندو! میں اللہ کا بندہ اور اس کا رسول ہوں، اے انصار کی جماعت! میں اللہ کا بندہ اور اس کا رسول ہوں“، پس اللہ تعالیٰ نے مشرکین کو شکست دی اور نہ تلوار چلائی گئی اور نہ کوئی نیزہ۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس دن فرمایا: ”جو کسی کافر کو قتل کرے گا، اس کا سلب (مال) قاتل کا ہوگا، پس وہ اسے پکڑ لے“۔ ابوداؤد کی روایت میں ہے کہ ابوطلحہ رضی اللہ عنہ نے اس دن بیس آدمیوں کو قتل کیا، پس بیس کا سلب لیا۔ ابوقتادہ رضی اللہ عنہ نے کہا: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! میں نے ایک آدمی کی گردن پر ضرب لگائی تھی، اس پر ایک درع تھی، مجھے جلدی میں اس کا سلب لینے کا موقع نہ ملا، دیکھیں وہ کس کے پاس ہے، وہ مجھے دے دیں۔ ایک آدمی نے کہا: میں نے اسے پکڑا ہے، پس آپ صلی اللہ علیہ وسلم اسے راضی کر دیں اور وہ مجھے دے دیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم خاموش رہے، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے جب بھی کوئی چیز مانگی جاتی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم یا تو دے دیتے یا خاموش رہتے۔ عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: اللہ کی قسم! اللہ اپنے شیروں میں سے کسی شیر کے سلب کو نہیں لوٹائیں گے کہ وہ تجھے دے دے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم ہنس پڑے اور فرمایا: ”عمر نے سچ کہا ہے“۔ اور ابوطلحہ رضی اللہ عنہ، ام سلیم رضی اللہ عنہا سے ملے، ان کے پاس خنجر تھا، ابوطلحہ رضی اللہ عنہ نے کہا: اے ام سلیم! یہ تیرے پاس کیا ہے؟ انہوں نے کہا: اگر میرے قریب مشرکوں کا کوئی آدمی آیا تو اسے پیٹ میں ماروں گی۔ ابوطلحہ رضی اللہ عنہ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ خبر دی۔ ام سلیم رضی اللہ عنہا نے کہا: اے اللہ کے رسول! ہمارے علاوہ طلقاء (جو بھاگنے والے ہیں) انہیں بھی قتل کر دیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے ام سلیم! اللہ تعالیٰ ہمیں کافی ہے اور اس نے ہم پر احسان کیا ہے“۔
یہ (حدیث) امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب قسم الفيء والغنيمة/حدیث: 12762]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ مسلم 1809»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں